কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
سفر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮১ টি
اس میں دو کتاب ہیں کتاب السفر اور کتاب السحر
کتاب السفر۔۔۔قسم الاقوال
اس میں چار فصول ہیں۔
فصل اول۔۔۔سفر کی ترغیب میں
اس فصل کی تمام احادیث محل کلام (ضعیف ) ہیں۔
عبدالرزاق عن محمد بن عبدالرحمن مرسلاً
کلام : ضعیف الجامع 321 ۔
তাহকীক:
اس میں دو کتاب ہیں کتاب السفر اور کتاب السحر
کتاب السفر۔۔۔قسم الاقوال
اس میں چار فصول ہیں۔
فصل اول۔۔۔سفر کی ترغیب میں
اس فصل کی تمام احادیث محل کلام (ضعیف ) ہیں۔
السنن للبیہقی عن ابن عباس (رض) ، الشیرازی فی الالقاب ، الاوسط
للطبرانی ، ابونعیم فی الطب، القضاعی عن ابن عمر (رض)
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 3126، ضعیف الجامع 3212 ۔
তাহকীক:
اس میں دو کتاب ہیں کتاب السفر اور کتاب السحر
کتاب السفر۔۔۔قسم الاقوال
اس میں چار فصول ہیں۔
فصل اول۔۔۔سفر کی ترغیب میں
اس فصل کی تمام احادیث محل کلام (ضعیف ) ہیں۔
کلام : ضعیف الجامع 3210، الضعیفۃ 254 ۔
তাহকীক:
ابوعبداللہ بن محمد بن وضاح فی فضل العمائم عن ابی ملیح الھذلی عن ابیہ
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 3125 ۔
তাহকীক:
کلام : علامہ مناوی (رح) فرماتے ہیں : سند میں نافع بن الحارث ہے جس کو امام ذہبی (رح) نے ضعفاء میں شمار کیا ہے اور امام بخاری (رح) فرماتے ہیں اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی۔ نیز علامہ سیوطی (رح) نے بھی اس حدیث پر ضعف کا اشارہ فرمایا ہے۔ دیکھئے فیض القدیر 333/1 ۔
তাহকীক:
استود عکم اللہ الذی لا تخیب ودائعہ
میں تم ک واللہ کی امانت میں دیتا ہوں جس کے پاس امانتیں ضائع نہیں ہوا کرتی۔
الحکیم عن ابوہریرہ (رض)
کلام : ضعیف الجامع 353 ۔
তাহকীক:
کلام : ضعیف الجامع 1921 ۔
তাহকীক:
کلام : امام سیوطی (رح) نے اس حدیث پر ضعف کا اشارہ فرمایا ہے۔ علامہ مناوی (رح) فیض میں نقل کرتے ہیں کہ عراقی (رح) نے فرمایا : اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ امام ہیثمی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں یحییٰ بن العلاء البجلی ضعیف ہے۔ فیض القدیر 269/1 ۔
তাহকীক:
তাহকীক:
کلام : ضعیف الجامع 2631 ۔
فائدہ : مذکورہ دعا مسافر کو دینی چاہیے جس کے عربی کلمات یہ ہیں :
جعل اللہ التقوی زادک وغفرذنبک ووجھک للخیر حیث مائکون۔
তাহকীক:
میں اللہ کی امانت میں دیتا ہوں تیرا دین، تیری امانت اور تیرے آخری اعمال۔
ابوداؤد، الترمذی عن ابن عباس، ابن حبان، السنن للبیہقی عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
اللہ پاک تقوی کو تیرا توشہ بنائے، تیرے گناہ بخشے اور خیر کو تیرے لیے آسان کرے وہ جہاں ہو۔
الترمذی ، مستدرک الحاکم عن انس (رض)
তাহকীক:
استودعک اللہ الذی لا تضیع ودائعہ، مسند عن ابوہریرہ (رض) وحسن
তাহকীক:
ابن النجار عن زید بن ارقم
کلام : ضعیف الجامع 321 ۔
তাহকীক:
تو اللہ کی حفظ اور پناہ میں رہے، اللہ تقویٰ کو تیرا تو یہ بنائے، تیرے گناہ بخشے اور تجھے خیر کی طرف لے جائے وہ جہاں کہیں ہو۔ ابن السنی عن انس (رض)
তাহকীক:
ابن السنی وابن النجار عن انس (رض)
فائدہ : ایک آدمی نے سفر کا ارادہ کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو یہ دعا دی۔
তাহকীক:
جب لڑکا واپس آیا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آکر سلام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر اس کی طرف اٹھا کر فرمایا اے لڑکے ! اللہ تیرا حج قبول کرے، تیرے گناہ بخشے اور تجھے تیرا خرچ کیا ہوا مال زیادہ ہو کر ملے۔
ابن السنی عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
ابن السنی عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
الکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
الترمذی حسن، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
তাহকীক:
مسند الفردوس للدیلمی عن معاذ (رض)
তাহকীক:
مسند احمد، البخاری ، مسلم عن جابر (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
البخاری، مسلم، ابوداؤد، النسائی عن جابر (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
یا عباد اللہ اجببو علی دابتی۔
اے اللہ کے بندو ! میری سواری کو میرے لیے روک لو۔
پھر زمین پر جو اللہ کے حاضر بندے ہیں وہ اس کو تم پر روک دیں گے۔
مسند ابی یعلی، ابن السنی ، الکبیر للطبرانی عن ابن مسعود (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے اسنی المطالب 111، ضعیف الجامع 404 الضیفۃ 655 ۔
তাহকীক:
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 436، الضعیفۃ 1140 ۔
তাহকীক:
یا عباد اللہ اغیثونی یا عباد اللہ اغیثونی۔
اے بندگان خدا ! میری مدد کو پہنچو، اپنے بندگان خدا ! میری مددکو پہنچو۔ بیشک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو انسان کو نظر نہیں آتے۔ الکبیر للطبرانی عن عتبہ بن غزوان
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 383، الضعیفۃ 656 ۔
তাহকীক:
ابوداؤد ، الضیاء عن ابوہریرہ (رض) وعن ابی سعید (رض)
তাহকীক:
السنن للبیہقی عن ابوہریرہ (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
مسلم ، ابوداؤد، النسائی عن جابر (رض)
فائدہ : منتخب کنزالعمال میں مسلم کی جگہ مسند احمد کا اشارہ ہے۔
তাহকীক:
الکبیر للطبرانی عن خالد بن معدان
তাহকীক:
ابوداؤد ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی عن انس (رض)
তাহকীক:
کلام : روایت کی سند ضعیف ہے فیض القدیر 415/1، اسنی المطالب 133، ضعیف الجامع 627 ۔
তাহকীক:
کلام : ضعیف الجامع 625، الضعیفۃ 436، المتناھیۃ 964 ۔
তাহকীক:
ابن شاھین ، الدارقطنی فی الافراد، ابن انلجار عن ابی رھم
کلام : روایت ضعیف ہے 517، کشف الخفاء 3225 ۔
তাহকীক:
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 626، الضعیفۃ 1437 ۔
ہدیہ لانے سے متعلق مذکورہ احادیث ضعیف ہیں۔
তাহকীক:
کلام : روایت ضعیف ہے علامہ مناوی (رح) فرماتے ہیں دیلمی نے بھی اس کی نقل کیا ہے اس میں حسن بن علی الاھوازی راوی ہے جس کے متعلق امام ذہبی (رح) نے فرمایا کہ امام ابن عساکر نے اس کو کذب کے ساتھ مہتم کیا ہے۔ فیض القدیر 435/1 نیز دیکھئے ضعیف الجامع 685 ۔
তাহকীক:
کلام : امام سیوطی (رح) نے اس حدیث پر ضعف کا اشارہ فرمایا ہے اور علامہ مناوی (رح) نے اس پر کوئی کلام نہیں کیا ۔ فیض القدیر 446/1
তাহকীক:
اعوذبک بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق، میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے تام کلمات کے ساتھ اس کی مخلوق کے شر سے۔ پھر اس کو کوئی چیز وہاں ضرر نہ پہنچا سکے گی حتیٰ کہ وہاں سے کوچ کرجائے۔
مسلم عن خولہ بنت حکیم
তাহকীক:
بسم اللہ مجراھا ومرساھا، الآیۃ،
اللہ کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا۔
وماقدرو اللہ حق قدرہ۔ الآیۃ۔
اور نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی (جیسا کہ اس کی) قدر کا حق (تھا) ۔
مسند ابی یعلی، ابن السنی عن الحسین
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 684، ضعیف الجامع 1248 ۔
তাহকীক:
مسند احمد، ابوداؤد، مستدرک الحاکم، شعب الایمان للبیہقی عن سھل بن الحنظلیۃ، 17164
کلام : ضعیف الجامع 2039 ۔
তাহকীক:
مسند احمد، ابوداؤد، الترمذی، مستدرک الحاکم عن ابن عمرو
তাহকীক:
مسند البزار عن ابوہریرہ (رض)
کلام : ضعیف الجامع 3455، کشف الخفاء 1074 ۔
তাহকীক:
ابن ماجہ عن ابی قتادہ ۔ الخطیب فی التاریخ عن ابن عباس (رض)
کلام : مذکورہ حدیث ابن ماجہ میں نہیں ہے۔ امام عجلونی نے اس کو کشف الخفاء میں ذکر کیا اور اس کے تمام طرق بھی ذکر کیے اور خلاصہ فرمایا : حدیث ضعیف ہے ، لیکن تعدد طرق کی وجہ سے اس کو حسن لغیرہ بھی کہا گیا ہے۔ یقول المتر جم ضعیف راجح ہے : دیکھئے : التمیز 91 م الشذرۃ 505، ضعیف الجامع 3323 ۔
তাহকীক:
ابونعیم فی الاربعین الصوفیۃ عن انس (رض)
তাহকীক:
کلام : روایت ضعیف ہے : اسنی امطالب 766، ضعیف الجامع 3324 ۔
جو خدمت میں سب سے سبقت لے جائے اس سے دوسرے کسی عمل کے ساتھ سبقت نہیں لے جاسکتے سوائے شہادت کے۔ الحاکم فی التاریخ، شعب الایمان للبیہقی عن سھل بن سعد
کلام : روایت ضعیف ہے : اسنی المطالب 766 الشذرۃ 505، ضعیف الجامع 3325 ۔
তাহকীক:
مسند احمد، البخاری ، مسلم النسائی عن انس (رض)
তাহকীক:
موطا امام مالک، مسند احمد، البخاری، مسلم، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض)
তাহকীক:
الحکیم عن ابن عمر (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 292 ۔
তাহকীক:
مسند احمد، مسلم، ابوداؤد عن ابی سعید (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
کلام : ضعیف الجامع 1482 ۔
তাহকীক:
قل یا ایھا الکفرون، اذا جاء نصر اللہ والفتح، قل ھواللہ احمد، قل اعوذ برالفلق اور قل اعوذبرب الناس، اور ہر سورت کے شروع اور آخر میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا رہ۔
مسند ابی یعلی ، الضیاء عن جبیر بن مطعم
তাহকীক:
کلام : روایت کی سند ضعیف ہے۔ اور حدیث باطل ہے دیکھئے زوائد ابن ماجہ رقم 2827 ۔ دیکھئے ضعیف الجامع 6379 ۔
তাহকীক:
ابوداؤد، مستدرک الحاکم عن جابر (رض)
তাহকীক:
اعوذب کلمات اللہ التامات من شر ماخلق
تو اس کو اس پڑاؤ میں کوئی ضرر نہ پہنچے گا حتیٰ کہ وہاں سے کوچ کرجائے۔ ابن ماجہ عن خولۃ بنت حکیم
তাহকীক:
کلام : ضعیف الجامع 5059، الضعیفۃ 372 ۔
তাহকীক:
الاوسط للطبرانی عن عقبۃ بن عامر
তাহকীক:
তাহকীক:
بسم اللہ آمنت باللہ اعتصمت باللہ توکلت علی اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ
اللہ کے نام سے نکلتا ہوں، میں اللہ پر ایمان لایا، اس (کی رسی) کو مضبوط تھاما، اللہ پر بھروسہ کیا اللہ کے بغیر کسی شر سے حفاظت نہیں اور اللہ کے بغیر کسی چیز کی طاقت نہیں۔
تو اس نکلنے میں اس کو خیر ملے گی اور اس نکلنے کے بعد اس کی شر سے حفاظت ہوگی۔
مسند احمد، ابن صصری فی امالیہ عن عثمان
তাহকীক:
بسم اللہ واعتصمت باللہ توکلت علی اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ،
تو اس نکلنے میں اس کو خیر نصیب ہوگی اور شر سے حفاظت ہوگی۔
ابن السنن فی عمل یوم ولیلۃ، الخطیب فی التاریخ، ابن عساکر عن عثمان (رض)
তাহকীক:
اللھم انی اتقرب بھن الیک فاجعلھن خلیفتی فی اھلی ومالی
اے اللہ ! میں ان رکعات کے ساتھ تیرا قرب حاصل کرتا ہوں پس ان کو میرا خلیفہ بنا میرے اہل میں اور مال میں۔
تو یہ رکعات اس کے اہل اس کے مال ، اس کے گھر اور اس کے آس پڑوس کے کئی گھروں کی حفاظت کا سبب بنیں گے۔ الحاکم فی التاریخ، الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن انس (رض)
তাহকীক:
اے اللہ تو ہی سفر میں میرا ساتھی ہے اور گھر والوں میں میرا خلیفہ ہے۔ ہم تیرے ساتھ پر راضی ہیں اور تیرے ذمہ کو قبول کرتے ہیں۔ اے اللہ ! مجھے زمین کے تالے کھول دے اور ہم پر سفر آسان کردے۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے اور بری واپسی سے، اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہمارا سفر اس میں تیز کردے۔ مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
তাহকীক:
بسم اللہ مجراھا ومرسھا الایۃ
وما قدر وا اللہ حق قدرہ الآیۃ، مسند ابی یعلی، ابن عساکر عن الحسین
کلام : روایت ضعیف ہے : ذخیرۃ الحفاظ 684، ضعیف الجامع 1248 ۔
তাহকীক:
بسم اللہ الملک الرحمن مجراھا ومرساھا ان ربی لغفوررحیم۔
اللہ کے نام سے سوار ہوتا ہوں جو بادشاہ ہے مہربان ، اس (کشتی) کا چلنا اور رکنا اس کے نام کے ساتھ ہے بیشک میرا رب مغفرت کرنے والا مہربان ہے۔
تو اللہ پاک اس کو غرق سے امان دے گا حتیٰ کہ اس سے بخیریت نکل آئے گا۔
ابوالشیخ عن ابن عباس (رض)
তাহকীক:
الجامع للخطیب عن خفاف بن ندبۃ
کلام : روایت محل کلام ہے، دیکھئے : الشذرۃ 146 ۔
তাহকীক:
ابن النجار ابن عمر (رض)
کلام : الضعیفۃ 219 ۔
তাহকীক:
الدیلمی ابن عمر (رض)
তাহকীক:
مسند ابی یعلی، ابن خزیمہ ، ابن حبان، مستدرک الحاکم ، السنن للبیہقی، ابونعیم فی الطب، السنن لسعید بن منصور عن جابر (رض)
فائدہ : لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چلنے کی شکایت کی تو آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
کلام : روایت ضعیف ہے : المعلۃ 58 ۔
তাহকীক:
তাহকীক:
ابن ابی شیبہ عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن، مرسلاً
তাহকীক:
ابن ابی شیبہ عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن مرسلاً
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
الکبیر للطبرانی ، السنن للبیہقی عن ابن عمر (رض)
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 6111 ۔
তাহকীক:
তাহকীক:
البخاری ، مسلم، ابن حبان عن جابر (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی نعمت کی بدولت نیک کام پورے ہوتے ہیں۔
مستدرک الحاکم عن عائشۃ (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
کلام : ضعیف الجامع 1980 ۔
তাহকীক:
النسائی عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
کلام : الالحاظ 779، ذخیرۃ الحفاظ 6104 ۔
তাহকীক:
ابوداؤد عن ابوہریرہ (رض)
তাহকীক:
ابن ماجہ، النسائی عن جابر (رض)
کلام : ضعیف ابن ماجہ 71، زوائد میں ہے کہ یہ حدیث ابن ماجہ کے متفردات میں سے ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔ ابن ماجہ 489/1 ۔
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
مسند احمد، ابلخاری، الترمذی، ابن ماجہ عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
مسند احمد، ابوداؤد، مستدرک الحاکم عن ابی ثعلبۃ الخشنی
তাহকীক:
مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
তাহকীক:
مسند احمد، مسلم، ابوداؤد، الترمذی عن ابوہریرہ (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
ابوداؤد، مستدرک الحاکم عن جابر (رض)
তাহকীক:
مسدد، ابن قانع، البغوی، الباوردی، ابونعیم عن حوط اوحویط بن عبدالعزی وصحح قال البغوی : مالہ غیرہ، قال ابن قانع : ھو حوط اخز حویط بن عبدالعزی
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
مسند ابی، الترمذی عن ابی سعید (رض)
فائدہ : شرعی سفر جو اڑتالیس میل بنتا ہے اتنا سفر کسی عورت کے لیے بغیر محرم کے تنہا حالت میں جائز نہیں۔ اور عیدالاضحی کے چار دن اور عید الفطر کے ایک دن یعنی مذکورہ پانچ دنوں میں روزہ رکھناجائز نہیں۔
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی ابوداؤد عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
ابوداؤد، مستدرک الحاکم عن ابوہریرہ (رض)
فائدہ : برید دو چوکیوں کے درمیانی فاصلے کو کہا جاتا تھا۔ کیونکہ برید کا معنی ڈاک ہے اور پہلے زمانے میں ڈاک کا نظام ایک چوکی سے دوسری چکی تک علی الترتیب ہوتا تھا۔ ڈاک چوکی میں پہنچتی ، وہ دوسری چوکی تک پہنچاتے دوسری چوکی والے تیسری چوکی تک پہنچاتے تھے۔ اور یہ فاصلہ تقریباً دو یا چار فرسخ کا ہوتا تھا اور ایک فرسخ تین میل ہاشمی ہوتا ہے یعنی تقریباً آٹھ کلومیٹر۔
তাহকীক:
তাহকীক:
مسند البزار ، الاوسط للطبرانی عن ابن عمر (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
مسند ابی داؤد، مسند احمد، البخاری، مسلم عن ابن عباس (رض)
তাহকীক:
الکبیر للطبرانی عن ابن عباس (رض)
তাহকীক:
তাহকীক:
فصل۔۔۔سفر کی ترغیب
کلام : روایت ضعیف ہے : الالحاظ 336، ضعیف الجامع 3209 ۔
তাহকীক:
زودک اللہ التقویٰ وغفرلک ذنبک ووجھک الی الخیر حیث توجھت۔
اللہ پاک تقویٰ کو تیرا توشہ کرے، تیرے گناہ کو بخشے اور تجھے خیر کی طرف لے جائے جہاں بھی تو جائے۔ ابن النجار
তাহকীক:
فی حفظ اللہ وکنفہ وزودک اللہ التقوی وغفرذنبک ووجھک للخیر حیث توجھت واینما کنت۔
تو اللہ کی حفاظت اور اس کے سائے میں ہے، اللہ تقویٰ کو تیرا توشہ بنائے، تیرے گناہ بخش دے اور تجھے خیر کی طرف لے جائے جہاں کہیں ہو۔ ابن النجار
তাহকীক:
جعل اللہ زادک التقوی ولقاک الخیر حیث کنت ورزقک حسن المآب
اللہ پاک تقویٰ کو تیرا توشہ بنائے ، تو جہاں ہو تجھے خیر عطا کرے اور تجھے اچھا ٹھکانا نصیب کرے۔
ابوالحسن علی بن احمد المدینی فی امالیہ
তাহকীক:
مسند البزار، ابن خزیمہ، الدارقطنی فی الافراد، حلیۃ الاولیاء ، مستدرک الحاکم
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
তাহকীক:
مصنف ابن ابی شیبہ
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
اللھم بلغ بلاغا یبلغ خیراً رمغفرۃ منک ورضوانا بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر، اللھم انت الصاحب فی السفر وانت اخلیفۃ فی الاھل ھون علینا السفر واطولنا الارض، اللھم انا نعوذ بک من و عشاء السفر ومآبۃ المنقلب۔
اے اللہ ! خیر تک پہنچا، اپنی مغفرت اور رضاء عطا فرما۔ تمام خیر آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ بیشک آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔ اے اللہ ! تو ہی سفر کا ساتھی ہے، تو پیچھے گھر والوں میں خلیفہ ہے۔ ہم پر سفر کو آسان کر اور زمین کو ہمارے لیے لپیٹ دے۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے اور بری واپسی سے۔ ابن جریر
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
اللھم لاشیء الاانت ولا شیء الا ماشئت ولا حول ولا قوۃ الا بک لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا ھو مولانا وعلی اللہ فلیتوکل المومنون حسبی اللہ لا الہ الا ھو اللھم فاطر السموات والارض انت ولی فی الدنیا والآخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصالحین
اے اللہ ! کوئی چیز نہیں سوائے تیرے، کوئی چیز نہیں مگر جو توچا ہے ، بدی سے بچنے کی اور نیکی کرنے کی قوت صرف تیری بدولت ممکن ہے، ہم کو صرف وہی (مصیبت یا رحمت) پہنچتی ہے جو تو نے ہمارے لیے لکھ دی، وہ (اللہ) ہمارا آقا ہے، اللہ ہی پر ہم بھروسہ کرتے ہیں۔ مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اے اللہ ! تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ تو ہی دنیا و آخرت میں میرا دوست ہے۔ اے اللہ ! مجھے مسلمان حالت میں فوت کر اور صالحین کے ساتھ مجھے شامل کر۔ ابن جریر
তাহকীক:
তাহকীক:
کلام : روایت محل کلام ہے : ذخیرۃ الحفاظ 2793، المتناھیۃ 1146 ۔
তাহকীক:
الحمد للہ الذی خلقنی ولم اک شئا رب اعنی علی اھوال الدھر وبوائق الدھر وکربات الآخرۃ و مصیبات اللیانی والایام رب فی سفری فاحفظنی فی اھلی فاخلفنی وفیما رزقتنی قبارک فی ذلک
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس نے مجھے پیدا کیا حالانکہ میں کچھ نہیں تھا، اے پروردگار ! میری مدد فرما زمانے کی ہول ناکیوں پر اور زمانے کی مصیبتوں پر اور آخرت کے عذابوں پر۔ راتوں اور دنوں کی تکالیف پر میرے اس سفر میں اے پروردگار ! پس میرے گھر والوں کی حفاظت فرما اور ان میں میرا خلیفہ بن اور تو جو رزق مجھے نصیب کرے اس میں مجھے برکت عطا کر۔ الدیلمی
তাহকীক:
اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم اصحب لنا بنصح واقبلنا بذمۃ، اللھم ازولنا الرض وھون علینا السفر، اللھم انی اعوذبک من و عشاء السفر وکابۃ المنقلب وسوء المنظر فی الاھل والمال اللھم اطولنا الارض وھون علینا السفر۔
اے اللہ ! تو ہی سفر میں میرا ساتھی ہے، میرے گھر والوں میں میرا خلیفہ ہے، اے اللہ ! خیر خواہی کے ساتھ ہمارا ساتھی بن، ہماری ذمہ داری قبول کر، اے اللہ ! زمین کو ہمارے لیے سکیڑ دے اور سفر کو ہم پر آسان کردے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے، بری واپسی سے اور اہل ومال میں برے منظر سے، اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو ہم پر آسان کردے۔ ابن جریر
তাহকীক:
کوئی فالتو پھرنے والا جانور تمہارے ساتھ نہ ہونا چاہیے، نہ تم میں سے کوئی کسی گمشدہ شے کا ضامن بنے، نہ کوئی سائل کو واپس کرے اگر تم کو نفع و سلامتی مقصود ہے۔ اور اگر تم اللہ اور پوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو کوئی جادو گر یا جادو گرنی سفر میں تمہاری ساتھی نہ بنے، نہ کاہن اور کاہنہ (آئندہ کا حال بتانے والے) ، نہ کوئی نجومی اور نجومیہ اور نہ شاعر اور شاعرہ۔ اور ہر عذاب جو اللہ پاک اپنے بندوں میں سے کسی کو دینا چاہتا ہے تو پہلے اس کو آسمان دنیا پر بھیجتا ہے۔ پس میں تم کو شام کے وقت اللہ کی نافرمانی سے روکتا ہوں۔ الدولابی فی الکنی، ابی مندہ ، الکبیر للطبرانی، ابن عساکر
کلام : روایت ضعیف ہے۔ کنز العمال
তাহকীক:
ابن شاھین فی الترغیب فی الذکر
তাহকীক:
তাহকীক:
چنانچہ اس نے دوبارہ چادر اٹھائی اور مدینہ گیا اور مسجد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دو رکعتیں پڑھ کر پھر واپس اپنے گھر آگیا۔ الحسن بن سفیان و ابونعیم فی المعرفۃ
তাহকীক:
তাহকীক:
اللھم بلاغا یبلغ خیراً مغفرۃ منک ورضوانا بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل اللھم انا نعوذ بک من وعثاء السفر وکابۃ المنقلب، اللھم اطولنا الارض وھون علینا السفر۔
اے اللہ ! مجھے خیر تک پہنچا ایسی خیر تک جس سے تیری مغفرت اور تیری رضا حاصل ہو، بیشک تمام چیزیں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ اے اللہ ! تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ ! تو سفر کا ساتھی ہے۔ اہل و عیال میں خلیفہ (دیکھ بھال کرنے والا) ہے۔ اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت سے اور بری واپسی سے۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر کو آسان کردے۔
ابن جریر
তাহকীক:
سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون اللھم انا نسالک فی سفرنا ھذا البر والتقویٰ والعمل بما تحب وترضی اللھم ھون علینا السفر واطوعنا بعد ہ، اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل اللھم انی اعوذبک من عثاء السفر وکابۃ المنقلب وسوء المنظر فی الاھل والمال۔
پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے اس (سواری) کو مسخر کیا اور ہم اس کو تابع کرنے کی سکت نہیں رکھنے والے اور ہم اپنے رب کی طرف واپسی لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ ! ہم اس سفر میں نیکی، تقویٰ اور اس عمل کا سوال کرتے ہیں جو تجھے محبوب ہو، جس سے تو راضی ہو۔ اے اللہ ! ہم پر سفر کو آسان کر اور ہم سے دوری کو سمیٹ دے۔ اے اللہ ! تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل میں خلیفہ ہے اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے ، بری واپسی سے اور گھر اور مال میں برے منظر سے۔
اور پھر جب سفر سے واپسی ہوتی تو یہی دعا پڑھتے اور یہ اضافہ فرما دیتے :
آئبون تائبون لربنا حامدون، ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ ابن جریر
তাহকীক:
یا ارض ربی، وربک اللہ اعوذ باللہ من شرک وشرما فیک وشر ماخلق فیک وشرما یدب علیک اعوذ باللہ من شرکل اسد واسود وحیۃ وعقرب ومن ساکن البلدو من شروالدوماولد۔
اے زمین ! میرے رب اور تیرا رب اللہ ہے۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں تیرے شر سے ، تیرے اندر کے شر سے ، جو تجھ میں پیدا کیا گیا ہے اس کے شر سے اور جو تجھ پر چلتے ہیں ان کے شر سے ، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر درندے اور شیر سے ، بچھو اور سانپ سے۔ اس جگہ کے رہنے والوں سے اور والد اور اولاد کے شر سے۔ ابن النجار
তাহকীক:
তাহকীক:
اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم انی اعوذبک من الضعبۃ فی السفر والکابۃ فی المنقلب ، اللھم اقبض لنا الارض وھون علینا السفر۔
اے اللہ ! تو سفر میں میرا ساتھی ہے اور اہل و عیال میں میرا خلیفہ ہے۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر میں تباہی سے اور واپسی میں رنج وغم سے۔ اے اللہ ! ہمارے لیے زمین کو سمیٹ دے اور ہم پر سفر کو آسان کردے۔
پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر سے واپسی کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے :
آئبون تائبون لربنا حامدون
ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔
جب گھر میں داخل ہوتے تو یہ پڑھتے : توبا لربنا اوما لا یغادر حوبا ۔ ہم اپنے رب سے سفر سے واپسی پر ایسی توبہ کرتے ہیں جو کسی گناہ کو باقی نہ چھوڑے۔
اور جس دن مدینہ داخل ہونے کا ارادہ ہوتا تو یہ پڑھتے ، توبا الی ربنا توبا لا یغادر علیہ منا حوبا، ہم اپنے رب سے توبہ کرتے ہیں ایسی توبہ جو ہم پر کسی گناہ کو نہ چھوڑے۔ ابن جریر
তাহকীক:
اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ فی السفر والکابۃ فی المنقلب ، اللھم اقبض لنا الارض وھون علینا السفر۔
اور جب واپسی کا ارادہ ہوتا تو یہ پڑھتے :
تائبون عابدون لربنا حامدون۔
اور جب اپنے گھر والوں کے پاس آتے تو یہ پڑھتے :
توباتو بالربنا اولا لا یغادر علینا حوباً ۔ ابن ابی شیبہ
তাহকীক:
اللھم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاھل، اللھم انی اعوذبک من وعثاء ، السفرو کا بۃ المنقلب والحور بعد الکور ودعوۃ المظلوم وسوء المنظر فی الاھل والمال
اے اللہ تو میرا ساتھی ہے سفر میں اور خلیفہ ہے اہل میں۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقت سے اور رنج وغم کی واپسی سے۔ معاملے کے سلجھنے کے بعد الجھنے سے ۔ مظلوم کی بددعا سے اور اہل ومال میں برے منظر سے۔ ابن جریر
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
ائبون ان شاء اللہ لربنا حامدون ابن ابی عاصم، الکامل لا بن عدی، المحاملی فی الدعاء، ابن عساکر، السنن لسعید بن منصور
کلام : ذخیرۃ الحفاظ 1575 ۔
তাহকীক:
তাহকীক:
تائبون عابدون لربنا حامدون ، ابوداؤد، مسند احمد، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن حبان، السنن لسعید بن منصور
তাহকীক:
اللھم بلغ بلاغا یبلغ خیرا ً مغفرۃ منک ورضوانا بیداک الخیر انک علی کل شیء قدیر، اللھم انت الصاحب فی السفر، والخلیفۃ فی الاھل، اللھم ھون علینا السفر واطولنا الارض، اللھم انی اعوذبک من و عشاء السفر وکابۃ المنقلب۔ ابن جریر، الدیلمی
তাহকীক:
اللھم لک انتشرت والیک توجھت وبک اعتصمت، اللھم انت ثقتی وانت رجائی، اللھم اکفنی مااھمنی وما لا اھتم لہ وما انت اعلم بہ اللھم زودنی التقوی واغفرلی ذنبی ووھمنی للخیر اینما تو جھت
اے اللہ ! میں تیرے لیے اٹھا، تیری طرف متوجہ ہوا، تیری رسی کو تھاما، اے اللہ ! تو میرا بھروسہ ہے اور تو ہی میری امید ہے۔ اے اللہ ! میرے اہم وغیرہ اہم کام میں اور اس کام میں جس کا تجھی کو علم ہے میری کفایت فرما۔ اے اللہ ! مجھے تقویٰ کا توشہ عطا کر، میرے گناہ بخش دے اور مجھے خیر کی طرف راغب کر جہاں کہیں میں منہ کروں۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کلمات پڑھ کر سفر پر نکل جاتے تھے۔ ابن جریر
کلام : الالحاظ 70 ۔
তাহকীক:
তাহকীক:
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب کوئی بندہ سفر کا ارادہ کرکے کپڑے باند لیتا ہے تو اپنے گھر والوں کے پاس اس سے بہتر کوئی خلیفہ نہیں چھوڑ کرجاتا کہ اپنے گھر میں چار رکعات پڑھے اور ہر رکعت میں سو رہ فاتح کے بعد قل ھواللہ احد پڑھے پھر یہ دعا کرے :
اللھم انی اتقرب بھن الیک فاجعلھن خلیفتی فی اھلی ومالی
اے اللہ ! میں ان رکعات کے ساتھ تیرا قرب حاصل کرتا ہوں۔ پس ان کو میرے اہل اور میرے مال میں میرا خلیفہ بنا۔
پس یہ رکعات اس کیلئے اس کے اہل، مال، گھر اور آس پاس کے گھروں میں خلیفہ بنادیتا ہے جب تک کہ وہ واپس آئے۔ الدیلمی
তাহকীক:
آئبون تائبون عابدون انشاء اللہ لربنا حامدون، ابن ابی شیبہ
তাহকীক:
الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی شیبہ
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
اللھم بک اصول وبک احول وبک اسیر
اے اللہ میں تیری مدد کے ساتھ حملہ کرتا ہوں، تیرا ہی ارادہ کرتا ہوں اور تیری مدد کے ساتھ چلتا ہوں۔ مسنداحمد، ابن جریر و صحیحہ
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
তাহকীক:
جبیر کہتے ہیں : میں بہت مال والا نہ تھا لیکن میں ان سورتوں کو پڑھتا رہا اپنے سفر میں بھی اور اقامت میں بھی ۔ حتیٰ کہ کوئی صحابی میرے مثل نہ رہا۔ ابوالشیخ، ابن حبان فی الثواب
کلام : روایت کی سند میں حکیم بن عبداللہ بن سعد ابلی ہے جو مہتم ہے۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں اس کی تمام احادیث موضوع ہیں۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں ائمہ نے اس کو چھوڑ دیا ہے۔ میزان الاعتدال 572/1
তাহকীক: