কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৫১১২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی دعا۔
5112: زہیر بن ابی ثابت سے مروی ہے وہ ابن جندب سے ، وہ اپنے والد جندب سے روایت کرتے ہیں، جندب (رض) فرماتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا :

اللھم استر عورتی و آمن روعتی واقض دینی۔

اے اللہ ! میری پردہ پوشی فرما۔ میرے دل کو اطمینان و سکون نصیب فرما اور میرا قرض ادا کردے۔ (ابو نعیم عن ابراہیم بن خباب الخزاعی
5112- عن زهير بن أبي ثابت عن ابن جندب عن أبيه: "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم استر عوراتي، وآمن روعتي، واقض ديني ". "أبو نعيم عن إبراهيم بن خباب الخزاعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی دعا۔
5113: ۔۔ (زید بن ارقم (رض)) زید بن ارقم (رض) فرماتے ہیں میں تم کو وہی چیز کہتا ہوں کہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہی (اور تم بھی ہو) ۔

اللهم إنى أعوذ بک من العجز والکسل ، والجبن والبخل والهرم و عذاب القبر ، اللهم آت نفسي تقواها أنت وليها ومولاها ، أنت خير من زكاها ، اللهم إنى أعوذ بک من علم لا ينفع ، ونفس لا تشبع ، وقلب لا يخشع ودعاء لا يستجاب۔

اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل سے، بڑھاپے سے، عذاب قبر سے۔ اے اللہ ! مجھے اپنی ذات میں تقوی نصیب کر، تو ہی میرے نفس کا مولی اور مددگار ہے تو ہی اس کی سب سے زیادہ صحیح تربیت کرنے والا ہے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو، ایسے دل سے جس میں خشوع نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
5113- "زيد بن أرقم" عن زيد بن أرقم قال: "لا أقول لكم إلا ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل، والجبن والبخل والهرم وعذاب القبر، اللهم آت نفسي تقواها أنت وليها ومولاها، أنت خير من زكاها، اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع، ونفس لا تشبع، وقلب لا يخشع ودعاء لا يستجاب ". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی دعا۔
5114: ۔۔ (شداد بن اوس) مطرف بن عبداللہ بن شخیر ابلتین کے کسی شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی شداد بن اوس کے پاس گئے۔ حضرت شداد (رض) نے فرمایا :

میں تم دونوں کو ایک حدیث بتاتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سفر و حضر میں سکھاتے تھے :

پھر آپ (رض) نے و دعا والی حدیث ہم کو املاء کرائی اور ہم نے لکھ لی :

اللهم إنى أسألک الثبات في الامر ، وأسألک عزيمة الرشد ، وأسألک شکر نعمتک ، وأسألک حسن عبادتک ، وأسألك يقينا صادقا ، وأسألک قلبا سليما ، وأسألک من خير ما تعلم ، واعوذ بک من شر ما تعلم ، واستغفرک لما تعلم إنك أنت علام الغيوب۔

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں، سیدھی راہ پر مضبوطی کا سوال کرتا ہوں، تیری نعمتوں پر شکر کی توفیق کا سوال کرتا ہوں، تیری اچھی طرح عبادت کرنے کا سوال کرتا ہوں، سچے یقین کا سوال کرتا ہوں، قلب سلیم کا سوال کرتا ہوں، ہر خیر کا سوال کرتا ہوں جو تیرے علم میں ہے، ہر شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جو تیرے علم میں ہے اور ان گناہوں سے مغفرت مانگتا ہوں جو تیرے علم میں ہیں۔ یا ارحم الراحمین۔

شداد (رض) نے فرمایا مجھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے شداد بن اوس ! جب تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ سونا چاندی جمع کرنے میں مشغول ہیں تو تو ان کلمات کا خزانہ کرلینا۔ (رواہ ابن عساکر)
5114- "شداد بن أوس" عن مطرف بن عبد الله بن الشخير عن رجل من أهل بلقين، قال: "دخلت أنا وصاحب لي على شداد بن أوس فقال: أذودكما حديثا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمناه في الحضر والسفر؟ فأملى علينا وكتبناه: بسم الله الرحمن الرحيم: اللهم إني أسألك الثبات في الأمر، وأسألك عزيمة الرشد، وأسألك شكر نعمتك، وأسألك حسن عبادتك، وأسألك يقينا صادقا، وأسألك قلبا سليما، وأسألك من خير ما تعلم، وأعوذ بك من شر ما تعلم، وأستغفرك لما تعلم، إنك أنت علام الغيوب، قال شداد: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا شداد بن أوس إذا رأيت الناس يكنزون الذهب والفضة فأكنز أنت هؤلاء الكلمات ". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی دعا۔
5115: ۔۔ کعب احبار (رح) سے منقول ہے کہ مجھے حضرت صہیب (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا مانگی۔

اللھم انک لست بآلہ استحدثناہ ، ولا برب استبدعناہ، ولا کان لنا قبلک من آلہ بلحا الیہ وندرک، ولا اعانک علی حلقک احد فنشر کہ فیک، تبارکت وتعالیت۔

اے اللہ ! تو ایسا معبود نہیں ہے جس کو ہم نے پیدا کرلیا ہو، نہ ایسا رب ہے، جس کو ہم نے ایجاد کرلیا ہو، آپ سے پہلے ہمارا کوئی رب نہ تھا جس کے پاس ہم جائیں اور تجھے چھوڑ دیں، اور نہ مخلوقات کی پیدائش میں تیری کوئی مدد کرنے والا کہ ہم اس کو تیرا شریک ٹھہرائیں۔ بیشک تو بابرکت اور عالی شان ہے۔

حضرت کعب (رح) فرماتے ہیں۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) بھی یہ دعا کرتے تھے۔ رواہ ابن عساکر۔
5115- عن كعب قال أخبرني صهيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "اللهم إنك لست بإله استحدثناه، ولا برب استبدعناه، ولا كان لنا قبلك من إله نلجأ إليه ونذرك، ولا أعانك على خلقك أحد فنشركه فيك، تباركت وتعاليت"، قال كعب هكذا كان داود عليه السلام يقول". "كر". مر برقم [3676] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دعا
5116: ۔۔ کعب (رح) سے منقول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جب نماز سے لوٹتے تو یہ دعا فرماتے۔

اللهم اصلح لی دينى الذی جعلته لي عصمة ، وأصلح لي دنياى التی جعلت فيها معاشی ، اللهم انی أعوذ برضاک من سخطک ، وأعوذ بعفوک من نقمتک ، وأعوذ بک منک ، اللهم لا مانع لما أعطيت ، ولا معطي لما منعت ، ولا ينفع ذا الجد منک الجد۔

اے اللہ ! میرے دین کی اصلاح فرما جس کو تو نے میرے لیے حفاظت کی چیز بنایا ہے۔ میری دنیا کی اصلاح فرما، جس میں تو نے میری روزی رکھی ہے، اے اللہ ! میں تیری رضاء کی پناہ چاہتا ہوں تیری ناراضگی سے ، اور تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں تیرے عذاب سے اور تیری ہی پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، اے اللہ ! جسے تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جس کو تو منع کردے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی صاحب مرتبہ کو کوئی کوشش تجھ سے بچانے میں نفع نہیں پہنچا سکتی۔

حضرت کعب احبار (رح) فرماتے ہیں مجھے صہیب (رض) نے فرمایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نماز سے لوٹتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔ (ابن زنجویہ، الرویانی، ابن عساکر)
5116- عن كعب أن داود عليه السلام كان إذا انصرف من صلاته قال: "اللهم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة، وأصلح لي دنياي التي جعلت فيها معاشي، اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك، وأعوذ بعفوك من نقمتك، وأعوذ بك منك، اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد"2 قال كعب: وحدثني صهيب أن محمدا صلى الله عليه وسلم كان يقولهن عند انصرافه من صلاته. "ابن زنجويه والروياني كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دعا
5117: ۔۔ (طارق اشجعی) ابو امالک اشجعی فرماتے ہیں مجھے میرے والد نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا جبکہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا میں اپنے رب سے دعا مانگتے ہوئے کیا کہوں تو آپ نے ارشاد فرمایا : کہو :

اللھم اغفرلی وارحمنی وعافنی وارزقنی۔

اے اللہ ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت میں رکھ اور مجھے رزق عطا کر۔

پھر آپ نے چار انگلیاں جمع کرکے فرمایا (یہ چار دعائیں) تمہاری دنیا و آخرت کی سب بھلائیوں کو سمیٹ لیں گی۔ (ابن ابی شیبہ، ابن النجار)
5117- "طارق الأشجعي" عن أبي مالك الأشجعي قال حدثني أبي قال: "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وأتاه رجل، فقال: كيف أقول حين أسأل ربي؟ قال قل: اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني، وجمع أصابعه الأربع، إلا الإبهام فإن هؤلاء يجمعن دينك ودنياك، وفي لفظ: دنياك وآخرتك ". "ش وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دعا
5118: ۔۔ (عبداللہ بن جعفر) عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ جس دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طائف کی طرف نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی تھی :

اللھم انی اعوذ بنور وجھک الذی اضاءت لہ السموات والارض۔

اے اللہ ! میں تیرے چہرے کے نور کی جس سے آسمان اور زمین روشن ہوئے پناہ مانگتا ہوں۔ (رواہ الدیلمی)
5118- "عبد الله بن جعفر" عن عبد الله بن جعفر أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا يوم خرج إلى الطائف: "اللهم إني أعوذ بنور وجهك الذي أضاءت له السموات والأرض". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১১৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دعا
5119: ۔۔ عبداللہ بن جعفر سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا میں ارشاد فرمایا :

اللھم تجاوز عنی ، اللھم اعف عنی، فانک غفور رحیم۔

اے اللہ ! مجھ پر رحم فرما، مجھ سے درگذر فرما، اے اللہ مجھے معاف فرما بیشک تو مغفرت فرمانے والا ہے۔ رواہ الدیلمی۔
5119- عن عبد الله بن جعفر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اللهم ارحمني، اللهم تجاوز عني، اللهم اعف عني، فإنك غفور رحيم". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دعا
5120: ۔۔ عبداللہ بن جعفر فرماتے ہیں جب حضرت ابو طالب وفات پا گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پیروں پر چل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان کو سلام کی دعوت دی لیکن انھوں نے جواب بھی نہ دیا۔ پھر آپ لوٹے اور دو رکعات نماز ادا فرمائی اور یہ دعا کی :

اللهم اليك أشكو ضعف قوتي ، وقلة حيلتی وهوانی علی الناس ، يا أرحم الراحمين ، أنت أرحم بي ، إلى من تکلني إلى عدو يتجهمني ؟ أم إلى قريب ملكته أمری ؟ ان لم تکن غضبانا علي فلا أبالی غير أن عافيتك هي أوسع لي أعوذ بنور وجهك الذی أشرقت له الظلمات وصلح عليه أمر الدنيا والاخرة ان ينزل بی غضبک أو يحل علي سخطک ، لک العتبی حتی ترضی ، ولا حول ولا قوة الا بك۔

اے اللہ ! میں اپنی قوت کے ضعف کی تجھی سے شکایت کرتا ہوں اور اپنی تدبیر کی قلت اور لوگوں میں اپنی بےوقعتی کا تجھی سے شکوہ کرتا ہوں یا ارحم الراحمین ! تو ہی مجھ پر رحم فرمانے والا ہے۔ تو مجھے کن لوگوں کے سپرد کرتا ہے، کیا ایسے دشمن کے جو مجھ پر یلغار کرتا ہے، یا ایسے رشتے دار کے جو میرا مالک بن گیا ہے، لیکن اگر تو مجھ پر غصہ نہیں ہے تو مجھے پھر کوئی پروا نہیں ہے۔ تیری عافیت ہی مجھے سب سے کافی ہے۔ میں تیرے چہرے کے نور، جس سے تمام تاریکیاں روشن ہوگئیں اور جس سے دنیا و آخرت کے کام بن گئے، کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ناز ہو یا تیری ناراضگی مجھ پر اترے، تجھے منانا فرض ہے جب تک تو راضی نہ ہو، اور کسی بدی سے اجتناب اور کسی نیکی کی قوت تیرے ہی طفیل ممکن ہوسکتی ہے۔ (الکامل لابن عدی، ابن عساکر)

کلام : ۔۔ یہ حدیث ابو صالح قاسم بن لیث رسغی کی ہے، ہم نے ان کے سوا کسی کو یہ حدیث بیان کرتے نہیں سنا اور ہم نے صرف انہی مروی لکھی ہے۔ الکامل۔

امام طبرانی نے بھی اس کو روایت کہا ہے جس پر علامہ ہیثمی مجمع 6/35 میں فرماتے ہیں اس میں ابن اسحاق مدلس ہے لیکن ثقہ ہے اور باقی روات بھی ثقہ ہیں۔

نیز دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 4526 پر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
5120- عن عبد الله بن جعفر قال: "لما توفي أبو طالب خرج النبي صلى الله عليه وسلم ماشيا على قدميه فدعاهم إلى الإسلام فلم يجيبوه فانصرف فأتى شجرة فصلى ركعتين، ثم قال: اللهم إليك أشكو ضعف قوتي، وقلة حيلتي وهواني على الناس، يا أرحم الراحمين، أنت أرحم بي، إلى من

تكلني؟ إلى عدو يتجهمني؟ أم إلى قريب ملكته أمري؟ إن لم تكن غضبانا علي فلا أبالي، غير أن عافيتك هي أوسع لي أعوذ بنور وجهك الذي أشرقت له الظلمات وصلح عليه أمر الدنيا والآخرة، أن ينزل بي غضبك، أو يحل علي سخطك، لك العتبى حتى ترضى، ولا حول ولا قوة إلا بك ". "عد وقال: هذا حديث أبي صالح القاسم بن الليث الرسعني لم نسمع أن أحدا حدث بهذا الحديث غيره ولم نكتبه إلا عنه كر" ومر برقم [3613]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض سے حفاظت کی دعا
5121: ۔۔ (ابن عباس (رض)) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اللھم انی اعوذبک من غلبۃ الدین، وغلبۃ العدو، و من بوار الایم، ومن فتنۃ المسیح الدجال۔

اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے بوجھ سے، دشمن کے غلبہ سے، بےنکاح مرنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔ (البزار، نسائی)
5121- "ابن عباس" عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "اللهم إني أعوذ بك من غلبة الدين، وغلبة العدو، ومن بوار الأيم، ومن فتنة المسيح الدجال". "ز ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض سے حفاظت کی دعا
5122: ۔۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں ہم شمار کرتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی مجلس میں سو مرتبہ یہ استغفار پڑھ لیتے ہیں :

رب اغفر لی و تب علی انک انت التواب الغفور۔

پروردگار میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما بیشک تو توبہ قبول کرنے والا ہے۔ ابن ابی شیبہ 5091 ۔
5122- ابن عمر "إن كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المجلس، يقول: رب اغفر لي، وتب علي، إنك أنت التواب الغفور مائة مرة ". "ش". مر برقم [5091] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض سے حفاظت کی دعا
5123: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کیا کرتے تھے :

اللھم انی اعوذبک من شر الاعمیین۔

اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دو اندھی چیزوں کے شر سے۔

ابن عمر (رض) سے پوچھا گیا : اے ابو عبدالرحمن ! یہ دو اندھی چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا : سیلاب اور بھڑکا ہوا اونٹ۔ الرامھرمزی۔
5123- عن ابن عمر قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم إني أعوذ بك من شر الأعميين، قيل يا أبا عبد الرحمن ما الأعميان؟ قال: السيل والبعير المغتلم. الرامهرمزي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض سے حفاظت کی دعا
5124: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اللھم عافنی فی قدرتک، وادخلنی فی رحمتک ، واقض اجلی فی طاعتک، واختم لی بخیر عملی، واجعل ثوابہ الجنۃ۔

اے اللہ ! مجھے اپنی قدرت میں عافیت سے رکھ، مجھے اپنی رحمت میں داخل کر، اپنی بندگی میں میری عمر تمام کر، میرے سب سے اچھے عمل پر میرا خاتمہ کر اور اس کا ثواب جنت عطا کر۔ (رواہ ابن عساکر)

کلام : ۔۔ اس میں ایک راوی عبداللہ بن احمد یحصبی ہے جس کی حدیث کا تابع نہیں ہے۔ (اس وجہ سے حدیث ضعفا محل کلام ہے)
5124- عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو: "اللهم عافني في قدرتك، وأدخلني في رحمتك، واقض أجلي في طاعتك، واختم لي بخير عملي، واجعل ثوابه الجنة". "كر" وفيه عبد الله بن أحمد اليحصبي قال عق: لا يتابع على حديثه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض سے حفاظت کی دعا
5125: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ دعا ہوتی تھی :

(ج 2 ص 700)

اے مصیبت کے وقت کا سہارا، اے سختی کے وقت کا ساتھی ! اے میری نعمتوں کا مالک ! اے میرے معبود ! اے میرے آباء و اجداد کے معبود ! مجھے میرے نفس کے حوالہ نہ کر کیونکہ میں نفس کے حوالہ ہو کر شر کے قریب اور خیر سے دور ہوجاؤں گا۔ اے اللہ قبر کی وحشت میں تو میرا ساتھی بن اور قیامت کے روز پورا کیا جانے والا عہد نصیب کر۔ (الحاکم فی التاریخ الدیلمی 3909)
5125- عن ابن عمر قال: "كان من دعاء النبي صلى الله عليه وسلم: يا عدتي عند كربتي، ويا صاحبي عند شدتي، ويا ولي نعمتي، يا إلهي وإله آبائي لا تكلني إلى نفسي فأقرب من الشر وأتباعد من الخير وآنسني في قبري من وحشتي، واجعل لي عهدا يوم القيامة مسؤولا ". "ك في تاريخه والديلمي" مر برقم [3909] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضر (علیہ السلام) کی دعا
5126: ۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر ہم کو ارشاد فرماتے تھے :

اے میرے صحابیو ! کیا چیز تم کو مانع ہے کہ تم اپنے گناہوں کا کفارہ آسان کلمات کے ساتھ ادا کرتے رہو ؟ لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ کون سے کلمات ؟ فرمایا : تم کو میرے بھائی خضر علیہ السالم کی دعا یاد نہیں کیا ؟ (صحابی فرماتے ہیں) ہم نے عرض کیا یار سول اللہ ! وہ یہ دعا کیا کرتے تھے :

اللھم انی استغفرک لما تبت الیک منہ، ثم عدت فیہ، واستغفرک لما اعتطیتک من نفسی ثم الم اوف لک بہ، واستغفرک للنعم التی انعمت بھا علی فتقویت بھا علی معاصیک واستغرک لکل خیر اردت بہ وجھک فخالطنی فیہ ما لیس لک، اللھم لا تخزنی فانک بی عالم، ولا تعذبنی فانک علی قادر۔

اے اللہ ! میں ان گناہوں سے تیری مغفرت مانگتا ہوں جن سے میں نے توبہ کی اور پھر ان میں مبتلا ہوگیا، اور میں تیری مغفرت مانگتا ہوں کہ میں نے اپنی جان کے متعلق تجھ سے عہد و پیمان کیے لیکن پھر ان کو پورا نہ کرسکا۔ اے اللہ ! میں تیری مغفرت چاہتا ہوں کہ تو نے مجھ پر اپنی نعمتیں انعام فرمائیں لیکن میں نے ان کو تیری نافرمانی کا ذریعہ بنا لیا، میں تیری مغفرت چاہتا ہوں ہر اس خیر کے لیے جو میں نے خالص تیری رضا کے لیے کرنے کا ارادہ کیا مگر اس میں کچھ کھوٹ شامل ہوگیا جو تیرے لیے نہ تھا۔ اے اللہ ! مجھے رسوا نہ فرما بیشک تو مجھے خوب جاننے والا ہے۔ اور مجھے عذاب نہ کر بیشک تو مجھ پر خوب قادر ہے۔ رواہ الدیلمی۔

کلام : ۔۔ ضعیف روایت ہے دیکھئے : ذیل اللآلی 155 ۔ الضعیفۃ 1604 ۔
5126- عن ابن عمر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كثيرا ما يقول لنا: معاشر أصحابي ما يمنعكم أن تكفروا ذنوبكم بكلمات يسيرة؟ قالوا يا رسول الله: وما هي؟ قال تقولون مقالة أخي الخضر، قلنا يا رسول الله: ما كان يقول؟ قال كان يقول: اللهم إني أستغفرك لما تبت إليك منه، ثم عدت فيه، وأستغفرك لما أعطيتك من نفسي ثم لم أوف لك به، وأستغفرك للنعم التي أنعمت بها علي فتقويت بها على معاصيك وأستغفرك لكل خير أردت به وجهك فخالطني فيه ما ليس لك، اللهم لا تخزني فإنك بي عالم، ولا تعذبني فإنك علي قادر ". "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫১২৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضر (علیہ السلام) کی دعا
5127: ۔۔ بندگان خدا میں سے ایک بندہ نے یہ دعائیہ کلمہ کہا :

یا رب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجھک ولعظیم سلطانک۔

اے پروردگار ! تیرے لیے تعریفیں ہوں جیسی کہ تیری ذات بزرگی اور تیری بادشاہت کی عظمت کے لائق ہوں۔

دو فرشتوں نے ان کلمات (کا ثواب) لکھنے کی کوشش کی، مگر لکھ نہ سکے۔ وہ دونوں آسمان کی طرف چڑھے اور عرض کیا : اے پروردگار ! تیرے ایک بندے ایک ایسی بات کہی ہے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ کیسے اس (کے ثواب) کو لکھیں۔ پروردگار عزوجل نے حالانکہ اپنے بندہ کی بات کو بخوبی جانتا ہے پھر بھی تفاخرا ارشاد فرمایا : میرے بندے نے کیا کہا ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں اس نے یہ کلمات تیری بارگاہ میں کہے ہیں :

یا رب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجہک ولعظیم سلطانک۔

پروردگار فرماتے ہیں : ان کلمات کو یونہی لکھ لو جیسے اس نے کہے ہیں جب بندہ مجھ سے ملاقات کے لیے آئے گا میں خود اس کو ان کا اجر دوں گا۔ (ابن ماجہ، شعب الایمان للبیہقی، الکبیر للطبرانی عن ابن عمر (رض))

الحمد للہ الذی بنعمتہ تتم الکلمات الصالحات و بنعمتہ و منہ تم الکتاب اللھم لک الحمد کلہ ولک الشکر کلہ محمد اصغر غفر اللہ لہ۔

ختم شد
5127- إن عبدا من عباد الله قال: "يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك، فأعضلت بالملكين، فلم يدريا كيف يكتبانها، فصعدا إلى السماء، فقالا: يا ربنا إن عبدك قد قال مقالة لا ندري كيف نكتبها، فقال الله عز وجل وهو أعلم بما قال عبده: ماذا قال عبدي؟ قالا يا رب إنه قال: يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك، فقال الله تبارك وتعالى لهما: اكتباها كما قال عبدي حتى يلقاني عبدي فأجزيه بها". "هـ طب هب عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক: