কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ذکر دعا و استغفار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৩৭৬ টি

হাদীস নং: ৫০৫২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں سے پناہ مانگنا
5052: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : میں تجھے ایس کلمات نہ بتاؤں کہ اگر تو پڑھ لے تو تیرے گناہ چاہے چیونٹیوں کے برابر ہوں یا ریت کے ذرات کے برابر ہوں تب بھی اللہ پاک ان کو تیرے لیے معاف فرما دے گا اور تیری بخشش کردی جائے گی :

اللھم لا الہ الا انت سبحانک عملت سوءا او ظلمت نفسی، فاغفرلی، انہ لایغفر الذنوب الا انت۔

5054: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ یہ دعا فرماتے تھے :

اعوذبک من جھد البلاء و درک الشقاء، وشماتۃ الاعداء، واعوذبک من السجن والقید والسوط۔

اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں مصیبت کی آزمائش سے ، بدبختی کے منڈلانے سے، دشمنوں کے خوش ہونے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قید، بیڑیوں اور کوڑوں سے۔ یوسف القاضی۔
5052- عن علي قال أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدي، ثم قال: "ألا أعلمك كلمات تقولهن؟ لو كانت ذنوبك كعدد النمل أو كدب الذر، لغفرها الله لك؟ على أنه مغفور لك: اللهم لا إله إلا أنت سبحانك عملت سوءا أو ظلمت نفسي، فاغفر لي، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت". "ابن أبي الدنيا في الدعاء وعبد الغني بن سعيد في إيضاح الأشكال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں سے پناہ مانگنا
5053: ۔۔ حضرت علی (رض) کا ارشاد مبارک ہے : اللہ کے ہاں محبوب ترین کلمات یہ ہیں :

اللھم لا الہ انت ، اللھم لا نعبد الا ایاک، اللھم لا نشرک بک شیئا، اللھم انی ظلمت نفسی فاغفرلی، فانہ لا یغفر الذنوب الا نت۔

اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے اللہ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے، اے اللہ ! ہم تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے اے اللہ ! مجھ سے اپنی جان پر ظلم ہوا مجھے بخش دے ، بیشک تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا۔ (ھناد، یوسف القاضی فی سننہ)
5053- عن علي قال: "من أحب الكلام إلى الله هؤلاء الكلمات اللهم لا إله إلا أنت، اللهم لا نعبد إلا إياك، اللهم لا نشرك بك شيئا، اللهم إني ظلمت نفسي فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت". "هناد ويوسف القاضي في سننه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں سے پناہ مانگنا
5054: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ یہ دعا فرماتے تھے :

اعوذبک من جھد البلاء و درک الشقاء، وشماتۃ الاعداء، واعوذبک من السجن والقید والسوط۔

اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں مصیبت کی آزمائش سے ، بدبختی کے منڈلانے سے، دشمنوں کے خوش ہونے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قید، بیڑیوں اور کوڑوں سے۔ یوسف القاضی۔
5054- عن علي أنه كان يقول: "أعوذ بك من جهد البلاء، ودرك1 الشقاء، وشماتة الأعداء، وأعوذ بك من السجن والقيد والسوط". "يوسف القاضي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں سے پناہ مانگنا
5055: ۔۔ حکیم ترمذی اپنی کتاب نوادر الاصول فرماتے ہیں : عمرو بن ابی عمرو، ابو ہمام الدلال، ابراہیم بن طہمان ، عاصم بن ابی النجود، زر بن حبیش (کی سند کے ساتھ) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اسی دوران میں حضرت ابو زر (رض) بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ابو ذر (رض) کو دیکھا تو فرمایا : یہ ابو ذر ہیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : میں نے پوچھا : اے امین اللہ (جبرئیل (علیہ السلام)) کیا تم ابو ذر کو جانتے ہو ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ان کو زمین والوں سے زیادہ آسمان والے جانتے ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ ایک دعا دن میں دو مرتبہ کیا کرتے ہیں۔ جس پر ملائکہ بھی فخر فرماتے ہیں۔ لہٰذا آپ بھی ان کو بلا کر ان سے اس دعا کے بارے میں پوچھ لیں۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا : اے ابو ذر ! کوئی ایسی دعا ہے جو تم دن میں دو مرتبہ مانگا کرتے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ میں نے وہ کسی انسان سے نہیں سنی، بلکہ پروردگار نے مجھے الہام فرمائی ہے اور وہ دعا میں دن میں دو مرتبہ مانگا کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں قبلہ رو ہوتا ہوں پھر جی بھر کر اللہ کی تسبیح و تہلیل اور تحمید و تکبیر کرتا ہوں پھر وہ دعا مانگتا ہوں جو دس کلمات پر مشتمل ہے :

اللھم انی اسالک ایمانا دائما، واسالک قلبا خاشعا، واسالک علما نافعا، واسالک یقیناً صادقا، واسالک دینا قیما، واسالک العافیۃ من کل بلیۃ، واسالک تمام العافیۃ، واسالک دوام العافیۃ، واسالک الشکر علی العاقبۃ، واسالک الغنی علی الناس۔

اے اللہ ! میں تجھ سے دائمی ایمان کا سوال کرتا ہوں، علم نافع کا سوال کرتا ہوں، سچے یقین کا سوال کرتا ہوں، مضبوط اور سیدھے دین کا سوال کرتا ہوں، ہر مصیبت سے عافیت کا سوال کرتا ہوں، کامل عافیت ا سوال کرتا ہوں، ہمیشہ رہنے والی عافیت کا سوال کرتا ہوں، عافیت پر شکر کی توفیق کا سوال کرتا ہوں، اور لوگوں سے بےنیاز کا سوال کرتا ہوں۔

جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا : قسم اس ذات پاک کی، جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے، آپ کا کوئی امتی یہ دعا نہیں کرتا مگر اس کے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، خواہ وہ سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہوں یا مٹی کے ذرات سے زیادہ ہوں۔ اور آپ کا کوئی امت اس دعا کو لے کر خدا کے پاس نہیں آئے گا مگر جنتیں اس کی مشتاق ہوں گی، فرشتے اس کے لیے بخشش کی دعا کریں گے، جنت کے سب دروازے اس کے لیے کھول دیے جائیں اور فرشتے اس کو کہیں گے : اے اللہ کے ولی ! جس دروزے میں چاہے داخل ہوجا۔
5055- قال الحكيم الترمذي في نوادر الأصول: حدثنا عمرو بن أبي عمرو قال: حدثنا أبو همام الدلال عن إبراهيم بن طهمان عن عاصم بن أبي النجود عن زر بن حبيش عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، "أنه أتاه جبريل عليه السلام، فبينا هو عنده إذ أقبل أبو ذر فنظر إليه جبريل، فقال هو أبو ذر، قال فقلت: يا أمين الله وتعرفون أنتم أبا ذر؟ قال: نعم، والذي بعثك بالحق إن أبا ذر أعرف في أهل السماء منه في أهل الأرض، وإنما ذلك لدعاء يدعو به كل يوم مرتين، وقد تعجبت الملائكة منه، فادع به فاسأله عن دعائه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا ذر دعاء تدعو به كل يوم مرتين؟ قال: نعم

فداك أبي وأمي، ما سمعته من بشر، وإنما هو عشرة أحرف ألهمني ربي إلهاما، وأنا أدعو به كل يوم مرتين، أستقبل القبلة فأسبح مليا وأهلله مليا، وأحمده وأكبره مليا، ثم أدعو بتلك عشر كلمات: اللهم إني أسألك إيمانا دائما، وأسألك قلبا خاشعا، وأسألك علما نافعا، وأسألك يقينا صادقا، وأسألك دينا قيما، وأسألك العافية من كل بلية، وأسألك تمام العافية، وأسألك دوام العافية، وأسألك الشكر على العافية، وأسألك الغنى على الناس، قال جبريل: يا محمد والذي بعثك بالحق نبيا، لا يدعو أحد من أمتك بهذا الدعاء إلا غفرت له ذنوبه، وإن كانت أكثر من زبد البحر وعدد تراب الأرض ولا يلقى أحد من أمتك وفي قلبه هذا الدعاء إلا اشتاقت له الجنان، واستغفر له الملكان، وفتحت له أبواب الجنة ونادت الملائكة: يا ولي الله ادخل أي باب شئت "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں سے پناہ مانگنا
5056: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

فاتحۃ الکتاب (سورة فاتحہ) آیۃ الکرسی، اور آل عمران کی دو آیات۔

شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو الخ۔۔۔ (مکمل آیت)

اور قل اللھم مالک الملک ۔۔ سے۔۔ وترزق من تشاء بغیر الحساب تک۔ (مکمل آیت)

یہ سب آیات عرش سے متعلق ہیں۔ ان کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کی بارگاہ میں عرض کرتی ہیں : اے اللہ ! تو ہم کو زمین پر اتارتا ہے ؟ اور ان لوگوں پر اتارتا ہے جو تیری نافرمانی کرتے ہیں ؟ اللہ عزوجل نے فرمایا : میں نے قسم اٹھائی ہے تم کو میرا جو بندہ بھی (فرض) نمازوں کے بعد تلاوت کرے گا خواہ اس کے اعمال کیسے ہوں میں اس کو جنت میں داخل کردوں گا، اس کو حظیرۃ القدس میں اتار دوں گا، دشمن سے اس کو پناہ دوں گا اور اس کی مدد کروں گا۔ (ابن حبان فی الضعفاء، ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ، ابو منصور السحابی فی الاربعین)

کلام : ۔۔ امام ابن جوزی (رح) نے اس روایت کو موضوعات میں شمار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں ایک روای حارث بن عمیر متفرد ہے جو ثقہ رایوں کی جانب سے من گھڑت روایتیں پیش کرتا ہے، حافظ ابو الفضل عراق سے اس روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا : اس کے روایت کو متقدمین نے ثقہ قرار دیا ہے لیکن متاخرین نے کچھ راویوں میں کلام کیا ہے اور اس میں محل نظر صرف دو اشخاص ہیں : محمد بن زنبور مکی اور حارث بن عمیر۔ دونوں کو کچھ ائمہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور اول کو ابن خزیمہ (رح) نے اور موخر الذکر کو امام ابن حبان اور امام احاکم نے ضعیف قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے اس کو اپنی امالیہ میں ذکر فرمایا ہے اور فرمایا کہ ہم حارث میں کسی متقدم کا کوئی طعن نہیں پاتے بلکہ حماد بن زیدان کی تعریف کرتے ہیں جو ان سے بڑے ہیں اور نقاد ابن معید ان کی توثیق فرماتے ہیں۔

نیز ابو حاتم اور نسائی نے بھی ان کی توثیق فرمائی۔ بخاری و ابن حبان نے تعلیقا ان کو ذکر کیا، دیگر اصحاب سنن نے ان کی روایات لی۔ لیکن ابن حبان (رح) نے ان کو ضعفاء میں شمار کیا اور ان کی توہین میں کافی زیادتی کی ہے اور حارث سے اوپر کے راویوں کے بارے میں تو بات ہی نہیں کی جاسکتی ان کی عظمت شان کی وجہ سے۔ نیز حافظ ابن حجر (رح) ابن جوزی (رح) کے اس کو موضوع شمار کرنے کے حوالہ سے فرماتے ہیں : ابن جوزی (رح) نے اس کو موضوعات میں شمار کرکے افراط کیا ہے شاید انھوں نے اس حدیث کے ثواب کو بہت زیادہ سمجھ لیا تھا ورنہ راوی تو آپ کو معلوم ہی گئے (کہ معمولی اختلاف کے علاوہ سب صحیح ہیں)
5056- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن فاتحة الكتاب وآية الكرسي والآيتين من آل عمران {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ} و {قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ} إلى {وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ} معلقات بالعرش ما بينهن وبين الله حجاب، قلن تهبطنا إلى أرضك؟ وإلى من يعصيك؟ فقال الله عز وجل: حلفت لا يقرأكن أحد من عبادي دبر كل صلاة إلا جعلت الجنة مثواه على ما كان منه، وإلا أسكنته حظيرة القدس، وإلا نظرت إليه بعيني المكنونة كل يوم سبعين نظرة وإلا قضيت له كل يوم سبعين حاجة، أدناها المغفرة، وإلا عذته من كل عدو، ونصرته منه". "حب في الضعفاء وابن السني في عمل يوم وليلة وأبو منصور السحابي في الأربعين وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وقال: تفرد به الحارث ابن عمير وكان يروي الموضوعات عن الأثبات، وسئل الحافظ أبو الفضل العراقي عن هذا الحديث؟ فقال رجال إسناده وثقهم المتقدمون، وتكلم في بعضهم المتأخرون، وليس فيه محل نظر إلا محمد بن زنبور المكي والحارث بن عمير، وكل منهما وثقه جماعة من الأئمة وضعف الأول ابن خزيمة، والثاني "حب ك" وأورده ابن حجر في أماليه، وقال: الحارث لم نر للمتقدمين فيه طعنا بل أثنى عليه حماد بن زيد وهو أكبر منه، ووثقه النقاد ابن معين، وأبو حاتم والنسائي وأخرج له "خ حب" تعليقا وأصحاب السنن، وذكره "حب" في الضعفاء فأفرط في توهينه، أما من فوقه فلا يسأل عن حالهم لجلالتهم، قال: وقد أفرط ابن الجوزي فذكر هذا الحديث في الموضوعات، ولعله استعظم ما فيه من الثواب وإلا فحال رواته كما ترى انتهى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں سے پناہ مانگنا
5057: ۔۔ فاطمہ بنت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) یوں دعا فرمایا کرتے تھے :

یا کفھیعص اغفرلی۔

اے کفھیعص ! میری مغفرت فرما۔ ابن ماجہ۔

کلام : ۔۔ یہ روایت موضوع ہے دیکھئے الاباطیل 682، تذکرۃ الموضوعات 79، التنزی 287، 28 ۔ ضعیف الجامع 419، الضعیفۃ 49، 698، اللآلی، 1/228، الموضوعات 1/ 245، التعقبات 7 ۔
5057- عن فاطمة بنت علي قالت: كان علي يقول: يا كهيعص اغفر لي. "هـ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانچ چیزوں سے پناہ مانگنا
5058: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو فرماتے ہوئے سنا : اے محمد ! آپ کی امت میں سے جس نے دن میں سو مرتبہ :

لا الہ الا اللہ الحق المبین پڑھا، اس کو فقر سے نجات ملے گی، قبر کی وحشت میں انسیت ملے گی اور وہ اس کے ساتھ مالداری پائے گا اور جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ رواہ الدیلمی۔

کلام : ۔۔ روایت میں ایک راوی فضل بن غانم ہے جو مالک سے روایت کرتا ہے، ابن معین (رح) فرماتے ہیں لیس بشیئ۔ اس کا کچھ اعتبار نہیں۔
5058- عن علي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعت جبريل يقول: "من قال من أمتك يا محمد في كل يوم مائة: لا إله إلا الله الملك الحق المبين كان له أمانا من الفقر، وأنسا من وحشة القبر، واستجلب به الغنى واستقرع باب الجنة". "الديلمي" وفيه الفضل بن غانم عن مالك، قال ابن معين: ليس بشيء.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5059: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جب تو ان کو کہے تو اللہ تیری مغفرت فرما دے :

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ : الحلیم الکریم لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ العلی العظیم سبحان اللہ رب السموات السبع و رب العرش العظیم، والحمد للہ رب العالمین، رواہ ابن جریر۔
5059- عن علي قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: "ألا أعلمك كلمات إذا أنت قلتهن غفر الله لك مع أنه مغفور لك؟ لا إله إلا الله وحده لا شريك له: الحليم الكريم لا إله إلا الله وحده لا شريك له العلي العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5060: ۔۔ عاصم بن ضمرہ سے مروی ہے حضرت علی (رض) دعا میں یہ الفاظ پڑھتے تھے :

ربنا وجھک اکرما لوجوہ جاھک خیرہ الجاہ

اے ہمارے رب تیری ذات سب سے زیادہ کریم اور تیرا مرتبہ سب سے بہترین مرتبہ ہے۔ خشیش بن اصرم فی الاستقامۃ۔
5060- عن عاصم بن ضمرة أن عليا كان يدعو: "ربنا وجهك أكرم الوجوه، وجاهك خير الجاه". "خشيش بن أصرم في الاستقامة
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5061:۔۔ محمد بن زیاد، میمون بن مہران سے اور وہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تجھے پانچ ہزار بکریاں دیدوں یا پانچ کلمات سکھا دوں، جن سے تمہارا دین اور تمہاری دنیا صحیح ہوجائے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یا رسول اللہ ! پانچ ہزار بکریاں بھی بہت ہیں لیکن آپ مجھے وہ کلمات سکھا دیجیے۔ فرمایا : یہ دعا پڑھا کرو :

اللھم اغفرلی ذنبی، ووسع لی خلقی و طیب لی کسبی، وقنعنی ، ولا تذھب قلبی الی شی صرفتہ عنی۔

اے اللہ ! میرے گناہوں کی مغفرت فرما، میرے اخلاق کو کشادہ فرما، میرا (ذریعہ) معاش پاکیزہ بنا، اپنے رزق پر قناعت دے اور میرے دل کو ایسی چیز کی طرف مائل نہ کر جو تو نے مجھ سے پھیر دی ہو۔ رواہ ابن النجار۔
5061- عن محمد بن زياد عن ميمون1 بن مهران عن علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لي: "أعطيك خمسة آلاف شاة أو أعلمك خمس كلمات فيهن صلاح دينك ودنياك؟ فقلت يا رسول الله خمسة آلاف شاه كثير، ولكني علمني، فقال قل: اللهم اغفر لي ذنبي، ووسع لي خلقي وطيب لي كسبي، وقنعني بما رزقتني، ولا تذهب قلبي إلى شيء صرفته عني". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬২
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5062: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کیا کرتے تھے :

اللھم آمن روعتی، واستر عورتی، واحفظ امانتی، واقض دینی۔

اے اللہ ! میرے اندر کو امن دے، میرے عیب پر پردہ ڈال، میری امانت کی حفاظت فرما اور میرے قرض کو ادا فرما (الشاشی، السنن لسعید بن منصور)

ابو نعیم نے اس کو حنظلہ بن علی (رض) سے روایت کیا ہے۔ رواہ ابن عساکر۔
5062- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم آمن روعتي، واستر عورتي، واحفظ أمانتي، واقض ديني ". "الشاشي ص". ورواه أبو نعيم عن حنظلة بن علي رضي الله عنه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৩
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5063: ۔۔ ابو الحسن بن ابی الحدید، ابو الحسن کے دادا ابو عبداللہ، ابو الحسن بن سمسار ، ابوبکر بن حمد بن عبداللہ بن ابی دجانہ بصری، محمد بن احمد بن یحییٰ، ابوبکر محمد بن سعید رازی، محمد بن علی بن حمزہ بن حسین بن عبیداللہ بن عباس بن علی ، فضل بن محمد بن فضل بن حسن بن عبیداللہ بن عباس بن علی، ان کے والد محمد بن فضل ، محمد بن جعفر بن محمد بن علی عن ابیہ عن جدہ عن علی کی سند سے منقول ہے،

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے جب بھی خواہش کی کہ جبرائیل (علیہ السلام) کو کعبۃ اللہ کا پردہ پکڑے یہ کہتے سنوں :

یا واحد یا احد لا تزل عنی نعمۃ انعمت بہا علی۔

اے واحد ! اے احد ! تو نے مجھ پر جو نعمت بھی انعام فرمائی ہے اس کو مجھ سے زائل نہ فرما۔ تو میں نے ان کو دیکھ لیا۔

کلام : ۔۔۔ روایت ضعیف ہے، دیکھئے، ضعیف الجامع 5079 ۔
5063- أنبأنا أبو الحسن بن أبي الحديد، أنبأنا جدي أبو عبد الله أنبأنا أبو الحسن بن السمسار، أنبأنا أبو بكر أحمد بن عبد الله بن أبي دجانة البصري، ثنا محمد بن أحمد بن يحيى، ثنا أبو بكر محمد بن سعيد الرازي ثنى محمد بن علي بن حمزة بن الحسين بن عبيد الله بن العباس بن علي، ثنا الفضل بن محمد بن الفضل بن الحسن بن عبيد الله بن العباس بن علي، ثني أبي حدثني محمد بن جعفر بن محمد بن علي عن أبيه عن جده عن علي قال:"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما شئت أن أرى جبريل متعلقا بأستار الكعبة وهو يقول: يا واحد يا أحد لا تزل عني نعمة أنعمت بها علي إلا رأيته ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৪
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5064: ۔۔ سفیان ثوری (رح) سے منقول ہے کہ حضرت علی (رض) یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اللھم انی ذنوبی لا نضرک و ان رحمتک ایای لاتنقصک۔

اے اللہ ! میرے گناہ تجھے کوئی نقصان دے سکتے اور تیرا مجھ پر رحمت فرمانا تیرے خزانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ الدینوری۔
5064- عن سفيان الثوري قال: "بلغني أن علي بن أبي طالب كان يدعو: اللهم إن ذنوبي لا تضرك، وإن رحمتك إياي لا تنقصك". "الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৫
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5065: ۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! میں تجھے ایسی دعا نہ سکھاؤں جب تو مانگے تو تیری بخشش کردی جائے۔ میں نے عرض کیا : ضرور ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

لا الہ الا اللہ العلی العظیم، لا الہ الا اللہ العلی الکریم، لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم۔
5065- عن علي قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: "يا علي ألا أعلمك دعاء إذا أنت دعوت به غفر لك مع أنه مغفور لك؟ قلت بلى، قال: لا إله إلا الله العلي العظيم، لا إله إلا الله العلي الكريم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم". "طس خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৬
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5066: ۔۔ مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اللہم انی اعوذبک من غلبۃ الدین، و غلبہ العدو، وبوار الایم۔

اے اللہ ! میں تری پناہ مانگتا ہوں قرض کے بوجھ سے، دشمن کے غلبہ سے اور بغیر شادی کے مرنے سے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
5066- عن مجاهد قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو: اللهم إني أعوذ بك من غلبة الدين، وغلبة العدو، وبوار الأيم " "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৭
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5067: ۔۔ ہلال بن یساف سے مروی ہے کہ ام الدرداء (رض) نے فرمایا : جس شخص نے :

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک، ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر۔ سو مرتبہ پڑھا وہ شخص (والے) سے اوپر وکر آئے گا سوائے اس شخص کے جو اس سے بھی زیادہ پڑھے۔ مصنف عبدالرزاق۔
5067- عن هلال بن يساف عن أم الدرداء، قالت: "من قال: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شيء قدير مائة مرة، جاء فوق كل عمل إلا من زاد". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৮
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5068: ۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور عائشہ (رض) سے بات کرنے کی کوشش کی۔ حضرت عائشہ (رض) نماز پڑھ رہی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

اے عائشہ ! تو کامل اور جامع دعائیں پڑھ۔ حضرت عائشہ (رض) نماز سے فارغ ہوئیں تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کامل اور جامع دعا کے بارے میں پوچھا : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ پڑھو :

اللهم انی أسألک من الخير كله عاجله وآجله ، ما علمت منه ، وما لم أعلم ، وأسألک الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل ، وأعوذ بک من الشر کله عاجله وآجله ، ما علمت منه وما لم أعلم ، وأسألک من خير ما سألک منه عبدک ورسولک محمد صلی اللہ عليه وسلم ، واستعيذک مما استعاذ منه عبدک ورسولک محمد صلی اللہ عليه وسلم وأسألک ما قضيت لي من أمر أن تجعل عاقبته رشدا۔

اے اللہ ! میں تجھ سے ہر خیر کا سوال کرتا ہوں ہو وہ خیر جلدی ہو یا بدیر ، میرے علم میں ہو یا نہیں، اور میں تجھ سے جنت کا اور ہر اس قول یا عمل کا سوال کرتا ہوں جو جنت کے قریب کردے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر طرح کے شر سے وہ جلدی ہو یا بدیر، میرے علم میں ہو یا نہیں، اور میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا تجھ سے تیرے بندے اور تیرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پناہ مانگی۔ نیز میں تجھ سے اس بات کا سوال کرتا ہوں کہ تو نے میرے حق میں جس کام کا فیصلہ کردیا ہے اس کا انجام میرے لیے بہتر بنا۔ (رواہ مستدرک الحاکم)
5068- عن عائشة "أن أبا بكر دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم: فأراد أن يكلمه بشيء يخفيه من عائشة، وعائشة تصلي، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم

يا عائشة عليك بالكوامل الجوامع، فلما انصرفت عائشة، سألته عن ذلك؟ فقال لها قولي: اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله، ما علمت منه، وما لم أعلم، وأسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل، وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله، ما علمت منه وما لم أعلم، وأسألك من خير ما سألك منه عبدك ورسولك محمد صلى الله عليه وسلم، وأستعيذك مما استعاذ منه عبدك ورسولك محمد صلى الله عليه وسلم، وأسألك ما قضيت لي من أمر أن تجعل عاقبته رشدا ". "ك" مر برقم [3210] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৬৯
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5029: ۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اللہم عافنی فی بصری واجعلہ الوارث منی، لا الہ اللہ الحلیم الکریم رب العرش العظیم۔

اے اللہ ! مجھے میری نگاہ میں عافیت دے اور اس کو میرا وارث بنا۔ بیشک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بردبار کریم ہے (اور) عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ رواہ ابن النجار۔
5069- عن عائشة "قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم عافني في بصري واجعله الوارث مني، لا إله إلا الله الحليم الكريم رب العرش العظيم ". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭০
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دعائے مغفرت
5070: ۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی آسمان کی طرف منہ اٹھایا تو یہ ضرور پڑھا :

یا مصرف القلوب تبت قلبی علی دینک۔

اے دلوں کو بدلنے والے میرے دل کو دین پر ثابت قدم رکھ۔ رواہ مستدرک الحاکم۔

کلام : ۔۔ روایت پر ضعف کا کلام ہے۔ دیکھئے : ذخیرۃ الحفاظ 4816 ۔
5070- عن عائشة قالت: "ما رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه إلى السماء إلا قال: يا مصرف القلوب ثبت قلبي على دينك ". "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৭১
ذکر دعا و استغفار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جامع اور مختصر دعا
5071: ۔۔ عبدالملک بن سلیمان ایک بصری شخص سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا ، قریب ہی حضرت عائشہ (رض) کھڑی نماز پڑھ رہی تھیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاہا کہ اس ہدیہ کے کھانے میں عائشہ (رض) بھی شریک ہوجائیں، لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ دعا جامع اور مختصر پڑھو، یوں پڑھ لو :

اللھم انی اسالک من الخیر کلہ عاجلہ و آجلہ، واعوذبک من الشر کلہ عاجلہ وآجلہ ، وما قضیت من قضاء فبارک لی فیہ، واجعل عاقبتہ الی خیر۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
5071- عن عبد الملك بن أبي سليمان عن رجل من أهل البصرة، قال: "أتى النبي صلى الله عليه وسلم بهدية وعائشة قائمة تصلي فأعجبه أن تأكل معه، فقال: يا عائشة أجمعي وأوجزي، وقولي: اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله، وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله، وما قضيت من قضاء فبارك لي فيه، واجعل عاقبته إلى خير ". "ش".
tahqiq

তাহকীক: