কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৯৯১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13991 عن الزھری عن زبیدہ بن الصلت سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر میں کسی آدمی کو حدود اللہ میں سے کسی حد پر دیکھوں تو میں اس کو حد جاری نہیں کروں گا (کیونکہ اکیلے آدمی کی شہادت پر حد جاری نہیں ہوتی) اور دوسرے کسی کو بھی اس پر مطلع ہونے کے لیے بلاؤں گا نہیں تاکہ وہ میرے ساتھ مل لے (اور دو گواہوں کا نصاب پورا کردے) ۔

الخرائطی فی مکارم الاخلاق، السنن للبیہقی
13991- عن الزهري عن زبيد بن الصلت قال: قال أبو بكر الصديق: لو وجدت رجلا على حد من حدود الله لم أحده أنا، ولم أدع له أحدا حتى يكون معي غيري. "الخرائطي في مكارم الأخلاق ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13992 اشیاخ (کئی بزرگوں) سے منقول ہے کہ مہاجرین ابی امیہ جو یمامہ کے امیر تھے ان کے پاس دو گلوکارہ عورتوں کا مسئلہ اٹھایا گیا۔ ایک نے گانے کے دوران نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سب وشتم کی (گالی دی) تھی۔ مہاجر نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا اور اس کے سامنے کے چار دانت نکلوادئیے۔ اسی طرح دوسری عورت جس نے گانے میں مسلمانوں کی ہجو (برائی) کی تھی۔ مہاجربن ابی امیہ نے اس کا بھی ہاتھ کٹوادیا اور سامنے کے صرف دو دانت نکلوادیئے۔

حضرت ابوبکر (رض) نے مہاجر کو لکھا : مجھے اس عورت کی خبر ملی ہے جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی تھی اور تم نے اس کو جو سزا دی اگر مجھے پہلے علم ہوجاتا تو میں تم کو اس عورت کے قتل کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ انبیاء کی حد۔ ان کو گالی دینے کی سزا عام لوگوں کو گالی دینے کی طرح نہیں عام حدود کی طرح نہیں ہیں۔ اور جو مسلمان ایساکرے وہ مرتد ہے، یا پھر وہ کوئی معاہد (ذمی) ہے یا وہ محاربی غادر (کافر ملک کا کافر، دھوکا باز) ہے۔ اور جس عورت نے مسلمانوں کی برائی کی ہے اگر وہ اسلام کا دعویٰ کرنے والوں میں سے ہے تو اس کو سزا دی جائے لیکن تم نے جو مثلہ کیا ہے (اس کے جسم کا ناس کیا ہے) اس سے کم۔ اگر وہ کافر ذمی ہے تو میری عمر کی قسم ! تم نے اس کے شرک سے تو گزر کیا جو اس سے بڑا گناہ ہے (تو) اس چھوٹے گناہ سے کیوں درگزر نہ کیا۔ اگر مجھے آئندہ ایسی کوئی شکایت ملی جیسی تم نے دوسری عورت کو سزا دی ہے تو میں تمہارے ساتھ برا سلوک کروں گا۔ قصاص کے سوا لوگوں کو مثلہ کرنے سے احتراز کرو کیونکہ وہ گناہ ہے اور نفرت انگیز ہے۔

سیف فی الفتوح
13992- عن الأشياخ أن المهاجر بن أبي أمية وكان أميرا على اليمامة رفع إليه امرأتان مغنيتان غنت إحداهما بشتم النبي صلى الله عليه وسلم فقطع يدها ونزع ثناياها، وغنت الأخرى بهجاء المسلمين فقطع يدها ونزع ثنيتها، فكتب إليه أبو بكر: بلغني التي فعلت بالمرأة التي تغنت بشتم النبي صلى الله عليه وسلم، فلولا ما سبقتني فيها لأمرتك بقتلها، لأن حد الأنبياء ليس يشبه الحدود فمن تعاطى ذلك من مسلم فهو مرتد، أو معاهد فهو محارب غادر، وأما التي تغنت بهجاء المسلمين فإن كانت ممن يدعي الإسلام فأدب دون المثلۃ وإن كانت ذمية فلعمري لما صفحت عنه من الشرك لأعظم، ولو كنت تقدمت إليك في مثل هذا لبلغت مكروها، وإياك والمثلة في الناس، فإنها مأثم ومنفرة إلا في القصاص. "سيف في الفتوح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13993 یزید الضبی سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ایک آدمی کو رجم (سنگسار) کیا۔ ایک آدمی نے اس پر لعنت کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو فرمایا : رک جا۔ پھر اس نے لعنت کی بجائے اس کے لیے استغفار کیا تب بھی آپ (رض) نے فرمایا : رک جا۔ ابن جریر

کلام : یہ روایت درست نہیں ہے کیونکہ اس کا ناقل یزیدالضبی ہے جو اہل نقل وحجت میں غیر معروف ہے اور دین کا حکم مجہولوں کی نقل کردہ روایات سے ثابت نہیں ہوتا۔
13993- عن يزيد الضبي أن أبا بكر رجم رجلا فلعنه رجل فقال أبو بكر: مه فاستغفر له فقال أبو بكر: مه. "ابن جرير" وقال هذا الخبر غير صحيح لأن ناقله يزيد الضبي وهو غير معروف في أهل النقل والحجة لا تثبت بنقل المجاهيل في الدين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13994 ابوالشعثاء سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے شرحبیل بن السمط کو مسلمۃ دون المدائن (مدائن) کے سرحدی علاقے پر گورنر بنایا۔ شرحبیل نے ان کو خطبہ دیا اور فرمایا :

اے لوگو ! تم شراب والی سرزمین میں ہو جہاں فحاشی اور عورتیں زیادہ ہیں۔ پس جو تم میں سے کسی حد (سزا) کا مرتکب ہوجائے وہ ہمارے پاس آئے ہم اس پر حد جاری کریں گے۔ کیونکہ یہ اس کے لیے باعث طہور (پاکیزگی) ہے۔

یہ بات حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : میں تیرے لیے یہ بات جائز قرار نہیں دیتا کہ تو لوگوں کو حکم کرے کہ وہ اللہ کے پردہ کو پھاڑیں جو اللہ نے ان پر ڈھانپا ہے۔

الجامع لعبد الرزاق، ھناد، ابن عساکر
13994- عن أبي الشعثاء قال: استعمل عمر بن الخطاب شرحبيل بن السمط على مسلحة3 دون المدائن فقام شرحبيل فخطبهم فقال:أيها الناس إنكم في أرض الشراب فيها فاش، والنساء فيها كثير، فمن أصاب منكم حدا فليأتنا، فلنقم عليه الحد، فإنه طهوره فبلغ ذلك عمر فكتب إليه لا أحل لك أن تأمر الناس أن يهتكوا ستر الله الذي سترهم. "عب وهناد كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13995 قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ ایک شخص پر حد لازم ہوگئی۔ حضرت عمر (رض) کو اس کے متعلق کہا گیا کہ وہ تو مریض ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! وہ کوڑوں کے نیچے جان دیدے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں اللہ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ میں نے حدود اللہ میں سے کسی حد کو ضائع کیا ہو۔ چنانچہ آپ نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کو کوڑے مارے گئے۔

ابن جریر
13995- عن القاسم بن محمد ان عمر قيل له في رجل وقع عليه حد وهو مريض إنه مريض، فقال: والله لأن يموت تحت السياط أحب إلي، من أن ألقى الله وقد ضيعت حدا من حدوده فأمر به فضرب. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13996 خلید سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور بولا : میں ایک حد کا مرتکب ہوچکا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے لوگوں کو فرمایا : تم اس سے پوچھو، وہ حد کس چیز کی ہے ؟ لیکن اس شخص نے لوگوں کو کچھ نہیں بتایا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس کو مارو حتیٰ کہ یہ خود ہی انکار کردے۔ مسدد
13996- عن خليد أن رجلا أتى عليا فقال: إني أصبت حدا فقال علي: سلوه ما هو؟ فلم يخبرهم، فقال علي: اضربوه حتى ينهاكم. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13997 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جس نے کوئی برا عمل کیا پھر اس پر حد جاری ہوگئی تو وہ اس کے لیے کفارۃ ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13997- عن علي قال: من عمل سوءا فأقيم عليه الحد فهو كفارة. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13998 حضرت عمر (رض) سے باندی کی حد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : باندی نے اپنے سر کی چادر دیوار کے پیچھے پھینک دی ہے۔

الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ ابوعبید فی الغریب، ابن جریر
13998- عن عمر أنه سئل عن حد الأمة فقال: إن الأمة قد ألقت فروة رأسها من وراء الجدار. "عب ش وأبو عبيد في الغريب وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৯৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13999 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو حد بھی نازل فرمائی ہے اس کا مرتکب پر اجراء اس کے لیے باعث کفارہ ہے جس طرح قرض کے بدلے قرض چکایا جاتا ہے۔

ابن جریر
13999- عن علي قال: إن الله لم ينزل حدا في القرآن فأقيم على صاحبه إلا كان كفارة له كما يقضى الدين بالدين. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০০০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
14000 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب آپ نے ہمدانیہ کو رجم کروادیا تو فرمایا : اس کی سزا تو بس یہی تھی جو دنیا میں اس پر گزر چکی ۔ اب اس گناہ کے بدلے اس پر کوئی سزا نہ ہوگی۔ آخرت میں۔ ابن جریر
14000- عن علي قال لما رجم الهمدانية، إن عقوبتها ما أصابها في الدنيا إنها لن تعاقب سوى هذه بذنبها. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০০১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
14001 میسرۃ بن ابی جمیل، حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک باندی نے بدکاری کرلی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو کوڑے ماروں۔ میں نے دیکھا تو ابھی اس کا نفاس کا خون رکا نہیں تھا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ اپنے خون میں ہے ابھی پاک نہیں ہوئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہ پاک ہوجائے تو اس پر حد قائم کردینا نیز ارشاد فرمایا : اپنے غلام باندیوں پر بھی حدود جاری کیا کرو۔ ابن جریر ، السنن للبیہقی
14001- عن ميسرة بن أبي جميل عن علي أن جارية للنبي صلى الله عليه وسلم زنت فأمرني أن أجلدها فوجدتها في دمها لم تطهر، فقلت: يا رسول الله إنها في دمها لم تطهر قال: فإذا طهرت فأقم عليها الحد وقال: أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم. "ابن جرير ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০০২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
14002 عبدالرحمن بن ابی لیلی سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک آدمی پر حد قائم کی۔ لوگ اس کو گالی دینے اور لعن طعن کرنے لگے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ السنن للبیہقی
14002- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن عليا أقام على رجل حدا فجعل الناس يسبونه ويلعنونه، فقال علي: أما عن ذنبه هذا فلا يسأل. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০০৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
14003 عبداللہ بن معقل سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ایک شخص کو حد جاری فرمائی تو جلاد نے دو کوڑے زائد کردیئے۔ پھر حضرت علی (رض) نے اس کو جلاد سے بدلا دلوایا ۔ السنن للبیہقی
14003- عن عبد الله بن معقل أن عليا ضرب رجلا فزاده الجلاد سوطين فأقاده عنه علي. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০০৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
14004 خزیمہ بن معمرالانصاری سے مروی ہے کہ ایک عورت کو عہد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سنگسار کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہے اور اس ک و اس حالت کے علاوہ (اچھی حالت) پر اٹھایا جائے گا۔ ابونعیم
14004- عن خزيمة بن معمر الأنصاري قال: رجمت امرأة في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هو كفارة ذنوبها، وتحشر على ما سوى ذلك. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০০৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
14005 عن مجاھد قال : اذا اصاب رجل رجلا لا یعلم المصاب من اصابہ فاعترف لہ المصیب فھو کفارۃ لمصیب۔ ابن عساکر

مجاہد (رح) سے مروی ہے فرمایا : جب کوئی کسی کو مصیبت پہنچائے اور مصیبت زدہ کو معلوم ہو نہ ہو کہ کس نے اس کو مصیبت پہنچائی ہے تو اگر مصیبت پہنچانے والا اپنے جرم کا اعتراف کرلے تو یہ اس کے لیے باعث کفارہ ہوگا۔ ابن عساکر
14005- عن مجاهد قال: إذا أصاب رجل رجلا لا يعلم المصاب من أصابه فاعترف له المصيب فهو كفارة للمصيب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০০৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
14006 یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میں حد کا مرتکب ہوچکا ہوں۔ مجھ پر حد جاری کیجئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوڑہ منگوایا۔ چنانچہ ایک نیا کوڑا لایا گیا جس کا پھل بھی (نیا) تھا۔ آپ نے فرمایا : اس سے ہلکا لے کر آؤ ۔ پھر ایک کوڑا جس کا پھل بالکل ٹوٹا پھوٹا تھا لایا گیا۔ آپ نے فرمایا نہیں : اس سے کچھ اوپر کوڑا لاؤ۔ چنانچہ ایک درمیانہ کوڑا لایا گیا۔ پھر آپ نے حکم دیا اور اس کے ساتھ اس کو مارا گیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! اللہ نے تم پر فحش کاموں کو حرام کردیا ہے، کھلے ہوں یا پوشیدہ ، پس جو ان میں سے کسی کا مرتکب ہوجائے وہ اللہ کے پردے کو اسی پر پڑا رہنے دے کیونکہ جو اس پردہ کو اٹھا کر ہمارے پاس آیا ہم اس پر حد قائم کردیں گے۔ مصنف عبدالرزاق
14006- عن يحيى بن أبي كثير أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إني أصبت حدا فأقمه علي، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسوط، فأتي بسوط جديد عليه ثمرته فقال: لا سوط دون هذا، فأتي بسوط مكسور العجز فقال: لا سوط فوق هذا، فأتي بسوط دون السوطين فأمر به فجلد، ثم صعد المنبر، والغضب يعرف في وجهه فقال: أيها الناس، إن الله حرم عليكم الفواحش ما ظهر منها وما بطن فمن أصاب منها شيئا فليستتر بستر الله فإنه من يرفع إلينا من ذلك شيئا نقمه عليه. "عب".
tahqiq

তাহকীক: