কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৯১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13911 حارث سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے کسی گھر میں نقب زنی کی تھی لیکن آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ اور اس کو بطور سزا چند کوڑے مارے۔

الجامع لعبد الرزاق
13911- عن الحارث قال: أتي علي برجل نقب بيتا فلم يقطعه، وعزره أسواطا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13912 حجاج بن بجز سے مروی ہے کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس حاضر ہوا۔ ایک شخص لایا گیا جس کا کپڑا چوری ہوگیا تھا۔ پھر اس نے وہ کپڑا ایک دوسرے آدمی کے پاس پالیا اور اس پر گواہ بھی کھڑا کردیا۔ حضرت علی (رض) نے اس شخص کو جس کے پاس کپڑا تھا ارشاد فرمایا : تم یہ کپڑا اس (اصل مالک) کو لوٹا دو اور جس سے تم نے خریدا ہے اس سے اپنی قیمت واپس لو۔ النسائی
13912- عن حجاج بن أبجر قال شهدت عليا وأتي برجل سرق منه ثوب فوجده مع إنسان وأقام عليه البينة فقال علي: ادفع إلى هذا ثوبه واتبع أنت من اشتريته منه. "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13913 یزید بن دبار سے مروی ہے ایک آدمی نے ایک کپڑا کسی کا اچک لیا۔ کپڑے والا اس کو حضرت علی بن ابی طالب کے پاس لایا۔ آدمی نے کہا : میں تو محض اس کے ساتھ مذاق کررہا تھا۔ حضرت علی (رض) نے کپڑے کے مالک سے پوچھا : کیا تم اس کو جانتے ہو ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13913- عن يزيد بن دثار قال: اختلس رجل ثوبا؛ فأتى به علي ابن أبي طالب فقال: إنما كنت ألعب معه، فقال: أكنت تعرفه؟ قال: نعم فخلى سبيله. "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13914 یزید بن دبار سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے مال خمس میں سے چوری کی تھی۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کا بھی اس میں حصہ ہے لہٰذا آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔ السنن للبیہقی
13914- عن يزيد بن دثار قال: أتي علي برجل سرق من الخمس فقال له فيه نصيب ولم يقطعه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13915 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) سے اچکنے (جیب کاٹنے اور راہ چلتے کسی کے مال پر ہاتھ صاف کرنے) کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : یہ دھوکا دہی ہے لیکن اس قطع (ید) نہیں ۔ النسائی
13915- عن الحسن قال: سئل علي عن الخلسة فقال: تلك الدغرة المغيلة لا قطع فيها. "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13916 ابوالرضی سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا اور کہا گیا کہ اس نے چوری کی ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا : تو نے کیسے چوری کی ہے ؟ اس نے ایسی بات کی جس میں آپ نے ہاتھ کاٹنے کو روانہ سمجھا تو اس کو چند کوڑے مار کر اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13916- عن أبي الرضى قال: رفع إلى علي رجل فقيل: سرق فقال له: كيف سرقت؟ فأخبره بأمر لم ير عليه فيه قطعا فضربه أسواطا وخلى سبيله. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13917 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : چوتھائی دینار یا دس درہم سے کم میں ہتھیلی (ہاتھ) نہیں کاٹی جائے گی۔ الجامع لعبد الرزاق
13917- عن علي قال: لا تقطع الكف في أقل من ربع دينار أو عشرة دراهم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13918 جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا ایک لوہے کے انڈے میں جس کی قیمت چوتھائی دینار تھی۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13918- عن جعفر بن محمد عن أبيه أن عليا قطع يد سارق في بيضة من حديد ثمن ربع دينار. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13919 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ قطع چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں ہے۔ الشافعی
13919- عن علي قال: القطع في ربع دينار فصاعدا. "الشافعي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13920 ابن عبید بن الابرض سے مروی ہے کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس حاضر ہوا۔ آپ مال غنیمت کا خمس لوگوں کے درمیان تقسیم فرما رہے تھے۔ حضرموت علاقے کے ایک آدمی نے سامان میں سے لوہے کا ایک خود (جنگی ٹوپی کو) چرالیا۔ اس کو حضرت علی (رض) کے پاس لایا گیا تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اس پر قطع تو نہیں ہے کیونکہ یہ خیانت باز ہے اور اس کا بھی اس میں حصہ ہے۔

السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13920- عن ابن عبيد بن الأبرص قال: شهدت عليا وهو يقسم خمسا بين الناس فسرق رجل من حضرموت مغفر حديد من المتاع، فأتي به علي فقال: ليس عليه قطع هو خائن وله نصيب. "ص ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13921 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرمایا کرتے تھے : جو بیت المال کی چوری کرے اس پر قطع ید نہیں ہے۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13921- عن الشعبي عن علي أنه كان يقول: ليس على من سرق من بيت المال قطع. "ص ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13922 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : ہاتھ کم از کم دس درہم میں کاٹا جائے گا اور مہر دس درہم سے کم نہیں رکھا جائے گا۔ الدارقطنی فی السنن

کلام : امام دارقطنی (رح) فرماتے ہیں : یہ ایسی سند کی روایت ہے جس میں ضعفاء اور مجہولین جمع ہیں۔
13922- عن علي قال: لا تقطع اليد إلا في عشرة دراهم، ولا يكون المهر أقل من عشرة دراهم. "قط" وقال: هذا إسناد يجمع مجهولين وضعفاء.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13923 عمرو بن دینار (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) چور کا ہاتھ جوڑ سے کاٹتے تھے اور حضرت علی (رض) پاؤں کو ٹخنوں کے نیچے سے آدھا کاٹتے تھے۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13923- عن عمرو بن دينار قال: كان عمر بن الخطاب يقطع السارق من المفصل وكان علي يقطع من شطر القدم. "ص ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13924 جحیۃ بن غدی سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) چوروں کے ہاتھ جوڑ سے کاٹتے تھے اور پھر ان کو آگ کے ساتھ داغ دیتے تھے (تاکہ خون بند ہو کر زخم مندمل ہوجائے) ۔ میں ان کے ہاتھوں کو دیکھتا تھا گویا وہ بلبل کی دبر ہیں۔ الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
13924- عن حجية بن عدي أن عليا قطع أيديهم من المفصل وحسمها فكأني أنظر إلى أيديهم كأنها أيور الحمر. "قط هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13925 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) پاؤں کاٹتے تھے مگر ایڑی چھوڑ دیتے تھے تاکہ وہ اس پر بوجھ ڈال سکے۔ الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
13925- عن الشعبي أن عليا كان يقطع الرجل ويدع العقب يعتمد عليها. "قط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13926 جحیۃ بن عدی سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کاٹ کر داغ دیتے تھے پھر ان کو قید میں رکھتے تھے جب تک وہ صحت مند نہ ہوں صحت مند ہونے کے بعد ان کو نکلوالیتے تھے۔ پھر ان کو فرماتے اپنے ہاتھ اللہ کی طرف اٹھاؤ۔ وہ ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرتے تو آپ ان سے پوچھتے : تمہارے ہاتھ کس نے کاٹے ؟ وہ کہتے علی نے ! حضرت علی (رض) پوچھتے : کیوں ؟ وہ کہتے : ہم نے چوری کی تھی۔ پھر حضرت علی (رض) فرماتے : اے اللہ ! گواہ رہنا۔ اے اللہ ! گواہ رہنا۔ السنن للبیہقی
13926- عن حجية بن عدي كان علي يقطع ويحسم ويحبس، فإذا برؤوا أرسل إليهم فأخرجهم، ثم قال: ارفعوا أيديكم إلى الله فيرفعونها فيقول: من قطعكم فيقولون: علي، فيقول: ولم؟ فيقولون: سرقنا، فيقول: اللهم اشهد اللهم اشهد. "هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13927 ابوالزعزاء سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) جب کسی چور کو پکڑ لیتے تو اس کا (ہاتھ) کاٹ دیتے پھر اس کو داغتے، پھر اس کو قید کردیتے تھے۔ جب وہ صحت مند ہوجاتے تو ان کو فرماتے : اپنے ہاتھ اٹھاؤ اللہ کی طرف۔ تب میں ان کی طرف دیکھتا گویا ان کے ہاتھ بلبل کی (سرخ) دبر کی طرح ہیں۔ آپ (رض) ان سے پوچھتے کس نے تمہارے ہاتھ کاٹے ؟ وہ کہتے : علی نے۔ تب حضرت علی (رض) فرماتے : اے اللہ ! انھوں نے سچ کہا، میں نے تیرے لیے ان کے ہاتھ کاٹے اور تیرے لیے ان کو چھوڑا۔ السنن للبیہقی
13927- عن أبي الزعراء عن علي أنه كان إذا أخذ اللص قطعه، ثم حسمه ثم ألقاه في السجن، فإذا برؤوا أخرجهم قال: ارفعوا أيديكم إلى الله كأني أنظر إليها كأنها أيور الحمر، فيقول: من قطعكم؟ فيقولون: علي؛ فيقول: اللهم صدقوا فيك قطعتهم، وفيك أرسلتهم. "هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13928 عبدالرحمن بن عائذ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس کے ہاتھ اور پاؤں دونوں کٹے ہوئے تھے۔ اس نے پھر چوری کی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے حکم دیا کہ اب اس کا پاؤں کاٹ دیا جائے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

انما جزاء الذین یحاربون اللہ ورسولہ الخ،

اس آیت کے اندر ایسے لوگوں کے لیے صرف ایک ہاتھ ایک پاؤں کاٹنے کا حکم ہے۔

پھر فرمایا اب اس کے ہاتھ اور پاؤں دونوں کاٹے جاچکے ہیں یہ کس طرح مناسب نہ ہوگا کہ اس کا دوسرا پاؤں بھی کاٹا جائے۔

اس طرح تو آپ کے لیے ایک پاؤں بھی نہ چھوڑیں جس کے سہارے اب یہ چلتا ہے۔ یا تو آپ اس کو کوئی اور سزا دیدیں یا پھر قید کردیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اس کو قید کردیتا ہوں۔

السنن لسعید بن منصور ، السنن للبیہقی
13928- عن عبد الرحمن بن عائذ قال: أتي عمر بن الخطاب برجل أقطع اليد والرجل قد سرق، فأمر به عمر أن تقطع رجله، فقال علي: إنما قال الله تعالى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} إلى آخر الآية، فقد قطعت يد هذا ورجله، ولا ينبغي أن تقطع رجله، فتدعه ليس له قائمة يمشي عليها، إما أن تعزره، وإما أن تستودعه السجن، قال: فاستودعه السجن. "ص ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13929 عبداللہ بن سلمہ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک چور کو لایا گیا آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ وہ ایک مرتبہ پھر لایا گیا پھر آپ نے اس کا پاؤں کاٹ دیا۔ وہ پھر ایک مرتبہ لایا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا : اگر میں اس کا دوسرا ہاتھ بھی کاٹ دوں تو یہ کس چیز کے ساتھ پکڑے گا اور کس چیز کے ساتھ کھائے گا پھر فرمایا اور اگر میں اس کا پاؤں کاٹ دوں تو پھر یہ کس طرح چلے گا مجھے اس بات پر اللہ سے حیا آتی ہے۔ چنانچہ پھر آپ (رض) نے اس کو مارا اور لمبی مدت کے لیے قید کے حوالے کردیا۔ البغوی فی الجوریات، السنن للبیہقی
13929- عن عبد الله بن سلمة أن عليا أتي بسارق فقطع يده، ثم أتي به فقطع رجله، ثم أتي به فقال: أقطع يده بأي شيء يمسح؟ وبأي شيء يأكل؟ ثم قال: أقطع رجله على أي شيء يمشي، إني لأستحي من الله، قال: ثم ضربه وخلده السجن. "البغوي في الجعديات هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13930 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ دو آدمی حضرت علی (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور ایک آدمی کے خلاف شہادت دی کہ اس نے چوری کی ہے۔ حضرت علی (رض) نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ پھر وہی دونوں شخص ایک دوسرے آدمی کو لائے اور بولے : دراصل اس نے چوری کی ہے جبکہ پہلے کے متعلق ہم کو غلط فہمی ہوگئی تھی۔ لیکن حضرت علی (رض) نے اب ان کی شہادت کو غیر معتبر قرار دیدیا اور دونوں کو پہلے شخص کے ہاتھ کی دیت دینا لازم کردی اور یہ بھی فرمایا : اگر مجھے علم ہوتا کہ تم نے جان بوجھ کر پہلے کے خلاف جھوٹی شہادت دی ہے تو میں تم دونوں کے ہاتھ کاٹتا۔ الشافعی، البخاری، السنن للبیہقی
13930- عن الشعبي أن رجلين أتيا عليا فشهدا على رجل أنه سرق فقطع علي يده، ثم أتياه بآخر فقالا: هذا الذي سرق وأخطأنا على الأول فلم يجز شهادتهما على الآخر، وغرمهما دية يد الأول، وقال: لو أعلم أنكما تعمدتما لقطعتكما. "الشافعي خ هق"
tahqiq

তাহকীক: