কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৮৯১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13891 ابان (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس اپنی ایک اونٹنی کے بارے میں شکایت لے کر آیا جس کو کسی نے نحر کردیا (کھانے کے لیے کاٹ دیا) تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : تو اپنی ایک اونٹنی کے بدلے دو موٹی گابھن اونٹنیاں لے لے کیونکہ قحط سالی میں ہاتھ نہیں کاٹتے۔ الجامع لعبد الرزاق
13891- عن أبان أن رجلا جاء إلى عمر بن الخطاب في ناقة نحرت فقال له عمر: هل لك في ناقتين بها عشراوين مربغتين سمينتين بناقتك فإنا لا نقطع في عام السنة المربعتان الموطيتان. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13892 عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ بنی عامر بن لوی کے چار لوگوں نے ایک اونٹ کو دیکھا اور اس کو نحر کرلیا (کاٹ لیا) مالک اس کی شکایت حضرت عمر (رض) کے پاس لے کر حاضر ہوا۔ حضرت عمر (رض) کے پاس حاطب بن ابی بلتع تشریف فرما تھے، جو بنی عامر بن لوی کے بھائی تھے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : اے حاطب ! اسی وقت اٹھو اور اونٹ کے مالک کے واسطے اس کے ایک اونٹ کے بدلے دو اونٹ خرید کردو۔ چنانچہ حاطب نے آپ (رض) کے حکم کی تعمیل کردی جبکہ حضرت عمر (رض) نے ان چاروں کو کچھ کچھ کوڑے لگوا کر چھوڑ دیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13892- عن عمرو بن شعيب أن نفرا أربعة من بني عامر بن لؤي عمدوا على بعير رأوه فنحروه فأتي في ذلك عمر وعنده حاطب ابن أبي بلتعة أخو بني عامر بن لؤي فقال: يا حاطب قم الساعة فابتع لرب البعير بعيرين ببعيره ففعل حاطب وجلدوا أسواطا وأرسلوا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13893 عطاء الخراسانی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : جب چور ایسی چیز اٹھالے جس کی قیمت چوتھائی دینار تک پہنچتی ہو تو اس پر قطع ہوگی (ہاتھ یا پاؤں کٹے گا) ۔

الجامع لعبد الرزاق، ابن المنذر فی الوسط
13893- عن عطاء الخراساني أن عمر بن الخطاب قال: إذا أخذ السارق ما يساوي ربع دينار قطع. "عب وابن المنذر في الأوسط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13894 (مسند عثمان (رض)) عمرۃ بنت عبدالرحمن سے مروی ہے کہ ایک چور نے حضرت عثمان (رض) کے دور میں ترنج (ایک زیور) کی چوری کی۔ حضرت عثمان (رض) نے اس کی قیمت لگوائی تو اس کی قیمت ان دراہم کے مطابق جو ایک دینار کے بارہ درہم بنتے تھے تین درہم لگی۔ (چونکہ اس طرح اس نے چوتھائی دینا کی چوری کی) اس وجہ سے حضرت عثمان (رض) نے اس کا ہاٹھ کٹوادیا۔

موطا امام مالک، السنن للبیہقی
13894- "مسند عثمان رضي الله عنه" عن عمرة بنت عبد الرحمن أن سارقا سرق في زمن عثمان بن عفان أترجة فأمر بها عثمان أن تقوم فقومت ثلاث دراهم من صرف اثني عشر درهما بدينار فقطع عثمان يده. "مالك هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13895 عبداللہ بن عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) کے پاس ایک لڑکا لایا گیا جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا۔ آپ (رض) نے حکم دیا کہ اس کی ازار (شلوار کھول کر) دیکھو۔ دیکھا تو اس کے بال نہیں اگے تھے۔ چنانچہ آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کٹوایا۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13895- عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال: أتي عثمان بغلام قد سرق فقال؛ انظروا إلى مؤتزره، فنظروا فوجدوه لم ينبت الشعر فلم يقطعه. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13896 سلیمان بن موسیٰ (رح) فرماتے ہیں : جو چور گھر میں اس حال میں پایا جائے کہ وہ چوری کا مال اکٹھا کرچکا ہے تو حضرت عثمان (رض) نے اس کے متعلق فرمایا اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اگر اس نے مال جمع کرلیا اور چوری کے ارادے سے اس کو اٹھا کر اس گھر سے نکل گیا تب اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13896- عن سليمان بن موسى في السارق يوجد في البيت قد جمع المتاع أن عثمان قضى أن لا قطع عليه، وإن كان قد جمع المتاع، فأراد، أن يسرق حتى يحمله ويخرج به. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13897 عبداللہ بن یسار سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک چور کے (ہاتھ) کاٹنے کا ارادہ فرمایا جس نے مرغی چوری کی تھی۔ لیکن حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے ان کو عرض کیا : کہ حضرت عثمان (رض) پرندوں کی چوری میں (ہاتھ وغیرہ) نہیں کاٹتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
13897- عن عبد الله بن يسار قال: أراد عمر بن عبد العزيز أن يقطع رجلا سرق دجاجة فقال له أبو سلمة بن عبد الرحمن: إن عثمان بن عفان كان لا يقطع في الطير. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13898 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے ایک چور نے اترجہ چوری کرلیا۔ جس کی قیمت تین درہم تھی ۔ اس لیے حضرت عثمان (رض) نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ ابن المسیب (رح) فرماتے ہیں : اترجہ سونے کا ایک زیور تھا جو بچے کے گلے میں ڈالا جاتا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13898- عن ابن المسيب أن سارقا سرق أترجة ثمنها ثلاثة دراهم فقطع عثمان يده قال: والأترجة خرزة من ذهب تكون في عنق الصبي. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13899 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) کے سپاہی کوڑوں کی چوری کرلیا کرتے تھے۔ یہ بات حضرت عثمان (رض) کو پہنچی تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : میں اللہ کی قسم یا تو تم اس سے باز آجاؤ ورنہ اگر کوئی میرے پاس لایا گیا جس نے اپنے ساتھی کا کوڑا چوری کیا ہوگا تو میں اس کو ایسی ایسی کڑی سزادوں گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13899- عن ابن عمر أن شرط عثمان كانوا يسرقون السياط فبلغ ذلك عثمان فقال: أقسم بالله لتتركن هذا أو لأوتي برجل منكم سرق سوط صاحبه إلا فعلت به وفعلت. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13900 زہری (رح) سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے پاس آیا۔ آپ نے مجھ سے ایک مسئلہ دریافت کیا۔ کیا بھگوڑا غلام اگر چوری کرلے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے اس کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عثمان اور مروان تو نہیں کاٹتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
13900- عن الزهري قال: دخلت على عمر بن عبد العزيز فسألني أيقطع العبد الآبق إذا سرق؟ قلت: لم أسمع فيه شيئا، فقال عمر: كان عثمان ومروان لا يقطعانه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13901 ابوسلمۃ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کا ارشاد ہے پرندوں میں قطع ید نہیں۔ السنن للبیہقی
13901- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: قال عثمان بن عفان لا قطع في الطير. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13902 (مسند علی (رض)) ابو مطر سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک آدمی لایا گیا۔ لوگوں نے کہا : اس نے اونٹ چوری کیا ہے۔ آپ (رض) نے اس کو مخاطب ہو کر فرمایا : مجھے نہیں لگتا کہ تم نے چوری کی ہوگی ؟ اس نے جواب دیا کیوں نہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : ممکن ہے تم نے کسی کا اونٹ اپنا سمجھ کر ہانک لیا ہو ؟ اس نے کہا : نہیں، بلکہ میں نے واقعی چوری کی ہے۔ حضرت علی (رض) نے اپنے غلام کو فرمایا : اے قنبر اس کو لے جا اور اس کی انگلی باندھ اور آگ جلا کر کاٹنے والے کو بلا لو تاکہ وہ اس کو کاٹ دے۔ پھر میرے آنے کا انتظار کرنا۔ اس سے پہلے نہ کاٹنا۔ چنانچہ پھر آپ (رض) اس کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ اس منظر کو دیکھ کر ڈر گیا اور پھر آپ (رض) نے جب اس سے پوچھا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ تو تب اس نے انکار کردیا۔ لہٰذا آپ (رض) نے اس کو چھوڑ دیا۔ لوگوں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ نے اس کو کیوں چھوڑا حالانکہ وہ اپنے جرم کا اقرار کرچکا تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : میں نے اس کے اقرار پر اس کو سزا دینے کے لیے پکڑ لیا تھا لیکن پھر اسی کا انکار پر چھوڑ دیا۔ پھر آپ (رض) نے دور نبوت کا ایک واقعہ بیان کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (دکھ کے مارے) رونے لگے۔ میں نے آپ سے پوچھا : آپ کیوں روتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا : میں کیوں نہ رؤ وں جبکہ میرے امتی کا ہاتھ تمہارے سامنے کاٹا گیا۔ عرض کیا : یارسول اللہ ! پھر آپ نے اس کو معاف کیوں نہ کردیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ حاکم برا ہے جو حدود کو معاف کردے۔ لیکن تم آپس میں ہی حدود کو معاف کردیا کرو۔ مسند ابی یعلی

کلام : روایت ضعیف ہے۔ کنزج 5
13902- "مسند علي رضي الله عنه" عن أبي مطر قال: رأيت عليا أتي برجل، فقالوا: إنه قد سرق جملا، فقال: ما أراك سرقت؟ قال: بلى قال: فلعله شبه لك؟ قال: بلى قد سرقت، قال: فاذهب به ياقنبر فشد أصبعه وأوقد النار وادع الجزار ليقطع، ثم انتظر حتى أجيء، فلما جاء قال له أسرقت؟ قال: لا فتركه، قالوا: يا أمير المؤمنين، لم تركته وقد أقر لك؟ قال: آخذه بقوله وأتركه بقوله، ثم قال علي رضي الله عنه: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل قد سرق فأمر فقطع يده، ثم بكى فقلت: لم تبكي قال: وكيف لا أبكي وأمتي تقطع بين أظهركم، قال: يا رسول الله أفلا عفوت عنه؟ قال: ذاك سلطان سوء الذي يعفو عن الحدود، ولكن تعافووا الحدود بينكم. "ع وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13903 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوہے کے ایک انڈے میں (ہاتھ) کاٹا جس کی قیمت اکیس درہم تھی۔ مسند البزار

کلام : روایت کی سند میں المختار بن نافع ضعیف راوی ہے۔
13903- عن علي قال: قطع النبي صلى الله عليه وسلم في بيضة من حديد قيمتها أحد وعشرون درهما. "البزار" وفيه المختار بن نافع ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13904 حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : میں ایک ہاتھ اور ایک پاؤں سے زیادہ نہیں کاٹتا۔ مسدد
13904- عن الحسن قال: إن عليا قال: لا أقطع أكثر من يد ورجل. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13905 حضرت علی (رض) کے متعلق مروی ہے آپ پونچے سے ہاتھ کاٹتے تھے اور ٹخنے سے پاؤں کاٹتے تھے (یعنی جوڑ علیحدہ کروا دیتے تھے) ۔ الجامع لعبد الرزاق
13905- عن علي أنه كان يقطع اليد من المفصل والرجل من الكعب. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13906 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) صرف ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹتے تھے۔ اگر اس کے بعد بھی وہ آدمی چوری کرتا تو اس کو قید کرتے اور سزا دیتے تھے۔ نیز فرمایا کرتے تھے : مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ میں اس کا ایک ہاتھ بھی نہ چھوڑوں جس سے وہ کھاپی لے اور استنجاء وغیرہ کرسکے۔ الجامع لعبد الرزاق
13906- عن الشعبي قال: كان علي لا يقطع إلا اليد والرجل وإن سرق بعد ذلك سجن ونكل، وأنه كان يقول: إني لأستحيي من الله أن لا أدع له يدا يأكل بها ويستنجي. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13907 ابوالضحیٰ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) ارشاد فرمایا کرتے تھے : جب کوئی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ، دوبارہ کرے تو اس کا پاؤں کاٹا جائے گا اگر اس کے بعد بھی چوری کرے تو آپ مزید کچھ کاٹنے کو روانہ سمجھتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق
13907- عن أبي الضحى أن عليا كان يقول: إذا سرق قطعت يده، ثم إن سرق الثانية قطعت رجله، فإن سرق بعد ذلك لم ير عليه قطع. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13908 عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) چور کا (ہاتھ یا پاؤں) نہ کاٹتے تھے حتیٰ کہ گواہ اس پر گواہی نہ دیدیں۔ پھر آپ ان گواہوں کو اس کے سامنے کھڑا کرتے اور پھر ان سے اس پر روبرور گواہی لیتے ۔ اگر وہ گواہی دیتے تو تب اس کا ہاتھ کاٹتے تھے۔ اگر وہ گواہی سے منکر ہوجاتے تو چور کو چھوڑ دیتے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ ایک چور کو لایا گیا آپ نے اس کو قید میں ڈلوادیا۔ حتیٰ کہ جب اگلا روز ہوا تو اس کو اور دوگواہوں کو بلوایا۔ آپ کو بتایا گیا کہ ایک گواہ تو غائب ہوگیا ہے۔ چنانچہ آپ (رض) نے چور کا راستہ چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ وغیرہ نہ کاٹا۔ الجامع لعبد الرزاق
13908- عن عكرمة بن خالد قال: كان علي لا يقطع سارقا حتى يأتي بالشهداء، فيوقفهم عليه ويثبطه فإن شهدوا عليه قطعه، وإن نكلوا تركه فأتي مرة بسارق فسجنه حتى إذا كان الغد دعا به وبالشاهدين فقيل: تغيب أحد الشاهدين، فخلى سبيل السارق ولم يقطعه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯০৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13909 القاسم بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت علی (رض) کے پسا آیا اور عرض کیا : میں نے چوری کی ہے۔ آپ نے اس کو لوٹا دیا۔ اس نے پھر کہا میں نے چوری کی ہے۔ تب آپ نے اس کو فرمایا تو نے اپنی جان پر دو مرتبہ گواہی دیدی ہے۔ چنانچہ پھر اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ عبدالرحمن فرماتے ہیں : چنانچہ میں نے اس چور کو دیکھا کہ اس کا ہاتھ اس کے گلے میں لٹکا ہوا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن المنذر فی الاوسط، السنن للبیہقی
13909- عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه قال: جاء رجل إلى علي فقال: إني سرقت، فرده، فقال: إني سرقت فقال: شهدت على نفسك مرتين، فقطعه فرأيت يده في عنقه معلقة. "عب وابن المنذر في الأوسط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯১০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13910 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا جب تک کہ وہ سامان کو گھر سے لے کر نہ نکل پڑے۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13910- عن علي قال: لا تقطع يد السارق حتى يخرج بالمتاع من البيت. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক: