কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৮৭১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13871 قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیق سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ارادہ کیا تھا کہ جس شخص کا پہلے چوری کی وجہ سے ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹ چکا ہے اس کا (چوری کی وجہ سے) دوسرا پاؤں بھی کاٹ دیا جائے۔ لیکن حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سنت ہاتھ ہے۔

مصنف ابن ابی شیبہ، الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
13871- عن القاسم بن محمد بن أبي بكر الصديق أن أبا بكر أراد أن يقطع رجلا بعد اليد والرجل، فقال له عمر: السنة اليد. "ش قط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13872 سائب بن یزید سے مروی ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عثمان حضرمی اپنا ایک غلام اپنے ساتھ لے کر آئے جس نے چوری کی تھی۔ عبداللہ نے حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : اس نے میرے گھر والوں کا آئینہ جو ساٹھ درہم سے زیادہ کا تھا چرالیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دے اس پر قطع ید نہیں ہے (اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا) کیونکہ یہ تیرا خادم ہے اور اس نے تیرا ہی مال چوری کیا ہے، ہاں اگر اس نے تمہارے سوا کسی اور کی چوری کی ہوتی تو اس کا ہاتھ ضرور کٹتا۔

موطا امام مالک، الشافعی، الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، ابن المنذر فی الاوسط، مسدد، الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
13872- عن السائب بن يزيد أن عبد الله بن عمرو بن عثمان الحضرمي أتى عمر بغلام له سرق فقال: إن هذا سرق مرآة لأهلي هي خير من ستين درهما، فقال: أرسله فلا قطع عليه، خادمك أخذ متاعك ولكنه لو سرق من غيركم لقطع. "مالك والشافعي عب ش وابن المنذر في الأوسط ومسدد قط ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13873 حضرت عکرمہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) ہاتھ کو جوڑ (پونچے) سے کاٹتے تھے اور پاؤں کو بھی جوڑ (نخنے) سے کاٹتے تھے۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر فی الاوسط
13873- عن عكرمة أن عمر كان يقطع اليد من المفصل والقدم من مفصلها. "عب ش وابن المنذر في الأوسط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13874 عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے اس شخص کا ہاتھ چور کا ہاتھ تو نہیں لگتا۔ آدمی بولا : اللہ کی قسم واقعی ! میں نے چوری تو نہیں کی، لیکن انھوں نے مجھے ڈرا دھمکا کر چوری کا اعتراف کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13874- عن عكرمة بن خالد أن عمر بن الخطاب أتي بسارق قد اعترف فقال: أرى يد رجل ما هي بيد سارق، قال الرجل: والله ما أنا بسارق ولكنهم تهددوني فخلى سبيله ولم يقطعه. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13875 ابن جریج (رح) سے مروی ہے فرمایا مجھے خبر ملی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے چوری کے جرم میں پاؤں کاٹا۔ الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13875- عن ابن جريج قال: أخبرت عن عمر بن الخطاب أنه قطع رجلا في سرقة. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13876 قاسم سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بیت المال سے چوری کرلی۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یہ واقعہ لکھا گیا۔ آپ (رض) نے جواب میں لکھا : اس کا ہاتھ نہ کاٹو، کیونکہ اس کا بھی اس میں حق ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13876- عن القاسم أن رجلا سرق من بيت المال فكتب إلى عمر بن الخطاب فكتب عمر رضي الله عنه لا تقطعه فإن له فيه حقا. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13877 عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے عہد خلافت میں ملک یمن میں کچھ لوگ کفن چوری کرتے تھے۔ ان کا احوال حضرت عمر کو لکھا گیا تو آپ (رض) نے جواب میں لکھا : ان کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں۔ الجامع لعبد الرزاق
13877- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة أنه وجد قوما؟؟ يختفون القبور باليمن على عهد عمر بن الخطاب فكتب إلى عمر بن الخطاب فكتب إليه عمر أن يقطع أيديهم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13878 صفوان بن سلیم سے مروی ہے کہ ایک آدمی مدینے میں مرگیا۔ اس کے بھائی کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس کی قبر کو نہ پھاڑ (کر اس کا کفن چوری کر) لیا جائے۔ چنانچہ اس نے قبر کی چوکیداری رکھی۔ کفن چور آیا تو قبر والے کا بھائی ایک طرف ہٹ کر گھات میں بیٹھ گیا۔ جب کفن چور نے اس کے کفن کے کپڑے نکال لیے تو تب مردے کے بھائی نے آکر اس پر تلوار کا وار کیا حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔ یہ قضیہ حضرت عمر (رض) کو پیش کیا گیا تو آپ (رض) نے اس کا خون بہا (معاف) کردیا۔

الجامع لعبد الرزاق
13878- عن صفوان بن سليم قال: مات رجل بالمدينة فخاف أخوه أن يختفي قبره فحرسه، وأقبل المختفي فسكت عنه حتى استخرج أكفانه فضربه بالسيف حتى برد، فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فأهدر دمه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৭৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13879 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : جس نے کھجوریں چوری کی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اگر وہ کھجوریں باڑے اور محفوظ ٹھکانے پر لے جانے کے بعد کوئی چرالے تو اگر ان کی قیمت چوتھائی دینار بنتی ہو تب اس پر قطع ہے۔ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13879- عن عمر قال من أخذ من التمر شيئا فليس عليه قطع يووى إلى المرابد والجرائن، فإن أخذ منه بعد ذلك ما يساوي ربع دينار قطع. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13880 عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس (چوری کے جرم میں) ایک آدمی لایا گیا۔ آپ (رض) نے اس سے پوچھا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ اس نے انکار کیا تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا اور قطع کا حکم نہیں دیا ۔ الجامع لعبد الرزاق
13880- عن عكرمة بن خالد قال: أتي عمر بن الخطاب برجل فسأله أسرقت؟ قال: لا، فتركه ولم يقطعه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13881 حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : چور سے اپنے سامان کا دفاع کرو اور اس کی گھات لگا کر مت بیٹھو۔ الجامع لعبد الرزاق، ابوعبید فی الغریب
13881- عن الحسن قال: قال عمر: ورع السارق ولا تراعه "عب وأبو عبيد في الغريب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13882 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : کھجور کے خوشے میں قطع نہیں ہوگا (ہاتھ یا پاؤں نہیں کٹے گا) اور نہ ایسے سال جس میں قحط پڑا ہو۔

الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13882- عن عمر قال: لا تقطع في عذق ولا في عام السنة. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13883 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی انسان کا گلے میں سے ہار نوچ لیا۔ اس کو حضرت عمار بن یاسر کے پاس لایا گیا۔ حضرت عمار (رض) نے حضرت عمر (رض) کو یہ واقعہ لکھ بھیجا۔

حضرت عمر (رض) نے اس کے جواب میں یہ لکھا یہ کھلی چیز پر ڈاکہ ہے تم اس کو کوئی سزا دو پھر اس کا راستہ چھوڑ دو اور ہاتھ نہ کاٹو۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13883- عن الشعبي أن رجلا اختلس طوقا عن إنسان فرفع إلى عمار بن ياسر فكتب فيه عمار إلى عمر بن الخطاب، فكتب إليه أن ذاك عادي الظهيرة3 فأنهكه عقوبة ثم خل عنه ولا تقطعه. "ص ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13884 صفیہ بنت ابی عبید سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا تھا اس نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے عہد خلافت میں چوری کی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ارادہ کیا کہ اس کا پاؤں کاٹ دیں اور ہاتھ چھوڑ دیں تاکہ وہ اس کے ساتھ اپنا کام کاج کرسکے ، خوشبو لگا سکے استنجاء کرسکے۔ لیکن حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کا دوسرا ہاتھ ہی کاٹا جائے گا۔ کیونکہ یہی حکم ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ السنن لسعید بن منصور، ابن المنذر فی الاوسط ، السنن للبیہقی
13884- عن صفية بنت أبي عبيد أن رجلا سرق على عهد أبي بكر مقطوعة يده ورجله، فأراد أبو بكر أن يقطع رجله ويدع يده يستطيب بها ويتطهر بها وينتفع بها فقال عمر: لا والذي نفسي بيده لتقطعن يده الأخرى فأمر به أبو بكر فقطعت يده. "ص وابن المنذر في الأوسط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13885 مکحول (رح) سے مروی ہے ، حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب کوئی چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ پھر کرے پھر اس کا ایک پاؤں (مخالف سمت کا) کاٹ دو اور دوسرا ہاتھ نہ کاٹو اس کو چھوڑ دو تاکہ اس کے ساتھ کھانا کھا سکے اور استنجاء کرسکے۔ لیکن اس کو مسلمانوں (کو شر پہنچانے) سے روکے رکھو۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13885- عن مكحول أن عمر قال: إذا سرق فاقطعوا يده، ثم إن عاد فاقطعوا رجله، ولا تقطعوا يده الأخرى، وذروه يأكل بها الطعام ويستنجي بها من الغائط ولكن احبسوه عن المسلمين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13886 حضرت ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک سیاہ فام چور عورت لائی گئی۔ آپ (رض) نے اس سے پوچھا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ ابھی اس نے جواب نہیں دیا تھا کہ آپ (رض) نے اس کو فرمایا : تو انکار کردے۔ لوگوں نے آپ کو کہا : آپ اس کو کیوں سکھا رہے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تم ایسے انسان کو لائے ہو جس کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے اقرار کے جرم میں اس کے ساتھ بھلا ہوگا یا برا ؟ تاکہ یہ اقرار کرلے اور اپنا ہاتھ کٹوا بیٹھے۔ ابن خسرو
13886- عن أبي الدرداء أن عمر أتي بسارقة سوداء فقال لها: أسرقت؟ قولي: لا. قالوا: أتلقنها؟ قال: جئتموني بإنسان لا يدري ما يراد به من الخير أم الشر لتقر حتى أقطعها. "ابن خسرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13887 ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے حضرت ابن زبیر (رض) کے پاس ایک خدمت گار لڑکا لایا گیا، جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے اس کے لیے حکم دیا اس کا بالشت سے قد پیمائش کیا گیا تو اس کا قد چھ بالشت نکلا۔ چنانچہ پھر حضرت ابن زبیر (رض) نے اس کا ہاتھ کٹوادیا۔ ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ اہل عراق کے ایک لڑکے نے چوری کرلی۔ حضرت عمر (رض) نے اس کے متعلق لکھا اس کے قد کی پیمائش کرو۔ اگر اس کا قد چھ بالشت نکل آئے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ چنانچہ اس کا قد پیمائش کیا گیا مگر وہ چھ بالشت سے چند پورکم نکلا جس کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیا گیا۔

شعب الایمان للبیہقی ، مسدد، ابن المنذر فی الاوسط
13887- عن أبي مليكة أن ابن الزبير أتي بوصيف سرق فأمر به فشبر فوجد ستة أشبار فقطعه، وحدثنا أن عمر كتب في غلام من أهل العراق سرق فكتب أن اشبروه فإن وجدتموه ستة أشبار فاقطعوه فشبر، فوجد ستة أشبار تنقص أنملة فترك. "هب ومسدد وابن المنذر في الأوسط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13888 سلیمان بن یسار سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے سامنے ایک لڑکا پیش کیا گیا جس نے چوری کی تھی اس کے قد کی پیمائش کی گئی تو اس کا قد چھ بالشت سے چند پور کم نکلا چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو چھوڑ دیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13888- عن سليمان بن يسار أن عمر أتي بغلام سرق فأمر به فشبر فوجد ستة أشبار إلا أنملة فتركه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13889 عبدالرحمن بن عائدالازدی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص جس کا نام مسدوم تھا اور اس نے چوری کی تھی لایا گیا۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کو پھر دوبارہ لایا گیا۔ آپ (رض) نے اس کا دوسرا ہاتھ کاٹنا چاہا تو حضرت علی (رض) نے آپ کو اس سے منع فرمادیا فرمایا : ایسا نہ کریں کیونکہ ایک ہاتھ اور ایک پاؤں اس کا حق ہے۔ ہاں اس کو ماریں اور اس کو قید کردیں۔

الجامع لعبد الرزاق، ابن المنذر فی الاوسط
13889- عن عبد الرحمن بن عائذ الأزدي عن عمر أنه أتي برجل قد سرق يقال له سدوم فقطعه، ثم أتي به الثانية فأراد أن يقطعه فقال له علي: لا تفعل فإنما عليه يد ورجل ولكن اضربه واحبسه. "عب وابن المنذر في الأوسط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13890 القاسم بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے کپڑے کی چوری کی تھی۔ آپ (رض) نے حضرت عثمان (رض) کو فرمایا : اس کپڑے کی قیمت لگاؤ۔ حضرت عثمان (رض) نے اس کپڑے کی قیمت آٹھ درہم لگائی (جبکہ ہاتھ کاٹنے کے لیے دس درہم کی چوری ضروری ہے) لہٰذا حضرت عمر (رض) نے اس کا ہاتھ وغیرہ نہیں کاٹا۔

الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13890- عن القاسم بن عبد الرحمن قال: أتي عمر بن الخطاب برجل سرق ثوبا فقال لعثمان: قومه، فقومه ثمانية دراهم فلم يقطعه. "عب هق".
tahqiq

তাহকীক: