কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৮৫১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13851 حضرت عکرمہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خیبر میں (مسلمانوں کو ملنے والی) مشاعل (جن میں نبیذ بنایا کرتے تھے) ناپسند کردیں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل خیبر کو ان میں (شراب وغیرہ) پیتے دیکھا تھا۔ الجامع لعبد الرزاق
13851- عن عكرمة قال: شق النبي صلى الله عليه وسلم المشاعل يوم خيبر وذلك أنه وجد أهل خيبر يشربون فيها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13852 عکرمہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھر والوں کے پاس داخل ہوئے انھوں نے اپنے ایک بچے کے لیے کوزے (مٹی کے برتن) میں نبیذ ڈال رکھی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ نبیذ بھی گرادی اور وہ برتن بھی توڑ دیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13852- عن عكرمة قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم على أهله وقد نبذوا لصبي لهم في كوز فأهراق الشراب وكسر الكوز. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13853 محمد بن راشد سے مروی ہے کہ میں نے عمرو بن شعیب کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابو موسیٰ اشعری (رض) کو جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یمن (گورنر کی حیثیت سے) بھیجنے لگے تو آپ (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کہ میری قوم والے (یعنی اہل یمن) مکئی سے ایک مشروب بناتے ہیں جس کو مزر کہتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا وہ نشہ آور ہے ؟ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے ہاں میں جواب دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر ان کو اس سے روک دو ۔ ابوموسیٰ (رض) نے عرض کیا : میں ان کو روکوں گا لیکن جو باز نہ آیا تو ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو ان میں باز نہ آئے تیسری مرتبہ بھی اس کو قتل کردینا ۔ الجامع لعبد الرزاق
13853- عن محمد بن راشد قال: سمعت عمرو بن شعيب يحدث أن أبا موسى الأشعري حين بعثه النبي صلى الله عليه وسلم إلى اليمن سأله قال: إن قومي يصنعون شرابا من الذرة يقال له المزر فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أيسكر؟ قال: نعم، قال: فانههم عنه قال نهيتهم ولم ينتهوا قال: فمن لم ينته منهم في الثالثة فاقتله. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13854 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی طرح کے طبق (طشتری) میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ الجامع لعبد الرزاق
13854- عن مجاهد قال: نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن ينبذ في كل شيء بطبق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13855 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمزم کا مشکیزہ لے کر اس میں نبیذ بنوا کر پیا۔ پھر اس کا منہ بند کردیا پھر دوبارہ پینے سے پہلے اس میں پانی ملانے کا حکم دیا اور پھر اس میں سے پیا۔ اور اس کا منہ بند کرکے دوبارہ چھوڑ دیا۔ پھر تیسری مرتبہ نوش کرنے سے قبل اس میں پانی ملانے کا حکم دیا پھر اس کو نوش فرمایا۔ الجامع لعبد الرزاق
13855- عن مجاهد قال: عمد النبي صلى الله عليه وسلم السقاية سقاية زمزم فشرب من النبيذ فشد وجهه ثم أمر به فكسر بالماء، ثم شربه الثانية فشد وجهه ثم أمر به الثالثة فكسر بالماء ثم شرب. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13856 ابن الدیلمی سے مروی ہے انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میں آپ سے دور رہتا ہوں اور میں گندم کا مشروب پیتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا وہ نشہ آور ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی نشہ آور شے نہ پیو۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ التاریخ للبخاری ابن عساکر
13856- عن ابن الديلمي أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم أنا منك بعيد وأنا أشرب شرابا من قمح فقال: أيسكر؟ فقلت: نعم، قال: لا تشربوا مسكرا فأعاد ثلاثا قال: كل مسكر حرام. "خ في تاريخه كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13857 عبداللہ الدیلمی اپنے الد فیروز (الدیلمی) سے روایت کرتے ہیں۔ فیروز فرماتے ہیں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! ہمارے انگوروں کے باغ ہیں۔ حالانکہ شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہے (ورنہ ہم ان کی شراب بنالیتے) اب ہم ان انگوروں کا کیا کریں یارسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ان کی کشمش بنالو۔ پوچھا : یارسول اللہ ! پھر کشمش کا ہم کیا کریں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان کو صبح کے وقت پانی میں ڈالو پھر شام کو پی لو۔ اور شام کے وقت پانی میں ڈالو پھر صبح کو پی لو۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم اس کو کچھ دیر اور نہ چھوڑ دیں تاکہ وہ مزید گاڑھا ہوجائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم اس کو (مٹی کے برتن) گھڑے (وغیرہ) میں نہ بناؤ بلکہ مشکیزے میں بناؤ۔ پھر اگر اس کو (نکالنے اور) عرق کھینچنے میں دیر بھی ہوجائے گی تو وہ (شراب بننے سے پہلے) سرکہ بن جائے گا۔ پھر میں نے (ایک دوسرا مسئلہ) عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ ہم کون لوگ ہیں ؟ اور کن لوگوں کے درمیان رہتے ہیں، ہمارا وہاں نگہبان کون ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کا رسول (اسی پر بھروسہ رکھو) ۔ تب میں نے عرض کیا : ہم کو یہ (دونوں) کافی ہیں یارسول اللہ۔ البغوی، ابن عساکر
13857- عن عبد الله بن الديلمي عن أبيه فيروز قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله إنا أصحاب كروم وأعناب وقد نزل تحريم الخمر فماذا نصنع بها؟ قال: تتخذونه زبيبا، قال: فنصنع بالزبيب ماذا يا رسول الله؟ قال: تنقعونه على غدائكم فتشربونه على عشائكم وتنقعونه على عشائكم فتشربونه على غدائكم، قلت يا رسول الله أفلا نتركه حتى يشتد؟ قال: فلا تجعلوه في الدنان واجعلوه في الشنان1 وأنه إن تأخر عن عصره صار خلا، قلت: يا رسول الله نحن ممن قد علمت ونحن بين ظهراني من قد علمت، فمن ولينا؟ قال: الله ورسوله، قلت حسبنا يا رسول الله. "البغوي كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13858 عبداللہ بن فیرز الدیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے آپ سے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم انگوروں والے ہیں۔ اور اللہ نے شراب حرام کردی ہے ، اب ہم انگوروں کا کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان کی کشمش بنالو۔ پوچھا : پھر کشمش کا کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو مشکیزے میں پانی کے ساتھ ڈال لو۔ صبح کو ڈالو اور شام کو نوش کرلو۔ پوچھا : کیا ہم زیادہ دیر تک نہ چھوڑ دیں جس سے وہ نبیذ گاڑھی ہوجائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر اس کو تم گھڑے میں نہ ڈالو اور نہ کدو کے برتن میں، بلکہ مشکیزے میں ڈالو اور جب اس پر دو عصر (دو مرتبہ نچوڑنے) کا وقت گزر جائے گا تو وہ سرکہ بن جائے گا قبل اس سے کہ وہ شراب بنے۔ ابن عساکر
13858- عن عبد الله بن فيروز الديلمي عن أبيه أن قوما سألوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله إنا كنا أصحاب أعناب وكروم وخمر، فإن الله قد حرم الخمر فما نصنع؟ قال: زببوه، قال: فما نصنع بالزبيب، قال: انقعوه في الشنان وانقعوه على غدائكم واشربوه على عشائكم قال: أفلا نؤخره حتى يشتد؟ قال: فلا تجعلوه في القلال ولا في الدباء، واجعلوه في الشنان فإذا أتى عليه العصران عاد خلا قبل أن يعود خمرا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13859 عبداللہ بن الدیلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم اسودعنسی کذاب کا سر لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ ہم کو جانتے ہیں کہ ہم کون لوگ ہیں اب بتائیں ہم کن پر آسرار رکھیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم انگوروں کے مالک ہیں ان کا ہم کیا کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی کشمش بنالو۔ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کشمش کا کیا کریں گے ؟ فرمایا : صبح کو ان کی نبیذ ڈالو شام کو پی لو ۔ اور شام کو ڈالو صبح کو پی لو ۔ اور ہاں گھڑوں میں نہ بناؤ بلکہ مشکیزوں میں بناؤ۔ کیونکہ اگر ان کو نچوڑنے میں دیر بھی ہوگئی تو وہ سرکہ بن جائے گا۔
ابن مندہ، ابن عساکر
ابن مندہ، ابن عساکر
13859- عن عبد الله بن الديلمي عن أبيه قال: قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم برأس الأسود العنسي الكذاب فقلنا: يا رسول الله قد علمت من نحن فإلى من نحن؟ قال: إلى الله ورسوله، قلنا يا رسول الله إن لنا أعنابا فما نصنع بها؟ قال: زببوها، قلنا يا رسول الله فما نصنع بالزبيب؟ قال: انبذوه على غدائكم، واشربوه على عشائكم، وانبذوه على عشائكم واشربوه على غدائكم، ولا تنبذوا في القلل وانبذوا في الشنان فإنه إن تأخر عن عصره صار خلا. "ابن منده كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13860 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سبز گھڑے میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ ابن جریر
13860- عن عائشة أنه كان ينبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في الجر الأخضر. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13861 (مسند صدیق (رض)) محمد بن حاطب سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور کو لایا گیا۔ آپ نے اس کے قتل کا حکم فرمایا۔ آپ کو جب بتایا گیا کہ اس نے چوری کی ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس (کے ہاتھ) کو کاٹ دو ۔ پھر وہ کئی بار (زمانہ خلافت ابی بکر (رض)) میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لایا گیا اس حال میں کہ ہاتھ پاؤں (چوری کے جرم میں) کاٹے جاچکے تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں تیرے لیے اب کوئی اور فیصلہ نہیں پاتا سوائے اس کے کہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے پہل تیرے بارے میں جو فیصلہ کیا تھا اور تیرے قتل کا حکم دیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تیرے قتل کا بخوبی علم تھا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے اس کے قتل کا حکم جاری فرمادیا۔ مسند ابی یعلی، الشاشی، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، السنن لسعیدبن منصور
کلام : اخرجہ الحاکم فی المستدرک کتاب الحدود 382/4 ۔ امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں بل منکر۔ یہ روایت منکر ہے۔
کلام : اخرجہ الحاکم فی المستدرک کتاب الحدود 382/4 ۔ امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں بل منکر۔ یہ روایت منکر ہے۔
13861- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن محمد بن حاطب قال: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلص فأمر بقتله، فقيل: إنه سرق، فقال: اقطعوه، ثم جيء به بعد ذلك إلى أبي بكر وقد قطعت قوائمه، فقال أبو بكر: ما أجد لك شيئا إلا ما قضى فيك رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أمر بقتلك، فإنه كان أعلم بك فأمر بقتله. "ع والشاشي طب ك ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13862 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے تین درہم کے برابر قیمت کی ڈھال کی چوری میں (ہاتھ) کاٹا ہے۔
الشافعی، الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
الشافعی، الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
13862- عن أنس قال: قطع أبو بكر في مجن ما يساوي ثلاثة دراهم. "الشافعي عب ش ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13863: عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ایک غلام کا ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹا۔ الجامع لعبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ)
13863- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة أن أبا بكر قطع يد عبد سرق. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13864: ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے یعلی بن امیہ کا پاؤں کاٹا جس کا ہاتھ پہلے کاٹا جاچکا تھا۔ الجامع لعبد الرزاق
13864- عن ابن عمر قال: إنما قطع أبو بكر رجل الذي قطع يعلى بن أمية وكان مقطوع اليد قبل ذلك. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13865 قاسم بن محمد سے مروی ہے ایک چور جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں پہلے (چوری کے جرم میں) کاٹا جاچکا تھا اس نے پھر حضرت اسماء (رض) کا زیور چوری کیا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے تیسری مرتبہ میں اس کا دوسرا ہاتھ کاٹ دیا۔ الجامع لعبد الرزاق
13865- عن القاسم بن محمد أن سارقا مقطوع اليد والرجل سرق حليا لأسماء فقطعه أبو بكر الثالثة يده. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13866 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آیا کرتا تھا۔ آپ (رض) (شفقت کے ساتھ) اس کو اپنے قریب کرتے اور اس کو قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) نے کسی کو اموال زکوۃ کی وصولی کے لیے یا کسی بطور عسکری لشکر کے بھیجا۔ سیاہ فام بولا : مجھے بھی ان کے ساتھ بھیج دیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو فرمایا : تو تو ہمارے پاس ہی رہ۔ لیکن وہ نہ مانا۔ آخر حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو اس کے ساتھ بھیج دیا اور (جاتے وقت) اس کو اچھائی کی نصیحت کی۔ پھر تھوڑا عرصہ نہ گزرا تھا کہ وہ اس حال میں آیا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو دیکھا تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں۔ آپ (رض) نے سیاہ فام سے پوچھا : تجھے کیا ہوگیا ؟ اس نے عرض کیا : میں نے اور کچھ تو نہیں کیا ۔ وہ مجھے (زکوۃ وصولی وغیرہ کے) کام پر بھیجا کرتے تھے۔ میں نے ایک زکوۃ میں خیانت کرلی اور انھوں نے میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے (لوگوں) کو مخاطب ہو کر فرمایا : یہ شخص جس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے تم دیکھنا یہ بیس سے زائد مرتبہ خیانت کرے گا۔ پھر (اس کو) فرمایا اللہ کی قسم ! اگر میری بات سچ نکلی تو میں تجھے اس جرم میں بالآخر قتل کردوں گا۔ پھر آپ (رض) نے اس کو اپنے قریب ہی ٹھہرالیا اور اس کو تنہا نہ چھوڑتے تھے۔ وہ سیاہ کیا کرتا رات کو اٹھ کر نماز میں قرآن پڑھتا۔ حضرت ابوبکر (رض) اس کی آواز سنتے تو فرماتے : تیری رات چوری کرنے والے کی رات نہیں ہے۔ پھر وہ ایک مرتبہ تھوڑی دیر کے لیے غائب ہوا تھا کہ اس کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کے گھر والوں کے زیور اور دوسرا سامان چوری ہوگیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : آج رات ہی چور ہاتھ آجائے گا۔ دوسری طرف کیے ہوئے ہاتھ والا (سیاہ فام) قبلہ رو ہو کر اور ایک سالم ہاتھ اور دوسرا کٹا ہوا ہاتھ بلند کرکے دعا کرنے (اور ابوبکر (رض)) کے گھر والوں کو اپنی پاکدامنی سنانے کے لیے کہنے لگا : اے اللہ ! جس نے اس نیک گھر والوں کی چوری کی ہے اس کو ظاہر کردے۔ چنانچہ اس کی دعا قبول ہوگئی ابھی دن آدھا نہیں ہوا تھا کہ آل ابوبکر نے اپنا سامان اسی کے پاس پالیا۔ تب حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو ارشاد فرمایا : افسوس ہے تجھ پر، تو اللہ کی طاقت کو نہیں جانتا۔ پھر آپ (رض) نے اس کے لیے حکم دیدیا اور اس کا ایک پاؤں کاٹ دیا گیا۔ حضرت ابوبکر (رض) فرمایا کرتے تھے : مجھے اس کی چوری سے زیادہ اس کی اللہ پر جرات زیادہ غصہ دلاتی ہے کہ وہ ہم کو سنانے کے لیے اللہ سے دعا کررہا ہے کہ اے اللہ چور کو ظاہر کردے۔ یہ اس کی اللہ پر جرات ہی تو ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13866- عن عائشة قالت: كان رجل أسود يأتي أبا بكر فيدنيه ويقرئه القرآن حتى بعث ساعيا أو قال سرية، فقال: أرسلني معه، فقال: بل تمكث عندنا فأبى فأرسله معه واستوصى به خيرا فلم يغب عنه إلا قليلا حتى جاء قد قطعت يده فلما رآه أبو بكر رضي الله عنه فاضت عيناه فقال: ما شأنك؟ قال: ما زدت على أنه كان يوليني شيئا من عمله فخنته فريضة واحدة فقطع يدي، فقال أبو بكر: تجدون الذي قطع يد هذا يخون أكثر من عشرين فريضة، والله لأن كنت صادقا لأقيدنك منه ثم أدناه ولم يخل منزلته التي كانت له فكان الرجل يقوم من الليل فيقرأ فإذا سمع أبو بكر صوته من الليل قال: ما ليلك بليل سارق، فلم يغب إلا قليلا حتى فقد آل أبي بكر حليا لهم ومتاعا، فقال أبو بكر: طرق الحي الليلة، فقام الأقطع فاستقبل القبلة ورفع يده الصحيحة والأخرى التي قطعت فقال: اللهم أظهر على من سرق أهل هذا البيت الصالحين فما انتصف النهار حتى عثروا على المتاع عنده، فقال أبو بكر: ويلك إنك لقليل العلم بالله، فأمر به فقطعت رجله، فكان أبو بكر يقول: لجرأته على الله أغيظ عندي من سرقته. "عب هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13867 نافع (رح) بھی حضرت ابن عمر (رض) سے گزشتہ واقع کے مثل نقل کرتے ہیں مگر یہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر (رض) رات کو اس کے پڑھن کی آواز سنتے تو فرمایا کرتے تھے کہ تیری رات چور کی رات نہیں ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13867- عن نافع عن ابن عمر نحوه إلا أنه قال: كان إذا سمع أبو بكر صوته من الليل قال: ما ليلك بليل سارق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13868 عبدالرحمن بن القاسم اپنے والد قاسم (بن ابی بکر (رض)) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک یمنی آدمی جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا تھا حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں آیا اور شکایت کی یمن کے عامل (گورنر) نے ان پر ظلم کیا ہے حالانکہ میں رات کو نماز پڑھتا ہوں (تہجد گزار آدمی ہوں) حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو فرمایا تیرے باپ کی قسم ! تیری رات تو چور کی رات نہیں ہے (دن ہوسکتا ہے) پھر ایک مرتبہ اسماء بنت عمیس جو ابوبکر (رض) کی اہلیہ تھیں، ان کا زیور گم ہوگیا وہ آدمی بھی گھروالوں کے ساتھ مل کر ڈھونڈتا رہا اور یوں کہتا رہا : اے اللہ جس نے اس نیک گھرانے کی چوری کی ہے اس کو پکڑ لے۔ پھر گھر والوں کو زیور ایک صراف کے پاس مل گیا۔ صراف نے بتایا کہ ایک کٹے ہاتھ والا لے کر آیا تھا۔ چنانچہ اس نے بھی اعتراف کرلیا یا اس پر گواہ مل گئے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے حکم دیا اور اس کا دوسرا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اس کا اپنے خلاف بددعا کرنا مجھے اس کے چوری کرنے سے زیادہ سخت معلوم ہوتا ہے۔
موطا امام مالک، الشافعی، السنن للبیہقی
موطا امام مالک، الشافعی، السنن للبیہقی
13868- عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أن رجلا من أهل اليمن أقطع اليد والرجل قدم على أبي بكر الصديق، فشكا إليه أن عامل اليمن ظلمه، وكان يصلي بالليل فيقول أبو بكر: وأبيك ما ليلك بليل سارق، ثم إنهم فقدوا حليا لأسماء بنت عميس امراة أبي بكر فجعل الرجل يطوف معهم ويقول: اللهم عليك بمن بيت أهل هذا البيت الصالح، فوجدوا الحلي عند صائغ، و [زعم] أن الأقطع جاء به، فاعترف به الأقطع أو شهد عليه به، فأمر به أبو بكر فقطعت يده اليسرى وقال أبو بكر: لدعاءه على نفسه أشد عندي من سرقته. "مالك والشافعي هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13869 زہری (رح) سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جس نے پاؤں کاٹا وہ ابوبکر (رض) تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ
مصنف ابن ابی شیبہ
13869- عن الزهري قال: أول من قطع الرجل أبو بكر. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13870 (مسند عمر (رض)) ابن عباس (رض) سے مروی ہے آپ (رض) فرماتے ہیں : میں اس موقع پر حاضر تھا جب حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک ایسے شخص کا دوسرا ہاتھ چوری کی وجہ سے کاٹا جس کا پہلے سے ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا تھا۔
الضعفاء للعقیلی، السنن لسعید بن منصور، ابن المنذر فی الاوسط، الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
الضعفاء للعقیلی، السنن لسعید بن منصور، ابن المنذر فی الاوسط، الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
13870- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس قال: شهدت عمر بن الخطاب قطع بعد يد ورجل يدا في السرقة. "عق ص وابن المنذر في الأوسط قط هق".
তাহকীক: