কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৮৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13831 ابن عمر (رض) سے مروی آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ نبیذ میں بسر اور رطب جمع کی جائیں یا تمر اور زبیب جمع کی جائیں۔ الجامع لعبد الرزاق

فائدہ : بسر مکمل طور پر پکنے سے قبل کھجور، جب اس کا کچھ حصہ گدرا اور نرم اور کچھ معمولی سخت ہوتا ہے۔ اس وقت کھجور بسر کہلاتی ہے۔ رطب جب اس کے بعد مزید پک کر بالکل نرم ہوجاتی ہے۔ تمر پختہ نرم کھجور جو پورے سال ہر وقت دستیاب رہتی ہے (زبیب) کشمش کو کہتے ہیں۔
13831- عن ابن عمر قال: نهى أن ينتبذ البسر والرطب جميعا والتمر والزبيب جميعا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13832 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے کوئی مشروب پی رکھا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا کیا مشروب پیا ہے ؟ آدمی نے کہا : کشمش کی نبیذ تھی یارسول اللہ ! حالانکہ بولتے وقت اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی لیکن اس کی عقل سلامت تھی ۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چالیس کوڑے لگوائے۔ ابن جریر
13832- عن ابن عمر قال: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل أصاب من الشراب فسأله النبي صلى الله عليه وسلم أي شراب هو؟ قال: نبيذ زبيب يا رسول الله وقد كاد ينكسر لسانه ومعه عقله فأمر به فجلد أربعين سوطا. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13833 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک نشہ ور (لڑکھڑاتا) شخص لایا گیا ۔ اس نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے سراب نہیں نوش کی بلکہ کشمش اور کھجور کی نبیذ نوش کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے حکم دیا اور اس کو حد لگادی گئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمادیا۔ ابن جریر
13833- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتي برجل سكران فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم إني إن لم أشرب خمرا إنما شربت زبيبا وتمرا، فأمر به فضرب الحد ونهى عنهما أن يخلطا. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13834 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو حد خمر لگوائی کھجور کی نبیذ پی کر نشہ آور ہوگیا تھا۔ ابن جریر

فائدہ : کھجور کی نبیذ ایک دن یا ایک رات تک استعمال کی جاسکتی ہے زیادہ عرصہ پڑا رہنے سے وہ نشہ آور ہوجاتی ہے۔
13834- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلد رجلا سكران من نبيذ التمر. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13835 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : برتن کسی چیز کو حرام کرتے ہیں اور نہ حلال۔

ابن جریر
13835- عن عمر قال: الأوعية لا تحرم شيئا ولا تحله. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13836 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تشریف لائے اور عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! ہم نبیذ بناتے ہیں اور صبح شام پیتے ہیں (یعنی صبح کی شام اور شام کی صبح ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بناتے رہو، (لیکن) ہر نشہ آور شے حرام ہے۔ وہ پھر بولے : یارسول اللہ ! اگر وہ نشہ آور ہوجائے تو ہم اس (کے نشے) کو پانی کے ساتھ توڑ لیتے ہیں (یعنی پانی ملالیتے ہیں ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کی کثیر مقدار نشہ آور ہو وہ حرام ہی ہے ابن عساکر
13836- عن ابن عمرو قال: جاء قوم فقالوا: يا رسول الله، إنا ننبذ النبيذ ونشربه على غدائنا وعشائنا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انتبذوا وكل مسكر حرام، قالوا: يا رسول الله إنا نكسره بالماء؟ فقال: حرام ما أسكر كثيره. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13837 ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ برتنوں سے منع فرمایا تو آپ کو عرض کیا گیا : کہ ہر آدمی مشکیزہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے گھڑے کی اجازت مرحمت فرمادی جس کو تارکول (وغیرہ) نہ ملا گیا ہو۔ الجامع لعبد الرزاق
13837- وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الأوعية فقيل له: ليس كل الناس يجد سقاء فأذن في الجر غير المزفت. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13838 جویبربن سعید الازدی سے مروی ہے وہ ضحاک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے نزدیک ذکر ہوا کو نبیذ حرام کردی گئی تھی۔ ابن مسعود (رض) نے فرمایا : ہم اس کی تحریم کے وقت حاضر تھے تمہاری طرح ۔ لیکن اس کی حلت آئی تو ہم نے اس کو بھی یاد رکھا جبکہ تم بھول گئے۔ ابن جریر
13838- عن جويبر بن سعيد الأزدي عن الضحاك عن ابن مسعود أنه ذكر عنده تحريم النبيذ فقال: قد شهدنا تحريمه كما شهدتم، وشهدنا تحليله فحفظنا ونسيتم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13839 ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زھو (بسر گدری کھجور) تمر (پختہ کھجور) ، زبیب (کشمش) اور تمر (کو نبیذ میں) ملانے سے منع فرمایا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13839- عن أبي سعيد قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الزهو والتمر والزبيب والتمر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13840 حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ وفد عبدالقیس جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! اللہ ہم کو آپ پر قربان کرے، ہمارے لیے کون کون سے مشروب درست ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نقیر میں (کوئی مشروب) نہ پیو ۔ انھوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! اللہ ہم کو آپ پر فدا کرے، کیا آپ جانتے ہیں نقیر کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھجور کا تنا جس کو درمیان سے کھوکھلا کرلیا جائے۔ نیز فرمایا دباء اور حنتم سے بھی احتراز کرو۔ اور ہاں سر بند مشکیزے استعمال کرو۔ الجامع لعبد الرزاق
13840- عن أبي سعيد الخدري أن وفد عبد القيس لما أتوا النبي صلى الله عليه وسلم قالوا: يا نبي الله، جعلنا الله فداك ماذا يصلح لنا من الأشربة؟ فقال: لا تشربوا في النقير قالوا: يا رسول الله جعلنا الله فداك أو تدري ما النقير؟ قال: نعم الجذع ينقر وسطه، ولا الدباء ولا الحنتمة وعليكم بالموكي. "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13841 ابوسعید خدری (رض) سے منقول ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وفد عبدالقیس آگیا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔ پھر ہم تھوڑی دیر ٹھہرے تھے کہ وہ لوگ آگئے۔ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت فرمایا : کیا تمہارے پاس تمہاری کھجوروں یا زادراہ میں سے کچھ باقی ہے ؟ انھوں نے اثبات میں ہاں کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا۔ دستر خوان بچھ گیا تو وفد والوں نے اپنی بچی کچھی کھجوریں دستر خوان پر ڈال دیں جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو (کھانے پر) جمع کیا۔ پھر (کھانے کے دوران کھجوروں کی اقسام پر بات چیت) فرمانے لگے : تم ان کھجوروں کو برنی کھجور کہتے ہو، یہ فلاں قسم ہے، یہ فلاں کھجور ہے۔ لوگ ہاں ہاں کرتے رہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وفد کے ایک ایک آدمی کو ایک مقامی کے سپرد کردیا کہ وہ اس کو بطور مہمان گھر لے جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو قرآن کی تعلیم دے اور نماز (روزہ) سکھائے۔ اس طرح وہ ایک ہفتہ وہاں مقیم رہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلایا تو دیکھا کہ وہ کافی سیکھ گئے ہیں اور سمجھ گئے ہیں۔ پھر آپ نے ان کو ایک دوسرے کے پاس تبدیل کردیا۔ اور ایک ہفتہ وہ اسی طرح مقیم رہے۔ پھر آپ نے ان کو دوبارہ بلوایا تو اب کے دیکھا کہ وہ بالکل درست پڑھنے لگے ہیں اور دین کو سمجھ گئے ہیں۔ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اب ہم کو ہمارے دیار کی اشتیاق بڑھ گئی ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے ہم (دین کی) کچھ سمجھ بوجھ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : اپنے وطنوں کو لوٹ جاؤ۔ پھر انھوں نے آپس میں بات کی کہ اگر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان مشروبات کے متعلق پوچھ لیں جو ہم اپنے علاقے میں پیتے ہیں تو بہتر ہوگا۔ چنانچہ وہ بولے : یارسول اللہ ! ہم کھجور (کے درخت) کو لے کر اس کو بڑا سوراخ کرکے اس میں کھجوریں ڈال دیتے ہیں پھر اس میں پانی ڈال دیتے ہیں جب وہ صاف ہوجاتا ہے تو تم اس کو نوش کرلیتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اور کیا ؟ وہ بولے : اسی طرح ہم کدو لے کر اس میں کھجوریں ڈال دیتے ہیں پھر اس میں پانی ڈال دیتے ہیں۔ جب وہ پانی صاف ہوجاتا ہے تو ہم اس کو نوش کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اور کیا ؟ وہ بولے : اور ہم یہ سبز رنگ کے گھڑے لیتے ہیں ان میں کھجوریں ڈال کر ان پر پانی ڈال دیتے ہیں جب وہ صاف ہوجاتا ہے تو ہم وہ پانی پیتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کدو کے برتن میں، کھجور کے تنے (یا جڑ میں) اور نہ سبز گھڑے میں نبیذ نہ بناؤ بلکہ ان مشکیزوں میں بنالو جن کے منہ بند کیے جاتے ہیں اگر ان میں (بھی نشہ کا) تم کو شبہ ہوجائے تو ان میں مزید پانی ڈالو۔ الجامع لعبد الرزاق
13841- وعنه قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: جاءكم وفد عبد القيس ولا نرى شيئا فمكثنا ساعة، فإذا قد جاؤوا فسلموا على النبي صلى الله عليه وسلم فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم أبقي معكم شيء من تمركم أو قال من زادكم؟ قالوا: نعم فأمر بنطع فبسط ثم صبوا فيه بقية تمر كان معهم، فجمع النبي صلى الله عليه وسلم أصحابه وجعل يقول لهم: تسمون هذا التمر البرني وهذه كذا وهذه كذا لألوان التمر؟ قالوا: نعم، ثم أمر بكل رجل منهم رجلا من المسلمين ينزله عنده ويقرئه ويعلمه الصلاة، فمكثوا جمعة ثم دعاهم فوجدهم قد كادوا أن يتعلموا وأن يفهموا فحولهم إلى غيره ثم تركهم جمعة أخرى ثم دعاهم، فوجدهم قد قرأوا وتفهموا فقالوا: يا رسول الله، إنا قد اشتقنا إلى بلادنا وقد علم الله خيرا وفقهنا، فقال: ارجعوا إلى بلادكم قالوا: لو سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شراب نشربه بأرضنا فقالوا: يا رسول الله إنا نأخذ النخلة فنجوبها ثم نضع التمر فيها ونصب عليه الماء فإذا صفا شربناه، قال: وماذا؟ قالوا: ونأخذ هذه الدباء فنضع فيه التمر، ثم نصب عليه الماء فإذا صفا شربناه، قال وماذا؟ قالوا: نأخذ هذا الحنتمة فنضع فيها التمر ثم نصب عليه الماء فإذا صفا شربناه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تنبذوا في الدباء ولا في النقير ولا في الحنتم وانتبذوا في هذه الأسقية التي يلاث على أفواهها، فإن رابكم فاكسروه بالماء. "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13842 ابوقتادہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بسر اور رطب کو ملانے سے اور زبیب اور تمر کو ملانے سے منع فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا : ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ بنالی جائے۔

الجامع لعبد الرزاق
13842- عن أبي قتادة قال: نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الزهو3 والرطب أن يخلطا، وعن الزبيب والتمر أن يخلطا وقال: ينبذ كل واحد منهما وحده. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13843 ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گھڑے میں بنی ہوئی نبیذ لے کر آئے جو جوش ماررہی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو دیوار پردے مارو۔ اس کو وہی شخص نوش کرسکتا ہے جس کا اللہ اور بوم آخرت پر ایمان نہ ہو۔ دوسرے الفاظ یہ ہیں ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔

مسند ابی یعلی، الکبیر للطبرانی، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی، ابن عساکر
13843- عن أبي موسى أنه جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم بنبيذ جر ينش. فقال: اضرب بهذا الحائط فإنه لا يشرب هذا من كان يؤمن بالله واليوم الآخر وفي لفظ: فإن هذا شراب من لا يؤمن بالله واليوم الآخر. "ع طب حل ق كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13844 ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دباء ، نقیر، مزفت اور حنتم سے منع فرمایا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13844- عن أبي هريرة قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدباء والنقير والمزفت والحنتم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13845 ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ تمر اور زبیب کو ملا کر یا بسر اور رطب کو ملا کر نبیذ بنائی جائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13845- وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينبذ التمر والزبيب جميعا والزهو والرطب جميعا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13846 ابورافع (رض) کے متعلق مروی ہے کہ وہ سبز گھڑے کی نبیذ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سرخ گھڑوں کی نبیذ سے منع فرماتے تھے جن پر تار کول ملا گیا ہو۔ اور تمہارے سبز گھڑوں سے نہیں روکتے تھے۔ ابن جریر
13846- عن أبي رافع عن أبي هريرة أنه كان لا يرى بنبيذ الجر الأخضر بأسا، ويقول: إنما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجرار الحمر المزفتة وليست بجراركم الخضر. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13847 حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں جانتا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض دنوں میں روزہ رکھتے ہیں تو میں نے ایک مرتبہ آپ کی افطاری کے لیے کدو میں نبیذ بنائی جب شام کا وقت ہوا تو میں وہ اٹھا کر آپ کی خدمت میں لایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے ابو ہریرہ ! یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے معلوم تھا کہ آپ اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپ کی افطاری کے لیے یہ نبیذ بنائی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو ہریرہ ! اس کو میرے قریب لاؤ۔ آپ نے دیکھا تو اس میں جوش آرہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو دیوار پر مارو۔ یہ اس شخص کا مشروب ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔

ابن عساکر
13847- عن أبي هريرة قال: علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصوم في بعض الأيام فتحينت فطره بنبيذ صنعته في الدباء، فلما كان المساء جئت به أحملها إليه فقال: ما هذا يا أبا هريرة؟ قلت: يا رسول الله علمت أنك تصوم هذا اليوم فتحينت فطرك بهذا النبيذ، قال: ادنه مني يا أبا هريرة، فإذا هو ينش فقال: اضرب بهذا الحائط فإن هذا شراب من لا يؤمن بالله واليوم الآخر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13848 امیمۃ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سنا آپ نے عورتوں کو فرمایا : کیا تم میں سے ایسا نہیں ہوتا کہ ہر سال اپنی قربانی کی کھال کو لے کر اس کا مشکیزہ بنالے جس میں نبیذ بنائی جائے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹی کے برتن میں اور دوسرے دو برتنوں میں سر کے کے سوا نبیذ وغیرہ بنانے سے منع فرمایا ۔ الجامع لعبد الرزاق
13848- عن أميمة قالت: سمعت عائشة تقول: أتعجز إحداكن ان تأخذ كل عام جلد أضحيتها تجعله سقاء تنبذ فيه، منع

نبي الله صلى الله عليه وسلم أو قالت نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجر أن ينتبذ فيه وعن وعائين آخرين إلا الخل. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৪৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13849 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مٹی کے برتن (گھڑے وغیرہ) کی نبیذ سے منع فرماتے تھے۔ الخطیب فی المعفق
13849- عن عائشة قالت: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نبيذ الجر. "خط في المتفق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৫০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13850 عقبہ بن حریث سے مروی ہے کہ ہم حضرت سعید (رح) کے پاس بیٹھے تھے۔ ہم نے آپ کو ابن عمر (رض) کی حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار نہیں دیا۔ بلکہ آپ کے اصحاب کو خیبر میں گھڑے ملے تھے آپ نے صحابہ کو صرف ان سے منع فرمایا تھا۔ ابن جریر
13850- عن عقبة بن حريث قال: قعدنا إلى سعيد فذكرنا له حديث ابن عمر في نبيذ الجر قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يحرمه، ولكن أصحابه وقعوا في جرار خيبر فنهاهم عنه. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: