কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৮১১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13811 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور اور کشمش کو ایک ساتھ اور گندم اور کھجور کو ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔

مصنف ابن ابی شیبہ، البخاری، مسلم، النسائی
13811- عن جابر نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينبذ التمر والزبيب جميعا والبر والتمر جميعا. "ش خ م ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13812 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تار کول ملے ہوئے برتن اور کھجور کی جڑ سے بنائے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نبیذ بنانے کے لیے کوئی برتن موجود نہ پاتے تو پتھر یا تانبے کے برتن میں بنوالیتے تھے۔

الجامع لعبد الرزاق
13812- عن جابر نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزفت والنقير، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لم يجد سقاء ينبذ فيه نبذ له في تور من حجارة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13813 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور، کشمش، ادھ نرم ادھ سخت کھجور اور مکمل پختہ نرم تازہ کھجوروں کو آپس میں ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔

الجامع لعبد الرزاق
13813- عن جابر نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التمر والزبيب والبسر والرطب يعني أن ينبذا جميعا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13814 جابر (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : بسر (گدر کھجور) اور طب (پختہ تازہ کھجور) جب جمع کرلی جائیں تو وہ شراب بن جاتی ہیں۔ الجامع لعبد الرزاق
13814- عن جابر قال: البسر والرطب خمر يعني إذا جمعا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13815 ابن جریج (رح) سے مروی ہے مجھے حضرت عطاء (رح) نے فرمایا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ کو فرماتے ہوئے سنا : رطب اور بسر کھجوروں کو اور تمر (پرانی پختہ کھجور) اور کشمش کو نبیذ میں مت ملاؤ۔

ابن جریج کہتے ہیں : مجھے ابوالزبیر نے جابر (رض) سے عطاء عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مثل قول نقل کیا ہے۔

نیز ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء (رح) سے پوچھا : کیا حضرت جابر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے یہ ذکر کیا ہے کہ آپ نے دو مختلف نبی ذوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہو۔ جس طرح آپ نے بسر، رطب، زبیب اور تمر کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا ہے۔ حضرت عطاءؒ نے فرمایا : حضرت جابر (رض) نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ وہ نبی ذوں کو ملانے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع کیا ہو۔ ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ میں ہی بھول گیا ہوں۔ الجامع لعبد الرزاق
13815- عن ابن جريج قال: قال لي عطاء: سمعت جابر بن عبد الله يقول: لا تجمعوا بين الرطب والبسر وبين التمر والزبيب نبيذا، قال ابن جريج وأخبرني أبو الزبير عن جابر مثل قول عطاء عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ابن جريج: قلت لعطاء: أذكر جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى أن يجمع بين نبيذين غير ما ذكرت غير البسر والرطب والزبيب والتمر، قال: لا، إلا أن أكون نسيت. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13816 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں آپ کو خاص نبیذ پلاؤں یا عام نبیذ پلاؤں۔ ابن عساکر ، النسائی
13816- عن جابر قال: قال عباس بن عبد المطلب: يا رسول الله أسقيك نبيذ خاصة أو نبيذ عامة. "كر ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13817 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پتھر کے ایک برتن میں نبیذ بنائی جاتی تھی۔ ابن عساکر

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 4179 ۔
13817- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينبذ له في تور من حجارة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13818 ولجۃ بن قیس سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حکم غفاری کو کہا : کیا تمہیں یاد ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نقیر، مقیر، دباء اور حنتم سے منع فرمایا۔ حکم غفاری نے کہا : ہاں مجھے یاد ہے اور ایک دوسرے صحابی نے فرمایا میں اس کی شہادت دیتا ہوں۔ الحسن بن سفیان، ابونعیم
13818- عن دلجة بن قيس أن رجلا قال للحكم الغفاري: أتذكر يوم نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النقير وعن المقير وعن الدباء وعن الحنتم2؟ قال: نعم، وقال الآخر: وأنا أشهد على ذلك. "الحسن ابن سفيان وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13819 ابن الرائسی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں جو اہل ہجرت میں سے ہیں اور فقیہ صحابی تھے۔ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک وفد کے ہمراہ پہنچا وفد اپنی زکوۃ لے کر آپ کے پاس آیا تھا۔

اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مذکورہ برتنوں میں نبیذ پینے سے منع فرمایا۔ وہ اپنی سرزمین تہامہ واپس لوٹے جو گرم ترین علاقہ تھا۔ وہاں ان کو برتنوں کو چھوڑنا طبیعت کے موافق نہ آیا۔ پھر جب وہ اگلے سال اپنے صدقات (یعنی زکوۃ ) لے کر پہنچے تو انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ نے ہم کو جن برتنوں سے منع کیا تھا ان کا چھوڑنا ہمارے لیے باعث مشقت ہوگیا ہے۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ جن برتنوں میں چاہو پیو۔ لیکن جن برتنوں کے منہ گناہ (شراب) پر بند کیے گئے ہوں ان کو نہ پیو۔ الکبیر للطبرانی
13819- عن ابن الرائسي عن أبيه وكان من أهل هجر، وكان فقيها قال: انطلقت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في وفد بصدقة عملها إليه فنهاهم عن النبيذ في هذه الظروف، فرجعوا إلى أرضهم وهي أرض تهامة حارة، فاستوخموا فرجعوا إليه العام الثاني في صدقاتهم فقالوا: يا رسول الله، إنك نهيتنا عن هذه الأوعية فتركناها فشق ذلك علينا فقال: اذهبوا فاشربوا فيما شئتم، ولا تشربوا ما أوكي سقاؤه على إثم. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13820 سلیمان الشیبانی، عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے نقل کرتے ہیں، عبداللہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سبز گھڑے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ یعنی سبز گھڑے میں نبیذ بنانے سے (حنتم اسی کا نام ہے) ۔ سلیمان نے عبداللہ سے پوچھا اور سفید گھڑے میں ؟ عبداللہ نے فرمایا : مجھے علم نہیں۔
13820- عن سليمان الشيباني عن عبد الله بن أبي أوفى قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهي عن الجر الأخضر يعني النبيذ في الجر، قال والأبيض؟ قال: لا أدري. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13821 حضرت عبداللہ بن جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں قبیلہ عبدالقیس کے اس وفد میں شامل تھا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوا لیکن میرا عبدالقیس کے وفد سے تعلق نہ تھا۔ میں اپنے والد کے ساتھ آیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا جن کے بارے میں تم سن چکے ہو یعنی دباء، حنتم، نقیر، مزفت۔

مسند احمد، الکبیر للطبرانی، ابونعیم، ابن النجار
13821- عن عبد الله بن جابر قال: كنت في الوفد الذين أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم من عبد القيس، قال: ولست منهم، وإنما كنت مع أبي فنهاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشراب في الأوعية التي سمعتم الدباء والحنتم والنقير والمزفت. "حم طب وأبو نعيم وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13822 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (تمر) پرانی کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ اسی طرح بسر (گدر کھجور) اور زبیب (کشمش) کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ اور اہل جرش کو اپنے خط میں تمر اور زبیب ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔

مصنف ابن ابی شیبہ، مسلم، النسائی
13822- عن ابن عباس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يخلط التمر والزبيب جميعا، وأن يخلط البسر والزبيب جميعا، وكتب إلى أهل جرش ينهاهم عن خلط التمر والزبيب. "ش م ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13823 ابن عباس (رض) سے ہی مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دباء (کدو کے برتن) مزفت (تار کول ملے برتن) اور حنتم (سبز گھڑے) سے منع فرمایا۔ الجامع لعبد الرزاق
13823- وعنه قال: نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الدباء والنقير والمزفت والحنتم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13824 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی جب نماز پڑھالی تو ایک آدمی نے پکارا : یارسول اللہ ! یہ ایک آدمی شراب نوش ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدمی کو بلایا اور پوچھا : تو نے کیا پیا ہے ؟ آدمی بولا : میں نے کشمش لے کر مٹکے میں ڈال دی تھیں پھر جب وہ (شراب بننے کے قریب) پہنچ گئیں تو میں نے ان کو پی لیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے دادی والو ! میں تم کو ان مشروبات سے منع کرتا ہوں جو سرخ یا سبز، یا سیاہ یا سفید گھڑے میں بنائے گئے ہوں۔ بلکہ تم اپنے مشکیزوں میں نبیذ بنالو۔ اور جب تم کو اس (کے نشہ آور ہونے) کا خطرہ ہوجائے تو اس میں پانی ملالو۔ الجامع لعبد الرزاق
13824- وعنه قال: صلى صلى الله عليه وسلم بأصحابه يوما، فلما قضى صلاته نادى رجلا فقيل: يا رسول الله إن هذا رجل شارب فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الرجل، فقال: ما شربت؟ قال: عمدت إلى زبيب فجعلته في جر حتى إذا بلغ فشربته فقال النبي صلى الله عليه سلم: يا أهل الوادي ألا إني أنهاكم عما في الجر الأحمر والأخضر والأسود والأبيض منه، لينتبذ أحدكم في سقاء فإذا خشيه فليشججه بالماء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13825 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھڑے میں یا ڈھال میں یا سیسے کے برتن میں آبگینے کے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ نیز ایسے مشکیزے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا جس کا منہ باندھا جائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13825- وعنه قال: نهى نبي الله صلى الله عليه وسلم أن ينبذ في جر أو في قرعة أو في جرة من رصاص أو في جرة من قوارير وأن لا ينتبذوا إلا في سقاء يوكى عليه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13826 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھڑے ، تار کول ملے ہوئے برتن اور کدو کے برتن (میں نبیذ بنانے) سے منع فرمایا۔ الجامع لعبد الرزاق
13826- عن ابن عمر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجر والمزفت والدباء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13827 حضرت سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے گھڑے کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : حرام ہے۔ میں نے حضرت ابن عباس (رض) کو اس بات کی خبر دی تو انھوں نے بھی فرمایا : کہ انھوں نے سچ کہا ۔ یہ وہ چیز ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے۔ میں نے پھر پوچھا : اچھا (الجر) گھڑا کیا ہے ؟ فرمایا : مٹی کا ہر برتن۔ الجامع لعبد الرزاق
13827- عن سعيد بن جبير قال: سألت ابن عمر عن نبيذ الجر قال: حرام فأخبرت بذلك ابن عباس، قال: صدق، ذلك ما حرم الله ورسوله، قلت: وما الجر؟ قال: كل شيء من مدر "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13528 زاذان (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو عرض کیا : کہ مجھے ان برتنوں کا بتاؤ جن سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا تھا۔ آپ (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سبز گھڑے اور عام گھڑے میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا اور کدو کے برتن اور کھجور کی جڑ کو کھوکھلا کرکے بنائے گئے برتن اور تار کول وغیرہ ملے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ اور مشکیزوں میں نبیذ بنانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ الجامع لعبد الرزاق
13828- عن زاذان قال: قلت لابن عمر: أخبرني عما نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم من الأوعية قال: نهى عن الحنتم وعن الجرة، ونهى عن الدباء وهي القرعة وعن النقير وهي النخلة تنسج نسجا وتنقر نقرا ونهى عن المزفت وهو النقير وأمر أن يشرب في الأسقية. "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13529 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے (دور سے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منبر پر دیکھا تو میں جلدی جلدی آپ کی طرف چلا لیکن میرے پہنچنے سے قبل ہی آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نے کیا ارشاد فرمایا : لوگوں نے بتایا کہ آپ نے دبا اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق

فائدہ : کدو سے مختلف چیزیں بنائی جاتی تھی۔ گداگروں کے کشکول اور اس طرح کے دوسرے برتن بنائے جاتے تھے اسی طرح کدو کی دوسری قسم لوکی سے تلوار کی نیام بھی بنائی جاتی تھی ایسے برتنوں میں نبیذ جلد خمار آور ہوجاتی تھی۔ اس لیے ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا اور پانی وغیرہ اور دوسرے استعمال کے لیے ان کو منع نہیں فرمایا۔
13829- عن ابن عمر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فأسرعت فلم أنته إليه حتى نزل فسألت الناس ما قال؟ فقالوا: نهى عن الدباء والمزفت أن ينتبذ فيهما. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ذوں کا بیان
13830 ابواسحاق (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا میں تمر اور زبیب کو ملا کر نبیذ بنا سکتا ہوں ؟ آپ (رض) نے اس سے منع فرمایا ہے۔ پھر پوچھا : کیوں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ایک آدمی نشہ آور ہوگیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر حد جاری فرمائی۔ پھر لوگوں کو حکم دیا کہ وہ تفتیش کریں کہ اس نے کیا چیز پی تھی۔ جس سے وہ نشہ آور ہوا معلوم ہوا کہ وہ تمر اور زبیب (کی نبیذ) تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمر اور زبیب کو ملانے سے منع کردیا۔ اور فرمایا ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13830- عن أبي إسحاق أن رجلا سأل ابن عمر فقال: أجمع بين التمر والزبيب؟ قال: لا، قال: لم؟ قال: نهى عنه النبي صلى الله عليه وسلم، قلت:لم؟ قال: سكر رجل فحده النبي صلى الله عليه وسلم، ثم أمرهم أن ينظروا ما شرابه فإذا هو تمر وزبيب، فنهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يجمع بين التمر والزبيب، وقال: يكفي كل واحد منهما وحده. "عب".
tahqiq

তাহকীক: