কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৯৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13931 مجاہد (رح) اور عطاءؒ ، ایمن حبشی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم میں نہیں کاٹا۔ اس وقت ڈھال کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی۔ ابونعیم

فائدہ : ایمن وہ ایمن بن ام ایمن اور وہ ابن عبید بن عمروخزرجی ہے جو حبشی کے نام سے معروف تھا اور اسامہ زید کا ماں شریک بھائی تھا۔ جنگ حنین میں شہادت نوش کی۔ امام ابن حجر اصابہ میں فرماتے ہیں : ابن ابی خیثمہ فرماتے ہیں : ایمن حبشی اور ایمن ابن ام ایمن میں فرق تھا۔ جنگ حنین میں شہادت نوش کی۔ امام ابن حجر اصابہ میں فرماتے ہیں : ابن ابی خیثمہ فرماتے ہیں : ایمن حبشی اور ایمن ابن ام ایمن میں فرق تھا۔ جنگ حنین میں شہادت نوش کی۔ امام ابن حجرا صابہ میں فرماتے ہیں : ابن ابی خیثمہ فرماتے ہیں : ایمن حبشی اور ایمن ابن ام ایمن میں فرق ہے۔ یہی بات درست ہے۔ اطراف میں فرماتے ہیں : امام شافعی نے اشارہ کیا ہے کہ شریک (راوی) نے اس بات میں غلطی کی ہے کہ ایمن کو ابن ام ایمن کہا جبکہ وہ ایمن الحبشی ہے۔ کیونکہ ایمن ابن ام ایمن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ حنین میں شہید ہوگیا تھا دوسرے ایمن کی ولادت سے قبل ۔ مختصر تہذیب میں ہے ابن عدی فرماتے ہیں : ایمن جو حدیث محجن (مذکورہ حدیث) روایت کرنے والے ہیں وہ ایمن تابعی ہے جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ نہیں پایا، اسی طرح بخاری اور ابن ابی حاتم نے کہا۔ البخاری ، ابن ابی حاتم، ابن حبان
13931- عن مجاهد وعطاء عن أيمن الحبشي قال: لم يقطع النبي صلى الله عليه وسلم السارق إلا في ثمن المجن وكان ثمن المجن يومئذ دينارا أو عشرة دراهم. "أبو نعيم" وقال هو أيمن بن أم أيمن وهو ابن عبيد بن عمرو من بني الخزرج ويعرف بالحبشي أخو أسامة بن زيد لأمه استشهد يوم حنين وقال ابن حجر في الإصابة: قد فرق ابن أبي خيثمة بين أيمن الحبشي وبين أيمن ابن أم أيمن وهو الصواب وقال في الأطراف: أشار الشافعي إلى أن شريكا أخطأ في قوله أيمن ابن أم أيمن وإنما هو أيمن الحبشي فإن أيمن ابن أم أيمن قتل مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم حنين قبل مولد مجاهد وقال في مختصر التهذيب قال "عد" أيمن راوى حديث المجن تابعي لم يدرك زمن النبي صلى الله عليه وسلم وكذا قال2 "خ وابن أبي حاتم حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13932 ایمن الحبشی سے مروی ہے کہ عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہاتھ ڈھال کی قیمت میں کاٹا جاتا تھا۔ الکبیر للطبرانی

کلام : الضعیفۃ 2198 ۔
13932- عن أيمن الحبشي قال: كانت اليد تقطع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثمن المجن. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13933 بسر بن ابی ارطاۃ یا ابن ارطاۃ سے مروی ہے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جنگوں میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔ الحسن بن سفیان و ابونعیم

کلام : ذخیرۃ الحفاظ 6127 ۔
13933- عن بسر بن أبي أرطاة أو ابن أرطاة قال: سمعت رسول الله يقول: لا تقطع الأيدي في الغزو. "الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13934 حارث بن حاطب سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عہد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں چوری کرلی۔ اس کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا ۔ آپ نے فرمایا : اس کو قتل کردو۔ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اس نے فقط چور ی کی ہے۔ آپ نے فرمایا : اس کا (ہاتھ) کاٹ دو ۔ اسی شخص نے پھر حضرت ابوبکر (رض) کے عہد خلافت میں چوری کی۔ آپ (رض) نے بھی اس کا (پاؤں) کاٹ دیا۔ اس نے پھر چوری کی اس طرح چار مرتبہ اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے۔ اور وہ بالکل بےدست وپا ہوگیا۔ پھر اس نے پانچویں بار چوری کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کو بخوبی جانتے تھے۔ جب آپ نے اس کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ بس اب اس کو لے جاؤ اور قتل کردو۔ حارث کہتے ہیں چنانچہ ہم نے اس کو قتل کردیا۔ الحسن بن سفیان، مسند ابی یعلی، الشاشی، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، ابونعیم ، السنن لسعید بن منصور
13934- عن الحارث بن حاطب قال: سرق رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتي به النبي صلى الله عليه وسلم فقال: اقتلوه، فقالوا: يا رسول الله إنما سرق فقال: اقطعوه، ثم سرق على عهد أبي بكر فقطعه، ثم سرق أيضا فقطع أربع مرات، حتى قطع قوائمه كلها، ثم سرق الخامسة فقال أبو بكر: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم بهذا حين أمر بقتله، اذهبوا به فاقتلوه، فقتلناه. "الحسن بن سفيان ع والشاشي طب ك وأبو نعيم ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13935 حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور کو لایا گیا۔ آپ کو عرض کیا گیا یہ انصار کا ایک آدمی ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور مال نہیں ہے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کو دوبارہ لایا گیا تو آپ نے پھر چھوڑ دیا پھر اس کو (اسی جرم میں) تیسری بار لایا گیا آپ نے پھر چھوڑ دیا۔ پھر چوتھی بار بھی چھوڑ دیا۔ پھر جب پانچویں بار اس کو لایا گیا تو آپ نے اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا پھر چھٹی بار لایا گیا تو اس کا (بایاں) پاؤں کاٹ دیا۔ پھر ساتویں بار لایا گیا تو اس کا دوسرا ہاتھ کاٹ دیا پھر آٹھویں بار اس کا دوسرا پاؤں بھی کاٹ دیا اور پھر فرمایا : چار چار کے بدلے۔ ھانرون فی المسند ، ابونعیم
13935- عن الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بسارق فقيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إنه لناس من الأنصار ما لهم مال غيره، فتركه، ثم أتى به الثانية، فتركه، ثم أتي به الثالثة، فتركه، ثم أتي به الرابعة، فتركه، ثم أتي به الخامسة فقطع يمينه، ثم أتي به السادسة فقطع رجله، ثم أتي به السابعة، فقطع يده، ثم أتي به الثامنة فقطع رجله، ثم قال: أربع بأربع. "هارون في المسند وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13936 زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے فرمایا : کھلے عام کسی کا مال اچکنے میں (ہاتھ تو) نہیں کاٹا جائے گا مگر سزا دی جائے گی۔ الجامع لعبد الرزاق
13936- عن زيد بن ثابت قال: الخلسة الظاهرة لا قطع فيها، ولكن نكال وعقوبة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13937 ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ڈھال کی چوری میں چور کا ہاتھ کاٹا اس ڈھال کی قیمت تین درہم تھی۔ الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13937- عن ابن عمر قال: قطع النبي صلى الله عليه وسلم يد سارق في مجن قوم ثلاثة دراهم.

"عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13938 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگے سے (عاریت پر) لے جاتی تھی پھر انکار کردیتی تھی۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔

الجامع لعبد الرزاق
13938- عن ابن عمر قال كانت مخزومية تستعير المتاع وتجحده فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقطع يدها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৩৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13939 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈھال میں (ہاتھ) کاٹا۔

ابن النجار
13939- عن ابن عمر قال: قطع رسول الله صلى الله عليه وسلم في محجن "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13940 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چور کا ہاتھ ڈھال کی چوری میں کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابن عساکر
13940- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قطع سارقا في مجن قيمته ثلاثة دراهم.

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13941 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ڈھال میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابن عساکر
13941- عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قطع في مجن ثمنه ثلاثة دراهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13942 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے فرمایا : ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر ایک دینار میں یا دس درہم میں۔ مصنف عبدالرزاق
13942- عن ابن مسعود قال: كان لا تقطع اليد إلا في دينار أو عشرة دراهم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13943 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ مجھے یحییٰ بن سعید نے بتایا کہ حضرت سعید بن المسیب (رح) فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک عورت لائی گئی۔ یہ عورت قریش کے بڑے گھروں میں سے ایک گھر کا حوالہ دے کر کئی گھروں میں گئی اور بولی فلاں فلاں گھر والے تم سے یہ یہ چیزیں عاریت پر مانگتے ہیں۔ لوگوں نے اس کو مطلوبہ مال دیدیا۔ پھر یہ لوگ فلاں گھر میں گئے لیکن انھوں نے سرے سے انکار کردیا کہ انھوں نے کوئی چیز عاریت پر نہیں مانگی پھر اس عورت سے بات کی تو اس نے اس بات سے انکار کردیا کہ اس نے کوئی چیز نہیں لی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔

ابن جریج ابن المنکدر سے روایت کرتے ہیں کہ پھر اس عورت کو اسید بن حضیر کی بیوی نے اپنے گھر میں پناہ دی۔ اسید جب گھر آئے تو دیکھا کہ ان کی بیوی نے اس عورت کو گھر ٹھہرا رکھا ہے۔ انھوں نے کہا : میں کپڑے نہیں رکھوں گا جب تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق نہ پوچھ آؤں۔ چنانچہ انھوں نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری بیوی نے اس پر ترس کھایا ہے اللہ اس پر ترس کھائے۔ الجامع لعبد الرزاق
13943- عن ابن جريج قال: أخبرني يحيى بن سعيد أنه سمع سعيد بن المسيب يقول: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بامرأة في بيت عظيم من بيوت قريش، قد أتت ناسا، فقالت: إن آل فلان يستعيرونكم كذا وكذا فأعاروها، فأتوا أولئك، فأنكروا أن يكونوا استعاروهم، وأنكرت هي أن تكون استعارتهم، فقطعها النبي صلى الله عليه وسلم، وقال ابن جريج عن ابن المنكدر قال: آوتها امرأة أسيد بن حضير فجاء أسيد فإذا هي قد آوتها، فقال: لا أضع ثوبي حتى آتي النبي صلى الله عليه وسلم فجاءه فذكر ذلك له، فقال: رحمتها رحمها الله. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13944 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب چور ڈھال کی قیمت کے برابر قیمت کی کوئی شے چوری کرلے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس وقت ڈھال کی قیمت دس درہم ہوا کرتی تھی۔ الجامع لعبد الرزاق
13944- عن ابن المسيب قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إذا سرق السارق ما يبلغ ثمن المجن قطعت يده وكان ثمن المجن عشرة دراهم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13945 عروہ (رح) سے مروی ہے کہ کسی چور کا عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ڈھال یا ترکش سے کم قیمت والی چیز میں ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔ اور اس وقت دونوں میں سے ہر ایک بڑی قیمت والی چیز ہوتی تھیں۔ اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ہلکی چیزوں میں کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔

مصنف عبدالرزاق
13945- عن عروة أن سارقا لم يقطع في عهد النبي صلى الله عليه وسلم في أدنى من محجن وحجفة أو ترس وكل واحد منهما يومئذ ذو ثمن وإن السارق لم يكن يقطع في عهد النبي صلى الله عليه وسلم في الشيء التافه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13946 حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چور کا ہاتھ ڈھال کی چوری میں کاٹا ہے اور ڈھال ان دنوں بڑی قیمت والی چیز ہوتی تھی۔ الجامع لعبد الرزاق
13946- عن عروة قال: قطع النبي صلى الله عليه وسلم يد سارق في المحجن والمحجن يومئذ ذو ثمن. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد السرقہ۔۔۔چوری کی حد
13947 محمد بن المنکدر سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چور کا (ہاتھ) کاٹا پھر اس (کے داغنے) کا حکم ارشاد فرمایا ۔ تو اس کو داغ دیا گیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو حکم دیا ۔ کہ اللہ کے آگے توبہ کرو۔ اس نے کہا : میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا : اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : چور کا جب ہاتھ کاٹا جاتا ہے تو اس کا کٹا ہوا ہاتھ جہنم میں چلا جاتا ہے۔ پھر اگر وہ دوبارہ چوری کرتا ہے تو دوسرا (پاؤں) بھی اس کے پیچھے چلا جاتا ہے اور اگر وہ توبہ تائب رہتا ہے تو پہلے جانے والے ہاتھ کو بھی واپس کھینچ لیتا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
13947- عن محمد بن المنكدر أن النبي صلى الله عليه وسلم قطع سارقا ثم أمر به فحسم، ثم قال: تب إلى الله قال أتوب إلى الله قال: اللهم تب عليه، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن السارق إذا قطعت يده وقعت في النار، فإن عاد تبعها، وإن تاب استشلاها يعني استرجعها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13948 (مسند ابن مسعود (رض)) ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ دراہم میں (ہاتھ) کاٹا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13948- "مسند ابن مسعود رضي الله عنه" أن النبي صلى الله عليه وسلم قطع في خمسة دراهم.

"ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৪৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13949 (مسند عمر (رض)) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک چور لایا گیا۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے کبھی چوری نہیں کی۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو ارشاد فرمایا : تو جھوٹ بولتا ہے : عمر کے رب کی قسم ! اللہ نے کبھی کسی بندے کو پہلے گناہ پر نہیں پکڑا اور اس کا ہاتھ کٹوادیا۔ السنن للبیہقی

فائدہ : حافظ ابن حجراطراف میں فرماتے ہیں : اس روایت کو ابن وھب نے اپنی جامع میں روایت کیا ہے۔ یہ روایت درحقیقت موقوف ہے اور اس کا مرفوع الی التبی کا حکم اس کی سند کی صحت کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔ اور اسی کے ہم معنی روایت قرۃ بن عبدالرحمن عن عبدالرحمن عن ابن شہاب عن ابی بکر وھو منقطع ، انتہی۔
13949- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أنس قال: أتي عمر بن الخطاب بسارق، فقال: والله ما سرقت قط، فقال له عمر: كذبت ورب عمر ما أخذ الله عبدا عند أول ذنب فقطعه. "ق" قال الحافظ بن حجر في أطرافه رواه ابن وهب في جامعه وهو موقوف حكمه الرفع لنبيه لصحة سنده وروى معناه عن قرة بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن عن ابن شهاب عن أبي بكر وهو منقطع انتهى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13950 سنان بن سلمۃ سے مروی ہے کہ میں بچوں کے ساتھ ڈو کے (ناپختہ کھجور) چن رہا تھا، اتنے میں حضرت عمر (رض) تشریف لے آئے لو گڑ کے بھاگ کھڑے ہوئے اور میں کھڑا رہا۔ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! یہ ہوا لے گری ہوئی کھجوریں ہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے دکھا۔ مجھے پتہ چل جائے گا۔ میں نے آپ کو ڈو کے کھجوریں دکھائیں تو آپ نے فرمایا : تم سچ کہتے ہو۔ پھر آپ چلنے لگے تو میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ ان بچوں کو دیکھ رہے تھے ابھی۔ جب آپ مجھے چھوڑ کر چلے جائیں گے تو یہ آکر مجھ سے میری کھجوریں چھین لیں گے ۔ چنانچہ آپ (رض) میرے ساتھ چل پڑے حتیٰ کہ میں اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ ابن سعد ، مصنف ابن ابی شیبہ
13950- عن سنان بن سلمة قال: كنت في أغيلمة نلقط البلح، فجاءنا عمر فسعى الغلمان فقمت، فقلت: يا أمير المؤمنين، إنه مما ألقت

الريح، فقال: أرنيه فإنه لا يخفى علي، فلما أريته إياه، قال: صدقت انطلق، قلت: يا أمير المؤمنين ترى هؤلاء الغلمان الساعة فإنك إذا انصرفت عني انتزعوا ما معي فمشى معي حتى بلغت مأمني. "ابن سعد ش".
tahqiq

তাহকীক: