কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৫৬ টি

হাদীস নং: ১৩৯৫১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13951 یحییٰ بن جعدہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو پیالہ چراتے ہوئے دیکھا ۔ آپ نے فرمایا اس شخص کو اس بات سے شرم نہیں آتی کہ یہ قیامت کے دن اس برتن کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ مصنف عبدالرزاق
13951- عن يحيى بن جعدة أن عمر بن الخطاب رأى رجلا يسرق قدحا، فقال: ألا يستحي هذا أن يأتي بإناء يحمله يوم القيامة على رقبته؟ "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13952 عبداللہ بن ابی عامر سے مروی ہے کہ میں ایک قافلہ کے ساتھ جارہا تھا ۔ میرا ایک (کپڑے رکھنے کا بیگ) تھیلا چوری ہوگیا۔ ہمارے ساتھ ایک آدمی تہمت زدہ مشہور تھا۔ میرے دوستوں نے اس کو کہا : اے فلانے اس کا تھیلا لوٹا دو ۔ اس نے کہا : میں نے نہیں لیا۔ عبداللہ کہتے ہیں : چنانچہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس واپس آیا اور آپ (رض) کو ساری خبر سنائی۔ آپ نے پوچھا : تم کتنے افراد ہو۔ میں نے ان کو گنوادیا۔ آپ نے فرمایا : میرا بھی گمان یہی ہے کہ جو مہتم ہے اس نے تھیلا اٹھایا ہوگا۔ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین میرا خیال ہے میں اس کو بیڑی ڈال کر آپ کے حضور حاضر کردوں۔ آپ فرمانے لگے : تو بغیر گواہوں کے باندھ کر کیسے لاسکتا ہے میرے پاس (یہ تو جائز نہیں) نہیں ، میں ایسا لکھ کر نہیں دے سکتا اور نہ اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ آپ (رض) (میری بات پر) غصہ ہوگئے اور نہ اس کے متعلق مجھے کچھ لکھ کردیا اور نہ اس سے پوچھ تاچھ فرمائی۔ مصنف عبدالرزاق
13952- عن عبد الله بن أبي عامر قال: انطلقت في ركب فسرقت عيبة لي ومعنا رجل يتهم، فقال أصحابي: يا فلان أدعيبته فقال: ما أخذتها، فرجعت إلى عمر بن الخطاب، فأخبرته، فقال: كم أنتم فعددتهم، فقال: أظنه صاحبها الذي أتهم، فقلت: لقد أردت يا أمير المؤمنين أن آتى به مصفودا فتقول: أتاني به مصفودا بغير بينة قال: لا أكتب لك فيها ولا سأل عنها. قال: فغضب فما كتب لي فيها ولا سأل عنها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13953 حمران سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) کے پاس ایک چور کو لایا گیا (آپ (رض)) نے اس کو (دیکھ کر) فرمایا : تو اتنا خوبصورت انسان ہے، تیرے جیسا آدمی تو چوری نہیں کرتا۔ کیا تو کچھ قرآن پڑھا ہوا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، سورة البقرہ۔ الزبیر بن بکار فی الموقرفات
13953- عن حمران قال أتى عثمان بسارق فقال: أراك جميلا ما مثلك يسرق فهل تقرأ من القرآن شيئا؟ قال: نعم سورة البقرة. "الزبير بن بكار في الموقوفات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13954 (مسند علی (رض)) ابن عبید بن الابرص سے مروی ہے کہ میں حضرت علی (رض) کے پاس حاضر خدمت تھا۔ ایک شخص لایا گیا جس نے کسی کا کپڑا اچک لیا تھا۔ اس اچکنے والے نے عرض کیا میری اس آدمی کے ساتھ جان پہچان ہے (اور میں مذاق کررہا تھا) چنانچہ حضرت علی (رض) نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
13954- "مسند علي رضي الله عنه" عن ابن عبيد بن الأبرص قال: شهدت عليا أتي برجل اختلس من رجل ثوبا، فقال المختلس: إني كنت أعرفه فلم يقطعه علي. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13955 خلاس سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) اچکنے میں نہیں کاٹتے تھے، ہاں خفیہ چوری میں کاٹتے تھے۔ السنن للبیہقی
13955- عن خلاس أن عليا كان لا يقطع في الدغرة، ويقطع في السرقة المستخفي بها. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13956 عکرمہ بن خالد المخزومی سے مروی ہے کہ اسید بن ظہیر الانصاری (رض) نے ان کو بیان کیا کہ وہ یمامہ کے عامل (گورنر) تھے۔ مردان نے ان کو لکھ کر بھیجا کہ جس شخص کی کوئی شے چوری ہوجائے وہ جہاں بھی اس کو پائے اس کو لینے کا حقدار ہے۔ میں نے مروان کو لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ اگر چور سے خریدنے والا شخص غیر مہتم ہے (شریف اور معزز انسان ہے) تو مالک کو اختیار ہے، چاہے قیمت دے کر اس سے اپنا مال لے لے۔ ورنہ اصل چور کو تلاش کرے۔ پھر اسی کے مطابق ابوبکر (رض) ، عمر (رض) ، عثمان (رض) نے فیصلے کیے۔ یہ بات مروان نے پڑھ کر حضرت امیر معاویہ (رض) کو لکھ بھیجی۔ حضرت معاویہ نے مروان کو لکھا : تو اور اسید مجھ پر فیصلہ تھونپنے والے نہیں ہو۔ میں جو چاہوں تم کو حکم دوں گا ۔ لہٰذا میں نے جیسا تم کو حکم دیا ہے اس کو نافذ کرو۔ پھر مروان نے معاویہ کا خط مجھے بھیج دیا۔ میں نے کہا : میں اپنی حکمرانی میں معاویہ کے کہے پر فیصلے کا نفاذ نہیں کرسکتا (سبحان اللہ) ۔ الکبیر للطبرانی، الحسن بن سفیان

اس روایت کی سند صحیح ہے۔
13956- عن عكرمة بن خالد المخزومي أن اسيد بن ظهير الأنصاري حدثه أنه كان عاملا على اليمامة، وأن مروان كتب إليه أيما رجل سرقت منه سرقة فهو أحق بها حيث ما وجدها، فكتب بذلك مروان إلي فكتبت إلى مروان، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بأنه إذا كان الذي ابتاعها من الذي سرقها غير متهم فخير سيدها فإن شاء أخذ ما سرق منه بثمنه أو أتبع سارقه، ثم قضى بذلك بعد أبو بكر وعمر وعثمان فكتب بذلك مروان إلى معاوية، فكتب معاوية إلى مروان: لست أنت وأسيد بقاضيين علي ولكني قضيت عليكما فيما وليت عليكما فانفذ لما أمرتك فبعث مروان بكتاب معاوية إلي، فقلت: لست أقضي ما وليت بما قال معاوية. "طب والحسن بن سفيان" وسنده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13957 سالم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنے گھر میں چور کو پکڑ لیا آپ (رض) نے اس پر تلوار سونت لی۔ اگر ہم آپ کو نہ روکتے تو آپ اس کا کام تمام کردیتے۔ مصنف عبدالرزاق
13957- عن سالم قال: أخذ ابن عمر لصا في داره فأصلت عليه بالسيف فلولا أنا نهينا عنه لضربه به. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13958 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اسلام میں یا فرمایا مسلمانوں میں سب سے پہلے جس کا (ہاتھ) کاٹا گیا وہ ایک انصاری شخص تھا۔ النسائی
13958- عن ابن مسعود قال: أول من قطع في الإسلام أو من المسلمين رجل من الأنصار.

"ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৫৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13959 حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کفن چور مرد اور عورت پر لعنت ہے۔ مصنف عبدالرزاق
13959- عن عائشة قالت: لعن المختفي والمختفية "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل السرقہ۔۔۔چوری کے بیان میں
13960 حضرت حسن سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور لایا گیا جس نے طعام چوری کیا تھا آپ نے اس کا (ہاتھ) نہیں کاٹا۔ مصنف عبدالرزاق
13960- عن الحسن قال أتي النبي صلى الله عليه وسلم بسارق سرق طعاما فلم يقطعه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13961 (مسند ابی بکر (رض)) حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایسے آدمی کے متعلق ارشاد فرمایا جو دوسرے کو خبیث ، فاسق کہے کہ اگر اس نے بری بات کہی ہے مگر اس میں سزا ہے اور نہ حد۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13961- "مسند أبي بكر رضي الله عنه" عن الحسن أن أبا بكر قال في الرجل يقول للرجل: يا خبيث يا فاسق، قد قال قولا سيئا وليس فيه عقوبة ولا حد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13962 عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر اور حضرت عثمان بن عفان (رض) اجمعین غلام کو تہمت پر چالیس کوڑے ہی مارتے تھے پھر میں نے ان کو زیادہ بھی مارتے ہوئے دیکھا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13962- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: كان أبو بكر الصديق وعمر بن الخطاب وعثمان بن عفان لا يجلدون العبد في القذف إلا أربعين، ثم رأيتهم يزيدون على ذلك. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13963 ابن جریج (رح) اور ابن ابی سبرہ (رح) سے مروی ہے کہ دو آدمی حضرت ابوبکر (رض) کے سامنے گالی گلوچ ہوئے مگر آپ نے ان کو کچھ نہیں کہا (یعنی حد تہمت جاری نہیں فرمائی) اور دو آدمی حضرت عمر (رض) کے سامنے گالی گلوچ ہوئے تو آپ نے ان کو تادیب فرمائی (یعنی کچھ سزا دی) ۔

الجامع لعبد الرزاق ، السنن للبیہقی
13963- عن ابن جريج وابن أبي سبرة قالا: تشاتم رجلان عند أبي بكر، فلم يقل لهما شيئا، وتشاتما عند عمر فأدبهما. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13964 عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوبکر، عمر، عثمان (رض) اور ان کے بعد بھی کئی خلفاء کو پایا یہ سب حضرات غلام کو تہمت پر چالیس کوڑے مارتے تھے۔

الجامع لعبد الرزاق، ابن سعد عن سعید بن المسیب
13964- عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: أدركت أبا بكر وعمر وعثمان ومن بعدهم من الخلفاء لا يضربون المملوك في القذف إلا أربعين. "عب وابن سعد عن سعيد بن المسيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13965 (مسند عمر (رض)) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مرو ی ہے کہ میں نے عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان (رض) اور کئی خلفاء کو پایا، سب ہی غلام کو تہمت پر صرف چالیس کوڑے ہی مارتے تھے (جو آزاد آدمی کی سزا کا نصف ہے) ۔ موطا امام مالک، السنن للبیہقی
13965- "مسند عمر" عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: أدركت عمر بن الخطاب وعثمان والخلفاء هلم جرا، فما رأيت أحدا جلد عبدا في فرية أكثر من أربعين. "مالك هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13966 مکحول (رح) اور عطاءؒ سے مروی ہے کہ حضرت عمر اور حضرت علی (رض) اس غلام کو جو کسی آزاد پر تہمت لگاتا صرف چالیس کوڑے ہی مارتے تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
13966- عن مكحول وعطاء أن عمر وعليا كانا يضربان العبد بقذف الحر أربعين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13967 محمد بن یحییٰ بن حبان سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک لڑکا لایا گیا جس نے اپنے شعر میں کسی باندی پر جھوٹی تہمت لگائی تھی۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس کی ازار (شلوار کھول کر) دیکھو۔ دیکھا تو ابھی اس کے بال نہیں اگے تھے آپ (رض) نے فرمایا اگر اس کے بال اگ آئے ہوتے تو میں اس پر حد تہمت (اسی کوڑے ) جاری کرتا۔

الجامع لعبد الرزاق، ابوعبید فی الغریب، ابن المنذر فی الاوسط، السنن للبیہقی
13967- عن محمد بن يحيى بن حبان أن عمر رفع إليه غلام ابتهر جارية في شعره، فقال: انظروا في مؤتزره فنظروا فلم يجدوه أنبت الشعر فقال: لو انبت الشعر لجلدته الحد. "عب وأبو عبيد في الغريب وابن المنذر في الأوسط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13968 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کسی فحش بات کی تہمت پر حد جاری کرتے تھے۔

الجامع لعبد الرزاق، الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی
13968- عن ابن عمر أن عمر كان يضرب في التعريض بالفاحشة الحد. "عب قط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৬৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13969 عمرۃ بنت عبدالرحمن سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی۔ ایک نے دوسرے کو کہا : میرا باپ زانی ہے اور نہ میری ماں زانیہ۔ حضرت عمر (رض) نے اس کے بارے میں مشاورت فرمائی۔ ایک نے کہا : اس نے تو اپنے باپ اور ماں کی تعریف کی ہے۔ لیکن دوسرے لوگوں نے کہا : اس کو اپنے ماں باپ کی مدح اور الفاظ کے ساتھ کرنا چاہتے تھی۔ لہٰذا ہمارا خیال ہے اس کو حد لگنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو اسی کوڑے لگوائے۔ موطا امام مالک، الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
13969- عن عمرة بنت عبد الرحمن أن رجلين استبا في زمن عمر بن الخطاب قال أحدهما للآخر: ما أبي بزان ولا أمي بزانية، فاستشار في ذلك عمر فقال قائل: مدح أباه وأمه، وقال آخرون: كان لأبيه وأمه مدح سوى هذا نرى أن يجلد الحد، فجلده عمر بن الخطاب ثمانين. "مالك عب هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৯৭০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13970 ابورجاء العطاردی سے مروی ہے کہ حضرت عمر اور عثمان (رض) ہجو (شعروشاعری میں کسی کی برائی کرنے) پر بھی سزا دیتے تھے۔ السنن للبیہقی
13970- عن أبي رجاء العطاردي قال: كان عمر وعثمان يعاقبان على الهجاء. "هق".
tahqiq

তাহকীক: