কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৫৬ টি
হাদীস নং: ১৩৯৭১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13971 ابوبکر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو تہمت لگائی۔ اس نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس اپنا مسئلہ لے کر حاضر ہوا۔ حضرت عمر (رض) نے تہمت لگانے والے کو حد جاری کرنا چاہی تو اس نے کہا : میں اس پر گواہ بھی پیش کرتا ہوں۔ آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔
مصنف ابن ابی شیبہ
مصنف ابن ابی شیبہ
13971- عن أبي بكر أن رجلا قذف رجلا فرفعه إلى عمر بن الخطاب فأراد أن يجلده فقال: انا أقيم البينة فتركه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13972 اسماعیل بن امیہ فرماتے ہیں ایک آدمی نے (اپنے شعر میں) دوسرے کی ہجو (برائی) کی۔ یا اس پر کوئی تعریض (چوٹ) کی۔ اس نے اس کے خلاف حضرت عمر (رض) سے مددطلب کی ۔ ہجو کرنے والے نے کہا : میں نے اس کا نام تو لیا نہیں۔ آدمی نے کہا پھر یہ آپ کو بتائے کہ اس کی ہجو میں کون مراد ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں یہ تو صحیح ہے۔ تو یہ تو اقرار کرچکا ہے کہ تو نے برائی کی ہے اب کس کی ہے اس کو واضح کر۔ لیکن اس نے کسی کا ذکر نہ کیا تو آپ (رض) نے برائی کرنے والے کو حد جاری فرمادی۔ الجامع لعبد الرزاق
13972- عن إسماعيل بن أمية قال: قذف رجل رجلا في هجاء أو عرض له فيه، فاستأدى عليه عمر بن الخطاب فقال: لم أعن هذا، فقال الرجل فليسم لك من عنى، فقال عمر: صدق قد أقررت على نفسك بالقبيح فوركه [التوريك في اليمين نية ينويها الحالف غير ما ينويه مستحلفه] على من شئت، فلم يذكر أحدا فجلده الحد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13973 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عمرو بن العاص کے متعلق خبر پہنچی جو مصر کے گورنر ہیں، انھوں نے قبیلہ تجیب کے ایک شخص جس کو قنبرۃ کہا جاتا تھا منافق کہہ کر پکارا۔ قنبرۃ گورنر کی شکایت لے کر حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا۔ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو اکٹھا کیا ۔ لوگوں نے عمرو بن العاص کے خلاف گواہی دیدی تو انھوں نے بھی اپنے قول کا اعتراف کرلیا۔ حضرت عمر (رض) نے عمرو (رض) کو حکم دیا کہ آپ منبر پر کھڑے ہو کر اپنی بات کو جھٹلائیں۔ حضرت عمرو (رض) نے تعمیل کی پھر قنبرۃ کو اپنے اوپر اختیار دیا (کہ وہ کوڑے مار کر اپنا بدلہ لے لیں) لیکن قنبرۃ نے ان کو اللہ عزوجل کے لیے معاف کردیا۔
13973- عن ابن جريج قال: بلغني عن عمرو بن العاص، وهو أمير مصر أنه قال لرجل من تجيب يقال له قنبرة: يا منافق، فأتى عمر بن الخطاب فكتب عمر إلى عمرو بن العاص: إن أقام البينة عليك جلدتك تسعين فنشد الناس فاعترف عمرو حين شهد عليه زعموا أن عمر قال لعمرو أكذب نفسك على المنبر، ففعل فأمكن عمر وقنبرة من نفسه فعفى عنه لله عز وجل
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13974 زہری (رح) سے مرو ی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک ایسے آدمی کو حد لگائی جس نے ایک آدمی کی ماں پر تہمت لگائی تھی حالانکہ اس کی وہ ماں زمانہ جاہلیت میں (اسلام سے پہلے) مرچکی تھی۔ الجامع لعبد الرزاق
13974- عن الزهري أن عمر بن الخطاب جلد الحد رجلا في أم رجل هلكت في الجاهلية فقذفها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13975 ابوسلمۃ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی کو اس کی ماں کے فحش کام پر عار دلائی جو اس کی ماں نے زمانہ جاہلیت میں کیا تھا۔ آدمی نے حضرت عمر (رض) کو شکایت کی حضرت عمر (رض) نے فرمایا اس پر کوئی حد نہیں۔ الجامع لعبد الرزاق
13975- عن أبي سلمة أن رجلا عير رجلا بفاحشة عملتها أمه في الجاهلية فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: لا حد عليه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13976 یحییٰ بن مغیرۃ سے مروی ہے کہ مخرمۃ بن نوفل نے کسی آدمی کی ماں کے متعلق فحش بات کی اور کہا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں تیری ماں کے ساتھ خلوت گزینی کی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے فرمایا : آئندہ اگر اس کے متعلق اس طرح تیرے بعد کسی نے کوئی فحش بات کی تو میں اس کو کوڑے ماروں گا۔ الجامع لعبد الرزاق
13976- عن يحيى بن مغيرة أن مخرمة بن نوفل افترى على أم رجل في الجاهلية فقال: أنا صنعت بأمك في الجاهلية، وأن عمر بن الخطاب بلغه ذلك، فقال: لا يعود إليها أحد بعدك إلا جلدته. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13977 عبید اللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اس شخص کو کوڑے مارتے تھے جو اہل مدینہ کی عورتوں پر تہمت لگاتا تھا۔ السنن للبیہقی
13977- عن عبيد الله بن عبد الله أن عمر بن الخطاب كان يجلد من يفترى على نساء أهل المدينة. "هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13978 حسن (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو کہا تو اپنی عورت کے ساتھ زنا اور بدکاری کے سوا اور کچھ کرتا ہی نہیں۔ یہ بات حضرت عمر (رض) کو عرض کی : اور بولا : اس نے مجھ پر تہمت لگائی ہے (حضرت عمر (رض)) نے ارشاد فرمایا : اس نے تجھ پر ایسی بات کی تہمت لگائی ہے جو تیرے لیے حلال ہے (حرام نہیں ہے ورنہ ہم اس پر حد تہمت جاری کرتے) ۔ السنن للبیہقی
13978- عن الحسن أن رجلا قال لرجل: ما تأتي امرأتك إلا زنا أو حراما فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: قذفني، فقال: قذفك بأمر يحل لك. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حد قذف۔۔۔تہمت کی حد
13979 (مسند عثمان (رض)) معاویۃ بن قرۃ وغیرہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو کہا : یا ابن شامۃ الوذر (اے) شرمگاہوں کو سونگھنے والی یعنی زانیہ کے بیٹے ! آدمی نے حضرت عثمان (رض) کو شکایت کی۔ گالی دینے والے نے کہا : میرا تو یہ یہ مطلب تھا۔ لیکن پھر بھی حضرت عثمان (رض) نے اس کے لیے حکم ارشاد فرما دیا اور اس کو تہمت کی حد (اسی کوڑے) لگائی گئی۔
ابوعبید فی الغریب ، السنن للذارقطنی
ابوعبید فی الغریب ، السنن للذارقطنی
13979- "مسند عثمان" عن معاوية بن قرة وغيره أن رجلا قال لرجل: يا ابن شامة الوذر2 فاستعدي عليه عثمان بن عفان، فقال: إنما عنيت به كذا وكذا، فأمر به عثمان فجلد الحد. "أبو عبيد في الغريب قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام پر حد تہمت کا بیان
13980 حضرت علی (رض) کے متعلق مروی ہے کہ آپ (رض) نے ایک غلام پر (چالیس کوڑوں کی) حد لگائی جس نے ایک حر (آزاد) کو تہمت لگائی تھی۔ الجامع لعبد الرزاق
13980- عن علي أنه ضرب عبدا افترى على حر أربعين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام پر حد تہمت کا بیان
13981 یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ عکرمۃ نے بیان کیا کہ ایک عورت نے اپنی باندی کو تہمت لگائی اور بولی : اے زانیہ ! حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس عورت سے پوچھا : کیا تو نے اس کو زنا کرتے دیکھا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں تو۔ ابن عمر (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ قیامت کے دن تجھے لوہے کے گرز کے ساتھ اسی کوڑے مارے گی۔
الجامع لعبدالرزاق
الجامع لعبدالرزاق
13981- عن يحيى بن أبي كثير عن عكرمة أن امرأة قذفت وليدتها فقالت لها: يا زانية، فقال عبد الله بن عمر: أرأيتها تزني؟ قالت:لا قال: والذي نفسي بيده لتجلدن لها يوم القيامة ثمانين سوطا بسوط من حديد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کے متعلقات میں
13982 (مسند عمر (رض)) حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے خفیہ شادی کرلی۔ پھر وہ اس عورت کے پاس آنے جانے لگا۔ آدمی کے پڑوسی نے اس کو دیکھ لیا۔ اور اس پر تہمت لگائی۔ آدمی نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مددمانگی۔ حضرت عمر (رض) نے اسی سے پوچھا : کیا تیری شادی پر گواہ ہیں ؟ اس نے کہا : امیر المومنین ! ایسا معاملہ تھا کہ میں اس کے گھر والوں کو مطلع نہ کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے تہمت لگانے والے سے حد معاف کردی اور شادی کرنے والے کے متعلق فرمایا : اپنی عورتوں کی شرمگاہوں کو پاکدامن رکھو اور نکاح علی الاعلان (کھلے عام) کیا کرو۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13982- "مسند عمر" عن الحسن أن رجلا تزوج امرأة سرا، فكان يختلف إليها فرآه جار له فقذفه بها، فاستعدى عليه عمر بن الخطاب فقال له: بينتك على تزويجها، فقال: يا أمير المؤمنين كان أمر دون ما شهدت عليها أهلها، فدرأ عمر الحد عن قاذفه، وقال: حصنوا فروج هذه النساء وأعلنوا هذا النكاح. "ص ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کے متعلقات میں
13983 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے خفیہ شادی کی۔ ایک آدمی نے اس کو کہا : میں تجھے فلانی کے پاس آتا جاتا دیکھتا ہوں، تو اس کے ساتھ بدکاری میں ملوث ہے ؟ اس نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو شکایت پیش کی اور عرض کیا وہ میری بیوی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کے تہمت لگانے والے کو حد نہیں لگائی۔ ایک تو شادی کے خفیہ ہونے کی وجہ سے دوسرے تہمت حلال عورت کے ساتھ لگائی تھی نہ کہ حرام۔ السنن لسعید بن منصور
13983- عن الحسن أن رجلا تزوج سرا فقال له رجل: أراك تدخل على فلانة، إنك لتزني بها، فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: هي امرأتي فلم يجلد عمر القاذف. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کے متعلقات میں
13984 عطاءؒ (اور ابراہیم (رح)) سے مروی ہے کہ ایک آدمی کے پاس کوئی یتیم لڑکی رہا کرتی تھی۔ آدمی کی بیوی کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں اس کا آدمی اس لڑکی سے شادی نہ کرلے۔ چنانچہ اس نے اپنی انگلی کے ساتھ لڑکی کا پردہ بکارت پھاڑ دیا اور اپنے شوہر کے سامنے اس پر الزام عائد کیا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ لڑکی بولی : تو جھوٹ بولتی ہے پھر اس نے اصل بات اس کے شوہر کو بتادی۔ آدمی نے یہ معاملہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی بارگاہ میں پیش کیا۔ ان کے پاس ان کے فرزند اکبر حضرت حسن (رض) بھی حاضر خدمت تھے۔ آپ (رض) نے اپنے بیٹے حسن سے فرمایا : تم کیا کہتے ہو اس کے فیصلے کے بارے میں ؟ حضرت حسن (رض) نے فرمایا : عورت پر حد (تہمت) لگائی جائے کیونکہ اس نے ایک (معصوم) لڑکی پر تہمت عائد کی اور اس کے ساتھ اس پر لڑکی کے مہر کا تاوان بھی لازم کیا جائے کیونکہ اس نے اس کا پردہ بکارت زائل کیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا :
لو علمت الا بل طحینا لطحنت وما طحنت الا بل حینئذ۔
اگر اونٹوں کو پیسنا آتا تو وہ پیستے لیکن اونٹوں نے اس وقت کچھ نہیں پیسا۔
(واللہ اعلم بمرادہ) پھر حضرت علی (رض) نے حسن (رض) کے فیصلے کے ساتھ فیصلہ صادر فرمادیا۔
الجامع لعبد الرزاق
لو علمت الا بل طحینا لطحنت وما طحنت الا بل حینئذ۔
اگر اونٹوں کو پیسنا آتا تو وہ پیستے لیکن اونٹوں نے اس وقت کچھ نہیں پیسا۔
(واللہ اعلم بمرادہ) پھر حضرت علی (رض) نے حسن (رض) کے فیصلے کے ساتھ فیصلہ صادر فرمادیا۔
الجامع لعبد الرزاق
13984- عن عطاء وإبراهيم أن رجلا كانت عنده يتيمة فخشيت امرأته أن يتزوجها فافتضتها بأصبعها وقالت: لزوجها زنت وقالت الجارية: كذبت وأخبرته الخبر فرفع شأنها إلى علي، فقال للحسن: قل فيها، قال: أن تجلد الحد لقذفها إياها وأن تغرم الصداق لافتضاضها، فقال علي: كان يقال لو علمت الإبل طحينا لطحنت وما طحنت الإبل حينئذ فقضى بذلك علي. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کے متعلقات میں
13985 عبداللہ بن رباح سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یوں نہ کہو اہل شام نے کفر کیا بلکہ کہو : انھوں نے فسق وفجور کیا اور ظلم کیا۔ السنن للبیہقی
13985- عن عبد الله بن رباح أن عليا قال: لا تقولوا كفر أهل الشام ولكن قولوا: فسقوا وظلموا. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کے متعلقات میں
13986 حضرت علی (رض) سے منقول ہے کہ ار ایک آدمی دوسرے کو اے کافر ! اے خبیث ! اے فاسق ! اے گدھے ! (وغیرہ) کہے تو اس پر کوئی مقرر حد نہیں بلکہ حاکم اپنی رائے کے ساتھ جو چاہے سزادیدے۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
13986- عن علي في الرجل يقول للرجل: يا كافر يا خبيث يا فاسق يا حمار قال ليس عليه حد معلوم، يعزر الوالي بما رأى. "ص ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کے متعلقات میں
13987 عبداللہ بن ابی حدرد (اسلمی) سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک انصاری کو گالی دی، اے یہودی ! ان کو انصاری نے اے اعرابی ! (اے دیہاتی ! ) کہا۔ پھر وہ انصاری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گیا اور میرے متعلق شکایت کی ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : میرا خیال ہے تم نے بھی اس کو دوسرا کچھ کہہ لیا ہے۔ یعنی اعرابی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حالانکہ وہ اعرابی نہیں ہے اور تم یہودی نہیں ہو۔ ابن عساکر
13987- عن عبد الله بن أبي حدرد أنه ساب رجلا من الأنصار، فقال للأنصاري: يا يهودي، فقال له الأنصاري: يا أعرابي، قال فأتى الأنصاري رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحدثه بالذي قال الأسلمي، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أراك قلت له الأخرى، قال له: يا أعرابي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فليس بأعرابي ولست؟؟ بيهودي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت کے متعلقات میں
13988 معاویہ بن ابی سفیان (رض) کے متعلق مروی ہے کہ انھوں نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا : اپنی نمازوں میں اپنے چہروں اور صفوں کو سیدھا رکھو۔ صدقہ خیرات کرو اور کوئی آدمی یوں نہ کہے : میرے پاس تھوڑا مال ہے، کوئی چیز میرے پاس نہیں ہے۔ بیشک تھوڑے مال والے کا صدقہ اللہ کے نزدیک زیادہ مال والے کے صدقے سے افضل ہے۔ اور کوئی شخص (کسی کے متعلق بات کرتے ہوئے) یوں نہ کہے : میں نے (کسی سے) سنا ہے، مجھے خبر ملی ہے۔ اللہ کی قسم ! اس کو ایسی بات پر پکڑا جائے گا۔ خواہ وہ عہد نوح کے کسی فرد کے متعلق کچھ کہے۔ ابن عساکر
13988- عن معاوية بن أبي سفيان أنه خطب فقال: أقيموا وجوهكم وصفوفكم في صلاتكم، وتصدقوا ولا يقول الرجل: إني مقل لا شيء لي فإن صدقة المقل أفضل عند الله من صدقة المكثر، إياكم وقذف المحصنات ولا يقولن أحدكم سمعت وبلغني فوالله ليؤخذن به، ولو كان قيل في عهد نوح. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13989 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ میں نے عطاءؒ سے سنا ہے کہ پہلے لوگوں میں کوئی چور لایا جاتا تو اس کو امیر کہتا : کیا تو نے چوری کی ہے ؟ کہہ دے نہیں۔ کیا تو نے چوری کی ہے ؟ بول : نہیں۔ ابن جریج (رح) کہتے ہیں میرا خیال ہے عطاءؒ نے امیر کا نام ابوبکر اور عمر (رض) لیا تھا۔
الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13989- عن ابن جريج قال: سمعت عطاء يقول: كان من مضى يؤتى أحدهم بالسارق فيقول: أسرقت؟ قل: لا، أسرقت؟ قل: لا، علمي أنه سمي أبو بكر وعمر. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود کے متعلقات میں
13990 محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر چور، زانی اور شرابی پر پردہ ڈالنے کے لیے مجھے اپنے کپڑے کے سوا کوئی کپڑا نہ ملے تو میں اپنا کپڑا اس پر ڈال دوں گا (اور حتیٰ الوسع اس کی پردہ پوشی کروں گا) ۔
الجامع لعبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
الجامع لعبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
13990- عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان قال: قال أبو بكر الصديق: لو لم أجد للسارق والزاني وشارب الخمر إلا ثوبي لأحببت أن أستره عليه. "عب ش".
তাহকীক: