কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৭৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری نوع
11757 ۔۔۔ یزید بن اسد فرماتے ہیں کہ وہ دمشق سے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے اور پوچھا کہ یا امیر المومنین آپ میں سے شہید کون ہوتے ہیں ؟ تو فرمایا کہ شہید وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور قتل ہوجائے، اور تم بتاؤ جو شخص اپنی طبعی موت مرجائے تو تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو حالانکہ تم اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے، عرض کیا، کہ ہم کہتے ہیں کہ بندہ تھا نیک عمل کیا اور اپنے رب سے جاملا، وہ اس پر ظلم نہ کرے گا عذاب دے گا جسے عذاب دینا ہوگا اس کے خلاف حجت پوری ہونے کے بعد یا معذرت کے بعد یا معافی کے بعد، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو، جو زمین میں فساد کرتا ہوا ذمیوں پر ظلم کرتا ہوا امام کی نافرمانی کرتا ہوا مال میں خیانت کرتا ہواجہاد میں آیا دشمن کا سامنا کیا اور قتال کیا پھر قتل ہوگیا تو وہ شہید نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کبھی اس کے دشمن کو نیکی اور فاجر کے ساتھ بھی عذاب دیتے ہیں رہا وہ جو اپنی طبعی موت مرگیا اور تم اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتے یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا انبیاء اور صدیقوں میں سے۔ (سورة النساء، بریت 69، ابو العباس فی جزء من حدیثہ)
11761- عن يزيد بن أسد أنه قدم على عمر بن الخطاب من دمشق فقال: ما الشهداء فيكم يا أمير المؤمنين؟ فقال: الشهداء من قاتل في سبيل الله حتى يقتل، فما تقولون فيمن مات حتف أنفه لا تعلمون منه إلا خيرا؟ قال نقول عبد عمل خيرا ولقي ربا لا يظلمه يعذب من عذب بعد الحجة عليه والمعذرة فيه أو يعفو عنه، فقال: عمر كلا والله ما هو كما تقولون من مات مفسدا في الأرض ظالما للذمة عاصيا للإمام غالا للمال ثم لقي العدو فقاتل فقتل فهو غير شهيد ولكن الله قد يعذب عدوه بالبر والفاجر وأما من مات حتف أنفه لا تعلمون منه إلا خيرا، فكما قال الله تعالى: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ} الآية. "أبو العباس الأصم في جزء من حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری نوع
11758 ۔۔۔ ربیع بن ایاس الانصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبر الانصاری کے بھتیجے کے پاس آئے جن کی وفات ہورہی تھی ان کے گھر والے رونے لگے، جبر نے کہا کہ اپنی آوازوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت نہ پہنچاؤ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، ان عورتوں کو رونے دو ، سو جب ان کی وفات ہوجائے گی تو وہ خاموش ہوجائیں گی، بعض لوگوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ آپ کی وفات اپنے بستر پر ہوگی ہمارا خیال تھا کہ آپ اللہ کے راستے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کرتے ہوئے قتل ہوں گے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اور شہادت پھر کس کو کہتے ہیں ؟ علاوہ اللہ کے راستے میں قتل ہونے کے اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوجائیں گے نیزے سے قتل ہونا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے، اور وہ عورت جو اپنے نفاس میں مرے وہ بھی شہید ہے، جل کر مرنے والا بھی شہید ہے، کسی عمارت وغیرہ کے نیچے دب کر مرنے والا بھی شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے اور ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے۔ (طبرانی)
11762- عن ربيع بن إياس الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاد ابن أخي جبر الأنصاري، فجعل أهله يبكون عليه، فقال لهم جبر: لا تؤذوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصواتكم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعهن فليبكين ما دام حيا، فإذا وجب فليسكتن، فقال بعضهم، ما كنا نرى أن يكون موتك على فراشك حتى تقتل في سبيل الله مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أو ما الشهادة؟ إلا القتل في سبيل الله، إن شهداء أمتي إذا لقليل، إن الطعن شهادة، والبطن شهادة، والنفساء بجمع شهادة والحرق شهادة، والهدم شهادة، والغرق شهادة، وذات الجنب شهادة. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ مقتولوں کے احکام میں
11759 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد اور ماموں غزوہ احد میں شہید ہوئے میں نے ان کو اپنے اونٹ پر اٹھایا اور لے کر مدینہ منورہ آیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ مقتولوں کو اسی جگہ لے جاؤ جہاں وہ قتل ہوئے۔ (ابن النجار)
11763- عن جابر قال: قتل أبي وخالي يوم أحد فحملتهما على بعير فأتيت بهما المدينة فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ردوا القتلى إلى مصارعهم. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ جہاد کے متعلقات میں
باغیوں کا قتل
باغیوں کا قتل
حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ عرینہ سے مدینہ منورہ آئے لیکن وہاں کی آب وہوا ان کو راس نہ آئی اور وہ بیمارپڑ گئے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ اگر چاہو تو وہاں چلے جاؤ جہاں صدقہ کے اونٹ ہیں، وہاں جا کر ان کے پیشاب اور دودھ پیو چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور بھلے چنگے ہوگئے چنانچہ پھر وہ چرواہوں کی طرف متوجہ ہوئے ان کو قتل کردیا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹوں کو ہانک کرلے گئے، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹوں کو ہانک کرلے گئے، اور اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کفر اختیار کرلیا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو بھیجا، ان کو پکڑ کر لایا گیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ہاتھ پیر کٹوادئیے اور ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادیں اور انھیں گرم ریگستان میں پھنکوا دیا گیا جہاں وہ مرگئے۔ (مصنف عبدالرزاق)
11764- عن أنس بن مالك قال، قدم ناس من عرينة المدينة فاجتووها، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن شئتم أن تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من أبوالها وألبانها ففعلوا واستصحوا فمالوا على الرعاء فقتلوهم واستاقوا ذود رسول الله صلى الله عليه وسلم وكفروا بعد إسلامهم فبعث في آثارهم فأتى بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم وتركوا بالحرة حتى ماتوا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ جہاد کے متعلقات میں
باغیوں کا قتل
باغیوں کا قتل
11760 ۔۔۔ حضرت قتادہ (رض) حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ کچھ لوگ عکل اور عرینہ سے اسلام کا اظہار کرتے ہوئے آئے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ وہ لوگ دودھ پینے والے ہیں کسی سرسبز و شاداب زمین سے نہیں آئے چنانچہ مدینہ ان کو راس نہیں آیا اور انھوں نے اس کے بخار کی شکایت کی، چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے اونٹنی کا حکم دیا اور ایک چرواہے کا اور انھیں حکم دیا کہ وہ مدینہ سے نکل کر ان اونٹنیوں کا پیشاب اور دودھ پئیں سو وہ چل پڑے جب وہ گرم ریگستان کے کنارے پر پہنچے تو اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کافر ہوگئے اور یہ بات جناب نبی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پکڑنے کے لیے لوگ بھیجے سو ان کو پکڑ کر لایا گیا پھر ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروادی گئیں اور ان کے ہاتھوں اور پیروں کو کٹوادیا گیا اور ریگستان کے ایک کون میں گرم پتھروں پر ڈال دیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگئے ، قتادہ کہتے ہیں کہ ہم تک یہ بات پہنچی کہ یہ آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ” بیشک وہ جو اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ کرتے ہیں “ آفرنگ۔ (سورة مائدہ آیت 33، مصنف عبدالرزاق)
11765- عن قتادة عن أنس أن نفرا من عكل وعرينة تكلموا بالإسلام فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه أنهم كانوا أهل ضرع ولم يكونوا أهل ريف، فاجتووا المدينة وشكوا حماها فأمر لهم النبي صلى الله عليه وسلم بذود وأمر لهم براع وأمرهم أن يخرجوا من المدينة فيشربوا من ألبانها وأبوالها فانطلقوا حتى إذا كانوا بناحية الحرة كفروا بعد إسلامهم وقتلوا راعي النبي صلى الله عليه وسلم وساقوا الذود، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم، فبعث الطلب في أثرهم فأتى بهم فسمل أعينهم وقطع أيديهم وأرجلهم؛ وتركوا بناحية الحرة يقضمون حجارتها، حتى ماتوا، قال قتادة: بلغنا أن هذه الآية نزلت فيهم: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} الآية كلها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرنیین کا ذکر
11762 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ عرینہ سے ایک جماعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور اسلام قبول کیا اور بیعت ہوگئی اور مدینہ منورہ میں ان کو برسام کی بیماری ہوگئی، تو انھوں نے عرض کیا کہ تکلیف شروع ہوگئی ہے سو اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم ان اونٹوں میں چلے جائیں جہاں ہم پہلے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہاتھ جاؤ اور وہیں رہو، چنانچہ وہ نکلے اور چرواہوں میں سے ایک کو قتل کردیا اور اونٹ لے گئے ایک چرواہا زخمی حالت میں پہنچا اور اطلاع دی، وہ اپنی ضرورت پوری کرچکے اور اونٹوں کو لے گئے اس کے ساتھ ایک انصاری نوجوان تھا، تقریباً بیس سال کا چنانچہ ان کو گرفتار کرنے کے لیے لوگوں کو روانہ کیا گیا اور اس لڑکے کو ساتھ بھیجا جو ان کے قدموں کے نشان ڈھونڈ رہا تھا، ان کو گرفتار کرکے لایا گیا اور ان کے ہاتھ اور پیر کٹوا دئیے گئے اور آنکھوں میں سلائیاں پھروادی گئیں “۔ (ابن النجار)
11766- عن أنس أن نفرا من عرينة أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فأسلموا وبايعوه، وقد وقع بالمدينة الموم وهو البرسام، فقالوا: هذا الوجع قد وقع يا رسول الله فلو أذنت لنا فخرجنا إلى الإبل فكنا فيها، فقال: نعم فأخرجوا فكونوا فيها، فخرجوا فقتلوا أحد الراعيين، وذهبوا بالإبل، وجاء الآخر وقد جرح، فبلغوا حاجتهم وذهبوا بالإبل وعنده شباب من الأنصار قريب من العشرين فأرسل إليهم وبعث معهم قائفا يقتص فأتى بهم فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرنیین کا ذکر
11763 ۔۔۔ حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے حضرت ابو ذر (رض) سے دریافت فرمایا کہ جب جناب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنیوں کو لوٹ کرلے جایا جانے لگا تھا تو آپ کہاں تھے، تو انھوں نے عرض کیا کہ میں کنویں پر تھا اور پانی پلا رہا تھا “۔ (ابن منیع)
11767- عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: قال عثمان لأبي ذر: أين كنت يوم أغير على لقاح رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كنت على البئر أسقى. "ابن منيع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرنیین کا ذکر
11764 ۔۔۔ امام عامر الشعبی فرماتے ہیں کہ حارثہ بن بدر الثمیمی نے جنگ و جدل اور فساد پھیلانا شروع کیا، چنانچہ حضرت حسن بن علی حضرت ابن عباس اور حضرت ابن جعفر (رض) وغیرہ اہل قریش نے گفتگو کی اور حضرت علی (رض) سے گفتگو کی تو حضرت عمر (رض) وغیرہ اہل قریش نے گفتگو کی اور حضرت علی (رض) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ امیر المومنین آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو زمین پر فساد پھیلائے اور جنگ وجدال کرے ؟ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ ” بیشک بدلہ ان لوگوں کا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرتے ہیں “۔ اختتام آیت تک، سورة نور آیت 21 ۔
سعید نے عرض کیا اچھا ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو توبہ کرلے اس سے پہلے کہ آپ اس پر قادر ہوجائیں ؟ فرمایا کہ میں وہی کہوں گا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس کی توبہ قبول کرلوں گا سعید نے کہا کہ توحارثہ بن زید نے توبہ کرلی ہے اس سے پہلے کہ آپ اس پر قادر ہوں چنانچہ حارثہ آیا تو حضرت علی (رض) نے اسے امان دی۔ (ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا فی کتاب اور شراف وابن جریر وابن ابی حاتم)
سعید نے عرض کیا اچھا ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو توبہ کرلے اس سے پہلے کہ آپ اس پر قادر ہوجائیں ؟ فرمایا کہ میں وہی کہوں گا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور اس کی توبہ قبول کرلوں گا سعید نے کہا کہ توحارثہ بن زید نے توبہ کرلی ہے اس سے پہلے کہ آپ اس پر قادر ہوں چنانچہ حارثہ آیا تو حضرت علی (رض) نے اسے امان دی۔ (ابن ابی شیبہ عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا فی کتاب اور شراف وابن جریر وابن ابی حاتم)
11768- عن عامر الشعبي قال: كان حارثة بن بدر التميمي قد أفسد في الأرض، وحارب فكلم الحسن بن علي وابن عباس وابن جعفر وغيرهم من قريش، فكلموا عليا فأبى أن يؤمنه، فأتى سعيد بن قيس الهمداني فكلمه، فانطلق سعيد إلى علي فقال: يا أمير المؤمنين ما تقول في من أفسد في الأرض وحارب؟ فقال: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} حتى ختم الآية، فقال سعيد: أرأيت من تاب قبل أن تقدر عليه؟ قال: أقول كما قال الله وأقبل منه، قال: فإن حارثة ابن زيد قد تاب قبل أن تقدر عليه، فأتاه به فأمنه. "ش وعبد بن حميد وابن أبي الدنيا في كتاب الاشراف وابن جرير وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرنیین کا ذکر
11765 ۔۔۔ حضرت عروۃ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کو مثلہ کروادیا تھا جنہوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنیاں چوری کی تھیں چنانچہ ان کے ہاتھ پیر کٹوادئیے اور آنکھوں میں سلائیاں پھروادی تھیں “۔ (عبدالرزاق)
11769- عن عروة أن النبي صلى الله عليه وسلم مثل بالذين سرقوا لقاحه، فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11766 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ عرب کے عیسائی اہل کتاب نہیں اور نہ ہی ہمارے لیے ان کا ذبیحہ حلال ہے اور میں انھیں اس طرح چھوڑنے والا بھی نہیں ہوں، یا تو وہ مسلمان ہوجائیں گے یا پھر میں ان کی گردنیں اڑادوں گا “۔ (الشافعی)
11770- عن عمر قال: ما نصارى العرب بأهل الكتاب وما تحل لنا ذبائحهم وما أنا بتاركهم حتى يسلموا أو أضرب أعناقهم. "الشافعي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11767 ۔۔۔ جریر بن عثمان الرجی فرماتے ہیں کہ معاویۃ بن عیاض بن غطیف حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور انھوں نے ایک قباء اور دو پتلے موزے پہنے ہوئے تھے، حضرت عمر (رض) کو یہ ناگوار گزرا اور پوچھا کہ یہ کیا ہے، عرض اے امیر المومنین ! یہ قباء تو اس لیے ہے کہ بندہ اپنے کپڑوں کو سمیٹ کر باندھ کر رکھ سکتا ہے رہے یہ پتلے موزے جو پہنے ہوئے تھے، حضرت عمر (رض) کو یہ ناگوار گزرا اور پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ عرض کیا اے امیر المؤمین ! یہ قباء تو اس کے لیے ہے کہ بندہ اپنے کپڑوں سمیت باندھ کر رکھ سکتا ہے، رہے یہ پتلے موزے تو ان سے پیر رکابوں میں اچھی طرح جمتے ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے اور ان کو اجازت دے دی “۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشرف)
11771- عن جرير بن عثمان الرحبي أن معاوية بن عياض بن غطيف أتى عمر بن الخطاب وعليه قباء وخفان رقيقان فأنكر ذلك عليه، قال: ما هذا؟ قال: يا أمير المؤمنين أما القباء فإن الرجل يشد فيضم ثيابه وأما الخفاف الرقاق فإنها أثبت في الركب، فقال عمر: نعم ورخص له في ذلك. "ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11768 ۔۔۔ مسند علی (رض) سے عباد بن عبداللہ روایت فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) جمعہ کے دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا آزاد شدہ غلام ان کو دیکھ رہے تھے، چنانچہ اشعث بن قیس کھڑا ہوا اور کہا کہ ان سرخوں نے ہمیں آپ پر غالب کردیا۔
حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ مجھ پر کون غالب آئے گا ؟ سنو ! خدا کی قسم میں نے سنا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ تمہیں ضرور بالضرور دین کے معاملے میں مارے گا جیسے تم پہلے ان کو مارتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ حارث ابن راھویہ ابو عبید فی الغریب دورقی، ابن جریر، صححہ ابن عدی ، بزار سنن سعید بن منصور)
حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ مجھ پر کون غالب آئے گا ؟ سنو ! خدا کی قسم میں نے سنا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ تمہیں ضرور بالضرور دین کے معاملے میں مارے گا جیسے تم پہلے ان کو مارتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ حارث ابن راھویہ ابو عبید فی الغریب دورقی، ابن جریر، صححہ ابن عدی ، بزار سنن سعید بن منصور)
11772- "مسند علي رضي الله عنه" عن عباد بن عبد الله قال: صعد علي على المنبر يوم الجمعة فخطب وقد أحدقت به الموالي فقام الأشعث ابن قيس فقال: غلبتنا عليك هذه الحميراء، فقال علي: من يعذرني؟ أما والله لقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ليضربنكم على الدين عودا كما ضربتموهم عليه بدأ. "ش والحارث وابن راهويه وأبو عبيد في الغريب والدورقي وابن جرير وصححه ع والبزار ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11769 ۔۔۔ زیادبن حدید الاسدی فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اگر میں بنو تغلب کے عیسائیوں کے لیے باقی رہا تو ضرور بالضرور ان سے زبردست قتال کروں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بناؤں گا کیونکہ میں نے دستاویز لکھی تھی ان کے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان اور اس میں یہ شرط تھی کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائی نہ بنائیں گے۔ (ابوداؤد)
اور فرمایا کہ یہ حیثیت منکر ہے اور مجھے اطلاع ملی کہ امام احمد اس روایت کو سخت منکر قرار دیتے تھے، لؤلؤی کہتے ہیں کہ امام ابوداؤد نے خود بھی دوسرے دور میں اسی حدیث کو نہیں پڑھا۔ (الضعفاء للعقلی)
اور کہا کہ ابو نعیم النخعی اور ابن جریر کا اس میں کوئی متابع نہیں ہے اور ابونعیم نے حلیہ میں اس کو صحیح قرار دیا۔
اور فرمایا کہ یہ حیثیت منکر ہے اور مجھے اطلاع ملی کہ امام احمد اس روایت کو سخت منکر قرار دیتے تھے، لؤلؤی کہتے ہیں کہ امام ابوداؤد نے خود بھی دوسرے دور میں اسی حدیث کو نہیں پڑھا۔ (الضعفاء للعقلی)
اور کہا کہ ابو نعیم النخعی اور ابن جریر کا اس میں کوئی متابع نہیں ہے اور ابونعیم نے حلیہ میں اس کو صحیح قرار دیا۔
11773- عن زياد بن حدير الأسدي قال: قال علي: لئن بقيت لنصارى بني تغلب لأقتلن المقاتلة ولأسبين الذرية فإني كتبت الكتاب بينهم وبين النبي صلى الله عليه وسلم على أن لا ينصروا أبناءهم. "د" وقال: هذا حديث منكر بلغني عن أحمد أنه كان ينكر هذا الحديث إنكارا شديدا، قال اللؤلؤي: ولم يقرأه "د" في العرضة الثانية "عق" وقال: لا يتابع أبو نعيم النخعي عليه وابن جرير وصححه حل ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11770 ۔۔۔ حضرت ابراہیم بن حارث التیمی (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایک دستے کے ساتھ بھیجا اور ہمیں حکم فرمایا کہ ہم صبح شام یہ پڑھیں :
” افحسبتم انما خلقناکم عبثا “۔ ترجمہ :۔۔۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں تو یونہی بےکار پیدا کردیا ہے۔ (المومن 115)
ہم نے اسے پڑھا تو ہمیں مال غنیمت بھی ملا، اور ہم محفوظ بھی رہے۔
ابونعیم فی المعرفۃ وابن مندہ، الاصابہ میں اس کی سند کے بارے میں کہ اچھی ہے۔
” افحسبتم انما خلقناکم عبثا “۔ ترجمہ :۔۔۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں تو یونہی بےکار پیدا کردیا ہے۔ (المومن 115)
ہم نے اسے پڑھا تو ہمیں مال غنیمت بھی ملا، اور ہم محفوظ بھی رہے۔
ابونعیم فی المعرفۃ وابن مندہ، الاصابہ میں اس کی سند کے بارے میں کہ اچھی ہے۔
11774- عن إبراهيم بن الحارث التيمي رضي الله عنه قال: وجهنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية، فأمرنا أن نقول إذا نحن أمسينا وأصبحنا: {أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثاً} فقرأناها فغنمنا وسلمنا. "أبو نعيم في المعرفة وابن منده" وسنده قال في الإصابة لا بأس به.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11771 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ہم منافق کی طاقت سے مددحاصل کرتے ہیں اور اس کا گناہ اس کے اپنے اوپر ہے۔ (ابن ابی شیبہ )
11775- عن عمر قال: نستعين بقوة المنافق، وإثمه عليه. "ش ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11772 ۔۔۔ حضرت عمرو بن العاص (رض) فرماتے ہیں میں نے قریش کو اسی دن دیکھا جس دن انھوں نے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی سازش کی اور ارادہ کرلیا، اس وقت خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقام ابراہیم کے نزدیک نماز ادا فرما رہے تھے چنانچہ عقبہ بن ابی معیط کھڑا ہوا اور اپنی چادر کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک گلے میں ڈال کر کھینچا یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھٹنوں پر گرپڑے، لوگوں نے چیخنا شروع کردیا اور سمجھے کہ شاید (معاذ اللہ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل ہوگئے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) آگے بڑھے اور پیچھے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک پہلوؤں کو پکڑ کر کھینچا اور کہا کہ کیا تم ایسے شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے ؟ چنانچہ پھر وہ لوگ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر ایک طرف ہوگئے، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور اپنی نماز مکمل کرنے لگے جب نماز ادافرماچکے تو ان کے پاس سے گزرے وہ بدستور خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اے قریشیوں کے گروہ ! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں تمہیں ذبح کرنے کے لیے ہی بھیجا گیا ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگشت مبارک اپنے حلق کی طرف اشارہ فرمایا۔ ابوجہل بولا تو اتنا جاہل تو نہ تھا۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ
تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا تو جو ہے۔ (ابن ابی شیبہ)
تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا تو جو ہے۔ (ابن ابی شیبہ)
11776- عن عمرو بن العاص، قال: ما رأيت قريشا أرادوا قتل النبي صلى الله عليه وسلم إلا يوما ائتمروا به وهم جلوس في ظل الكعبة ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي عند المقام، فقام إليه عقبة بن أبي معيط فجعل رداءه في عنقه، ثم جذبه حتى وجب لركبتيه ساقطا وتصايح الناس فظنوا أنه مقتول، فأقبل أبو بكر يشتد حتى أخذ بضبعي رسول الله صلى الله عليه وسلم من ورائه، ويقول: أتقتلون رجلا أن يقول: ربي الله؟ ثم انصرفوا عن النبي صلى الله عليه وسلم، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلما قضى صلاته مر بهم وهم جلوس في ظل الكعبة، فقال: يا معشر قريش أما والذي نفس محمد بيده ما أرسلت إليكم إلا بالذبح وأشار بيده إلى حلقه، فقال له أبو جهل: ما كنت جهولا، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنت منهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متفرق روایات
11773 ۔۔۔” حسن فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھنڈے کا رنگ سیاہ تھا “۔ بخاری فی تاریخ)
11777- عن الحسن قال: كانت راية النبي صلى الله عليه وسلم سوداء. "خ في تاريخه كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اکبر اور جہاد اصغر
11774 ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ایک آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے لیے اپنے نفس سے بغض رکھا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے بغض سے محفوظ رکھیں گے “۔ (ابن ابی الدنیافی محاسبۃ النفس)
11778- عن مولى لأبي بكر قال: قال أبو بكر الصديق: من مقت نفسه في ذات الله، آمنه الله من مقته. "ابن أبي الدنيا في محاسبة النفس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اکبر اور جہاد اصغر
11775 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ مجاہدین کی ایک جماعت جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آگئے بہت ہی خوب آئے، تم لوگ جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف آگئے ہو جس میں بندے کو نفس سے جہاد کرنا پڑتا ہے۔ (دیلمی )
11779- عن جابر قال: قدم على النبي صلى الله عليه وسلم قوم غزاة فقال: قدمتم خير مقدم، قدمتم من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر مجاهدة العبد هواه. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اکبر اور جہاد اصغر
11776 ۔۔۔ حضرت ابو ذر غفاری (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سا جہاد افضل ہے ؟ فرمایا کہ کوئی شخص اپنے نفس اور اپنی خواہش سے جہاد کرے “۔ (ابن النجار)
11780- عن أبي ذر قال: قلت يا رسول الله أي الجهاد أفضل قال: أن يجاهد الرجل نفسه وهواه. "ابن النجار".
তাহকীক: