কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৭২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف کی بقیہ روایات
11717 ۔۔۔ ابراھیم بن عبدالرحمن بن عوف (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس کسری کے خزانے لائے گئے تو عبداللہ بن ارقم الزھری نے عرض کیا کہ آپ اس کو بیت المال میں نہ رکھیں گے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ہم تک اس کو تقسیم نہ کرلیں بیت المال میں نہ رکھیں گے اور پھر حضرت عمر (رض) روپڑے تو حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا، اے امیرالمومنین ! آپ کو کس بات نے رلادیا، کیونکہ یہ تو خدا کی قسم شکر، فرحت اور خوشی کا دن ہے تو حضرت عمر (رض) فرمایا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو بھی یہ یعنی مال دیا ہے تو اس میں عداوت اور بغض بھی ڈال دیتا ہے “۔ (ابن المبارک، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، خرائطی فی مکارم الاخلاق)
11721- عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف قال: لما أتي عمر بكنوز كسرى قال له عبد الله بن أرقم الزهري: ألا تجعلها في بيت المال؟ فقال عمر: لا نجعلها في بيت المال حتى نقسمها، وبكي عمر، فقال له عبد الرحمن بن عوف: ما يبكيك يا أمير المؤمنين؟ فوالله إن هذا ليوم شكر ويوم سرور ويوم فرح، فقال عمر: إن هذا لم يعطه الله قوما قط إلا ألقى الله بينهم العداوة والبغضاء. "ابن المبارك عب ش والخرائطي في مكارم الأخلاق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف کی بقیہ روایات
11718 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے جس نے فہرستیں مرتب کروائیں اور لوگوں کی پہچان کروائی وہ حضرت عمر (رض) ہی کی شخصیت تھی “۔ (سنن کبری بیھقی)
11722- عن جابر بن عبد الله قال: أول من دون الدواوين وعرف العرفاء عمر بن الخطاب. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف کی بقیہ روایات
11719 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ وظیفہ وصول کرلوجب تک کھانے کے قابل ہو، اگر دین سے برگشتہ کرنے والاہوتو اس کو سختی سے چھوڑدو۔ (ابن ابی شیبہ)
11723- عن علي قال: خذوا العطاء ما كان طعمة، فإذا كان عن دينكم فارفضوه أشد الرفض. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف کی بقیہ روایات
11720 ۔۔۔ داؤدبن نشیط فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں موجود تھا تو ان کے پاس ایک موٹا شخص آیا جو رنگین آنکھوں والا تھا اور عرض کیا اے امیر المومنین میں ہلاک ہوگیا اور میرے گھر والے بھی ہلاک ہوگئے، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ان میں سے کوئی شخص آجاتا ہے جیسے ہم بچے ہوئے ہیں کہتا ہے میں ہلاک ہوگیا اور میرے گھروالے ہلاک ہوگئے پھر حضرت عمر (رض) اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے اور فرمایا کہ مجھے اپنی ہمشیرہ یادآرہی ہے میں دیکھ رہاہوں کہ ہم اپنے والدین کو دودھ پلا رہے ہیں ہماری والدہ ہمیں اپنا کپڑاپہناتی تھیں اور زادراہ کے طور پر ہمیں کچھ تیار کردیتی تھیں سو ہم اپنی اونٹنی لے کر نکلتے، سو جب سورج نکل آتا تو میں اپنا کپڑا اپنی ہمشیرہ کو پہنادیتا اور بےلباس دوڑتاپھرتا، پھر ہم اپنی والدہ کے پاس واپس آجاتے تو وہ ہمارے لیے مٹی کا کھلونا بنادیتیں، ہائے کیا ہی وہ دن ہوا کرتے تھے پھر فرمایا کہ اس کو صدقہ کے اونٹوں میں سے چار اونٹ دے دو ، سو جانور اس کے لیے آگے پیچھے چلتے ہوئے نکلے “۔ (ابوعبیدہ فی الاموال )
11724- عن داود بن نشيط قال: كنت عند عمر بن الخطاب فأتاه رجل مسمن مخصب في العين فقال: يا أمير المؤمنين هلكت وهلكت عيالي، فقال عمر: يجيء أحدهم كأنه حميت يقول: هلكت وهلكت عيالي، ثم أخذ عمر يحدث عن نفسه، فقال: لقد رأيتني وأختا لي نرعى على أبوينا ناضحنا قد ألبستنا أمنا نقبتها وزودتنا من الهينة فنخرج بناضحنا فإذا طلعت الشمس ألقيت النقبة إلى أختي وخرجت أسعى عريانا فنرجع إلى أمنا وقد جعلت لنا لعبة من ذلك الهينة فيا خصباه، ثم قال أعطوه أربعة من نعم الصدقة فخرجت تتبعها ظئران لها. "أبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف کی بقیہ روایات
11721 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا جب ان کے پاس کوئی چیز آتی تو وہ ان میں سے سب سے پہلے ان میں سے سب سے پہلے سے شروع نہ فرماتے یعنی آزادلوگ “۔
11725- عن ابن عمر قال: إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين جاءه شيء لم يبدأ بأول منهم بأول منهم يعني المحررين. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ ان چیزوں کا بیان جو جہاد میں ممنوع ہیں
11722 ۔۔۔ معمر، عبدالکریم الجزری سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے پاس ایک سرلایا گیا تو آپ (رض) نے فرمایا کہ تم بغاوت کی “۔ (عبدالرزاق، سنن کبری بیھقی)
11726- "الصديق رضي الله عنه" عن معمر عن عبد الكريم الجزري قال: أتى أبو بكر برأس فقال: بغيتم. "عب هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ ان چیزوں کا بیان جو جہاد میں ممنوع ہیں
11723 ۔۔۔ معمرامام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ جب کبھی بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے پاس کوئی سرلایا گیا آپ نے یہی فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہر میں مردار نہیں لائے جاتے “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11727- عن معمر الزهري قال: لم يؤت النبي صلى الله عليه وسلم برأس وأتي أبو بكر برأس، فقال: لا يؤتى بالجيف إلى مدينة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ ان چیزوں کا بیان جو جہاد میں ممنوع ہیں
11724 ۔۔۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمروبن العاص اور حضرت شرحبیل بن حسنہ (رض) نے مجھے بطورڈاکئیے کے ایک سردے کر بھیجا جسے شام کے راستے میں جسم سے علیحدہ کیا گیا تھا، چنانچہ ، وہ لے کر حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے تو حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے انکار فرمادیا، حضرت عقبہ (رض) نے عرض کیا، اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! وہ ہمارے ساتھ یہی کرتے ہیں تو فرمایا کہ کیا اب فارس اور روم کی سنتوں پر عمل ہوگا ؟ میرے پاس کوئی سر وغیرہ نہ لایا جائے صرف خطوط اور اطلاعات کافی ہیں “۔ (سنن کبری بیھقی )
11728- عن عقبة بن عامر الجهني أن عمرو بن العاص وشرحبيل ابن حسنة بعثاه بريدا برأس يناق بطريق الشام، فلما قدم على أبي بكر أنكر ذلك، فقال له عقبة: يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنهم يصنعون ذلك بنا، قال: أفا ستنان بفارس والروم؟ لا يحمل إلي رأس، فإنما يكفي الكتاب والخبر. "هق" قال ابن كثير إسناده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ ان چیزوں کا بیان جو جہاد میں ممنوع ہیں
11725 ۔۔۔ حضرت معاویہ بن خدیج (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) کی خدمت میں موجود تھے آپ (رض) منبر پر تشریف فرما ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی اور فرمایا کہ ہمارے پاس شام کے بطریق یناق کا سر لایا گیا ہے حالانکہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے یہ توعجمیوں کا طریقہ ہے “۔ (سنن کبری بیھقی)

فائدہ۔۔۔ اس سے پہلی روایت کے ترجمے میں جو لکھا تھا کہ وہ سر جو شام کے راستے میں جسم سے الگ کیا گیا تھا، تو یہ ترجمہ صحیح نہیں بلکہ ترجمہ یہ ہے کہ مجھے شام کے بطریق یناق کا سر دے کر بھیجا گیا تھا، ترجمے میں غلطی عبارت کی غلط فہمی کی وجہ سے پیدا ہوگئی، جس کے لیے ہم اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتے ہیں کیونکہ تو ہی ارحم الراحمین ہے اللھم اغفرلکاتبہ ولمنترجمیہ ولوالدیہ ولسائر المسلمین۔

بطریق عربی لفظ ہے جس کو انگریزی میں پیٹرک (PATTRIC ) کہا جاتا ہے جو عسائی پادریوں کا ایک عہدہ ہوتا ہے “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11729- عن معاوية بن خديج قال: بينا نحن عند أبي بكر إذ طلع المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أنه قدم علينا برأس يناق البطريق ولم يكن لنا به حاجة، إنما هي سنة العجم. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ ان چیزوں کا بیان جو جہاد میں ممنوع ہیں
11726 ۔۔۔ حضرت اسود بن ربیع (رض) فرماتے ہیں کہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں پہنچا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں شرکت کی اور کامیابی سے ہمکنار ہوا، اس دن لوگوں نے خوب قتال کیا یہاں تک کہ بچے بھی قتل ہوئے، جب یہ اطلاع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ قتال میں حد سے گزرگئے حتیٰ کہ اولادوں کو قتل کرنا شروع کردیا ، ایک شخص نے عرض کیا کہ یارسول اللہ وہ تو مشرکوں کے بچے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سنو ! تم میں سے آج کے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بچے ہیں، پھر فرمایا کہ سنو ! اولاد کو قتل نہ کرو، ہر بچہ جو پیدا ہو تو ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اس وقت تک اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے اس کی زبان چھین لی جاتی ہے سو اس کے والدین اس کو یہودی، عسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں “۔ (مسند احمد دارمی، نسائی، ابن جریر، ابن حبان، طبرانی، مستدرک حاکم، حلیہ ابی نعیم، متفق علیہ، سعید بن منصور)
11730- عن الأسود بن سريع قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وغزوت معه فأصبت ظفرا، فقتل الناس يومئذ حتى قتلوا الولدان فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما بال أقوام جاوز بهم القتل اليوم حتى قتلوا الذرية؟ فقال رجل: يا رسول الله إنما هم أبناء المشركين، فقال ألا إن خياركم أبناء المشركين، ثم قال: ألا لا تقتلوا ذرية، كل مولود يولد على الفطرة، فما يزال عليها حتى يعرب عنها لسانه، فأبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه. "حم والدارمي ن وابن جرير حب طب ك حل ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوٹ مار
11727 ۔۔۔ امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایک اونٹ ذبح کرنے کا حکم فرمایا، چنانچہ اونٹ کو ذبح کیا گیا لیکن لوگ جھٹ پڑے ، اور اس کا گوشت اٹھا کرلے گئے چنانچہ ایک شخص کو اعلان کرنے کے لیے بھی بھیجا گیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ مار سے منع فرماتے ہیں چنانچہ وہ گوشت واپس کردیا گیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں تقسیم فرمادیا “۔ (عبدالرزاق)
11731- عن محمد بن سيرين قال: أمر النبي صلى الله عليه وسلم بجزور فنحرت فانتهب الناس لحمها، فبعث للناس مناديا يقول: إن الله ورسوله ينهيانكم عن النهبة فردوه فقسمه بينهم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوٹ مار
11728 ۔۔۔ حضرت ابوقلابہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ ذبح کرنے کا حکم دیا، اونٹ ذبح کیا گیا تو لوگ اس کے گوشت کو اٹھا کرلے گئے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو حکم فرمایا تو اس نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ مار سے منع فرماتے ہیں “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11732- عن أبي قلابة قال: أمر النبي صلى الله عليه وسلم بجزور فنحرت فانتهب الناس لحمها، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم مناديا فنادى إن الله ورسوله ينهيانكم عن النهبة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11729 ۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شہید کو تین چیزیں دی جاتی ہیں

1 ۔۔۔ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کی جاتی ہے۔

2 ۔۔۔ اور سب سے پہلے جو اس کے چہرے سے مٹی جھاڑتا ہے وہ حورعین میں سے اس کی بیوی ہوتی ہے۔

3 ۔۔۔ اور جب اس کو پہلو زمین سے لگتا ہے تو جنت کی زمین پر لگتا ہے “۔ (دیلمی)
11733- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يعطى الشهيد ثلاثا، أول قطرة من دمه يغفر له بها ذنوبه، وأول من يمسح التراب عن وجهه زوجته من الحور العين، وإذا وقع جنبه وقع في الجنة. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11730 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شہید تین ہیں۔

1 ۔۔۔ ایک وہ شخص جو اپنی جان اور مال لے کر اللہ کے راستے میں نکلا اپنی جان اور مال کو اللہ کے راستے میں گنتا ہوا، اور یہ چاہتا ہے کہ یا قتل کرے یا قتل ہوجائے اور نہیں تو مسلمانوں کی تعدادہی بڑھے، سو اگر یہ مرگیا یا قتل ہوگیا تو اس کے سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے، اس کو قبر عذاب سے محفوظ کردیا جائے گا اور حورعین میں سے کسی کے ساتھ اس کا نکاح کردیا جائے گا اس

اعزاز کالباس پہنایا جائے گا اور اس کے سرپر وقار اور ہمیشگی کا تاج رکھاجائے گا۔

2 ۔۔۔ دوسرا وہ شخص جو اپنی جان ومال کو اللہ کے راستے میں لے کر نکلا وہ یہ چاہتا ہے کہ قتال کرلے لیکن خود قتل نہ ہو، سو اگر وہ مرگیا یا قتل ہوگیا تو اس کا قدم حضرت ابراہیم خلیل الرحمن (علیہ الصلوۃ والسلام) کے قدم مبارک کے ساتھ مقام صدق میں اللہ مالک اور مقتدر کے سامنے ہوگا۔

3 ۔۔۔ تیسرا وہ شخص جو اپنی جان ومال کو اللہ کے راستے میں لے کر نکلا اور وہ یہ چاہتا ہے کہ قتل کرے یا ہوجائے، سو اگر یہ مرگیا تو یا قتل ہوگیا تو قیامت کے دن اپنی تلوار برہنہ اپنے کندھے پر رکھے آئے گا حالانکہ لوگ گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے، اور کہتے آئیں گے کہ سنو ! ہماے لیے جگہ وسیع کردو ہمارے لیے جگہ وسیع کردو کیونکہ ہم نے اپنی جان اور مال اللہ کے راستے میں خرچ کردیا۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر کوئی یہ کہہ سکتا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل الرحمن یا انبیاء میں سے کوئی نبی کہتا اور انہی کے راستے میں لوگ ہنتے کیونکہ ان کا حق واجب ہے یہاں تک کہ وہ شہداء آئیں گے اور نور کے منبروں پر بیٹھ جائیں گے عرش کے دائیں جانب، سو وہ بیٹھیں گے اور دیکھیں گے کے لوگوں کے درمیان فیصلہ کس طرح ہوتا ہے، انھیں موت کا کوئی غم نہ ہوگا نہ ہی وہ برزخ میں غم زدہ ہوں گے ، انھیں صور کی چیخ پریشان نہیں کرے گی اور نہ ہی وہ حساب کتاب میزان اور پل صراط پر پریشان ہوں گے دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کس طرح فیصلہ ہوتا ہے وہ جس چیز کا بھی سوال کریں گے ان کو دی جائے گی اور جس کی بھی شفاعت کریں گے شفاعت قبول کی جائے گی اور جنت میں ان کا پسندیدہ مقام دیا جائے گا اور جنت میں اپنے پسندیدہ مقام پر رہیں گے “۔ (بیھقی فی شعب الایمان)
11734- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الشهداء ثلاثة رجل خرج بنفسه وماله محتسبا في سبيل الله يريد أن لا يقتل ولا يقتل ولا يقاتل يكثر سواد المسلمين، فإن مات أو قتل غفرت له ذنوبه كلها وأجير من عذاب القبر ومن الفزع الأكبر وزوج من الحور العين وحلت عليه حلة الكرامة ووضع على رأسه تاج الوقار والخلد، والثاني رجل خرج بنفسه وماله محتسبا يريد أن يقتل ولا يقتل فإن مات أو قتل كانت ركبته مع ركبة إبراهيم خليل الرحمن بين يدي الله في مقعد صدق عند مليك مقتدر، والثالث: رجل خرج بنفسه وماله محتسبا يريد أن يقتل ويقتل فإن مات أو قتل جاء يوم القيامة شاهرا سيفه واضعه على عاتقه والناس جاثون على الركب يقولون: ألا افسحوا لنا مرتين فإنا قد بذلنا دماءنا وأموالنا لله والذي نفسي بيده لو قالوا ذلك لإبراهيم خليل الرحمن أو لنبي من الأنبياء لتنحى لهم عن الطريق بما يرى من واجب حقهم حتى يأتوا منابر من نور عن يمين العرش فيجلسون فينظرون كيف يقضى بين الناس لا يجدون غم الموت ولا يغتنمون في البرزخ ولا تفزعهم الصيحة ولا يهمهم الحساب والميزان ولا الصراط، ينظرون كيف يقضى بين الناس ولا يسألون شيئا إلا أعطوه ولا يشفعون في شيء إلا شفعوا فيه ويعطى من الجنة ما أحب وينزل من الجنة حيث أحب. "هب" وضعفه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11731 ۔۔۔ ابن ابی العوف اور عبدالعزیزبن یعقوب الماجثون فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے متمم بن نویرۃ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زید ابن خطاب پر رحم فرمائیں اگر میں شعر کہنے پر قادر ہوتا تو میں بھی ایسے ہی روتا جیسے تیرا بھائی رویا، متمم نے عرض کیا ، اے امیرالمومنین ! اگر میرا بھائی جنگ یمامہ کے دن قتل ہوتا جس طرح آپ کا بھائی قتل ہوا تو کبھی اس پر نہ روتا، تو حضرت عمر (رض) اس کو دیکھا اور اس کے بھائی کی تعزیت کی اور وہ اس پر بہت زیادہ غمزد ہے تھے، اور حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے صبا (ہواکا نام) چلتی ہے تو مجھے زیدبن الخطاب کی خوشبو آتی ہے، ابن ابی عوف سے عرض کیا گیا کہ کیا حضرت عمر (رض) شعرنہ کہہ سکتے تھے، تو انھوں نے فرمایا کہ نہیں ایک بیت بھی نہیں “۔ (ابن سعد)
11735- عن ابن أبي عوف وعبد العزيز بن يعقوب الماجشون قالا: قال عمر بن الخطاب لمتمم بن نويرة: يرحم الله زيد بن الخطاب لو كنت أقدر أن أقول الشعر لبكيته كما بكيت أخاك فقال متمم: يا أمير المؤمنين لو قتل أخي يوم اليمامة كما قتل أخوك ما بكيته أبدا فأبصر عمر وتعزى عن أخيه وقد كان حزن عليه حزنا شديدا وكان عمر يقول: إن الصبا لتهب فتأتي بريح زيد بن الخطاب قيل لابن أبي عوف: ما كان عمر يقول الشعر فقال: لا ولا بيتا واحدا. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11732 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے شہداء کانہ جنازہ پڑھا اور نہ ان کو غسل دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11736- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يصل على قتلى أحد ولم يغسلوا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11733 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ احد کے شہداء میں دوشہداء کو ایک قبر میں دفن کرواتے اور حکم فرمایا کرتے کہ ان کو ان کے خون سمیت دفن کردیا جائے اور نہ ان کو غسل دیا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی “۔ (ابن ابی شیبہ)
11737- عن جابر كان النبي صلى الله عليه وسلم يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في قبر واحد وأمر بدفنهم بدمائهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11734 ۔۔۔ زہری روایت کرتے ہیں عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر العذری سے ان کی ولادت فتح مکہ کے دن ہوئی تھی چنانچہ ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہرے پر ہاتھ مبارک پھیرا اور برکت عطا فرمائی ، آگے فرمایا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کے شہداء پر مطلع ہوئے تو فرمایا کہ میں ان پر گواہ ہوں جو اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہوگا جس کا رنگ توخون کی طرح ہوگا لیکن خوشبومشک کی طرح ہوگی، دیکھو ان شہداء میں کون حافظٖ تھا قرآن پاک کا سو اس کو قبر میں اپنے ساتھی سے آگے رکھو، اور اس دن ایک قبر میں دودو اور تین تین، شہداء کی تدفین ہوئی “۔ (ابن جریر)
11738- عن الزهري عن عبد الله بن ثعلبة بن صعير العذري وكان ولد عام الفتح فأتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم فمسح على وجهه وبرك عليه قال: لما أشرف رسول الله صلى الله عليه وسلم على قتلى أحد قال: أنا الشهيد على هؤلاء ما من جريح يجرح في الله إلا الله يبعثه يوم القيامة وجرحه يثعب دما اللون لون الدم والريح ريح المسك انظروا أكثرهم جمعا للقرآن فاجعلوه أمام صاحبه في القبر وكانوا يدفنون في القبر الاثنين والثلاثة في القبر الواحد. "ابن جرير كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11735 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد میں سے حضرت حمزہ (رض) بن عبدالمطلب کی نماز جنازہ پڑھی۔
11739- عن ابن عباس قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على شهداء أحد صلى على حمزة بن عبد المطلب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11736 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں جو جنت کے پھلوں میں مشغول رہتے ہیں۔ (عبدالرزاق، سعیدبن منصور، متفق علیہ فی البعث)
11740- عن ابن عباس قال: أرواح الشهداء في أجواف طير خضر تعلق من ثمر الجنة. "عب ص ق في البعث".
tahqiq

তাহকীক: