কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৬৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے عطیہ
11677 ۔۔۔ عبداللہ بن قیس یا ابن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) جابیہ تشریف لائے اور زمین کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت معاذ (رض) نے فرمایا کہ (اگر آپ نے ایسا کیا ) تو پھر تو ہوجائے گا جو آپ کو ناپسند ہے، اگر آپ نے زمین کو آج تقسیم کردیا تو زبردست پیداوار ہوگی جو ایسی قوم کے ہاتھ چلی جائے گی جو ہلاک ہوجائے گی اور سب کچھ ایک ہی شخص کے پاس چلا جائے گا، پھر ان کے بعد ایسی قوم آئے گی جو اسلام کا راستہ روکے گی اور انھیں کچھ نہ ملے گا سو ایسا معاملہ کر رنے کی کوشش کریں کہ اس میں ابتداء وانتہاءدونوں کی گنجائش ہو، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت معاذ (رض) کے مشورے کو قبول فرمالیا “۔ (ابوعبید، خرائطی فی مکارم الاخلاق)
11681- عن عبد الله بن قيس أو ابن أبي قيس قال: قدم عمر الجابية فأراد قسمة الأرض بين المسلمين، فقال له معاذ: والله إذا ليكونن ما تكره، إنك إن قسمتها اليوم كان الريع العظيم في أيدي القوم يبيدون فيصير ذلك إلى الرجل الواحد، ثم يأتي من بعدهم قوم يسدون من الإسلام مسدا وهم لا يجدون شيئا فانظر أمرا يسع أولهم وآخرهم فصار عمر إلى قول معاذ. "أبو عبيد والخرائطي في مكارم الأخلاق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے عطیہ
11678 ۔۔۔ ابراھیم فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے سواد فتح کرلیا تو حضرت عمر (رض) سے درخواست کی کہ اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیجئے کیونکہ اسے ہم نے فتح کرلیا ہے تو حضرت عمر (رض) نے انکار فرمایا اور فرمایا کہ ان مسلمانوں کا کیا قصور ہے جو تمہارے بعد آئیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ تم اسے آپس میں تقسیم کرلوگے اور پانی کے معاملے میں فساد کرو گے سو حضرت عمر (رض) نے اھل سواد کو ان کی زمینوں پر برقرار رکھا اور ان پر جزیہ مقرر فرمادیا اور ان کی زمینوں پر خراج مقرر کردیا “۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ)
11682- عن إبراهيم قال: لما افتتح المسلمون السواد قالوا لعمر: اقسمها بيننا فإنا فتحناه فأبى عمر وقال: فما لمن جاء بعدكم من المسلمين؟ وأخاف إن تقاسموا أن تفاسدوا بينكم في المياه، فأقر أهل السواد في أرضهم وضرب على رؤسهم الجزية، وعلى أرضهم الطسق، يعني الخراج.
"أبو عبيد وابن زنجويه".
"أبو عبيد وابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے عطیہ
11679 ۔۔۔ محمد بن عجلان فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) نے فہرستیں تیار کروائیں تو دریافت فرمایا کہ کس سے شروع کریں ، عرض کیا گی ا کہ اپنے آپ سے، تو آپ (رض) نے فرمایا کہ نہیں ، بلکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے امام ہیں چنانچہ ان کو سب سے پہلے رکھ کردرجہ بدرجہ رشتے داروں کے نام لکھو “۔ (ابوعبید)
11683- عن محمد بن عجلان قال: لما دون عمر الديوان قال: بمن نبدأ؟ قالوا: بنفسك، فابدأ قال: لا إن رسول الله صلى الله عليه وسلم إمامنا فبرهطه نبدأ بالأقرب فالأقرب. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11680 ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے مجھے بلوایا، غالبا ظہر کے وقت میں ان کے دروازے پر پہنچا تو مجھے ان کے رونے کی آواز سنائی دی تو میں نے اناللہ واناالیہ راجعون پڑھا اور کہا کہ کچھ ہوگیا واللہ امیرالمومنین کچھ ہوگیا، پھر میں اندر داخل ہوا اور ان کا کندھا پکڑا اور عرض کیا کہ کوئی بات نہیں ، کوئی بات نہیں اے امیرالمومنین فرمایا نہ صرف بات ہے بلکہ بہت سخت بات ہے پھر میرا ہاتھ پکڑا اور ایک کمرے میں لے گئے جہاں ایک دوسرے کے اوپر بہت سے تھیلے پڑے تھے، اور فرمایا کہ اب خطاب کی اولاد پر اللہ کے سامنے آزمائش کا وقت آیا ہے اگر اللہ چاہتے تو یہ سارا مال میرے دونوں ساتھیوں یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکرصدیق (رض) کو بھی دیتے اور میں اس کا کوئی طریقہ مقرر فرما دیتے تو میں بھی اسی طریقے کی پیروی کرتا، میں نے عرض کیا کہ بیٹھ جائے ہم کچھ سوچتے ہیں ، چنانچہ ہم نے امہات المومنین کا وظیفہ چار چار ہزار ، مہاجرین کا وظیفہ بھی چار چار ہزار اور سب لوگوں کا وظیفہ دو ہزار مقرر کیا حتیٰ کہ ہم نے سارامال تقسیم کردیا “۔ (ابوعبید فی الاموال والعدنی)
11684- عن عبد الرحمن بن عوف قال: بعث إلي عمر بن الخطاب أظنه قال ظهرا، فأتيته فلما بلغت الباب سمعت نحيبه، فقلت: إنا لله وإنا إليه راجعون، اعتري والله أمير المؤمنين اعتري فدخلت فأخذت بمنكبه، وقلت لا بأس لا بأس يا أمير المؤمنين، قال: بل أشد البأس، فأخذ بيدي، فأدخلني الباب فإذا حقائب بعضها فوق بعض، فقال: الآن هان آل الخطاب على الله، إن الله لو شاء لجعل هذا إلى صاحبي يعني النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر، فسنا لي فيه سنة أقتدي بها قلت: اجلس بنا نفكر، فجعلنا لأمهات المؤمنين أربعة آلاف أربعة آلاف، وجعلنا للمهاجرين أربعة آلاف أربعة آلاف، ولسائر الناس ألفين ألفين، حتى وزعنا ذلك المال. "أبو عبيد في الأموال والعدني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11681 ۔۔۔ حضرت قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) شام آگئے تو حضرت بلال (رض) ان کے پاس تشریف لائے وہاں لشکروں کے امیر بھی تھے آتے ہی فرمانے لگے اے عمر ! اے عمر ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا یہ رہاعمر، تو حضرت بلال (رض) نے فرمایا کہ آپ ان کے اور اللہ کے درمیان ہیں اور آپ کے اور اللہ کے درمیان کوئی نہیں، سو اپنے دائیں بائیں اور سامنے دیکھئے، یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کے پاس آئے ہیں اور انھیں نے پرندوں کے گوشت کے علاوہ کچھ نہیں کھایا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا میں اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ کھڑا ہوں گا جب تک آپ لوگ ہر مسلمان شخص کے لیے دومدگندم اور ان دونوں کے حصے کا سرکہ اور تیل دینے کی ذمہ داری نہ قبول کروں، انھوں نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین ہم ذمہ داری قبول کرتے ہیں، یہ ہم پر لازم ہے اللہ تعالیٰ نے خیر اور وسعت بہت عطا فرمائی ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ پھر ٹھیک ہے “۔ (ابوعبید)
11685- عن قيس بن أبي حازم، قال: جاء بلال إلى عمر حين قدم الشام وعنده أمراء الأجناد فقال: يا عمر يا عمر، فقال عمر: هذا عمر، فقال: إنك بين هؤلاء وبين الله، وليس بينك وبين الله أحد، فانظر من بين يديك؟ ومن عن يمينك؟ ومن عن شمالك؟ فإن هؤلاء الذين جاؤك والله لن يأكلوا إلا لحوم الطير، فقال عمر: صدقت، لا أقوم من مجلسي هذا حتى تكفلوا لي لكل رجل من المسلمين بمديي بر وحظهما من الخل والزيت، قالوا: تكفلنا لك يا أمير المؤمنين، هو علينا، قد كثر الله من الخير وأوسع. قال: فنعم إذن. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11682 ۔۔۔ حضرت حارثہ بن مغرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حکم دیاچنانچہ ایک تھیلاکھانے کا گوندھا گیا تھا اور پھر اس سے روٹی بنائی گئی، پھر تیل میں اس کا ثرید بنایا گیا اور پھر اس پر تیس آدمیوں کو بیٹھایا گیا تو انھوں نے صبح کے وقت پیٹ بھرکر کھایا ، پھر عشاء کے وقت بھی ایساہی کیا گیا اور فرمایا کہ ہر شخص کو مہنے بھر دوتھیلے کافی ہوجائیں گے، چنانچہ تمام تمام لوگوں کو ہر ماہ دوتھیلے ملتے خواہ مردہویا عورتیں یامملوک غلام “۔ (ابوعبید)
11686- عن حارثة بن مضرب أن عمر أمر بجريب من الطعام فعجن ثم خبز ثم ثرده بزيت: ثم دعا عليه ثلاثين رجلا، فأكلوا غداءهم حتى أصدرهم، ثم فعل بالعشاء مثل ذلك، وقال: يكفي الرجل جريبان كل شهر، فكان يرزق الناس: المرأة والرجل والمملوكين جريبين جريبين كل شهر. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11683 ۔۔۔ سفیان بن وھب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے ایک ہاتھ میں دومد اور ایک ہاتھ میں دوقسط اٹھائے اور فرمایا کہ میں نے ہر مسلمان کے لیے ہر ماہ دومد گندم اور دوقسط سرکہ ایک ہاتھ میں دوقسط تیل مقرر کیا ہے ایک شخص نے عرض کیا کہ اور غلاموں کے لیے ؟ فرمایا ہاں غلاموں کے لیے بھی “۔ (ابوعبید)
11687- عن سفيان بن وهب قال قال عمر: وأخذ المدي بيد، والقسط بيد إني فرضت لكل نفس مسلمة في كل شهر مديي حنطة، وقسطي خل، وقسطي زيت، فقال رجل: وللعبيد؟ فقال عمر: نعم وللعبيد. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11684 ۔۔۔ عبداللہ بن ابی قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) منبر پر تشریف فرمائے اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنابیان فرمایا، امابعد ہم نے تمہارے وظائف اور عطایا ہر ماہ جاری کردئیے ، فرمایا ان کے ہاتھوں میں مد اور قسط تھے پھر فرمایا کہ ان دونوں کو لے لو، جس نے ان میں کمی کی تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایسا ایسا سلوک کرے گا، پھر بددعا فرمائی “۔ (ابوعبید)
11688- عن عبد الله بن أبي قيس أن عمر صعد المنبر فحمد الله، ثم قال: أما بعد فقد أجرينا عليكم أعطياتكم وأرزاقكم في كل شهر، قال وفي يده المدى والقسط، ثم قال: خذ كليهما فمن انتقصهما ففعل الله به كذا وكذا قال: فدعا عليه. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11685 ۔۔۔ حضرت ابو الدرداء (رض) فرماتے ہیں کہ بعض ہدایت سے بھری ہوئی سنتیں ایسی ہیں جنہیں حضرت عمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں جاری فرمایا ان میں سے مد اور قسط بھی ہیں “۔ (ابوعبید)
فائدہ۔۔۔ مد اور قسط دوپیمانے ہیں مداڑسٹھ تولے تین ماشے کا ہوتا ہے، دیکھیں بہشتی زیور 4 حصہ نہم دہم تاج کمپنی، واللہ ! علم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ۔۔۔ مد اور قسط دوپیمانے ہیں مداڑسٹھ تولے تین ماشے کا ہوتا ہے، دیکھیں بہشتی زیور 4 حصہ نہم دہم تاج کمپنی، واللہ ! علم بالصواب۔ (مترجم)
11689- عن أبي الدرداء قال: رب سنة راشدة مهدية قد سنها عمر في أمة رسول الله صلى الله عليه وسلم منها المديان والقسطان. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11686 ۔۔۔ حضرت حکیم بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) لشکروں کے امراء کو لکھا کہ سرخ لوگوں میں سے جو تم نے آزاد کئے ہیں اور وہ مسلمان ہوچکے ہیں تو ان کو ان کے آقاؤں کے حوالے کردو، ان کو وہی ملے گاجوان کے آقاؤں کو ملے گا اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جوان کے آقاؤں پر ہوں گی اور اگر وہ ایک قبیلے کی صورت الگ رہنا چاہیں تونی کی اور وظائف اپنے طریقے کے مطابق رکھو “۔ (ابوعبید)
11690- عن حكيم بن عمير أن عمر بن الخطاب كتب إلى أمراء الأجناد: ومن أعتقتم من الحمراء فأسلموا فألحقوهم بمواليهم، لهم ما لهم وعليهم ما عليهم، وإن أحبوا أن يكونوا قبيلة وحدهم فاجعلوهم أسوتكم في العطاء والمعروف. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11687 ۔۔۔ حسن فرماتے ہیں کچھ لوگ حضرت ابوموسی (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے عربوں کو دیا اور آزاد کردہ غلاموں کو چھوڑ دیا تو حضرت عمر (رض) نے ان کو لکھا کہ آپ نے ان کے درمیان برابری کا سلوک کیوں نہ کیا، انسان کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ (ابوعبید)
11691- عن الحسن أن قوما قدموا على أبي موسى فاعطى العرب وترك الموالي، فكتب إليه عمر: ألا سويت بينهم؟ بحسب المرء من الشر أن يحقر أخاه المسلم. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11688 ۔۔۔ ابو قبیل فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) کے زمانے میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا تو اس کے لیے دس تک وظیفہ مقرر ہوتا اور جب وہ بالغ ہوجاتا تو بڑوں والاوظیفہ ملتا “۔ (ابوعبید)
11692- عن أبي قبيل قال: كان الناس في زمن عمر بن الخطاب إذا ولد المولد فرض له في عشرة، فإذا بلغ أن يفرض ألحق به. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11789 ۔۔۔ سلیمان بن حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سپاہیوں کے گھروالوں اور بچوں وغیرہ کے لیے دس مقرر کئے اور حضرت عثمان (رض) اور بعد والے امراء اسی طریقے پر چلے اور اس کو وراثت بنادیا، میتوں کی وراثت میں ان کو ملنے لگا جن کا کوئی عطا اور وظیفہ نہ تھا “۔ (ابوعبید)
11693- عن سليمان بن حبيب أن عمر بن الخطاب فرض لعيال المقاتله وذراريهم العشرات، فأمضى عثمان ومن بعده من الولاة ذلك، وجعلوها موروثة يرثها ورثة الميت منهم، ممن ليس في العطاء والعشر. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دورفاروقی میں مالی فراوانی
11690 ۔۔۔ طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ ہمارے عطایا وظیفے بغیر زکوۃ وغیرہ کئے نکالے جاتے تھے اور ہم خود ہی ان سے زکوۃ وغیرہ نکالا کرتے تھے۔ (ابوعبید فی الاموال )
11694- عن طارق بن شهاب قال: كانت عطايانا تخرج في زمن عمر لم تزك حتى كنا نزكيها. "أبو عبيد في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عطیہ دینے میں فوقیت
11691 ۔۔۔ زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جب وظائف مقرر کئے تو حضرت عبداللہ بن حنظلہ کے لیے دو ہزار درھم مقرر کئے ، حضرت طلحہ اپنے بھتیجے کو لے کر ان کے پاس آئے تو اس کے لیے اس سے کم مقرر کیا، تو انھوں نے عرض کیا کہ یا امیرالمومنین ! آپ نے اس انصاری کو میرے بھتیجے پر فضیلت دی ؟ تو فرمایا کہ ہاں اس لیے کہ میں جنگ احد میں اس کے باپ کو تلوار لے کر چھپتے ہوئے دیکھا تھا جی سے اونٹ چھپتے ہیں۔
11695- عن زيد بن أسلم أن عمر بن الخطاب لما فرض للناس؛ فرض لعبد الله بن حنظلة ألفي درهم، فأتاه طلحة بابن أخ له ففرض له دون ذلك، فقال:يا أمير المؤمنين فضلت هذا الأنصاري على ابن أخي؟ فقال: نعم لأني رأيت أباه يستتر بسيفه يوم أحد كما يستتر الجمل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عطیہ دینے میں فوقیت
11693 ۔۔۔ ناشرۃ بن سمی الیزنی فرماتے ہیں کہ یوم جابیہ میں میں نے سناحضرت عمر (رض) لوگوں کے سامنے خطبہ بیان فرما رہے تھے بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مال کا خازن اور اس کو تقسیم کرنے والا بنایا ہے پھر فرمایا کہ بلکہ اللہ ہی اس کو تقسیم کرتے ہیں اور میں ابتداء کرنے والا ہوں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں سے پھر درجہ بدرجہ جو زیادہ معزز ہو، چنانچہ امہات المومنین (رض) کے لیے بھی وظائف مقرر فرمائے علاوہ حضرت جویریہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ (رض) کے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان عدل فرمایا کرتے تھے ، اور حضرت عمر (رض) نے بھی ہمارے درمیان عدل فرمایا ہے پھر فرمایا کہ میں اپنے آپ سے اور اپنے مہاجرین ساتھیوں سے شروع کرنے والاہوں اور پھر جو زیادہ معزز ہو، کیونکہ ہمیں ظلم اور دشمنی کی بناء پر ہمارے گھروں سے نکالا گیا، چنانچہ پھر ان میں اھل بدر کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصار میں سے اھل بدر کے چارچار ہزار مقرر فرمائے ، اور اھل حدیبہ کے لیے تین تین ہزار مقرر فرمائے اور فرمایا کہ جس نے ہجرت میں جلدی کی اس کے لیے عطانے بھی جلدی کی، اور جو ہجرت میں پیچھے رہ گیا اس کا وظیفہ بھی پیچھے رہ گیا سو کوئی شخص اپنی سواری کے علاوہ اور کسی کو ملامت نہ کرے “۔ (سنن کبری بیھقی)
11696- عن ناشرة بن سمي اليزني قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول يوم الجابية وهو يخطب الناس: إن الله جعلني خازنا لهذا المال، وقاسما له، ثم قال: بل الله يقسمه، وأنا باد بأهل النبي صلى الله عليه وسلم، ثم أشرفهم ففرض لأزواج النبي صلى الله عليه وسلم إلا جويرية وصفية وميمونة، قالت عائشة: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعدل بيننا، فعدل بينهن عمر، ثم قال: إني بادئ بي وبأصحابي المهاجرين الأولين، فإنا أخرجنا من ديارنا ظلما وعدوانا ثم أشرفهم، ففرض لأصحاب بدر منهم خمسة آلاف، ولمن شهد بدرا من الأنصار أربعة آلاف، وفرض لمن شهد الحديبية ثلاثة آلاف، وقال: من أسرع في الهجرة أسرع به العطاء، ومن أبطأ في الهجرة أبطأ به العطاء، فلا يلومن رجل إلا مناخ راحلته. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عطیہ دینے میں فوقیت
11693 ۔۔۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ مجھے اھل مدینہ میں سے بہت سے اہل علم وصرف نے بتایا جو قریشی اور دیگر قبائل سے تعلق رکھتے تھے، اور بعض لوگ حدیث کو بیان کرنے میں دوسروں سے اچھے تھے، اور بعض لوگوں نے دیگر بعض کی نسبت حدیث میں کچھ اضافہ بھی بیان کیا ہے کہ جب حضرت عمر (رض) نے فہرستیں تیارکروائیں تو فرمایا کہ میں بنوھاشم سے شروع کرنے والاہوں کیونکہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں موجود تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنوہاشم کو دیتے تھے اور پھر بنوعبدالمطلب کو، اسی طریقے پر فہرست تیار کروائی اور پھر ان کو ایک ہی قبیلے کی طرح کجر دیا، پھر نسب کے لحاظ سے عبدالشمس اور بنونوفل والے برابر ہوگئے تو فرمایا کہ بنو عبدالشمس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماں باپ شریک بھائی ہیں جبکہ نوفل نہیں چنانچہ عبدالشمس کو مقدم رکھا، پھر ان کے فوراًبنو نوفل والوں کو بلایا، پھر عبدالدار والے برابر ہوگئے تو فرمایا کہ بنواسد بن عبدالعزی میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دامادی رشتے داری ہے اور انہی میں مطیبین بھی ہیں، بعض نے کہا کہ وہ اھل حلف الفضول میں سے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں میں سے تھے، اور یہ بھی کہا گیا کہ عبدالعزی والوں کی سبقت کا ذکر کیا اور ان کو عبدالعزی والوں پر مقدم کیا پھر ان کے فوراًبعد عبدالدار والوں کو بلایا پھر زعرۃ والے اکیلے رہ گئے توعبدالدار کے فوراًبعد زعرۃ والوں کو بلایاپھرتیم اور مخزوم والے برابر ہوگئے توبنو تیم والوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ اھل حلف الفضول میں سے ہیں اور ان میں مطیبین بھی ہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان میں سے ہیں، یہ بھی کہا گی کہ سبقت کو ذکر کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ سسرالی رشتے داری کو ذکر کیا گیا تیم والوں کو مخزوم والوں پر مقدم کیا گیا پھر فوراًمخزوم والوں کو بلایا گیا ، پھر سھم، جمح اور عدی بن کعب والے برابر ہوگئے کہا گیا کہ عدی والوں سے شروع کریں تو فرمایا کہ میں اپنے نفس کو اسی حالت میں رکھتاہوں جسم میں وہ پہلے تھا، جب اسلام آیا تو ہمارا اور بنوسھم کا معاملہ ایک تھا لیکن بنو جمح اور سھم کو دیکھو عرض کیا گیا کہ جمح کو مقدم کریں پھر بنو سھم کو بلایا اور عدی اور سھم والوں کی فہرست اس طرح ملی جلی تھی کہ گویا ایک ہی بلاواہو، جب یہ معاملہ پورا ہوگیا تو بلند آواز سے تکبیر کہی اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور پھر بنوعامر بن لوی سے میرا حصہ پہنچادیا۔
امام شافعی فرماتے ہیں کہ بعض راویوں نے کہا کہ حضرت ابوعبیدۃ بن عبداللہ بن الجراح الفہری (رض) نے جب اس کو مقدم ہوتے دیکھاتو فرمایا کہ کیا اس طرح سب میرے سامنے بلائے جاتے رہیں گے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اے ابوعبیدۃ ! (رض) صبرکروجی سے پہلے صبر کیا، یا اپنی قوم سے بات کرلو جس کو وہ اپنے قوم سے مقدم کریں گے تو میں منع نہیں کروں گا، رہا میں اور بنوعدی تو اگر تم چاہوگے تو میں تمہیں خودپر ترجیح دوں گا سو بنوالحارث بن فہر کے بعد معاویۃ کو مقدم کیا اور ان کے درمیان عبدمناف اور اسد بن عبدالعزی کو لائے پھر خلیفہ مہدی کے زمانے میں بنوسھم اور بنو عدی میں جھگڑارہا پھر ختم ہوگیا ، سومہدی نے بنو عدی کو مقدم کرنے کا حکم دیابنو سھم اور بنوجمح پر سبقت کی وجہ سے “۔ (سنن کبری بیھقی
امام شافعی فرماتے ہیں کہ بعض راویوں نے کہا کہ حضرت ابوعبیدۃ بن عبداللہ بن الجراح الفہری (رض) نے جب اس کو مقدم ہوتے دیکھاتو فرمایا کہ کیا اس طرح سب میرے سامنے بلائے جاتے رہیں گے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اے ابوعبیدۃ ! (رض) صبرکروجی سے پہلے صبر کیا، یا اپنی قوم سے بات کرلو جس کو وہ اپنے قوم سے مقدم کریں گے تو میں منع نہیں کروں گا، رہا میں اور بنوعدی تو اگر تم چاہوگے تو میں تمہیں خودپر ترجیح دوں گا سو بنوالحارث بن فہر کے بعد معاویۃ کو مقدم کیا اور ان کے درمیان عبدمناف اور اسد بن عبدالعزی کو لائے پھر خلیفہ مہدی کے زمانے میں بنوسھم اور بنو عدی میں جھگڑارہا پھر ختم ہوگیا ، سومہدی نے بنو عدی کو مقدم کرنے کا حکم دیابنو سھم اور بنوجمح پر سبقت کی وجہ سے “۔ (سنن کبری بیھقی
11697- الشافعي أخبرني غير واحد من أهل العلم والصدق من أهل المدينة ومكة من قبائل قريش ومن غيرهم وكان بعضهم أحسن اقتصاصا للحديث من بعض، وقد زاد بعضهم على بعض في الحديث: أن عمر بن الخطاب لما دون الدواوين قال: أبدأ ببني هاشم فإني حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيهم وبني المطلب، فإذا كان السن في الهاشمي قدمه على المطلبي وإذا كان في المطلبي قدمه على الهاشمي، فوضع الديوان على ذلك وأعطاهم عطاء القبيلة الواحدة، ثم استوت له عبد شمس ونوفل في جذم النسب، فقال: عبد شمس أخو النبي صلى الله عليه وسلم لأبيه وأمه دون نوفل فقدمهم، ثم دعا بني نوفل يتلونهم، ثم استوت له عبد العزي وعبد الدار، فقال: في بني أسد بن عبد العزي أصهار النبي صلى الله عليه وسلم وفيهم أنهم من المطيبين، وقال بعضهم: هم من حلف الفضول، وفيهما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد قيل: ذكر سابقة فقدمهم على بني عبد الدار ثم دعا بني عبد الدار يتلونهم، ثم انفردت له زهرة فدعاها تتلو عبد الدار، ثم استوت له تيم ومخزوم، فقال في بني تيم إنهم من حلف الفضول والمطيبين وفيهما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقيل: ذكر سابقة وقيل: ذكر صهرا فقدمهم على مخزوم، ثم دعا مخزوما يتلونهم ثم استوت له سهم وجمح وعدي بن كعب، فقيل له: ابدأ بعدي، فقال: بل أقر نفسي حيث كنت، فإن الإسلام دخل وأمرنا وأمر بني سهم واحد، ولكن انظروا بني جمح وسهم، فقيل: قدم بني جمح، ثم دعا بني سهم وكان ديوان عدي وسهم مختلطا كالدعوة الواحدة، فلما خلصت إليه دعوته كبر تكبيرة عالية، ثم قال: الحمد لله الذي أوصل إلي حظي من رسوله ثم دعا بني عامر بن لؤي، قال الشافعي: قال بعضهم: إن أبا عبيدة بن عبد الله بن الجراح الفهري لما رأى من تقدم عليه قال: أكل هؤلاء تدعو أمامي؟ فقال: يا أبا عبيدة اصبر كما صبرت أو كلم قومك فمن قدمك منهم على نفسه لم أمنعه، فأما أنا وبنو عدي فنقدمك إن أحببت على أنفسنا، فقدم معاوية بعد بني الحارث بن فهر فصل بهم بين عبد مناف وأسد بن عبد العزي، وشجر بين بني سهم وعدي شيء في زمان المهدي فافترقوا، فأمر المهدي ببني عدي فقدموا على سهم وجمح للسابقة فيهم. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11694 ۔۔۔ حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے ان آیات کی تلاوت فرمائی کہ ” صدقات توفقراء، اور مساکین کے لیے ہی ہیں “ سے لے کر ” حکیم علیم “۔ (سورة توبہ آیت 60)
” پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہے، پھر تلاوت فرمائی کہ جان لو کہ تمہیں جو کسی چیز سے غنیمت ملتی ہے تو اس کو خمس اللہ کے لیے ہے “۔ (سورة الانفال آیت 41)
پھر فرمایا کہ یہ آیت ان مہاجرین کے لیے ہے پھر اس کی تلاوت فرمائی کہ والذین تبو والدار والایمان الخ (الحشر آیت نمبر 9)
آخر آیت تک اور فرمایا کہ یہ آیت انصار کے لیے ہے، پھر تلاوت فرمائی ” وہ لوگ جوان کے بعد آئے “۔ (الحشر آیت نمبر 10) آخر آیت تک ، پھر فرمایا کہ اس آیت کے عموم میں تمام مسلمان شامل ہیں اور کوئی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق ہو علاوہ ان غلاموں کے جو تمہاری ملکیت میں ہیں، پھر فرمایا کہ اگر میں زندہ رہاتو بسر اور حمید کا چرواہا بھی اپنا حق لینے آئے گا اور اس کی پیشانی پر پسینہ بھی نہ آیا ہوگا “۔ (عبدالرزاق، ابوعبید )
” پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہے، پھر تلاوت فرمائی کہ جان لو کہ تمہیں جو کسی چیز سے غنیمت ملتی ہے تو اس کو خمس اللہ کے لیے ہے “۔ (سورة الانفال آیت 41)
پھر فرمایا کہ یہ آیت ان مہاجرین کے لیے ہے پھر اس کی تلاوت فرمائی کہ والذین تبو والدار والایمان الخ (الحشر آیت نمبر 9)
آخر آیت تک اور فرمایا کہ یہ آیت انصار کے لیے ہے، پھر تلاوت فرمائی ” وہ لوگ جوان کے بعد آئے “۔ (الحشر آیت نمبر 10) آخر آیت تک ، پھر فرمایا کہ اس آیت کے عموم میں تمام مسلمان شامل ہیں اور کوئی ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق ہو علاوہ ان غلاموں کے جو تمہاری ملکیت میں ہیں، پھر فرمایا کہ اگر میں زندہ رہاتو بسر اور حمید کا چرواہا بھی اپنا حق لینے آئے گا اور اس کی پیشانی پر پسینہ بھی نہ آیا ہوگا “۔ (عبدالرزاق، ابوعبید )
11698- عن مالك بن أوس بن الحدثان قال: قرأ عمر بن الخطاب: {إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ} حتى بلغ {عَلِيمٌ حَكِيمٌ} ، ثم قال: هذه لهؤلاء، ثم قرأ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} الآية، ثم قال: هذه لهؤلاء المهاجرين، ثم قرأ: {وَالَّذِينَ تَبَوَّأُوا الدَّارَ وَالْأِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} إلى آخر الآية، فقال: هذه للأنصار، ثم قرأ: {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ} إلى آخر الآية، ثم قال: استوعبت هذه الآية المسلمين عامة، وليس أحد إلا له في هذا المال حق إلا ما تملكون من رقيقكم، ثم قال: لئن عشت ليأتين الراعي وهو بسرو حمير نصيبه منها لم يعرق فيه جبينه. "عب وأبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11695 ۔۔۔ ہشام بن حسان فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمۃ نے فرمایا کہ میں مسجد کی طرف متوجہ ہوا تو ایک قریشی کو دیکھا جس نے ایک جوڑا زیب تن کررکھا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کس نے پہنایا ہے، اس نے کہا امیرالمومنین نے میں آگے بڑھا تو ایک اور قریشی دیکھا اس نے بھی جوڑا پہن رکھا تھا میں نے پوچھا کہ تجھے کس نے پہنایا ، اس نے کہا امیرلمومنین نے، پھر مسجد میں داخل ہوا اور بلند آواز سے تکبیر کہی اور کہا کہ اللہ اکبر سچ کہا اللہ اور اس کے رسول نے اللہ اکبر سچ کہا اللہ اور اس کے رسول نے، حضرت عمر (رض) نے اس کی آواز سن لی، تو اس کو بلا بھیجا، دوسری طرف سے نمائندے کو واپس بھیج دیا گیا کہ جس کام وہ آیا تھا کرگیا تھا۔
محمد بن مسلمۃ کہتے ہیں کہ ” میں نے بھی یہ سوچ لیا تھا کہ جب تک دو رکعت نہ پڑھ لوں نہیں جاؤں گا “۔ چنانچہ نماز شروع کردی ، حضرت عمر (رض) ان کے پہلومین آکھڑے ہوئے جب انھوں نے نماز مکمل کی تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ مجھے بتاؤ کہ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز گاہ میں بلند آواز سے تکبیر کیوں کہی۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ، کیوں کہا، تو انھوں نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین ! میں مسجد کی طرف آرہا تھا کہ مجھے فلاں بن فلاں قریشی ملا اس نے جوڑا پہن رکھا تھا میں نے پوچھا کہ کس نے پہنایا تو اس نے کہا کہ امیرالمومنین نے پھر میں آگے بڑھاتو فلاں بن فلاں قریشی کو دیکھا اس نے بھی جوڑا پہن رکھا تھا میں نے پوچھا کہ کس نے پہنایا تو اس نے کہا کہ امیرالمومنین نے پھر میں آگے بڑھا تو مجھے فلاں بن فلاں انصاری ملا اس نے بھی جوڑا پہن رکھا تھا جو ان دونوں جوڑوں سے کم تھا میں نے پوچھا کہ کس نے پہنایا تو اس نے کہا کہ امیرالمومنین نے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تم ضرور میرے بعد تبدیلی دیکھوگے، اور اے امیرالمومنین ! میں نہیں چاہتا کہ تبدیلی آپ کے دور میں ہو، فرماتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت عمر (رض) رونے لگے اور فرمایا کہ میں اللہ سے معافی مانگتاہوں خدا کی قسم دوبارہ نہ کروں گا فرمایا کہ اس دن کے بعد کسی نے نہیں دیکھا کہ کسی قریشی کو کسی انصاری پر فضیلت دی گئی ہو۔
محمد بن مسلمۃ کہتے ہیں کہ ” میں نے بھی یہ سوچ لیا تھا کہ جب تک دو رکعت نہ پڑھ لوں نہیں جاؤں گا “۔ چنانچہ نماز شروع کردی ، حضرت عمر (رض) ان کے پہلومین آکھڑے ہوئے جب انھوں نے نماز مکمل کی تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ مجھے بتاؤ کہ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز گاہ میں بلند آواز سے تکبیر کیوں کہی۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ، کیوں کہا، تو انھوں نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین ! میں مسجد کی طرف آرہا تھا کہ مجھے فلاں بن فلاں قریشی ملا اس نے جوڑا پہن رکھا تھا میں نے پوچھا کہ کس نے پہنایا تو اس نے کہا کہ امیرالمومنین نے پھر میں آگے بڑھاتو فلاں بن فلاں قریشی کو دیکھا اس نے بھی جوڑا پہن رکھا تھا میں نے پوچھا کہ کس نے پہنایا تو اس نے کہا کہ امیرالمومنین نے پھر میں آگے بڑھا تو مجھے فلاں بن فلاں انصاری ملا اس نے بھی جوڑا پہن رکھا تھا جو ان دونوں جوڑوں سے کم تھا میں نے پوچھا کہ کس نے پہنایا تو اس نے کہا کہ امیرالمومنین نے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ تم ضرور میرے بعد تبدیلی دیکھوگے، اور اے امیرالمومنین ! میں نہیں چاہتا کہ تبدیلی آپ کے دور میں ہو، فرماتے ہیں کہ یہ سن کر حضرت عمر (رض) رونے لگے اور فرمایا کہ میں اللہ سے معافی مانگتاہوں خدا کی قسم دوبارہ نہ کروں گا فرمایا کہ اس دن کے بعد کسی نے نہیں دیکھا کہ کسی قریشی کو کسی انصاری پر فضیلت دی گئی ہو۔
11699- عن هشام بن حسان، قال قال محمد بن مسلمة: توجهت إلى المسجد فرأيت رجلا من قريش عليه حلة فقلت: من كساك هذه؟ قال: أمير المؤمنين، قال: فدخل المسجد فرفع صوته بالتكبير، فقال: الله أكبر صدق الله ورسوله، الله أكبر صدق الله ورسوله، قال: فسمع عمر صوته، فبعث إليه أن ائتني، فقال: حتى أصلي ركعتين، فرد عليه الرسول يعزم عليه لما جاء، فقال محمد بن مسلمة، وأنا أعزم على نفسي أن لا آتيه حتى أصلي ركعتين، فدخل في الصلاة، وجاء عمر فقعد إلى جنبه فلما قضى صلاته قال: أخبرني عن رفعك صوتك في مصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتكبير وقولك صدق الله ورسوله ما هذا؟ قال: يا أمير المؤمنين أقبلت أريد المسجد فاستقبلني فلان بن فلان القرشي عليه حلة، قلت: من كساك هذه؟ قال: أمير المؤمنين فجاوزت، فاستقبلني فلان بن فلان القرشي عليه حلة، قلت من كساك هذه؟ قال: أمير المؤمنين، فجاوزت فاستقبلني فلان بن فلان الأنصاري عليه حلة دون الحلتين، فقلت من كساك هذه؟ قال: أمير المؤمنين إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أما إنكم سترون بعدي أثرة، وإني لم أحب أن تكون على يديك يا أمير المؤمنين، قال: فبكى عمر ثم قال: أستغفر الله والله ولا أعود قال: فما رئي بعد ذلك اليوم فضل رجلا من قريش على رجل من الأنصار. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11696 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) جب نماز ادافرمالیتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ جاتے اگر کسی کو کوئی ضرورت ہوتی تو بات کرلیتا اور اگر کسی کو کوئی ضرورت نہ ہوتی تو کھڑے ہوجاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے اور اس میں نہ بیٹھتے ، میں نے پوچھا کہ اے یرفا ! کیا امیرالمومنین کو کوئی تکلیف ہے ؟ تو انھوں نے کہا کہ نہیں امیرالمومنین کو کوئی تکلیف نہیں، میں بیٹھ گیا، پھر حضرت عثمان بن عفان (رض) تشریف لائے اور بیٹھ گئے، اور یرفاچلے گئے اور کہتے گئے اے ابن عفان اے ابن عباس ! کھڑے ہوجاؤ، پھر ہم حضرت عمر (رض) کے پاس پہنچے ، تو دیکھا کہ ان کے سامنے مال کا ڈھیر ہے اور ہر ڈھیر پر ایک تھیلا ہے، حضرت عمر (رض) فرمایا کہ میں نے اھل مدینہ کو دیکھاتوتم دونوں کو سب سے بڑے خاندان والاپایا، سو تم دونوں یہ مال لے لو اور تقسیم کرلو اور جو بچ جائے واپس کردوتو حضرت عثمان (رض) نے لپ بھر لی ، اور میں نے گھٹنوں تک جھولی بھری اور کہا کہ اگر ہمیں کم پڑگیا تو کیا آپ ہمیں اور زیادہ دیں گے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ پہاڑکاپتھر، کیا یہ مال اللہ کے پاس اس وقت تک نہ تھا جب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھی تکلیفیں اٹھاتے تھے ؟ میں نے کہا کہ ہاں خدا کی قسم یہ اللہ کے پاس اس وقت بھی تھا جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ تھے اگر ان کی حیات مبارکہ میں یہ فتوحات ہوتیں وہ وہ نہ کرتے جو آپ کرتے ہیں، حضرت عمر (رض) غصے میں آگئے اور فرمایا کہ پھر کیا کرتے ؟ میں نے کہا کہ پھر وہ خودکھاتے اور ہمیں کھلاتے ، حضرت عمر (رض) روپڑے اور ایسا روئے کہ ان کی ہچکیاں بندھ گئیں حتیٰ کہ سنبھلنا مشکل ہوگیا، میرا جی چاہتا ہے کہ اس میں سے قدر ضرورت نکالوں جو نہ میرے لیے ہو اور نہ مجھ پر ہو۔ (حمید، ابن سعد، بزار، سعیدبن منصور، شاشی، سنن کبری بیھقی)
11700- عن ابن عباس قال: كان عمر بن الخطاب إذا صلى صلاة جلس للناس فمن كان له حاجة كلمه، وإن لم يكن لأحد حاجة قام فصلى صلوات للناس لا يجلس فيهن، فقلت: يا يرفأ أبأمير المؤمنين شكاة، فقال: ما بأمير المؤمنين شكاة، فجلست فجاء عثمان بن عفان، فجلس فخرج يرفأ فقال: قم يا ابن عفان، قم يا ابن عباس، فدخلنا على عمر، فإذا بين يديه صبر من مال على كل صبرة منها كتف فقال: إني نظرت إلى أهل المدينة فوجدتكما أكثر أهلها عشيرة فخذا هذا المال فاقتسماه فما كان من فضل فردا، فأما عثمان فحثا، وأما أنا فجثوت لركبتي، وقلت وإن كان نقصان رددت علينا؟ فقال عمر: شنشنة من أخشن يعني حجرا من جبل، اما كان هذا عند الله إذ محمد صلى الله عليه وسلم وأصحابه يأكلون القد؟ فقلت: بلى والله لقد كان هذا عند الله ومحمد حي ولو عليه فتح لصنع فيه غير الذي تصنع، فغضب عمر، وقال: إذن صنع ماذا؟ قلت: إذا لأكل واطعمنا، فنشج عمر حتى اختلفت أضلاعه، ثم قال: وددت أني خرجت منها كفافا لا لي ولا علي. "الحميدي وابن سعد والعدني والبزار ص والشاشي هق ص".
তাহকীক: