কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৬৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ
11657 ۔۔۔ جہم بن ابی جہم کہتے ہیں کہ خالد بن عرفطۃ العذری حضرت عمر (رض) کے پاس آئے، حضرت عمر (رض) نے ان کے پیچھے رہ جانے والوں (گھربار اور قبیلے) کے بارے میں دریافت فرمایا، تو انھوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین میں اپنے پیچھے ایسے لوگوں کو چھوڑآیاہوں جو آپ کی عمر میں برکت کی دعا مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ سے، جو بھی قادسیہ گیا تھا اس کا وظیفہ سو اور دو ہزار یاپندرہ سو تک ہے، اور جو بھی نومولود بچہ یا بچی پیدا ہوئی ہے اس کا بھی وظیفہ سو اور دوجریب ہر ماہ مقرر کیا گیا ہو ہے، اور ہمارے ہاں جو بچہ بھی بالغ ہوا ہے اس کا وظیفہ پانچ سو سے چھ سو تک جاپہنچا ہے ، سو اگر یہ نکالے اپنے گھر والوں کے لیے جن میں سے بعض کھاتے ہیں بعض نہیں کھاتے تو آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا وہ ان چیزوں میں خرچ کرے جو مناسب ہیں اور ان میں بھی جو مناسب نہیں ؟

حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اللہ ہی مددگار ہے، یہ تو انہی کا حق ہے ان کودے دو ، اور میں خوش قسمت ہوں کہ میں نے یہ لے کر ان کو ان کا حق ادا کردیا ہے، سو اس پر میری تعاریف نہ کرو کیونکہ اگر یہ خطاب کے مال سے ہوتا تو میں اس کو ہرگز نہ دیتا، لیکن میں جانتاہوں کہ اس میں فضیلت ہے اور میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اس کو ان سے روک رکھوں، سو اگر ان دیہاتیوں میں سے کسی کی عطا نکل گئی تو وہ اس سے بکریاں خریدلے اور اس کو اپنے جنگل میں رکھ لے، پھر اگر دوسری مرتبہ کسی کی عطانکل گئی تو اس سے غلام خرید لے اور اس کو بھی وہیں رکھے، کیونکہ میں (تجھے سمجھ آئے) اے خالد بن عرفطۃ ! اس بات سے ڈرتاہوں کہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو اپنے زمانے میں عطاکومال نہ گنیں گے، سو اگر ان میں سے کوئی باقی ہوا، یا ان کی اولادوں میں سے تو ان کے لیے وہ چیز ہوگی جس کی وہ امید رکھتے اور اسی پر تکہ بیٹھے تھے، سو میری نصیحت تیرے لیے بھی وہی ہے جیسے اس شخص کے لیے جو اسلامی علاقوں کی انتہائی سرحد پر ہو حالانکہ تو میرے پاس ہی بیٹھا ہے، اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا معاملہ میرے حوالے کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ اپنی رعایا سے دھوکا کرنے والا تھا وہ جنت کی خوشبو بھی سونگھ نہ سکے گا “۔ (ابن سعد)
11661- عن جهم بن أبي جهم قال: قدم خالد بن عرفطة العذري على عمر، فسأله عما وراءه؟ فقال: يا أمير المؤمنين تركت من ورائي يسألون الله أن يزيد في عمرك من أعمارهم، ما وطيء أحد القادسية إلا عطاؤه ألفان أو خمس عشرة مائة، وما من مولود يولد إلا ألحق على مائة وجريبين كل شهر ذكرا كان أو أنثى، وما بلغ لنا ذكر إلا ألحق على خمسمائة أو ستمائة، فإذا خرج هذا لأهل بيت منهم من يأكل الطعام ومنهم من لا يأكل الطعام فما ظنك به؟ فإنه لينفقه فيما ينبغي، وفيما لا ينبغي، قال عمر: فالله المستعان، إنما هو حقهم أعطوه، وأنا أسعد بأدائه إليهم منهم بأخذه، فلا تحمدني عليه، فإنه لو كان من مال الخطاب ما أعطيتموه ولكني قد علمت أن فيه فضلا، ولا ينبغي أن أحبسه عنهم، فلو أنه إذا خرج عطاء أحد هؤلاء العريب ابتاع منه غنما فجعلها بسوادهم ثم أنه إذا خرج العطاء الثانية ابتاع الرأس فجعله فيها، فأنى ويحك يا خالد بن عرفطة أخاف أن يليكم بعدي ولاة لا يعد العطاء في زمانهم مالا فإن بقي أحد منهم أو أحد من ولدهم كان لهم شيء قد اعتقدوه فيتكئون عليه فإن نصيحتي لك وأنت عندي جالس كنصيحتي لمن هو بأقصى ثغر من ثغور المسلمين، وذلك لما طوقني الله من أمرهم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من مات غاشا لرعيته لم يرح رائحة الجنة. "ابن سعد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے تقسیم کرنا
11658 ۔۔۔ حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت حذیفہ کو لکھا کہ لوگوں کے عطیے اور وظیفے دے دو ، انھوں نے جواب دیا کہ ہم دے چکے لیکن پھر بھی ابھی بہت باقی ہے، تو حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ یہ انہی کا حصہ ہے جو اللہ نے ان کو دیا ہے وہ نہ عمرکا ہے نہ عمر کی اولاد کا، باقی ماندہ کو بھی تقسیم کردو “۔ (ابن سعد)
11662- عن الحسن قال: كتب عمر إلى حذيفة أن أعط الناس أعطيتهم وأرزاقهم، فكتب إليه: إنا قد فعلنا وبقي شيء كثير، فكتب إليه عمر أنه فيئهم الذي أفاء الله عليهم، ليس هو لعمر، ولا لآل عمر، إقسمه بينهم. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے تقسیم کرنا
11659 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ چند تاجردوست آئے اور معلی میں ٹھہرے، تو حضرت عمر (رض) نے حضر عبدالرحمن بن عوف (رض) سے فرمایا کہ کیا خیال ہے ؟ کیا آج رات ہم ان کو چوری سے بچانے کے لیے ان کی چوکیداری کریں ؟ چنانچہ دونوں نے ان پہرے داری کرتے ہوئے رات گزاری اور نماز پڑھتے رہے جتنی اللہ نے ان کے نصیب میں لکھی تھی، اتنے میں حضرت عمر (رض) نے ایک بچے کی رونے کی آواز سنی تو اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اس کی ماں سے کہا کہ اللہ سے ڈر اور اپنے بچے کے ساتھ اچھا معاملہ کر یہ کہہ کر واپس آگئے، پھر بچے کے رونے کی آواز سنی، اس کی مان کے پاس واپس آئے اور اس سے اسی طرح کہا، اور اپنی جگہ واپس آگئے، رات کے آخری پہر انھوں نے پھر بچے کی رونے کی آوازسنی تو اس کی ماں کے پاس واپس آئے اور فرمایا کہ تو برباد ہو، میرے خیال میں تو اچھی ماں نہیں ہے، بھلا کیا مسلہ ہے کہ رات بھرتیرا بچہ بےچین رہا ہے ، وہ کہنے لگی کہ اے اللہ کے بندے ! میں رات سے پریشان ہوں کیونکہ میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں اور یہ انکار کرتا ہے، آپ نے (رض) نے دریافت فرمایا کیوں ؟ کہنے لگی اس لیے کہ حضرت عمر (رض) اسی بچے کے لیے وظیفہ مقرر کرتے ہیں جس کا دودھ چھڑایا جاچکا ہو، پھر پوچھا کہ اس کا کتنا ہوگا ؟ عورت نے فرمایا کہ اتنا اتنا ماہوار فرمایا تو برباد ہو جلدی مت کر، پھر فجر کی نماز پڑھائی، اور اسی دن نماز میں اتنا رو رہے تھے کہ لوگ ٹھیک سے آواز نہ سن پا رہے تھے، سو جب سلام پھیرا تو فرمایا کہ ہائے تمہارے عمر کی بربادی، مسلمانوں کے بچے قتل کردئیے، پھر اعلان کرنے والے کو حکم دیاتو اس نے اعلان کیا کہ اپنے بچوں کو دودھ چھوڑانے میں جلدی نہ کروہم ہرنومولود مسلمان بچے کے لیے وظیفہ مقرر کردیتے ہیں، اور یہ حکم تمام ممالک اسلامیہ میں پہنچادیا کہ مسلمانوں کے ہر پیدا ہونے والے بچے کا وظیفہ مقرر کیا جائے گا “۔ (ابن سعد اور ابوعبید فی الاموال)
11663- عن ابن عمر قال: قدمت رفقة من التجار، فنزلوا المصلى، فقال عمر لعبد الرحمن بن عوف: هل لك أن نحرسهم الليلة من السرق؟ فباتا يحرسانهم، ويصليان ما كتب الله لهما فسمع عمر بكاء صبي فتوجه نحوه، فقال لأمه: اتقي الله وأحسني إلى صبيك، ثم عاد إلى مكانه فسمع بكاءه، فعاد إلى أمه، فقال لها: مثل ذلك، ثم عاد إلى مكانه، فلما كان في آخر الليل سمع بكاءه، فأتى أمه، فقال: ويحك إني لأراك أم سوء، مالي أرى ابنك لا يقر منذ الليلة؟ قالت: يا عبد الله قد أبرمتني منذ الليلة إني أريغه عن الفطام فيأبى، قال: ولم؟ قالت: لأن عمر لا يفرض إلا للفطيم، قال: وكم له؟ قالت: كذا وكذا شهرا، قال: ويحك لا تعجليه، فصلى الفجر وما يستبين الناس قراءته من غلبة البكاء فلما سلم قال: يا بؤسا لعمر كم قتل من أولاد المسلمين، ثم أمر مناديا فنادى ألا لا تعجلوا صبيانكم عن الفطام، فإنا نفرض لكل مولود في الإسلام وكتب بذلك إلى الآفاق: إنا نفرض لكل مولود في الإسلام. "ابن سعد وأبو عبيد في الأموال كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے تقسیم کرنا
11660 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں میں نے سنا حضرت عمر (رض) فرما رہے تھے خدا کی قسم اگر میں اگلے سال تک رہاتو میں لوگوں میں سے سب سے آخری کو پہلے سے ملادوں گا اور ان سب کو ایک ہی طریقے پر بنادوں گا “۔ (ابوعبید اور ابن سعد)
11664- عن أسلم قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: والله لئن بقيت إلى هذا العام المقبل لألحقن آخر الناس بأولهم، ولأجعلنهم بيانا واحدا. "أبو عبيد وابن سعد". مر برقم [11655] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے تقسیم کرنا
11661 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر میں مال بڑھ جانے تک زندہ رہاتو میں ایک مسلم آدمی کا وظیفہ تین ہزرتک پہنچادوں گا، ہزار اس کے اسلحہ اور جانوروں کے لیے ہزار اس کے خرچے کے لیے اور ہزار اس کے گھروالون کے خرچے کے لیے “۔ (ابن سعد)
11665- عن عمر قال: لئن عشت حتى يكثر المال لأجعلن عطاء الرجل المسلم ثلاثة آلاف: ألف لكراعه وسلاحه، وألف نفقة له، وألف نفقة لأهله. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے تقسیم کرنا
11662 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر مجھے اپنا حصہ معلوم ہوتا توحمیر کے سرداروں کا چرواہا بھی اپن حصہ لینے آجاتا اور اس کی پیشانی پر پسینہ تک نہ آتا “۔ (ابو عبید بی الغرانب اور ابن سعد)
11666- عن عمر قال: لو قد علمت نصيبي من هذا الأمر ليأتي الراعي بسروات حمير نصيبه وهو لا يعرق جبينه فيه. "أبو عبيد في الغرائب وابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے تقسیم کرنا
11663 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اھل مکہ میں ایک مرتبہ دس دس تقسیم فرمائے، ایک شخص کو دیاتو عرض کیا گیا کہ اے امیرالمومنین ! وہ تو مملوک غلام ہے تو فرمایا کہ اس کو بلالاؤ پھر فرمایا کہ چھوڑو جانے دو “۔ (ابن سعد)
11667- عن عمرو قال: قسم عمر بن الخطاب بين أهل مكة مرة عشرة عشرة، فأعطى رجلا فقيل يا أمير المؤمنين إنه مملوك، قال: ردوه ردوه ثم قال: دعوه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے چار حصے تقسیم کرنا
11664 ۔۔۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میں ان کو صاع میں بھر بھر کر مال دوں گا “۔ (ابن سعد)
11668- عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال عمر: إني لأرجو أن أكيل لهم المال بالصاع. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11665 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت عمر (رض) ہمارے پاس ہمارے وظائف بھیجا کرتے تھے اور غلام اور جانور وغیرہ بھی “۔ (ابن سعد)
11669- عن عائشة قالت: كان عمر بن الخطاب يرسل إلينا بأعطائنا حتى من الرؤس والأكارع. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11666 ۔۔۔ عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ خدا کی قسم جب تک مال بڑھتا رہے گا میں وظائف بھی بڑھاتا رہوں گا ، اور ان کے لیے تیار کر رکھوں گا، بیشک میں اپنے ساتھیوں کے لیے پیمانے بھربھر کردوں گا کیونکہ میرے ساتھی (عوام) بہت ہیں چنانچہ میں ان کو مٹھیاں بھربھر کر بےحساب دوں گا، وہ انہی کا مال ہے جو وہ لیتے ہیں “۔ (ابن سعد)
11670- عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال قال عمر بن الخطاب: والله لأزيدن الناس ما زاد المال، لأعدنه لهم عدا، فإن أعياني لأكيلنه لهم كيلا فإن أعياني كثرته لأحثونه لهم حثوا بغير حساب، هو ما لهم يأخذونه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11667 ۔۔۔ حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسی (رض) کو لکھا کہ امابعد، جان لو کہ آج سال کا وہ دن ہے کہ بیت المال میں ایک درھم بھی باقی نہیں رہا بلکہ بالکل جھاڑو پھر گئی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ بیت المال میں ایک درھم بھی باقی نہیں رہا بلکہ بالکل جھاڑو پھر گئی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ میں نے ہر حق دار کا حق ادا کردیا ہے “۔ (ابن سعد)
11671- عن الحسن قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى: أما بعد فاعلم يوما من السنة لا يبقى في بيت المال درهم حتى يكتسح اكتساحا حتى يعلم الله أني قد أديت إلى كل ذي حق حقه. "ابن سعد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11668 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے بلایا ، میں آیا تو دیکھا کہ ان کے سامنے ایک چمڑے کی چٹائی بچھی ہوئی ہے اور اس پر مٹھیاں بھربھر سونا بکھرا پڑا ہے، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کیا آپ کو معلوم ہے کہ مٹھی بھر کیا ہے ؟ توڈلی کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ یہاں آؤ اور یہ اپنی قوم کے درماین قسیم کردو، اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ کیوں اس کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے دور رکھا گیا اور مجھے دیا گیا، کسی بھلائی کے لیے مجھے دیا گیا یا برائی کے لیے ؟ پھر روپڑے اور فرمایا کہ ہرگز نہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابو بکرصدیق (رض) سے کسی برائی کی وجہ سے نہیں روکا گیا، اور نہ عمرکودیا گیا کسی بھلائی کے لیے “۔ (ابوعبید فی الاموال ، ابن سعد، ابن راھویہ، شاشی)
11672- عن ابن عباس قال: دعاني عمر بن الخطاب، فأتيته فإذا بين يديه نطع عليه الذهب منثور نثر الحثا، فقال ابن عباس أتدري ما الحثا؟ فذكر التبن، فقال: هلم فاقسم هذا بين قومك، فالله أعلم حيث زوى هذا عن نبيه صلى الله عليه وسلم، وعن أبي بكر، فأعطيته، لخير أعطيته أم لشر؟ ثم بكى، وقال: كلا والذي نفسي بيده ما حبسه عن نبيه وعن أبي بكر إرادة الشر بهما، وأعطاه عمر إرادة الخير له. "أبو عبيد في الأموال وابن سعد وابن راهويه والشاشي" وحسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11669 ۔۔۔ محمد سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے ایک داماد حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور درخواست کی کہ انھیں بیت المال سے کچھ دیا جائے تو حضرت عمر (رض) نے ان کو ڈانٹا اور فرمایا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ سے خائن بادشاہ بن کر ملوں، اس کے بعدان کو اپنے ذاتی مال سے دس ہزار درہم دیئے۔ (ابن سعد، ابن جریر)
11673- عن محمد بن سيرين أن صهرا لعمر بن الخطاب قدم على عمر فعرض له أن يعطيه من بيت المال؟ فانتهره عمر فقال: أردت أن ألقى الله ملكا خائنا؟ فلما كان بعد ذلك أعطاه من صلب ماله عشرة آلاف درهم. "ابن سعد وابن جرير كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11670 ۔۔۔ حضرت فرماتے ہیں کہ اگر میں باقی رہا تو کم ترین لوگوں کا وظیفہ بھی دو ہزار کردوں گا “۔ (ابن سعد)
11674- عن عمر قال: لئن عشت لأجعلن عطاء سفلة الناس ألفين. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11671 ۔۔۔ یزید بن ابی حبیب (جنہوں نے یہ زمانہ پایا) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمروبن العاص (رض) سے فرمایا کہ آپ سے پہلے وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک پر بیت کی تھی ان کو دودوسو دینار وظیفہ مکمل دو ، اور اس کو اپنے لیے اور اپنی اھلیہ کے لیے مکمل کرلو اور خارجہ بن حذافہ کو بھی مکمل دوسودینار دو کیونکہ بہت بہادر آدمی ہیں اور عثمان بن قیس بن ابی العاص کو بھی مکمل دو کیونکہ وہ بہت مہمان نواز ہے “۔ (ابن سعد، ابوعبید فی الاموال اور ابن عبدالحکم)
11675- عن يزيد بن أبي حبيب: من أدرك ذلك، قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمرو بن العاص: أنظر من كان قبلك ممن بايع النبي صلى الله عليه وسلم تحت الشجرة فأتم لهم العطاء مائتي دينار وأتمها لنفسك لإمرتك وأتمها لخارجة بن حذافة لشجاعته ولعثمان بن قيس ابن أبي العاص لضيافته. "ابن سعد وأبو عبيد في الأموال وابن عبد الحكم كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11672 ۔۔۔ عبداللہ بن ھبیرۃ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ناذرۃ کو حکم دیا کہ لشکروں کے امراء کے پاس جاؤجورعایا کی طرف واپس آرہے ہیں اور ان سے کہو کہ ان کے وظائف برقرار ہیں اور ان کے گھر والوں کے وظائف بھی بہے جارہے ہیں سو کھیتی وغیرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں “۔ (ابن عبدالحکم)
11676- عن عبد الله بن هبيرة أن عمر بن الخطاب أمر بناذرة أن يخرج إلى أمراء الأجناد يتقدمون إلى الرعية أن عطاءهم قائم، وأن أرزاق عيالاتهم سائل فلا يزرعون ولا يزارعون. "ابن عبد الحكم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ازواج مطہرات (رض) کے لیے وظائف
11673 ۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) مجھے مدینہ میں اپنا خلیفہ بناکر جایا کرتے تھے اور جب بھی واپس آتے مجھے کھجوروں کا ایک باغ عطا فرماتے “۔ (ابن سعد)
11677- عن زيد بن ثابت قال: كان عمر يستخلفني على المدينة فوالله ما رجع من مغيب قط إلا قطع لي حديقة من نخل. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے عطیہ
1174 ۔۔۔ یحییٰ بن عبداللہ بن مالک فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمروبن العاص (رض) کی طرف لکھا کہ کھانے پینے کا سامان لے کر مصر سے سمند رکے راستے لے کر آئیں اور ساحل پر لنگر انداز ہوں اور ساحل لوگوں کے حالات اور گھروالوں کے مطابق تقسیم تھا اور اھل مدینہ تو چاروں چرف سے گھرے ہوئے تھے، مدینہ کی ایسی نہ تھی جہاں کھیتی باڑی ہوسکے، چنانچہ حضرت عمروبن العاص (رض) نے مصر سے بیس کشتیوں میں سامان بھیجا ، ہر کشتی میں تین ہزار ارب کم وبیش دانے تھے حتیٰ کہ کشتیاں ساحل کے کنارے آنے لگیں ساحل بھی چمک رہا تھا،حضرت عمر (رض) اور بڑے بڑے صحابہ کرام (رض) ان کے استقبال کے لیے پہنچے ، آپ (رض) نے جب کشتیوں کو دیکھا تو اللہ کا شکریہ ادا کیا جس نے مسلمانوں کے لیے سمندر کو مسخر کردیاتھاتا کہ اس میں مسلمانوں کے فائدے مدینہ تک جاپہنچ سکیں اور حضرت سعد (رض) کو حکم دیا کہ کھانے کا سامان کو وصول کرلیں اور پوراپورا دیں، پھر جب حضرت عمر (رض) مدینہ منورہ واپس آئے تو یہ کھانے کا سامان لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا، اور لوگوں کے لیے پرچیاں لکھ دیں جو وہ لے کرجاتے اور کھانا وصول کرتے “۔ (ابن سعد)
11678- عن يحيى بن عبد الله بن مالك أن عمر بن الخطاب كتب إلى عمرو بن العاص: أن يحمل طعاما من مصر في البحر حتى يرسي به إلى بولاء، وكان الساحل يقسمه على الناس على حالاتهم وعيالاتهم، وإن أهل المدينة قوم محصورون، وليست بأرض زرع فبعث عمرو بن العاص بعشرين مركبا في البحر، وبعث في كل مركب ثلاثة آلاف إردب حب وأكثر وأقل حتى انتهت إلى الجار وهو المرفأ اليوم وبلغ عمر بن الخطاب قدومها فخرج وخرج معه الأكابر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنظر إلى السفن فحمد الله الذي ذلل لهم البحر حتى جرت فيه منافع المسلمين إلى المدينة وأمر سعد الجار أن يقبض ذلك الطعام وإن يستوفيه، فلما قدم عمر المدينة قسم ذلك الطعام على الناس، وكتب لهم بالصكاك إلى الجار فكانوا يخرجون ويقبضون ذلك. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے عطیہ
11675 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن ابی ھذیل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمار، حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت عثمان ابن حنیف (رض) کو وظیفہ عطا فرمایا، ہر روز ایک بکری، اس کا پیٹ اور ایک حصہ حضرت عمار (رض) کے لیے ، ایک چوتھائی حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کے لیے اور ایک چوتھائی حضرت عثمان (رض) بن حنیف کے لیے “۔ (ابن سعد)
11679- عن عبد الله بن أبي هذيل أن عمر رزق عمارا وابن مسعود وعثمان بن حنيف، شاة لعمار شطرها وبطنها، ولعبد الله ربعها، ولعثمان ربعها كل يوم. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے عطیہ
11676 ۔۔۔ سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ ایک شخص سال کے آٹھویں مہینے انتقال کرگیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کو وظیفہ کا دوتہائی عطا فرمایا۔ (ابو عبید فی الاموال)
11680- عن سماك بن حرب قال: حدثني إسحاق أن رجلا مات بعد ثمانية أشهر من السنة فأعطاه عمر بن الخطاب ثلثي عطائه. "أبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক: