কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৬৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11637 ۔۔۔ سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نو مولود بچے کے لیے بھی وظیفہ مقرر فرماتے۔ “(ابن ابی شیبہ ، متفق علیہ)
11641- عن سعيد بن المسيب أن عمر كان يفرض للصبي إذا استهل. "ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11638 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو خلیفہ بنایا گیا تو آپ نے فرائض مقررفرمائے، رجسٹرتیار کروائے اور اجنبیوں باہم روشناس کرایا ، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے میرے ساتھیوں سے روشناس کروایا “۔ (ابن ابی شیبہ ، متفق علیہ)
11642- عن جابر قال: لما ولي عمر الخلافة فرض الفرائض ودون الدواوين، وعرف العرفاء، قال جابر: فعرفني على أصحابي. "ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11639 ۔۔۔ مخلد الغفاری فرماتے ہیں کہ تین مملوک غلاموں نے بدر میں شرکت کی چنانچہ حضرت عمر (رض) ان سے ہر ایک کو ہر سال تین ہزار دیتے۔ (ابوعبید فی الاموال، ابن ابی شیبہ، متفق علیہ)
11643- عن مخلد الغفاري أن ثلاثة مملوكين شهدوا بدرا، فكان عمر يعطي كل رجل منهم كل سنة ثلاثة آلاف. "أبو عبيد في الأموال ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11640 ۔۔۔ ابوجعفر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو وظائف مقرر کرنے شروع کئے تو لوگوں نے عرض کیا کہ آپ دینی ذات سے شروع کریں تو فرمایا نہیں، پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قربت کا لحاظ کرتے ہوئے دینا شروع کیا، چنانچہ پہلے حضرت عباس (رض) پھر حضرت علی (رض) کے لیے پھر پانچ قبیلوں کے درمیان یہاں تک کہ بنوعدی بن کعب پر انتہا ہوگئی “۔ (ابن ابی شیبہ، متفق علیہ)
11644- عن أبي جعفر أن عمر أراد أن يفرض للناس، فقالوا: ابدأ بنفسك، فقال: لا، فبدأ بالأقرب فالأقرب من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ففرض للعباس، ثم علي حتى والى بين خمس قبائل، حتى انتهى إلى بني عدي بن كعب. "ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11641 ۔۔۔ قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اھل بدر کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے اور فرمایا کہ میں ان کو باقی لوگوں پر ضرور فضیلت دوں گا “۔ (ابو عبید، ابن ابی شیبہ، بخاری، متفق علیہ)
11645- عن قيس بن أبي حازم أن عمر بن الخطاب فرض لأهل بدر خمسة آلاف، وقال: لأفضلنهم على من سواهم. "أبو عبيد ش خ ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11642 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر میں باقی رہاتو ایک شخص کا وظیفہ چار ہزار تک کروں گا، ایک ہزار اسلحے کے لئے، ایک ہزارخرچے کے لئے، ایک ہزار گھر والوں کے لئے، اور ایک ہزار گھوڑے کے لیے “۔ (ابن ابی شیبہ، متفق علیہ)
11646- عن عمر قال: لئن بقيت لأجعلن عطاء الرجل أربعة آلاف: ألف لسلاحه، وألف لنفقته، وألف يخلفها في أهله، وألف لفرسه. "ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11643 ۔۔۔ حضرت انس (رض) بن مالک اور سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مہاجرین کے لیے پانچ پانچ ہزار اور انصار کے لیے چار چار ہزار وظیفہ مقرر فرمایا، اور مہاجرین کی اولادوں میں سے جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت نہ کی تھی ان کا بھی چار ہزار وظیفہ مقررہوا۔

ان میں عمر بن ابی سلمۃ بن عبدالاسد المخزومی، اسامہ بن زید محمد بن عبداللہ بن جحش الاسدی، اور عبداللہ بن عمر (رض) شامل تھے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رض) فرمایا کہ ابن عمر تو ان میں سے نہیں ہے وہ تو وہ تو۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر میرا حق بنتا ہے تو عطا فرما دیجئے ورنہ رہنے دیجئے تو حضرت عمر (رض) نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے فرمایا کہ اس کا حصہ بھی پانچ ہزار لکھ دو اور میرا چار ہزار لکھ دو ، حضرت عبداللہ (رض) بولے میں نہیں چاہتا تھا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں اور تو دونوں پانچ پانچ ہزار وصول نہیں کرسکتے “۔ ابن ابی شیبہ، متفق علیہ)
11647- عن أنس بن مالك وسعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب كتب المهاجرين على خمسة آلاف، والأنصار على أربعة آلاف، ومن لم يشهد بدرا من أبناء المهاجرين على أربعة آلاف فكان منهم عمر بن أبي سلمة بن عبد الأسد المخزومي، وأسامة بن زيد ومحمد ابن عبد الله بن جحش الأسدي، وعبد الله بن عمر، فقال عبد الرحمن ابن عوف: إن ابن عمر ليس من هؤلاء إنه وإنه، فقال ابن عمر: إن كان لي حق فأعطنيه، وإلا فلا تعطنيه، فقال عمر: لابن عوف اكتبه على خمسة آلاف، واكتبني على أربعة آلاف، فقال عبد الله: لا أريد هذا، فقال عمر: والله لا أجتمع أنا وأنت على خمسة آلاف. "ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11644 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ بحرین سے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، فرماتے ہیں ، میں ان کے پاس پہنچا اور ان کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، جب انھوں نے مجھے دیکھا تو میں نے انھیں سلام کیا ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا کے کیا لائے ؟ میں نے عرض کیا کہ چانچ لاکھ لایاہوں ، دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی جی ہاں، ایک لاکھ، اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ، فرمایا تم اونگ رہے ہو اپنے گھر چلے جاؤ اور سوجاؤ کل میرے پاس آنا، میں اگلے دن پھر خدمت میں حاضر ہوا، پھر دریافت فرمایا کہ کیا لائے ہو ؟ میں نے عرض کیا پانچ لاکھ ، دریافت فرمایا کہ پاکیزہ مال ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں مجھے اس کے علاوہ اور کچھ معلوم نہیں ہے پھر لوگوں سے فرمایا کہ یہ میرے پاس بہت سامال لائے ہیں سو اگر تم چاہو تو تمہارے لیے تیار کر رکھیں اور اگر تم چاہو تو تم کو کسی پیمانے سے ناپ ناپ کردے دیں ؟ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین، یہ عجمی لوگ فہرستیں اور رجسٹربنایا کرتے ہیں اور انہی کے مطابق لوگوں کو دیتے ہیں میں نے ان کو ایساہی کرتے دیکھا ہے، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے بھی رجسٹر بنوائے اور مہاجرین کے لیے پانچ پانچ ہزار وظیفہ مقرر فرمایا اور انصار کے لیے چارچارہزار، اور امہات المومنین (رض) کے لیے بارہ بارہ ہزار وظیفہ مقرر فرمایا “۔ (ابن ابی شیبہ، یشکرفی یشکربات، سنن کری بیھقی)
11648- عن أبي هريرة أنه قدم على عمر من البحرين، قال: فقدمت عليه، فصليت معه العشاء، فلما رآني سلمت عليه، فقال: ما قدمت به؟ قلت: قدمت بخمسمائة ألف، قال: تدري ما تقول؟ قلت: مائة ألف، ومائة ألف، ومائة ألف، ومائة ألف، ومائة ألف، قال: إنك ناعس ارجع إلى بيتك فنم ثم اغد علي، فغدوت عليه فقال: ما جئت به؟ قلت: بخمسمائة ألف، قال: أطيب، قلت نعم، لا أعلم إلا ذاك، فقال للناس: إنه قدم علي مال كثير، فإن شئتم أن نعده لكم عدا، وإن شئتم أن نكيله لكم كيلا؟ فقال رجل: يا أمير المؤمنين إني رأيت هؤلاء الأعاجم يدونون ديوانا، يعطون الناس عليه، فدون الديوان، وفرض للمهاجرين في خمسة آلاف خمسة آلاف، وللأنصار في أربعة آلاف اربعة آلاف، وفرض لأزواج النبي صلى الله عليه وسلم في اثنى عشر ألفا اثنى عشر ألفا. "ش واليشكرى في اليشكريات هق كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11645 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ بحرین کے حکمران کے پاس گئے تو انھوں نے میرے ساتھ آٹھ لاکھ درھم حضرت عمر (رض) کی طرف بھیجے ، چنانچہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں پہنچا تو آپ (رض) نے دریافت فرمایا کہ کیا لے کر آئے ہو اے ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا کہ آٹھ لاکھ دینار لایا ہوں، دریافت فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ کیا کہہ رہے ہو ؟ تم تو ایک دیہاتی ہو، سو میں نے ہاتھون پر پورے پورے گن کر بتائے ہیں چنانچہ آپ (رض) نے مہاجرین کو طلب فرمایا اور مال کے بارے میں ان سے مشورہ فرمایا لیکن سب میں اختلاف ہوگیا تو آپ (رض) نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤیہاں تک کہ ظہر کے وقت ان کو دوبارہ طلب فرمایا، اور فرمایا کہ میں اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو ملاہوں اور اس سے مشورہ کیا ہے اور ان کی رائے مجھ پر منتشر نہیں ہوئی، پھر فرمایا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے علاقوں والوں سے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیا ہے تو وہ اللہ ، اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، اور مسافروں کا حق ہے، پھر حضرت عمر (رض) نے اس مال کو کتاب اللہ کے مطابق تقسیم فرمادیا “۔ (ابن ابی شیبہ)
11649- عن أبي هريرة أنه وفد إلى صاحب البحرين، قال: فبعث معي ثمانمائة ألف درهم إلى عمر بن الخطاب، فقدمت عليه، فقال: ما جئتنا به يا أبا هريرة؟ فقلت: بثمانمائة الف درهم، فقال: أتدري ما تقول؟ إنك أعرابي، فعددتها عليه بيدي، حتى وفيت، فدعا المهاجرين، فاستشارهم في المال فاختلفوا عليه، فقال: ارتفعوا عني، حتى كان عند الظهيرة أرسل إليهم، فقال: إني لقيت رجلا من أصحابي فاستشرته، فلم ينتشر علي رأيه، فقال: ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل، فقسمه عمر على كتاب الله عز وجل. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11646 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عمر (رض) فرما رہے تھے کہ اس مال کے لیے جمع ہوجاؤ اور دیکھو اس بارے تم کیا سمجھتے ہو اور میں نے اللہ کی کتاب سے آیات پڑھی ہیں میں اللہ تعالیٰ کا کلام سنا کہ ” اللہ نے اپنے رسول کو جو مال عطا کیا “ سے لے کر یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں “ تک۔ (سورۃ الحشر آیت 7 ۔ 8) اور خدا کی قسم وہ تنہا ان سب کے لیے نہیں ہے اور وہ لوگ جنہوں نے گھر فراہم کئے اور (سورۃ الحشر آیت 9) اور خدا کی قسم وہ تنہا ان کے لیے نہیں ہے اور لوگ جو آئے ان کے بعد (سورۃ الحشر آیت 10) خدا کی قسم مسلمانوں میں سے کوئی نہیں جس اس مال میں حق نہ ہو، خواہ اس کو دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو، بھلے وہ عدن کا کوئی چرواہاہی کیوں نہ ہو “۔ (سنن کبری بیھقی، ابن ابی شیبہ)
11650- عن أسلم قال: سمعت عمر يقول: اجتمعوا لهذا المال، فانظروا لمن ترونه، وإني قد قرأت آيات من كتاب الله سمعت الله يقول: {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى} إلى قوله {أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ} والله ما هو لهؤلاء وحدهم {وَالَّذِينَ تَبَوَّأُوا الدَّارَ وَالْأِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} الآية، والله ما هو لهؤلاء وحدهم {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ} الآية والله ما من أحد من المسلمين إلا وله حق في هذا المال، أعطي منه أو منع حتى راع بعدن. "هق ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11647 ۔۔۔ حضرت احنف بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر (رض) کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک باندی نکلی ہم نے کہا امیرالمومنین کی موطؤہ ہے اس نے سن لیا اور کہا کہ میں امیرالمومنین کی موطؤہ نہیں ہوں اور نہ ہی ان کے لیے حلال ہوں میں تو اللہ کے مال میں سے ہوں، یہ بات حضرت عمر (رض) کے سامنے بیان کی گئی آپ (رض) نے فرمایا کہ اس نے صحیح کہا، میں تمہیں بتاتاہوں کہ میں نے اس مال میں سے کیا حلال سمجھا ہے اس سے دوکپڑے حلال سمجھ کر لیے ہیں ایک سردیوں کے لیے اور ایک گرمیوں کے لیے اور میرے پاس اپنے حج اور عمرے اور اپنے بعد اپنے گھر والوں کی خوراک کی گنجائش نہیں ہے اور مسلمانوں کے ساتھ میرا حصہ انہی کی طرح ہے نہ ان سے زیادہ نہ ان سے کم “۔ ابوعبید فی الاموال، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن سعد، سنن کبری بیھقی)
11651- عن الأحنف بن قيس قال: كنا جلوسا بباب عمر فخرجت جارية فقلنا سرية أمير المؤمنين، فسمعت فقالت: ما أنا بسرية أمير المؤمنين، وما أحل له، إني لمن مال الله، فذكر ذلك لعمر، فقال: صدقت وسأخبركم بما أستحل من هذا المال، أستحل منه حلتين: حلة للشتاء، وحلة للصيف، وما يسعني لحجي وعمرتي وقوتي وقوت أهل بيتي، وسهمي مع المسلمين كسهم رجل ليس بأرفعهم ولا أوضعهم. "أبو عبيد في الأموال ص ش وابن سعد هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11748 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عبداللہ بن الارقم (رض) سے فرمایا کہ مسلمانوں کے بیت المال کا مال ہر ماہ ایک مرتبہ تقسیم کیا کرو، مسلمانوں کا مال ہر جمعہ تقسیم کیا کرو، پھر فرمایا کہ مسلمانوں کے بیت المال کا مال ہر روز ایک مرتبہ تقسیم کیا کرو، تو قوم کے ایک شخص نے عرض کیا کہ اے امیرالمومنین اگر آپ مسلمانوں کے بیت المال میں کچھ باقی رکھیں جو کسی مصیبت میں یا کسی باہر کے کام میں کام آجائے، تو حضرت عمر (رض) نے اس شخص سے فرمایا کہ تیری زبان پر شیطان جاری ہوگیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی حجت مجھے القا فرمادی اور اس کے شر سے مجھے بچالیا، میں نے بھی اس کے لیے وہی تیار کررکھا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیار کر رکھا تھا یعنی اللہ عزوجل کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت “۔ (سنن کبری بیھقی)
11652- عن يحيى بن سعيد عن أبيه، قال: قال عمر بن الخطاب لعبد الله بن الأرقم: اقسم بيت مال المسلمين في كل شهر مرة، اقسم مال المسلمين في كل جمعة، ثم قال: اقسم بيت مال المسلمين في كل يوم مرة، فقال رجل من القوم: يا أمير المؤمنين لو أبقيت في بيت مال المسلمين بقية تعدها لنائبة أو صوت، يعني خارجة، فقال عمر للرجل الذي كلمه: جرى الشيطان على لسانك لقنني الله حجتها، ووقاني شرها، أعد لها ما أعد لها رسول الله صلى الله عليه وسلم طاعة الله عز وجل ورسوله صلى الله عليه وسلم. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11649 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس سے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آٹھ لاکھ درھم لے کر پہنچاتو آپ (رض) دریافت فرمایا کہ کیا لے کر آئے ہو، میں نے عرض کیا کہ آٹھ لاکھ دینار لایا ہوں فرمایا کہ تم اسی ہزار ہی لائے ہوگے میں نے عرض کیا کہ نہیں بلکہ میں آٹھ لاکھ دینار لایاہوں فرمایا کہ تم سے کہا نہیں تھا کہ تم یمن کے بےعقل ہو ؟ تم اسی ہزار لائے ہو اچھا بتاؤ آٹھ لاکھ کتنے ہوتے ہیں ؟ سو میں نے ایک ایک لاکھ کرکے گنا یہاں تک کہ آٹھ لاکھ پورے گنے، پھر فرمایا کہ کیا یہ پاکیزہ مال ہے تو پریشان ہو ! میں نے عرض کیا جی ہاں سو حضرت عمر (رض) نے وہ رات بےچینی سے گزاری یہاں تک کہ جب فجر کی اذان ہوئی تو ان سے ان کی اھلیہ نے کہا کہ آپ رات بھر نہیں سوئے ؟ فرمایا کہ عمر بن خطاب کیسے سو جائے جبکہ اتنے لوگ آگئے ہیں جو آغاز اسلام سے اب تک اتنے نہیں آئے، اگر عمر ہلاک ہوگیا تو کون بچائے گا ؟ اور وہ مال بھی اس کے پاس ہو اور حق دار کو بھی نہ دیاہو ؟ سو جب آپ (رض) فجر کی نماز ادا فرماچکے تو سول اللہ کے صحابہ کرام (رض) کا ایک گروہ آپ کے پاس جمع ہوگیا، تو آپ (رض) فرمایا کہ آج رات لوگوں کے پاس اتنامال آیا ہے کہ آغاز اسلام سے پہلے آج تک اتنامال نہیں آیا، سو میری اس معاملے میں رائے ہے تم بھی مجھے مشورہ دو ، میرا خیال ہے کے لوگوں کو پیمانے بھر بھر کردوں، عرض کیا کہ اے امیرالمومنین ایسا نہ کریں لوگ اسلام میں داخل ہورہے ہیں اور مال بڑھتا جارہا ہے، بلکہ ان کو آپ کتاب اللہ کے مطابق دیجئے سو جب کبھی لوگ زیادہ ہوں اور مال بھی زیادہ ہو تو آپ انھیں اسی طریقے سے وظائف دے سکیں گے۔ پھر فرمایا کہ اچھا مجھے یہ مشورہ دو کہ میں پہلے کس سے شروع کروں ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا امیرالمومنین آپ اپنے آپ سے شروع کیجئے آپ ہی اس معاملے کے نگران ہیں اور انہی میں سے کسی نے کہا کہ اور امیرالمومنین زیادہ جانتے ہیں، فرمایا نہیں بلکہ میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شروع کرتا ہوں اور پھر جو زیادہ قریب ہو درجہ بدرجہ چنانچہ اسی کے مطابق فہرست تیار کی گئی بنوھاشم اور بنوعبدالمطلب سے شروع کیا گیا اور ان سب کو دیا گیا پھر بنوعبدشمس کو دیا گیا ، پھر بن نوفل بن عبدمناف کو دیا گیا اور بنوعبدشمس کو شروع میں اس لیے رکھا تھا کیونکہ وہ بنوھاشمی کے ماں شریک بھائی تھے۔ (ابن سعد، سنن کبری بیھقی)
11653- عن أبي هريرة قال: قدمت على عمر بن الخطاب من عند أبي موسى الأشعري بثمانمائة ألف درهم، فقال لي: بماذا قدمت؟ قلت: قدمت بثمانمائة ألف درهم، فقال: إنما قدمت بثمانين ألف درهم، قلت: بل قدمت بثمانمائة ألف درهم، قال: ألم أقل لك: إنك يمان أحمق؟ إنما قدمت بثمانين ألف درهم فكم ثمانمائة ألف؟ فعددت مائة ألف ومائة ألف، حتى عددت ثمانمائة ألف، قال: أطيب ويلك؟ قلت: نعم، فبات عمر ليله أرقا، حتى إذا نودي بصلاة الصبح، قالت له امرأته: ما نمت الليلة؟ قال: كيف ينام عمر بن الخطاب وقد جاء الناس ما لم يكن ياتيهم مثله مذ كان الإسلام فما يؤمن عمر لو هلك؟ وذلك المال عنده؟ فلم يضعه في حقه؟ فلما صلى الصبح اجتمع إليه نفر من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لهم: إنه قد جاء الناس الليلة ما لم يأتهم مثله منذ كان الإسلام، وقد رأيت رايا فأشيروا علي، رأيت أن أكيل للناس بالمكيال، فقالوا: لا تفعل يا أمير المؤمنين إن الناس يدخلون في الإسلام، ويكثر المال ولكن أعطهم على كتاب، فكلما كثر الناس وكثر المال أعطيتهم عليه، قال: فأشيروا علي بمن أبدأ منهم؟ قالوا: بك يا أمير المؤمنين، إنك ولي ذلك الأمر، ومنهم من قال: أمير المؤمنين أعلم، قال: لا ولكن أبدأ برسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم الأقرب فالأقرب إليه، فوضع الديوان على ذلك بدأ ببني هاشم والمطلب، فأعطاهم جميعا، ثم أعطى بني عبد شمس، ثم بني نوفل بن عبد مناف، وإنما بدأ ببني عبد شمس لأنه كان أخا هاشم لأمه. "ابن سعد هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11650 ۔۔۔ حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے شریح اور سلمان بن ربیعہ الباھلی کو قضاء پر مقرر فرمایا “۔ (عبدالرزاق)
11654- عن الحكم أن عمر بن الخطاب رزق شريحا وسلمان بن ربيعة الباهلي على القضاء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیت المال سے وظیفہ
11651 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اگر لوگوں کو میں نے طریقے کے مطابق نہ چھوڑا ہوتا تو ان کو کچھ نہ ملتا۔ میں نے جو علاقہ بھی فتح کیا اس کا مال ایسے ہی تقسیم کردیا جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا مال تقسیم کیا تھا، لیکن میں اس کو ان کے لیے بطور خزانے کے چھوڑتاہوں “۔ (بخاری، ابوداؤد، سنن کبری بیھقی)
11655- عن عمر قال: لولا أن أترك الناس ببانا ليس لهم شيء ما فتحت علي قرية إلا قسمتها كما قسم النبي صلى الله عليه وسلم خيبر، ولكني أتركها خزانة لهم. "خ د هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ
11652 ۔۔۔ منذربن عمروالوادعی فرماتے ہیں کہ انھوں نے گھوڑے کے لیے دو حصے اور گھوڑے والے کے لیے ایک حصی مقرر کیا پھر تفصیل سے حضرت عمر (رض) کو اگاہ کیا تو آپ (رض) نے فرمایا کہ تم نے سنت پر عمل کیا “۔ (سنن کبری بیھقی
11656- عن منذر بن عمرو الوادعي أنه قسم للفرس سهمين، ولصاحبه سهما، ثم كتب إلي عمر فقال: قد أصبت السنة. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ
11653 ۔۔۔ جبربن الحویرث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فہرستیں بنانے کے سلسلے میں مسلمانوں سے مشورہ کیا، حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ جو مال سال بھر میں آپ کے پاس جمع ہو وہ آپ ساراکاسارا تقسیم کردیں اور اس میں سے کچھ نہ رکھیں ، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ مال بہت زیادہ ہے لوگوں کے لیے کافی ہے اگرچہ ان کو گنانہ جائے تاکہ آپ لینے والوں اور نہ لینے والوں کو الگ الگ پہچان لیں کہیں ایسانہ ہو کہ معاملہ الجھ جائے، ولیدبن ہشام بن مغیرۃ (رض) نے فرمایا کہ اے امیرالمومنین میں شام سے ہو کر آیا ہوں انھوں نے الگ الگ فہرستیں اور الگ الگ لشکر بنا رکھے ہیں سو آپ بھی الگ الگ فہرستیں اور الگ الگ لشکر بنا کر رکھیں حضرت عمر (رض) نے اس مشورہ کو قبول کرلیا اور عقیل بن ابی طالب محزمہ بن نوفل اور جبیر بن مطعم (رض) کو بلایا ؟ یہ لوگ قریش کے نسب ناموں کے ماہر تھے، ان کو حکم فرمایا کہ لوگوں کے نام ان کے درجات کے مطابق تحریر کریں ، چنانچہ انھوں نے لکھے اور بنوھاشم سے شروع کئے اور پھر حضرت ابوبکر (رض) اور ان کی قوم کا نام لکھا اور پھر حضرت عمر (رض) اور ان کی قوم کا نام لکھا خلافت کا لحاظ کرتے ہوئے جب حضرت عمر (رض) نے دیکھا تو فرمایا کہ خدا کی قسم میرا بھی یہی دل چاہتا ہے ایساہی ہو لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریبی رشتہ داروں سے شروع کرو اور درجہ بدرجہ لکھتے جاؤ اور عمرکو وہاں رکھوجہاں اللہ نے رکھا ہے “۔ (ابن سعد)
11657- عن جبير بن الحويرث أن عمر بن الخطاب استشار المسلمين في تدوين الديوان، فقال له علي بن أبي طالب: تقسم كل سنة ما اجتمع إليك من مال ولا تمسك منه شيئا، وقال عثمان بن عفان: أرى مالا كثيرا يسع الناس، وإن لم يحصوا حتى تعرف من أخذ ممن لم يأخذ، خشية أن ينتشر الأمر، فقال له الوليد بن هشام بن المغيرة: يا أمير المؤمنين قد جئت الشام فرأيت ملوكها قد دونوا ديوانا وجندوا جنودا فدون ديوانا وجند جنودا، فأخذ بقوله، فدعا عقيل بن أبي طالب ومخرمة بن نوفل وجبير بن مطعم، وكانوا من نساب قريش، فقال: اكتبوا الناس على منازلهم، فكتبوا فبدؤا ببني هاشم ثم أتبعوهم أبا بكر وقومه، ثم عمر وقومه على الخلافة، فلما نظر فيه عمر قال: وددت والله أنه هكذا ولكن ابدؤا بقرابة النبي صلى الله عليه وسلم الأقرب فالأقرب، حتى تضعوا عمر حيث وضعه الله. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ
11654 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں کے میں حضرت عمر (رض) کو دیکھا آپ کے سامنے فہرستیں پیش کی گئیں ، سب سے پہلے بنوہاشم تھے پھر بنوتمیم ، پھر بنوعدی، فرمایا کہ عمر کو وہیں رکھو جہاں اس کی جگہ ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتہ داروں سے درجہ بدرجہ شروع کرو، بنوعدی حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ یا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے خلیفہ ہیں ابوبکر صدیق (رض) جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ تھے، سو اگر آپ خود بھی اسی حیثیت سے رکھیں جیسے ان لوگوں نے رکھا تو (کیساہو ؟ ) فرمایا ارے ارے، اے بنوعدی کیا تم میری پشت پر مارنا چاہتے ہو، اس طرح تو میں ضرور تمہاری خاطر اپنی نیکیاں ضائع کر بیٹھوں گا، نہیں خدا کی قسم یہاں تک کہ تمہارا بلاوا آجائے اور میں فہرستیں تمہارے سامنے ترتیب دے دوں یعنی تمہیں سب سے آخر میں رکھوں، بیشک میرے دو ساتھی تھے جو ایسے راستے پر چلے کہ اگر میں نے ان کی مخالفت کی تو میری بھی مخالفت کی جائے گی خدا کی قسم ہمیں دنیا میں کوئی فضیلت نہیں ملی نہ ہم آخرت میں اپنے اعمال وثواب دار فضیلت خواہاں ہیں اللہ کی طرف، علاوہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وہی ہماری عزت ہیں ان کی قوم عربوں میں افضل و اشرف ہے پھر ان سے قریب تر پھر ان سے قریب تر، اور عربوں کو عزت و عظمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہی دی گئی ہے چاہے ہم بعض اس کو اپنے آباؤاجداد کی طرف منسوب کریں اور کیا ہے ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان جو اس عزت کو اپنے نسب کی طرف منسوب کریں پھر ہم حضرت آدم (علیہ السلام) سے چند پشتوں سے زیادہ دور بھی نہیں ، اور اس کے باوجود خدا کی قسم اگر عجمی لوگ عمال لے کر آئے اور ہم بغیر اعمال آگئے تو وہ قیامت کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ حق دار ہوں گے پھر کوئی شخص قرابت داری کی طرف نہ دیکھے اور جو اللہ کے پاس ہے اس کے لیے عمل کرے، کیونکہ جس کا عمل کم پڑگیا اس کا نسب اس کے لیے کچھ نہ کرسکے گا “۔ (ابن سعد)
11658- عن أسلم قال: رأيت عمر بن الخطاب حين عرض عليه الكتاب وبنو تيم على إثر بني هاشم وبنو عدي على إثر بني تيم، فأسمعه يقول: ضعوا عمر موضعه وابدؤا بالأقرب فالأقرب من رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاءت بنو عدي إلى عمر فقالوا: أنت خليفة رسول الله أو خليفة أبي بكر وأبو بكر خليفة رسول الله، فلو جعلت نفسك حيث جعلك هؤلاء القوم؟ قال: بخ بخ بني عدي أردتم الأكل على ظهري؟ لأن أذهب حسناتي لكم لا والله حتى تأتيكم الدعوة وأن أطبق عليكم الدفتر يعني ولو أن تكتبوا آخر الناس إن لي صاحبين سلكا طريقا فإن خالفتهما خولف بي والله ما أدركنا الفضل في الدنيا ولا ما نرجوه من الآخرة من ثواب الله على ما عملنا إلا بمحمد صلى الله عليه وسلم فهو شرفنا وقومه أشراف العرب ثم الأقرب فالأقرب إن العرب شرفت برسول الله صلى الله عليه وسلم ولو أن بعضنا يلقاه إلى آباء كثيرة وما بيننا وبين أن نلقاه إلى نسبه ثم لا نفارقه إلى آدم إلا آباء يسيرة ومع ذلك والله لئن جاءت الأعاجم بالأعمال وجئنا بغير عمل فهم أولى بمحمد منا يوم القيامة فلا ينظر رجل إلى القرابة ويعمل لما عند الله، فإن من قصر به عمله لم يسرع به نسبه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ
11655 ۔۔۔ ہشام الکعبی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا آپ نے بنو خزعیہ والوں کی فہرستیں اٹھا رکھی تھیں یہاں تک کے قدید پہنچے، ہم بھی ان کے پاس قدید پہنچے وہاں کوئی عورت (خواہ باکرہ ہو یا شیبہ) بھی ایسی نہ رہی جس نے ہاتھ اپنے ہاتھ سے وظیفہ وصول نہ کیا ہو، پھر روانہ ہوئے اور عسفان پہنچے اور وہاں بھی ایساہی کیا حتیٰ کہ ان کی وفات ہوگئی “ (ابن سعد)
11659- عن هشام الكعبي قال: رأيت عمر بن الخطاب يحمل ديوان خزاعة حتى ينزل قديدا، فنأتيه بقديد، فلا تغيب عنه امرأة بكر ولا ثيب فيعطيهن في أيديهن، ثم يروح فينزل عسفان فيفعل مثل ذلك أيضا حتى توفي. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ
11656 ۔۔۔ محمد بن زید کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں بنوحمیر والوں کی فہرست الگ ہوا کرتی تھی “۔ (ابن سعد)
11660- عن محمد بن زيد قال: كان ديوان حمير على عهد عمر على حدة. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক: