কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৬২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11617 ۔۔۔ ابو مجلز وغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے عثمان بن حنیف کو سواد کا خراج وصول کرنے بھیجا اور ان کا روزانہ کا وظیفہ چوتھائی بکری اور پانچ درھم مقرر فرمائے ، اور حکم دیا کہ پورے سواد کی پیمائش کرلیں خواہ علاقہ آباد ہو یا بنجر البتہ شورزدہ زمین ، ٹیلوں، جھاڑیوں اور تالابوں کی پیمائش نہ کریں اور ان جگہوں کی جہاں پانی پہنچتا ہے چنانچہ حضرت عثمان (رض) بن حنیف نے جبل کے علاوہ سارے علاقے کی پیمائش کی یعنی حلوان سے لے کر عرب سرزمین تک جو فرات کے زیریں علاقے میں واقعے ہے، اور حضرت عمر (رض) کو لکھا کہ ہر وہ چیز جہاں تک پانی پہنچتا ہے خواہ آباد ہو یا بنجر اس کو میں چھتیس کروڑ جریب پایا اور حضرت عمر (رض) کا پیمانہ ایک ذراع ایک مٹھی اور ایک مڑا ہوا انگوٹھا ہوا کرتا تھا ، تو حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ ہر جریب خواہ آباد ہو یا بنجر ، اس پر کام ہوتا ہو یا نہ ایک درھم اور ایک قفیز مقررکرو، اور ترکھجوروں پر پانچ درھم اور دس قفیز مقرر کرو اور ان کھجور اور دیگر درختوں کے پھل کھلاؤ، اور فرمایا کہ یہ ان کے لیے ان کے شہروں کو آباد کرنے کے لیے خوراک ہوگی اور ذمیوں میں سے خوشحال پر اڑتالیس درھم اور اس سے کم پر چوبیس درھم مقرر کرو اور جس کے پاس کچھ نہ ہو تو اس پر بارہ درھم مقرر کرو، فرمایا کہ ایک معتمل درھم ہر ماہ کسی کو محتاج نہیں کرے گا، اور جو خراج ان پر مقرر کیا تھا اس کے بدلے ان سے غلامی کو دور کردیا اور اس کو زمین کا کرایہ بنادیا، چنانچہ پہلے سال سواد کوفہ کے خراج سے آٹھ کروڑدرھم لیے گئے پھر آئندہ سال بارہ کروڑ درھم لے کرگئے اور یہ سلسلہ چلتارہا “۔ (ابن سعد)
11621- عن أبي مجلز وغيره إن عمر بن الخطاب وجه عثمان بن حنيف على خراج السواد ورزقه كل يوم ربع شاة وخمسة دراهم، وأمره أن يمسح السواد عامره وغامره، ولا يمسح سبخة، ولا تلا ولا أجمة ولا مستنقع ماء ولا ما يبلغه الماء فمسح عثمان كل شيء، دون الجبل، يعني دون حلوان إلى أرض العرب، وهو أسفل الفرات وكتب إلى عمر: إني وجدت كل شيء بلغه الماء من عامر وغامر ستة وثلاثين ألف ألف جريب، وكان ذراع عمر الذي مسح به السواد ذراعا وقبضة والإبهام مضجعة، فكتب إليه عمر أن أفرض الخراج على كل جريب عامر أو غامر عمله صاحبه أو لم يعمله درهما وقفيزا، وأفرض على الكروم على كل جريب عشرة دراهم وعشرة أقفزة، وعلى الرطاب خمسة دراهم وعشرة أقفزة وأطعمهم النخل والشجر، وقال: هذا قوة لهم على عمارة بلادهم، وفرض على رقابهم يعني أهل الذمة على الموسر ثمانية وأربعين درهما، وعلى من دون ذلك أربعة وعشرين درهما، وعلى من لم يجد شيئا اثنى عشر درهما، قال: معتمل درهم لا يعوز رجلا في كل شهر، ورفع عنه الرق بالخراج الذي وضعه في رقابهم، وجعله أكرة الأرض، فحمل من خراج سواد الكوفة إلى عمر في أول سنة ثمانين ألف ألف درهم، ثم حمل من قابل عشرين ومائة ألف ألف درهم، فلم يزل على ذلك. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11618 ۔۔۔ عمروبن حارث کہتے ہیں کہ حضرت عمروبن العاص (رض) ہر سال اپنی ضرورت کے مطابق مال روک کر مصر کا جزیہ اور خراج روانہ فرماتے تھے، پھر ایک مرتبہ حضرت عمروبن العاص (رض) کو خراج بھیجنے میں دیر ہوگئی تو حضرت عمر (رض) نے ان کو ملامت کی اور ڈانٹا اور لکھا کہ اس بات پر مت گھبراؤ، اے ابوعبداللہ ! کہ حق ہی کہ وجہ سے تم سے لیا جائے، کیونکہ حق تو روشن ہے، لہٰذا مجھے اور اس کو اکیلا چھوڑ دوجو اس معاملے میں جھگڑتا ہے (تاکہ میں اس کو دیکھ لوں) اور حضرت عمر (رض) ان سے ناراض رہے، چنانچہ حضرت عمرو (رض) بن العاص نے جوابی خط لکھا کہ اھل مصر مہلت چاہتے تھے کہ ان کے غلے کو دیکھ لیا جائے ، چنانچہ میں نے مسلمانوں کے لیے دیکھاتو ان کے لیے نرمی کو بہتر پایا اس سے کہ اس کو پھاڑ دیا جائے سو وہ ایسی چیزیں بیچنے میں لگ جائیں گے جس سے ان کا کوئی بھلانہ ہوگا اور خراج ختم ہوجائے گا اور خدا کی قسم میں نے صحیح کیا ہے اے امیرالمؤمنین۔ والسلام۔ (ابن سعد)
11622- عن عمرو بن الحارث قال: كان عمرو بن العاص يبعث بجزية أهل مصر وخراجها إلى عمر بن الخطاب كل سنة بعد حبس ما كان يحتاج إليه، ثم إنه استبطأ عمرو بن العاص في الخراج، فكتب إليه بكتاب يلومه في ذلك، ويشدد عليه، ويقول له في كتابه: فلا تجزع أبا عبد الله أن تؤخذ بالحق وتعطيه، فإن الحق أبلج، فذرني وما عنه يلجلج، وقد برح الخفاء فكتب إليه عمرو بن العاص يجيبه على كتابه، وكتب إليه إن أهل الأرض استنظروا أن تدرك غلتهم، فنظرت للمسلمين، وكان الترفق بهم خيرا من أن يخرق فيصيرون إلى بيع مالا غنى بهم عنه، فينكسر الخراج، وقد صدقت والله يا أمير المؤمنين والسلام. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11619 ۔۔۔ عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کے انباط شام کے لوگوں پر یہ شرط لگائے کہ ان کے پھل اور تنکے وغیرہ مسلمانوں کو ملیں گے اور انھوں نے نہیں لئے۔ (ابو عبید)
11623- عن عبد الملك بن عمير أن عمر بن الخطاب اشترط على أنباط الشام أن يصيبوا من ثمارهم وتبنهم، ولا يحملوا. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11620 ۔۔۔ طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ نہرالملک کہ ایک محنت کش عورت کے بارے میں حضرت عمر (رض) نے مجھے لکھا کہ اس کی زمین اس کے حوالے کردو وہ اس سے خراج اداکرے گی ، وہ مسلمان ہوگئی تھی “۔ (ابوعبید فی الاموال، عبدالرزاق)
11624- عن طارق بن شهاب قال: كتب إلي عمر بن الخطاب في دهقانة نهر الملك أسلمت فكتب أن ادفعوا إليها أرضها تؤدي عنها الخراج. "أبو عبيد في الأموال عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11621 ۔۔۔ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اھل نجران کو لکھا کہ میرے بعد تم میں سے جو مسلمان ہوجائے میں اس کو بھلائی کی وصیت کرتا ہوں اور اس کو حکم دیتاہوں کہ وہ اپنی کھیتی باڑی کو نصف ادا کرے، اور جب تک تم ٹھیک رہو میں تمہیں وہاں سے نکالنا نہیں چاہتا اور تمہارے عمل سے راضی ہوں “۔ (بیھقی فی شعب الایمان)
11625- عن ابن سيرين قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أهل نجران إني قد استوصيت بعدي بمن أسلم منكم خيرا وامرأته أن يعطيه نصف ما عمل من الأرض، ولست أريد إخراجكم منها ما أصلحتم، ورضيت عملكم. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11622 ۔۔۔ عطیہ بن قیس کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سعید بن عامربن حزیم کو حمص کے لشکر کا عامل بنایا ، جب وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو آپ نے کوڑا اٹھایا، سعید نے فرمایا کہ آپ کا سیلاب بارش سے پہلے آگیا اگر آپ رضامندی طلب کریں گے تو آپ کو راضی نہ کریں گے اگر آپ سزادیں گے تو صبر کریں گے اگر آپ معاف کردیں گے تو ہم شکریہ اداکریں گے ، حضرت عمر نے ان کا لحاظ کیا اور درہ رکھ دیا اور فرمایا کہ مسلمان پر اس سے زیادہ ذمہ داری نہیں ، تم نے خراج بھیجنے میں دیر کی ؟ تو سعید نے عرض کیا ، کہ آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ کسان سے چار دینار سے زیادہ نہ لیں، ہم نہ اس پر اضافہ کرتے ہیں نہ کمی البتہ ہم ان کی فصل کا انتظار کرتے ہیں ، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ جب تک میں زندہ ہوں تیری عزت کروں گا “۔ (ابو عبید ، ابن زنجویہ فی الاموال)
11626- عن عطية بن قيس أن عمر بن الخطاب استعمل سعيد ابن عامر بن حذيم على جند حمص، فقدم عليه فعلاه بالدرة، فقال سعيد سبق سيلك مطرك إن تستعتب نعتب، وإن تعاقب نصبر، وإن تعفو نشكر، فاستحيى عمر فألقى الدرة، وقال: ما على المسلم أكثر من هذا إنك تبطيء بالخراج؟ فقال سعيد: إنك أمرتنا أن لا نزيد الفلاح على أربعة دنانير، نحن لا نزيد ولا ننقص، إلا أنا نؤخرهم إلى غلاتهم، فقال عمر: لا أعزلك ما كنت حيا. "أبو عبيد وابن زنجويه في الأموال كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11623 ۔۔۔ ابو مجلزۃ لاحق بن عبید کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمار بن یاسر (رض) کو کوفہ کے لیے نمازوں اور لشکروں پر امیر بنا کر بھیجا ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو قضاء اور بیت المال کا امیر بنا کر بھیجا اور حضرت عثمان بن حنیف زمین کی پیمائش کے کام پر مقرر کر کے بھیجا اور ان کے لیے ہر روز ایک بکری مقرر کی اس میں سے ایک حصہ اور وغیرہ حضرت عمار (رض) کے لیے اور دوسرا حصہ باقی دونوں حضرات کے درمیان تقسیم فرمایا اور پھر فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ کسی بھی علاقے سے اگر روزانہ ایک بکری لی گئی تو جلدہی وہ ویران ہوجائے گا، سو اس کے بعد حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے زمین کی پیمائش کی اور انگوروں کے گنجان باغوں کے ہر جریب پر دس درھم کھجورون کے ہرجریب پر پانچ درھم اس کے ہر جریب ہر چھ درھم گندم کے ہرجریب پر چار درھم اور جو کے ہرجریب پر دو درھم مقرر فرمائے ، اور ذمیوں کے مال میں جو مختلف ہوتا رہتا تھا ہر بیس درھم میں ایک درھم مقرر فرمایا اور ان پر ان کے بغیر زیور والی عورتوں اور بچوں میں سالانہ چوبیس درھم مقرر فرمائے پھر حضرت عمر (رض) کو تفصیل سے آگاہ کیا گیا، حضرت عمر (رض) ونہ نے اس کی اجازت دی اور راضی ہوگئے۔
پھر حضرت عمر (رض) سے پوچھا گیا کہ حربی تاجر جب ہمارے پاس آئیں تو ہم ان سے کتنا عصول کریں ؟ فرمایا کہ جب تک ان کے پاس جاتے ہو تو کتنا وصول کرتے ہو ؟ عرض کیا کہ عشر۔ تو فرمایا کہ ان سے عشر وصول کرو (ابوعبید، ابن زنجویہ، متفق علیہ
پھر حضرت عمر (رض) سے پوچھا گیا کہ حربی تاجر جب ہمارے پاس آئیں تو ہم ان سے کتنا عصول کریں ؟ فرمایا کہ جب تک ان کے پاس جاتے ہو تو کتنا وصول کرتے ہو ؟ عرض کیا کہ عشر۔ تو فرمایا کہ ان سے عشر وصول کرو (ابوعبید، ابن زنجویہ، متفق علیہ
11627- عن أبي مجلز لاحق بن حميد أن عمر بن الخطاب بعث عمار بن ياسر إلى أهل الكوفة على صلاتهم وجيوشهم، وعبد الله بن مسعود على قضائهم وبيت مالهم، وعثمان بن حنيف على مساحة الأرض، ثم فرض لهم في كل يوم شاة جعل شطرها وسواقطها لعمار، والشطر الآخر بين هذين، ثم قال: ما أرى قرية يؤخذ منها كل يوم شاة إلا كان سريعا في خرابها، فمسح عثمان بن حنيف الأرض، فجعل على جريب الكرم عشرة دراهم، وعلى جريب النخل خمسة دراهم، وعلى جريب القضب ستة دراهم، وعلى جريب البر أربعة دراهم، وعلى جريب الشعير درهمين، وجعل على أهل الذمة في أموالهم التي يختلفون بها في كل عشرين درهما درهما وجعل على رؤسهم وعطل النساء والصبيان من ذلك أربعة وعشرين درهما كل سنة، ثم كتب بذلك إلى عمر فأجازه ورضي به، قال فقيل لعمر: تجار الحرب كم نأخذ منهم إذا قدموا علينا؟ قال: كم يأخذون منكم إذا قدمتم عليهم؟ قالوا العشر قال: فخذوا منهم العشر. "أبو عبيد وابن زنجويه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11664 ۔۔۔ طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ نہر ملک کے علاقے سے ایک عورت مسلمان ہوگئی ، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر وہ اپنی زمین اختیار کرلے اور اپنی زمین پر واجب الاداکو اداکرے تو اس کو اور اس کی زمین کو چھوڑدو ورنہ پھر مسلمانوں اور ان کی زمینوں کے درمیان راستہ چھوڑدہ۔ (متفق علیہ)
11628- عن طارق بن شهاب قال: أسلمت امرأة من أهل نهر الملك، فكتب عمر: إن اختارت أرضها وأدت ما على أرضها فخلوا بينها وبين أرضها، وإلا خلوا بين المسلمين وبين أرضهم. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11665 ۔۔۔ ابوعون الثقفیٰ فرماتے ہیں کہ اھل سواد میں سے جب کوئی مسلمان ہوجاتا تو حضرت عمر (رض) اس کو اپنی زمین کا خراج ادا کرتے رہنے دیتے “۔ (متفق علیہ)
11629- عن أبي عون الثقفي قال: كان عمر إذا أسلم رجل من أهل السواد تركاه يقوم بخراجه في أرضه. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11666 ۔۔۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ رفیل مسلمان ہوگیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کی زمین خراج کے بدلے اس کے حوالے کردی اور اس کے لیے دو ہزار مقررکئے “۔ (متفق علیہ)
11630- عن الشعبي قال: أسلم الرفيل فأعطاه عمر أرضه بخراجها وفرض له ألفين. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11667 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت سعید (رض) کو لکھا کہ سعید بن زید کو کچھ زمین دے دیں ، تو حضرت سعد (رض) نے ابن الرفیل کی زمین میں سے ان کو دے دی، چنانچہ ابن الرفیل حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا کے اے امیرالمومنین ہماری اور آپ کی صلح کس شرط پر ہوئی تھی ، فرمایا اس شرط پر کہ تم جزیہ دوگے اور تمہاری زمینیں اور مال تمہارے پاس ہی رہیں گے ، عرض کیا ، یا امیرالمؤمنین، میری زمین سعید ابن زید کے حوالے کی گئی ہے، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت سعد (رض) کو لکھا کہ وہ زمین واپس کردیں ، پھر ابن الرفیل کو اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہوگیا ، تو اس کے لیے سات سو مقرر کیا اور اس کے اس عطاکو خشعم میں رکھا اور فرمایا کہ اگر تو اپنی زمین پر رہے اور جو دیتا تھا دیتا رہے “۔ (متفق علیہ)
11631- عن عمر أنه كتب إلى سعد يقطع سعيد بن زيد أرضا، فأقطعه أرضا لبني الرفيل، فأتى ابن الرفيل عمر، فقال: يا أمير المؤمنين على ما صالحتمونا؟ قال: على أن تؤدوا لنا الجزية، ولكم أرضكم وأموالكم، قال: يا أمير المؤمنين أقطعت أرضي لسعيد بن زيد، فكتب إلى سعد يرد إليه أرضه، ثم دعاه إلى الإسلام فأسلم، ففرض له عمر سبعمائة، وجعل عطاءه في خثعم، قال: إن أقمت في أرضك أديت عنها ما كنت تؤدي. "ق" وقال في إسناده ضعف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11668 ۔۔۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ عتبہ بن فرقد نے دریائے فرات کے کنارے جگہ خریدی تاکہ اس میں قضب اگائیں ، یہ بات حضرت عمر (رض) کو بتائی گئی تو آپ نے پوچھا کہ کس سے خریدی ہے ؟ عرض کیا کہ اس کے مالکوں سے سو جب مہاجرین و انصار حضرت عمر (رض) کے پاس جمع ہوگئے تو فرمایا کہ، یہ اس زمین کے رہنے والے ہیں ان میں سے کسی سے خریدی تھی، عرض کیا نہیں ، فرمایا تو جس سے خریدی تھی اس کو واپس کر دو اور اپنا مال لے لو “۔ (ابوعبید اور ابن زنجویہ)
11632- عن الشعبي اشترى عتبة بن فرقد أرضا على شاطئ الفرات ليتخذ فيها قضبا فذكر ذلك لعمر، فقال: ممن اشتريتها؟ قال: من أربابها، فلما اجتمع المهاجرون والأنصار عند عمر قال: هؤلاء أهلها، فهل اشتريت منهم شيئا؟ قال: لا، قال: فارددها على من اشتريتها منه، وخذ مالك. "أبو عبيد وابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11669 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) خراجی زمین خریدنے کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس پرتو مسلمانوں کا خراج ہے “۔ (متفق علیہ)
11633- عن علي أنه كان يكره أن يشترى من أرض الخراج شيئا ويقول: عليها خراج المسلمين. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11630 ۔۔۔ امام شعبی حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابو حذیفہ (رض) کے آزاد کردہ غلام سالم شہید ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے سالم کی اہلیہ کو نصف دیا اور باقی نصف اللہ کے راستے میں دے دیا “۔ (ابن ابی شیبہ)
11634- "الصديق رضي الله عنه" عن الشعبي قال: استشهد سالم مولى أبي حذيفة، فأعطى أبو بكر امرأته النصف، وأعطى النصف الثاني في سبيل الله. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11631 ۔۔۔ حسرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اگر آخری مسلمان بھی باقی ہوتا اور جب کوئی علاقہ فتح ہوتا تو میں اس کے حصے اسی طرح تقسیم کرتا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے حصے تقسیم فرمائے تھے، لیکن میں یہ چاہتاہوں کہ مسلمانوں کو جزیہ ملتا رہے اور آخری مسلمان ایسا رہ جائے کہ اس کے لیے کچھ نہ بچے “۔ (ابن ابی شیبہ، ابو عبید، ابن زنجویہ معافی الاموا ل اور مسند ابن وھب اور مسنداحمد، بخاری، ابو داؤد، ابن خزیمہ، ابن الجارود، طحاوی، مسند ابی یعلی، خرائطی فی مکارم الضلاق، متفق علیہ)
11635- عن عمر قال: لولا آخر المسلمين ما فتحت قرية إلا قسمتها سهمانا كما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر سهمانا، ولكني أردت أن يكون جزية تجري على المسلمين، وكرهت أن يترك آخر المسلمين لا شيء لهم. "ش وأبو عبيد وابن زنجويه معا في الأموال وابن وهب في مسنده حم خ د وابن خزيمة وابن الجارود والطحاوي ع والخرائطي في مكارم الأخلاق ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11632 ۔۔۔ حارثہ بن مغرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ہمیں لکھا کہ امابعد، تحقیق میں تمہارے پاس عمار بن یاسر کو امیر اور عبداللہ بن مسعود کو استاد اور وزیر بنا کر بھیج رہاہوں ، اور یہ دونوں حضرات جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں میں نہایت شریف اور معزز حضرات ہیں ، سو ان سے سیکھو اور ان کی اطاعت کرو اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے تمہیں خود پر ترجیح دی عبداللہ بن مسعود (رض) کے معاملے میں ، اور سواد میں میں نے عثمان (رض) ابن حنیف کو بھیجا ہے، ان کو روزانہ ایک بکری دو اس کا کچھ حصہ اور پیٹ عمار کے لیے اور باقی دوسرا حصہ ان تینوں حضرات کے لیے ہے “۔ (ابن سعد، مستدرک حاکم ، سعید بن منصور)
11636- عن حارثة بن مضرب قال: كتب إلينا عمر بن الخطاب أما بعد فإني قد بعثت إليكم عمار بن ياسر أميرا وعبد الله بن مسعود معلما ووزيرا وهما من النجباء من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم من أهل بدر، فتعلموا منهما، واقتدوا بهما، وإني قد آثرتكم بعبد الله على نفسي أثرة، وبعثت عثمان بن حنيف على السواد، وأرزقهم كل يوم شاة فاجعل شطرها وبطنها لعمار، والشطر الثاني بين هؤلاء الثلاثة. "ابن سعد ك ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11633 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اولین مہاجرین کے لیے چار ہزار مقرر کئے تھے اور حضرت عمر (رض) کے لیے ساڑھے تین ہزار ، عرض کیا گیا کہ ابن عمر بھی تو مہاجرین میں سے ہیں ان کے لیے آپ نے چار ہزار سے کم کیوں کئیے ؟ تو فرمایا کہ اس کے تو صرف باپ نے ہجرت کہ ہے وہ اس طرح نہیں کہ جیسے خود ہجرت کی ہو “۔ (بخاری، دارقطنی فی الافراد سنن کبری بیھقی)
فائدہ۔۔۔ یہ اس لیے فرمایا کیونکہ ہجرت کے وقت حضرت ابن عمر (رض) نہایت کم سن تھے اور غزوہ احد جو ہجرت کے بعد ہوا اس وقت حضرت ابن عمر کی عمر صرف 14 برس تھی۔ (مترجم)
فائدہ۔۔۔ یہ اس لیے فرمایا کیونکہ ہجرت کے وقت حضرت ابن عمر (رض) نہایت کم سن تھے اور غزوہ احد جو ہجرت کے بعد ہوا اس وقت حضرت ابن عمر کی عمر صرف 14 برس تھی۔ (مترجم)
11637- عن ابن عمر أن عمر كان فرض للمهاجرين الأولين أربعة آلاف، وفرض لابن عمر ثلاثة آلاف وخمسمائة، فقيل له: هو من المهاجرين، لم نقصته من أربعة آلاف؟ قال: إنما هاجر أبوه، يقول: ليس كمن هاجر بنفسه. "خ قط في الأفراد هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
موسیٰ بن علی بن رباح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جابیہ میں لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ جو قرآن کریم کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہے تو ابن ابی کعب کے پاس آئے ، اگر کوئی فرائض کے بارے میں کچھ پوچھنا ہے تو زید بن ثابت کے پاس آئے اور اگر کوئی وقفہ کے بارے میں پوچھنا ہے تو وہ معاذبن جبل کے پاس آئے ، اور اگر کوئی مال کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہے تو وہ میرے پاس آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خازن اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے، سنو !
میں سب سے پہلے مہاخرین اولین سے شروع کرنے والاہوں میں اور میرے ساتھی، اور ان کو دوں گا ، پھر انصار کو دینا شروع کروں گا جنہوں نے امان اور ٹھاکانہ دیا ان کو دوں گا ، پھر امہات المومنین (رض) کو دوں گا ، سو جس نے جلدی ہجرت کی اس کو عطا بھی جلدی ملے گی اور جس نے تاخیر سے ہجرت کی اس کو عطا بھی دیر سے ملے گی سو اگر کسی کو برابھلا کہنا ہی ہے تو اپنی سواریوں کو کہو “۔ (ابو عبید فی الاموال، ابن شیبہ ، سنن کبری بیھقی)
میں سب سے پہلے مہاخرین اولین سے شروع کرنے والاہوں میں اور میرے ساتھی، اور ان کو دوں گا ، پھر انصار کو دینا شروع کروں گا جنہوں نے امان اور ٹھاکانہ دیا ان کو دوں گا ، پھر امہات المومنین (رض) کو دوں گا ، سو جس نے جلدی ہجرت کی اس کو عطا بھی جلدی ملے گی اور جس نے تاخیر سے ہجرت کی اس کو عطا بھی دیر سے ملے گی سو اگر کسی کو برابھلا کہنا ہی ہے تو اپنی سواریوں کو کہو “۔ (ابو عبید فی الاموال، ابن شیبہ ، سنن کبری بیھقی)
11638- عن موسى بن علي بن رباح عن أبيه أن عمر بن الخطاب خطب الناس بالجابية، فقال: من أراد أن يسأل عن القرآن فليأت أبي بن كعب، ومن أحب أن يسأل عن الفرائض فليأت زيد بن ثابت، ومن أراد أن يسأل عن الفقه فليأت معاذ بن جبل، ومن أراد أن يسأل عن المال فليأتني، فإن الله تعالى جعلني له خازنا وقاسما، ألا وأني بادئ بالمهاجرين الأولين أنا وأصحابي، فمعطيهم، ثم بادئ بالأنصار الذين تبوؤا الدار والإيمان فمعطيهم، ثم بادئ بأزواج النبي صلى الله عليه وسلم فمعطيهن فمن أسرعت به الهجرة أسرع به العطاء، ومن أبطأ عن الهجرة أبطأ به عن العطاء فلا يلومن أحدكم إلا مناخ راحلته. "أبو عبيد في الأموال ش هق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11635 ۔۔۔ سفیان بن وھب الخولانی فرماتے ہیں کہ جب ہم نے بٖغیر عہد کے مصر فتح کرلیا تو حضرت زبیر بن العوام (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے عمروبن العاص اس کو تقسیم کردو، حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا کہ میں اس کو تقسیم نہ کروں گا ، حضرت زبیر (رض) نے فرمایا کہ خدا کہ قسم ہم اس مال کو اسی طرح تقسیم کریں گے ، حضرت زبیر (رض) نے فرمایا کہ خدا کہ قسم ہم اس مال کو اسی طرح تقسیم کریں گے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا مال تقسیم کیا تھا، حضرت عمرو بن العاص نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں اس وقت تک اس مال کو تقسیم نہ کروں گا جب تک امیرالمومنین کو اطلاع نہ کردوں ، تو حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ اس مال کو اس وقت تک برقرار رکھو جب تمہارے پاس موجود جانوروں کے پوتے نواسے بھی اس جہاد میں شریک نہ ہوں جائیں “۔ (ابن عبدالحکم فی فتوح مصر، ابن وھب، ابوعبید، ابن زنجویہ معافی الاموال، متفق علیہ)
11639- عن سفيان بن وهب الخولاني، قال: لما فتحنا مصر بغير عهد، قام الزبير بن العوام، فقال: أقسمها يا عمرو بن العاص، فقال عمرو: لا أقسمها، فقال الزبير: والله لتقسمنها كما قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر، فقال: والله لا أقسمها حتى أكتب إلى أمير المؤمنين، فكتب عمر إليه أقرها حتى تغزو منها حبل الحبلة. "ابن عبد الحكم في فتوح مصر وابن وهب وأبو عبيد وابن زنجويه معا في الأموال ق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف اور عطایا
11636 ۔۔۔ عیاض الاشعری فرماتے ہیں :” حضرت عمر اضی اللہ عنہ غلاموں ، باندیوں اور گھوڑوں کو بھی وظیفہ عطا فرماتے۔ “(ابن ابی شیبہ، متفق علیہ)
11640- عن عياض الأشعري أن عمر كان يرزق العبيد والإماء والخيل. "ش ق".
তাহকীক: