কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৬০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11597 ۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے لناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مال غنیمت میں سے ایک رسی کے بارے میں پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلوتہی کی اس نے پھر پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر پہلوتہی فرمائی، جب وہ بارباریہی پوچھنے لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تجھے ایک رسی کے بدلے آگ سے کون بچائے گا
11601- عن أبي هريرة أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عقالا من المغنم فأعرض عنه، ثم عاد فأعرض عنه، فلما أكثر عليه قال: من لك بعقال من نار؟ "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11598 ۔۔۔ حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب اپنے گھروالی فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس گئے ان کی تلوار خون میں لت پت تھی، اھلیہ نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ تم قتل کرکے آئے ہو سو تمہیں مشرکین کے مال غنیمت سے کیا ملا ؟ بولے اس سوئی کو سنبھال لو اس سے اپنے کپڑے سینا اور سوئی اھلیہ کے حوالے کردی، اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نمائندے کو پکارتے سناجو کہہ رہا تھا کہ اگر کسی کو کوئی چیز ملی ہے تو واپس کردے اگرچہ وہ سوئی ہی کیوں نہ ہو، حضرت عقیل اپنی اھلیہ کے پاس واپس آئے اور کہا کے میرا خیال ہے کہ تمہاری سوئی تمہارے پاس نہ رہے گی چنانچہ سوئی واپس لی اور جا کر مال غنیمت میں جاکر ڈال دی “۔
11602- عن زيد بن أسلم أن عقيل بن أبي طالب دخل على امرأته فاطمة بنت عتبة بن ربيعة وسيفه متلطخ بالدماء، فقالت: قد عرفت أنك قاتلت، فما أصبت من غنائم المشركين؟ فقال: دونك هذه الإبرة، فخيطي بها ثيابك، ودفعها إليها، فسمع منادي النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من أصاب شيئا فليرده وإن كان إبرة، فرجع عقيل إلى امرأته، فقال: ما أرى إبرتك إلا قد ذهبت عنك، فأخذ عقيل الإبرة فألقاها في الغنائم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11599 ۔۔۔ ابو رافع فرماتے ہیں کہ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقیع میں سے گزرے اور فرمایا اف، اف، جب کہ ان کے ساتھ میرے اعلاوہ اور کوئی نہ تھا سو میں خوف ذدہ ہوگیا، اور میں نے پوچھا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، فرمایا کہ اس قبر میں جو شخص ہے میں نے بنوفلاں میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا تھا تو اس نے ایک چادر بطور خیانت اٹھالی سو میں اسے اسی دکھتی ہوئی چادر میں لپٹے ہوئے دیکھ رہاہوں “۔ (طبرانی)
11603- عن أبي رافع قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالبقيع، فقال أف أف أف وليس معه أحد غيري، فراعني فقلت: بأبي أنت وأمي قال: صاحب هذه الحفرة استعملته على بني فلان فخان بردة فأريتها عليه تلتهب. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11600 ۔۔۔ حضرت عبادۃ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت کے اونٹ کو سامنے کھڑاکرکے نماز ادا فرمائی، اور فارغ ہونے کے بعد ایک ٹکڑا انگلیوں میں اٹھایا یہ بالوں کا گچھا تھا، فرمایا کہ یہ بھی تمہارے مال غنیمت میں سے ہے اور اس میں سے میرے لیے خمس کے علاوہ کچھ نہیں اور خمس تم میں لوٹایا جائے گا چنانچہ سوئی اور دھاگا تک ادا کردو یا اس سے چھوٹی یا بڑی کوئی چیز بھی اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت کرنا خائن کے لیے دنیا اور آخرت میں عار اور شرمندگی ہوگا، اللہ کے راستے میں لوگوں سے جہاد کرو، قریب اور دور اور اللہ کے راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کرو، اور سفر میں ہو یا حضر میں اللہ کی حدود قائم کرو، اور تم پر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ضروری ہے، کیونکہ جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک عظیم دروازہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ غم اور فکر سے نجات عطا فرماتے ہیں “ ،(ابو نعیم)
11604- عن عبادة بن الصامت أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى إلى بعير من المغنم، فلما فرغ من صلاته أخذ قردة بين أصبعيه، وهي وبرة، فقال: إن هذا من غنائمكم، وليس لي منه إلا الخمس، والخمس مردود عليكم، فأدوا الخيط والمخيط، وأصغر من ذلك وأكبر، ولا تغلوا فإن الغلول عار على أهله في الدنيا والآخرة، جاهدوا الناس في الله: القريب والبعيد، ولا تبالوا في الله لومة لائم، وأقيموا حدود الله في الحضر والسفر وعليكم بالجهاد في سبيل الله، فإنه باب من أبواب الجنة عظيم ينجي الله به من الغم والهم. "أبو نعيم كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11601 ۔۔۔ معمر بن عبدالکریم حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت فرماتے ہیں کہ مشرک قیدیوں کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مجھے لکھا کہ (جبکہ ان قیدیوں کے بدلے ) اتنااتنا فدیہ قبول کیا جاچکا تھا کہ ان کا فدیہ نہ لو بلکہ ان کو قتل کردو “۔ (ابوعبید فی الاموال)
11605 - "الصديق رضي الله عنه" عن معمر بن عبد الكريم قال: كتب إلي أبو بكر الصديق في أسير من المشركين، وقد اعطي به كذا وكذا، فكتب أن لا تفادوا به، فاقتلوه. "أبو عبيد في كتاب الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11602 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ کافروں کے ہاتھ سے ایک مسلمان کو چھڑوالینا مجھے جزیرۃ العرب سے زیادہ پسند ہے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11606- عن عمر قال: لأن أستنقذ رجلا من المسلمين من أيدي الكفار أحب إلي من جزيرة العرب. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11603 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا، جان لو کہ مشرکوں کے پاس جتنے بھی مسلمان قیدی ہیں ان کی آزادی کے لیے مال مسلمانوں کے بیت المال سے دیا جائے گا “۔ (ابن ابی شیبہ اور ابن راھویہ)
11607- عن ابن عباس قال قال لي عمر حين طعن: اعلم أن كل أسير كان في أيدي المشركين من المسلمين ففكاكه من بيت مال المسلمين. "ش وابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11604 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کے کسی عربی کو غلام نہیں بنایا جاسکتا “۔ (الشافعی، منفق علیہ)
11608- عن عمر قال: لا يسترق عربي. "الشافعي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11605 ۔۔۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت سائب بن الاقرع کو لکھا کہ مسلمانوں میں سے جو کوئی بھی اپنا غلام اور سازوسامان بالکل اصل پالے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے اور اگر اس نے اپنا مال تقسیم ہونے کے بعد کسی تاجر کے پاس پایا تو اس کا اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ اور کوئی بھی آزاد جسے تاجروں نے خرید لیا ہو تو ان کو اصل قیمت واپس کی جائے گی کیونکہ آزادی کی خریدو فروخت نہیں ہوسکتی “۔
11609- عن الشعبي قال كتب عمر إلى السائب بن الأقرع: أيما رجل من المسلمين وجد رقيقه ومتاعه بعينه فهو أحق به وإن وجده في أيدي التجار بعد ما قسم فلا سبيل إليه، وأيما حر اشتراه التجار فيرد عليهم رؤس أموالهم، فإن الحر لا يباع ولا يشترى. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11606 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کو روانہ فرمایا تو ان کو کچھ قیدی ملے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کے ان میں سے جتنے بھی کسان اور کا شتکار وغیرہ ہیں ان کو چھوڑدو “۔ (ابوعبید)
11610- عن أنس بن مالك أن عمر بعث أبا موسى فأصاب سبيا فقال عمر: خلوا سبيل كل أكار وزراع. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11607 ۔۔۔ ابراھیم بن محمد بن اسلم بن بحرۃ اپنے دادا اسلم بن بحرۃ الانصاری سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں قریظۃ کے قیدیوں پر مقرر فرمایا تھا تو وہ لڑکے کے زیرے ناف دیکھتے تھے اگر وہاں بال اگے ہوتے تو اس کو قتل کردیتے اور اگر بال نہ اگے ہوتے تو اس کو مسلمانوں کے مال غنیمت میں رکھا جاتا ہے “۔ (الحسن بن سفیان، ابن مندہ)
11611- عن إبراهيم بن محمد بن أسلم بن بحرة عن جده أسلم بن بحرة الأنصاري أن النبي صلى الله عليه وسلم جعله على أسارى قريظة فكان ينظر إلى فرج الغلام، فإذا رآه قد أنبت ضرب عنقه، وإذا لم ينبت جعله في غنائم المسلمين. "الحسن بن سفيان وابن منده واستغربه قال: ولا يثبت طب وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11608 ۔۔۔ اسود بن سریع فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک قیدی لایا گیا تو وہ قیدی کہنے لگا کہ اے اللہ میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں لیکن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور توبہ نہیں کرتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس نے اپنے گھروالوں کے لیے حق پہچان لیا “۔ (مسند احمد، طبرانی، دارقطنی، فی الافراد، مستدرک حاکم، بیھقی فی شعب الایمان سعیدبن منصور)
11612- عن الأسود بن سريع قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بأسير، فقال: اللهم إني أتوب إليك ولا أتوب إلى محمد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم عرف الحق لأهله. "حم 1 طب قط في الأفراد ك هب ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11609 ۔۔۔ بکر بن مراداعوربن مشامہ دردان بن مخزم اور ربیعہ بن رقیع العنبر یین سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حجرے میں آرام فرما رہے تھے کہ اتنے میں عینیہ بن حصن بنو عنبر کے قیدی لے کر حاضر ہوئے تو ہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کیا ہمارے قبیلے کے قیدی جبکہ ہم تو آپ کی خدمت اقدس میں مسلمان ہو کر آئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کے تم قسم کھاؤ کہ تم مسلمان ہوگئے ہو، سو میں اور دردان ڈر گئے اور ربیعۃ نے قسم کھائی “۔
11613- عن بكر بن مرداس عن الأعور بن بشامة ووردان بن مخرم وربيعة بن رقيع العنبريين أنهم أتوا النبي صلى الله عليه وسلم وهو في حجرته نائم إذ جاء عيينة بن حصن بسبي بني العنبر، فقلنا: ما لنا يا رسول الله سبينا وقد جئنا مسلمين؟ قال: احلفوا أنكم جئتم مسلمين، فكعت أنا ووردان وحلف ربيعة ... عبدان قال في الاصابة في إسناده من لا يعرف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11610 ۔۔۔ ثعلبہ بن الحکم فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھیوں نے گرفتار کرلیا تھا اور میں اس وقت نوجوان تھا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوٹ مار سے منع فرما رہے تھے “۔ (ابونعیم)
11614- عن ثعلبة بن الحكم قال: أسرني أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا يومئذ شاب، فسمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عن النهبة. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11611 ۔۔۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے عرب قیدیوں کے بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کے ایک آدمی کا فدیہ آٹھ اونٹ سے بارہ اونٹ تک ہیں ، اس بات کی اطلاع حضرت عمر (رض) کو کی گئی تو آپ (رض) نے ایک آدمی کا فدیہ چارسودرھم مقرر فرمایا۔ (عبدالرزاق)
11615- عن الشعبي قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في سبي العرب في الجاهلية أن فداء الرجل ثمان من الإبل، وفي الإثنى عشر، وشكى ذلك إلى عمر بن الخطاب، فجعل فداء الرجل أربع مائة درهم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11612 ۔۔۔ طاؤس فرماتے ہیں کہ عرب قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کے آزاد کردہ غلاموں کا فدیہ دو غلام یا آٹھ اونٹ اور عربی کا فدیہ ایک غلام یاچاراونٹ مقرر فرمائے “۔ (عبدالرزاق)
11616- عن طاوس أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى في سبي العرب في الموالى بعبدين أو ثمان من الإبل، وفي العربي بعبد أو أربع من الإبل. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی قیدی
11613 ۔۔۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ عرب غلاموں کے فدیے کے بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کے انہی میں سے وہ شخص جس کو زمانہ جاھلیت میں گرفتار کیا گیا تھا اس کا فدیہ آٹھ اونٹ ہوگا اور لڑکا اگر باندی کا ہو تو دو وصیف کا فیصلہ فرمایا، وصیفوں میں سے ایک مذکر ایک مونث، اور زمانہ جاہلیت کی قیدی عورت کا فدیہ ماں کے آقا اداکریں گے اور وہی اس کا عصبہ ہوں گے اور اس کی مراث بھی لیں گے جب تک باپ آزاد نہ ہوجائے ، اور زمانہ اسلام کے قیدی کا فدیہ چھ اونٹ مقرر فرمایا مرد عورت بچہ سب کے لیے “۔ (عبدالرزاق)
فائدہ :۔۔۔ وضیف اس لڑکے کو کہتے ہیں جو خدمت کرنے کے قابل ہوگیا ہو، واللہ اعلم۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ وضیف اس لڑکے کو کہتے ہیں جو خدمت کرنے کے قابل ہوگیا ہو، واللہ اعلم۔ (مترجم)
11617- عن عكرمة قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في فداء رقيق العرب من أنفسهم: في الرجل الذي يسبي في الجاهلية بثمان من الإبل، وفي ولد إن كان لأمة بوصيفين، وصيفين كل إنسان منهم ذكر أو أنثى، وقضى في سبيه الجاهلية بعشر من الإبل، وقضى في ولدها من العبد بوصيفين، ويفديه موالي أمه، وهم عصبتها، ولهم ميراثه ما لم يعتق أبوه، وقضى في سبي الإسلام بست من الإبل، في الرجل والمرأة والصبي. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کے بارے میں بقیہ ہدایات
11614 ۔۔۔ رماح بن الحارث فرماتے ہیں کہ اسلام سے پہلے جو عربوں نے ایک دوسرے کو قیدی بنا لیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے سے پہلے قیدیوں کے بارے میں حضرت عمر (رض) فیصلہ فرماتے تھے کہ اگر کسی نے اپنے گھر والوں میں سے کسی مملوک کو کسی عرب محلے میں پہچان لیا تو اس کا فدیہ ایک غلام کے بدلے دو غلام اور ایک باندی کے بدلے دوباندیاں ہوں گی “۔ (ابن سعد)
11618- عن رباح بن الحارث قال: كان عمر بن الخطاب يقضي فيما سبت العرب بعضها من بعض قبل الإسلام، وقبل أن يبعث النبي صلى الله عليه وسلم أن من عرف أحدا من أهل بيته مملوكا في حي من أحياء العرب ففداؤه العبد بالعبدين والأمة بالأمتين. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیدیوں کے بارے میں بقیہ ہدایات
11615 ۔۔۔ ابو امامہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے، پوچھا گیا کہ رسول اللہ ! آپ کیوں ہنسے ؟ فرمایا اس قوم کو دیکھ کر جن کو زنجیروں میں باندھ کر جنت میں لایا جارہا تھا “۔ (ابن النجار)
11619- عن أبي أمامة قال: استضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقيل له: يا رسول الله ما يضحكك؟ قال: قوم يساقون إلى الجنة مقرنين في السلاسل. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11616 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے ابراھیم النخعی روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں مسلمان گیا، اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں میری زمین سے خراج ہٹا دیجئے، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کے تیری زمین جنگ لڑ کر حاصل کی گئی تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ فلاں فلاں زمین ہے جس میں آپ اس سے زیادہ خراج لیتے ہیں جتنا اس کی زمین پر لیتے ہیں تو فرمایا کہ ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں ان سے ہم نے صلح کی ہے “۔ (عبدالرزاق، ابو عبید فی الاموال، ابن عبدلحکم، فی فتح مصر، متفق علیہ)
11620- "مسند عمر رضي الله عنه" عن إبراهيم النخعي أن رجلا أسلم على عهد عمر بن الخطاب فقال: إني أسلمت فضع الخراج عن أرضي، فقال عمر: إن أرضك أخذت عنوة، فجاءه رجل فقال: أرض كذا وكذا تحتمل من الخراج أكثر مما عليها، فقال: ليس على أولئك سبيل، إنا صالحناهم. "عب وأبو عبيد في الأموال وابن عبد الحكم في فتوح مصر ق".
তাহকীক: