কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৫৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11577 ۔۔۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کی فتح کے تین دن بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں ہم حاضر ہوئے، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حصے عطا فرمایا اور کسی ایسے شخص کے لیے حصہ نہیں دیا جو فتح میں موجود نہ تھا “۔ (ابن ابی شیبہ، مسند ابی یعلی)
11581- عن أبي موسى قال: قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعدما فتحت خيبر بثلاث، فأسهم لنا ولم يسهم لأحد لم يشهد الفتح غيرنا. "ش ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11578 ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابان بن سعید ب العاص کو مدینہ منورہ سے ایک دستہ دے کر بھیجا، چنانچہ ابان اور ان کے ساتھی خبیر کی فتح کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے اور ان کے گھوڑوں کے تنگ کھجور کی چھال کے تھے، حضرت ابان نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارا حصہ عطا فرمایئے حضرت ابو ہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کو حصہ نہ دیجئے تو حضرت ابان نے مجھ سے کہا کہ تم بالوں کا گچھا ہو جو بھیڑے کے سر سے گرا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ، اے ابان تم بیٹھ جاؤ، لیکن ان کو حصہ نہیں دیا۔ (الحسن بن سفیان اور ابونعیم)
11582- عن أبي هريرة قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم أبان بن سعيد بن العاص على سرية من المدينة، فقدم أبان وأصحابه على رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر بعد فتحها وإن حزم خيلهم لليف، فقال أبان: اقسم لنا يا رسول الله، قال أبو هريرة: فقلت لا تقسم لهم يا رسول الله، فقال أبان أنت بها وبر تحدر من رأس ضأن، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اجلس يا أبان ولم يقسم لهم. "الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11579 ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس جنگ میں شریک ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حصہ عطا فرمایا علاوہ خبیر کے کیونکہ وہ خاص اہل حدیبیہ کے لیے تھا “ اور حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوموسی (رض) حدیبیہ اور خبیر کے درمیان آئے تھے۔ (یعقوب بن سفیان)
11583- عن أبي هريرة قال: ما شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مغنما إلا قسم لي إلا خيبر، فإنها كانت لأهل الحديبية خاصة، وكان أبو هريرة وأبو موسى جاءا بين الحديبية وخيبر. "يعقوب بن سفيان كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11580 ۔۔۔ مکحول فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوار کے لیے تین حصے مقرر کئے ، دوحصے گھوڑے کے لیے اور ایک حصہ سوار کے لئے۔ (ابن ابی شیبہ)
11584- عن مكحول أن النبي صلى الله عليه وسلم جعل للفارس ثلاثة أسهم سهمين لفرسه وسهما له. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11581 ۔۔۔ مکحول فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیر کے دن گھوڑے کے لیے دوحصے مقرر کئے اور اس کے سوار کے لیے ایک۔ (ابن ابی شیبہ)
11585- عن مكحول قال: أسهم النبي صلى الله عليه وسلم يوم خيبر للفرس سهمين وللرجل سهما. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11582 ۔۔۔ سعید بن المسیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کوئی عطا نہیں “۔ (ابن ابی شیبہ)
11586- عن سعيد بن المسيب قال: لا نفل بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11583 ۔۔۔ معمر نے قتادہ سے روایت کی فرمایا کہ میں نے ابن المسیب سے پوچھا اس شخص کے بارے میں جس کا غنیمت میں حصہ تھا کہ وہ اپنے حصے کو تقسیم سے پہلے فروخت کرسکتا ہے ؟ سعید بن المسیب نے فرمایا ، کہ وہاں ، میں نے عرض کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو مال غنیمت کو تقسیم سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، سعید نے فرمایا ہے، سعید نے فرمایا کہ غنیمت میں سونا اور چاندی بھی ہوتے ہیں، معمر کہتے ہیں کہ اور وہ نہیں جانتا کہ مال غنیمت میں اس کا حصہ کتنا ہے “۔ (عبدالرزاق)
11587- أنبأنا معمر عن قتادة قال: سألت ابن المسيب عن رجل له سهم في غنم، أيبيعه قبل أن يقسم؟ قال: نعم، فقلت قد نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع المغانم حتى تقسم، قال: إن المغانم يكون فيها الذهب والفضة قال معمر: ولا يدري كم سهمه من المغنم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11584 ۔۔۔ حشرج بن زیادالاشجعی اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں فرماتی ہیں کہ انھوں نے خبیر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کیا تھا، اور یہ چھ خواتین میں سے چھٹی تھیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب یہ معلوم ہوا چنانچہ انھوں نے ہماری طرف پیغام بھیجا کہ تم کس کے حکم سے نکلیں ؟ اور ہم نے محسوس کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے میں ہیں ہم نے وعرض کیا کہ ہم دوائیں وغیرہ لے کر آئیں ہیں جس سے ہم علاج کریں گی اور حصہ وصول کریں گی ، ستو پلائیں گی، اور جنگی اشعار سنائیں گی اور اللہ کے راستے میں مدد کریں گی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کھڑی ہوجاؤ، فرماتی ہیں کہ ہم زخمیوں کو دوا وغیرہ دیتی تھیں اور ان کے لیے کھانا وغیرہ بناتی تھیں ، ان کو تیر وغیرہ دیتی تھیں اور دوا وغیرہ تیار رکھتیں تھیں اور جب جنگ خبیر میں فتح ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے لیے بھی اسی طرح حصہ مقرر فرمایا جس طرح مزدوری کے لیے مقرر فرمایا تھا میں نے عرض کیا کہ اے دادی اماں ! وہ حصہ کیا تھا فرمایا کہ کھجوریں “ (ابن ابی شیبہ، ابن زنجویہ)
11588- عن حشرج بن زياد الأشجعي عن جدته أم أبيه أنها غزت مع النبي صلى الله عليه وسلم عام خيبر وهي سادسة ست نسوة، فبلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبعث إلينا، فقال: بأمر من خرجتن؟ ورأينا فيه الغضب، فقلنا: خرجنا ومعنا دواء نداوي به، ونناول السهام ونسقي السويق ونغزل الشعر نعين به في سبيل الله، فقال لنا: أقمن قالت: فكنا نداوي الجرحى، ونصلح لهم الطعام، ونرد لهم السهام، ونصلح لهم الدواء ونصيب منهم، فلما فتح الله عليه خيبر قسم لنا كما قسم للرجال، قلت: يا جدة وما كان ذلك؟ قالت: تمرا. "ش وابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غانمین میں مال غنیمت کی تقسیم
11585 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) فرماتے ہیں کہ خبیر کے دن ایک چربی کا تھیلا ملا میں نے اس کا اھتمام سے اپنے پاس رکھا اور خود سے کہنے لگا کہ اس سے میں کسی کو کچھ نہ دوں گا، اتنے میں میں نے مڑ کر دیکھا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرا رہے تھے تو مجھے حیا آگئی “۔ (ابن ابی شیبہ)
11589- عن عبد الله بن مغفل قال: دلي جراب من شحم يوم خيبر فالتزمته، وقلت هذا لا أعطي أحدا منه شيئا، فالتفت فإذا النبي صلى الله عليه وسلم يتبسم فاستحييت. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے بقیہ مسائل
11586 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے آزاد کردہ غلام ذکوان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس خواتین کے استعمال کا سامان خوشبو وغیرہ رکھنے کا تھیلا لایا گیا “ حضرت عمر (رض) کے ساتھیوں نے بھی دیکھا لیکن اس کی قیمت کا اندازہ نہ کرسکے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر تم اجازت دو میں یہ تھیلا ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس بھیجوادوں کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے خصوصی محبت فرمایا کرتے تھے، ساتھیوں نے عرض کیا جی ہاں بھجوا دیجئے تو میں یہ تھیلا لے کر ام المومنین (رض) کی خدمت اقدس میں پہنچا تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت عمر (رض) نے کیا فتح کرلیا (مسند ابی یعلی
11590- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ذكوان مولى عائشة أن درجا أتي به عمر بن الخطاب فنظر اكثر أصحابه، فلم يعرفوا قيمته، فقال: أتأذنون ان أبعث به إلى عائشة؟ لحب رسول الله صلى الله عليه وسلم إياها، قالوا: نعم فاتي به عائشة، فقالت: ماذا فتح على ابن الخطاب بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے بقیہ مسائل
11587 ۔۔۔ مطرف اپنے ساتھیوں سے روایت کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں کہ طلحۃ بن عبید اللہ نے بنوطلحہ کے نشاستج میں سے کچھ خریدا پھر حضرت عمر کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور تفصل بیان کی ، حضرت عمر (رض) نے دریافت فرمایا کہ تم نے یہ کس سے خریدا ہے ؟ یہ میں نے کوفہ میں قادسیہ والوں سے خریدا ہے ، طلحہ نے کہا تم نے یہ سب کے سب اہل قادسیہ سے کیسے خریدلیا ؟ فرمایا کہ تم نے کچھ نہیں کیا یہ تو مال فے ہے “۔
11591- عن مطرف عن بعض أصحابه قال: اشترى طلحة بن عبيد الله أرضا من نشاستج نشاستج بني طلحة فأتى عمر بن الخطاب فذكر ذلك له فقال عمر: ممن اشتريتها؟ قال: اشتريتها من أهل الكوفة، من أهل القادسية فقال طلحة: وكيف اشتريتها من أهل القادسية كلهم؟ قال إنك لم تصنع شيئا إنما هي فيء. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے بقیہ مسائل
11588 ۔۔۔ قتادہ سے وہ رجاء بن حیوۃ سے اور وہ قبیصہ بن ذؤیب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا، کہ جو مشرکوں نے جمع کر رکھا ہے ان میں سے جو مسلمانوں کو ملا اور اس مال والے نے اس کو پہچان لیا، فرمایا کہ اگر مال کو تقسیم سے پہلے پالیا تو اسی کا ہے اور اگر۔۔۔
11592- عن قتادة عن رجاء بن حيوة عن قبيصة بن ذؤيب أن عمر بن الخطاب قال: فيما أحرزه المشركون ما أصابه المسلمون فعرفه صاحبه قال: إن أدركه قبل أن يقسم فهو له وأن....
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے بقیہ مسائل
11589 ۔۔۔ ولید بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت علی (رض) کو معلوم ہوا کہ اشترنے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جو کچھ لشکر میں ہوتا ہے وہ تقسیم کیا جاتا ہے اور جو گھروں میں ہوتا ہے وہ تقسیم نہیں ہوتا ؟ حضرت علی (رض) نے اس کو بلا بھیجا اور دریافت فرمایا کہ کیا تو نے یہ بات کہی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں، تو فرمایا کہ واللہ میں نے تم پر اللہ کے مال میں سے اسلحہ کے علاوہ کچھ تقسیم نہیں کیا جو مسلمانوں کے خزانے میں تھا، جو وہ لے کر تمہاری طرف آئے تھے، سو وہ مال میں نے تمہیں عطا فرمایا اگر وہ ان کو ہوتا تو میں ہرگز تمہیں نہ دیتا اور اسی کی طرف لوٹا دیتا جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں عطا فرمایا حلال ہوتا ہے اور حرام ہمیشہ حرام ہوتا ہے، خدا کی قسم اگر تم میرے بارے میں ملامت گروہ کی خبریں پھیلا دو اور میرے ہاتھ پر بیعت کرلو تو میں تمہارے بارے میں ایسی سیرت اختیار کروں گا کہ توریت، زبور اور انجیل بھی اس بات کی گواہی دیں گی کہ میں نے وہی فیصلہ کیا ہے کہ جو قرآن میں ہے اور کوڑے سے خوب خبرلی۔
11593- عن الوليد بن عبيد الله عن أبيه قال: بلغ عليا أن الأشتر قال: ما بال ما في العسكر يقسم ولا يقسم ما في البيوت؟ فأرسل إليه، فقال: أنت القائل كذا؟ قال: نعم، قال: أما والله ما قسمت عليكم إلا سلاحا من مال الله كان في خزانة المسلمين أجلبوا به عليكم، فنفلتكموه ولو كان لهم ما أعطيتكموه، ولرددته على من أعطاه الله إياه في كتابه، إن الحلال حلال أبدا، وإن الحرام حرام أبدا، والله لئن بثثتم لي الوشاة وبايعتموني لأسيرن فيكم سيرة تشهد لي التوراة والإنجيل والزبور أني قضيت بما في القرآن وأحسن أدبه بالدرة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے بقیہ مسائل
11590 ۔۔۔ سفیان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس قیدی لائے گئے تو آپ (رض) نے ان کو آزاد کردیا “۔ (ابن ابی شیبہ)
11594- عن سفيان عن رجل أن عمر أتي بسبي فأعتقهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے بقیہ مسائل
11591 ۔۔۔ سبحان بن موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ غنیمت کے شروع میں کوئی عطا نہیں اور غنیمت کے بعد بھی کوئی عطا نہیں ، اور تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے کچھ نہ دیا جائے گا علاوہ چراو ہے کے، یاچوکیدار کے یا کسی اور کے ہنکانے والے کے “۔ (ابن ابی شیبہ)
11595- عن سليمان بن موسى قال: قال عمر لا نفل في أول غنيمة ولا نفل بعد الغنيمة، ولا يعطى من المغنم شيء حتى يقسم، إلا لراع أو حارس أو سائق غير موليه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے بقیہ مسائل
11592 ۔۔۔ حسن حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ذمیوں کے غلاموں اور زمینوں کو نہ خریدو، حضرت حسن سے پوچھا گیا کہ کیوں ؟ فرمایا کیونکہ وہ مسلمانوں کے لیے مال فے کی حیثیت رکھتے ہیں “۔ (ابوعبید)
11596- عن الحسن عن عمر قال: لا تشتروا رقيق أهل الذمة وأرضهم، قيل للحسن: لم؟ قال: لأنهم فيء للمسلمين. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11593 ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی مسند سے عمروبن شعیب روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ جب کوئی شخص خائن پایا جائے اس سے مال لے لیا جائے گا اور سوکوڑے لگائے جائیں گے، اس کا سر اور داڑھی مونڈدی جائے گی اور اس کی سواری جلادی جائے، اور جو کچھ بھی اس کی سواری میں ہو علاوہ حیوان کے، اور وہ کبھی بھی مسلمانوں کے ساتھ کبھی بھی حصہ نہ لے سکے گا “۔ (ابن ابی شیبہ)
11597- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن عمرو بن شعيب قال: إذا وجد الغلول عند الرجل أخذ وجلد مائة وحلق رأسه ولحيته وأحرق رحله، وما كان في رحله من شيء إلا الحيوان، ولم يأخذ سهما في المسلمين أبدا قال: وبلغني أن أبا بكر وعمر كانا يفعلانه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11594 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن بعض صحابہ کرام (رض) تشریف لائے اور فرمایا کہ فلاں شہید ہوگئے ہیں اور فلاں شہید ہوگئے ہیں یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس سے گزرے اور کہا کہ فلاں بھی شہید ہوگیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، میں اسے آگ کی اس چادر میں لپٹے ہوئے دیکھ رہاہوں جو اس نے بطور خیانت مال غنیمت سے اٹھالی تھی، پھر جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے ابن الخطاب جاؤ اور لوگوں کو بتادو کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے، چنانچہ میں نکلا اور اعلان کیا کہ جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے “۔ (ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، مسلم ترمذی، دارمی)
11598- عن عمر لما كان يوم خيبر أقبل بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: فلان شهيد، فلان شهيد، حتى مروا على رجل فقالوا: فلان شهيد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كلا إني رأيته في النار في بردة غلها، أو عباءة، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا ابن الخطاب اذهب فناد في الناس أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون، فخرجت فناديت أنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون. "ش حم م ت والدارمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৫৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11595 ۔۔۔ حضرت عبید (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اور حضرت عمر (رض) صدقہ کا تذکرہ کررہے تھے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ کیا تو نے سنا نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب صدقہ میں غلول کا ذکر فرمایا کہ جس نے اونٹ کی خیانت یا بکری کی خیانت کی، قیامت کے دن وہ اس جانور کو اٹھائے ہوئے ہوگا تو حضرت عبیداللہ بن انیس (رض) نے فرمایا جی یاں “۔ (ابن ماجہ، ابن جریر، سنن سعیدبن منصور)
11599- عن عبد الله بن أنيس أنه تذاكر هو وعمر بن الخطاب الصدقة، فقال عمر: ألم تسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ذكر غلول الصدقة من غل منها بعيرا أو شاة أتي به يوم القيامة يحمله؟ فقال عبد الله بن أنيس: بلى. "هـ وابن جرير ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৬০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں خیانت
11596 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہیں پہلوؤں سے پکڑ پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچارہا ہوں اور تم اس میں اس طرح گرے جارہے ہو جیسے پتنگے اور ٹڈیاں اور قریب ہے کہ تمہارے پہلوؤں کو چھوڑدہا جائے اور تمہیں حوض پر آنے دیا جائے تو تم میرے پاس علیحدہ علیحدہ یا جماعتوں کی شکل میں آؤگے سو میں تمہیں پہچان لوں گا تمہارے ناموں سے تمہاری علامتوں سے جیسے ایک شخص بہت سے اونٹوں میں اپنے اونٹوں کو پہچان لیتا ہے، سو تمہیں بائیں جانب لے جایا جائے گا اور میں تمہارے لیے منت سماجت کروں گا، اور عرض کروں گایارب ! میری امت تو اللہ تعالیٰ فرما ہیں گے کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا کیا تھا، یہ آپکے بعد الٹے قدموں پھرگئے تھے، سو میں تم میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں پہچانوں گا جو قیامت کے دن پکارتی ہوئی بکری اٹھائے ہوئے آئے گا اور فرمایا گا یامحمد یامحمد اور میں کہوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا میں نے تو صاف صاف بتادیا تھا، اور میں کسی ایسے شخص کو نہ پہچانوں گا جو کسی چیختے ہوئے اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے گا اور پکارے گایا محمد یامحمد، تو میں اس سے کہوں گ ا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا میں تو صاف صاف بتادیا تھا اور نہ میں کسی ایسے شخص کو پہچانوں گا جو چیختے ہوئے گھوڑے کو اٹھائے ہوئے آئے گا اور پکارے یامحمدیامحمد تو میں کہوں گا کہ میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا “ میں نے تو صاف صاف بتادیا تھا اور میں اس شخص کو بھی نہ پہچانوں گا جو ایک چمڑے کا خشک ٹکڑا اٹھائے ہوئے آئے گا اور پکارے گا یامحمد یامحمد اور میں کہوں گا میں تیرے لیے کچھ نہیں کرسکتا میں نے تو صاف صاف بتادیا تھا “۔ (رامھرامری فی الامثال، اور سیاربن حاتم فی الرھد)
11600- عن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني ممسك بحجزكم عن النار وأنتم تقاحمون فيها تقاحم الفراش والجنادب ويوشك أن أرسل حجزكم وأفرض لكم على الحوض فتردون علي معا وأشتاتا فأعرفكم بأسمائكم وسيماكم كما يعرف الرجل الغريبة من الإبل في إبله، فيذهب بكم ذات الشمال وأناشدكم فيه رب العالمين فأقول: يا رب أمتي، فيقول: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك، إنهم كانوا يمشون القهقرى بعدك، فلا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل شاة لها ثغاء ينادي: يا محمد يا محمد فأقول: لا أملك لك من الله شيئا، قد بلغت، ولا اعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل بعيرا له رغاء ينادي يا محمد يا محمد، فأقول لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت، ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل فرسا له حمحمة ينادي يا محمد يا محمد فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت ولا أعرفن أحدكم يأتي يوم القيامة يحمل قشعا من أدم ينادي يا محمد يا محمد فأقول: لا أملك لك من الله شيئا قد بلغت. "الرامهرمزي في الأمثال وسيار بن حاتم في الزهد" ورجاله ثقات.
তাহকীক: