কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৫৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11557 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ تقسیم میں اسی کا حصہ ہے جو جنگ کے دوران موجود ہے “۔ (کامل ابن عدی ، متفق علیہ)
11561- عن علي قال: القسمة لمن شهد الوقعة. "عد ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11558 ۔۔۔ ثابت بن حارث الانصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیر کے دن سہلۃ بنت عاصم بن عدی اور ان کو نومولود صاحبزادی کا حصہ بھی دیا “۔ (ابن سعد، حسن بن سفیان ، بغوی، طبرانی و ابونعیم)
11562- عن ثابت بن الحارث الأنصاري قال: قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر لسهلة بنت عاصم بن عدي، ولابنة لها ولدت. "ابن سعد والحسن بن سفيان والبغوي طب وأبو نعيم" وقال في الإصابة: إسناده قوي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11559 ۔۔۔ ثعلبہ جن حکم اللیشی کہتے ہیں کہ خبیر کے دن ہمین بکریاں ملیں ، لوگوں نے ان کو لوٹ لیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

تشریف لائے اور ان کی ہانڈیاں ابل رہی تھیں، تو دریافت فرمایا یہ کیا ہے ؟ عرض کیا کہ لوٹ کا مال ہے یارسول اللہ ! فرمایا کہ الٹ دو ان ہانڈیوں کو، کیونکہ لوٹ حلال نہیں ، چنانچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں اور کچھ نہ باقی رہا “۔ (طبرانی ، عبدالرزاق، ابن ماجہ، ابوداؤد)
11563- عن ثعلبة بن الحكم الليثي قال: أصبنا يوم خيبر غنما فانتهبها الناس، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم وقدورهم تغلى، فقال: ما هذا؟ قالوا: نهبة يا رسول الله قال: أكفؤها فإن النهبة لا تحل فكفأ وما أبقى فيها. "طب عب هـ" [د] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11560 ۔۔۔ حضرت ابومالک الاشعری (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کشتی میں آرہے تھے، جب ایک جگہ کشتی کنارے لگی تو انھوں نے مشرکین کے بہت سے اونٹ پائے تو ان کو پکڑلیا اور حکم دیا کہ ان میں سے ایک اونٹ کو نحر کریں تاکہ اس کے ذریعے خوراک کا مسئلہ حل ہو پھر اپنے قدموں پر چل پڑے یہاں تک جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں تشریف لائے، اور اپنے ساتھیوں ، سفر اور اونٹوں کی تفصیلات بیان کیں، پھر اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ گئے، جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں موجود تھے بولے کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمٰن بھی ان اونٹوں میں سے کچھ عطا فرما دیجئے ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابومالک کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ حضرت مالک (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے ان اونٹوں کو پانچ پانچ کرکے تقسیم کردیا، پانچ اونٹ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں روانہ کردیئے، اور خمس کے بعد باقی تہائی روک لیا اور اپنے ساتھیوں کے درمیان تقسیم کردیا اور باقی دوثلث کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا، چنانچہ لوگ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں تشریف لائے ، اور عرض کیا کہ جو کچھ ابو مالک نے اس غنیمت کے ساتھ کیا وہ ہم نے آج تک نہیں دیکھا ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر میں ہوتا تو میں بھی یہی کرتا “۔ (طبرانی)
11564- عن أبي مالك الأشعري أنه قدم هو وأصحابه في سفينة، فلما أرسوا وجدوا إبلا كثيرة من إبل المشركين، فأخذوها فأمرهم أن ينحروا منها بعيرا ليستعينوا به، ثم مضى على قدميه حتى قدم على النبي صلى الله عليه وسلم، فأخبره بسفره وأصحابه والإبل التي أصابوا، ثم رجع إلى أصحابه، فقال الذين عند رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعطنا يا رسول الله من هذه الإبل، فقال: اذهبوا إلى أبي مالك، فلما أتوه قسمها أخماسا خمسا بعث به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأخذ ثلث الباقي بعد الخمس، فقسمه بين أصحابه، والثلثين الباقيين بين المسلمين، فجاؤا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: ما رأينا مثل ما صنع أبو مالك بهذا المغنم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت أنا ما صنعت إلا ما صنع. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11561 ۔۔۔ حبیب بن ملحد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت کی ابتداء میں چوتھائی چوتھائی تقسیم کرتے تھے اور بعد میں تہائی تہائی۔ (ابن ابی شیبہ، ابونعیم)
11565- عن حبيب بن مسلمة قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفل من المغنم في بدأته الربع، وفي رجعته الثلث. "ش وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11562 ۔۔۔ حبیب بن مسلمۃ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خمس کے بعد تہائی دیا “۔ (ابن ابی شیبہ)
11566- وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نفل الثلث بعد الخمس. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11563 ۔۔۔ حبیب بن مسلمۃ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شروع میں چوتھائی تقسیم فرماتے اور بعد میں خمس “۔ (ابونعیم)
11567- وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفل في بدأته الربع وفي رجعته الخمس. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11564 ۔۔۔ حبیب بن مسلمہ ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ میں شروع میں خمس کے بعد چوتھائی تقسیم فرماتے اور واپسی کے دوران خمس کے بعد تہائی “۔ (ابونعیم)
11568- وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفل في الغزو الربع بعد الخمس في البدأة وينفل في القفل الثلث بعد الخمس. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11565 ۔۔۔ حبیب بن مسلمۃ ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقتول کا مال قاتل ہی کودے دہا “۔ (طبرانی)
11569 - وعنه قال: جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم السلب للقاتل. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11566 ۔۔۔ مکحول ، حجاج بن عبداللہ البصری روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں نقل حق ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی نفل عطا فرمایا ہے “۔ (ابن ابی شیبہ، طبرانی، حسن بن سفیان ، بغوی، ابونعیم)

فائدہ :۔۔۔ یہاں نفل سے مراد مال غنیمت تقسیم کرنا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11570- عن مكحول عن الحجاج بن عبد الله البصري قال: النفل حق نفل رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش طب والحسن بن سفيان والبغوي وأبو نعيم كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11567 ۔۔ رعیہ سحیمی فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف خط لکھا تو انھوں نے اس خط کو بطور پیوند کے اپنے ڈول میں لگالیا، اسی دوران رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھیجا ہوا دستہ وہاں سے گزرا تو انھوں نے ان کے اونٹ لے لیے اور یہ مسلمان ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ تقسیم ہونے سے پہلے پہلے جو کچھ تو اپنے مال میں سے پالے توتوہی اس کا زیادہ حق دار ہے “۔ (مسند احمد عبدالرزاق)
11571- عن رعية السحيمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إليه كتابا فرقع به دلوه، فمرت به سرية لرسول الله صلى الله عليه وسلم فاستاقوا إبلا له فأسلم، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما ما أدركت من مالك بعينه قبل أن يقسم فأنت أحق به. "حم عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11568 ۔۔۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رعتہ کی طرف خط لکھا ، رعیۃ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خط وک لے کر اپنے ڈول میں بطور پیوند استعمال کرلیا چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دستہ روانہ فرمایا، اس دستے والوں نے رعیۃ سحیمی اہل و عیال اور مال کو پکڑلیا اور رعیۃ اپنے گھوڑے پر نکلنے میں کامیاب ہوگئے وہ بالکل بےلباس تھے ان کے جسم پر کچھ نہ تھا، وہ اپنی بیٹی کے گھر آئے جس کی شادی بنوھلال میں ہوئی تھی اور بنوھلال کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹی بھی مسلمان ہوچکی تھی اور اس وقت قبیلے والے ان کی بیٹی ہی کے ضمن میں بیٹھے تھے، چنانچہ رعیہ گھر کی پچھلی طرف سے آئے جب ان کی بیٹی نے ان کو بےلباس دیکھا تو ایک کپڑا دیا اور پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا، انھوں نے کہا کہ تمام برائیاں تیرے باپ پر نازل ہوگئیں نہ میرا مال چھوڑا گیا اور نہ گھر والے ، پھر اپنی بیٹی سے پوچھا کہ تیرا شوہر کہاں ہے ؟ کہا کہ اونٹوں میں ہے چنانچہ رعیہ اپنے داماد کے پاس آئے اور اس کو تفصیل بتائی داماد نے کہا کہ میری بیٹی سے پوچھا کہ تیرا شوہر کہاں ہے ؟ کہا کہ اونٹوں میں ہے چنانچہ رعیہ اپنے داماد کے پاس ہوگئیں نہ میرا مال چھوڑا گیا اور نہ گھر والے، پھر اپنی بیٹی سے پوچھا کہ تیرا شوہر کہاں ہے ؟ کہا کہ اونٹوں میں ہے چنانچہ عریہ اپنے داماد کے پاس آئے اور اس کو تفصیل بتائی داماد نے کہا کہ میری سواری لے لیں ، زادراہ کے طور پر آپ کو دودھ بھی دیں گے، رعیہ نے کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں بلکہ مجھے چرواہے کی لکڑی اور پانی وغیرہ کا سامان (دو میں) فوراً محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں کہیں میرے اھل اور مال کو تقسیم ہی نہ کردیں ، اور چل پڑے اور ان کے پاس جو کپڑا اس سے جب چھپائے توسرین ننگے ہوجاتی اور سرین ڈھانپتے تو سرننگا ہوجاتا ، بہرحال چل پڑے اور رات کے وقت مدینہ منورہ پہنچے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تھے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز پڑھاچکے تو رعیہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ میں بیعت کرلوں ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ بڑھایا، جب رعیہ پاتھ بڑھانے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک واپس کھینچ لیا، رعیہ نے پھر کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنا دست مبارک بڑھایئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ تم کون ہو ؟ جواب میں عرض کیا کہ رعیہ سحیمی ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بازو سے پکڑلیا اور بلند کیا پھر فرمایا کہ اے لوگو ! یہ رعیہ سحیمی ہے جس کی طرف میں نے خط لکھا تھا اور اس نے میرے خط کو پیوند بنالیا تھا اب مسلمان ہوگیا ہے، رعیہ نے پھر عرض کیا یارسول اللہ ! میرے گھر والے اور میرا مال ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیرا مال تو مسلمانوں میں تقسیم ہوگیا، رہے تیرے گھر والے تو دیکھو جو ملتا ہے لے لو، رعتہ کہتے ہیں کہ میں نکلاتو میں نے دیکھا کہ میرا بیٹا کھڑا ہے اور سواری کو پہچان لیا ہے اور اس کے پاس ہی کھڑا ہے، چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو میرے ساتھ روانہ فرمایا، انھوں نے جاکر پوچھا کہ کیا یہی تیرا باپ ہے ؟ اس نے کو جی ہاں چنانچہ اس کو میرے حوالے کردیا ، پھر حضرت بلال (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ خدا کی قسم ان میں سے ایک کو بھی میں نے دوسرے کے لیے آنسو بہاتے نہیں دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ تو دیہاتیوں کی سخت دلی ہے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11572- عن الشعبي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى رعية السحيمي بكتاب فأخذ كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فرقع به دلوه فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فأخذوا أهله وماله وأفلت رعية على فرس عريانا ليس عليه شيء، فأتى ابنته وكانت متزوجة في بني هلال وكانوا أسلموا وأسلمت معهم، وكان يجلس القوم بفناء بيتها، فأتى البيت من وراء ظهره، فلما رأته ابنته عريانا ألقت عليه ثوبا، وقالت: مالك؟ قال: كل الشر نزل بأبيك، ما ترك لي أهل ولا مال، قال: وأين بعلك؟ قالت:في الإبل، فأتاه فأخبره، قال: خذ راحلتي برحلي ونزودك من اللبن، قال لا حاجة لي فيه، ولكن أعطني قعود الراعي، وإداوة من ماء، فإني أبادر محمدا لا يقسم أهلي ومالي، فانطلق، وعليه ثوب إذا غطى به رأسه خرجت أسته، وإذا غطى به أسته خرج رأسه، فانطلق حتى دخل المدينة ليلا وكان بحذاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر، قال: يا رسول الله ابسط يدك فلأبايعك، فبسط رسول الله صلى الله عليه وسلم يده، فلما ذهب رعية ليمسحها قبضها رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال: له رعية يا رسول الله ابسط يدك، قال: ومن أنت؟ قال رعية السحيمي: فأخذ بعضده رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفعها، ثم قال: أيها الناس هذا رعية السحيمي الذي كتبت إليه، فأخذ كتابي فرقع به دلوه، فأسلم، ثم قال: يا رسول الله أهلي ومالي؟ فقال: أما مالك فقسم بين المسلمين، وأما أهلك فانظر من قدرت عليه منهم، قال: فخرجت فإذا ابن لي قد عرف الراحلة، وإذا هو قائم عندها، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت: هذا ابني، فأرسل معي بلالا، فقال: أبوك هو؟ قال: نعم، فدفعه إليه، قال: فأتى النبي صلى الله عليه وسلم بلال، فقال له: والله ما رأيت واحدا منهما مستعبرا "أخذته العبرة وهي البكاء. ح" إلى صاحبه، فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:ذاك جفاء الأعراب. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11569 ۔۔۔ رعیۃ سحیمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سرخ چمڑے پر خط لکھا تو اس کا پیوند بناکر اپنے ڈول میں لگالیا، اس بات کی اطلاع جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دستہ روانہ فرمایا جس نے ان کے نہ دن کو جانے والے جانور چھوڑے ، نہ رات کو چرکر آنے والے ، نہ گھر والے نہ مال و اسباب بلکہ سب کچھ لے لیا، رعیۃ بےلباس کی حالت میں نکلنے میں کامیاب ہوگئے، اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ ہوئے اور صبح کی نماز کے وقت وہاں پہنچے جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز فجر اور فرما رہے تھے جب نماز مکمل فرماچکے تو رعیہ نے عرض کیا کہ، اپنا ہاتھ بڑھاپے میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں گا، چنانچہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دست مبارک پڑھایا جب رعیہ ہاتھ بڑھایا جب رعیہ ہاتھ بڑھانے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دست مبارک پیچھے کھینچ لیا، چند مرتبہ اسی طرح ہوا ، پھر سامنے آئے اور عرض کیا کہ میں رعیہ سحیمی ہوں ، تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں باز و سے پکڑ کر زمین سے اٹھالیا اور فرمایا کہ یہ رعیۃ اسحیمی ہیں ، میں نے ان کو خط لکھا تھا جس کا انھوں نے پیوند بناکر ڈول میں لگالیا، رعیۃ نے عرض کیا، میرے گھر والے اور میرا مال ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، مال تو تیرا تقسیم ہوچکا رہا تیرا بیٹا اور گھر والے تو دیکھ لوکون ملتا ہے ؟ چنانچہ ، وہ روانہ ہوئے پھر واپس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے بیٹے نے ان کو پہچان لیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف واپس آئے اور عرض کیا یہ میرا بیٹا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے بلال ان کے ساتھ جاؤ اور اگر معلوم ہو کہ وہ ان کا بیٹا ہے تو ان کے حوالے کردو، چنانچہ حضرت بلال (رض) روانہ ہوئے تو اس لڑکے نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں تو حضرت بلال (رض) نے بیٹا ان کے حوالے کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آئے اور عرض کیا وہ اسی کا بیٹا ہے اور میں نے دونوں میں سے ایک کو بھی دوسرے کے لیے آنسو بہاتے نہیں دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ تو دیہاتیوں کی سخت دلی ہے “۔ (طبرانی)
11573- عن رعية السحيمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إليه كتابا في أديم أحمر، فرقع به دلوه، وأخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فلم يدعوا له سارحة ولا بارحة ولا أهلا ولا مالا إلا أخذوه، فأفلت عريانا، ومضى إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فأتاه مع صلاة الصبح وهو يصلي، فلما قضى صلاته قال: ابسط يدك أبايعك، فبسط رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فلما اراد ان يضرب عليهما قبضها رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل ذلك مرارا، ثم أقبل عليه فقال: رعية السحيمي فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم بعضده، فرفعها من الأرض، وقال: هذا رعية السحيمي، كتبت إليه كتابا فرقع به دلوه، وقال رعية: مالي وولدي، فقال: أما مالك فهيهات قد قسم، وأما ولدك وأهلك فمن أصبت منهم، فمضى، ثم عاد وإذا ابنه قد عرفه، فرجع إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هذا ابني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا بلال اخرج معه، فإن زعم أنه ابنه فادفعه، فخرج معه، فقال: هو أبي فدفعه إليه، وأقبل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ذكر أنه ابنه،وما رأيت أحد منهما استعبر إلى صاحبه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ذاك جفاء الأعراب. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11570 ۔۔۔ حضرت عبادۃ بن الصامت (رض) فرماتے ہیں کہ جاتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چوتھائی عطا فرماتے اور واپسی کے دوران تہائی تہائی۔ (ابن ابی شیبہ ، ابن ماجہ)
11574- عن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نفل في البدأة الربع، وفي الرجعة الثلث. "ش" [هـ] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11571 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوار کے لیے تین حصے مقرر فرمائے، ایک حصہ خود اس کے لیے اور دوحصے اس کے گھوڑے کے لیے “۔ (ابن ابی شیبہ)
11575- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم جعل للفارس ثلاثة أسهم سهما له وسهمين لفرسه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11572 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ایک جنگ میں گئے جب دشمن سے سامنا ہوا تو میں نے ایک شخص کو نیزہ مارا اور اس کو مہلت دی اور اس کا مال چھین لیا، جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ مال مجھے ہی عنایت فرمادیا “۔
11576- عن ابن عمر قال: خرجت في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة فلقينا العدو فشددت على رجل فطعنته فتنظرته وأخذت سلبه فنفلنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11573 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک دستے کے ساتھ نجد کی طرف بھیجا تو ہمیں بہت سے چوپائے ملے تو ہمارے امیر جو ہمارے ساتھ تھے انھوں نے ہمیں ایک ایک اونٹ دیا پھر ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنے حصوں کے ساتھ پہنچے، تو ہمارا حصہ خمس کے بعد بارہ اونٹ تھے تو ان میں سے ہر شخص کے لیے تیرہ (13) اونٹ تھے بشمول اس اونٹ کے جو ہمیں ہمارے امیرنے دیئے تھے، اور ہمارا حصہ اس میں سے نہیں گنا گیا “۔ (ابن ابی شیبہ ، ابوداؤد)
11577- عن ابن عمر قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية إلى نجد، فأصبنا نعما كثيرة، فنفلنا صاحبنا الذي كان علينا بعيرا بعيرا، ثم قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم بما أصبنا فكانت سهماننا بعد الخمس اثنى عشر بعيرا، فكان لكل رجل منا ثلاثة عشر بعيرا بالبعير الذي نفلنا صاحبنا وما حاسبنا به سهماننا. "ش" [د] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11574 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک دستے کے ساتھ نجد کی طرف بھیجا تو ہمارا حصہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ہمیں ایک ایک اونٹ دیا (ابن ابی شیبہ)
11578- عن ابن عمر قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية إلى نجد فبلغت سهماننا اثنى عشر بعيرا، ونفلنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعيرا بعيرا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11575 ۔۔۔ ابی اللحم کے آزاد کردہ غلام عمیر کہتے ہیں کہ میں اپنے آقا کے ساتھ خبیر کی جنگ میں موجود تھا، جب فتح ہوگئی تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ، کہ کیا مجھے حصہ ملے گا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار فرمادیا پھر مجھے کم قیمت اور ردی مال عطا فرمایا۔
11579- عن عمير مولى لأبي اللحم قال: شهدت خيبر وأنا عبد مملوك، فلما فتحوها أعطاني رسول الله صلى الله عليه وسلم سيفا، فقال: تقلد هذا، وأعطاني من خرثي المتاع ولم يضرب لي بسهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جاسوس کی گرفتاری
11576 ۔۔۔ حضرت ابی اللحم کے آزاد کردہ غلام فرماتے ہیں کہ میں جنگ خبیر میں موجود تھا جبکہ میں ایک غلام تھا اور کسی کی ملکیت تھا، جب مسلمانوں کو فتح ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تلوار عطا فرمائی اور فرمایا کہ اسے لٹکا اور مجھے کم قیمت مال عطا فرمایا اور میرے لیے باقاعدہ حصہ نہیں نکالا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11580- عن عمير مولى لأبي اللحم قال: شهدت مع سيدي خيبر فلما فتحت سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقسم لي؟ فأبى أن يقسم لي، وأعطاني من خرثي المتاع. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক: