কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৫৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11537 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ مال غنیمت میں حصہ اسی کو ملے گا جو جنگ کے دوران موجود تھا “۔ (الشافعی ، عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ ، طحاوی، سنن کبری بیھقی)
11541- "مسند عمر رضي الله عنه" عن طارق بن شهاب قال: قال عمر: إنما الغنيمة لمن شهد الوقعة. "الشافعي عب ش والطحاوي هق" وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11538 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ بنونضیر کا مال اس مال میں سے تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا جس سے مسلمانوں نے کوئی گھوڑے وغیرہ نہیں دوڑائے بلکہ یہ خاص صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں سے اپنے گھر والوں پر سال بھر خرچ فرماتے تھے اور باقی ماندہ کو اسلحہ وغیرہ میں لگا دیتے کہ اللہ کے راستے میں گنا جائے “۔ (الشافعی، والحمیدی، ابن ابی شیبہ، مسند احمد، عدنی، مسلم ، ابوداؤد، تزمذی، نسائی، ابن الجارود ابن جریر فی تھذیبیہ ابن المنذر، ابن مردویہ سنن کبری بیھقی)
11542- عن عمر قال: كانت أموال بني النضير مما أفاء الله على رسوله مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة، فكان ينفق على أهله منها نفقة سنتهم، ثم يجعل ما بقي في السلاح والكراع عدة في سبيل الله. "الشافعي والحميدي ش حم والعدني حم م د ت ن وابن الجارود وابن جرير في تهذيبه وابن المنذر وابن م ردويه هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11539 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی خاصیتوں کے ساتھ ممتاز فرمایا تھا کہ ان کے علاوہ کوئی ان خاصیات کا مالک نہ تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بنونضیر کا مال عطا فرمایا ، سو خدا کی قسم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مال کو تم پر ترجیح نہیں دی اور نہ تمہیں چھوڑ کر حاصل کیا بلکہ وہ مال بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہارے درمیان تقسیم درمیان تقسیم کردیا اور تمہاری طرف بھیج دیا یہاں تک کہ اس میں سے یہ مال باقی رہ گیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں سے اپنے گھر والوں کا سال بھر کا خرچہ لیا کرتے تھے اور باقی ماندہ مال کو اللہ کے راستے میں خرچ فرمایا کرتے تھے۔ (عبدالرزاق، عدنی ، عبدبن حمید، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد، ترمذیء نسائی، ابن مردویہ، سنن کبری بیھقی)
11543- عن عمر قال: إن الله خص رسول الله صلى الله عليه وسلم بخاصية لم يخص بها أحدا من الناس، وكان الله أفاء على رسوله بني النضير، فوالله ما استأثرها عليكم، ولا أخذها دونكم، ولقد قسمها بينكم وبثها فيكم، حتى بقي منها هذا المال فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأخذ منها نفقة أهله سنة ويجعل ما بقي مجعل مال الله. "عب والعدني وعبد بن حميد خ م د ت ن وابن مردويه هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11540 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنونضیر کے کھجور کے درخت فروخت کرکے اپنے گھر والوں کے لیے سال پھر کا خرچہ رکھا کرتے تھے “۔ (بخاری)
11544- عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبيع نخل بني النضير ويحبس لأهله قوت سنتهم. "خ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11541 ۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تین چیزیں تھیں، بنونضیر ، خبیر، اور فدک، رہا بنونضیرتو وہ اپنے نائبین کے لیے تھا رہا فدک کا باغ تو وہ مسافروں کے لیے رکھا ہوا تھا اور خبیر کے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین حصے کر رکھے تھے دو حصے تو مسلمانوں کے لیے اور ایک حصہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے سال بھر کے خرچ کیلئے اور جو خرچے سے بچ جاتا اسکوفقراء مہاجرین میں تقسیم فرما دیتے (ابوداؤد، ابن سعد، ابن ابی عاصم، ابن مردویہ، متفق علیہ سنن سعیدبن منصور
11545- عن عمر قال: كانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث صفايا: بنو النضير، وخيبر، وفدك، فأما بنو النضير فكانت حبسا لنوائبه، وأما فدك فكانت حبسا لأبناء السبيل، وأما خيبر فجزأها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة أجزاء، جزئين بين المسلمين، وجزأ لنفسه ونفقة أهله فما فضل عن نفقة أهله جعله بين فقراء المهاجرين. "د وابن سعد وابن أبي عاصم وابن مردويه ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11542 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دے دیا اس پر تم گھوڑے وغیرہ نہیں دوڑاسکتے یہ خاص صرف جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے عرینہ، فدک اور فلاں فلاں۔ (ابوداؤد)
11546- قال عمر: ما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب هذه لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة قرى عرينة فدك كذا وكذا. "د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11543 ۔۔۔ مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر (رض) نے مال فے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ خدا کی قسم میں اس مال کا تم سے زیادہ حق دار نہیں ہوں، اور نہ ہم میں سے کوئی اس مال کا زیادہ حق دار ہے اور خدا کی قسم مسلمانوں میں سے کوئی نہیں جس کا اس میں حصہ نہ ہو علاوہ غلام کے جو کسی کی ملکیت ہو، لیکن ہم سب میں تقسیم کتاب اللہ میں مقررہ درجات اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طے کردہ حصص کے مطابق ہوگی مثلا کسی کا قدم الاسلام کسی شخص کا اسلام کی خاطر زیادہ مصیبت زدہ ہونا اور کسی شخص کا گھر باروالا ہونا۔

اور طریق میں اس طرح ہے، کسی شخص کا اسلام میں زیادہ مشقت والا ہونا، اور کسی شخص کا زیادہ ضرورت مند ہونا، اور خدا کی قسم اگر میں ان کے لیے باقی رہا تو صنعاء کے یہاڑے ایک چرواہا آئے گا اس کا بھی اس مال میں حصہ ہوگا باوجود اس کے کہ وہ اپنی جگہ پر جانور چرارہا تھا “۔ (مسند احمد ، ابن سعد، ابوداؤد ، متفقم علیہ ، سنن سعید بن منصور)
11547- عن مالك بن أوس بن الحدثان: قال: ذكر عمر بن الخطاب يوما الفيء، فقال: والله ما أنا بأحق من هذا الفيء منكم، وما أحد منا بأحق به من أحد، ووالله ما من المسلمين أحد إلا وله في هذا المال نصيب إلا عبدا مملوكا، ولكنا على منازلنا من كتاب الله وقسم رسوله، الرجل وقدمه في الإسلام، والرجل وبلاؤه في الإسلام، والرجل وعياله وفي لفظ: وعناؤه في الإسلام، والرجل وحاجته، والله لئن بقيت لهم ليأتين الراعي بجبل صنعاء حظه من هذا المال وهو يرعى مكانه. "حم وابن سعد د ق كر ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11544 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ دنیا پر کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کا اس مال فے میں حصہ نہ ہو، حق جو دیا جائے گا یا ملک لیا جائے گا، علاوہ تمہارے غلاموں کے۔ (الشافعی ، عبد الرزاق، ابوعبید ، ابن زنجویہ ، معا۔ فیء کتاب الاموال، ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ مسند احمد، عبد بن حمید، متفق علیہ)
11548- عن عمر قال: ما على وجه الأرض مسلم إلا وله في هذا الفيء، حق أعطيه أو منعه إلا ما ملكت أيمانكم. "الشافعي عب وأبو عبيد وابن زنجويه معا في كتاب الأموال وابن سعد ش حم وعبد ابن حميد ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11545 ۔۔۔ اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب حضرت طلحۃ (رض) بن عبید اللہ اور حضرت زبیر العوام (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار کے لیے دوحصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ فرماتے “۔ (دارقطنی)
11549- عن ابن أوس بن الحدثان عن عمر بن الخطاب وطلحة ابن عبيد الله والزبير بن العوام، قالوا: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسهم للفرس سهمين وللرجل سهما. "قط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11546 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کا وہ مال جو مشرکین کے ہاتھ لگا، اور پھر دوبارہ مسلمانوں کو مل گیا تو مسلمانوں کے حصے تقسیم ہونے سے پہلے وہ مال اسی مسلمان کے ہاتھ آیا جس کا پہلے وہ تھا تواب وہی اس کا زیادہ حق دار ہے اور اگر حصے ہوگئے تو اب اس مال کو حاصل کرنے کا غنیمت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ (عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ ، متفق علیہ)
11550- عن عمر قال: ما أصاب المشركين من مال المسلمين، ثم أصابه المسلمون بعد فإن أصابه صاحبه قبل أن تجرى عليه سهام المسلمين فهو أحق به، وإن جرت عليه سهام المسلمين فلا سبيل إليه إلا بالغنيمة. "عب ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11547 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ غلام جو کسی کی ملکیت ہو اس کا مال غنیمت میں کوئی حق نہیں ہے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11551- عن عمر قال: ليس للعبد من الغنيمة شيء. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11548 ۔۔۔ حسن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسی (رض) کو لکھا کہ سوار کے لیے دو حصے اور پیادہ کے لیے ایک حصہ اور خچر والے کے لیے بھی ایک حصہ “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11552- عن الحسن قال: كتب عمر إلى أبي موسى أن يسهم للفرس سهمين وللمقرف سهما وللبغل سهما. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باغ فدک کی تفصیل
11549 ۔۔۔ سفیان بن وھب الخولانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو جابیہ نامی مقام پر دیکھا ، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد وثناء کی جس کے وہ لائق ہے پھر فرمایا امابعد، یہ مال فے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے بہت بلند مرتبہ اور عظیم الشان ہے، اس میں کوئی کسی سے زیادہ حق دار نہیں علاوہ ان دو محلوں یعنی لحکم اور جزام کے کیونکہ میں ان کے لیے کچھ تقسیم کرنے والا نہیں ہوں ، یہ سن کر بنولخم سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے ابن الخطاب ! میں اپنے معاملے میں عدل اور برابری کرنے کے لیے اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ عمر بن خطاب نے عدل اور برابری کا ارادہ کیا ہے اور خدا کی قسم میں جانتا ہوں اگر ہجرت صنعاء کی طرف ہوتی تو لخم وجزام میں سے چند ایک کے علاوہ کوئی اس طرف نہ جاتا، سو میں سفر کی مشقت برداشت کرنے اور سواری خریدنے والے کو اس شخص کی طرح نہ بناؤں گا جو اپنے علاقے میں لڑتے رہے، تو اسی وقت ابطوحریر کھڑے ہوئے اور کہا اے امیرالمومنین ! اگر اللہ تعالیٰ نے ہجرت ہمارے علاقے میں بھیجی ، ہم نے اس کی مدد کی اور تصدیق کی تو کیا یہی چیز ہے جو اسلام میں ہمارا حق ختم کردے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں تمہارے لیے تین مرتبہ تقسیم کروں گا، پھر لوگوں کے درمیان تقسیم کیا، چنانچہ ہر شخص کو آدھا دینار ملا، اگر اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی تھی تو اس کو پورا دینا دیا، اور اگر اکیلا تھا تو اس کو آدھا دینار دیا، پھر زمین والے ابن قاطورا کو بلایا اور فرمایا کہ مجھے بتاؤ کہ ایک شخص کے لیے ایک مہینے میں اور ایک دن میں کتنی خوراک کافی ہوجاتی ہے ؟ چنانچہ وہ دو مد اور قسط کے کر آیا اور عرض کیا یہ دو مد مہینے میں کافی ہوتی ہے اور ایک قسط زیتون کا تیل اور ایک قسط سرکہ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حکم دیا اور دو مدجو کے پیسے گئے اور ان کو گوندھا گیا اور پھر اس میں دوقسط زیتون کا تیل ملا کر سالن بنایا، پھر اس پر تیس آدمی کو بیٹھایا، تو ان کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہوگیا ، پھر حضرت عمر (رض) نے دونوں مد اپنے دائیں ہاتھ میں اور قسط اپنے بائیں ہاتھ میں لیا اور فرمایا کہ اے میرے اللہ ! میں کسی کے لیے حلال نہیں کرتا تاکہ میرے بعد اس میں سے کچھ کم کرے، اے میرے اللہ ! جو ان میں سے کم کرے آپ اس کی عمر کم کر دیجئے “۔ (ابوعبید، فی الاموال ، یعقوب بن سفیان ، مسدد، سنن کبری بیھقی)
11553- عن سفيان بن وهب الخولاني قال: شهدت عمر بن الخطاب بالجابية، قال: فحمد الله، وأثنى عليه بما هو أهله، ثم قال: أما بعد فإن هذا الفيء، أفاء الله عليكم، الرفيع فيه والوضيع بمنزلة ليس أحد أحق به من أحد، إلا ما كان من هذين الحيين: لخم وجذام فإني غير قاسم لهم شيئا، فقام رجل من لخم فقال: يا ابن الخطاب أنشدك الله في العدل والسوية، فقال: إنما يريد ابن الخطاب العدل والتسوية، والله إني لأعلم لو كانت الهجرة بصنعاء ما خرج إليها من لخم وجذام إلا القليل فلا أجعل من تكلف السفر وابتاع الظهر بمنزلة قوم إنما قاتلوا في ديارهم فقام أبو حدير حينئذ فقال: يا أمير المؤمنين إن كان الله ساق إلينا الهجرة في ديارنا فنصرناها وصدقناها أذاك الذي يذهب حقنا في الإسلام؟ فقال عمر: والله لأقسمن لكم ثلاث مرات، ثم قسم بين الناس، فأصاب كل رجل منهم نصف دينار، وإذا كانت معه امرأته أعطاه دينارا، وإذا كان وحده أعطاه نصف دينار، ثم دعا ابن قاطورا صاحب الأرض، فقال: أخبرني ما يكفي الرجل من القوت في الشهر واليوم؟ فأتى بالمدي والقسط فقال يكفيه هذا المديان في الشهر وقسط زيت وقسط خل فأمر عمر بمدين من قمح فطحنا ثم عجنا ثم أدمهما بقسطين زيتا، ثم أجلس عليهما ثلاثين رجلا، فكان كفاف شبعهم، ثم أخذ عمر المدي بيمينه والقسط بيساره، ثم قال: اللهم إني لا أحل لأحد أن ينقصهما بعدي، اللهم فمن نقصهما فأنقص من عمره. "أبو عبيد في الأموال ويعقوب بن سفيان ومسدد هق كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11550 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کوئی امیر مال غنیمت میں سے اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر کوئی چیز ھبہ نہ کرے علاوہ وہ راھبر کے یا وہ چرواہے کے یا وہ چھینا ہوا مال ہو یا وہ نفل ہو، اور جب تک غنیمت کا ابتدائی تقسیم نہ ہوجائے اس وقت تک کوئی نفل نہیں “۔ (ابوعبید)
11554- عن عمر قال: لا يهب الأمير من المغانم شيئا إلا بإذن أصحابه، إلا لدليل أو راع أو يكون سلبا أو نفلا، ولا نفل حتى يقسم أول مغنم. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11551 ۔۔۔ مغیرۃ بن نعمان نخعی فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے بزرگوں نے بیان کیا کہ نخعی کے حصے میں جنگ قادسیہ کے دن بادشاہ کی اولادوں میں سے کوئی شخص آیا، حضرت سعد (رض) نے چاہا کہ اسے ان سے خود لیں، چنانچہ اپنے کوڑے کے کر روانہ ہوئے ، سو میں نے ان کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ میں نے حضرت عمر (رض) کی طرف لکھا ہے ، تو انھوں نے، کہا کہ ہم راضی ہوگئے ، تو حضرت عمر (رض) نے ان کو لکھا کہ ہم بادشاہوں کے بیٹوں سے خمس نہیں لیتے سو حضرت سعد (رض) نے ان سے اس شہزادے کو لے لیا “ حضرت مغیرۃ (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے فدیے کا مال زیادہ تھا (سنن کبری بیھقی)
11555- عن المغيرة بن النعمان النخعي قال: حدثني أشياخنا قالوا: صار في قسم النخعي رجل من أبناء الملوك يوم القادسية، فأراد سعد أن يأخذه منهم فغدوا عليه بسياطهم، فأرسلت إليهم إني كتبت إلى عمر بن الخطاب فقالوا: قد رضينا، فكتب إليه عمر بن الخطاب: إنا لا نخمس أبناء الملوك فأخذه منهم سعد، قال المغيرة: لأن فداءه أكثر من ذلك. "هق". كتاب قسم الفيء والغنيمة [6/323] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11552 ۔۔۔ کلثوم بن الاقمر فرماتے ہیں کہ سن سے پہلے جس نے ہم میں سے عربی گھوڑوں کو دیگر سے ممتاز کیا اس کا نام منیذرالوادعی تھا، اور یہ شام کے علاقوں میں حضرت عمر (رض) کے نمائندے تھے، انھوں نے دوڑ کا ایک مقابلہ کروایاجس میں عرب گھوڑے مقابلہ جیت گئے اور غیر عربی گھوڑے (ٹٹو) رہ گئے، چنانچہ انھوں نے گھوڑوں کے لیے حصہ مقرر کیا، اور ٹٹوؤں کو چھوڑ دیا، اور تفصیل حضرت عمر (رض) کی خدمت اقدس میں لکھ بھیجی، تو حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ کیا ہی خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے، چنانچہ اسی وقت یہ طریقہ بن گیا “۔ (سنن کبرہ بیھقی)
11556- عن كلثوم بن الأقمر قال: أول من عرب العراب رجل منا يقال له: منيذر الوادعي كان عاملا لعمر على بعض الشام، فطلب العدو فلحقت الخيل، وتقطعت البراذين، فأسهم للخيل،وترك البراذين، فكتب إلى عمر، فكتب عمر: نعم ما رأيت فصارت سنة. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
مسند علی (رض) سے عصمہ اسدی نقل کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت علی (رض) سے مطالبہ کیا کہ آپ ان کی اولاد اور عورتوں کو ہمارے درمیان تقسیم کردیں حضرت علی نے جواب دیا کہ لوگوں نے مجھے جھکایا میں جھک گیا، یہ تمام مسلمانوں کی اولاد ہیں جو کہ دار ہجرت میں رہتے ہیں تمہارا ان پر کوئی حق نہیں اور جو کچھ شہرون میں ان کے اموال ہیں وہ ان کی ملکیت ہیں اور جب وہ چڑھائی کریں تم پر تمہارے لشکر میں وہ تمہارے لیے غنیمت ہے۔
11557- "مسند علي رضي الله عنه" عن عصمة الأسدي قال: نهش الناس إلى علي فقالوا: أقسم بيننا نساءهم وذراريهم، فقال علي: عنتني الرجال فعنيتها، وهذه ذرية قوم مسلمين، في دار هجرة لا سبيل لكم عليهم ما أدت الديار من أموالهم فهو لهم، وما أجلبوا به عليكم في عسكركم فهو لكم مغنم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11553 ۔۔۔ بیہقی کہتے ہیں کہ ہمیں ابوعبید اللہ الحافظ نے خبردی اور کہا کہ ہمیں ابوبکر محمد بن داؤبن سلیمان العوفی نے خبردی اور کہا کہ ابوعلی محمد بن محمد بن الاشعث الکوفی کے سامنے مصر میں یہ روایت پڑھی گئی اور میں سن رہا تھا ، کہا ہم سے حدیث بیان کی ابوالحسن موسیٰ بن اسماعیل ابن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب نے اور کہا کہ ہم سے حدیث بیان کی ابواسمعیل نے اپنے والد سے اور انھوں نے اپنے والد جعفر بن محمد سے اور انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے اپنے والد علی بن الحسین سے اور انھوں نے اپنے والد حسین سے اور انھوں نے اپنے والد علی بن ابنی طالب (رض) سے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مال غنیمت میں سے غلام (جو کسی ملکیت ہو) کے لیے کوئی حصہ نہیں علاوہ گھیٹا مال کے، لیکن اس کا مان دینا جائز ہے اور عورت کا امان دینا بھی جائز ہے جب اس نے قوم کو امان دی ہو “۔ میں (صاحب کنزالعمال) کہتا ہوں کہ سنن کبری بیہقی کو اس روایت کو ابن الاشعث کے طریق روایت سے اہل بیت سے لانے میں ایک زبردست فائدہ ہے اور وہ یہ کہ سنن کنری میں بیہقی نے اس بات کا التزام کیا ہے کہ اپنی تصانیف میں کسی ایسی روایت کی تخریج نہ کریں گے جس کا موضوع ہونا معلوم ہو، خصوصا سنن کبری میں جو ان کی اجل تصنیفات میں سے ہے اور ہے بھی ابواب احکام پر مشتمل جس کی احادیث کی تخریج میں تساہل نہیں کیا جاسکتا حالانکہ میں ان احادیث کی روایت سے بچتا تھا جو سنن ابی الاشعث میں سے کیونکہ ان میں کلام کیا گیا ہے۔

ذیبی نے میزان میں کہا ہے کہ ” محمد بن محمد بن الاشعث الکوفی ابوالحسن جو مصر میں آکر مقیم ہوگئے تھے (ابن عدی) وہ کہتے ہیں میں نے اس سے احادیث لکھی ہیں اس پر شدت تشیع طاری تھی وہ ہمارے پاس ایک نسخہ لائے جس میں موسیٰ بن اسماعیل بن موسیٰ بن جعفر عن ابیہ عن جدہ عن آباء (کی سند سے) ایک ہزار کے قریب روایات تھیں خط طری میں لکھی ہوئی عام طور سے منکر روایات تھی میں نے یہ بات جناب حسین بن علی بن حسین علوی سے ذکر کردیں جو کہ مصر میں، اہل بیت کے شیخ تھے وہ کہنے لگے کہ یہ (ابن الاشعث) مدینے میں چالیس سال میرا پڑوسی رہا مگر اس نے مجھ سے کبھی ذکر کیا اس کے پاس اپنے باپ یا اور کسی کی کچھ روایات ہیں اس کے نسخے میں اس قسم کی لغوروایات بھی تھیں۔ مثلا

1 ۔۔۔ ارشاد نبوی ہے کہ بہترین نگینہ بلور ہے۔

2 ۔۔۔ بدترین زمین ان امیروں کے گھر ہیں جو حق پر فیصلے نہیں کرتے۔

3 ۔۔۔ تین قسم کے لوگوں پر سے رحمت ختم کردی گئی شکاری ، قصائی اور جانوروں کے تاجر،

4 ۔۔۔ دھم (گھوڑوں کی ایک قسم) سے بہتر کوئی گھوڑا باقی رہنے والا نہیں۔

5 ۔۔۔ چچازاد بہن کی طرح کوئی عورت نہیں۔

اللہ کے ٖغضب کے حقدار

6 ۔۔۔ اللہ کا غضب ان پر بدترین ہے جو میرا خون بہائے اور مجھے میرے خاندان کے حوالے سے تکلیف دے، ابن عدی نے اس کی موضوعات ذکر کی ہیں میں نے دارقطنی سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ یہ اللہ کی ایک نشانی ہے کہ اس نے ایک کتاب علویات گھڑی ہے۔

میزان کی عبارت ختم ہوئی۔

حافط ابن حجراء اللسان میں لکھتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کے بعض حصے دیکھے ہیں اس نے اس کا نام سنن رکھا ہے اور ابواب پر مرتب کیا ہے اور تمام احادیث ایک سند سے ہیں۔ (انتھی)
11558- قال البيهقي: وأنبأنا أبو عبد الله الحافظ: أنبأنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الصوفي، قال: قرئ على أبي علي محمد بن محمد ابن الأشعث الكوفي بمصر وأنا أسمع، قال: حدثني أبو الحسن موسى بن إسماعيل بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب: حدثنا أبي إسماعيل عن أبيه عن جده جعفر بن محمد عن أبيه عن جده علي بن الحسين عن أبيه الحسين عن أبيه علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس للعبد من الغنيمة إلا خرثي المتاع، وأمانه جائز وأمان المرأة جائز إذا هي أعطت القوم الأمان. قلت إيراد "هق" لهذا الحديث من ابن الأشعث عن أهل البيت فيه فائدة جليلة فإن "هق" التزم أن لا يخرج في تصانيفه حديثا يعلمه موضوعا خصوصا أنه أورده في السنن الكبرى التي هي من أجل كتبه، وهي على أبواب الأحكام التي لا يتساهل في أحاديثها، وقد كنت أتوقى الأحاديث التي في سنن ابن الأشعث لأنهم تكلموا فيه وفيها.

قال الذهبي في الميزان: محمد بن محمد بن الأشعث الكوفي أبو الحسن نزيل مصر قال "عد": كتبت عنه بها حمله شدة تشيعه أن أخرج إلينا نسخة قريبا من ألف حديث عن موسى بن إسماعيل بن موسى بن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده عن آبائه بخط طري عامتها مناكير، فذكرنا ذلك للحسين بن علي بن الحسين العلوي شيخ أهل البيت بمصر، فقال: كان موسى هذا جاري بالمدينة أربعين سنة ما ذكر قط أن عنده رواية لا عن أبيه ولا عن غيره، فمن النسخة: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:نعم الفص البلور" ومنها شر البقاع دور الأمراء الذين لا يقضون بالحق ومنها ثلاثة ذهبت منهم الرحمة: الصياد، والقصاب، وبائع الحيوان، ومنها لا خيل أبقى من الدهم، ولا امرأة كابنة العم، ومنها اشتد غضب الله على من أهراق دمي وآذاني في عترتي، وساق له "عد" جملة موضوعات قال السهمي: سألت "قط" عنه فقال: آية من آيات الله وضع ذلك الكتاب يعني العلويات، انتهى ما في الميزان، قال الحافظ ابن حجر في اللسان: وقد وقفت على بعض الكتاب المذكور وسماه السنن، ورتبه على الأبواب وكله بسند واحد انتهى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11555 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت قتادہ (رض) کو بھیجا، تو انھوں نے فارسی کے بادشادہ کو قتل کردیا، اس نے ایک ہار یہیں رکھا تھا جس کی قیمت پندرہ ہزار درہم تھی تو حضرت عمر (رض) نے وہ ہارانہی کو دے دیا “۔ (ابن سعد)
11559- عن عبد الله بن عبيد بن عمير أن عمر بن الخطاب بعث أبا قتادة، فقتل ملك فارس وعليه منطقة قيمتها خمسة عشر ألف درهم فنفلها إياه عمر. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کی تقسیم
11556 ۔۔۔ ابن الاقمر کہتے ہیں کہ عرب گھوڑوں نے شام میں خوب گھمسان کا رن ڈالا اور وہ دن مارلیا اور غیر عربی گھوڑوں نے چاشت کے وقت اپنی کامیابی کے جو ھردکھائے عربی گھوڑوں کے لشکر پر منذربن ابی حمصہ ھمدانی تھے، بہرحال عربی گھوڑوں کو غیر عربی گھوڑوں پر برتری حاصل رہی، تو منذر ہے کہا میں کسی کی معمولی کارکردگی نہ ہونے کی طرح نہ سمجھوں گا یہ بات حضرت عمر (رض) کو معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اس کی ماں اس جیسا دوسرا لانے سے عاجر ہے جو اس نے ذکر کردیا کر گزروجو وہ کہہ رہا ہے۔ (الشافعی، متفق علیہ)

فائدہ :۔۔۔ یہاں اصل عبارت میں لفظ ” ھبلت الواعی امہ “ ہے یہ جملہ عام طور پر بددعا کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی مدح واستحسان میں بھی استعمال ہوتا ہے (جیسے یہاں ہوا ہے) مراد یہ ہے کہ وہ کتنا بڑا عالم اور صائب الرائے ہے “۔ واللہ اعلم باالصواب۔ (مترجم) (دیکھیں مصاح اللغات بر 974 کالم مادہ ب ل)
11560- عن ابن الأقمر قال: أغارت الخيل بالشام، فأدركت الخيل من يومها وأدركت الكواذن ضحى، وعلى الخيل المنذر بن أبي حمصة همداني، ففضل الخيل على الكواذن، وقال: لا أجعل ما أدرك كما لم يدرك، فبلغ ذلك عمر بن الخطاب، فقال: هبلت الوادعي أمه لقد أذكرت به أمضوها على ما قال. "الشافعي ق".
tahqiq

তাহকীক: