কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৫২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11517 ۔۔۔ حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کے زمانہ مبارکہ میں مدینہ کے بازار کا عامل تھا چنانچہ ہم کشمش میں سے عشر لیا کرتے تھے “۔ (الشافعی، ابوعبید)
11521- عن السائب بن يزيد قال: كنت عاملا على سوق المدينة زمن عمر فكنا نأخذ من النبط العشر. "الشافعي وأبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خراج
11518 ۔۔۔ مسند معاذ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرب علاقوں کی طرف روانہ فرمایا اور حکم فرمایا کہ میں زمین کا حصہ وصول کروں، سفیان کہتے ہیں کہ اس (زمین) کا حصہ تہائی اور چوتھائی تھا (عبدالرزاق
11522- "مسند معاذ رضي الله عنه" بعثني النبي صلى الله عليه وسلم إلى قرى عربية فأمرني أن آخذ حظ الأرض، قال سفيان: وحظها الثلث والربع. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس
11519 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے حضرت انس (رض) روایت فرماتے ہیں کہ براء بن مالک نے مرزبان الزرارۃ سے مبارزۃ (مقابلہ) کیا، اور ایسا نیزہ مارا کہ جس سے ذرہ ٹوٹ گئی اور نیزے کا پھل اندر گھس گیا اور براء بن مالک قتل ہوگیا، حضرت عمر (رض) صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہم چھینے ہوئے مال سے خمس نہ لیا کرتے تھے لیکن براء کا مسلوبہ مال بہت زیادہ ہے اور مجھے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس کا بھی خمس نکالوں ، چنانچہ اس کی قیمت تیس ہزار مقرر کی اور حضرت عمر (رض) نے ہمیں چھ ہزار دینار عطا فرمائے ، چنانچہ پہلی مرتبہ تھی کہ اسلام میں کسی مقتول کے چھینے ہوئے مال سے خمس وصول کیا گیا۔ (عبدالرزاق، ابوعبید فی کتاب الاموال، ابن ابی شیبہ، ابن جریر ، ابوعوانہ، طحاوی، اور محاملی فی امالیہ)
11523- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أنس قال: بارز البراء ابن مالك مرزبان الزارة، فطعنه طعنة كسرت القربوص وخلصت الطعنة إليه فقتلته، فصلى عمر الصبح، ثم أتانا فقال: إنا كنا لا نخمس الأسلاب، وإن سلب البراء قد بلغ مالا، ولا أراني إلا خامسه فقوم ثلاثين ألفا فأعطانا عمر ستة آلاف، فكان أول سلب خمس في الإسلام. "عب وأبو عبيد في كتاب الأموال ش وابن جرير وأبو عوانة والطحاوي والمحاملي في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس
11520 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ خمس کو خمس ہی سے نکالا جائے گا “۔ (ابن ابی شیبہ ، ابن المنذر فی الاوسط ، الضعفاء للعقیلی، دار قطنی، متفق علیہ)
11524- عن عمر قال: لا يقطع الخمس إلا في خمس. "ش وابن المنذر في الأوسط عق قط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خمس
11521 ۔۔۔ ھانی بن کلثوم فرماتے ہیں کہ جب اسلامی لشکر نے شام فتح کرلیا تو سالارلشکر نے حضرت عمر (رض) کو خط لکھا کہ ہم نے ایسی سرزمین فتح کی ہے کہ جس پر کھانا پینا اور گھاس پھوس بہت ہے، میں نے اپنے پاس سے کوئی قدم اٹھانا نامناسب نہ سمجھا چنانچہ آپ مجھے اس معاملے میں کوئی ہدایات تحریر فرمائیں ، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ لوگوں کو کھانے پینے دو ، سو جو کوئی سونے چاندی کی خریدو فروخت کرے تو اس میں اللہ کا حصہ خمس اور مسلمانوں کا حصہ بھی ہے “۔ (متفق علیہ)
11525- عن هانئ بن كلثوم أن صاحب جيش الشام حين فتح الشام كتب إلى عمر بن الخطاب: إنا فتحنا أرضا كثيرة الطعام والعلف فكرهت أن أتقدم في شيء من ذلك إلا بأمرك، فاكتب إلي بأمرك في ذلك، فكتب إليه عمر: أن دع الناس يأكلون ويعلفون، فمن باع شيئا بذهب أو فضة ففيه خمس الله وسهام المسلمين. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دعا کی قبولیت
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جس لشکر نے شام فتح کیا اس میں حضرت معاذ اور بلال (رض) بھی تھے چنانچہ انھوں نے حضرت عمر (رض) کو لکھا کہ یہ مال فئی جو ہمیں حاصل ہوا ہے اس میں سے خمس (پانچواں حصہ) آپ کا ہے اور باقی ہمارا اور اس کے علاوہ اس میں کسی کا کوئی حق نہیں جیسے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر میں عمل فرمایا تھا،

تو حضرت عمر (رض) نے تحریر فرمایا کہ ایسا نہیں ہے جیسے تم سمجھتے ہو بلکہ میں اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرتا ہوں۔ سو جب انھوں نے انکار کیا تو حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی کہ اے میرے اللہ میرے بلال اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے کافی ہوجائیے، چنانچہ ابھی سال بھر بھی نہ گزرا تھا کہ تمام حضرات کی وفات ہوگئی،

فائدہ : اسی روایت کے آخر میں مشاجرات صحابہ کی طرف اشارہ ہے ، اہل علم کو اس کا حکم معلوم ہی ہے اور عوام کو اس کی ضرورت نہیں ، لہٰذا ایسی روایات و مسائل کو کھود کرید کرنے کی ضرورت نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب
11526- عن نافع قال: أصاب الناس فتحا بالشام، فيهم بلال ومعاذ ابن جبل، فكتبوا إلى عمر بن الخطاب: إن هذا الفيء الذي أصبنا خمسه لك ولنا ما بقي، وليس لأحد منه شيء، كما صنع النبي صلى الله عليه وسلم بخيبر، فكتب عمر: إنه ليس على ما قلتم، ولكنى أقفها للمسلمين، فراجعوه الكتاب، وراجعهم يأبون ويأبى، فلما أبوا، قام عمر فدعا عليهم، فقال: اللهم اكفني بلالا وأصحاب بلال، فما جاء الحول حتى ماتوا جميعا. "أبو عبيد وابن زنجويه هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دعا کی قبولیت
11523 ۔۔۔ یزید بن ھرمز فرماتے ہیں کہ نجدۃ نے حضرت ابن عباس (رض) کے نام خط لکھ رشتے داروں کے حصے کے

بارے میں دریافت فرمایا تو حضرت ابن عباس (رض) نے لکھا کہ یہ ہمارا تھا، اور حضرت عمر (رض) نے ہمیں بلایا تاکہ نکاح کروادیں یتیموں کا ، اور ہمارے گھروالوں کو خادم دیں، اور ہم میں سے لوگ قرض دار ہیں ان کو دیں لیکن ہم نے انکار کردیا اور کہا کہ سب ہمیں دیں تو حضرت عمر (رض) نے بھی انکار فرمادیا “۔ (ابوعبید، ابن الانباری فی المصاحف)
11527- عن يزيد بن هرمز أن نجدة كتب إلى ابن عباس يسأله عن سهم ذوي القربى؟ فكتب إليه: إنه لنا وقد كان عمر دعانا لننكح منه أيامى ونخدم منه عائلنا، ونعطي منه الغارمين منا، فأبينا عليه إلا أن يسلمه لنا كله، وأبى ذلك عمر علينا. "أبو عبيد وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دعا کی قبولیت
11524 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ہمیں خمس میں سے اتنادیتے جتنا مناسب سمجھتے چنانچہ ہم نے اس میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتے داروں کا حق خمس کا خمس ہے تو حضرت عمر (رض) نے خمس انہی اقسام میں مقرر فرمایا ہے جن کی نشاندہی فرمائی ہے چنانچہ سب سے زیادہ خوش قسمت

وہ ہے جن کی تعداد زیادہ اور فاقہ سخت ہو چنانچہ ہم میں سے بعض نے لے لیا اور بعض نے چھوڑ دیا “۔ (ابوعبید)
11528- عن ابن عباس قال: كان عمر يعطينا من الخمس نحوا مما كان يرى أنه لنا فرغبنا عن ذلك، فقلنا حق ذوي القربى خمس الخمس فقال عمر: إنما جعل الله الخمس في أصناف سماها فأسعدهم بها أكثرهم عددا وأشدهم فاقة فأخذ منا ناس وتركه ناس. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کی دعا کی قبولیت
11525 ۔۔۔ زہری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر عراق کا خمس آگیا تو کسی ہاشمی کا نکاح کروائے بغیر نہ چھوڑوں گا اور جس کے لیے کوئی لڑکی نہ ہو اس کی میں خود خدمت کروں گا “۔ (ابوسعید)
11529- عن الزهري أن عمر بن الخطاب قال: إن جاء خمس العراق لا أدع هاشميا إلا زوجته، ومن لا جارية له أخدمته. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے پانچویں حصہ کی تقسیم
11526 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ فاطمہ ، عباس اور زید بن حارثہ (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں بیٹھے تھے تو حضرت عباس (رض) نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میری عمر بڑھ گئی، ہڈیاں نرم ہوگئیں اور تکلیف بڑھ گئی سو اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے وسق کھانے (بطور وظیفہ) کا حکم دے دیجئے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں نے حکم دے دیا ، پھر حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اگر مناسب سمجھیں تو میرے لیے بھی ویسا ہی حکم فرمایئے جیسا اپنے چچا حضرت عباس (رض) کے لیے جاری فرمایا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں یہ حکم جاری کردوں گا، پھر حضرت زید بن حارثہ (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے زمین مرحمت فرمائی تھی، میرا گزراوقات اسی سے تھا پھر آپ نے وہ زمین مجھ سے واپس لے لی سو اب اگر مناسب سمجھیں تو واپس کردیں ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ایسا ہی ہوگا، پھر میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! اگر آپ چاہیں تو اس حق پر مجھے مقرر فرمادیئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمارے لیے مقرر فرمایا ہے یعنی خمس ، تو میں اس کو آنجناب کی حیات مبارکہ ہی میں تقسیم کردوں گا تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے اس معاملے میں جھگڑا نہ کرے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہم ایسا کردیں گے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس پر مقرر فرمادیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ کی حیات مبارکہ ہی میں اس کو تقسیم کردیا ، پھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مجھے مقرر فرمایا اور میں نے اسے ان کی حیات مبارکہ ہی میں تقسیم کردیا، پھر مجھے حضرت عمر (رض) نے اس پر مقرر فرمایا اور میں نے ان کی حیات مبارکہ میں ہی اسے تقسیم کردیا “۔ (ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابوداؤد، ابویعلی ، الضعفاء، للعقیلی متفق علیہ، سعید بن منصور اور مسلم)
11530- عن علي قال: اجتمعت أنا وفاطمة والعباس وزيد بن حارثة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال العباس: يا رسول الله كبر سني ورق عظمي: وكثرت مؤنتي فإن رأيت يا رسول الله أن تأمر لي بكذا وسقا من طعام، فافعل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد فعلت، فقالت فاطمة: يا رسول الله: إن رأيت أن تأمر لي كما أمرت لعمك فافعل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفعل ذلك، ثم قال زيد بن حارثة: يا رسول الله كنت أعطيتني أرضا كانت معيشتي منها، ثم قبضتها فإن أردت أن تردها علي فافعل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفعل ذلك،فقلت: أنا يا رسول الله إن أردت أن توليني هذا الحق الذي جعله الله لنا في كتابه من الخمس فاقسمه في حياتك؟ كي لا ينازعنيه أحد بعدك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نفعل ذلك، فولانيه فقسمته في حياته، ثم ولانيه أبو بكر، فقسمته في حياته، ثم ولانيه عمر فقسمته في حياته. "ش حم د ع عق ق ص م".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے پانچویں حصہ کی تقسیم
11527 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خمس کے خمس پر مقرر فرمایا چنانچہ میں نے اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں تقسیم کردیا، اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت فاروق (رض) کی حیات مبارکہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس مال لایا گیا، انھوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ لے لیجئے، میں نے کہا کہ مجھے ضرورت نہیں، پھر فرمایا کہ لے لیجئے آپ لوگ اس کے زیادہ حق دار ہیں ، میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بےنیاز ہوں، تو انھوں نے اس مال کو بیت المال میں جمع کروادیا؛۔ (ابن ابی شیبہ ، ابوداؤد)
11531- عن علي قال: ولاني رسول الله صلى الله عليه وسلم خمس الخمس، فوضعته مواضعه حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وحياة أبي بكر، وحياة عمر، فأتي بمال فدعاني، فقال: خذه، فقلت لا أريده، قال: خذه، فأنتم أحق به، قلت قد استغنيت، فجعله في بيت المال. "ش د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے پانچویں حصہ کی تقسیم
11528 ۔۔۔ محمد بن اسحق کہتے ہیں کہ میں نے ابوجعفرمحمد بن علی بن ابی طالب سے پوچھا کہ جب ان کو اس معاملے پر مقرر کیا گیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رشتے داروں کے حصے کے بارے میں انھوں نے کیا معاملہ کیا تھا ؟ فرمایا کہ بالکل وہی جو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) نے کیا تھا، میں نے پھر پوچھا کی پھر کیا رکاوٹ ہوئی ؟ فرمایا کہ ان کو یہ بات پسند نہ تھی کہ کوئی ان کے بارے میں یہ کہے کہ وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے طریقے کے خلاف چلتے تھے “۔ (ابوعبید، ابن الانباری فی المصاحف)
11532- عن محمد بن إسحاق، قال: سألت أبا جعفر محمد بن علي ابن أبي طالب حيث ولي من أمر الناس ما ولي، كيف صنع في سهم ذوي القربى؟ قال: سلك به سبيل أبي بكر وعمر، قلت فما منعه؟ قال:كره أن يدعى عليه خلاف أبي بكر وعمر. "أبو عبيد وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے پانچویں حصہ کی تقسیم
11529 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی یعلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے ہوچھا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت (رض) خمس میں آپ کے حصے کے ساتھ کیا معاملہ کرتے تھے ؟ تو حضرت علی (رض) فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے زمانے میں خمس تھے ہی نہیں اور نہ ان کو اس کا موقع ملا، اور حضرت عمر (رض) پر خمس میں حصہ دیتے رہے جدیساپور کے خمس تک چنانچہ انھوں نے میری موجودگی میں فرمایا کہ اے اہل بیت ! یہ خمس میں سے تمہارا حصہ ہے، اور کچھ حصہ چھوڑ دیا ہے، ان کی ضروریات زیادہ ہوگئیں ہیں، اگر تم پسند کرو تو، اپنا حصہ چھوڑ دو ، تاکہ ہم اس کو مسلمانوں میں خرچ کریں جب دوبارہ ملے گا تو میں اس میں سے تمہارا حصہ ادا کروں گا ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں درست ہے، لیکن حضرت عباس (رض) فوراًاٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اپنے حصے کو ہرگز نہ چھوڑنا ، تو میں نے ان سے کہا کہ اے ابوالفضل ! کیا ہمیں تمام مسلمانوں میں رحمدل نہ ہونا چاہیے ؟ امیر المومنین بھی سفارش کرتے ہیں، چنانچہ اس حصے کو لیا گیا، چنانچہ مزید مال کی آمد سے پہلے ہی حضرت عمر (رض) نے بیان کرنا شروع کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صدقہ اپنے رسول پر حرام فرمایا اور اس کے بدلے میں خمس سے حصہ مقرر فرمایا، اور صدقہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور خصوصا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر والوں پر حرام کیا گیا امت پر نہیں چنانچہ ان پر حرام ہوا تھا اس کے بدلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے لیے بھی حصہ مقرر فرمایا؛۔ (ابن المنذر)
11533- عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: سألت عليا فقلت: أخبرني كيف كان يصنع أبو بكر وعمر في الخمس نصيبكم؟ فقال: أما أبو بكر فلم يكن في ولايته أخماس وما كان فقد أوفاه، وأما عمر فلم يزل يدفعه في كل خمس حتى كان خمس السوس جنديسابور، فقال وأنا عنده: هذا نصيبكم أهل البيت من الخمس، وقد أخل ببعض، واشتدت حاجتهم، فإن أحببتم تركتم حقكم فجعلناه في خلة المسلمين حتى يأتينا مال فأوفيكم حقكم فيه؟ فقلت: نعم، فوثب العباس فقال: لا تعرض في الذي لنا، فقلت له: يا أبا الفضل السنا أحق من أرفق المسلمين وشفع أمير المؤمنين فقبضه، فتوفي عمر قبل أن ياتيه مال، فوالله ما قضاه، ولا قدرت عليه في ولاية عثمان، ثم أنشأ علي يحدث، فقال: إن الله حرم الصدقة على رسوله، فعوضه سهما من الخمس ما حرم عليه وحرمها على أهل بيته خاصة، دون أمته فضرب لهم مع رسول الله سهما عوضا مما حرم عليهم. "ابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے پانچویں حصہ کی تقسیم
11530 ۔۔۔ ابن ابی یعلی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے خمس کے بارے میں سوال کیا ؟ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے صدقہ کو ہمارے لیے حرام قرار دیا اور اس کے بدلے میں ہمیں خمس عطا فرمایا، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس پر مقرر فرمایا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی پھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھی مجھے اس پر مقرر فرمایا یہاں تک کہ ان کی بھی وفات ہوگئی اور پھر حضرت عمر (رض) نے بھی مجھے اس پر مقرر فرمایا یا سوس اور جدیساپور کی فتح تک “۔ (ابوالحسن بن معروف فی فضائل بن ہاشم)
11534- عن ابن أبي ليلى قال: سألت عليا عن الخمس؟ فقال:إن الله حرم علينا الصدقة، وعوضنا منها الخمس، فأعطانيه رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى توفاه الله ثم أعطانيه أبو بكر، حتى مات، ثم أعطانيه عمر حتى كان فتح السوس وجند يسابور. "أبو الحسن بن معروف في فضائل بني هاشم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کے پانچویں حصہ کی تقسیم
11531 ۔۔۔ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک امیرنے حضرت انس (رض) بن مالک (رض) کو مال فے میں سے کوئی چیز دی تو حضرت انس (رض) نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ خمس میں سے ہے ؟ اس نے کہا نہیں تو آپ (رض) نے قبول نہ فرمایا “۔ (ابن سعد)
11535- عن محمد بن سيرين أن أميرا أعطى أنس بن مالك شيئا من الفيء فقال أنس: أخمس؟ فقال: لا، فلم يقبله. "ابن سعد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11532 ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی مسند سے عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام کے آزاد کردہ غلام ابوقرۃ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے تقسیم فرمائی سو میرے لیے بھی اتنا ہی حصہ میرے آقا کے لیے رکھا “۔ (ابن سعد اور ابوعبید فی الاموال ، مصنف ابن ابی شیبہ)
11536- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي قرة مولى عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، قال: قسم أبو بكر الصديق قسما فقسمه لي كما قسم لسيدي. "ابن سعد وأبو عبيد في الأموال ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11533 ۔۔۔ یزید بن عبداللہ بن قسیط فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حضرت عکرمہ (رض) بن ابی جھل کو پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ زیادبن لبید اور مہاجرین ابی امیہ کی مدد کے لیے بھیجا، لشکر کے حالات ہوگئے اور انھوں نے یمن میں نجیرنامی علاقہ فتح کرلیا لیکن زیاد بن لبید نے مال غنیمت میں مدد کے لیے آنے والے لشکر کو بھی شریک کرلیا “۔ (جو فتح کے بعد پہنچا تھا) چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لکھا کہ مال غنیمت میں اسی کا حق ہے جو واقعہ کے دوران موجود تھا “۔ (الشافعی، سنن کبری بیھقی)
11537- عن يزيد بن عبد الله بن قسيط أن أبا بكر الصديق بعث عكرمة بن أبي جهل في خمسمائة من المسلمين مددا لزياد بن لبيد، وللمهاجر بن أبي أمية فوافقهم الجند قد فتحوا النجير باليمن فأشركهم زياد ابن لبيد في الغنيمة فكتب أبو بكر إنما الغنيمة لمن شهد الوقعة. "الشافعي هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11534 ۔۔۔ ایک صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ وہ مال جو دشمن نے مسلمانوں سے لے لیا تھا ان پر غالب آکر یا کوئی بھاگ کر دشمن سے مل گیا تھا “ اور پھر مسلمانوں نے اس کو جمع کرلیا، تو مال کے اصل مالک مال تقسیم ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی اپنے مال کے زیادہ حق دار ہیں “۔ (الشافعی ، متفق علیہ)
11538- عن رجل أن أبا بكر الصديق قال: فيما أخذ العدو من أموال المسلمين مما غلبوا عليه أو أبق إليهم، ثم أحرزه المسلمون: مالكوه أحق به قبل القسم وبعده. "الشافعي ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11535 ۔۔۔ یزید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس مال آتا تو اس میں لوگوں کو برابر کرتے اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس معاملے سے اپنی جان چھڑالوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اپنا جہاد خالص کرلوں “۔ (یعنی میرا جہاد خالص ہوجاتا) ۔ (ابوعبید فی الاموال)
11539- عن يزيد بن أبي حبيب أن أبا بكر لما قدم عليه المال جعل الناس فيه سواء، وقال: وددت أني أتخلص مما أنا فيه من الكفاف ويخلص لي جهادي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. "أبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت اور اس کے احکامات
11536 ۔۔۔ ابن ابی حبیب وغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) گفتگو کی کہ تقسیم کے دوران لوگوں میں فضیلت کو پیش نظر رکھنا چاہیے تا نہیں تو آپ (رض) نے فرمایا کہ لوگوں کے فضائل تو اللہ کے ہاں ہیں رہا یہ معاشی معاملہ تو اس میں برابر بہتر ہے “۔ (ابوعبید)
11540- عن ابن أبي حبيب وغيره أن أبا بكر كلم في أن يفضل بين الناس في القسم فقال: فضائلهم عند الله وأما هذا المعاش فالسوية فيه خير. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক: