কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৫০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو مدینہ سے جلاوطن کرنا
11497 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے یہودیوں کو مدینے سے جلاوطن کردیا تو یہودیوں نے عرض کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ٹھہرایا ہے اور آپ ہمیں یہاں سے نکال رہے ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں یہاں ٹھہرایا ہے اور اب میری رائے یہ ہے کہ تمہیں مدینے سے نکال دوں “۔ (ابوبکر الشافعی فی الغیلانیات)
11501- عن ابن عمر أن عمر أجلى اليهود من المدينة، فقالوا: أقرنا النبي صلى الله عليه وسلم وأنت تخرجنا؟ قال: أقركم النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أرى أن أخرجكم من المدينة. "أبو بكر الشافعي في الغيلانيات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو مدینہ سے جلاوطن کرنا
11498 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے اگر میں زندہ اور باقی رہا تو ضرور یہودیوں اور عسائیوں کو جزیزۃ عرب سے نکال دوں گا یہاں تک کہ یہاں مسلمانوں کے علاوہ کوئی زندہ نہ رہے “۔ (ابن جریر فی تھذینہ)
11502- عن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لئن عشت أو بقيت لأخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب حتى لا يبقى فيها إلا مسلم. "ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو مدینہ سے جلاوطن کرنا
11499 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر کسی کا خبر میں حصہ ہو تو وہ لے آئے تاکہ ہم اسے ان کے درمیان تقسیم کریں چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کے درمیان حصے کو تقسیم کردیا، تو ان یہودیوں کا سرادار بولا، اے امیرالمومنین ! ہمیں نہ نکالئے ، ہمیں یہیں رہنے دیجئے جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ہمیں رہنے دیا تو حضرت عمر (رض) نے ان کے سردار سے فرمایا کیا تو ابوبکر صدیق (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول سے گرا ہوا سمجھتا ہے ؟ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب تیری سواری تجھے لے کر رقص کرتی ہوئی شام کی طرف چلی جارہی ہوگی اور ہرگز رتے دن کے ساتھ آگے یہی بڑھتی جارہی ہوگی، پھر اہل حدیبیہ میں سے جو لوگ خیر میں موجود تھے ان لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا “۔ (ابن جریر)
11503- عن ابن عمر قال قال عمر: من كان له سهم من خيبر فليحضر حتى نقسمها بينهم فقسمها عمر بينهم فقال رئيسهم يعني رجلا من اليهود: لا تخرجنا يا أمير المؤمنين، دعنا نكن فيها كما أقرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر، فقال عمر لرئيسهم: أتراه سقط؟ عن قول النبي صلى الله عليه وسلم كيف بك إذا رقصت بك راحلتك نحو الشام يوما ثم يوما ثم يوما ثم يوما فقسمها عمر بين من كان شهد خيبر من أهل الحديبية. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو مدینہ سے جلاوطن کرنا
11500 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ عمر (رض) کے گھر والوں کو حضرت عمر (رض) کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا ب کہ “ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبیر کے یہودیوں کے ساتھ ان کے مال پر معاملہ فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ ہم تمہیں اس وقت تک اپنے پاس رہنے دیں گے جب تک اللہ تمہیں رہنے دے گا، اور عبداللہ بن عمر وہاں موجود مال کی طرف گئے تھے سو رات کے وقت ان پر حملہ کیا گیا اور ہاتھوں پیروں کو پھاڑدیا، اور وہاں ان کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن نہیں، وہی ہمارے دشمن اور تہمت ہیں، اور میری رائے ان کو وطن کرنے کی ہے چنانچہ اس معاملے پر جب حضرت عمر (رض) نے اجتماعی فیصلہ کرلیا تو بنوابی الحقیق نامی قبیلے کا ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! آپ ہمیں نکال رہے ہیں جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں رہنے دیا اور ہمارے ساتھ ہمارے اموال کا معاملہ کیا اور شرط لگائی، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول مبارک کو بھول گیا ہوں (کہ) تیرا اس وقت کیا حال ہوگا جب تجھے خبیر سے نکالا جائے گا اور تیری اونٹنی لے کر راتوں بھاگتی چلی جائے گی ؟ یہودی نے کہا یہ تو ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق تھا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے، اور پھر حضرت عمر (رض) نے ان کو جلاوطن کردیا۔ (بخاری ، سنن کبری بیھقی)
11504- عن ابن عمر قال: لما فدع أهل خيبر عبد الله بن عمر قام عمر خطيبا فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عامل يهود خيبر على أموالهم، وقال: نقركم ما أقركم الله، وإن عبد الله بن عمر خرج إلى مال هناك، فعدي عليه من الليل ففدعت يداه ورجلاه، وليس لنا عدو هناك غيرهم هم عدونا وتهمتنا، وقد رأيت إجلاءهم، فلما أجمع عمر على ذلك أتاه أحد بني أبي الحقيق فقال: يا أمير المؤمنين أتخرجنا وقد أقرنا محمد وعاملنا على الأموال وشرط لنا ذلك؟ فقال عمر: أظننت أني نسيت قول النبي صلى الله عليه وسلم كيف بك إذا أخرجت من خيبر تعد وبك قلوصك ليلة بعد ليلة؟ فقال: كانت هذه هزلة من أبي القاسم قال: كذبت يا عدو الله فأجلاهم عمر. "خ هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو مدینہ سے جلاوطن کرنا
11501 ۔۔۔ یحییٰ بن سہیل بن ابی حثمۃ فرماتے ہیں مظہربن رافع الحارتی میرے والد کے پاس شام سے دس موٹے تازے کافر مزدور لے کر آئے تاکہ ان سے اپنی زمین پر کام کروائیں چنانچہ جب وہ خبیر پہنچے تو تین دن ٹھہرے ، اسی دوران یہودی داخل ہوئے اور ان مزدوروں کو مظہر کے قتل پر ابھارا ، اور دو یا تین چھریاں چھپا کر ان کے لیے گئے، پھر خبیر سے نکلے اور ثباز مانی جگہ پر پہنچے تو ان مزدوروں نے مظہر پر حملہ کردیا اور پیٹ بھاڑ کر قتل کردیا اور پھر خبیر کی طرف واپس چلے گئے، چنانچہ یہودیوں نے ان کو زادراہ اور خوراک وغیرہ دی اور یہ قاتل شام پہنچ گئے، حضرت عمر (رض) کو جب یہ اطلاع ملی تو فرمایا کہ میں خبیر کی طرف نکلنے والا ہوں اور وہاں موجود اموال کو تقسیم کرنے والاہوں، اس کی حدود کو واضح کروں گا اس کے سائے کو کشادہ کروں گا اور یہودیوں کو وہاں سے جلاوطن کروں گا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ اللہ نے تم کو ٹھکانا دیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اچازت دے دی ہے کہ ان کو جلاوطن کردیا جائے، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے یہی کیا “۔ (ابن سعد)
1505- عن يحيى بن سهل بن أبي حثمة قال: أقبل مظهر بن رافع الحارثي إلى أبي باعلاج من الشام عشرة ليعملوا في أرضه فلما نزل خيبر أقام بها ثلاثا فدخلت يهود للإعلاج وحرضوهم على قتل مظهر ودسوا لهم سكينين أو ثلاثا فلما خرجوا من خيبر، وكانوا بثبار وثبوا عليه فبعجوا بطنه فقتلوه، ثم انصرفوا إلى خيبر فزودتهم يهود وقوتهم حتى لحقوا بالشام، وجاء عمر بن الخطاب الخبر بذلك، فقال: إني خارج إلى خيبر فقاسم ما كان بها من الأموال، وحاد حدودها ومورف أرفها وجل يهود عنها، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهم: أقركم الله، وقد أذن الله في إجلائهم ففعل ذلك بهم. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو مدینہ سے جلاوطن کرنا
11502 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اے لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کے یہودیوں کے اس شرط پر معاملہ فرمایا تھا کہ ہم جب چاہیں گے تمہیں نکال دیں گے، اگر کسی کا وہاں مال ہے تو وہ اپنے مال کے پاس پہنچ جائے کیونکہ میں یہودیوں کا و نکالنے والا ہوں، پھر انھوں نے یہودیوں کو خبیر سے جلاوطن کردیا “۔ (مسند احمد، ابوداؤد ، سنن کبری بیھقی)
11506- عن عمر أنه قال: أيها الناس إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عامل يهود خيبر على أن نخرجهم إذا شئنا، فمن كان له مال فليلحق به فإني مخرج يهود فأخرجهم. "حم د هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصالحت وصلح
11503 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے مغیرہ بن سفاح بن المثنیٰ الشیبانی ، زرعۃ بن النعمان سے یا نعمان بن زرعۃ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا ، حضرت عمر (رض) ان سے بنوتغلب کے عسائیوں کے بارے کررہے تھے اور حضرت عمر (رض) کا ارادہ تھا کہ ارادہ تھا کہ ان سے جزیہ لیں اور وہ مختلف شہروں میں پھیل گئے تھے، تو نعمان بن زرعۃ نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا کہ، اے امیر المومنین ، بنوتغلب والے عرب ہیں اور جزیہ کو پسند نہیں کرتے ان کے پاس مال بھی نہیں وہ صرف کھیتی باڑی کرتے ہیں اور مویشی پالتے ہیں، اور دشمن پر غالب آجاتے ہیں ، لہٰذا ان سے لڑ کر ان کو اپنے دشمن کی مدد پر ابھاریں ، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان سے اس شرط پر صلح کرلی کہ بنوتغلب

والے دو گناہ صدقہ ادا کریں گے اور یہ بھی شرط لگائی کہ وہ اپنی اولاد کو عیسائی نہ بنائیں گے۔

۔۔۔ مغیرہ کہتے ہیں کہ مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اگر میں بنوتغلب کے لیے فارغ ہوتا تو ان کے بارے میں ضرور میری بھی ایک رائے ہوتی، میں ان کے ساتھ زبردست جنگ کرتا، اور ضروران کی اولادوں کو قیدی بناتا ، جب سے انھوں نے اپنی اولاد کو عسائی بنایا ہے تو ان کا ذمہ ختم ہوگیا ہے اور انھوں نے وعدہ خلافی کی ہے ”۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ معافی الاموال)
11507- "مسند عمر رضي الله عنه" عن مغيرة بن السفاح ابن المثنى الشيباني عن زرعة بن النعمان، أو النعمان بن زرعة أنه سأل عمر ابن الخطاب، وكلمه في نصارى بني تغلب، قال: وكان عمر قد هم أن يأخذ منهم الجزية فتفرقوا في البلاد، فقال النعمان بن زرعة لعمر: يا أمير المؤمنين إن بني تغلب قوم عرب يأنفون من الجزية، وليست لهم أموال إنما هم أصحاب حروث ومواش، ولهم نكاية في العدو، فلا تعن عدوك عليك بهم، فصالحهم عمر على أن أضعف عليهم الصدقة، واشترط عليهم أن لا ينصروا أولادهم، قال مغيرة: فحدثت أن عليا قال: لئن تفرغت لبني تغلب ليكونن لي فيهم رأي لأقتلن مقاتلتهم، ولأسبين ذراريهم، قد نقضوا العهد، وبرئت منهم الذمة حين نصروا أولادهم. "أبو عبيد وابن زنجويه معا في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصالحت وصلح
11504 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ انھوں نے بنوتغلب کے عسائیوں سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ لوگ اپنے دین پر برقرار رہیں گے اور اپنی اولاد کو عسائی نہ بنائیں گے، اگر انھوں نے ایسا کیا، تو ان سے ذمہ ختم ہوجائے گا، اور تحقیق انھوں نے وعدہ خلافی کی ہے سو خدا کی قسم اگر میرا کام مکمل ہوگیا تو میں ان کے ساتھ زبردست قتال کروں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بناؤں گا “۔ (مسند ابی یعلی)
11508- عن علي قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم صالح نصارى بني تغلب على أن يثبتوا على دينهم، ولا ينصروا أولادهم، فإن فعلوا فقد برئت منهم الذمة، وقد نقضوا، فو الله لئن تم لي الأمر لأقتلن مقاتلتهم ولأسبين ذراريهم. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصالحت وصلح
11505 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے بنوتغلب کے عسائیوں سے اس شرط کی کہ وہ لوگ اپنے بچوں کو اپنے دین کے رنگ میں نہیں رنگیں گے اور یہ کہ ان پر دوگنے صدقے کی ادائیگی لازم ہوگی “۔ (سنن کبری بیھقی)
11509- عن عمر أنه صالح بني تغلب على أن لا يصبغوا في دينهم صبيا وعلى أن عليهم الصدقة مضاعفة. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصالحت وصلح
11506 ۔۔۔ حضرت عبادۃ بن نعمان التغلبی فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! بنوتغلب والے ان لوگوں میں سے جن کی شان و شوکت سے آپ واقف ہیں اور یہ بھی کہ وہ دشمن کے سامنے ہیں، اگر دشمن نے آپ پر حملہ کیا تو دشمن کی قوت بڑھ جائے گی، اگر آپ ان کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو دے دیجئے ، تو حضرت عمر (رض) نے ان کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ وہ اپنی اولاد کو عسائیت میں نہ ڈبوئیں گے اور صدقہ بھی دوگناادا کریں گے “۔ (سنن کبری بیھقی)
11510- عن عبادة بن النعمان التغلبي أنه قال لعمر: يا أمير المؤمنين إن بني تغلب من قد علمت شوكتهم، وأنهم بإزاء العدو، فإن ظاهروا عليك العدو اشتد قوتهم، فإن رأيت أن تعطيهم شيئا فافعل، فصالحهم على أن لا يغمسوا أحدا من أولادهم في النصرانية ويضاعف عليهم الصدقة. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مصالحت وصلح
11507 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) کے بارے میں ہے کہ وہ راہب پر تلوار لے کر حملہ آور ہوئے جس نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دی تھیں، اور فرمایا کہ ہم نے تم سے اس بات پر صلح نہیں کی کہ تم ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دو “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11511- عن ابن عمر أنه تفلت على راهب سب النبي صلى الله عليه وسلم بالسيف، وقال: إنا لم نصالحكم على سب نبينا صلى الله عليه وسلم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11508 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے ابن سیرین بیان کرتے ہیں کہ ذمیوں کے مال کے بارے میں حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ جب صدقہ والوں کے پاس سے گزروتوان سے نصف عشرلو، اور وہ مشرک جو ذمی ہیں ان کے تجارت کے مال میں بھی نصف عشر ہے “۔ (عبدالرزاق)
11512- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن سيرين قال: قضى عمر بن الخطاب في أموال أهل الذمة: إذا مروا بها على أصحاب الصدقة نصف العشر، وفي أموال تجار المشركين ممن كان من أهل الذمة نصف العشر. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11509 ۔۔۔ ابن جریج روایت فرماتے ہیں کہ اہل منبج اور بجرعدن کے دوسرے طرف رہنے والے لوگوں نے حضرت عمر (رض) کو پیش کش کی کہ وہ تجارت کے لیے عرب سرزمین میں داخل ہوں گے اور اس کے بدلے عشرادا کریں گے تو حضرت عمر (رض) نے صحابہ کرام (رض) سے مشورہ کیا اور اس پر اتفاقی فیصلہ ہوگیا چنانچہ عمر (رض) ہی پہلے شخص ہیں جنہوں نے ان سے عشر وصول کیا “۔ (عبدالرزاق)
11513- عن ابن جريج قال قال عمر: وكتب أهل منبج ومن وراء بحر عدن إلى عمر بن الخطاب يعرضون عليه أن يدخلوا بتجارتهم أرض العرب ولهم العشور منها، فشاور عمر في ذلك أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فأجمعوا على ذلك، فهو أول من أخذ منهم العشور. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11510 ۔۔۔ زیادبن حدیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے سودا کی طرف بھیجا اور منع کیا کہ کسی مسلمان سے یا خراج ادا کرنے والے ذمی سے عشر وصول کروں “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، سنن کبری بیھقی)
11514- عن زياد بن حدير قال: بعثني عمر على السواد ونهاني أن أعشر مسلما أو ذا ذمة يؤدي الخراج. "ش هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11511 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے بھیجا اور یہ لکھ کردیا کہ مسلمانوں کے مال سے ایک چوتھائی عشر وصول کروں اور ذمیوں کے مال سے نصف عشر وصول کروں اور کھیتی کرنے والوں کے مال سے عشر وصول کروں “۔ (ابوعبید فی الاموال وابن سعد)
11515- عن أنس قال: بعثني عمر وكتب لي أن آخذ من أموال المسلمين ربع العشر ومن أموال أهل الذمة إذا اختلفوا بها للتجارة نصف العشر، ومن أموال أهل الحرث العشر. "أبو عبيد في الأموال وابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11512 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کشمش اور زبیب میں نصف عشر اس ارادے سے لیا کرتے کہ زیادہ سے زیادہ مدینہ کی طرف آئے اور کپاس سے پورا عشر وصول کیا کرتے تھے “۔ (الشافعی ، ابوعبید ، متفق علیہ)
11516- عن ابن عمر أن عمر بن الخطاب كان يأخذ من النبط والزبيب نصف العشر يريد بذلك أن يكثر الحمل إلى المدينة ويأخذ من القطنية العشر. "الشافعي وأبو عبيد ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11513 ۔۔۔ حضرت زیادبن حدید فرماتے ہیں کہ ہم کسی مسلمان سے عشروصول نہ کیا کرتے تھے، اور نہ دس جنگجوؤں کے بدلے معاہدہ کرنے والے سے ، اور مجھے حضرت عمر (رض) نے یہ لکھ کر بھیجا کہ میں سال میں صرف ایک مرتبہ عشر وصول کروں “۔ (ابوعبید، سنن کبری بیھقی)
11517- عن زياد بن حدير قال: ما كنا نعشر مسلما ولا معاهدا لنا بعشر أهل الحرب، وكتب إلي عمر أن لا تعشرهم في السنة إلا مرة. "أبو عبيد هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11514 ۔۔۔ یعلی بن امیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے یہ لکھ کر بھیجا کہ سمندری زیور اور عنبر میں عشر وصول کروں “۔ (ابوعبید)

اور فرمایا کہ اس کی سند ضعیف ہے، ابوعبید کہتے ہیں کہ ہم سے زائدۃ نے عاصم بن سلمان سے اور انھوں نے امام شعبی سے روایت بیان کی فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلے حضرت عمر (رض) نے ہی عشر مقرر فرمایا۔
11518- عن يعلى بن أمية قال: كتب إلي عمر أن آخذ من حلي البحر والعنبر العشر. "أبو عبيد" وقال: إسناده ضعيف غير معروف قال أبو عبيد حدثنا زائدة عن عاصم بن سليمان عن الشعبي قال: أول من وضع العشر في الإسلام عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11515 ۔۔۔ داؤد بن کردوس فرماتے ہیں کہ میں نے بنو تغلب کی طرف سے حضرت عمر (رض) سے صلح کی جبکہ بتو تغلب والے دریائے فراعت عبور کرکے روم کی طرف جارہے تھے اس شرط پر کہ وہ اپنے بچوں کو عسائیت کے رنگ میں نہ رنگیں گے اور نہ اپنے دین کے علاوہ کسی اور دین پر زبردستی نہ کریں گے، اور یہ کہ ان پر دوگناعشر ہو، ہر بیس درہم پر ایک درہم “۔ (ابو عبید فی الاموال)
11519- عن داود بن كردوس قال: صالحت عمر بن الخطاب عن بني تغلب بعد ما قطعوا الفرات وأرادوا اللحوق بالروم على أن لا يصبغوا صبيانهم ولا يكرهوا على دين غير دينهم وعلى أن عليهم العشر مضاعفا من كل عشرين درهما درهم. "أبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عشرکا بیان
11516 ۔۔۔ زیادبن حدیر کہتے ہیں کہ ان کے والد عیسائیوں سے سال میں دو مرتبہ عشر کیا کرتے تھے چنانچہ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ اے امیر المومنین آپ کا کارندہ کارکن مجھ سے سال میں دو مرتبہ عشر وصول کرتا ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس کو سال میں دو مرتبہ وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ اس کو سال میں ایک مرتبہ عشروصول کرنا چاہیے، پھر وہ عسائی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں عسائی شیخ ہوں، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ حنیفی شیخ ہوں اور میں نے تیری ضرورت پوری کروادی ہے “۔ (ابوعبید سنن کبری ، بیھقی)
11520- عن زياد بن حدير أن أباه كان يأخذ من نصراني العشر في كل سنة مرتين، فأتى عمر بن الخطاب، فقال: يا أمير المؤمنين إن عاملك يأخذ مني العشر في كل سنة مرتين، فقال عمر: ليس ذلك له، إنما له في كل سنة مرة، ثم أتاه فقال: أنا الشيخ النصراني، فقال عمر: وأنا الشيخ الحنيف قد كتبت لك في حاجتك. "أبو عبيد هق".
tahqiq

তাহকীক: