কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৪৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11477 ۔۔۔ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اہل نجران میں سے جن لوگوں نے جزیہ کی شرط پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صلح کی تھی ان میں سے ایک شخص حضرت عمر (رض) کے دور میں مسلمان ہوگیا، اور حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں مسلمان ہوں مجھ ہر جزیہ نہیں لاگو ہوتا تو فرمایا کہ بلکہ تم جزیہ سے بچنے کے لیے مسلمان ہوئے ہو، اس نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر میں جزیے سے بچنے کے لیے مسلمان ہوا ہوتا جیسے کہ آپ فرما رہے ہیں ، تو کیا اسلام میں کوئی چیز نہیں جو مجھے پناہ دے ! تو فرمایا، ہاں ، پھر اس سے جزئی معاف کردیا “۔ (ابن زنجویہ)
11481- عن ابن سيرين أن رجلا من أهل نجران الذين صالحوا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجزية أسلم على عهد عمر بن الخطاب، فجاء إلى عمر فقال: إني مسلم ليست علي جزية، فقال: بل أنت متعوذ بالإسلام من الجزية، فقال الرجل: أرأيت إن كنت متعوذا بالإسلام من الجزية كما تقول أما في الإسلام ما يعيذني؟ قال: بلى فوضع عنه الجزية. "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11478 ۔۔۔ اسلم کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لشکروں کے امراء کو لکھا کہ اہل جزیہ کی گردنوں میں مہریں لگادیں “۔ (سنن کبری بیھقی)
11482- عن أسلم قال: كتب عمر إلى أمراء الأجناد: أن اختموا رقاب أهل الجزية في أعناقهم. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11479 ۔۔۔ بجالۃ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا کہ مجوسیوں سے جزیہ لو، کیونکہ عبدالرحمن بن عوف نے مجھ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرمجوسیوں سے جزیہ وصول کیا “۔ (ابوبکر محمد بن ابراہیم العاقولی فی فوائدہ)
11483- عن بجالة بن عبيدة قال: جاءنا كتاب عمر بن الخطاب أن خذوا من المجوس الجزية، فإن عبد الرحمن بن عوف حدثني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذها من مجوس هجر. "أبو بكر محمد بن إبراهيم العاقولي في فوائده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11480 ۔۔۔ مسند علی (رض) سے نظر بن عاصم روایت کرتے ہیں فرمایا کہ فروۃ بن نوفل الاشجعی نے فرمایا کہ کس بناء پر مجوسیوں سے جزیہ لوگے جبکہ وہ اہل کتاب بھی نہیں ؟ تو حضرت مستورد کھڑے ہوئے اور ان سے بات کرنے لگے اور فرمایا کہ اے اللہ کے دشمن ! کیا تو حضرت ابوبکر وعمر (رض) پر طعن کرتا ہے، پھر ان کو لے کر حضرت علی (رض) کے گھر کی طرف گئے، حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ میں مجوسیوں کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ، ان کی علامت ہوتی ہے جو وہ پہچانتے ہیں ان کی کتاب ہے جو وہ پڑھتے پڑھاتے ہیں اور ان کا بادشاہ ایک ایک دن نشے کی حالت میں اپنی بیٹی اور بہن سے زنا کر بیٹھا ، رعایا میں سے بعض لوگوں کو علم ہوگیا جب کہا کہ کیا تم دنیا میں آدم (علیہ السلام) کے دین سے بہتر کسی دین سے واقف ہو اور وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کی آپس میں شادی کروایا کرتے تھے اور میں آدم (علیہ السلام) کے دین پر ہوں ، سو جو لوگ اپنے دین سے برگشتہ ہو کر اس کے پیروکار ہوگئے انھوں نے مخالفوں سے جنگ کی ، سواگلے ہی دن ان سے ان کی کتاب اٹھالی گئی اور جو علم ان کے سینوں میں تھا وہ بھی اٹھالیا گیا اور وہ اہل کتاب ہیں اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت عمر (رض) نے ان سے جزیہ لیا ہے “۔ (الشافعی ، عدنی ، ابویھلی، ابن زبجویہ فی الاموال سنن کبری بیھقی)
11484- "مسند علي رضي الله عنه" عن نصر بن عاصم قال: قال فروة بن نوفل الأشجعي: علام تؤخذ الجزية من المجوس وليسوا أهل كتاب؟ فقام إليه المستورد فأخذ بتلبيبه، فقال: يا عدو الله أتطعن على أبي بكر وعمر؟ وذهب به إلى القصر، فخرج عليهما علي فقال: البدا ، قال سفيان يقول: اجلسا، فجلسا في ظل القصر فأخبره بقوله، فقال علي: أنا أعلم الناس بالمجوس، كان لهم علم يعلمونه، وكتاب يدرسونه، وإن ملكهم سكر يوما فوقع على ابنته وأخته، فاطلع عليه بعض أهل مملكته، فلما صحا جاؤا يقيمون عليه الحد فامتنع منهم، ودعا أهل مملكته، فقال: أتعلمون دينا خيرا من دين آدم، وقد كان ينكح بنيه بناته، وأنا على دين آدم، فما يرغب بكم عن دينه؟ فبايعوه، وقاتلوا الذين خالفوهم، فأصبحوا وقد أسري على كتابهم، فرفع من بين أظهرهم، وذهب العلم الذي في صدورهم، وهم اهل كتاب وقد أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر منهم الجزية. " الشافعي والعدني ع وابن زنجويه في الأموال هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11481 ۔۔۔ زبید بن عدی نے فرمایا کہ حضرت علی (رض) کے زمانے میں ایک دہقان مسلمان ہوگیا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ اگر تو اپنی زمین پر ہی رہے گا تو ہم تجھ سے تیرا جزیہ معاف کردیں گے اور اگر تو اس زمین سے ہٹ گیا تو ہم اس کے زیادہ حق دار ہوں گے “۔ (ابوعبید، زنجویہ فی الاموال ، سنن کبری بیھقی)
11485- عن الزبيد بن عدي قال: أسلم دهقان على عهد علي فقال:له، إن أقمت في أرضك رفعنا عنك جزية رأسك، وإن تحولت عنها فنحن أحق بها. "أبو عبيد وابن زنجويه في الأموال هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11482 ۔۔۔ ابوعون الثقفی محمد بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ عن التمر نامی جگہ کے دہقانوں میں سے ایک شخص مسلمان ہوگیا تو حضرت علی (رض) نے اس سے فرمایا کہ تجھ پر جزیہ تو کوئی نہیں لیکن وہ زمین جو تیرے پاس تھی وہ اب ہماری (اسلامی حکومت) کی ہے سو اگر تو چاہے تو ہم تیرے ہی لیے مقرر کردیتے ہیں اور اگر تو چاہے تو ہم تجھے اس کا نگران بنادیتے ہیں سو اللہ تعالیٰ جو کچھ اس مٰن پیدا فرمائیں گے “ وہ تمام پیداوارلے کر تو ہمارے پاس آئے گا “۔ (ابوعبید ، ابن زبجویہ سنن کبری بیھقی)
11486- عن أبي عون الثقفي محمد بن عبيد الله قال: أسلم دهقان من أهل عين التمر، فقال له علي: أما أنت فلا جزية عليك وأما أرضك فلنا، فإن شئت فرضناها لك، وإن شئت جعلنا له قهرمانا فما أخرج الله منها من شيء أتينا به. "أبو عبيد وابن زنجويه هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11483 ۔۔۔ عنترۃ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) ہر ہنر مند سے جزیہ لیا کرتے تھے، سوئی والے سے سوئی اور تلوار

والے سے تلوار، رسیوں والے سے رسی ، پھر ماہرین کو بلاتے اور سونا چاندی ان کے حوالے کرتے وہ تقسیم کرتے ، پھر فرماتے ، یہ لے لو اور اس کو تقسیم کردو، وہ عرض کرتے کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، تو حضرت علی (رض) فرماتے کہ تم نے بہترین حصہ لیا اور برا حصہ چھوڑ دیا تمہیں ضرور لینا ہوگا “۔ (ابوعبید ، ابن زبجویہ معافی الاموال)
11487- عن عنترة قال: كان علي يأخذ الجزية من كل صنع من صاحب الإبر الإبر، ومن صاحب المسال المسال، ومن صاحب الحبال حبالا، ثم يدعو العرفاء فيعطيهم الذهب والفضة فيقتسمونه ثم يقول: خذوا هذا فاقتسموه، فيقولون: لا حاجة لنا فيه، فيقول: أخذتم خياره وتركتم علي شراره لتحملنه. "أبو عبيد وابن زنجويه معا في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11484 ۔۔۔ عبدالملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ مجھے ثقیف کے ایک شخص نے اطلاع دی اور کہا کہ حضرت علی (رض) نے مجھے برج سابور پر مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ دراھم کی وصولی کے لیے پر کوڑا مت اٹھانا اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں ان کو فروخت کرنا اور سردی گرمی کا لباس اور نہ جانور جس پر وہ کام کرتے ہیں اور کوئی شخص درھم طلب کرنے کئے لیے کھڑا نہ رہے، میں نے عرض کیا، اے امیر المؤمنین، اس طرح تو میں آپ کے پاس اسی طرح آجاؤں گا جس طرح خالی ہاتھ تھا، فرمایا کہ خواہ تو اسی طرح پاس آجائے جس طرح تو گیا تھا، احمق کہیں کے، ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان سے وہ وصول کرلیں جو ان کے پاس اضافی ہے “۔ (سنن سعید بن منصور)
11488- عن عبد الملك بن عمير قال: أخبرني رجل من ثقيف قال: استعملني علي بن أبي طالب على برج سابور فقال: لا تضربن رجلا سوطا في جباية درهم ولا تبيعن لهم رزقا ولا كسوة شتاء ولا صيف ولا دابة يعملون عليها، ولا تقم رجلا قائما في طلب درهم: قلت: يا أمير المؤمنين إذن أرجع إليك كما ذهبت من عندك، قال: وإن رجعت كما ذهبت، ويحك إنما أمرنا أن نأخذ منهم العفو يعني الفضل. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11485 ۔۔۔ حضرت مجالد فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) مجوسیوں سے بالکل جزیہ نہ لیا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے گواہی دی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجوسیوں سے بطور جزیہ وصول کیا تھا “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11489- عن مجالد قال: لم يكن عمر يأخذ الجزية من المجوس حتى شهد عبد الرحمن بن عوف أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذها من مجوس هجر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11486 ۔۔۔ جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو (رض) نے مجوسیوں سے جزیہ کے بارے میں دریافت فرمایا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا کہ میں نے سنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ ان کے ساتھ اہل کتاب والا معاملہ کرو “۔ (ابن ابی شیبہ)
11490- عن جعفر عن أبيه عمر بن الخطاب سأل عن جزية المجوس؟ فقال عبد الرحمن بن عوف: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سنوا بهم سنة أهل الكتاب. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11487 ۔۔۔ عبداللہ بن ابی حدردالاسلمی فرماتے ہیں کہ جب ہم حضرت عمر (رض) کے ساتھ جابیہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بوڑھا ذمی کھانا مانگ رہا ہے، اس کے بارے میں معلوم کیا تو بتایا کہ یہ ذمیوں میں سے ایک شخص ہے جو بوڑھا اور کمزور ہوگیا ہے، تو حضرت عمر (رض) نے اس کے ذمے واجب الاداجزیہ ختم کردیا اور فرمایا کہ تم نے اس پر جزیہ ذمہ داری ڈال دی اور جب وہ بوڑھا ہوگیا تو اس کو چھوڑ دیا اور اب وہ کھانا مانگتا ہے چنانچہ اس کے لیے بیت المال سے دن درھم وظیفہ جاری فرمادیا وہ بال بچے دار بھی تھا “۔ (واقدی)
11491- عن عبد الله بن أبي حدرد الأسلمي، قال: لما قدمنا مع عمر بن الخطاب الجابية إذا هو بشيخ من أهل الذمة يستطعم، فسأل عنه؟ فقال: هذا رجل من أهل الذمة كبر وضعف فوضع عنه عمر الجزية التي في رقبته، وقال: كلفتموه الجزية حتى إذا ضعف تركتموه يستطعم، فأجرى عليه من بيت المال عشرة دراهم وكان له عيال. "الواقدي كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11488 ۔۔۔ ابوذرعہ بن سیف بن ذی یزن فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نامہ مبارک میرے کام آیا یہ اس کا نسخہ ہے، پھر فرمایا کہ اس سے لکھا ہے کہ جو اپنی یہودیت کیا نصرانیت پر برقرار رہے تو اس کو مبتلانہ کیا جائے گا کسی تکلیف میں اور اس پر جزیہ کی ادائیگی لازم ہوگئی ہر بالغ ہر خواہ مرد ہو یا عورت آزاد کیا غلام ، ایک دینار دینا ہوگا یا پھر ایک دینار کی مالیت کے برابر معافر میں سے “۔
11492- عن أبي زرعة بن سيف بن ذي يزن، قال: كتب إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم كتابا هذه نسخته فذكرها، وفيه ومن يكن على يهوديته أو نصرانيته فإنه لا يفتن عنها، وعليه الجزية على كل حالم ذكر وأنثى حر أو عبد دينار أو قيمته من المعافر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسائیوں کے ساتھ طے ہونے والی شرائط
11489 ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن غنم فرماتے ہیں کہ جب شام کے عسائیوں کے ساتھ صلح ہوئی تو میں نے حضرت عمر (رض) کے نام خط لکھا (عیسائیوں کی طرف سے)” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ یہ خط اللہ کے بندے عمر کے لیے ہے جو امیرالمومنین ہیں فلاں فلاں شہر کے عسائیوں کی طرف جب آپ لوگ ہمارے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اپنے لیے اپنی اولادوں کے لیے اور اپنے مال کے لیے اور اپنے اہل مذہب کے لیے امان طلب کی، اور آپ کے لیے خود پر یہ شرائط عائد کیں کہ نہ ہم اپنے شہر میں اور نہ اپنے شہر کے اردگرد کوئی گھر بنائیں گے نہ گرجہ نہ کسی راھب کا ٹھکانا اور نہ ان میں سے جو جگہیں خراب ہوجائیں ھی ان کی تعمیر نونہ کریں گے اور نہ ان جگہوں کو بنائیں گے جو مسلمانوں کے علاقے میں ہیں ، اور اگر کوئی مسلمان ہمارے گرجوں وغیرہ میں آگیا خواہ وہ دن ہو یا رات ہم منع نہیں کریں گے اور ہم اپنے گرجوں کے دروازے گذرنے والوں اور مسافروں کے لیے وسیع کردیں گے، اور اگر کوئی مسلمان گزرا تو ہم تین دن تک اس کی مہمان نوازی کریں گے اور کھانا کھلائیں گے، اور یہ کہ اپنے گرجوں اور گھروں میں کسی جاسوس کو نہ رکھیں گے اور نہ مسلمانوں کے جاسوس کو چھپائیں گے، اور نہ ہم اپنی اولاد کو قرآن سکھائیں گے اور نہ سرک کا اظہار کریں گے اور نہ کسی کو شرک کی دعوت دیں گے، اور اگر ہمارے لوگوں میں سے کوئی مسلمان ہونے کا ارادہ کرے گا تو ہم اس کو بھی منع نہ کریں گے اور ہم مسلمانوں کی عزت کریں گے اور اگر وہ ہماری مجلسوں میں بیٹھناچا ہیں تو ہم کھڑے ہوجائیں گے، اور ہم کسی بھی چیز میں ان کی مشابہت اختیار کریں گے نہ لباس میں نہ ٹوپی میں ، نہ عمامہ میں اور یہ جوتوں میں اور نہ بال بنانے میں اور نہ ہم ان جیسی گفتگو کریں گے اور نہ ان جیسی کنیتیں رکھیں گے نہ ہم زین پر سوار ہوں گے اور نہ تلوار لٹکائیں گے اور نہ ہم کوئی اسلحہ وغیرہ بنائیں گے نہ اپنے پاس رکھیں گے، اور نہ اپنی مہروں میں عربی نقوش بنائیں گے اور نہ شراب بیچیں گے، اور ہم اپنی پیشانیوں کے بام کاٹیں گے، ہم اپنا حلیہ خاص رکھیں گے جہاں بھی ہوں، اور اپنے بیچ میں زنا باندھیں گے، اور مسلمانوں کے راستوں اور بازاروں میں صلیب اور اپنے کتابیں نہ ظاہر کریں گے، اور ہم اپنے گرجوں پر بھی صلیب کو ظاہر نہ کریں گے، اور مسلمانوں کی موجودگی میں اپنے گرجوں میں ناقوس بھی نہیں بچائیں گے اور ہم سائبان بھی باہر نہیں نکالیں گے اور نہ بارش کے لیے اجتماع کریں گے، اور نہ اپنی موتوں پر اپنی آواز بلند کریں گے، اور نہ مسلمانوں کے راستوں میں اپنی موتوں کے ساتھ آگ ظاہر کریں گے ان کے پاس اپنی میتوں کونہ لائیں گے، اور جو مسلمانوں کے حصے میں ہو اس کو اپنا غلام نہ بنائیں گے، اور ہم مسلمانوں کی آبادیوں میں بھی نہ جائیں گے۔

اور جب حضرت عمر (رض) تک یہ خط پہنچا تو انھوں نے مندرجہ ذیل اضافہ فرمایا کہ ہم مسلمانوں میں سے کسی کو نہ ماریں گے، ہم نے شرط مقرر کی ہے تمہارے لیے اپنے آپ پر اپنے اہل مذہب پر اور (مسلمانوں) سے ہم نے امان قبول کی، سو اگر ہم نے اپنی مقرر کردہ شرائط کی مخالفت کی تو ہم اس کے خود ذمہ دار ہیں ذمی نہ رہیں گے اور تمہارے لیے حلال ہوجائے گا وہ معاملہ جو شقی اور جھگڑالو لوگوں کے ساتھ کرنا حلال ہوتا ہے “۔ (ابن مندہ فی غرائب شعبہ اور ابن زبر فی شرط نصاری)
11493- عن عبد الرحمن بن غنم قال: كتبت لعمر بن الخطاب حين صالح نصارى أهل الشام: بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب لعبد الله عمر أمير المؤمنين من نصاري مدينة كذا وكذا لما قدمتم علينا سألناكم الأمان لأنفسنا وذرارينا وأموالنا وأهل ملتنا وشرطنا لكم على أنفسنا أن لا نحدث في مدينتنا ولا في ما حولها ديرا ولا كنيسة ولا قلاية ولا صومعة راهب ولا نجدد ما خرب منها، ولا نحيي ما كان منها في خطط المسلمين، ولا نمنع كنائسنا أن ينزلها أحد من المسلمين في ليل ولا نهار، وأن نوسع أبوابها للمارة وابن السبيل، وأن ننزل من مر بنا من المسلمين ثلاثة أيام نطعمهم، وأن لا نؤمن في كنائسنا ولا منازلنا جاسوسا ولا نكتم عينا للمسلمين، ولا نعلم أولادنا القرآن ولا نظهر شركا ولا ندعو إليه أحدا، ولا نمنع أحدا من أهلنا الدخول في الإسلام إن أرادوه، وأن نوقر المسلمين، وأن نقوم لهم من مجالسنا إن أرادوا جلوسا، ولا نتشبه بهم في شيء من لباسهم من قلنسوة ولا عمامة ولا نعلين ولا فرق شعر، ولا نتكلم بكلامهم ولا نتكنى بكناهم، ولا نركب السروج ولا نتقلد السيوف ولا نتخذ شيئا من السلاح ولا نحمله معنا، ولا ننقش خواتمنا بالعربية، ولا نبيع الخمور وأن نجز مقاديم رؤسنا وأن نلزم زينا حيث ما كنا، وأن نشد الزنانير على أوساطنا، وأن لا نظهر صليبنا وكتبنا في شيء من طرق المسلمين ولا أسواقهم، وأن لا نظهر الصليب على كنائسنا، وأن لا نضرب بناقوس في كنائسنا بين حضرة المسلمين، وأن لا نخرج سعانين، ولا باعوثا ولا نرفع أصواتنا مع أمواتنا، ولا نظهر النيران معهم في شيء من طرق المسلمين، ولا نجاورهم موتانا، ولا نتخذ من الرقيق ما جرى عليه سهما المسلمين، وأن نرشد المسلمين، ولا نطلع عليهم في بنيان لهم، فلما أتيت عمر بالكتاب زاد فيه: وأن لا نضرب أحدا من المسلمين، شرطنا لكم ذلك على أنفسنا وأهل ملتنا وقبلنا عنهم الأمان، فإن نحن خالفنا ما شرطناه لكم فضمناه على أنفسنا فلا ذمة لنا وقد حل لكم ما يحل لكم من أهل المعاندة والشقاق. "ابن منده في غرائب شعبة وابن زبر في شروط النصارى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسائیوں کے ساتھ طے ہونے والی شرائط
11490 ۔۔۔ سعید بن عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جبلہ بن اھیم سے فرمایا اے جبلہ ! انھوں نے عرض کیا کہ جی موجود ہوں ، تو فرمایا مجھ سے تین میں سے ایک ابت قبول کرلو، یا تو تم مسلمان ہوجاؤ تو تمہیں بھی وہی سہولتیں ملیں گے جو مسلمانوں کو ملتی ہیں اور تم پر بھی وہی ذمہ داری جو تمام مسلمانوں پر ہوتی ہے، یا پھر خراج ادا کرویا پھر تم رومیوں سے مل جاؤ فرمایا تو پھر وہ رومیوں سے مل گیا “۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ معافی کتاب الاموال)
11494- عن سعيد بن عبد العزيز قال قال عمر بن الخطاب لجبلة بن الأيهم: يا جبلة، فأجابه فقال: اختر مني إحدى ثلاث: إما أن تسلم فيكون لك ما للمسلمين، وعليك ما عليهم، وإما تؤدي الخراج، وإما أن تلحق بالروم، قال: فلحق بالروم. "أبو عبيد وابن زنجويه معا في كتاب الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسائیوں کے ساتھ طے ہونے والی شرائط
11491 ۔۔۔ خلفیہ بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ، اے یرفا ! مصر کے اہل کتاب کے لیے خط لکھو کہ

اپنی پیشانیوں کے بال کاٹیں اور کستیجاب نامی کپڑا وغیرہ اپنے وسط میں باندھیں ، تاکہ ان کا حلیہ مسلمانوں کے حلیے سے ممتاز ہوجائے “۔ (ابوعبید، اور ابن زنجویہ)
11495- عن خليفة بن قيس قال قال عمر: يا برفأ أكتب إلى أهل مصر من أهل الكتاب أن يجزوا نواصيهم وأن يربطوا الكستيجات على أوساطهم ليعرف زيهم من زي أهل الإسلام. "أبو عبيد وابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیسائیوں کے ساتھ طے ہونے والی شرائط
11492 ۔۔۔ اہل سواد کے سردار وغیرہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ اے امیرالمومنین اھل فارس ہم پر غالب آگئے اور انھوں نے ہمیں تکلیف دی اور ہمارے ساتھ براسلوک کیا، سو جب اللہ تعالیٰ آپ کو لے آئے تو ہمیں آپ کے آنے سے خوشی ہوئی ہم آپ کے پاس آئے ہیں، ہم آپ کو کسی چیز سے نہ روکیں گے اور نہ آپ سے قتال کریں گے، یہاں تک کہ ہمیں علم ہوا کہ آپ ہمیں غلام بنانا چاہتے ہیں، تو حضرت عمر (رض) نے جواب میں فرمایا کہ، اب تو اگر تم چاہو تو اسلام قبول کرلو ، اگر چاہو تو جزیہ ادا کرو اور اگر چاہو تو جنگ کرو، تو انھوں نے جزیہ دینا اختیار کیا “۔ (ابوعبید)
11496- عن عمر أن الرقيل ورؤسا من أهل السواد أتوه فقالوا: يا أمير المؤمنين إنا كنا قد ظهر علينا أهل فارس فأضروا بنا وأساؤا إلينا، فلما جاء الله بكم أعجبنا مجيئكم وقد جئناكم وفرحنا فلم نصدكم عن شيء ولم نقاتلكم، حتى إذا كان باخرة بلغنا أنكم تريدون أن تسترقونا فقال له عمر: فالآن فإن شئتم فالإسلام، وإن شئتم فالجزية، وإلا قاتلناكم فاختاروا الجزية. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو نکالنے کے بیان میں
11493 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے حضرت عمر (رض) وابن دینار روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے ایک یہودی کو یہ کہتے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا کہ گویا میں تیرے ساتھ ہوں ، تو نے اپنا پالان اپنے اونٹ پر ڈال دیا پھر تو راتوں رات سفر کرنے لگا “ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ خدا کسی قسم اس کی باتوں پر کان نہ دھرنا “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11497- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عمرو بن دينار قال: سمع عمر بن الخطاب رجلا من اليهود يقول: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: كأني بك قد وضعت كورك على بعيرك، ثم سرت ليلة بعد ليلة فقال عمر: إيه والله لا تمسوا بها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو نکالنے کے بیان میں
11494 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے یہودیوں ، عسائیوں اور مجوسیوں کے لیے تین دن مقرر کئے اپنی ضرورت پوری کرلیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی تین دن سے زیادہ مدینہ منورہ میں نہ رہے “۔ (مالک ، سنن کبری بیھقی)
11498- عن أسلم أن عمر بن الخطاب ضرب لليهود والنصارى والمجوس بالمدينة إقامة ثلاث ليال يتسوقون بها، ويقضون حوائجهم ولا يقيم أحد منهم فوق ثلاث ليال. " مالك هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو نکالنے کے بیان میں
11495 ۔۔۔ یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے نجران کے یہودیوں اور عسائیوں کو جلاوطن کردیا، اور ان کے زمین کا اچھا حصہ اور انگوروں کے باغات خرید لئے، اور ان زمینوں کا لوگوں کے ساتھ اس طرح معاملہ کیا کہ اگر وہ گائے اور ہل اپنے پاس سے لے کر آئیں گے تو دو تہائی ان کا اور ایک تہائی حضرت عمر (رض) کا اور اگر حضرت عمر (رض) نے بیچ اپنے پاس سے دیا تو ان کا ایک حصہ اور ہوھا، اور کھجوروں کے درختوں کا معاملہ اس طرح کیا کہ ان کے لیے ایک خمس اور حضرت عمر (رض) کے چار خمس اور انگوروں کا معاملہ اس طرح کیا کہ ایک تہائی کام کرنے والوں کے لیے اور دوتہائی حضرت عمر (رض) کیلئے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11499- عن يحيى بن سعيد أن عمر أجلى أهل نجران اليهود والنصارى واشترى بياض أرضهم وكرومهم، فعامل عمر الناس: إن هم جاؤا بالبقرة والحديد من عندهم فلهم الثلثان، ولعمر الثلث، وإن جاء عمر بالبذر من عنده فله الشطر وعاملهم النخل على أن لهم الخمس ولعمر أربعة أخماس، وعاملهم الكرم على أن لهم الثلث، ولعمر الثلثان. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৫০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو نکالنے کے بیان میں
11496 ۔۔۔ سالم بن ابن الجعد فرماتے ہیں کہ اہل نجران کی تعداد چالیس ہزار تھی اور حضرت عمر (رض) کو اس بات کا خطرہ تھا کہ کہیں یہ مسلمانوں پر حملہ نہ کربیٹھیں ، لیکن اہل نجران کے درمیان آپس میں حسد ہوگیا چنانچہ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہمارا آپس میں جھگڑا ہوگیا ہے ہمیں جلاوطن کر دیجئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ان کے لیے دستاویز لکھی تھی کہ ان کو جلاوطن کیا جائے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے موقع غنیمت جانا اور ان کو جلاوطن کردیا پھر وہ دربارہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ پہلا والا معاملہ (یعنی جلاوطنی کا) ختم کر دیجئے، لیکن حضرت عمر (رض) نے انکار کردیا، جب حضرت علی (رض) کا دور خلافت آیا تو یہ لوگ پھر ان کے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ سے آپ کے دائیں ہاتھ کی لکیروں کے واسطے سے اور آپ کے نبی کے ہاں آپ کی سفارش کے واسطے سے عرض کرتے ہیں کہ آپ ہم سے پہلے والا معاملہ ختم کر دیجئے ، حضرت علی (رض) نے بھی انکار کردیا اور فرمایا کہ احمقو، عمر زیادہ معاملہ فہم تھے چنانچہ جو کچھ انھوں نے کیا ہے میں اس میں تبدیلی نہ کروں گا “۔

سالم کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ اگر حضرت علی (رض) پر کسی چیز میں طعن کرنے والے والے ہوتے تو اہل نجران کے معاملے میں کرتے۔ (ابن ابی شیبہ، ابوعبید فی الاموال، سنن کبری، بیھقی)
11500- عن سالم بن أبي الجعد قال: كان أهل نجران بلغوا أربعين ألفا وكان عمر يخافهم أن يميلوا على المسلمين، فتحاسدوا بينهم، فأتوا عمر فقالوا: إنا قد تحاسدنا بيننا فأجلنا، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كتب لهم كتابا أن لا يجلوا فاغتنمها عمر فأجلاهم، فقدموا فأتوه فقالوا: أقلنا، فأبى أن يقيلهم، فلما ولي علي أتوه فقالوا: إنا نسألك بخط يمينك وشفاعتك عند نبيك إلا أقلتنا فأبى، وقال: ويحكم إن عمر كان رشيد الأمر فلا أغير شيئا صنعه عمر، قال سالم: فكانوا يرون أن عليا لو كان طاعنا على عمر في شيء من أمره طعن عليه في أهل نجران. "ش وأبو عبيد في الأموال هق".
tahqiq

তাহকীক: