কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৪৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11457 ۔۔۔ حضرت حارث بن معاویہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو انھوں نے دریافت فرمایا کہ آپ نے اہل شام کو کس حال میں چھوڑا ؟ انھوں نے تفصیل بتائی تو حضرت عمر (رض) نے اللہ کا شکرادا کیا اور تعریف بیان کی پھر فرمایا کہ شاید تم مشرکوں کے ساتھ بیٹھے رہے ہو ؟ عرض کیا، نہیں اے امیر المومنین تو فرمایا کہ اگر تم ان کے ساتھ بیٹھتے تو ان ساتھ کھاتے ، ان کے ساتھ پیتے اور تم اس وقت تک بھلائی پر رہو گے جب تک یہ کام نہ کروگے “۔ (یعقوب بن سفیان ، بیھقی فی شعب الایمان)
11461- عن الحارث بن معاوية أنه قدم على عمر بن الخطاب، فقال له: كيف تركت أهل الشام؟ فأخبره عن حالهم، فحمد الله، ثم قال: لعلكم تجالسون أهل الشرك؟ فقال: لا يا أمير المؤمنين، فقال: إنكم إن جالستموهم أكلتم معهم وشربتم معهم، ولن تزالوا بخير ما لم تفعلوا ذلك. "يعقوب بن سفيان هب كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11458 ۔۔۔ مکحول فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) ذمیوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ اپنی پیشانی کے بال کاٹیں اور اوساط سے خود کو باندھیں اور مسلمانوں کے معاملات میں ان کے ساتھ بالکل بھی مشابہت اختیار نہ کریں “۔ (ابن زنجویہ)
11462- عن مكحول أن عمر بن الخطاب كان يأمر أهل الذمة أن يجزوا نواصيهم ويعقدوا أوساطهم، وأن لا يتشبهوا بالمسلمين في شيء، من أمورهم. "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11459 ۔۔۔ حضرت لیث بن ابی سلیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ خنزیروں کو قتل کردو اور جو لوگ جزیہ دیتے ہیں ان کے جزیے میں سے ان خنزیروں کی قیمت ان کو واپس کردو “۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ معافی الاموال)
11463- عن ليث بن أبي سليم أن عمر بن الخطاب كتب إلى العمال: يأمرهم بقتل الخنازير ونقص أثمانها لأهل الجزية من جزيتهم. "أبو عبيد وابن زنجويه معا في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11460 ۔۔۔ حضرت مجاہدین عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ہمیں لکھا کہ مجوسیوں میں سے جو تمہیں اپنی باندیوں ، بیٹیوں اور بہنوں کے نکاح پر بلائیں تو ان سے پہلوتہی کرو، اور اس سے بھی کہ وہ ایک ساتھ کھانا کھائیں تاکہ کہیں ہم ان کو اھل کتاب کے ساتھ نہ ملادیں اور ہر کاہن وساحر کو قتل کردو “ (ابن زنجویہ فی الاموال ورستہ فی الایمان اور محاملی فی امالیہ)
11464- عن مجالد بن عبد الله: كتب إلينا عمر بن الخطاب: أن اعرضوا على من قبلكم من المجوس أن يدعوا نكاح إمائهم وبناتهم وإخواتهم، وان يأكلوا جميعا كيما نلحقهم بأهل الكتاب، واقتلوا كل كاهن وساحر. "ابن زنجويه في الأموال ورستة في الإيمان والمحاملي في أماليه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11461 ۔۔۔ محمد بن عائد فرماتے ہیں کہ ولید نے کہا کہ مجھے ابوعمرو وغیرہ نے بتایا کہ حضرت عمر (رض) وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دیگر صحابہ نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ ان کے پاس جتنی زمین وغیرہ ہے وہ ان کو آباد کریں گے اور اس کا خراج مسلمانوں کو دیں گے، اور اگر کوئی ان میں سے مسلمان ہوگیا تو اس سے خراج ختم کردیا جائے گا اور اس کے پاس جو زمین وغیرہ ہوگی وہ اس کے علاقے کے لوگوں میں تقسیم کردی جائے گی اور وہ جو ادا کرتا تھا اب اس کے علاقے والے ادا کریں گے اور اس کا مال گھر والے اور جانور اس کے حوالے کردیں گے، اور اس کا نام مسلمانوں کے رجسٹر میں لکھا جائے گا اور حصہ مقرر کیا جائے گا اور وہ مسلمانوں میں سے ہوگا اور اس کو وہی سہولتیں حاصل ہوں گی جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور اس پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو دیگر مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں ، اور ان کی رائے یہ نہ ہوتی کہ خواہ کوئی مسلمان ہی کیوں نہ ہوجائے مگر اس کی زمین اس کے گھر والوں اور رشتے داروں میں تقسیم ہوجائے ، اور مسلمانوں کے لیے ۔۔۔ نہ سمجھتے تھے اور ان میں سے جو اپنے دین پر برقرار رہے اس کو ذمی پکارا جائے، اور اس پر بھی اتفاق رائے ہوا کہ مسلمانوں کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں کہ ذمیوں کے پاس موجود زمینوں کی وجہ سے انھیں قتل نہیں کیا گیا تھا اور ان کو ان کے رومی دشمنوں پر غالب رکھا گیا تھا، چنانچہ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ چوکنے ہوگئے اور تمام بڑے صحابہ نے اس زمین کی خریداری کو پسند نہ کیا کیونکہ مسلمانوں کا غلبہ شہروں پر تھا اور ان علاقوں پر جن کے لیے یہ قتال کرتے تھے ، اور مسلمانوں اور ان کے سر کردہ لوگوں کے پاس اپنا وفد بھیجئے امن مانگنے کے لیے مسلمانوں کے غلبے سے پہلے ہی چھوڑ دینے کی وجہ سے چنانچہ انھوں نے کہا کہ وہ لوگ ان سے اپنی مرضی سے ہی خریدنا پسند نہ کرتے تھے کیونکہ حضرت عمر اور زمین کے مالکان نے ان زمینوں کو امت کے بعد میں آنے والے مسلمان مجاہدین کے لیے وقف کردیا تھا چنانچہ وہ نہ بیچی جاسکتی تھیں اور نہ وراثت میں تقسیم ہوسکتی تھی تاکہ بعد کے مشرکین کے خلاف جہاد میں قوت حاصل رہے اور اس وجہ سے بھی انھوں نے خود پر فریضہ جہاد کو لازمی کرلیا تھا۔ (ابن عساکر)
11465- عن محمد بن عائذ قال قال الوليد: أخبرني أبو عمرو وغيره أن عمر وأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أجمع رأيهم على إقرار ما كان بأيديهم من أرضهم يعمرونها ويؤدن منها خراجها إلى المسلمين، فمن أسلم منهم رفع عن رأسه الخراج، وصار ما كان في يده من الأرض وداره بين أصحابه من أهل قريته يؤدون عنها ما كان يؤدي من خراجها ويسلمون له ماله ورقيقه وحيوانه، وفرضوا له في ديوان المسلمين، وصار من المسلمين، له مالهم وعليه ما عليهم، ولا يرون أنه وإن أسلم أولى بما كان في يديه من أرضه من أصحابه من أهل بيته وقرابته، ولا يجعلونها صافية للمسلمين وسموا من ثبت منهم على دينه وقريته ذمة للمسلمين، ويرون أنه لا يصلح لأحد من المسلمين شراء ما في أيديهم من الأرضين، كرها لما احتجوا به على المسلمين من غمساكهم كان عن قتالهم وتركهم مظاهرة عدوهم من الروم عليهم، فهاب لذلك أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وولاة الأمر، قسمهم وأخذ ما في أيديهم من تلك الأرضين، وكره أيضا المسلمون شراءها طوعا لما كان من ظهور المسلمين على البلاد، وعلى ما كان يقاتلهم عنها، ولتركهم كان البعثة إلى المسلمين وولاة الأمر في طلب الأمان قبل ظهورهم عليهم، قالوا: وكرهوا شراءها منهم طوعا لما كان من إيقاف عمر وأصحاب الأرضين محبوسة على آخر الأمة من المسلمين المجاهدين، لا تباع ولا تورث قوة على جهاد من لم يظهروا عليه بعد من المشركين ولما ألزموه أنفسهم من إقامة فريضة الجهاد. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کے احکام
11462 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے مسروق روایت کرتے ہیں کہ بعض قبیلوں میں سے ایک شخص مسلمان ہوگیا ، اور اس سے جزیہ لیا جاتا تھا چنانچہ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! میں مسلمان ہوگیا ہوں اور پھر بھی مجھ سے جزیہ لیا جاتا ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ شاید تو نے پناہ لینے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، اس نے کہا کہ رہا اسلام تو اس میں مجھے کون پناہ دے گا ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ہاں، اور پھر لکھ دیا کہ اس سے جزیہ نہ لیا جائے “۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ فی الاموال اور رستہ فی الایمان اور سنن کبری بیھقی)
11466- "مسند عمر رضي الله عنه" عن مسروق أن رجلا من الشعوب أسلم، فكانت تؤخذ منه الجزية، فأتى عمر، فأخبره فقال: يا أمير المؤمنين إني أسلمت والجزية تؤخذ مني، فقال: لعلك أسلمت متعوذا، فقال: أما في الإسلام من يعيذني؟ قال: بلى، فكتب أن لا تؤخذ منه الجزية. "أبو عبيد وابن زنجويه في الأموال ورسته في الإيمان هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کے احکام
11463 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سونے والوں پر چار دینار اور چاندی والوں پر چالیس درھم جزیہ مقرر کیا اور یہ بھی کہ مسلمانوں کا رزق اور مہمان نوازی تین دن کے لیے کریں گے “۔ (امام مالک ، ابوعبید فی الاموال ، سنن کبری بیھقی)
11467- عن أسلم أن عمر بن الخطاب ضرب الجزية على أهل الذهب أربعة دنانير، وعلى أهل الورق أربعين درهما، ومع ذلك أرزاق المسلمين وضيافتهم ثلاثة أيام. "مالك وأبو عبيد في الأموال هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کے احکام
11464 ۔۔۔ ابوعون محمد بن عبید اللہ الثقفی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کے سرداروں پر جزیہ مقرر کیا ، مال دار پر 48 درھم ، درمیانے درجے پر 24 درھم اور فقیر پر 12 درھم۔ (سنن کبری بیھقی)
11468- عن أبي عون محمد بن عبيد الله الثقفي قال: وضع عمر بن الخطاب الجزية على رؤس الرجال، على الغني ثمانية وأربعين درهما، وعلى الوسط أربعة وعشرين درهما وعلى الفقير اثنى عشر درهما. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کے احکام
11465 ۔۔۔ حضرت حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے اھل سواد پر ایک دن اور رات کی مہمان نوازی مقرر کی ، اور جس کو کسی بیماری یابارش وغیرہ نے روک لیا ہو تو اپنا مال خرچ کرے “۔ (الشافعی ، ابوعبید، ابن عبدالحکم فی فتوح المصر، سنن کبری بیھقی)
11469- عن حارثة بن مضرب أن عمر بن الخطاب فرض على أهل السواد ضيافة يوم وليلة، فمن حبسه مرض أو مطر أنفق من ماله. "الشافعي وأبو عبيد وابن عبد الحكم في فتوح مصر هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کے احکام
11466 ۔۔۔ احنف بن قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ذمیوں کے ساتھ ایک دن اور رات کی مہمان نوازی کی شرط لگاتے تھے خواہ ان کے پاس کتنی ہی گنجائش ہو، اور اگر ان کے علاقوں میں کوئی مسلمان مقتول پایا گیا تو ان پر دیت کی لازم ہوگی۔ (ابوعبید اور مسدد، متفق علیہ)
11470- عن الأحنف بن قيس أن عمر بن الخطاب كان يشترط على أهل الذمة ضيافة يوم وليلة، وأن يصلحوا القناطر وإن قتل في أرضهم قتيل من المسلمين فعليهم ديته. "أبو عبيد ومسدد ق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کے احکام
11467 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کو جزیے میں سے بہت سارا بکریوں کا ریوڑ ملا اور اسلم نے عرض کیا کہ وہاں پیچھے ایک نابینا اونٹنی ہے، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ہم اس کو گھر والوں کے حوالے کردیں گے وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے، میں نے عرض کیا کہ وہ تو نابینا ہے، تو فرمایا وہ اس کو اونٹوں کے ساتھ کھلا پلالیں گے میں نے عرض کیا کہ وہ زمین سے کیسے کھائیں گی، دریافت فرمایا کہ آیا وہ جزیہ کے جانور میں سے ہے یا صدقہ کے جانوروں میں سے فرمایا کہ خدا کی قسم تم نے اس کے کھانے کا ارادہ کرلیا ہے، میں نے عرض کیا کہ اس توجزیہ کی علامت ہے، چنانچہ آپ (رض) نے حکم فرمایا اور اس کو ذبح کردیا گیا حضرت ان تھالوں میں رکھتے جاتے تھے اور ایک ایک تھال جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے گھر بھجتے جارہے تھے، سب سے آخر میں جو تھال بھیجا وہ ام المومنین حضرت حفصہ (رض) کے گھر بھجوایا، اگر کسی تھال سے کچھ کم کرنے کی ضرورت ہوتی تو اسی تھال سے کم کرتے پھر فرمایا کہ پھر حضرت عمر (رض) نے اونٹ کا گوشت ان تھالوں میں ڈال کر امہات المومنین کے گھروں میں بھجوایا اور باقی کے بارے میں حکم دیا، اسے تیار کیا گیا اور مہاجرین اور انصار صحابہ کرام (رض) نے کھایا “۔ (مالک ، شافعی، متفق علیہ)
11471- عن أسلم أن عمر بن الخطاب كان يؤتى بنعم كثيرة من نعم الجزية، وأنه قال لعمر بن الخطاب: إن في الظهر لناقة عمياء، فقال عمر: ندفعها إلى أهل بيت ينتفعون بها، فقلت: وهي عمياء؟ قال: يقطرونها بالإبل، قلت: كيف تأكل من الأرض؟ فقال: أمن نعم الجزية هي أم من نعم الصدقة؟ فقلت من نعم الجزية، فقال: أردتم والله أكلها، فقلت: إن عليها وسم الجزية، فأمر بها فنحرت، وكان عنده صحاف تسع فلا تكون فاكهة ولا طرفة إلا جعل في تلك الصحاف منها فيبعث بها إلى أزواج النبي صلى الله عليه وسلم، ويكون الذي يبعثه إلى حفصة من آخر ذلك، فإن كان فيه نقصان كان من حظ حفصة، قال فجعل في تلك الصحاف من لحم الجزور فبعث به إلى أزواج النبي صلى الله عليه وسلم وأمر بما بقي من اللحم فصنع فدعا عليه المهاجرين والأنصار. "مالك والشافعي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11468 ۔۔۔ حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ارادہ کیا کہ اہل سواد کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرمادیں چنانچہ ان کی گنتی کا حکم دیا تو ایک مسلمان شخص کے حصے میں تین کسان آئے چنانچہ صحابہ کرام (رض) نے مشورہ فرمایا حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ ان کو چھوڑ دیجئے یہ مسلمانوں کی آمدنی کا ذریعہ ہوں گے چنانچہ حضرت عثمان (رض) بن حنیف (رض) کو بھیجا گیا اور انھوں نے اڑتالیس، چوبیس اور بارو درھم کی مقدار کی “۔ (ابوعبید ، ابن زنجویہ،
خرائبی متفق علیہ)
خرائبی متفق علیہ)
11472- عن حارثة بن مضرب أن عمر بن الخطاب أراد أن يقسم أهل السواد بين المسلمين وأمر بهم أن يحصوا فوجد الرجل المسلم نصيبه ثلاثة من الفلاحين يعني العلوج فشاور أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك، فقال علي: دعهم يكونوا مادة للمسلمين فبعث عثمان بن حنيف فوضع عليهم ثمانية وأربعين وأربعة وعشرين واثنى عشر. "أبو عبيد وابن زنجويه والخرائطي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11469 ۔۔۔ حضرت مرۃ المہدانی فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عمر (رض) فرما رہے تھے کہ میں ان کو باربار صدقہ دوں گا یہاں تک کہ ایک شخص کے پاس سو اونٹ جمع ہوجائیں گے۔ (ابوعبید فی الامثال اور ابن سعد)
11473- عن مرة الهمداني قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول لأكررن عليهم الصدقة حتى تروح على الرجل منهم المائة من الإبل. "أبو عبيد في الأموال وابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11470 ۔۔۔ حضرت عتبہ فرقد فرماتے ہیں کہ میں نے دریائے فرات کے کنارے سواد نامی علاقے میں دس جریب زمین خریدی جانوروں کو گھاس وغیرہ کھلانے کے لئے، اور یہ بات حضرت عمر (رض) کی خدمت اقدس میں عرض کی، فرمایا کہ کیا تم نے زمین اہل زمین سے خریدی ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں پھر فرمایا چلوگے میرے ساتھ ؟ میں ان کے ساتھ چلا تو انھوں نے پوچھا اے فلاں فلاں کیا تم نے اس کو کچھ بیچا ہے ؟ انھوں نے کہا نہیں، تو آپ نے فرمایا کہ تلاش کرکے اس بندے سے اپنا مال لے لو جسے دیا تھا۔ (سنن کبری بیھقی)
11474- عن عتبة بن فرقد قال: اشتريت عشر أجربة من أرض السواد على شاطئ الفرات لقضب دواب فذكرت ذلك لعمر، فقال: اشتريتها من أصحابها؟ قلت: نعم، قال: رح إلي؟ فرحت إليه؟ فقال: يا هؤلاء أبعتموه شيئا؟ قالوا: لا، قال: ابتغ مالك حيث وضعته. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11471 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے سونا رکھنے والوں پر چار دینار جزیہ مقرر کیا ، اور چاندی والوں ہر چالیس درھم اور کھانے پینے کی چیزوں میں سے گندم کے دومد، اور ان میں سے ہر انسان کے لیے ہر ماہ تین قسط تیل ، اور اگر وہ شہری ہو تو ہر ماہ پر شخص ایک ارب تیل دے گا اور پھر فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں شہد اور چربی میں کتنی مقدار مقرر کی “۔ (ابوعبد، ابن زنجویہ ، فی الاموال)
11475- عن أسلم أن عمر ضرب الجزية على أهل الذهب أربعة دنانير، وأربعين درهما على أهل الورق، وأرزاق المسلمين من الحنطة مدين، وثلاثة أقساط زيت لكل إنسان منهم كل شهر، ومن كان من أهل مصر فأردب كل شهر لكل إنسان، قال: ولا أدري كم ذكر من الودك والعسل. "أبو عبيد وابن زنجويه في الأموال عق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11472 ۔۔۔ ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ میں نے مجاہد سے پوچھا کہ حضرت عمر (رض) نے اہل شام پر اہل یمن سے زیادہ جزیہ کیوں مقرر کیا تھا تو حضرت مجاہد نے فرمایا کہ سہولت کے لیے “۔ (ابوعبیدہ، ابن زبجویہ)
11476- عن ابن أبي نجيح سألت مجاهدا لم وضع عمر على أهل الشام من الجزية أكثر مما وضع على أهل اليمن؟ فقال: لليسار. "أبو عبيد وابن زنجويه عق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11473 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھے کے پاس سے گزرے جو مسجدوں کے دروازہ پر مانگا کرتا تھا تو فرمایا کہ ہم نے تیرے ساتھ انصاف نہیں کیا کہ بڑھاپے کے باوجود تجھ پر جزیہ مقرر کردیا اور تجھے تیرے بڑھاپے نے ضائع کردیا، پھر بیت المال سے اس کی ضرورت کے لیے کچھ جاری فرمایا “۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ)
11477- عن عمر أنه مر بشيخ من أهل الذمة يسأل على أبواب المساجد فقال: ما أنصفناك أن كنا أخذنا منك الجزية في شيبتك، ثم ضيعناك في كبرك، ثم أجرى عليه من بيت المال ما يصلحه. "أبو عبيد وابن زنجويه عق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11474 ۔۔۔ حضرت جبیربن نفیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس جزیہ کا بہت سامال لایا گیا، میرا یہ خیال ہے کہ تم نے لوگوں کو ہلاک کردیا ہے، عرض کیا کہ نہیں خدا کی قسم ہم نے جو بھی لیا ہے وہ نہایت آسانی سے معاف کرتے ہوئے لیا ہے ، دریافت فرمایا بغیر ڈنڈے، کوڑے کے ؟ عرض کیا جی ہاں تو فرمایا کہ تمام یقین اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے نہ یہ کام میرے ساتھ سے کروایا اور نہ میرے دور میں کروایا “۔ (ابوعبید فی الاموال )
11478- عن جبير بن نفير أن عمر بن الخطاب أتي بمال كثير من الجزية، فقال: إني لأظنكم قد أهلكتم الناس، قالوا: لا والله ما أخذنا إلا عفوا صفوا، قال: بلا سوط ولا نوط؟ قالوا: نعم، قال: الحمد لله الذي لم يجعل ذلك على يدي، ولا في سلطاني. "أبو عبيد في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11475 ۔۔۔ ابوعیاض فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ذمیوں کے غلام نہ خریدو کیونکہ وہ خراج والے ہیں اور ان کی زمین بھی سوا نہیں نہ خریدو اور تم میں سے کوئی بھی چھوٹوں کے ساتھ نہ ملائے جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے نجات دے چکے ہیں “۔ (ابوعبید فی الاموال سنن کبری)
11479- عن أبي عياض قال قال عمر: لا تشتروا رقيق أهل الذمة فإنهم أهل خراج، وأرضهم فلا تبتاعوها، ولا يقرن أحدكم بالصغار بعد إذ أنجاه الله منه. "أبو عبيد في الأموال هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جزیہ کی مقدار
11476 ۔۔۔ حکم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) صائبہ پر جزیہ مقرر کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ اس قابل نہ ہوجائیں چنانچہ پھر ان پر دس درھم مقرر کرتے اور ان پر ان کی حیثیت اور کام کاج کے لحاظ سے بڑھاتے ہی رہتے “ (ابن زبجویہ فی الاموال)
11480- عن الحكم قال: كان عمر لا يكتب الجزية على الصابئة حتى يحتلموا، فيفرض عليهم عشرة دراهم، ثم يزيد عليهم بعد ذلك على قدر ما بأيديهم وقدر أعمالهم. "ابن زنجويه في الأموال".
তাহকীক: