কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৪৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بچوں کو قتل نہیں کیا گیا
11437 ۔۔۔ خالد الاحول روایت کرتے ہیں خالدبن سعید سے اور وہ اپنے والد سے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خالد بن سعید بن العاص (رض) کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ اگر ایسے علاقے سے گزروجہاں سے اذان کی آواز نہ سنائی دے تو ان تک پہنچو، چنانچہ جب وہ بنوزبید کے علاقے سے گزرے تو انھوں نے اذان کی آواز نہ سنی تو ان کو گرفتار کرلیا اتنے میں عمروبن معدیکرب (رض) ان کے پاس آئے اور گفتگو کی تو حضرت خالد (رض) نے تمام قیدی حضرت عمر وبن معدیکرب (رض) کو ھدیہ کردیئے “۔
11441- عن خالد الأحول عن خالد بن سعيد عن أبيه قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن سعيد بن العاص إلى اليمن، فقال: إن مررت بقرية فلم تسمع أذانا فأصبهم، فمر ببني زبيد فلم يسمع أذانا فسباهم، فأتاه عمرو بن معد يكرب فكلمه فوهبهم له خالد. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بچوں کو قتل نہیں کیا گیا
11438 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی قوم سے اس وقت تک جنگ نہ کی جب تک ان کو دعوت نہ دے دی “۔ (ابن النجار)
11442- عن ابن عباس قال: ما قاتل النبي صلى الله عليه وسلم قوما حتى يدعوهم. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان
11439 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے حضرت طلحہ بن عبداللہ بن کریز روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ جس شخص نے بھی مشرکوں میں سے کسی کو دعوت دی اور آسمان کی طرف اشارہ کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو امان دے دی تو وہ اللہ ہی کے عہد اور میثاق کے عہد میں ہے “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11443- "مسند عمر رضي الله عنه" عن طلحة بن عبيد الله بن كريز قال: كتب عمر بن الخطاب: أيما رجل دعا رجلا من المشركين وأشار إلى السماء فقد آمنه الله فإنما نزل بعهد الله وميثاقه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان
11440 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے لکھوایا کہ بیشک مسلمان غلام بھی مسلمانوں میں سے ہے اگر وہ امان دیدے تو یہی سمجھا جائے گا کہ مسلمانوں نے امان دی ہے (مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ ، متفق علیہ)
11444- عن عمر أنه كتب: إن العبد المسلم من المسلمين، أمانه أمانهم. " عب ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان
11441 ۔۔۔ حضرت عوف بن مالک الاشجعی (رض) فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک مسلمان خاتون کو تکلیف پہنچائی پھر اس پر مٹی ڈالنے لگا جو خود پر ڈالنا چاہ رہا تھا معاملہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے سامنے پیش کیا گیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ یہ لوگ ذمی ہیں جب تک تمہارے ساتھ کیا ہوا عہد پورا نہ کریں تو ان کا کوئی عہد نہیں پھر اس کو پھانسی دے دی “۔ (عبدالرزاق ، متفق علیہ)
11445- عن عوف بن مالك الأشجعي أن يهوديا نخس بامرأة مسلمة ثم حثا عليها التراب يريدها على نفسها فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب، فقال عمر: إن لهؤلاء عهدا ما وفوا لكم بعهد، فإذا لم يفوا لكم بعهدهم فلا عهد لهم، فصلبه. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امان
11442 ۔۔۔ حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کا حکم مانہ ہم تک پہنچا جب تم نے قلعہ کا محاصرہ کرلیا تھا، پھر انھوں نے تم سے چاہا ان کو اللہ کے حکم پر امان دو ، ان کو امان نہ دینا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں اللہ کا حکم کیا ہے لیکن ان کو اپنی ذمہ داری پر امان دو ، پھر ان کے بارے میں وہ فیصلہ کرو جو تمہیں اچھا لگے، اور جب ایک شخص کسی دوسرے شخص سے کہدے کہ خوفزدہ مت ہونا تو تحقیق اس نے امان دے دی اس کو اور اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا کہ مترس تو تحقیق اس نے بھی اس کو امان دے دی کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام زبانوں کو جانتے ہیں “۔ (متفق علیہ)

فائدہ :۔۔۔ مترس فارسی زبان کا کلمہ ہے یعنی نہ ڈرو، واللہ اعلم نالصواب۔ (مترجم)
11446- عن أبي وائل قال: جاءنا كتاب عمر إذا حاصرتم قصرا فأرادوكم أن ينزلوا على حكم الله، فلا تنزلوهم، فإنكم لا تدرون ما حكم الله فيهم، ولكن أنزلوهم على حكمهم، ثم اقضوا فيهم ما أحببتم، وإذا قال الرجل للرجل: لا تخف فقد آمنه، وإذا قال: مترس فقد آمنه،فإن الله يعلم الألسنة. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11443 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ہم نے تستر کا محاصرہ کرلیا اور ہرمزان کو حضرت عمر (رض) کے حکم پر اتارا ، اور لے کر حضرت عمر (رض) کی خدمت اقدس میں پہنچے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہہ تو اس نے کہا کہ وہ بات کروں جو زندہ لوگ کیا کرتے ہیں یا وہ بات کروں جو مرنے والے کیا کرتے ہیں فرمایا کہ بولو، کوئی حرج نہیں، جب میں نے محسوس کیا کہ وہ اس کو قتل کردیں گے عرض کیا کہ اسے اب قتل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آپ نے اسے کہہ دیا ہے کہ بولو کوئی حرج نہیں “ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ کیا تو نے اس سے رشوت لی ہے اور کچھ حاصل کیا ہے، میں (حضرت انس (رض) بن مالک) نے عرض کیا کہ خدا کی قسم نہ میں نے اس سے رشوت کی ہے اور نہ کچھ حاصل کیا ہے، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا تو توگواہ کے کر آیا پھر تجھے سزا ملے گی، سو میں نکلا اور زبیر بن عوام سے ملاقات ہوئی انھوں نے میرے ساتھ گواہی دی اور حضرت عمر (رض) نے اسے قتل نہ کروایا سوہرمزان مسلمان ہوگیا “۔ (مسند الشافعی، متفق علیہ)
11447- عن أنس بن مالك، قال: حاصرنا تستر فنزل الهرمزان على حكم عمر، فقدمت به على عمر، فقال له عمر: تكلم، فقال: كلام حي أم كلام ميت؟ قال تكلم لا بأس، فتكلم، فلما أحسست أن يقتله قلت: ليس إلى قتله سبيل، قد قلت له: تكلم لا بأس، فقال عمر: ارتشيت وأصبت منه؟ فقلت: والله ما ارتشيت ولا أصبت منه، فقال: لتأتين على ما شهدت به لغيرك أو لأبدأن بعقوبتك، فخرجت فلقيت الزبير بن العوام، فشهد معي وأمسك عمر رضي الله عنه، وأسلم الهرمزان وفرض له. "الشافعي ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11444 ۔۔۔ اہل کوفہ میں ایک صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ایک لشکر کے سالار کو لکھا جسے جنگ کے لیے بھیجا تھا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص علج کافر کو طلب کرتا ہے یہاں تک کہ پہاڑوں میں سخت لڑائی اور رکاٹ ہوتی ہے تو کہتا ہے ” مترس “ کہتا ہے کہ خوفزدہ مت ہونا پھر جب اس کو پکڑلیتا ہے تو اس کو قتل کردیتا ہے، اور قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر مجھے اطلاع ملی کہ کسی نے ایسی حرکت کی ہے تو میں اس کی گردن اڑادوں گا “۔ (امام مالک)
11448- عن رجل من أهل الكوفة أن عمر بن الخطاب كتب إلى عامل جيش كان بعثه أنه بلغني أن رجالا منكم يطلبون العلج حتى إذا اشتد في الجبل وامتنع فقال الرجل: مترس، يقول: لا تخف فإذا أدركه قتله، وإني والذي نفسي بيده لا يبلغني أن أحدا فعل ذلك إلا ضربت عنقه. "مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11445 ۔۔۔ حضرت ابوسلمۃ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر کسی نے تم میں سے کسی مشرک کے لیے اپنی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی امان دینے کا کہا) اور جب وہ اس کے پاس آگیا تو اس نے اس کو پکڑ کر قتل کردیا تو میں اس کو اس کافر کے بدلے قتل کردوں گا “۔ (ابن صائد اور الالکائی)
11449- عن أبي سلمة قال: قال عمر: والذي نفسي بيده لو أن أحدكم أشار إلى السماء بأصبعه إلى مشرك ثم نزل إليه على ذلك ثم قتله لقتلته به. "ابن صاعد في حديثه واللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11446 ۔۔۔ واقدی کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا ابوبکر بن عبداللہ بن ابی الحویرث نے اور فرمایا کہ بیت المقدس سے بیس یہودی آئے ان کا سردار یوسف بن نون تھا، ان کے امان کی تحریر لکھوائی اور جابیہ کے بدلے حضرت عمر (رض) کے ساتھ صلح کرلی، حضرت عمر (رض) نے ایک تحریر لکھوائی اور ان پر جزیہ مقرر کیا، اور لکھا بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تمہارے مال اور گرجے محفوظ ہیں جب تک تم خود شرارت نہ کرو اور نہ کسی شرارتی کو پناہ دو ، سو اگر تم میں سے کسی نے کوئی شرارت کی یا شرارتی کو پناہ دی تو اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہوجائے گا اور لشکر کے حملے کی ذمہ داری مجھ پر نہ ہوگی، حضرت معاذ (رض) اور ابوعبیدہ بن الجراح (رض) اس تحریر کے گواہ بنے اور حضرت ابی بن کعب (رض) نے یہ معاہدہ تحریر فرمایا “۔ (ابن عساکر)
11450- الواقدي: حدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي الحويرث قال: كان يهود من بيت المقدس وكانوا عشرين رأسهم يوسف بن نون، فأخذ لهم كتاب أمان، وصالح عمر بالجابية، وكتب كتابا ووضع عليهم الجزية، وكتب: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أنتم آمنون على دمائكم وأموالكم وكنائسكم ما لم تحدثوا أو تأووا محدثا فمن أحدث منكم أو آوى محدثا فقد برئت منه ذمة الله، وإني بريء من معرة الجيش شهد معاذ بن جبل وأبو عبيدة بن الجراح وكتب أبي بن كعب. "ابن عساكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11447 ۔۔۔ مہلب بن ابی صفرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مناذرکا محاصرہ کیا اور کچھ قیدی حاصل کئے ، تو حضرت عمر (رض) نے ہمیں لکھا کہ مناذر بھی سواد کے علاقوں میں سے ہے جو کچھ تم نے ان سے لیا ہے ان کو واپس کردو “۔ (ابوعبید)
11451 - عن المهلب بن أبي صفرة قال: حاصرنا مناذر فأصبنا سبيا فكتبوا إلى عمر أن مناذر قرية من قرى السواد، فردوا إليهم ما أصبتم. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11448 ۔۔۔ حضرت فضیل بن عبید نے حضرت عمر (رض) کے عہد مبارک میں جہاد میں کئی مرتبہ حصہ لیا تھا چنانچہ فرماتے ہیں کہ ہم واپس آئے تو مسلمان غلاموں میں سے ایک غلام پیچھے رہ گیا اور ایک کاغذ پر ، دشمنوں کے لیے امان نامہ لکھ کر اقن کی طرف پھینک دیا، (آگے فرماتے ہیں کہ) واقعہ کی تفصلات ہم نے حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجیں تو حضرت عمر (رض) نے ہمیں لکھا کہ مسلمان غلام مسلمانوں ہی میں سے ہے، اس کی ذمہ داری مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور حضرت عمر (رض) نے اس کے امان دینے کو جائز قرار دیا “۔ (متفق علیہ)
11452- عن فضيل بن زيد وكان غزا على عهد عمر بن الخطاب غزوات، قال: لما رجعنا تخلف عبد من عبيد المسلمين فكتب إليهم أمانا في صحيفة فرماها إليهم، قال فكتبنا إلى عمر بن الخطاب، فكتب عمر إن عبد المسلمين من المسلمين، ذمته ذمتهم فأجاز عمر أمانه. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11449 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہرمزان نے حضرت عمر (رض) کی ذمہ داری پر گرفتاری پیش کی، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اے انس ! مجھے البراء بن مالک اور مجزاۃ بن ثور کے قاتل سے حیا آتی ہے، چنانچہ ہرمزان نے اسلام قبول کرلیا اور اس کے لیے حصہ مقرر کیا گیا “۔ (یعقوب بن سفیان ، متفق علیہ)
11453- عن أنس أن الهرمزان نزل على حكم عمر فقال عمر: يا أنس استحى قاتل البراء بن مالك ومجزأة بن ثور فأسلم وفرض له. "يعقوب بن سفيان ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11450 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ جب ذمی آئے تو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں تھے ، ذمیوں نے عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے امن کی ایک دستاویز لکھ دیجئے ، اس کے بعد ہم اس بارے میں آپ سے کوئی سوال نہ کریں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہاں جو تم چاہتے ہو میں تمہارے لیے لکھ دوں گا علاوہ لشکر کے سپاہیوں اور بیوقوف لیٹروں کے کیونکہ یہی لوگ انبیاء کرام کے قتل کرنے والے ہیں “۔ (العسکری)
11454- عن علي قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم حين جاءه أهل الذمة، فقالوا له: اكتب لنا كتابا بأمن لا نسأل فيه من بعدك، فقال: نعم أكتب لكم ما شئتم إلا معرة الجيش وسفه الغوغاء، فإنهم قتلة الأنبياء. "العسكري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11451 ۔۔۔ قائل بن مطرف اپنے والد سے اور وہ اپنے والد رزین بن انس سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہمارا دفعیہ نامی جگہ پر ایک کنواں تھا، جب اسلام ظاہر ہوا تو ہمیں کو ف ہوا کہ اس کے اردگرد کے لوگ کنواں ہم سے چھین نہ لیں، چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور صورت حال بتائی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے ایک دستاویز لکھوائی ، بسم اللہ الرحمن الرحیم ، اللہ کے رسول محمد کی طرف سے ، امابعد ، اگر وہ سچا ہے تو ان کا ایک کنوان ہے ، اگر وہ سچا ہے تو ان کا ایک گھر ہے، چنانچہ ہم نے جب بھی کبھی اس کنویں کے سلسلے میں مدینہ کے کسی قاضی کے سامنے معاملہ اٹھایا تو اس قاضی نے فیصلہ ہمارے حق میں کیا “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دستاویز پر میں لفظ کان تھا “۔ (مستدرک حاکم اور نسائی) اور روای کا بھی یہی خیال ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دستاویزایسی ہی تھی “۔ (ابن ابی داؤد، فی المصاحف اور طبرانی)
11455- عن نائل بن مطرف السلمي عن أبيه عن جده رزين بن أنس قال: لما ظهر الإسلام ولنا بئر بالدفية خفنا أن يغلبنا عليها من حولنا فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فكتب لنا كتابا بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله أما بعد فإن لهم بئرا إن كان صادقا ولهم دار إن كان صادقا، فما قاضينا فيه إلى أحد من قضاة المدينة إلا قضوا لنا به وفي كتاب النبي صلى الله عليه وسلم كان "ك ون" وزعم أنه كذا كان في كتاب النبي صلى الله عليه وسلم. "ابن أبي داود في المصاحف طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بھی وعدہ خلافی جائز نہیں
11452 ۔۔۔ ذکر بن ابی زائدۃ فرماتے ہیں کہ میں ابواسحق کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان تھا تو ہمارے ساتھ بنوخزاعۃ کا ایک شخص چلنے لگا تو ابواسحق نے اس سے پوچھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا تھا کہ یہ بدوی بنوکعب کی مدد سے کانپ اٹھی ؟ تو وہ خزاعی شخص بولا کہ بنوکعب کی مدد سے نکل آئی ، پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دستاویز خزاعہ کے تحریر شیدہ نکالی اور ہمارے سامنے کی وہ ان دنوں ان کا نائب تھا، اس میں لکھا تھا، بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے رسول محمد کی طرف سے بدیل ، بسری اور نبی عمرو کے سرداروں کی طرف، سو میں تیرے سامنے اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں علاوہ اس کے، سو میں نے چھپا کر کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ میں نے تمہارے پہلو میں رکھا بیشک اھل تہامہ میں سب سے معزز لوگ تم ہو اور سب سے زیادہ قریبی رشتے دار بھی اور مطیبین میں سے وہ لوگ جنہوں نے تمہارا اتباع کیا، اور تحقیق تم میں سے اس شخص کے لیے جس نے ہجرت کی میں نے وہی لیا ہے جو اپنے لیے لیا ہے خواہ اس نے مکہ میں سکونت اختیار کئے بغیر (حج و عمرے کے علاوہ) اپنی سرزمین سے ہی ہجرت کی ہو، اور میں نے تمہارے بیچ نہیں رکھا اگر تم اسلام قبول کرلو، سو قسم میری طرف سے بالکل خوفزدہ نہ ہو اور نہ ہی محاصرے میں ہو، امابعد، بیشک علقمہ بن علاثۃ اور ابن ھودۃ مسلمان ہوگئے اور انھوں نے ہجرت کی اور بیعت کی ان پر جنہوں نے ان دونوں کا اتباع کیا عکرمہ وغیرہ میں سے اور جو انھوں نے اپنے لیے لیا وہی اپنے متبعین کے لیے لیا بیشک ہم میں سے بعض بعض کے ساتھ حلال و حرام کا تعلق رکھتے ہیں اور بیشک خدا کی قسم میں نے تمہارے ساتھ جھوٹ نہیں بولا اور تم پر سلامتی ہو رب کی طرف “۔ (پھر فرمایا کہ) مجھے زہری سے معلوم ہوا فرمایا کہ یہ بنوخزاعۃ والے ہیں جو میرے اہل میں سے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے نام دستاویز لکھی تو وہ عرفات اور مکہ کے درمیان ٹھہرے ہوئے تھے اور مسلمان نہ ہوئے تھے اور یہ لوگ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حلیف تھے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11456- عن زكريا بن أبي زائدة قال: كنت مع أبي إسحاق فيما بين مكة والمدينة فسايرنا رجل من خزاعة فقال له أبو إسحاق: كيف قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد رعدت هذه السحابة بنصر بني كعب؟ فقال الخزاعي لقد تنصلت بنصر بني كعب، ثم أخرج إلينا رسالة رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى خزاعة، ونائبها يومئذ كان فيها: بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله إلى بديل وبسر وسروات بني عمرو، فإني أحمد إليكم الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد ذلكم فإني لم اثم بالكم ولم أضع في جنبكم،وإن أكرم أهل تهامة عندي أنتم واقربه رحما، ومن تبعكم من المطيبين، وإني قد أخذت لمن هاجر منكم مثل ما أخذت لنفسي ولو هاجر بأرضه غير ساكن مكة إلا حاجا أو معتمرا، وإني لم أضع فيكم إن أسلمتم فإنكم غير خائفين من قبلي ولا محصرين، أما بعد فإنه قد أسلم علقمة بن علاثة وابن هودة وهاجرا وبايعا على من اتبعهما من عكرمة وأخذا لمن اتبعهما مثل ما أخذا لأنفسهما وإن بعضنا من بعض في الحلال والحرام، وإني والله ما كذبتكم وليحيكم ربكم، قال: وبلغني عن الزهري قال: هؤلاء خزاعة وهم من أهلي فكتب إليهم النبي صلى الله عليه وسلم وهم يومئذ نزول بين عرفات ومكة لم يسلموا حيث كتب إليهم وقد كانوا حلفاء النبي صلى الله عليه وآله وسلم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11453 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے حضرت خالد بن یزین بن ابی مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ مسلمان جابیہ کے مقام پر ٹھہرے ہوئے تھے ان میں حضرت عمر (رض) بھی تھے ، تو ذمیوں میں سے ایک شخص ان کے پاس آیا اور بتلایا کہ لوگ اس کے انگوروں کے باغ کو تباہ کررہے ہیں، چنانچہ حضرت عمر (رض) نکلے ہی تھے کہ انھیں ایک شخص ملا اپنے ساتھیوں میں سے جو انگوروں کے گچھے اٹھائے ہوئے تھا، اس کو دیکھ کر حضرت عمر (رض) نے پوچھا کیا تو بھی ؟ اس نے عرض کیا، اے امیر المومنین ہم بہت بھوکے تھے، تو حضرت عمر (رض) واپس تشریف لے گئے اور باغ والے کو انگوروں کی قیمت ادا کی “۔ (ابوعبید)
11457- "مسند عمر رضي الله" عنه عن خالد بن يزيد بن أبي مالك عن أبيه قال: كان المسلمون بالجابية وفيهم عمر بن الخطاب فأتاه رجل من أهل الذمة يخبره ان الناس قد أسرعوا في عنبه فخرج عمر حتى لقي رجلا من أصحابه يحمل ترسا عليه عنب، فقال له عمر: وأنت أيضا، فقال يا أمير المؤمنين أصابتنا مجاعة فانصرف عمر وأمر لصاحب الكرم بقيمة عنبه. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11454 ۔۔۔ حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اہل ذر سے برات ظاہر کردولشکر کی تکلیف سے۔
11458- عن حكيم بن عمير أن عمر بن الخطاب تبرأ إلى أهل الذمة من معرة الجيش. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11455 ۔۔۔ حضرت سوید بن غفلہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) شام آئے ، تو اہل کتاب میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اے امیر المومنین ، مومنوں میں سے ایک شخص نے میرا یہ حال کیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں (اس شخص کا سر بھی پھٹا ہوا تھا ، اور پٹائی بھی لگی ہوئی تھی) حضرت عمر (رض) کو سخت غصہ آیا پھر حضرت صہیب (رض) سے فرمایا اور دیکھو اس کا حشر کس نے کیا ہے، حضرت صہیب (رض) گئے تو دیکھا کہ وہ حضرت عوف بن مالک الاشجعی (رض) تھے، حضرت صہیب (رض) نے فرمایا کہ امیرالمومنین تم سے سخت ناراض ہیں اور غصے میں ہیں لہٰذا حضرت معاذ بن جبل (رض) کے پاس جاؤ اور بات کرلو کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں حضرت عمر (رض) تمہارے بارے میں جلدی نہ کریں سو جب حضرت معاذ کے پاس آکر تفصیل بتا رہے تھے، پھر حضرت معاذ (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے امیرالمومنین وہ عوف بن مالک ہیں ان سے صفائی سن لیجئے اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کیجئے ، حضرت عمر (رض) نے دریافت فرمایا کہ تیرا اور اس کا کیا قصہ ہے، حضرت عوف (رض) نے عرض کیا اے امیر المومنین میں نے اس شخص کو دیکھا کہ ایک مسلمان عورت کو پکڑ کرلئے جارہا ہے اور ماررہا ہے تاکہ اس کو بچھاڑ دے، پھر اس نے اس عورت کو بچھاڑا نہیں بلکہ دھکادے دیا وہ گرپڑی تو اس نے اس عورت کو ڈھانپ لیا یا اس پر حاوی ہوگیا حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس عورت کو لاؤ تاکہ تمہاری بات کی تصدیق کردے، حضرت عوف (رض) اس عورت کے پاس پہنچے تو اس کے والد اور شوہر نے کہا کہ ہم جائیں گے اور تیری بات پہنچائیں گے، چنانچہ وہ دونوں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عوف (رض) کی بات کی تائید کی چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس یہودی کو پھانسی دینے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ اس بات پر تم سے صلح نہیں کی، پھر فرمایا اے لوگو ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمے میں اللہ سے ڈرو، سو اگر ان میں سے کسی نے ایسی حرکت کی تو اس کا کوئی حصہ نہیں، حضرت سوید (رض) فرماتے ہیں کہ یہی پہلا یہودی شخص ہے جسے میں نے اسلام میں پھانسی دیتے ہوئے دیکھا “۔ (ابوعبید ، سنن کبری بیھقی)
11459- عن سويد بن غفلة قال: لما قدم عمر الشام قام إليه رجل من أهل الكتاب، فقال: يا أمير المؤمنين إن رجلا من المؤمنين صنع بي ما ترى، قال: وهو مشجوج مضروب، فغضب عمر غضبا شديدا، ثم قال لصهيب: انطلق وانظر من صاحبه فائتني به، فانطلق صهيب فإذا هو عوف بن مالك الأشجعي، فقال: إن أمير المؤمنين قد غضب عليك غضبا شديدا فائت معاذ بن جبل فليكلمه فإني أخاف أن يعجل إليك، فلما قضى عمر الصلاة قال: أين صهيب أجئت بالرجل؟ قال: نعم وقد كان عوف أتى معاذا فأخبره بقصته، فقام معاذ فقال: يا أمير المؤمنين إنه عوف ابن مالك فاسمع منه ولا تعجل إليه، فقال له عمر: مالك ولهذا؟ قال: يا أمير المؤمنين رأيت هذا يسوق بامرأة مسلمة عل حمار فنخس بها ليصرع بها، فلم يصرع بها فدفعها فصرعت فغشيها أو أكب عليها، فقال: له ائتني بالمرأة فلتصدق ما قلت، فأتاها عوف، فقال له أبوها وزوجها: ما أردت إلى صاحبتنا؟ قد فضحتنا، فقالت: والله لأذهبن معه، فقال أبوها وزوجها: نحن نذهب فنبلغ عنك، فأتيا عمر فأخبراه بمثل قول عوف وأمر عمر باليهودي فصلب، وقال: ما على هذا صالحناكم، ثم قال: أيها الناس اتقوا الله في ذمة محمد، فمن فعل منهم هذا فلا ذمة له، قال سويد: فذلك اليهودي أول مصلوب رأيته في الإسلام. "أبو عبيد هق كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمیوں کے احکام
11456 ۔۔۔ حضرت ضحرۃ بن حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ذمیوں کا نام رکھو کنیت نہ رکھو، ان کو ذلیل کرو (سمجھو) اور ان پر ظلم نہ کرو اور جب تم اور وہ کسی راستے پر اکٹھے ہوجائیں تو انھیں تنگ حصے کی طرف کردو “۔
11460- عن ضمرة بن حبيب قال: قال عمر بن الخطاب: في أهل الذمة سموهم، ولا تكنوهم، وأذلوهم، ولا تظلموهم، وإذا جمعتكم وإياهم طريق فألجئوهم إلى أضيقها. "كر".
tahqiq

তাহকীক: