কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৪২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11417 ۔۔۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) جب کسی کو گورنر بناتے تو اس کا مال لکھ لیتے “۔ (ابن سعد)
11421- عن الشعبي أن عمر كان إذا استعمل عاملا كتب ماله. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11418 ۔۔۔ حضرت اسلم سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ مشرکوں کی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا اور حکم دیا کہ جو لوگ استرا استعمال کرسکتے ہیں ان کو قتل کردینا “۔ (ابن زنجویہ)
11422- عن أسلم أن عمر بن الخطاب إلى عماله ينهاهم عن قتل النساء والصبيان من المشركين، ويأمرهم بقتل من جرت عليهم الموسى منهم. "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11419 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ کسی زخمی کو فورا مت مارو، اور نہ کسی قیدی کو قتل کرو اور نہ کسی پیچھے رہنے والے کا پیچھا کرو “۔ (مسند شافعی ، مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، متفق علیہ)
11423- عن علي قال: لا يذفف على جريح، ولا يقتل أسير ولا يتبع مدبر. "الشافعي عب ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں احتیاط کرنا
11420 ۔۔۔ قبیلہ بنواسد کی ایک خاتون سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ جب حضرت علی (رض) کے جنگ جمل سے فارغ ہونے کے بعد سنا حضرت عمر (رض) فرما رہے تھے کہ کسی آگے بڑھنے والے کو قتل نہ کرنا اور نہ کسی پیچھے رہنے والے کو اور کسی زخمی کو فورا قتل نہ کرنا اور کسی گھر میں داخل نہ ہونا اور جس نے اسلحہ پھینک دیا تو وہ محفوظ ہے اور جس نے اپنا دروازہ بند کرلیا وہ بھی محفوظ ہے “۔ (مصنف عبدالرازق)
11424- عن امرأة من بني أسد قالت: سمعت عمارا بعد ما فرغ علي من أصحاب الجمل ينادي: لا تقتلوا مقبلا ولا مدبرا ولا تذففوا على جريح ولا تدخلوا دارا، ومن ألقى السلاح فهو آمن ومن أغلق بابه فهو آمن. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں احتیاط کرنا
11421 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کو بھیجتے مشرکین کی طرف تو۔ فرماتے کہ ” چل پڑو اللہ کے نام کے ساتھ اور پھر حدیث ذکر کی اور اس میں یہ بھی ہے کہ فرمایا کہ ” کسی چھوٹے بچے کو قتل نہ کرنا نہ کسی عورت کسی بوڑھے کو “۔ (اور کسی درخت کو بھی نہ کاٹنا) ۔ علاوہ اس درخت کے جس سے تمہاری جنگ میں رکاوٹ ہو یا جو تمہارے اور مشرکین کے درمیان حائل ہو، اور کسی آدمی کا مثلہ نہ کرنا اور نہ کسی جانور کا، اور غداری بھی نہ کرنا اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرنا “۔ (سنن کبری بیھقی)
11425- عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا بعث جيشا من المسلمين إلى المشركين قال: انطلقوا بسم الله فذكر الحديث وفيه لا تقتلوا وليدا طفلا ولا امرأة ولا شيخا كبيرا، ولا تغورن عينا ولا تعقرن شجرا إلا شجر يمنعكم قتالا أو يحجز بينكم وبين المشركين، ولا تمثلوا بآدمي ولا بهيمة ولا تغدروا ولا تغلوا. "هق" قال: إسناده ضعيف إلا أنه يتقوى بشواهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں احتیاط کرنا
11422 ۔۔۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لات ، وعزیٰ کی طرف ایک لشکر بھیجا تو انھوں نے عربوں کے ایک محلے پر حملہ کیا اور ان کے لڑاکوں اور اولادوں کو گرفتار کرلیا، تو انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! انھوں نے ہمیں بغیر دعوت دیئے حملہ کردیا، تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دستے والوں سے دریافت فرمایا ؟ انھوں نے اس بات کی تصدیق کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان کو ان کے ٹھکانوں کی طرف لوٹا دو ، اور پھر دعوت دو “۔ (الی رشد)
11426- بعث النبي صلى الله عليه وسلم إلى اللات والعزى بعثا فأغاروا على حي من العرب فسبوا مقاتلتهم وذريتهم، فقالوا: يا رسول الله أغاروا علينا بغير دعاء، فسأل النبي صلى الله عليه وسلم أهل السرية؟ فصدقوهم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ردوهم إلى مأمنهم، ثم ادعوهم. "الحارث" وفيه الواقدي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں احتیاط کرنا
11423 ۔۔۔ حضرت یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کو لکھا کہ میں نے آپ کو لکھا تھا کہ آپ تین دن تک لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں، اگر کوئی قتال سے پہلے آپ کی بات مان لے تو وہ بھی مسلمانوں میں سے ایک شخص ہے اس کے لیے بھی وہ سب کچھ ہے جو مسلمانوں کے لیے ہے اور اسلام میں اس کا حصہ ہے، اور اگر کوئی آپ کی دعوت کو قتال کے بعد قبول کرے یا شکست کے بعد قبول کرے تو مسلمانوں کے مال فے میں سے اس کے لیے کچھ نہیں کیونکہ مسلمان اس مال کو اس کے اسلام سے پہلے ہی جمع کرچکے ہیں سو یہی میرا حکم ہے آپ کی طرف “۔ (ابوعبید)
11427- عن يزيد بن أبي حبيب قال: كتب عمر بن الخطاب إلى سعد بن أبي وقاص، إني قد كنت كتبت إليك أن تدعو الناس إلى الإسلام ثلاثة أيام، فمن استجاب لك قبل القتال فهو رجل من المسلمين، له ما للمسلمين، وله سهم في الإسلام، ومن استجاب لك بعد القتال أو بعد الهزيمة فما له فيء للمسلمين، لأنهم كانوا قد أحرزوه قبل إسلامه فهذا أمري وكتابي إليك. "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں احتیاط کرنا
11424 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نمائندہ بنا کر بھیجا، پھر ایک شخص سے فرمایا کہ علی کے پیچھے جاؤ اور پیچھے سے ان کی حفاظت نہ چھوڑنا اور ان سے کہنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو حکم دیتے ہیں آپ میرا انتظار کیجئے گا اور یہ بھی کہنا کہ کسی قوم سے اس وقت تک قتال نہ کرنا جب تک ان کو دعوت نہ دے دو “۔ (ابن راھویہ)
11428- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم بعثه وجها ثم قال لرجل: الحقه ولا تدعه من خلفه، فقل: إن النبي صلى الله عليه وسلم يأمرك أن تنتظره، وقل له: لا تقاتل قوما حتى تدعوهم. "ابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں احتیاط کرنا
11425 ۔۔۔ حضرت بریدۃ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی امیر کو کسی دستہ یا لشکر کی طرف روانہ فرماتے تو ان کو وصیت فرماتے اور فرماتے کہ جب اپنے مشرک دشمن سے ملوتو اسے تین میں سے ایک بات کی دعوت دو ، اگر وہ ان میں سے ایک بات کو بھی مان لیں تو اس سے ہاتھ روک لینا اور قبول کرلینا، انھیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ مان لیں تو قبول کرلیں اور ان سے ہاتھ روک لینا، پھر انھیں اپنا گھر بار چھوڑ کر مہاجرین کے علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دینا اور انھیں بتا دینا کہ اگر انھوں نے اس بات کو مان لیا تو ان کے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جو مہاجرین کے لیے ہے اور اگر وہ انکار علاقوں میں ہی رہیں تو انھیں بتا دینا کہ وہ عرب مسلمانوں کی طرح ہوں گے ان پر بھی اللہ کا حکم اسی طرح نافذ ہوگا جس طرح اور مسلمانوں پر نافذ ہوتا ہے لیکن مال غنیمت اور مال فے میں سے ان کو اس وقت تک حصہ نہ ملے گا جب تک وہ مسلمانوں کاشانہ بشانہ جہاد نہ کرلیں ، اگر وہ انکار کریں تو ان کو جزیہ دینے کی طرف بلانا اگر وہ مان لیں تو قبول کرلیں اور اگر انکار کردیں تو اللہ سے مدد مانگنا اور ان سے قتال کرنا “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11429- عن بريدة: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث أميرا إلى سرية أو جيش أوصاه فقال: إذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال فأيتهن أجابوك فكف عنهم، واقبل منهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، فإن أجابوك فاقبل منهم، فكف عنهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين، وأعلمهم أنهم إن فعلوا ذلك أن لهم ما للمهاجرين، وإن أبو واختاروا دارهم فأخبرهم أنهم يكونون كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين، ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة نصيب، إلا أن يجاهدوا مع المسلمين، فإن أبوا فادعهم إلى إعطاء الجزية، فإن أجابوا فاقبل منهم، وإن أبوا فاستعن بالله وقاتلهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11426 ۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرو اور جو اللہ کے ساتھ کرنے کے اس کے ساتھ جہاد کرو اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور مثلہ نہ کرنا، کسی بچے کو قتل نہ کرنا اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں سے ملوتو ان کو تین باتوں کی دعوت دینا، ان میں سے جو بھی وہ مان لیں تو تم بھی قبول کرلینا اور ان سے ہاتھ روک لینا ، انھیں اسلام کی دعوت دینا، سو اگر وہ اس سے انکار کر دین تو ان کو بتا دینا کہ ان کا حکم بھی دیگر مسلمانوں کی طرح ہوگا ان پر بھی اللہ کا حکم اسی طرح نافذ ہوگا جس طرح دیگر مسلمانوں پر نافذہوتا ہے، اور جب تک وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں گے، غنیمت اور فے میں سے ان کو حصہ نہ ملے گا اگر وہ اس سے انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کرنا اگر وہ مان لیں تو قبول کرنا چاہیں تو ان کو اللہ اور رسول اللہ اور ذمہ قبول کرنا چاہیں تو ان کو اللہ اور رسول کا ذمہ نہ دینا، بلکہ ان کو اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا، کیونکہ اگر تم اپنے ساتھیوں کے ذمہ کی وعدہ خلافی کروگے تو یہ آسان ہوگا بسنت اس کے کہ تم بےوفائی کرو اللہ اور اس کے رسول کے ذمے کی، اور اگر تم کسی قلعے کا محاصرہ کرو اور اھل قلعہ یہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر امان دو تو انھیں اللہ کے حکم پر امان نہ دو بلکہ ان کو اپنے حکم پر امان دو ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس معاملے میں تم اللہ کا حکم پورا کرسکتے ہو یا نہیں (مسندالشافعی، مسنداحمد، مسلم ، ابوداؤد، تزمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، ابن الجارود، طحاوی، ابن حبان اور سنن کبری بیھقی)
11430- عن بريدة اغزوا بسم الله في سبيل الله، وقاتلوا من كفر بالله ولا تغلوا ولا تغدروا، ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا، وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى ثلاث خصال فأيتهن أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم، ثم ادعهم إلى الإسلام فإن أجابوك فاقبل منهم، وكف عنهم، ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين، وأخبرهم أنهم إن فعلوا ذلك فلهم ما للمهاجرين وعليهم ما على المهاجرين، فإن أبوا أن يتحولوا منها فأخبرهم أنهم يكونون كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي يجري على المؤمنين، ولا يكون لهم في الغنيمة والفيء شيء إلا أن يجاهدوا مع المسلمين، فإن هم أبوا فسلهم الجزية فإن هم أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم، فإن هم أبوا فاستعن بالله وقاتلهم، وإذا حاصرت أهل حصن وأرادوك أن تجعل لهم ذمة الله وذمة نبيه، فلا تجعل لهم ذمة الله ولا ذمة نبيه، ولكن اجعل لهم ذمتك وذمة أصحابك، فإنكم إن تخفروا ذممكم وذمم أصحابكم أهون من أن تخفروا ذمة الله وذمة رسوله،فإذا حاصرت أهل الحصن فأرادوك أن تنزلهم على حكم الله فلا تنزلهم على حكم الله، ولكن أنزلهم على حكمك، فإنك لا تدري أتصيب حكم الله فيهم أم لا؟ "الشافعي حم م د ت ن هـ والدارمي وابن الجارود والطحاوي حب هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11427 ۔۔۔ سلیمان بن بریدۃ اپنے والد حضرت بریدۃ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیہاتی مسلمانوں کے بارے میں فرمایا کہ جب تک وہ ہمارے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں اس وقت تک ان کو غنیمت اور فے میں سے حصہ نہیں ملے گا “۔ (ابن النجار)
11431- عن سليمان بن بريدة عن أبيه بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في أعراب المسلمين: ليس لهم في الفيء والغنيمة شيء، إلا أن يجاهدوا مع المسلمين. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11428 ۔۔۔ فضل بن تمیم اپنے والد تمیم بن غیلان ابن سلمۃ الثقفی سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو سفیان بن حرب، حضرت مغیرۃ بن شعبہ اور ایک اور شخص انصاری یا حضرت خالد بن ولید (رض) کو روانہ فرمایا کہ ثقیف کی عبادت گاہوں کو توڑ دو ، عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم ان کی مسجدیں پھر کہاں بنائیں ؟ فرمایا کہ جہاں ان کی باطل عبادت گاہیں تھیں تاکہ اس جگہ سے بھی اللہ کی عبادت کی جائے جہاں سے نہ کی جاتی تھی “۔ (ابونعیم)
11432- عن الفضل بن تميم بن غيلان بن سلمة الثقفي عن أبيه تميم ابن غيلان، قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم أبا سفيان بن حرب والمغيرة بن شعبة ورجلا آخر إما أنصاري، وإما خالد بن الوليد، فأمرهم أن يكسروا طاغية ثقيف، قالوا: يا رسول الله أين نجعل مسجدهم؟ قال: حيث كانت طاغيتهم، كي يعبد الله حيث كان لا يعبد. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11429 ۔۔۔ حضرت جبیرین نفیر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ایک شخص حضرت ثوبان (رض) کے پاس سے گزرا، انھوں نے دریافت فرمایا کہ کہاں کا ارادہ ہے، عرض کیا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے جارہا ہوں فرمایا کہ جب دشمن سے سامنا ہو تو بزدلی نہ دکھانا، مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا ، کسی بوڑھے کو قتل نہ کرنا نہ کسی بچے کو، اس شخص نے پوچھا کہ آپ نے یہ باتیں کہاں سے سنی ہیں ، فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے “۔
11433- عن جبير بن نفير قال: مر رجل بثوبان، فقال: أين تريد؟ قال: أريد الغزو في سبيل الله، قال له: لا تجبن إذا لقيت،ولا تغلل إذا غنمت ولا تقتلن شيخا كبيرا ولا صبيا، فقال له الرجل: ممن سمعت هذا؟ قال: من رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11430 ۔۔۔ حضرت حنظلہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ہم مشرکین سے ایک جنگ کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کے ساتھ تھے تو ہم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو مقتول پڑی تھی ، بہت سے لوگ اس کے اردگرد جمع تھے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ جنگ کرنے والی نہ تھی پھر فرمایا کہ خالد بن ولید کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ نہ بچوں کو قتل کرے نہ مزدوروں کو “۔ (ابونعیم)
11434- عن حنظلة قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين غزا المشركين، فمررنا بامرأة مقتولة ذات خلق اجتمع الناس عليها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كانت هذه لتقاتل، ثم قال: إلحق خالد بن الوليد فقل له: لا تقتل ذرية ولا عسيفا. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11431 ۔۔۔ حضرت ابی البختری فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان فارسی (رض) ، فارس کے مشرکین سے جہاد کرنے لگے تو فرمایا کہ ٹھہرو یہاں تک کہ میں ان کو ان چیزوں کی دعوت دے دوں جیسے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت دیتے ہوئے سنا کرتا تھا، پھر ان کے پاس آئے اور فرمایا کہ میرا تعلق تمہاری قوم سے ہی ہے اور ان لوگوں نے جو مقام و مرتبہ مجھے دیا ہے تم وہ بھی دیکھ رہے ہو، اور ہم تمہیں اسلام کی طرف بلاتے ہیں اگر تم مسلمان ہوگئے تو تمہارے لیے بھی وہی کچھ ہوگا جیسا ہمارے لیے ہے اگر تم انکار کرو تو جزیہ دو اپنے ہاتھوں سے خود کر حقیر سمجھتے ہوئے اور اگر پھر بھی تم انکار کروگے تو ہم تم سے قتال کریں گے، انھوں نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا کہ حملہ کردوان پر “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11435- عن أبي البختري قال: لما غزا سلمان المشركين من أهل فارس قال: كفوا حتى أدعوهم كما كنت أسمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعوهم فأتاهم فقال: إني رجل منكم، وقد ترون منزلتي من هؤلاء القوم، وإنا ندعوكم إلى الإسلام، فإن أسلمتم فلكم مثل ما لنا، وعليكم مثل ما علينا، وإن أبيتم فأعطوا الجزية عن يد وأنتم صاغرون، وإن أبيتم قاتلناكم، فأبوا عليه، فقال للناس: انهدوا إليهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11432 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جنگ خبیر میں ایک شخص نے ایک عورت کو گرفتار کرلیا اور اپنے پیچھے بٹھالیا، اس عورت نے اس شخص سے تلوار چھیننے کی کوشش کی تو اس شخص نے اس عورت کو قتل کردیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کو دیکھا تو فرمایا کہ اسے کس نے قتل کیا ہے، صحابہ کرام (رض) نے واقعہ سے آگاہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کے قتل سے منع فرمادیا “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11436- عن ابن عباس قال: سبى رجل امرأة يوم خيبر فحملها خلفه فنازعته قائم سيفه فقتلها، فأبصرها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: من قتل هذه؟ فأخبروه فنهى عن قتل النساء. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتولین کو مثلہ کرنے کی ممانعت
11433 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابی عمر فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے تو دریافت فرمایا کہ اس کو کس نے قتل کیا ہے ؟ تو ایک شخص نے عرض کیا کہ میں اس کو اپنے پیچھے بٹھا کر لارہا تھا تو اس نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تو میں نے اس کو قتل کیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے دفن کا حکم دے دیا “۔ (ابن جریر)
11437- عن عبد الرحمن بن أبي عمرة أن النبي صلى الله عليه وسلم مر بامرأة مقتولة، فقال: من قتل هذه؟ فقال رجل: أنا أردفتها خلفي، فأرادت أن تقتلني فقتلها، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بدفنها. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بچوں کو قتل نہیں کیا گیا
11434 ۔۔۔ حضرت عطیۃ القرظی فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جن کو قتل کرنے کا حکم حضرت سعد بن معاذ (رض) نے جاری کردیا تھا، سو جب مجھے قتل کرنے کے لیے پکڑ کر لایا گیا تو لوگوں میں سے ایک شخص نے میرا ازار کھینچ لیا تو صحابہ کرام (رض) کی نظر میرے زیر ناف پڑگئی جہاں کچھ بال وغیرہ نہیں اگے تھے چنانچہ مجھے قیدیوں کے ساتھ لکھا گیا “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11438- عن عطية القرظي قال: كنت في الذين حكم فيهم سعد بن معاذ فقدمت لأقتل، فانتزع رجل من القوم إزاري فرأوني لم أنبت الشعر فألقيت في السبي. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بچوں کو قتل نہیں کیا گیا
11435 ۔۔۔ حضرت ثعلبہ (رض) الخشنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا “۔
11439- عن أبي ثعلبة الخشني قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتل النساء والولدان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگ میں بچوں کو قتل نہیں کیا گیا
11436 ۔۔۔ حضرت ابولدرداء (رض) فرماتے ہیں مجھے میرے پیارے دوست ابوالقاسم (جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی کنیت ہے (نے) وصیت فرمایا کہ جنگ سے نہ بھاگنا خواہ ہلاک ہی کیوں نہ ہوجاؤ “۔ (ابن جریر)
11440- عن أبي الدرداء قال: أوصاني خليلي أبو القاسم صلى الله عليه وسلم، فقال: لا تفر من الزحف وإن هلكت. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: