কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৪০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11397 ۔۔۔ حضرت عطاء سے مروی ہے فرمایا کہ جنگ خندق کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگ ایسا کہتے ہیں اور ایسا کرتے ہیں اور ایسے ایسے ارادے ہیں تو جاسوس نے (جاکر ان دشمنوں ) کو خبر دی تو انھیں شکست ہوگئی، حالانکہ اس نے جھوٹ نہیں کہا تھا بلکہ اسی بات کو سوالیہ انداز سے کہا کہ کیا انھوں نے ایسا کیا ؟ اور کیا انھوں نے ایسا ایسا کیا ؟ “(ابن جریر)
11401 عن عطاء أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الخندق قالوا : كذا ،
وفعلوا كذا ، وصنعوا كذا ، فذهب العين فأخبرهم فهزموا ولم يكذب ولكن قال : افعلوا كذا ؟ اصنعوا كذا ؟ استفهام.
(ابن جرير).
وفعلوا كذا ، وصنعوا كذا ، فذهب العين فأخبرهم فهزموا ولم يكذب ولكن قال : افعلوا كذا ؟ اصنعوا كذا ؟ استفهام.
(ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11398 ۔۔۔ حضرت عروۃ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام میں ایک شخص تھا جن کا نام مسعود تھا اور وہ ادھر کی بات ادھر لگانے میں ماہر تھا، سو جنگ خندق کے دن بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت ابوسفیان (رض) کے پاس ایک شخص کو بھیجا کہ ہمارے پاس ایک ایسا شخص بھیجئے جو ہمارے قلعوں میں رہے حتی کہ ہم محمد سے مدینہ کی طرف سے قتال کریں اور آپ خندق کی طرف سے یہ بات جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناگوار گزاری کہ دو جانب سے قتال کریں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسعود (رض) سے فرمایا کہ اے مسعود ! ہم نے نبوقریظہ والوں کے پاس ایک بندہ بھیجا ہے کہ ابوسفیان کے پاس نمائندہ بھیج کر مددگار منگوالیں اور جب ابوسفیان کے مددگار بنوقریظہ کے یہودیوں کے پاس پہنچیں گے تو بنوقریظہ والے انھیں قتل کردیں گے، مسعود کا یہ سننا تھا کہ وہ برداشت نہ کرسکا اور جاکر ابو سفیان کو ساری بات سنادی تو حضرت ابوسفیان (رض) نے فرمایا کہ سچ کہا، خدا کی قسم محمد نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، اور جب بنوقریظہ والے ابوسفیان کے پاس مددگار مانگنے آئے تو ابوسفیان نے کوئی آدمی ان کے ساتھ نہ بھیجا “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
فائدہ :۔۔۔ یہ جنگ خندق کا واقعہ ہے جو مکہ کے مشرکین کے ساتھ لڑی گئی، اس وقت تک حضرت ابوسفیان (رض) مسلمان نہیں ہوئے تھے دوسری طرف مدینہ کے یہود تھے ان کے ساتھ اگرچہ مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا تھا لیکن وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتے تھے اور پھر غزوہ خندق کا موقع جس میں مسلمانوں کی شکست بظاہر واضح تھی، جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب یہودیوں کی اس سازش کا علم ہوا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ کے مسلمانوں کو تہس نہس کردیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگی حکمت عملی کے طور پر یہودیوں کی چال کا جواب دیتے ہوئے اپنا منصوبہ مسعود نامی شخص کے سامنے بیان کردیا جولائی بجھائی میں ماہر تھا یعنی ادھر کی ادھر لگاکر لڑائی جھگڑے کرواتا تھا چنانچہ یہ منصوبہ سن کر اس سے رہا نہ گیا اور اس نے جاکر حضرت ابوسفیان (رض) کو اطلاع دے دی ، وہ یہ سمجھے کہ یہ یہود مدینہ مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور انھوں نے کفار مکہ کو قتل کرنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کی ہے۔ لہٰذا جب بنوقریظہ کے یہودی اپنے منصوبہ کے تحت حضرت ابوسفیان مانگنے آئے تو انھوں نے انکار کردیا یہودیوں کا منصوبہ دھرارہ گیا، زیادہ تفصیل کے لیے کتب سیر کا مطالعہ مستند عالم کی زیر نگرانی مفید ہوگا، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یہ جنگ خندق کا واقعہ ہے جو مکہ کے مشرکین کے ساتھ لڑی گئی، اس وقت تک حضرت ابوسفیان (رض) مسلمان نہیں ہوئے تھے دوسری طرف مدینہ کے یہود تھے ان کے ساتھ اگرچہ مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا تھا لیکن وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا چاہتے تھے اور پھر غزوہ خندق کا موقع جس میں مسلمانوں کی شکست بظاہر واضح تھی، جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب یہودیوں کی اس سازش کا علم ہوا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مدینہ کے مسلمانوں کو تہس نہس کردیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگی حکمت عملی کے طور پر یہودیوں کی چال کا جواب دیتے ہوئے اپنا منصوبہ مسعود نامی شخص کے سامنے بیان کردیا جولائی بجھائی میں ماہر تھا یعنی ادھر کی ادھر لگاکر لڑائی جھگڑے کرواتا تھا چنانچہ یہ منصوبہ سن کر اس سے رہا نہ گیا اور اس نے جاکر حضرت ابوسفیان (رض) کو اطلاع دے دی ، وہ یہ سمجھے کہ یہ یہود مدینہ مسلمانوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور انھوں نے کفار مکہ کو قتل کرنے کے لیے مسلمانوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کی ہے۔ لہٰذا جب بنوقریظہ کے یہودی اپنے منصوبہ کے تحت حضرت ابوسفیان مانگنے آئے تو انھوں نے انکار کردیا یہودیوں کا منصوبہ دھرارہ گیا، زیادہ تفصیل کے لیے کتب سیر کا مطالعہ مستند عالم کی زیر نگرانی مفید ہوگا، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11402 عن عروة قال : كان في أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل يقال له مسعود وكان نماما فلما كان يوم الخندق بعث أهل قريظة إلى أبي سفيان أن ابعث الينا رجلا يكون في آطمنا حتى نقاتل محمدا مما يلي المدينة وتقاتل أنت مما يلي الخندق ، فشق ذلك على النبي صلى الله عليه وسلم أن يقاتل من وجهين فقال لمسعود : يا مسعود إنا نحن بعثنا إلى بني قريظة أن يرسلوا إلى أبي سفيان فيرسل إليهم رجالا فإذا أتوهم قتلوهم ، قال فما عدا أن سمع ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم فما تمالك حتى أتى أبا سفيان فأخبره ، فقال : صدق والله محمد ما كذب قط فلم يبعث إليهم أحدا.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11399 ۔۔۔ حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر پر نکلے تو کثرت سے اللہ تعالیٰ سے عافیت بہت کثرت سے مانگتے ہیں حالانکہ ہمم دو بھلائیوں کے درمیان ہیں یا تو ہماری فتح ہوگی یا ہم شہید ہوجائیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے اس چیز سے ڈرتا ہوں جو ان دونوں کے درمیان ہے یعنی شکست “۔ (ابن جریر)
11403 عن سعيد بن جبير قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سافر يكثر أن يسأل الله العافية ، فقال له بعض أصحابه : يا نبي الله تكثر أن تسأل الله العافية ؟ ونحن بين خيرتين : إما أن يفتح علينا ، وإما أن نستشهد ، فقال : أخشى عليكم ما بين ذلك يعني الهزيمة.
(ابن جرير).
(ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11400 ۔۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے فرمایا کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی میں ان پر حملہ نہ کرو ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ کای تو ان سب کو قتل کرنا چاہتا ہے اور بات کو ناپسند کیا اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانا، تو حضرت حسن بھی اس چیز کو ناپسند فرمایا کرتے تھے کہ کوئی شخص صف سے آگے بڑھے اس حدیث کی وجہ دے “۔ (ابن جریر)
11404 عن الحسن أن رجلا قال : يا نبي الله ألا أحمل عليهم ؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم : لا ، أتريد أن تقتلهم كلهم ؟ فكره ذلك وقال : اجلس حتى تنهض مع أصحابك ، فكان الحسن يكره أن يبادر الرجل في الصف من أجل هذا الحديث.(ابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11401 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ نعم بن مسعود (رض) نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! میں مسلمان ہوگیا ہوں لیکن میری قوم کو میرے اسلام کا علم نہیں ہے سو مجھے جو چاہیں حکم فرمائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو ہمارے ہاں ایک شخص کی طرح ہے سو اگر چاہے تو ان کو دھوکا دے کیونکہ جنگ تو ہے ہی دھوکا “۔ (العسکری فی الامثال)
11405 عن عائشة قالت : إن نعيم بن مسعود قال : يا نبي الله إني أسلمت ولم أعلم قومي باسلامي ، فمرني بما شئت ، فقال : إنما أنت فينا كرجل واحد ، فخادع إن شئت فان الحرب خدعة.
(العسكري في الامثال).
(العسكري في الامثال).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے احکام کا باب
فصل۔۔۔ مختلف احکام کے بارے میں
فصل۔۔۔ مختلف احکام کے بارے میں
11402 ۔۔۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی مسند سے یحییٰ بن سعید روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابوبکر (رض)
نے شام کی طرف لشکر بھیجا اور یزید بن ابی سفیان کو اس کا امیر بنایا اور ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، یزید بن ابی سفیان نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے عرض کیا کہ یا تو آپ سوار ہوجائیں یا میں اتر جاؤں ، فرمایا نہ ہی میں سوار ہونے والا ہوں اور نہ تم اترنے والے ہو میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستے میں گن رہا ہوں، عن قریب تم ایک ایسی قوم سے ملنے والے ہو جن کا یہ خیال ہے کہ انھوں نے خود کو گرجوں میں بند کر رکھا ہے سو ان کو اور ان کے خیالات کو وہیں رہنے دو ، اور عنقریب تم ایک ایسی سے ملو گے جنہوں نے اپنے سروں کے بیچ میں سے بالوں کو کھود رکھا ہے اور ان میں سے پیٹیوں کی طرح کچھ باقی چھوڑا رکھا ہے سو ماروان کے ان حصوں کو تلواروں سے، اور میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں کسی عورت کو قتل نہ کرنا ورنہ کسی بچے کو اور نہ ہی کسی بوڑھے کھوسٹ کو ، اور کسی پھل دار درخت کو بھی نہ کاٹنا اور نہ کسی کھجور کے درخت کو اور نہ جلانا، اور نہ کسی آبادی کو تباہ کرنا، اور نہ کسی گائے بکری وغیرہ کو کھانے کے علاوہ مارنا، اور نہ بزدلی کا مظاہرہ کرنا اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرنا “۔ (مالک ، عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن کبری بیھقی)
نے شام کی طرف لشکر بھیجا اور یزید بن ابی سفیان کو اس کا امیر بنایا اور ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، یزید بن ابی سفیان نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے عرض کیا کہ یا تو آپ سوار ہوجائیں یا میں اتر جاؤں ، فرمایا نہ ہی میں سوار ہونے والا ہوں اور نہ تم اترنے والے ہو میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستے میں گن رہا ہوں، عن قریب تم ایک ایسی قوم سے ملنے والے ہو جن کا یہ خیال ہے کہ انھوں نے خود کو گرجوں میں بند کر رکھا ہے سو ان کو اور ان کے خیالات کو وہیں رہنے دو ، اور عنقریب تم ایک ایسی سے ملو گے جنہوں نے اپنے سروں کے بیچ میں سے بالوں کو کھود رکھا ہے اور ان میں سے پیٹیوں کی طرح کچھ باقی چھوڑا رکھا ہے سو ماروان کے ان حصوں کو تلواروں سے، اور میں تمہیں دس باتوں کی وصیت کرتا ہوں کسی عورت کو قتل نہ کرنا ورنہ کسی بچے کو اور نہ ہی کسی بوڑھے کھوسٹ کو ، اور کسی پھل دار درخت کو بھی نہ کاٹنا اور نہ کسی کھجور کے درخت کو اور نہ جلانا، اور نہ کسی آبادی کو تباہ کرنا، اور نہ کسی گائے بکری وغیرہ کو کھانے کے علاوہ مارنا، اور نہ بزدلی کا مظاہرہ کرنا اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرنا “۔ (مالک ، عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، سنن کبری بیھقی)
11406 (مسند الصديق رضي الله عنه) عن يحيى بن سعيد أن أبا بكر الصديق بعث الجيوش إلى الشام ، وبعث يزيد بن أبي سفيان أميرا فقال له وهو يمشي : إما أن تركب ، وإما أن أنزل ، قال أبو بكر : ما أنا براكب ، وما أنت بنازل ، إني احتسب خطاي هذه في سبيل الله ، إنك ستجد قوما زعموا أنهم حبسوا أنفسهم في الصوامع فدعهم وما زعموا ، وستجد قوما قد فحصوا عن أوساط رؤسهم من الشعر ، وتركوا منها أمثال العصائب ، فاضربوا ما فحصوا عنها بالسيف ، وإني موصيك بعشر : لا تقتلن امرأة ولا صبيا ، ولا كبيرا هرما ، ولا تقطعن شجرا مثمرا ، ولا نخلا ولا تحرقها ، ولا تخربن عامرا ولا تعقرن شاة ولا بقرة إلا لمأكلة ، ولا تجبنن ، ولا تغلل.
(مالك عب ش هق)
(مالك عب ش هق)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد کے احکام کا باب
فصل۔۔۔ مختلف احکام کے بارے میں
فصل۔۔۔ مختلف احکام کے بارے میں
11403 ۔۔۔ حضرت ثابت بن الحجاج الکلابی روایت کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا کہ سنو ! گرجے میں موجودراھب کو نہ قتل کیا جائے “۔ (منصف ابن ابی شیبہ)
1407 عن ثابت بن الحجاج الكلابي قال : قام أبو بكر في الناس ، فحمد الله وأثنى عليه ، ثم قال : ألا لا يقتل الراهب الذي في الصومعة.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے ساتھ پیدل چلنا
11404 ۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب سے مروی ہے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی طرف لشکر بھیجا تو بزید بن ابی سفیان ، عمرو بن العاص اور شرجیل بن حسنۃ (رض) جب سوار ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) لشکر کے امراء کے ساتھ ساتھ ان کو رخصت کرنے کے لیے چلنے لگے اور ثنیۃ الوادع تک آپہنچے ، تو لوگوں نے عرض کیا، اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ! آپ پیدل چل رہے ہیں اور ہم سوار ہیں ؟ فرمایا کہ میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستے میں گن رہا ہوں ، پھر انھیں وصیت کرنے لگے سو فرمایا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا، اور قتال کرو ان سے جو اللہ سے کفر کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرنے والے ہیں، اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا غداری نہ کرنا، بزدلی نہ کرنا اور زمین میں فساد نہ کرنا اور جو تمہیں حکم دیا جائے اس میں نافرمانی نہ کرنا، اور جب مشرکین دشمنوں سے سامنا ہوجائے انشاء اللہ تو انھیں تین چیزوں کی دعوت دینا اگر وہ مثبت جواب دیں تو قبول کرلینا اور ان سے رک جانا اور (اس صورت میں) انھیں کفر کی سر زمین سے مسلمانوں کی سرزمین کی طرف ہجرت کرنے کا کہنا اگر وہ کرلیں تو ان کو بتانا کہ تمہارے لیے بھی وہی سہولتیں ہیں جو مہاجرین پر ہیں ، اور اگر وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور اپنے گھر بار چھوڑ کر مہاجرین کے علاقے میں آجائیں تو انھیں بتادو کہ ان کا حکم بھی دیگر عرب مسلمانوں کا سا ہے ان پر بھی اللہ کا حکم اسی طرح نافذ العمل ہوگا جو مومنوں پر ہے اور ان کے لیے مال فے اور مال غنیمت میں سے کوئی چیز نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ مل کر جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام قبول سے انکار کریں تو ان سے جزیہ طلب کرنا اگر وہ قبول کرلیں تو تم بھی قبول کرلینا اور ان سے اپنے ہاتھوں کو روک لینا اور اگر وہ انکار کریں تو ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگو اور ان کے ساتھ قتال کرو انشاء اللہ ، اور کسی درخت کو نہ کاٹنا نہ جلانا اور کسی جانور کو نہ کاٹنا اور نہ کسی پھل دار درخت کو کاٹنا، کسی گرجے کو نہ گرانا بچوں کو قتل نہ کرنا اور نہ بزرگوں اور نہ عورتوں کو اور تم عنقریب ایسی قوم سے ملوگے جنہوں نے خود کو گرجوں میں بند کررکھا ہے سو ان کو اور ان کے خیالات کو چھوڑ دینا ، اور تمہیں ایک قوم ایسی بھی ملے گی جنہوں نے شیطان کے لیے اپنے سروں میں جگہ بنا رکھی ہے جب ایسے لوگ تمہیں ملیں تو ان کی گردنیں اڑادو انشاء اللہ “۔ (سنن کبری بیھقی)
11408- عن سعيد بن المسيب أن أبا بكر لما بعث الجنود نحو الشام، أمر يزيد بن أبي سفيان وعمرو بن العاص وشرحبيل بن حسنة، قال: لما ركبوا مشى أبو بكر مع أمراء جنوده يودعهم حتى بلغ ثنية الوداع، فقالوا: يا خليفة رسول الله أتمشي ونحن ركبان؟ إني أحتسب خطاي هذه في سبيل الله، ثم جعل يوصيهم، فقال: أوصيكم بتقوى الله، اغزوا في سبيل الله، فقاتلوا من كفر بالله، فإن الله ناصر دينه، ولا تغلوا ولا تغدروا ولا تجبنوا ولا تفسدوا في الأرض، ولا تعصوا ما تؤمرون فإذا لقيتم العدو من المشركين إن شاء الله فادعوهم إلى ثلاث، فإن هم أجابوكم فاقبلوا منهم، وكفوا عنهم، ثم ادعوهم إلى الإسلام فإن هم أجابوكم فاقبلوا منهم وكفوا عنهم ثم ادعوهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين، فإن هم فعلوا فأخبروهم أن لهم مثل ما للمهاجرين، وعليهم ما على المهاجرين، وإن هم دخلوا في الإسلام واختاروا دارهم على دار المهاجرين، فأخبروهم أنهم كأعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي فرض على المؤمنين، وليس لهم في الفيء والغنائم شيء، حتى يجاهدوا مع المسلمين فإن هم أبوا أن يدخلوا في الإسلام فادعوهم إلى الجزية، فإن هم فعلوا فاقبلوا منهم وكفوا عنهم، وإن هم أبوا فاستعينوا بالله عليهم، فقاتلوهم إن شاء الله، ولا تغرقن نخلا ولا تحرقنها، ولا تعقروا بهيمة ولا شجرة تثمر، ولا تهدموا بيعة، ولا تقتلوا الولدان ولا الشيوخ ولا النساء، وستجدون أقواما حبسوا أنفسهم في الصوامع فدعوهم وما حبسوا أنفسهم له، وستجدون آخرين اتخذوا للشيطان في أوساط رؤسهم أفحاصا، فإذا وجدتموهم أولئك فاضربوا أعناقهم إن شاء الله". "هق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے ساتھ پیدل چلنا
11405 ۔۔۔ ابواسحق کہتے ہیں کہ صالح بن کسی ان نے مجھ سے بیان کیا فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو شام بھیجا تو وصیت کرتے ہوئے ان کے ساتھ چلنے لگے اور یزید سوار تھے اور حضرت ابوبکر صدیق اللہ عنہ چل رہے تھے تو یزید نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ کے خلیفہ ! یا تو آپ سوار ہوجائیں یا میں اترنا ہوں تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ نہ تو تو اترے گا اور نہ میں سوار ہوں گا ، میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستے میں گن رہا ہوں ، اے یزید ! تم عنقریب ایسے شہروں میں پہنچوگے، جہاں تمہیں طرح طرح کے کھانے دیئے جائیں گے تو ان میں سے پہلے پر بھی اللہ کا نام لینا اور آخری پر بھی اور تم عنقریب ایسی قوموں کو پاؤگے جنہوں نے خود کو گرجوں میں بند کررکھا ہے سو ان کو اور ان کے مقاصد وہیں چھوڑ دینا جن کے لیے وہ گرجوں میں بند ہوئے ہیں، اور تم اس قوم سے بھی ملوگے کہ شیطان نے ان کے سروں میں اپنے بیٹھنے کے لیے جگہیں بنا رکھی ہیں یعنی چھتریاں سو ایسی گردنوں کو کاٹ ڈالوں، اور بڈھے کھوسٹ کو قتل نہ کرنا نہ عورتوں کو نہ بچوں کو نہ بیماروں کو اور نہ راھبوں کو ، آبادیوں کو تباہ نہ کرنا اور نہ بلا ضرورت کسی درخت کو کاٹنا، اور نہ بلاضرورت کسی جانور کو کاٹنا، اور کھجور کے کسی درخت کو بھی نہ کاٹنا اور نہ انھیں ضائع کرنا، اور ڈھانہ باندھنا، اور نہ بزدلی دکھانا، مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور یقیناً ضرور بالضرور اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے غیب سے اس کی جو اس (اللہ) کی اور اس کے رسول مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ طاقت والا اور زبردست ہے اور میں ، تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم پر سلامتی ہو، پھر ابوبکر صدیق (رض) واپس روانہ ہوگئے “۔ (سنن کبری بیھقی)
11409- عن أبي إسحاق: حدثني صالح بن كيسان قال: لما بعث أبو بكر يزيد بن أبي سفيان إلى الشام خرج أبو بكر معه يوصيه ويزيد راكب، وأبو بكر يمشي، فقال يزيد: يا خليفة رسول الله إما أن تركب وإما أن أنزل، فقال: ما أنت بنازل وما أنا براكب، إني أحتسب خطاي هذه في سبيل الله، يا يزيد إنكم ستقدمون بلادا تؤتون فيها بأصناف من الطعام، فسموا الله على أولها، وسموه على آخرها، وإنكم ستجدون أقواما قد حبسوا أنفسهم في هذه الصوامع، فاتركوهم وما حبسوا له أنفسهم، وستجدون أقواما قد اتخذ الشيطان على رؤسهم مقاعد يعني الشمامسة فاضربوا تلك الأعناق، ولا تقتلوا كبيرا هرما ولا امرأة ولا وليدا ولا مريضا ولا راهبا، ولا تخربوا عمرانا ولا تقطعوا شجرة إلا لنفع، ولا تعقرن بهيمة إلا لنفع، ولا تحرقن نخلا ولا تغرقنه ولا تمثل ولا تجبن ولا تغلل ولينصرن الله من ينصره ورسله بالغيب إن الله قوي عزيز استودعك الله وأقرئك السلام ثم انصرف. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے ساتھ پیدل چلنا
11406 ۔۔۔ ابن شہاب زہری، حنظلۃ بن علی بن الاسقع سے اور وہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ (رض) جب حضرت خالد بن ولید (رض) کو لشکر دے کر بھیجا تو ان کو حکم فرمایا کہ پانچ باتوں پر لوگوں سے جنگ کرنا اور اگر کوئی ان پانچ میں سے کوئی ایک بات بھی چھوڑے تو اس سے ایسے ہی جنگ کرنا جیسے پانچوں چھوڑنے والے سے جنگ کی جائے گی۔ یعنی اگر وہ ان باتوں کا اقرار کریں کہ :
1 ۔۔۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ 2 ۔۔۔ اور نماز قائم کریں۔
3 ۔۔۔ اور زکوۃ ادا کریں۔ 4 ۔۔۔ اور رمضان کے روزے رکھیں گے۔
5 ۔۔۔ اور حج کریں گے “۔ (مسند احمد فی السنۃ)
فائدہ :۔۔۔ یعنی قتال اسی صورت میں ہوگا جب وہ لوگ ان پانچوں چیزوں کا یا ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کردیں (اور اگر) وہ ان پانچوں چیزوں کو قبول کرلیں تو قتال نہ ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
1 ۔۔۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ 2 ۔۔۔ اور نماز قائم کریں۔
3 ۔۔۔ اور زکوۃ ادا کریں۔ 4 ۔۔۔ اور رمضان کے روزے رکھیں گے۔
5 ۔۔۔ اور حج کریں گے “۔ (مسند احمد فی السنۃ)
فائدہ :۔۔۔ یعنی قتال اسی صورت میں ہوگا جب وہ لوگ ان پانچوں چیزوں کا یا ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار کردیں (اور اگر) وہ ان پانچوں چیزوں کو قبول کرلیں تو قتال نہ ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11410- عن ابن شهاب عن حنظلة بن علي بن الأسقع أن أبا بكر بعث خالد بن الوليد، وأمره أن يقاتل الناس على خمس، فمن ترك واحدة من الخمس يقاتله عليها كما يقاتل على الخمس: شهادة ألا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، والحج. "حم في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے ساتھ پیدل چلنا
11407 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو لشکر دے کر شام کی طرف روانہ فرمایا اور ان کے ساتھ پیدل تقریبا دومیل تک گئے، عرض کیا گیا کہ اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ۔ (اتنی تکلیف برداشت کرنے کے بجائے) اگر آپ واپس تشریف لے جائیں (تو بہتر نہ ہوگا ؟ ) تو آپ (رض) نے فرمایا کہ ” نہیں اس لیے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا فرمایا کہ جس کے دونوں پیر اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوگئے تو اللہ تعالیٰ ان کو آگ پر حرام کردیں گے، پھر جب ابوبکر صدیق (رض) واپس روانہ ہونے لگے تو لشکر میں کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور نافرمانی نہ کرنا ، اور نہ مال غنیمت میں خیانت کرنا، اور بزدلی نہ کرنا، اور نہ کسی گرجے کو منہدم کرنا اور نہ کسی درخت کو کاٹنا اور نہ کسی کھیتی کو جلانا اور نہ کسی جانور کو مارنا ، اور نہ کسی پھل دار درخت کو کاٹنا، اور نہ کسی بٖڈھے کھوسٹ کو قتل کرنا نہ بچے کو ، نہ چھوٹے کو اور نہ کسی عورت کو ، تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے جنہوں نے کو خود کو بند کررکھا ہوگا ان کو وہیں چھوڑدیں، اور تمہیں ایسے لوگ بھی ملیں گے کہ جن کے سروں میں شیطانوں نے اپنے بیٹھنے کے لیے جگہیں بنا رکھی ہیں سو ایسے لوگوں کی گردنیں اڑا دینا اور تم ایسے شہروں میں پہنچنے والے ہو جہاں صبح شام تمہارے پاس رنگ رنگ کے کھانے آئیں گے سو کوئی کھانا تمہارے پاس ایسا نہ آئے جس پر تم اللہ کا نام نہ لو اور کوئی کھانا تمہارے سامنے سے ایسا نہ اٹھایا جائے جس پر تم نے اللہ کی حمد نہ کی ہو۔ (ابن زنجویہ)
11411- عن ابن عمر أن أبا بكر الصديق بعث يزيد بن أبي سفيان إلى الشام، فمشى معهم نحوا من ميلين، فقيل له: يا خليفة رسول الله لو انصرفت، فقال: لا، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من اغبرت قدماه في سبيل الله حرمهما الله على النار، ثم بدا له في الإنصراف إلى المدينة، فقام في الجيش فقال: أوصيكم بتقوى، ولا تعصوا ولا تغلوا ولا تجبنوا، ولا تهدموا بيعة، ولا تغرقوا نخلا ولا تحرقوا زرعا، ولا تجسدوا بهيمة، ولا تقطعوا شجرة مثمرة، ولا تقتلوا شيخا كبيرا ولا صبيا ولا صغيرا ولا امرأة، وستجدون أقواما قد حبسوا أنفسهم في الصوامع فدعوهم وما حبسوا أنفسهم له، وستجدون أقواما قد اتخذت الشياطين من أوساط رؤسهم أفحاصا فاضربوا أعناقهم، وستردون بلدا تغدو وتروح عليهم فيه ألوان الطعام فلا يأتينكم لون إلا ذكرتم اسم الله عليه، ولا يرفع لون إلا حمدتم الله عليه. "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے ساتھ پیدل چلنا
11408 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے حضرت اسلم روایت کرتے ہیں، فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے لشکروں کے امراء کو لکھا کہ عورتوں اور بچوں پر جزیہ مقرر نہ کرنا اور نہ مردوں میں ان پر جزیہ مقرر کرنا جو استرا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ان کی گردنوں کو نشان زدہ کردو اور ان کے آگے کے بالوں کو کاٹ دینا جنہوں نے بال رکھے ہوں اور زنانیر ان پر لازم قرار دینا اور ان کو سوار ہونے سے منع کردینا ہاں البتہ سوار ہوسکتے ہیں اور اس طرح سوار نہ ہوں جس طرح مسلمان سوار ہوتے ہیں “۔ یعنی اسکوٹر پر خواتین کے بیٹھنے کی طرح گھوڑوں پر وہ بیٹھ سکتے ہیں۔ (عبدالرزاق، ابوعبید فی کتاب الامثال ابن زنجویھی، مصنف ابن ابی شیبہ ، متفق علیہ)
11412- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أسلم أن عمر بن الخطاب كتب إلى امراء الأجناد: أن لا تضربوا الجزية على النساء ولا على الصبيان وأن تضربوا الجزية على من جرت عليه الموسى من الرجال، وأن تحتموا في أعناقهم وتجزوا نواصيهم، من اتخذ منهم شعرا وتلزموهم المناطق يعني الزنانير، وتمنعوهم الركوب إلا على الأكف عرضا، ولا يركبوا كما يركب المسلمون. "عب وأبو عبيد في كتاب الأموال وابن زنجويه معا ش ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہدین کے ساتھ پیدل چلنا
11409 ۔۔۔ حضرت عمر بن قرہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا کہ وہ لوگ جو جہاد کرنے کے لیے اس مال (بیت المال) سے لیتے ہیں اور پھر مخالفت کرتے ہیں اور جہاد نہیں کرتے ، اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو ہم اس مال کے زیادہ حق دار ہیں کہ لے لیں اس سے وہ جو لیا ہے اس نے بیت المال سے “۔ (ابن ابی شیبہ حسن بن سفیان متفق علیہ)
11413- عن عمر بن قرة قال: جاءنا كتاب عمر بن الخطاب أن أناسا يأخذون من هذا المال ليجاهدوا في سبيل الله، ثم يخالفون ولا يجاهدون، فمن فعل ذلك منهم فنحن أحق بماله حتى نأخذ منه ما أخذ. "ش والحسن بن سفيان ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11410 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے لشکروں کے امراء کو لکھا کہ کسی
عورت کو قتل نہ کریں اور نہ کسی بچے کو اور صرف اسی کو قتل کریں جو استرا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو “۔ (ابن ابی شیبہ اور ابوعبید فی کتاب اور الاحوال بروایت ام المومنین حضرت ام سلمۃ (رض) )
فائدہ :۔۔۔ استرا استعمال کرنے کی صلاحیت سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص عمر کے لحاظ سے اس حد تک پہنچ چکا ہو کہ اگر استرا استعمال کرنا چاہے تو کرسکے یعنی بالغ ہوچکا ہو “۔ واللہ اعلم بالصواب
عورت کو قتل نہ کریں اور نہ کسی بچے کو اور صرف اسی کو قتل کریں جو استرا استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو “۔ (ابن ابی شیبہ اور ابوعبید فی کتاب اور الاحوال بروایت ام المومنین حضرت ام سلمۃ (رض) )
فائدہ :۔۔۔ استرا استعمال کرنے کی صلاحیت سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص عمر کے لحاظ سے اس حد تک پہنچ چکا ہو کہ اگر استرا استعمال کرنا چاہے تو کرسکے یعنی بالغ ہوچکا ہو “۔ واللہ اعلم بالصواب
11414- عن ابن عمر قال: كتب عمر إلى أمراء الأجناد: أن لا يقتلوا امرأة ولا صبيا، وأن لا يقتلوا إلا من جرت عليه الموسى. "ش" ورواه أبو عبيد في كتاب الأموال عن أم سلمة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11411 ۔۔۔ حضرت زید بن وھب (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط پہنچا کہ مال غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور نہ غداری کرنا اور نہ کسی ننھے بچے کو قتل کرنا اور کسانوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11415- عن زيد بن وهب قال: أتانا كتاب عمر: لا تغلوا ولا تغدروا ولا تقتلوا وليدا واتقوا الله في الفلاحين". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11412 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ کسانوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو اور ان کو قتل نہ کرنا ، البتہ اگر وہ تمہارے مقابلے پر آئیں تو قتل کرسکتے ہو۔ (متفق علیہ)
11416- عن عمر قال: اتقوا الله في الفلاحين فلا تقتلوهم إلا أن ينصبوا لكم الحرب. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11413 ۔۔۔ حضرت حکیم بن عمیر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے لشکروں کے امراء کو لکھا کہ دوران سفر اگر مہاجرین میں سے کچھ لوگوں کو ذمیوں کے علاقے میں رات ہوجائے اور وہ ان علاقوں میں رات نہ گزاریں تو ان کی کوئی ذمہ داری نہیں “۔ (ابوعبید فی الاموال ، متفق علیہ)
11417- عن حكيم بن عمير قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أمراء الأجناد أيما رفقة من المهاجرين آواهم الليل إلى قرية من قرى المعاهدين من المسافرين فلم يأتوهم فقد بالقرى فقد برئت منهم الذمة. "أبو عبيد في الأموال ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11414 ۔۔۔ حضرت عثمان النہدی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب کنواے شخص کو شادی شدہ کے مقابلے میں اور سوار کو پیدل کے مقابلے میں لڑنے کے لیے بھیجتے تھے۔ (ابن سعد)
11418- عن أبي عثمان النهدي أن عمر بن الخطاب كان يغزي الأعزب عن ذي الحليلة ويغزي الفارس عن القاعد. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11415 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن کعب (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نمازیوں کی نگرانی فرمایا کرتے تھے اور چھوٹے بچوں کو جنگوں پر لے جانے سے منع فرمایا کرتے تھے “۔ (ابن سعد)
11419- عن عبد الله بن كعب أن عمر بن الخطاب كان يعقب بين الغزاة وينهى أن تحمل الذرية إلى الثغور. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৪২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف قتال کے قابل لوگوں کو قتل کرنا
11416 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) اپنے گورنرون کو حکم فرمایا تو انھوں نے اپنے مال کی تفصیلات لکھ بھیجیں انہی میں حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بھی تھے، تو حضرت عمر (رض) نے مال کو آدھا آدھا تقسیم کرلیا اور آدھا خود لے لیا اور آدھا انہی کو عطا فرمادیا “۔ (ابن سعد)
11420- عن ابن عمر أن عمر أمر عماله فكتبوا أموالهم منهم سعد بن أبي وقاص، فشاطرهم عمر أموالهم، فأخذ نصفا وأعطاهم نصفا. "ابن سعد".
তাহকীক: