কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৩৮১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپسندیدہ گھوڑا
11377 ۔۔۔ امام زہری سے مروی ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں لوگ گھڑدوڑ کی شرطیں لگایا کرتے تھے اور سب سے پہلے اس میں حضرت عمر (رض) نے دیا “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11381 عن الزهري قال : كانوا يتراهنون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وأول من أعطى فيه عمر بن الخطاب.

(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپسندیدہ گھوڑا
11378 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے گھوڑے کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو جنوب کی ہوا سے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک مخلوق پیدا کرنے والا ہوں جسے میں اپنے دوستوں کے لیے اپنے دشمنوں کے لیے ذلت اور اپنے فرمان برداروں کے لیے جمال بناؤں گا، تو ہوا نے عرض کیا کہ تخلیق فرما دیجئے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس ہوا سے ایک مٹھی بھرلے کر گھوڑا پیدا فرمایا اور فرمایا کہ میں نے تجھے گھوڑا بنایا، اور تجھے عربی بنایا اور بھلائی کو تیری پیشانی کے ساتھ باندھ دیا اور غنارم کو تیری پشت پر جمع کردیا (اور تجھے) بغیر پروں کے اڑنے والا بنایا، سو تو طلب کے لیے ہے اور تو دوڑنے کے لیے ہے، اور عنقریب میں تیری پشت پر ایسے لوگوں کو سوارکروں گا تو میری پاکی اور تعریف بیان کریں گے اور میری تہلیل اور تکبیر بیان کریں گے ، سو جب فرشتوں نے یہ صفات اور گھوڑوں کی پیدائش کا سنا تو عرض کیا، اے ہمارے رب ! ہم آپ کے فرشتے ہیں، آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور آپ کی تعریف کرتے ہیں اور آپ کی تھلیل بیان کرتے ہیں تو پھر ہمیں کیا ہوا ؟۔ تو اللہ تعالیٰ نے سیاہ رنگ کا گھوڑا پیدا فرمایا ، اس کی گردن لمبی اونٹ کی مانند تھی انبیاء اور رسولوں میں سے جسے چاہے گا ممیز کرے گا، اور گھوڑے کو زمین پر بھیجا جب گھوڑے کے قدم زمین پر ٹک گئے تو اللہ نے اپنا دست قدرت گھوڑے کی پشت کی عیال پر پھیرا اور فرمایا کہ اپنی ہنہناہٹ سے مشرکوں کو ذلیل کردے، ان کے کان اپنی ہنہناہٹ سے بھردے، ان کی گردنیں جھکادے، ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور جب اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے پیش فرمائیں تو فرمایا کہ میری مخلوقات میں سے جس کو چاہو اختیار کرلو، حضرت آدم (علیہ السلام) نے گھوڑے کو اختار فرمایا تو ان سے کہا گیا کہ آپ نے اپنی اور اپنے بیٹے کی عزت کو ہمیشہ کے لیے اختیار فرمایا، باقی رہے گی جب تک وہ باقی رہیں گے گھوڑیاں حاملہ ہوتی ہیں اور پھر ان سے اولاد پیدا ہوتی رہے گی ہمیشہ ہمیشہ تمام زمانوں میں ، میری برکت پر اور ان پر ہے، میں نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو مجھے تجھ سے زیادہ محبوب ہو “۔ (حاکم فی تاریخیہ اور ثعلبی فی تفسیرہ اور دیلمی)
11382 عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لما أراد الله أن يخلق الخيل قال : لريح الجنوب إني خالق منك خلقا اجعله عزا لاوليائي ومذلة على أعدائي ، وجمالا لاهل طاعتي ، فقالت الريح : اخلق ، فقبض منها قبضة فخلق فرسا ، فقال : خلقتك فرسا ، وجعلتك عربيا ، وجعلت الخير معقودا بناصيتك ، والغنائم محتازة على ظهرك ، وجعلتك تطير بلا جناح ، فأنت للطلب ، وأنت للهرب ، وسأجعل على ظهرك ،رجالا يسبحوني ويحمدوني ويهللوني ويكبروني ، فلما سمعت الملائكة الصفة وخلق الفرس قالت الملائكة : يا رب نحن ملائكتك نسبح لك ونحمدك ونهللك فماذا لنا ؟ فخلق الله خيلا بلقا ، أعناقها كأعناق البخت يمد بها من يشاء من أنبيائه ورسله ، وأرسل الفرس في الارض ، فلما استوت قدماه على الارض مسح الرحمن بيده على عرف ظهره ، قال : أذل بصهيلك المشركين ، إملا منه آذانهم ، وأذل به أعناقهم وأرعب به قلوبهم ، فلما عرض الله على آدم من كل شئ ما خلقك ، قال له : اختر من خلقي ما شئت ، فاختار الفرس فقيل له : اخترت عزك وعز ولدك خالدا ما خلدوا ، وباقيا ما بقوا ، يلقح فينتج مه أولادا أبد الآبدين ، ودهر الداهرين ، بركتي عليك وعليهم ، ما خلقت خلقا أحب إلي منك.(ك في تاريخه والثعلبي في تفسيره والديلمي) وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وأعله بالحسن بن زيد بن الحسن بن علي بن أبي طالب ضعيف روى عن أبيه معضلات ومناكير قلت ذكره (حب) : في الثقات وهو والد السيدة نفسية وله شواهد تأتي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ مختلف آداب کے بیان میں
11379 ۔۔۔ مسند ابی بکر (رض) سے مروی ہے مدائنی فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق (رض) نے یزید بن ابی دفیان کو شام کی طرف بھیجا تو وصیت کی اور فرمایا کہ چلو اللہ کی برکت کے ساتھ سو جب دشمن کے شہر میں داخل ہوجاؤ تو حملے سے دور رہو، کیونکہ میں تمہارے بارے میں حملے سے بےخوف نہیں ہوں، زادراہ میں احتیاط کرو، وقار کے ساتھ چلو، کسی زخمی سے قتال نہ کر تو کیونکہ اس کا بعض اس کے ساتھ نہیں ہوتا۔ شب خون سے بچنے کے لیے پہرے دار کا اہتمام کرو کیونکہ عرب میں دھوکے بازی ہے ، باتیں بہت کم کرو کیونکہ تیرے لیے وہی ہے جو تجھ ست محفوظ رکھا جائے اور جب تیرے پاس میرا مکتوب تو اس کو نافذ کردے کیونکہ میں اس کے نفاذ کے مطابق ہی عمل کرتا ہوں ، اور جب عجمیوں کے وفود آئیں تو ان کو لشکر کے بڑے حصے میں ٹھہراؤ اور ان کو نفقہ دو ، اور لوگوں کو ان سے گفتگو سے منع کردو، تاکہ جاہل نکل جائیں ، اور سزا دینے میں جلدی نہ کرو اور جلدی ان کی طرف مت بڑھو اس کے علاوہ آپ کافی ہیں اور اعلانیہ لوگوں کے سامنے آ، اور تنہائی میں ان کو اللہ کے حوالے کردے اور لشکر میں تجسس سے کام نہ لے تو اس کو شرمندہ کردے گا اور نہ اس کو مہلت دے ورنہ اس کو خراب کردے گا اور میں تجھے اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں جو اپنی حفاظت میں موجودچیزوں کو ضائع نہیں کرتا “۔ (دینوری)
11383 (مسند أبي بكر رضي الله عنه) قال المدائني : إن أبا بكر الصديق أوصى يزيد بن أبي سفيان حين وجهه إلى الشام ، فقال : سر على بركة الله فإذا دخلت بلاد العدو فكن بعيدا من الحملة ، فاني لا آمن عليك الجولة ، واستظهر في الزاد ، وسر بالآدلاء ، ولا تقاتل بمجروح ، فان بعضه ليس معه ، واحترس من البيات ، فان في العرب غرة ، وأقلل من الكلام ، فانما لك ما وعي عنك ، فإذا أتاك كتابي فانفذه

فانما أعمل على حسب انفاذه ، وإذا قدمت وفود العجم فانزلهم معظم عسكرك ، واسبغ عليهم النفقة ، وامنع الناس من محادثتهم ليخرجوا جاهلين ولا تلجن في عقوبة ، ولا تسرعن إليها ، وأنت تكتفي بغيرها ، وأقبل من الناس علانيتهم ، وكلهم إلى الله في سرائرهم ، ولا تجسس عسكرك فتفضحه ، ولا تهمله فتفسده ، واستودعك الله الذي لا يضيع ودائعه.

(الدينوري).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ مختلف آداب کے بیان میں
11380 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جب تم دشمن کی سرزمین میں ہوتے ہو تو اپنے ناخن بڑھاؤ کیونکہ یہ بھی اسلحہ ہے “۔ (مسدد)
11384 عن عمر قال : وفروا أظفاركم في أرض العدو ، فانها سلاح.(مسدد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ مختلف آداب کے بیان میں
11381 ۔۔۔ حضرت حرام بن معاویہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے ہمیں بذریعہ خط حکم فرمایا کہ خنزیر تمہارے آس پاس بھی نہ آئیں ، اور نہ تم میں صلیب بلند کی جائے اور نہ کسی ایسے دسترخوان پر کھانا کھاؤ جہاں شراب پی جارہی ہو اور گھوڑوں کی تربیت کر اور دونشانوں کے بیچ میں چلو۔ (مصنف عبدالرزاق اور سنن کبری بیھقی)
11385 عن حرام بن معاوية قال : كتب إلينا عمر بن الخطاب أن لا يجاورنكم خنزير ، ولا يرفع فيكم صليب ، ولا تأكلوا على مائدة يشرب عليها الخمر وادبوا الخيل وامشوا بين الغرضين.(عب هب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ مختلف آداب کے بیان میں
11382 ۔۔۔ حضرت مکحول سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے اہل شام کی طرف لکھا کہ اپنی اولاد کو تیراکی ، تیراندازی اور گھڑ سواری سکھائیں۔ (القراب فی فضائل انرمی)
11386 عن مكحول أن عمر بن الخطاب كتب إلى أهل الشام أن علموا أولادكم السباحة والرمي والفروسية.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11383 ۔۔۔ حضرت زید بن حارثہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے شام کے امراء کو بذریعہ

حکم فرمایا کہ تیراندازی سیکھیں اور دونشانوں کے درمیان ننگے پیر چلو اور اپنی اولاد کو تحریر اور ترا کی سکھاؤ “ (مصنف عبد الرزاق)
11387 عن زيد بن حارثة أن عمر بن الخطاب كتب إلى امراء الشام أن يتعلموا الرمي ويمشوا بين الغرضين حفاة وعلموا أولادكم الكتابة والسباحة.(عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11384 ۔۔۔ حضرت کلیب (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) تک نہادند اور نعمان بن مقرن کی اطلاع پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ سے مدد کی دعا فرمانے لگے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11388 عن كليب قال : أبطأ على عمر خبر نهاوند وخبر النعمان بن مقرن فجعل يستنصر.(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৮৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11385 ۔۔۔ حضرت سعید بن جبیر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) ایک ایسی قوم کے پاس آئے جنہوں نے محاصرہ کررکھا تھا تو حکم دیا کہ روزے توڑدو۔ (مسدد)
11389 عن سعيد بن جبير أن عمر بن الخطاب جاء إلى قوم محاصرين فأمر أن يفطروا.(مسدد)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11386 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارکہ دوران جنگ یہ فرمانے کی تھی ” اے تمام بھلائی کے مالک “۔ (ابویعلی، سعید بن منصور)
22390 عن لي قال : كان شعار النبي صلى الله عليه وسلم : ياكل خير.

(ع ص كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11387 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارکہ سے جنگ کا نام ” دھوکا “ رکھوایا “۔ (مسند احمد، عبد الرزاق، ابن جریر اور دورقی)
11391 عن علي قال : إن الله تعالى سمى الحرب خدعة على لسان نبيه صلى الله عليه وسلم.(ط حم ع وابن جرير والدورقي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11388 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بسیسہ (رض) کو جاسوس بنا کر بھیجا “۔ (مسلم ابونعیم)
11392 عن أنس قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بسيسة عينا.

(م وأبو نعيم)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11389 ۔۔۔ حضرت ابولبابہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جنگ بدر کے دن جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ تم لوگ کسی قوم سے قتال کس طرح کرتے ہو جب ان سے سامنا ہوجائے تو حضرت عاصم بن ثابت (رض) کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یارسول اللہ ! جب دشمن ہم سے اتنی دور ہو کہ وہاں تک تیرہی پہنچ سکتا ہو جنگ تیراندازی سے ہوتی ہے، اور جب فاصلی اتنا کم ہوجاتا ہے آپس میں پتھروں سے جنگ ہوسکے تو پھر ایک دوسرے پر پتھراؤ ہوتا ہے۔ اور یہ کہہ کر ایک پتھر ہاتھ میں اور دوپتھرگود میں اٹھالئے (اور جب دشمن ہم) سے اتنا فریب ہوجاتا ہے کہ نیزے ایک دوسرے تک پہنچ سکیں تو پھر اس وقت تک آپس میں نیزے چلتے ہیں جب تک ٹوٹ نہ جائیں اور جب نیزے ٹوٹ جاتے ہیں تو تلواروں سے کاٹ چھانٹ شروع ہوتی ہے، تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ، جنگ اسی طرح نازل ہوئی ہے جو قتال کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ عاصم کے طریقے سے قتال کرے “۔ (طبرانی)
11393 عن أبي لبابة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم بدر كيف تقاتلون القوم ؟ إذا لقيتموهم ، فقام عصام بن ثابت ، فقال : يا رسول الله إذا كان القوم منا ينالهم النبل كانت المراماة بالنبل ، فإذا اقتربوا حتى تنالنا وإياهم الحجارة كانت المراضخة بالحجارة فاخذ ثلاثة أحجار حجرا في يده وحجرين في حجزته ، فإذا اقتربوا حتى تنالهم وإيانا الرماح كانت المداعسة بالرماح حتى تقصف فإذا تقصفت الرماح كان الجلاد بالسيوف ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هكذا نزلت الحرب من قاتل فليقاتل قتال عاصم.

(طب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیراندازی سیکھنے کا حکم
11390 ۔۔۔ حضرت سہل بن الحنظلیۃ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دستہ روانہ فرمایا جب دشمن سے سامنا ہوا تو قبیلہ بنوغفار کے ایک شخص نے حملہ کیا اور کہا کہ لو (میرے حملے کا جواب دو ) میں ایک غفاری نوجوان ہوں یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ اس کا اجر ضائع ہوگیا، یہ واقعہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں عرض کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سبحان اللہ ، کوئی حرج نہیں ؟ اور ایک روایت میں الفاظ یوں ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور اجر دیا جائے “۔ (مسند ابی یعلی)
11394 عن سهل بن الحنظلة قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فالتقوا هم والعدو فحمل رجل من بني غفار ، فقال خذها وأنا الفتنى الغفاري ، فقال رجل : بطل أجره ، فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال : سبحان الله لا بأس ، وفي لفظ : وما بأس أن يحمد ويؤجر (ع كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11391 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ میں سے ایک صحابی کو ایک یہودی کے قتل کا حکم دے کر روانہ فرمایا، صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جب تک آپ مجھے کچھ اجازت نہ دیں گے تو میں کچھ نہیں کرسکتا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنگ تو ہے ہی دھوکا جو چاہے کرو “۔ (ابن جریر)

فائدہ :۔۔۔ اجازت لینے سے مراد یہ ہے کہ حکمت علمی کے طور پر اس یہودی تک رسائی کے لیے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کچھ کہنا چاہوں تو کہہ سکتا ہوں یا نہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت مرحت فرمائی “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11395 عن ابن عباس قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من أصحابه إلى رجل من اليهود فأمره بقتله ، فقال له : يا رسول الله إني لا أستطيع ذلك إلا أن تأذن لي ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنما الحرب خدعة فاصنع ما تريد.

(ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11392 ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن عائد (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی دستہ روانہ فرماتے تو یہ فرمایا کرتے کہ لوگوں کے ساتھ الفت پیدا کرو، اور ان پر اس وقت تک حملہ نہ کرو جب تک ان کو دعوت نامہ نہ دے دو اس لیے کہ مجھے تمام اہل زمین کا خواہ وہ گھر میں رہنے والا ہو یا خیمہ میں مسلمان ہو کر آنا زیادہ پسند ہے بنسبت اس کے کہ تم ان کے مردوں کو قتل کردو اور عورتوں اور بچوں کو قیدی بنالاؤ۔ (ابن مندہ)
11396 عن عبد الرحمن بن عائذ قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث بعثا قال : تألفوا الناس ، ولا تغيروا عليهم حتى تدعوهم فما على الارض من أهل بيت ولا مدر ولا وبر إلا تأتوني بهم مسلمين أحب إلي من أن تأتوني بنسائهم وأولادهم وتقتلوا رجالهم.

(ابن منده كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11393 ۔۔۔ ابراھیم بن صابر الاشجعی اپنے والا سے اور وہ اپنی والدہ بنت نعیم بن مسعود سے اور وہ اپنے والد نعیم بن مسعود (رض) سے روایت کرتی ہیں فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دن مجھ سے فرمایا کہ ہماری مدد چھوڑنے پر اکساؤ کیونکہ جنگ تو ہے ہی دھوکا “۔ (ابن جریر)
11397 عن إبراهيم بن صابر الاشجعي عن أبيه عن أمه ابنة نعيم ابن مسعود عن أبيها ، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الخندق خذل عنا فان الحرب خدعة (ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11394 ۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ کا نام دھوکا رکھا “۔ (العسکری فی الامثال)
11398 عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم سمى الحرب خدعة.(العسكري في الامثال).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৯৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11395 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن المبارک ابوبکر بن عثمان سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامۃ (رض) کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہل اور عامر بن ربیعہ (رض) سے فرمایا کہ اے سہل بن حنیف اور اے عامر بن ربیعہ ہمارے لیے جاسوس بن کر نکلو “۔
11399 عن عبد الله بن المبارك عن أبي بكر بن عثمان قال : سمعت أبا أمامة حدث أن سهلا وعامر بن ربيعة قال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم : اخرج يا سهل بن حنيف ويا عامر بن ربيعة حتى تكونوا لنا عينا.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪০০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنگی چال اختیار کرنا جائز ہے
11396 ۔۔۔ حضرت عروۃ سے مروی ہے کہ بنوقریظہ سے جنگ کے دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنگ تو دھوکا ہے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11400 عن عروة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم قريظة : الحرب خدعه.

(ش).
tahqiq

তাহকীক: