কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৩৬১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چادر مبارک سے گھوڑے کی پشت صاف کرنا
11357 ۔۔۔ زھری فرماتے ہیں کہ مجھ سے حدیث بیان کی عطاء بن یزید نے کہ ان کو بعض صحابہ (رض) نے حدیث بیان کی فرمایا، عرض کیا گیا، یا رسول اللہ ! لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ فرمایا کہ جس نے اپنے نفس اور مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا، پھر عرض کیا، اس کے بعد کون ہے یارسول اللہ ؟ فرمایا کہ وہ مومن جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں رہے اللہ سے ڈرتا رہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھئے۔ (ابن ماجہ)
11361 عن الزهري حدثني عطاء بن يزيد أنه حدثه بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : قيل يا رسول الله : أي الناس أفضل ؟ قال : من جاهد بنفسه وماله في سبيل الله ، قالوا : ثم من يا رسول الله ؟ قال : مؤمن في شعب من الشعاب يتقي الله ويدع الناس من شره.(كر ه)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چادر مبارک سے گھوڑے کی پشت صاف کرنا
11358 ۔۔۔ مکحول سے مروی ہے فرمایا کہ لشکر کا ذرا سا گھبراجانا جنگ کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔
11362 عن مكحول قال : إن روعة البعوث روضة من رياض الجنة.(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چادر مبارک سے گھوڑے کی پشت صاف کرنا
11359 ۔۔۔ اور مکحول ہی سے مروی ہے فرمایا کہ لشکروں کے ذرا سے گھبراجانے سے جنت کے باغ خرید لو۔
فائدہ :۔۔۔ ذرا سے گھبراجانے کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ ذرا سے گھبراجانے کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11363 وعنه قال : اشتروا بروعات البعوث روضات الجنات.(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ آداب جہاد کے بیان میں
فصل۔۔۔ نیت کی سچائی کے بیان میں
فصل۔۔۔ نیت کی سچائی کے بیان میں
11360 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کی مسند سے مالک بن اوس بن الحدثان فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک ایسے معرکہ کے بارے میں گفتگو شروع ہوگئی جو حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں اللہ کے راستے میں لڑا گیا تھا، تو ایک کہنے والے نے کہا اللہ کے کارکن اللہ کے راستے میں ہیں، ان کا اجر اللہ کے ذمے ہے، اور ایک کہنے والے نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انھیں اسی حالت میں دوبارہ اٹھائیں گے جن میں ان کی وفات دی گئی تھی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ، ہاں، قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ ان کو ضرور ایسی حالت میں اٹھائیں گے جس حالت میں ان کو وفات دی تھی، بیشک کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دکھاوے اور شہرت کی خاطر قتال کرتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کی خاطر قتال کرتے ہیں اور ان میں سے ایسے ہوتے ہیں جن کو قتال کی لگام پہنائی جاتی ہے ان کو اس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ملتا ، اور بعض ایسے ہیں جو صبر کرتے ہوئے احتساب کی نیت سے قتال کرتے ہیں سو یہی ہیں شہداء، اس کے باوجود مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے یہ کہ میں یہ جانتا ہوں کہ اس قبر میں جو ہیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں جن کے پہلے تمام گناہ معاف کیے جاچکے ہیں “۔
11364 (مسند عمر رضي الله عنه) عن مالك بن أوس بن الحدثان قال : تحدثنا بيننا عن سرية أصيبت في سبيل الله على عهد عمر ، فقال قائلنا : عمال الله في سبيل الله ، وقع أجرهم على الله ، وقال قائلنا : يبعثهم الله على ما أماتهم عليه ، فقال عمر : أجل والذي نفسي بيده ليبعثهم الله على ما أماتهم عليه ، إن من الناس من يقاتل رياء وسمعت ، ومنهم من يقاتل ينوي الدنيا ، ومنهم من يلجمه القتال فلا يجد من ذلك بدا ، ومنهم من يقاتل صابرا محتسبا فأولئك هم الشهداء مع أنى لا أدري ما هو مفعول بي ولا بكم غير أني أعلم أن صاحب هذا القبر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم غفر له ما تقدم من ذنبه.
(تمام).
(تمام).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ آداب جہاد کے بیان میں
فصل۔۔۔ نیت کی سچائی کے بیان میں
فصل۔۔۔ نیت کی سچائی کے بیان میں
11361 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مردی ہے فرمایا کہ بیشک بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دکھاعے اور شہرت کی خاطر جہاد کرتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے کہ انھیں قتال ڈراتا ہے تو وہ اس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں پاتے ، اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ کی رضامندی کی کا خاطر قتال کرتے ہیں سو یہی شہید ہیں اور بیشک ہر نفس اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس حالت میں اس کی وفات ہوئی تھی “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11365 عن عمر قال : إن من الناس ناسا يقاتلون رياء وسمعة ، ومن الناس ناسا يقاتلون إذ رهبهم القتال فلم يجدوا غيره ، ومن الناس من يقاتل ابتغاء وجه الله فأولئك هم الشهداء ، وإن كل نفس تبعث على ما تموت عليه.
(عب).
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ آداب جہاد کے بیان میں
فصل۔۔۔ نیت کی سچائی کے بیان میں
فصل۔۔۔ نیت کی سچائی کے بیان میں
11362 ۔۔۔ حضرت مسروق سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے سامنے شہداء کا ذکر ہوا، تو حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا، اے امیر المومنین ! وہ جو ان جنگوں میں قتل ہوتے ہیں، تو اسی وقت حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس طرح تو تمہارے شہید بہت کم ہوجائیں گے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، بیشک یہادری اور بزدلی دوفطری حالتیں ہیں جو لوگوں میں گاڑھی (ودیعت فرمائی) گئی ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے جیسی چاہتا ہے عطا فرمایا دیتا ہے ، سو بہادر تو اس طرح جنگ لڑتا ہے کہ کوئی اس کو پروا نہیں ہوتی کہ وہ واپس اپنے گھر بھی پہنچ سکے گا یا نہیں اور بزدل تو اپنی بیوی سے بھی بھاگتا ہے ، لیکن شہید وہ ہے جو اپنے نفس کا احتساب کرے، اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور مسلمان وہ ہے جس کی زباں اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں “۔ (ابن ابی شیبہ)
11366 عن مسروق قال : إن الشهداء ذكروا عند عمر بن الخطاب فقال عمر للقوم : ما ترون الشهداء ؟ قال القوم : يا أمير المؤمنين هم من يقتل في هذه المغازي ، فقال عند ذلك : إن شهداءكم إذا لقليل ، إني أخبركم عن ذلك إن الشجاعة والجبن غرائز في الناس يضعها الله حيث يشاء ، فالشجاع يقاتل من وراء من لا يبالي أن يوؤب إلى أهله ، والجبان فار عن حليلته ، ولكن الشهيد من احتسب بنفسه ، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه ، والمسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں اخلاص نیت کی ضرورت
11363 ۔۔۔ ابوالبختری فرماتے ہیں کہ لوگ کوفہ میں ابوالمختار کے ساتھ تھے یعنی مختار بن ابی عبید کے والد کے ساتھ اس طرح کہ جسدابی عبید پر قتل ہوگیا تھا، سو دو آدمیوں کے علاوہ سب قتل ہوگئے اور انھیں بچنے کا موقع مل گیا وہ تین تھے سو وہ مدینہ منورہ آئے ، پھر حضرت عمر (رض) نکلے اور وہ لوگ بیٹھے انہی کا ذکر کررہے تھے حضرت عمر (رض) نے دریافت فرمایا کہ تم نے ان سے کیا کہا تھا ؟ عرض کیا کہ ہم نے ان کے لیے مغفرت مانگی اور دعا مانگی، فرمایا کہ یا تو تم لوگ وہ بات صاف صاف بتادوگے جو تم نے کہی ورنہ میری طرف سے سخت مشکل میں پڑ جاؤگے، انھوں نے عرض کیا کہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ وہ لوگ شہداء ہیں فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا قیامت بھی اس کے حکم سے قائم ہوگی کوئی زندہ انسان نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کسی مرنے والے کے لیے کیا ہے علاوہ اللہ کے نبی کے کیونکہ ان کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہوتے ہیں ، اور قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اور قیامت بی اس کے حکم سے قائم ہوگی بیشک ایک شخص دکھاوے کی نیت سے قتال کرتا ہے اور ایک شخص غیرت میں قتال کرتا ہے اور ایک شخص دنیا کے لیے قتال کرتا ہے اور ایک شخص مال کے لیے قتال کرتا ہے اور نہیں ہے ان لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں کچھ علاوہ ان نیتوں کے جو وہ کرتے تھے “ (الحارث)
ابن حجر نے کہا ہے کہ اس کے روای ثقات ہیں مگر سند منقطع ہے۔
ابن حجر نے کہا ہے کہ اس کے روای ثقات ہیں مگر سند منقطع ہے۔
11367 عن أبي البحتري الطائي أن ناسا كانوا بالكوفة مع أبي المختار يعني والد المختار ابن أبي عبيد حيث قتل بجسر أبي عبيد قال : فقتلوا إلا رجلين حملا على العدو بأسيافهما فأفرجوا لهما فنجيا أو ثلاثة فاتوا المدينة ، فخرج عمر وهم قعود يذكرونهم ، فقال عمر : عم قلتم لهم ؟ قالوا : استغفرنا لهم ، ودعونا لهم ، قال : لتحدثني بما قلتم لهم أو لتلقون مني برحاء قالوا : إنا قلنا لهم : إنهم شهداء ، قال : والذي لا إله غيره والذي بعث محمدا بالحق لا تقوم الساعة إلا باذنه لا تعلم نفس حية ماذا عند الله لنفس ميتة إلا نبي الله ، فان الله غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ، والذي لا إله غيره والذي بعث محمدا بالحق والهدى ، لا تقوم الساعة إذا بانه إن الرجل يقاتل رياء ويقاتل حمية ويقاتل يريد الدنيا ويقاتل يريد المال ، وما للذين يقاتلون عند الله إلا ما في أنفسهم.
(الحارث)
قال الحافظ ابن حجر : رجاله ثقات إلا أنه منقطع.
(الحارث)
قال الحافظ ابن حجر : رجاله ثقات إلا أنه منقطع.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد میں اخلاص نیت کی ضرورت
11364 ۔۔۔ ابن ابی ذئب ، روایت کرتے ہیں قاسم بن عباس سے اور وہ بکیر بن عبداللہ الاشج سے اور وہ ابومکر زبامی شام کے ایک شخص سے اور وہ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے فرمایا کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ ! ایک شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنا چاہتا ہے، اور وہ دنیا کا مال مانگتا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے، لوگوں نے اس بات کو بہت برا سمجھا اور اس شخص سے کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس جاؤ شاید تو ٹھیک سمجھا نہ ہو، تو اس شخص نے کہا کہ یارسول اللہ ایک شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنا چاہتا ہے اور وہ دنیا کا بھی کچھ مال چاہتا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کے لیے کوئی اجر نہیں، تو لوگوں نے اس بات کو بہت برا سمجھا ، اور شخص سے کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس جاؤ، چنانچہ اس نے تیسری مرتبہ عرض کیا کہ ایک شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنا چاہتا ہے اور دنیا کے مال میں سے کچھ چاہتا ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔
11368 عن ابن أبي ذئب عن القاسم بن عباس عن بكير بن عبد الله الاشج عن أبي مكرز رجل من أهل الشام عن أبي هريرة أن رجلا قال : يا رسول الله رجل يريد الجهاد في سبيل الله وهو يبتغي عرضا من الدنيا ؟ فقال : لا أجر له ، فأعظم الناس ذلك ، فقالوا للرجل : عد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلعلك لم تفهمه ، فقال الرجل : يا رسول الله الرجل يريد الجهاد في سبيل الله وهو يبتغي من عرض الدنيا ؟ فقال : لا أجر له فأعظم ذلك الناس ، فقالوا للرجل : عد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال له الثالثت : رجل يريد الجهاد في سبيل الله ووهو يبتغي من عرض الدنيا ؟ فقال : لا أجر له.
(كر) وقال : قال ابن المديني أبو مكرز مجهول ، لم يرو عنه غير ابن الاضج ، والقاسم مجهول لم يرو عنه غير ابن أبي ذئب.
(كر) وقال : قال ابن المديني أبو مكرز مجهول ، لم يرو عنه غير ابن الاضج ، والقاسم مجهول لم يرو عنه غير ابن أبي ذئب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11365 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ تیر اندازی کرو، کیونکہ تیراندازی اور قوت دکھانے کا موقع ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11369 عن عمر قال : ارموا فان ارمي عدة وجلادة.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11366 ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن عجلان سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) ایک ایسی قوم کے پاس سے گرزے جو تیراندازی کررہے تھے تو کسی نے کہا کہ تو نے برا کیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ برا لہجہ بری تیر اندازی سے زیادہ برا ہے “۔ (ابن سعید)
11370 عن عبد الرحمن بن عجلان أن عمر بن الخطاب مر بقوم يرتمون ، فقال أحدهم : أسألت فقال عمر : سوء اللحن أسوأ من سوء الرمي (ابن سعد).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11367 ۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے اہل شام کو لکھا کہ اے لوگو ! تیراندازی کرو اور سوار ہوجاؤ، اور تیراندازی مجھے سوار ہونے سے زیادہ پسند ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے جنت میں داخل فرمائیں گے اس کو جس نے اس کے راستے میں کام کیا اور جس نے اللہ کے راستے میں طاقت پہنچائی “۔ (القراب فی فضل الرمی)
11371 عن حيفة قال : كتب عمر إلى أهل الشام أيها الناس ارموا واركبوا ، والرمي أحب إلي من الركوب ، فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن الله يدخل بالسهم الواحد الجنة من عمله في سبيله ، ومن قوي به في سبيل الله.
(القراب في فضل الرمي).
(القراب في فضل الرمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11368 ۔۔۔ حضرت نزال بن سبرۃ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے ہماری طرف تین باتیں لکھ بھیجیں۔
1 ۔۔۔ ننگے پیر چلنا سیکھو اور چلو۔
2 ۔۔۔ تہبند (شلوار) کو ٹخنوں سے اوپر رکھو۔
3 ۔۔۔ اور تیراندازی سیکھو۔ (بکرابن بکاری فی جزئیہ)
1 ۔۔۔ ننگے پیر چلنا سیکھو اور چلو۔
2 ۔۔۔ تہبند (شلوار) کو ٹخنوں سے اوپر رکھو۔
3 ۔۔۔ اور تیراندازی سیکھو۔ (بکرابن بکاری فی جزئیہ)
11372 عن النزال بن سبرة قال : كتب الينا عمر بن الخطاب ثلاثا تعلموا المشي حفاة واحتلفوا وشمروا الازر ، وتعلموا الرمي.(بكر ابن بكرا في جزئه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11369 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ مبارک میں عربی کمان تھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں فارسی کمان ہے تو دریافت فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ اسے پھینک دو ، تمہارے لیے یہ اور اس جیسی دوسری چیزیں اور نیزے ضروری ہیں، کیونکہ صرف انہی سے اللہ تعالیٰ تمہارے دین میں اضافہ فرمائیں گے اور تمہیں شہروں میں ٹھکانا دیں گے “۔ (ابن ماجہ)
فائدہ :۔۔۔ یہ اور اس جیسی مراد عربی کمان اور دیگر چیزیں تیر نیزے وغیرہ ہیں اور شہروں میں ٹھکانا دینے سے مراد ہے کہ شہروں کو فتح کردیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یہ اور اس جیسی مراد عربی کمان اور دیگر چیزیں تیر نیزے وغیرہ ہیں اور شہروں میں ٹھکانا دینے سے مراد ہے کہ شہروں کو فتح کردیں گے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11373 عن علي قال : كان بيد النبي صلى الله عليه وسلم قوس عريبة فرأس رجلا بيده قوس فارسية ، فقال : ما هذه ؟ ألقها وعليكم بهذه وأشباهها ورماح القنا ، فانما يزيد الله لكم بها في الدين ، ويمكن لكم في البلاد.(ه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11370 ۔۔۔ حضرت ابی سجیح (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا، تو میں نے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ جس نے تیرچلایا اور وہ نشانے پر جاپہنچا تو وہ شخص جنت میں جائے گا، ایک شخص نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر میں نے تیرچلایا اور نشانے پر لگا تو مجھے درجہ ملے گا ؟ فرمایا ہاں حضرت ابو نجیح فرماتے ہیں کہ پھر اس شخص نے تیر چلایا اور نشانے پر لگا ، اور میں نے اس دن سولہ نشانے لگائے
11374 عن أبي نجيح السلمي قال : حاصرت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قصر الطائف ، فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من رمى بسهم فبلغه فله درجة في الجنة ، قال رجل : يا نبي الله إن رميت فبلغت فلى درجة ؟ قال : نعم ، قال : فرمى فبلغ ، قال : فبلغت يومئذ ستة عشر سهما.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11371 ۔۔۔ حضرت ابواسید الساعدی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جنگ بدر کے دن ہم نے صفیں باندھ لیں قریش سے مقابلہ کرنے کے لیے اور انھوں نے ہمارے مخالف صفیں باندھ لیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب وہ تمہیں گھیر لیں تو ان پر تیر چلاؤ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11375 عن أبي أسيد الساعدي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر حين صففنا لقريش : وصفوا لنا إذا أكثبوكم فارموهم بالنبل.(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11372 ۔۔۔ حضرت عتبہ بن عبید (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں قتال کا حکم فرمایا، تو ایک شخص نے دشمن پر تیر چلایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کون ہے یہ تیر چلانے والا تحقیق اس نے واجب کرلیا “۔ (ابن النجار)
11376 عن عتبة بن عبد قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقتال فرمى رجل منهم العدو ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : من صاحب هذا السهم فقد أوجب.
(ابن النجار).
(ابن النجار).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ تیر اندازی کے بیان میں
11373 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو موجود نہ پایا کہ فلاں شخص کہاں ہے ؟ تو کسی نے عرض کیا کہ کھیلنے گیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ہمارا کھیل سے کیا تعلق ؟ تو ایک شخص نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ تیزاندازی کرنے گیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیراندازی کھیل نہیں ہے بلکہ تیراندازی ان سب سے بہتر ہے جو تم کھیلتے ہو “۔ (دیلمی)
11377 عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم افتقد رجلا فقال : أين فلان ؟ فقال قائل : ذهب يلعب ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما لنا وللعب ؟ فقال رجل : يا رسول الله ذهب يرمي ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم :ليس الرمي بلعب ، الرمي خير ما لهوتم به.
(الديلمي).
(الديلمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ مقابلے اور دوڑ کے بیان میں
11374 ۔۔۔ مسند عمر ر (رض) سے حضرت نافع حضرت ابن عمر (رض) سے بیان فرماتے ہیں اور وہ حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑوں کا مقابلہ کروایا اور پتلے دبلے چھڑپڑے گھوڑے کو مسجد نبی زریف کی طرف بھیجا “۔ (ابوالحسن البکائی)
11378 (مسند عمر رضي الله عنه) عن نافع ، عن ابن عمر ، عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم سبق بين الخيل ، فأرسل الخيل الممرة إلى مسجد بني زريق.(أبو الحسن البكائي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৭৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ مقابلے اور دوڑ کے بیان میں
11375 ۔۔۔ عبداللہ بن میمون المرائی روایت کرتے ہیں عوف سے اور عوف حسن سے یا خلاس سے (ابن میمون کو شک ہوگیا)
اور وہ حضرت علی (رض) سے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (حضرت علی (رض)) سے فرمایا کہ اے علی میں لوگوں کے درمیان اس مقابلے کو آپ کے حوالے کرتا ہوں تو حضرت علی اللہ عنہ نکلے اور حضرت سراقۃ بن مالک (رض) کو بلایا اور فرمایا کہ اے سراقہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کام میرے ذمے لگایا وہ میں تمہارے ذمے لگاتا ہوں، سو جب تم میطار تک پہنچو۔ (ابوعبدالرحمن کہتے ہیں کہ میطار اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے گھڑ دوڑ شروع ہوتی ہے) تو گھوڑوں کی صفیں درست کرواؤ۔ پھر پکارو، کیا کوئی لگام تھامنے والا ہے ؟ کیا کوئی لڑکے کو اٹھانے والا ہے اور کیا کوئی جھول پھیکنے والا ہے ؟ سو اگر کوئی بھی تمہیں جواب نہ دے تو تین مرتبہ تکبیر کہو اور تیسری مرتبہ میں اک کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جسے چاہے گا اس دوڑ سے نیک بخت کرے گا، اور حضرت علی (رض) اس انتہاء پر تشریف فرماہوا کرتے تھے جہاں دوڑ ختم ہوتی ہے، اور ایک لکیر لگا کر دو آدمیوں کو آمنے سامنے لکیر کے دونوں کناروں پر کھڑا کردیتے تھے اس طرح کہ لکیر ان کے پیروں کے انگوٹھوں کے درمیان ہوتی ہے، اور گھوڑے ان دونوں کناروں کے بیچ میں دوڑتے حضرت علی (رض) ان دونوں آدمیوں سے کہتے، کہ جب کوئی سوار اپنے ساتھی کے گھوڑے کے کان کے کنارے سے یا کان سے یا باگ دوا سے آگے نکل جائے تو جیت کا انعام اس کے لیے مقرر کردینا ، اگر تمہیں شک ہو تو جیت کا انعام آدھا آدھا تقسیم کردینا، اور جب تم دو چیزوں کو ملاؤ تو انتہاء ان میں سے چھوٹی چیز کو بنانا ، اور اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ شعار “۔ (سنن کبری بیھقی)
اور وہ حضرت علی (رض) سے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (حضرت علی (رض)) سے فرمایا کہ اے علی میں لوگوں کے درمیان اس مقابلے کو آپ کے حوالے کرتا ہوں تو حضرت علی اللہ عنہ نکلے اور حضرت سراقۃ بن مالک (رض) کو بلایا اور فرمایا کہ اے سراقہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کام میرے ذمے لگایا وہ میں تمہارے ذمے لگاتا ہوں، سو جب تم میطار تک پہنچو۔ (ابوعبدالرحمن کہتے ہیں کہ میطار اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سے گھڑ دوڑ شروع ہوتی ہے) تو گھوڑوں کی صفیں درست کرواؤ۔ پھر پکارو، کیا کوئی لگام تھامنے والا ہے ؟ کیا کوئی لڑکے کو اٹھانے والا ہے اور کیا کوئی جھول پھیکنے والا ہے ؟ سو اگر کوئی بھی تمہیں جواب نہ دے تو تین مرتبہ تکبیر کہو اور تیسری مرتبہ میں اک کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے جسے چاہے گا اس دوڑ سے نیک بخت کرے گا، اور حضرت علی (رض) اس انتہاء پر تشریف فرماہوا کرتے تھے جہاں دوڑ ختم ہوتی ہے، اور ایک لکیر لگا کر دو آدمیوں کو آمنے سامنے لکیر کے دونوں کناروں پر کھڑا کردیتے تھے اس طرح کہ لکیر ان کے پیروں کے انگوٹھوں کے درمیان ہوتی ہے، اور گھوڑے ان دونوں کناروں کے بیچ میں دوڑتے حضرت علی (رض) ان دونوں آدمیوں سے کہتے، کہ جب کوئی سوار اپنے ساتھی کے گھوڑے کے کان کے کنارے سے یا کان سے یا باگ دوا سے آگے نکل جائے تو جیت کا انعام اس کے لیے مقرر کردینا ، اگر تمہیں شک ہو تو جیت کا انعام آدھا آدھا تقسیم کردینا، اور جب تم دو چیزوں کو ملاؤ تو انتہاء ان میں سے چھوٹی چیز کو بنانا ، اور اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ شعار “۔ (سنن کبری بیھقی)
11379 عن عبد الله بن ميمون المرائي عن عوف عن الحسن أو خلاس شك ابن ميمون عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له : يا علي قد جعلت اليك هذه السبقة بين الناس ، فخرج علي ودعا سراقة بن مالك ، فقال : يا سراقة إني قد جعلت اليك ما جعل النبي صلى الله عليه وسلم في عنقي من هذه السبقة في عنقك ، فإذا أتيت الميطار قال أبو عبد الرحمن : والميطار مرسلها من الغاية ، فصف الخيل ، ثم ناد هل مصل للجام ، أو حامل لغلام ، أو طارح لجل ؟ فإذا لم يجبك أحد فكبره ثلاثا ، ثم خلها عند الثالثة يسعد الله بسبقه من شاء من خلقه ، وكان علي يقعد عند منتهى الغاية ، ويخط خطا يقيم رجلين متقابلين عند طرف الخط طرفه بين إبهام أرجلهما ، وتمر الخيل بين الرجلين ، ويقول لهما : إذا خرج أحد الفرسين على
صاحبه بطرف أذنيه أو اذن أو عذاب ، فاجعلوا السبقة له فان شككتما فاجعلا سبقتهما نصفين ، فإذا قرنتم الشيئين فاجعلوا الغاية من غاية أصغر الشيئين ، ولا جلب ولا جنب ولا شغار في السلام.
(هق) وقال هذا اسناد ضعيف
صاحبه بطرف أذنيه أو اذن أو عذاب ، فاجعلوا السبقة له فان شككتما فاجعلا سبقتهما نصفين ، فإذا قرنتم الشيئين فاجعلوا الغاية من غاية أصغر الشيئين ، ولا جلب ولا جنب ولا شغار في السلام.
(هق) وقال هذا اسناد ضعيف
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৮০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ناپسندیدہ گھوڑا
11376 ۔۔۔ مسند ابوہریرہ (رض) میں ہے کہ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑوں میں سے ایسے گھوڑوں کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگیں ایک رنگ کی اور چوتھی ٹانگ باوی تین سے الگ کسی اور رنگ کی ہوتی تھی “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11380 (مسند أبي هريرة رضي الله عنه) كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره الشكال من الخيل.
(ش).
(ش).
তাহকীক: