কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৩৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11337 ۔۔۔ حضرت حمزۃ اسلمی سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں ایک مہینے کی مورچہ بندی بہتر ہے ہزار۔۔۔ کی عبادت سے “۔ (ابونعیم)
فائدہ :۔۔۔ ہزار کے بعد کتاب میں بھی جگہ خالی ہے سال ماہ کی تعین نہیں ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ ہزار کے بعد کتاب میں بھی جگہ خالی ہے سال ماہ کی تعین نہیں ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11341 عن حمزة الاسلمي قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : رباط شهر في سبيل الله خير من عبادة ألف.(أبو نعيم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11338 ۔۔۔ حضرت ربیع ابن زید سے مروی ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے جارہے تھے کہ اسی دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قریشی نوجوان کو دیکھا جو الگ ہٹ کر چل رہا تھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ فلاں نہیں ہے ؟ عرض کیا گیا جی ہاں فرمایا کہ اس کو بلاؤ، وہ آیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ کیا ہوا تمہیں راستے سے ہٹ کر چل رہے ہو ؟ تو اس نے عرض کیا کہ مجھے یہ غبار پسند نہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ، غبار سے الگ ہٹ کر نہ چل سو قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے وہ (یعنی غبار) تو جنت کی ایک قسم کی خوشبو ہے “۔ (دیلمی)
فائدہ :۔۔۔ روایت میں لفظ “ ذریرۃ “ جو ایک قسم کی خوشبو کو کہتے ہیں واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ روایت میں لفظ “ ذریرۃ “ جو ایک قسم کی خوشبو کو کہتے ہیں واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11342 عن ربيع بن زيد قال : بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يسر إذ أبصر شابا من قريش يسير معتزلا ، فقال : أليس ذلك فلان ؟ قالوا : نعم ، قال : فادعوه ، فجاء فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : ما لك اعتزلت عن الطريق ؟ فقال : كرهت الغبار ، فقال : لا تعتزله في الذي نفسي بيده إوه لذريرة الجنة.(الديلمي).
هو : نوع من الطيب.
هو : نوع من الطيب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11339 ۔۔۔ حضرت سلمۃ بن نفیل الحضرمی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے گھوڑے کو آزاد چھوڑ دیا ہے اور اسلحے کو رکھ دیا اور کہا کہ اب قتال نہیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اب ہی تو قتال کا وقت آیا ہے، میری امت میں سے ایک جماعت لوگوں پر غالب رہے گی، اللہ تعالیٰ ان سے قوموں کے دلوں ٹیڑھا کردیں گے سو وہ ان سے لڑیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ان سے رزق دیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچے اور وہ اسی حال پر ہوں، سنو ! مسلمانوں کے گھر کا درمیانی علاقہ شام ہے، اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں خبر بندھی ہوئی ہے قیامت تک “۔ (مسند احمد ، اور ابن جریر)
11343 عن سملة بن نفيل الحضرمي أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : إني سيب الخيل ، وألقيت السلاح ، وقلت : لا قتال ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : الآن جاء القتال ، لا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الناس يزيغ الله بهم قلوب أقوام فيقاتلونهم ، ويرزقهم الله منهم حتى يأتي أمر الله وهم على ذلك ، ألا إن عقر دار المؤمنين الشام ، والخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة.
(حم وابن جرير).
(حم وابن جرير).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11340 ۔۔۔ حضرت سلمۃ بن نفیل الحضرمی (رض) سے مروی ہے کہ ان کو ان کی قوم نے نمائندہ بنا کر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں بھیجا تھا، فرمایا کہ اس دوران کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اور میرا گھٹنا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک گٹھنے سے چھورہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رخ مبارک شامم کی طرف اور پشت مبارک یمن کی طرف تھی، کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور عرض کیا یارسول اللہ ! لوگوں نے گھوڑوں کو لاپروائی کی وجہ سے دبلا کردیا اور اسلحہ رکھ دیا اور یہ سمجھنے لگے کہ جنگ اپنے کیل کانٹے سے فارغ ہوگئی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ “ انھوں نے جھوٹ کہا بلکہ اب ہی تو قتال کا وقت آیا ہے میری امت میں سے ایک گروہ (اور ایک طریق میں ہے کہ) میری امت میں سے ایک قوم اللہ کے لیے قتال کرتی رہے گی ان سے اللہ تعالیٰ قوموں کے دل ٹیڑھے کردیں گے اور ان کی ان قوموں کی خلاف مدد کریں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے یا اللہ کا حکم آجائے، گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر قیامت تک بندھی ہوئی ہے اور یہی میری طرف وحی کیا گیا ہے کہ مجھے واپس بلایا جانے ولا ہے، بلاتاخیر اور تم اتباع کرنے والے ہو، ماریں گے تم میں سے بعض کی گردنیں اور مسلمانوں کے گھر کا درمیانی علاقہ شام ہے “۔
11344 عن سلمة بن نفيل الكندي وكان قومه بعثوه وافدا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم : قال : بينا أنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم تمس ركبتي ركبته مستقبل الشام بوجهه موليا إلى اليمن ظهره ، إذ أتاه رجل فقال : يا رسول الله أذال الناس الخيل ، ووضعوا السلاح ، وزعموا أن الحرب قد وضعت أوزارها ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كذبوا ، بل الآن جاء القتال ، لا تزال فرقة ، وفي لفظ : لا يزال قوم من أمتي يقاتلون عن أمر الله يزيغ الله بهم قلوب أقوام وينصرهم عليهم حتى تقوم الساعة أو حتى يأتي أمر الله ، الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة وهو يوحي إلي اني مقبوض غير ملبث وأنكم متبعي أفنادا يضرب بعضكم
رقاب بعض ، وعقر دار المؤمنين بالشام.
(كر).
رقاب بعض ، وعقر دار المؤمنين بالشام.
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11341 ۔۔۔ حضرت سلمۃ بن نفیل الحضری سے مروی ہے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فتح سے نوازا، تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور ان سے قریب ہوگیا یہاں تک کہ قریب تھا کہ میرے کپڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کپڑوں کو چھوجائیں، تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے گھوڑے کو آزاد چھوڑ دیا اور اسلحہ کو ایک طرف رکھ دیا اور انھوں نے کہا ہے کہ جنگ اپنے کیل کانٹے سے فارغ ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ انھوں نے جھوٹ کہا اب تو دوسرے قتال کا وقت آیا ہے اور پہلے کا بھی اللہ تعالیٰ قوموں کے دل ٹیڑھے کرتے رہیں گے اور تم ان سے قتال کرتے رہوگے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ان سے رزق دیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم اس پر آجائے اور اس دن مسلمانوں کے گھر کا درمیانی علاقہ شام ہوگا۔
11345 عن سلمة بن نفل الحضرمي ، قال : فتح الله عزوجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فتحا ، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فدنوت منه حتى كادت ثيابي تمس ثيابه ، فقلت : يا رسول الله سيبت الخيل ، وعطلت السلاح ، وقالوا : وضعت الحرب أوزارها ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كذبوا الآن جاء القتال الآخر والقتال الاول ، لا يزال الله يزيغ قلوب أقوام تقاتلونهم ، ويرزقكم الله منهم حتى يأتي أمر الله على ذلك وعقر دار المسلمين يومئذ بالشام.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11342 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جنگ تبوک کے دن جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں سے کوئی اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور لوگوں کے شر سے بچارہتا ہے، اور نہ اس شخص کی طرح کوئی ہوسکتا ہے جو اپنی بکریوں میں مصروف رہے، مہمان کی مہمان نوازی کرے اور اس کا حق ادا کرے “۔ (بیھقی فی شعب الایمان)
11346 عن ابن عباس قال : خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم تبوك فقال : ما من الناس رجل آخ ذ بعنان فرسه فيجاهد في سبيل الله ويجتنب شرور الناس ومثل رجل يأوي في غنمه يقري ضيفه ، ويؤدي حقه.
(هب).
(هب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11343 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جنگ میں لوگوں کی دوقسمیں ہیں سو ایک گروہ (قسم) تو وہ ہے جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اور اس کو یاد کرتے ہوئے نکلے ، اور چلنے میں فساد سے بچے اور ساتھی کے ساتھ آہستہ گفتگو کرتے ہیں اور اپنا بہترین مال خرچ کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن سے ان کے اس مال کی بدولت جس سے وہ دنیا میں استفادہ کرتے ہیں زبردست غبطہ کیا جاسکتا ہے اور جب وہ قتل و قتال کی جگہوں میں ہوتے ہیں تو حیاء کرتے ہیں ان جگہوں میں اللہ تعالیٰ سے اس بات پر کہ کہیں وہ ان کے دلوں کے شک پر مطلع نہ ہوجائے یا مسلمانوں کی ناکامی کے خیالات پر آگاہ ہوجائے (یعنی وہ اسی طرح کی باتیں سوچتے ہی نہیں بلکہ پرہیز کرتے ہیں۔ (مترجم)
اور جب وہ مال غنیمت پر قادر ہوتے ہیں تو اس سے اپنے دل اور اعمال کو پاک کرلیتے ہیں سو شیطان طاقت نہیں رکھتا کہ ان کو فتنے میں مبتلا کرسکے اور نہ ان کے دلوں سے بول سکتا ہے سو انہی سے اللہ تعالیٰ اپنے دین کو عزت دیتا ہے اور اپنے دشمن کو ذلیل کردیتا ہے۔
رہا دوسرا گروہ سو وہ اس طرح نکلے کہ نہ تو انھوں نے اللہ کا ذکر کثرت سے کیا نہ اس کو یاد کیا اور نہ فساد سے کنارہ کشی کی اور انھوں نے بادل نخواستہ ہی اپنا خرچ کیا اور جو کچھ بھی انھوں نے اپنے مال میں سے خرچ کیا اس کو بوجھ اور تاوان سمجھا اور شیطان نے ان سے گفتگو کی، اور جب وہ قتال کی جگہوں پر پہنچے تو آخری آخری اور ناکام ناکام لوگوں میں تھے اور انھوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پناہ حاصل کی اور دیکھتے رہے کہ لوگ کیا کرتے ہیں اور جب اللہ غنیمت پر قادر ہوئے تو اس میں اللہ پر جرات کی اور شیطان نے ان کو یہ سمجھایا کہ یہ غنیمت ہے اور ان کو کچھ سہولت ملی تو اکڑنے لگے اور انھیں تنگی ہوئی تو شیطان نے انھیں فتنے میں مبتلا کیا پیش کر کرکے، سو ان کے لیے مومنین کے اجر میں سے کوئی چیز نہیں علاوہ اس کے کہ ان کے جسم ان کے جسموں کے ساتھ ہوں کے اور ان کا چلنا ان کے چلنے کے ساتھ ہوگا، اور ان کی نیتیں اور اعمال بکھرے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن جمع فرمائیں گے اور پھر ان کو جدا کردیا جائے گا۔
اور جب وہ مال غنیمت پر قادر ہوتے ہیں تو اس سے اپنے دل اور اعمال کو پاک کرلیتے ہیں سو شیطان طاقت نہیں رکھتا کہ ان کو فتنے میں مبتلا کرسکے اور نہ ان کے دلوں سے بول سکتا ہے سو انہی سے اللہ تعالیٰ اپنے دین کو عزت دیتا ہے اور اپنے دشمن کو ذلیل کردیتا ہے۔
رہا دوسرا گروہ سو وہ اس طرح نکلے کہ نہ تو انھوں نے اللہ کا ذکر کثرت سے کیا نہ اس کو یاد کیا اور نہ فساد سے کنارہ کشی کی اور انھوں نے بادل نخواستہ ہی اپنا خرچ کیا اور جو کچھ بھی انھوں نے اپنے مال میں سے خرچ کیا اس کو بوجھ اور تاوان سمجھا اور شیطان نے ان سے گفتگو کی، اور جب وہ قتال کی جگہوں پر پہنچے تو آخری آخری اور ناکام ناکام لوگوں میں تھے اور انھوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پناہ حاصل کی اور دیکھتے رہے کہ لوگ کیا کرتے ہیں اور جب اللہ غنیمت پر قادر ہوئے تو اس میں اللہ پر جرات کی اور شیطان نے ان کو یہ سمجھایا کہ یہ غنیمت ہے اور ان کو کچھ سہولت ملی تو اکڑنے لگے اور انھیں تنگی ہوئی تو شیطان نے انھیں فتنے میں مبتلا کیا پیش کر کرکے، سو ان کے لیے مومنین کے اجر میں سے کوئی چیز نہیں علاوہ اس کے کہ ان کے جسم ان کے جسموں کے ساتھ ہوں کے اور ان کا چلنا ان کے چلنے کے ساتھ ہوگا، اور ان کی نیتیں اور اعمال بکھرے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت کے دن جمع فرمائیں گے اور پھر ان کو جدا کردیا جائے گا۔
11347 عن ابن عمر قال : الناس في الغزو جزآن : فجزء خرجوا يكثرون ذكر الله والتذكر به ويجتنبون الفساد في السير ، ويواسون الصاحب ، وينفقون كرائم أموالهم فهم أشد اغتباطا بما أنفقوا من أموالهم منهم بما استفادوا من دنياهم ، فإذا كانوا في مواطن القتال استحيوا من الله في تلك المواطن أن يطلع على ريبة في قلوبهم أو خذلان للمسلمين فإذا قدروا على الغلو طهروا منه قلوبهم وأعمالهم ، فلم يستطع الشيطان أن يفتنهم ، ولا يكلم قلوبهم ، فبهم يعز الله دينه ، ويكبت عدوه ، وأما الجزء الآخر فخرجوا فلم يكثروا ذكر الله ولا التذكر به ولم يجتنبوا الفساد ، ولم ينفقوا أموالهم إلا وهم كارهون ، وما أنفقوا من أموالهم رأوه مغرما وحدثهم به الشيطان ، فإذا كانوا عند مواطن القتال كانوا مع الآخر الآخر ، والخاذل الخاذل ، واعتصموا برؤس الجبال ينظرون ما يصنع الناس ، فإذا فتح الله للمسلمين كانوا أشدهم تخاطبا بالكذب ، فإذا قدروا على الغلول اجتروا فيه على الله ، وحدثهم الشيطان أنها غنيمة ، وإن أصابهم رخاء بطروا ، وإن أصابهم حبس فتنهم الشيطان بالعرض فليس لهم من أجر المؤمنين شء ، غير أن أجسادهم مع أجسادهم ومسيرهم مع مسيره ، ونياتهم وأعمالهم شتى حتى يجمعهم الله يوم القيامة ثم يفرق بينهم.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11344 ۔۔۔ حضرت معاذ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ایک پکارنے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جن کو اللہ کے راستے میں تکلیف دی گئی ، تو صرف مجاہدین ہی کھڑے ہوں گے۔
11348 عن معاذ قال : ينادي مناد : أين المفجعون في سبيل الله ؟ فا يقوم إلا المجاهدون.(كر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11345 ۔۔۔ حضرت نواس بن سمعان (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے فتح سے نواز تو میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! گھوڑوں کو آزاد کردیا گیا، اسلحہ رکھ دیا گیا اور جنگ اپنے کیل کانٹے سے فارغ ہوگئی اور لوگوں نے کہا کہ اب قتال ختم ہوگیا ہے، تو جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ انھوں نے جھوٹ کہا اب ہی توقتال کا وقت آیا ہے، قوموں کے دل ٹیڑھے ہوجاتے ہیں تو ان سے قتال کرتے ہو سو اللہ تعالیٰ تمہیں انسے رزق دیتا ہے یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اس پر اور مسلمانوں کے گھر کا درمیانی علاقہ شام ہوگا (مسند ابی یعلی)
11349 عن النواس بن سمعان قال : فتح على رسول الله صلى الله عليه وسلم فتح ، فأتيته فقلت : يا رسول الله سيبت الخيل ، ووضع السلاح ، وقد وضعت الحرب أوزارها ، وقالوا : لا قتال ، فقال رسول اله صلى الله عليه وسلم : كذبوا الآن جاء القتال ، يزيغ قلوب أقوام تقاتلونهم فيرزقكم الله منهم حتى يأتي أمر الله على ذلك ، وعقر دار المؤمنين بالشام.(ع كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ کی سیاحت جہاد ہے
11346 ۔۔۔ حضرت ابوامامۃ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیاحت کی اجازت مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہی میری امت کی سیاحت ہے “۔ (ابن ماجہ)
11350 عن أبي أمامة أن رجلا استأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم في السياحت ، فقال : إن سياحة أمتي الجهاد في سبيل الله.(ه كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ کی سیاحت جہاد ہے
11347 ۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے اللہ کی قسم کھالوں کہ بیشک تمہارے سب سے بہتر اعمال میں جہاد اور مسجدوں کی طرف جانا ہے “۔ (ابن زنجویہ)
11351 عن أبي الدرداء ، قال : إن شئتم أقسمت لكم بالله إن من خير أعمالكم الغزو والرواح إلى المساجد.(ابن زنجويه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ کی سیاحت جہاد ہے
11348 ۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کے پیٹ میں وہ غبار جو اللہ کے راستے میں اس کے پیٹ میں گیا اور جہنم کا دھواں جمع نہ کریں گے، اور جس کے دونوں پیر اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوگئے تو اس کے سارے جسم کو اللہ تعالیٰ آگ پر حرام کردیں گے، اور جس نے ایک دن اللہ کے راستے میں روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ سے ایک ہزار سال کی مسافت کے بقدر دور کردیں گے جو نہایت تیز رفتار مسافر طے کرلے، اور جس کو اللہ کے راستے میں ایک زخم لگا اس کو شہداء کی مہر لگادی جائے گی وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا رنگ تو زعفران کے رنگ کی مانند ہوگا اور اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی ، اس خوشبو سے اس کو پہلے اور بعد والے سب پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ فلاں پر شہداء کی مہر ہے اور جس نے ایک اونٹ کی ہچکی کے برابر بھی اللہ کے راستے میں قتال کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی “۔ (مسند احمد)
11352 عن أبي الددرداء قال : لا يجمع الله عزوجل في جوف رجل غبارا في سبيل الله ودخان جهنم ، ومن اغبرت قدماه في سبيل الله حرم الله سائر جسده على النار ، ومن صام يوما في سبيل الله باعد الله عنه النار مسيرة ألف سنة ، للراكب المستعجل ، ومن جرح جراحة في سبيل الله ختم له بخاتم الشهداء تأتي يوم القيامة لونها مثل لون الزعفران ، وريحها مثل ريح المسك ، يعرفه بها الاولون والآخرون يقولون : فلان عليه طابع الشهداء ، ومن قاتل في سبيل الله فواق ناقت ،وجبت له الجنة.
(حم).
(حم).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ کی سیاحت جہاد ہے
11349 ۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنوحارثہ میں سے ایک شخص سے فرمایا کہ اے فلاں ! کیا تو غزوے میں حصہ نہ لے گا ؟ تو اس نے عرض کای یارسول اللہ ! میں نے کھجور کا چھوٹا پودا لگایا (بویا) ہے اور اگر میں نے غزوے میں شرکت کی تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہوجائے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ غزوہ میں شرکت تیرے پودے کے لیے بہتر ہے، فرمایا کہ پھر اس شخص نے غزوہ میں شرکت کی، اور اپنے پودے کو پہلے سے بہتر اور عمدہ پایا “۔ (دیلمی)
11353 عن أبي الدرداء ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لرجل من بني حارثة : ألا تغزو يا فلان ؟ قال : يا رسول الله غرست وديا لي وإني أخاف إن غزوت أن يضيع ، فقال : الغزو خير لوديك ، قال : فغزا الرجل فوجد وديه كأحسن الودي واجوده.
(الديلمي).
(الديلمي).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ کی سیاحت جہاد ہے
11350 ۔۔۔ حضرت شعبہ ، اذرق بن قیس سے اور وہ عسعس سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک شخص کی عدم موجودگی کے بارے میں علم ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا، تو وہ آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں چاہتا تھا کہ اس پہاڑ پر چلا جاؤں اور تنہارہوں اور عبادت کروں ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اسلام میں کسی میدان جنگ پر تم میں سے جب کوئی ناپسندیدہ کام پر گھڑی بھر صبر کرتا ہے تو وہ صبر تنہائی میں چالیس سال عبادت کرنے سے بہتر ہے “۔ (بیھقی فی شعب الایمان)
اور فرمایا کہ اسی روایت کو حماد بن سلمہ نے ازرق بن قیس سے اور انھوں نے عسعس سے اور انھوں نے ابوحاضر سے اور انھوں کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرمایا اور اس میں ساٹھ سال کا ذکر ہے۔
اور فرمایا کہ اسی روایت کو حماد بن سلمہ نے ازرق بن قیس سے اور انھوں نے عسعس سے اور انھوں نے ابوحاضر سے اور انھوں کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرمایا اور اس میں ساٹھ سال کا ذکر ہے۔
11354 عن شعبة عن الازرق بن قيس عن عسعس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد رجلا ، فسأل عنه فجاء ، فقال : يا رسول الله إني أردت أن آتي هذا الجبل فأخلوا فيه واتعبد ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يصبر أحدكم ساعة على ما يكره في بعض مواطن الاسلام خير من عبادته خاليا أربعين سنة.(هب) وقال ورواه حماد بن سلمة عن الازرق بن قيس عن عسعس عن أبي حاضر عن النبي صلى الله عليه وسلم وقال : ستين سنة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت محمدیہ کی سیاحت جہاد ہے
11351 ۔۔۔ ابوحماس روایت کرتے ہیں عسعس بن سلامۃ سے فرمایا کہ ہم جبابہ میں تھے اور حضرت ابوحاضر الاسدی (رض) بھی ہمارے ساتھ تھے، تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ہمارا اس وادی حبانہ میں ایک محل ہو جس میں اتنا کھانا اور لباس ہو ایک مرتبہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بعض صحابہ کو موجود نہ پایا اور ان کے بارے میں دریافت فرمایا تو بتایا گیا کہ وہ اس علاقے کے کسی حصے میں الگ تھلگ ہو کر عبادت کرتے ہیں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلوا بھیجا وہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس حرکت پر کس نے اکسایا ؟ عرض کیا ، یارسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہوگئی، ہٖڈیاں نرم ہوگئیں اور وقت قریب آگیا تو میں نے یہپ پسند کیا کہ میں تنہا ہوجاؤں اور اپنے رب کی عبادت کروں، سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے پکارا (اور جب) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے کہ لوگوں کو کوئی بات بتائیں تو اسی طرح ہمارے اندر بلند آواز کرتے تھے۔
سنو ! مسلمانوں کے میدان جنگ میں سے ایک میدان جنگ بھی کسی شخص کی تنہا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے، اس جملے کو تین مرتبہ پکارکر فرمایا “۔ (بیھقی فی شعب الایمان)
سنو ! مسلمانوں کے میدان جنگ میں سے ایک میدان جنگ بھی کسی شخص کی تنہا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے، اس جملے کو تین مرتبہ پکارکر فرمایا “۔ (بیھقی فی شعب الایمان)
11355 عن أبس حماس عن عسعس بن سلامة قال : كنا في الجبانة ومعنا أبو حاضر الاسدي ، فقال رجل من القوم : وددت أن لنا في هذا الجبانة قصرا فيه من الطعام واللباس ما يكفينا حتى الموت ، فقال أبو حاضر : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد بعض أصحابه ، فسأل عنه فقيل له :أنه قد تفرد في بعض هذه القفران يتعبد فبعث إليه فأتي به ، فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ فقال : يا رسول الله كبرت سني ورق عظمي ، وقرب أجلي ، فأحببت أن أخلو بعبادة ربي ، فنادى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأعلى صوته وكان إذا أراد أن يعلم الناس أمرا نادى به فينا ، ألا إن موطنا من مواطن المسلمين أفضل من عبادة الرجل وحده ستين سنة نادى بها ثلاثا.(هب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرحد کی حفاظت کرنے والا خوش نصیب
11352 ۔۔۔ حضرت ابوعطیہ سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ایک شخص وفات پا گیا تو بعض لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیئے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے اس کو خیر کا کوئی کام کرتے دیکھا ہے ؟ تو ایک شخص نے عرض کیا کہ اس نے فلاں فلاں رات ہمارے ساتھ چوکیداری کی تھی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھی پھر اس کی قبر کی طرف تشریف لے گئے ، اور اس پر مٹی ڈالتے جاتے تھے اور فرماتے کہ تیرے ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ تو اہل جہنم میں سے ہے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تو اہل جنت میں سے ہے، پھر فرمایا کہ اے عمر ! بیشک تم سے لوگوں کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا تم سے تو صرف فطرت کے بارے میں پوچھا جائے گا “۔
11356 عن أبي عطية أن رجلا توفي على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال بعضهم : يا رسول لله لا تصل عليه ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هل رآه أحد منكم على شئ من أعمال الخير ؟ فقال رجل : حرس معنا ليلة كذا وكذا ، فصلى عليه ، ثم مشى إلى قبره ، فجعل يحثو عليه ويقول : إن أصحابك يظنون أنك من أهل النار ، وأنا أشهد أنك من أهل الجنة ، ثم قال : يا عمر إنك لا تسأل عن أعمال الناس وإنما تسأل عن الفطرة.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرحد کی حفاظت کرنے والا خوش نصیب
11353 ۔۔۔ حضرت ام حرام (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ ابوالولید کہا ہیں ؟ تو میں نے عرض کیا کہ ابھی آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوں گے ، پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تکیہ رکھا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر تشریف فرما ہوئے اور ہنسے ، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنسے یا رسول اللہ ؟ فرمایا کہ میں نے اپنی امت کا پہلا لشکر دیکھا، جو سمندر میں سوار ہیں اور انھوں نے اپنے لیے جنت واجب کردی ، میں نے عرض کیا کہ رسول اللہ ! میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنادے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے میرے اللہ آپ اس کو انہی میں سے بنادیجئے ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنسے ، پھر میں نے عرض کیا آپ کس بات پر ہنسے ؟ فرمایا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر کا محاصرہ کئے ہوئے ہے اور اس کی مغفرت ہوگئی “۔
11357 عن أم حرام قالت : أتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : أين أبو الوليد ؟ فقلت الساعة يأتيك ، فألقيت له وسادة فجلس عليها فضحك ، فقلت ما اضحكك يا رسول الله ؟ قال رأيت أول جيش من أمتي يركبون البحر قد أوجبوا ، فقلت يا رسول الله أدع الله لي أن أكون منهم ، فقال : اللهم اجعلنا منهم ، ثم ضحك ، فقلت ما الذي أضحكك ؟ قال : أول جيش من أمتي يرابطون مدينة قيصر مغفور لهم.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرحد کی حفاظت کرنے والا خوش نصیب
11354 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ مردوں کو کس چیز نے عاجز کردیا، اگر میں مرد ہوتی تو میں صرف اللہ کی راہ میں مورچہ بندی ومحاصرہ بندی کرتی، جس نے اونٹنی کی ایک ہچکی برابر بھی مورچہ بندی کی تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ پر حرام کردیتے ہیں اور جس کے دونوں پیر اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوگئے تو اس کو آگ کی لپیٹ نہ پہنچ سکے گی “۔ (ابن زبجویہ)
11358 عن عائشة قالت : ما أعجز الرجال ؟ لو كنت رجلا ماصنعت شئا إلا الرباط في سبيل الله ، من رابط في سبيل الله فواق ناقة حر الله عليه النار ، ومن اغبرت قدماه في سبيل الله لم يصبه لهم النار.
(ابن زنجويه).
(ابن زنجويه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سرحد کی حفاظت کرنے والا خوش نصیب
11355 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اگر جہاد عورتوں پر فرض کیا جاتا تو وہ ضرور مورچہ بندی کو اختیار کرتیں “۔ (ابن زنجویہ)
11359 عن عائشة قالت لو كتب الجهاد على النساء لاخترن الرباط.(ابن زنجويه).
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৩৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چادر مبارک سے گھوڑے کی پشت صاف کرنا
11356 ۔۔۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ایک مرتبہ نکلی تو دیکھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی مبارک چادر سے اپنے گھوڑے کی پشت کو صاف فرما رہے ہیں، میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! کیا آپ اپنے کپڑوں سے اپنے گھوڑے کو صاف فرما رہے ہیں ؟ فرمایا کہ ہاں اے عائشہ ! تمہیں کیا معلوم شاید یہ حکم مجھے میرے رب نے دیا ہو ؟ باوجود اس کے کہ میں قرب رکھتا ہوں “ اور بیشک فرشتے مجھ سے ناراض ہوتے ہیں گھوڑے کو چھونے اور صاف کرنے پر، تو میں نے عرض کیا کہ، اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے مقرر فرمایئے کہ آپ کا یہ کام میں کردوں، تو فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، تحقیق مجھے میرے دوست جبرائیل نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے ہر دانے کے بدلے جو میں اس کو دوں گا ایک نیکی لکھیں گے اور میرا رب ہر دانے کے بدلے کے بدلے مجھ سے ایک برائی دور فرمائیں گے، ہر مسلمان جس نے اللہ کے راستے میں گھوڑا باندھا تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے جو وہ اس کو دے گا نیکی لکھیں گے اور ہر دانے کے بدلے ایک برائی دور فرمادیں گے “۔
11360 عن عائشة قالت : خرجت فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح بردائه عن ظهر فرسه ، فقلت : بأبي وأمي يا رسول الله أبثوبك تمسح عن فرسك ؟ قال : نعم يا عائشة ، وما يدريك لعل ربي أمرني بذلك ؟ مع أني لقريب ، وإن الملائكة لتعاتبني في حس الخيل ومسحها ، فقلت له : يا نبي الله فولنيه فأكون أنا التي ألي القيام عليه ، فقال : لا أفعل لقد أخبرني خليلي جبريل أن ربي يكتب لي بكل حبة أوافيه بها حسنة ، وأن ربي يحط عني بكل حبة سيئت ، ما من امرئ م ن المسلمين يربط فرسا في سبيل الله إلا يكتب له بكل حبة يوافيه بها حسنة ويحط عنه بكل حبة سيئة.
(كر) وسنده لا بأس به.
(كر) وسنده لا بأس به.
তাহকীক: