কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৩২১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11317 ۔۔۔ حضرت قیس بن ابی حازم (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی طرف لشکر روانہ فرمایا اور کچھ دور تک ان کے ساتھ پیدل تشریف کے گئے تو اہل لشکر نے عرض کیا اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ اگر آپ سوار ہوجاتے تو (اچھا ہوتا ؟ تو فرمایا کہ میں اللہ کے راستے میں خطاؤں کا احتساب کرنا چاہتا ہوں “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11321 عن قيس بن أبي حاتم قال : بعث أبو بكر جيشا إلى الشام فخرج يشيعهم على رجليه ، فقالوا : يا خليفة رسول الله لو ربكت ؟ قال : إني أحتسب خطاي في سبيل الله.(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11318 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا اور تھوڑے سے لوگ بھی وہاں موجود تھے کہ اتنے میں ایک آدمی آیا اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء کرام اور اصفیاء کے بعد سب سے زیادہ بلند رتبہ انسان کون ہوگا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا بلاوا اس تک آپہنچے اور وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر لگام تھامے پیٹھا ہو، اس نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد کس کا درجہ ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ شخص جو ایک کونے میں ہو خوب اچھے طریقے سے اپنے رب کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے۔

اس نے پھر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! قامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سب سے زیادہ بدترین شخص ہوگا ؟ فرمایا کہ مشرک ، اس نے پھر عرض کیا کہ اس کے بعد ؟ تو فرمایا کہ ظالم حکمران جو حلال جائز جگہوں پر ظلم کرتا ہے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خاص کردیے اور بتادیئے ہیں فتنوں کے موقع پر فرمایا کہ پوچھو مجھ سے (جوچاہو) اور کسی چیز کے بارے میں اس وقت تک نہ پوچھو جب تک میں خود نہ بتادوں ، تو میں نے کہا کہ ہم راضی ہوگئے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اسلام کو بحیثیت دین مان کر اور آپ کو نبی ماننے پر اور کافی ہے ہمارے لیے جو آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غصے کے اثرات زائل ہوگئے “۔
11322 عن عمر قال : كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده قبض من الناس فأتاه رجل فقال : يا رسول الله أي الناس خير منزلة عند الله يوم القيامة بعد أنبيائه وأصفيائه ؟ فقال : المجاهد في سبيل الله بنفسه وماله حتى تأتيه دعوة الله وهو على متن فرسه آخذ بعنانه ، قال : ثم من ، قال : وامرؤ بناحية أحسن عبادة ربه وترك الناس من شره ، قال : يا رسول الله فأي الناس شر منزلة عند الله يوم القيامة ؟ قال : المشرك ، قال : ثم من ؟ قال : والامام الجائر يجود عن الحل وقد مكن وخص رسول الله صلى الله عليه وسلم أبواب الفتن ، فقال : سلوني ولا تسألوني عن شئ إلا أنبأتكم به ، فقلت رضينا بالله ربنا وبالاسلام دينا وبك نبيا وحسنا ما أتانا فسري عنه.

(ط).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11319 ۔۔۔ حضرت زید بن ابی حبیب فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس آیا تو حضرت عمر (رض) نے دریافت فرمایا کہ آپ کہاں تھے ؟ اس نے جواب دیا کہ میں پہرہ داری پر تھا، آپ (رض) نے دربارہ دریافت فرمایا کہ ” کتنی عرصہ پہرے داری کی ؟ تو اس نے عرض کیا تیس۔ (غالبا دن، مترجم) تو فرمایا چالیس کیوں نہیں مکمل کئے ؟ (مصنف عبدالرزاق)
11323 عن زيد بن أبي حبيب قال : جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فقال : أين كنت ؟ قال : كنت في الرباط ، قال : كم رابطت ؟ قال : ثلاثين ، قال : فهلا أتممت أربعين.

(عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11320 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ اگر تین چیزیں نہ ہوتی تو میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کو پسند کرتا، اگر میں اللہ کے راستے میں نہ چلتا یا میں اگر اللہ کے راستے میں سجدہ کرتے ہوئے اپنی پشانی مٹی میں نہ رکھتا یا ایسی قوم کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا جو پاکیزہ کلام سنتے ہیں جیسے پاکیزہ اور اچھے چنے جاتے ہیں “۔ (ابن المبارک ، ابن سعید ، سعید بن ، منصور، ابن ابی شیبہ، مسند احمد فی الزھد اور ھناد اور حلیہ ابی نعیم)
11324 عن عمر قال : لو لا ثلاث لاحببت أن أكون لحقت بالله لو لا أن أسير في سبيل الله أو أضع جبهتي لله في التراب ساجدا وأجالس قوما يلتقطون طيب الكلام كما يلتقط طيب الثمر.(ابن المبارك وابن سعد ص ش حم في الزهد وهناد حل كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11321 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ حج کرنا تمہارے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ ایک نیک عمل ہے اور

اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور جہاد اس سے بھی زیادہ افضل ہے “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11325 عن عمر قال : عليكم بالحج فانه عمل صالح ، أمر الله به ، والجهاد أفضل منه.(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11322 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ ” حج یہاں ہے نشان لگاؤ، یہاں تک کہ تو فنا ہوجائے۔ (ابوعبید)
11326 عن عمر قال : حجة ههنا ، ثم احدج ههنا حتى تفنى(أبو عبيد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11323 ۔۔۔ حضرت ملک بن العوف الاحمسی فرماتے ہیں کہ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص کا ذکر ہوا جس نے نہاوند کی جنگ میں اپنے آپ کو خرید لیا تھا ایک شخص کہنے لگا کہ وہ میرا ماموں تھا لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا تھا، تو حضرت عمر (رض) عنی نے فرمایا کہ ان سب سے جھوٹ کہا بلکہ وہ تو ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے آخرت کو دنیا کے بدلے خرید لیا تھا “۔ (متفق علیہ)
11327 عن مدرك بن عوف الاحمسي أنه كان جالسا عند عمر فذكروا رجلا شرى نفسه يوم نهاوند ، فقال : ذاك خالي زعم الناس أنه ألقى بيده إلى التهلكة ، فقال عمر : كذب أولئك بل هو من الذين اشتروا الآخرة بالدنيا.(ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11324 ۔۔۔ حضرت مغیرۃ بن شعبۃ (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوے میں تھے تو ایک شخص آگے بڑھا اور قتال کیا یہاں تک کہ قتل ہوگیا تو لوگوں نے کہا کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈال دیا، لہٰذا یہ معاملہ حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجا گیا تو حضرت عمر (رض) نے لکھا کہ اگر معاملہ اسی طرح ہے جیسے انھوں نے کہا تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” کہ “ اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دے دیتے ہیں جان اللہ کی رضا جوئی میں “۔ (سورة بقرۃ آیت 207 ۔ وکیع فریابی اور عبد بن حمید اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم)
11328 عن المغيرة بن شعبة قال : كنا في غزاة فتقدم رجل فقاتل حتى قتل : فقالوا : ألقى بيده إلى التهلكة ، فكتب فيه إلى عمر ، فكتب عمر لئن كان كما قالوا هو من الذين قال الله فيهم : (ومن الناس من يشري نفسه ابتغاء مرضات الله) (وكيع والفريابي وعبد بن حميد وابن جرير وابن أبي حاتم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11325 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ تم پر جہاد ضروری ہے جب تک سرسبز ومزے دار ہے، اس سے پہلے کہ پرانی لگام کی مانند ہوجائے سو جب جنگیں اور مال غنیمت کو کھایا جانے لگے اور حرام کو حلال کیا جانے لگے تو تم پر پہرے داری (یامورچہ بندی) لازم ہے کیونکہ یہ تمہاری سب سے افضل جنگ ہے “۔ (مصنف عبدالرزاق)
11329 عن عمر قال : عليكم بالجهاد ما دام حلوا خضرا قبل أن يكون رماما حطاما فإذا تناطت المغازي وأكلت الغنائم واستحلت الحرم فعليكم بالرباط فانه أفضل غزوكم.(عب)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11326 ۔۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا اے امیرالمؤمین مجھے کچھ دیجئے میں نے جہاد کا ارادہ کیا ہے تو حضرت عمر (رض) نے ایک اور شخص سے کہا کہ اس کا ہاتھ پکڑو اور بیت المال لے جاؤ اس کا جو جی چاہے لے لے سو وہ داخل ہوا تو وہاں بہت سی زردوسفید چیزیں تھیں اس نے کہا یہ کیا ہے مجھے ان کی ضرورت نہیں مجھے تو سواری اور سفر کا توشہ چاہیے تو وہ اس شخص کو واپس حضرت عمر (رض) کے پاس لے گئے اور اس نے جو کہا تھا بتادیاتو حضرت عمر (رض) نے اس کے لیے سواری اور زادراہ مہیا کرنے کا حکم دیا اور اس کو خود اپنے ہاتھ سے سوار کرنے لگے، جب وہ سوار ہوگیا تو اس نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور حضرت عمر (رض) نے اس کے ساتھ جو معاملہ کیا تھا اور جو دیا تھا اس پر اللہ کی حمد وثناء کی اور حضرت عمر (رض) اس خواہش میں اس کے پیچھے چل رہے تھے کہ وہ ان کے لیے دعا کرے گا تو جب وہ فارغ ہوا تو اس نے کہا اے میرے اللہ ! حضرت عمر (رض) کو بہترین بدلہ عطا فرما “۔ (ھناد)
11330 عن أنس قال جاء رجل إلى عمر ، فقال : يا أمير المؤمنين احملني فاني أريد الجهاد ، فقال عمر لرجل : خذ بيده فأدخله بيت المال يأخذ ما شاء ، فدخل فإذا بيضاء وصفراء ، فقال : ما هذا ؟ ما لي في هذا حاجة ، إنما أردت زادا وراحلة ، فردوه إلى عمر ، فأخبروه بما قال ، فأمر له بزاد وراحلة ، وجعل عمر يرحل له بيده ، فلما ركب رفع يده فحمد الله وأثنى عليه بما صنع واعطاه ، وعمر يمشي خلفه يتمنى أن يدعو له ، فلما فرغ قال : اللهم وعمر فاجزه خيرا.(هناد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11327 ۔۔۔ حضرت سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور عرض کیا کہ مجھے سوار کروا دیجئے سو خدا کی قسم اگر آپ نے مجھے سوار کرادیا تو میں آپ کی تعریف کروں گا اور اگر آپ نے مجھے منع کردیا تو میں آپ کی مذمت کروں گا، فرمایا کہ خدا کی قسم پھر تو میں تجھے ضرور سوار کراؤں گا، سو جب اس کو سوار کرادیا تو وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے لگا اور شکر کرنے لگا اور حضرت عمر (رض) اس کے پیچھے سن رہے تھے، اس نے حضرت عمر (رض) کا بالکل ذکر نہ کیا اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری دعا قبول کی “۔ (ھناد)
11331 عن سفيان بن عيينة قال : جاء رجل إلى عمر ، فقال : احملني فو الله لئن حملتني لاحمدنك ، ولئن منعتني لا أذمنك قال : إذا والله لاحملنك فلما حمله جعل يحمد الله ويشكره ويثني على الله تعالى وعمر خلفه يسمع ولا يذكر عمر بشئ ، فلما هبط قال : اللهم سدد عمر فقال عمر : قد أتا لك.

(هناد).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11328 ۔۔۔ حضرت ابی زرعۃ بن عمرو بن جریر سے مروی ہے کہ فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے ایک لشکر بھیجا ان میں حضرت معاذ بن الجبل (رض) بھی تھے، جب لشکر چل پڑا تو حضرت معاذ (رض) کو دیکھا تو پوچھا، کیوں رکے ہوئے ہو، حضرت معاذ (رض) نے فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ جمعہ پڑھ لوں پھر نکلوں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا ؟ اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام لگا دینا دنیا اور ہر اس چیز سے بہتر ہے جو دنیا میں ہے ؟ (ابن راھویہ، متفق علیہ)
11332 عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير قال : بعث عمر بن الخطاب جيشا وفيهم معاذ بن جبل ، فلما ساروا رأى ماذا ، فقال : ما حبسك قال أردت أن أصلي الجمعة ثم أخرج ، فقال عمر : أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : الغدوة أو الروحة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها ؟ (ابن راهويه ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11329 ۔۔۔ حضرت صالح بن ابی الخلیل سے مرویہ ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو سنا جو اس آیت کی تلاوت کررہا تھا : واذاقیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم۔ الی قولہ ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ

ترجمہ :۔۔۔ اور جب کہا جائے اس کو اللہ سے ڈرو تو برائی اس کو گناہ پر ابھارتی ہے، اور بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں اپنی جان تک صرف کر ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے حال پر نہایت مہربان ہیں “۔ (سورة بقرۃ آیت 206، 206)

یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور پھر فرمایا کہ ایک شخص کھڑا ہوا، نیکی کا حکم دیا برائی سے منع کیا اور قتل کردیا گیا۔ (وکیع ، عبد بن حمید وابن جریر)
11333 عن صالح أبي الخليل قال : سمع عمر إنسانا يقرأ هذه الآية : (وإذا قيل له اتق اله أخذته العزة بالاثم) إلى قوله (ومن الناس من يشري نفسه ابتغاء مرضات الله) فاسترجع ، ثم قال : قام الرجل يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر فقتل.

(وكيع وعبد بن حميد وابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11330 ۔۔۔ حضرت حسان بن کریب سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا کہ تم اپنے خرچوں کا حساب کیسے کرتے ہو ؟ کہا کہ ہم جب کسی جنگ سے واپسی آرہے ہوتے ہیں تو اس کو سات سو کے حساب سے گنتے ہیں اور جب ہم اپنے گھر میں ہوتے ہیں تو دس کے حساب سے گنتے ہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تحقیق تم نے تو اپنے خرچے کو سات سو کے حساب سے واجب کروالیا ہے خواہ تم جنگ میں ہو یا اپنے گھر میں۔
11334 عن حسان بن كريب أن عمر بن الخطاب سأله كيف تحتسبون نفقاتكم ؟ قال : كنا إذا قفلنا من الغزو وعددناها بسبعمائت ، وإذا كنا في أهلينا عددناها بعشرة ، فقال : عمر : قد استوجبتموها بسبعمائة إن كنتم في الغزو وإن كنتم في أهليكم.(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11331 ۔۔۔ حضرت سعد (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا ایک شخص کہہ رہا تھا کہ اے اللہ ! آپ مجھے وہ دیجئے جو آپ نے اپنے نیک اور صالح بندوں کو دیتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ پھر تو اللہ کے راستے میں تیرے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں گی اور تیرا خون بہادیا جائے گا۔ (عدی ، ابن ابی عاصم ، ابویعلی ، اب ابی خزیمۃ ابن حبان ، مستدرک حاکم اور ابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ)
11335 عن سعد قال : سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يقول : اللهم آتني ما تؤتي عبادك الصالحين ، فقال : إذا يعقر جوادك وتهراق مهجتك في سبيل الله.

(العدني وابن أبي عاصم ع وابن أبي خزيمة حب ك وابن السني في عمل يوم وليلة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11332 ۔۔۔ حضرت اسامۃ بن ابی خزیمہ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ میں نے سنا کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے لیے فرما رہے تھے کہ سنو ! کیا کوئی تیار ہے جنت کے لیے ؟ بیشک جنت میں کوئی خطرہ نہیں اور وہ رب کعبہ کی قسم ایک نور ہے چمکتا دمکتا ہوا، اور پھول ہے لہلہاتا ہوا ، اور پر محل اور بےباری نہر ہے، اور پکا ہوا پھل ہے، اور حسین و جمیل بیوی ہے اور بہت سے جوڑے ہیں، اور بہت بڑا ملک ہے ایسی جگہ جو ہمیشہ کی خوشی اور تازگی کے ساتھ اونچے ، سلامتی والے پر رونق گھر میں ہے صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا ، جی ہاں ، یارسول اللہ ! ہم جنت کے لیے تیار ہیں فرمایا ، تو کہو انشاء اللہ، تو سب نے کہا انشاء اللہ ، فرمایا کہ پھر جہاد کا تذکرہ کیا اور اس کی ترغیب دی “۔ (ابن ماجہ ، بزار ، ابی یعلی ، ابن ابی داؤددفی البعث رویانی، رامھر مزی فی الامثال ، طبرانی ، متفق علیہ فی البعث اور حلیہ ابی نعیم)
11336 عن أسامة بن زيد قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لاصحابه : ألا هل مشمر للجنة ؟ فان الجنة لا خطر لها هي ورب الكعبة نور يتلالا كلها وريحانة تهتز ، وقصر مشيد ، ونهر مطرد وثمرة ناضجة وزوجة حسناء جميلة ، وحلل كثيرة ، وملك كبير في مقام أبدا في حبرة ونعمة ونضرة في دار عالية سليمة بهية ، قالوا : نعم يا رسول الله نحن المشمرون لها ، قالوا إن شاء الله ، فقال القوم : إن شاء الله ، قال : ثم ذكر الجهاد وحض عليه.(ه والبزار ع وابن أبي داود في البعث والروياني والرامهرمزي في الامثال طب ق في البعث كرحل).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مجاہد کی دعا
11333 ۔۔۔ محمد بن زنبور حارث بن عمیر سے اور وہ حمید سے اور وہ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سب سے زیادہ پسندیدہ مورچہ بندی کی بارے میں پوچھا کہ کون سی ہے ؟ تو فرمایا کہ جس نے ایک رات میں مسلمانوں کی پہرے دار کرتے ہوئے مورچہ بندی کی تو اس کے لیے ان سب لوگوں کے اجر کے برابر اجر اس کے پیچھے نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے ہیں “۔ (ابن النجار)
11337 عن محمد بن زنبور عن الحارث بن عمير عن حميد عن أنس قال : سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أحب الرباط ؟ فقال : من رابط ليلة حارسا من وراء المسلمين فان له مثل أجر من خلفه ممن صلى وصام (ابن النجار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11334 ۔۔۔ حضرت ارطاۃ بن المنذر سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اجروالا کون ہے، لوگ نمازی اور روزے وغیرہ کا ذکر کرنے لگے اور کہنے لگے کہ فلاں اور فلاں امیر المومنین کے بعد ، تو فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو ان سب سے زیادہ اجروالا ہے جس کا تم نے ذکر کیا ہے اور امیر المومنین سے بھی ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ، فرمایا شام میں ایک چھوٹا سا آدمی جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے مسلمانوں کی حفاظت کرتا اور نہیں جانتا کہ آیا اس کو کوئی درندہ پھاڑ کھائے گا یا کوئی زہریلا جانور اسے ڈسے گا صبح اس کو ڈھانپے گی، سویہی وہ شخص ہے جو ان سب سے زیادہ اجر والا ہے جن کا تم نے ذکر کیا اور امیرالمومنین سے بھی زیادہ اجر ہے۔
11338 عن أرطاة بن المنذر أن عمر قال لجلسائه : أي الناس أعظم أجرا ؟ فجعلوا يذكرون له الصوم والصلاة ويقولون : فلان وفلان بعد أمير المؤمنين ، فقال : ألا أخبركم بأعظم الناس أجرا ممن ذكرتم ومن أمير المؤمنين ؟ قالوا : بلى ، قال رويجل بالشام آخذ بلجام فرسه يكلا من وراء بيضة المسلمين ، لا يدري أسبع يفترسه ،

أم هامة تلدغه ؟ أو عدو يغشاه ؟ فذلك أعظم أجرا ممن ذكرتم ومن أمير المؤمنين.

(كر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৩৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11335 ۔۔۔ حضرت ثعلبہ بن مسلم روایت کرتے ہیں حضرت ثابت بن ابی عاصم سے کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ کی راہ میں مجاہدین کا ذرا ساڈرجانا بھی سال بھر کے روزوں اور کھڑے ہو کر عبادت کرنے کے برابر ہے۔ کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ یارسول اللہ ! مجاہدین کا ذرا ساڈر کیا ہے ؟ تو فرمایا کہ اونگھتے ہوئے اس کی تلوار گرجائے اور وہ اسے اٹھالے “۔ (ابن ابی عاصم اور ابونعیم)
11339 عن ثعلبة بن مسلم عن ثابت بن أبي عاصم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إن أدنى روعات المجاهدين في سبيل الله عدل صيام سنة وقيامها ،فقال قائل : يا رسول الله وما أدنى روعات المجاهدين ؟ قال : يسقط سيفه وهو ناعس فينزل فيأخذه.(ابن أبي عاصم وأبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩৪০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے زیادہ اجروالامؤمن کون ہے ؟
11336 ۔۔۔ سالم بن ابی الجعد فرماتے ہیں کہ ہم سے جابربن سبرۃ الاسدی نے حدیث بیان کی اور فرمایا کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے، جہاد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بیشک شیطان ابن آدم کو گھیرنے کے لیے اس کے راستوں میں بیٹھا سو اسلام کے راستے میں بھی بیٹھا اور کہا کہ تو مسلمان ہوتا ہے اور اپنا اور اپنے بزرگوں کا دین چھوڑتا ہے ؟ لیکن اس نے شیطان کی نافرمانی کی اور مسلمان ہوگیا، پھر اس (ابن آدم) کے پاس ہجرت سے پہلے آیا اور کہا کہ تو ہجرت کررہا ہے اور اپنی زمین اور اپنی جائے نشوونما اور جائے پیدائش چھوڑرہا ہے ؟ اور اپنے گھر والوں کو ضائع کررہا ہے ؟ لیکن اس نے شیطان کی نافرمانی کی اور ہجرت کرلی، پھر اس کے پاس جہاد سے پہلے آیا، اور کہا اس نے اس کی نافرمانی کی اور جہاد کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ جس نے یہ سب کیا اور سواری سے گرا اور مرگیا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے اور اگر قتل ہوگیا اور گرز گیا تو اللہ کے ذمے ہے کہ اس کو جنت میں داخل کرے “۔ (ابونعیم)
11340 عن سالم بن أبي الجعد ، قال : حدثني جابر بن سبرة الاسدي ، قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : وهو يذكر الجهاد ، فقال : إن الشيطان جلس لابن آدم بطرقه ، فجلس على طريق الاسلام ، فقال : تسلم وتدع دينك ودين آبائك ؟ فعصاه فأسلم ، ثم أتاه من قبل الهجرة ، فقال : تهاجر وتدع أرضك ومنماك ومولدك ؟ وتضيع عيالك ؟ فعصاه فهاجر ، ثم أتاه من قبل الجهاد ، فقال : تجاهد وتهراق دمك وتنكح زوجتك ويقسم مالك وتضيع عيالك ؟ فعصاه فجاهد ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فحق على الله من فعل ذلك فخر من دابته فمات فوقع أجره على الله ، وإن لسعته دابة فمات فقد وقع أجره على الله ، وإن قتل فقضى فحق على الله أن يدخله الجنة.

(أبو نعيم) وقال : هذا مما وهم فيه طارق بن عبد العزيز بن طارق تفرد بذكر جابر ورواه ابن فضيل عن موسى بن أبي جعفر عن سالم عن سبرة بن أبي فاكه وهو المشهور.ومر برقم [ 10569 ].
tahqiq

তাহকীক: