কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০০ টি

হাদীস নং: ১১৩০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11297 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ کے رسول محمد کی طرف سے بکربن وائل کے لئے، اسلام قبول کرلو محفوظ ہوجاؤ گے “۔ (مسند احمد ابی یعلی طبرانی سعید بن منصور بروایت حضرت انس (رض) مسند احمد بروایت حضرت مرثد بن ظبیان)
11301 من محمد رسول الله إلى بكر بن وائل : أسلموا تسلموا.(ع طب ص عن أنس) (حم عن مرثد بن ظبيان)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11298 ۔۔۔ اللہ کے رسول محمد کی طرف سے فارس کے سب سے بڑے (شخص) کسریٰ کی طرف یہ کہ اسلام قبول کرلو محفوظ ہوجاؤ گے جس نے ہماری گواہی کی طرح گواہی دی اور ہمارے قبلے کو اپنا قبلہ بنایا اور ہمارے ہاتھوں ذبح شدہ جانور کھایا تو اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ ہے “۔ (خطیب عن ابی معشر عن بعض المشیخۃ)
11302 من محمد رسول الله إلى كسرى عظيم فارس أن أسلم تسلم ، من شهد شهادتنا وساتقبل قبلتنا وأكل ذبيحتنا فله ذمة الذله وذمة رسوله.

(الخطيب عن أبي معشر عن بعض المشيخة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11299 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ کے رسول محمد کی طرف سے قیلہ اور تینوں عورتوں کی طرف، ان پر ظلم نہ کیا جائے گا، ان کو نکاح پر مجبور نہ کیا جائے گا، اور ہر مومن یا مسلم ان کا ذمہ دار و مددگار ہوگا، اچھائیاں کرو اور برائیاں نہ کرو “۔ (طبرانی بروایت حضرت قیلہ بنت مخرمۃ (رض))
11303 من محمد رسول الله لقيلة والنسوة الثلاث : لا يظلمن حقا ولا تستكرهن على نكاح وكل مؤمن أو مسلم لهن ولي وناصرأحسن ولا تسئن.

(طب عن قيلة بنت مخرمة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
فرمایا کہ اللہ کی قسم میں قریش سے ضرور جنگ کروں گا، اللہ کی قسم میں قریش سے ضرور جنگ کروں گا، ان شاء اللہ
11304 والله لاغزون قريشا ، والله لاغزون قريشا إن شاء الله.

(طب عن ابن عباس)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11300 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اے قریش کے گروہ ! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں تمہاری طرف صرف پاک کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں “۔ طبرانی بروایت حضرت عمرو (رض))
11305 يا معشر قريش أما والذي نفسي بيده ما أرسلت اليكم إلا بالذبح.(طب عن عمرو).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11302 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ تم لوگوں کو وہ کچھ سکھاؤں جو تم نہیں جانتے ان علوم میں سے جو آج کے دن اللہ تعالیٰ نے مجھے سکھائے ، سو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہر وہ مال جو میں نے اپنے بندوں کو دیا ہے تو وہ حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو یکسو پیدا کیا ہے لیکن شیاطین نے انھیں فتنے میں مبتلا کردیا اور ان کو ان کے دین سے دوسری طرف پھیر دیا اور وہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو میں نے حلال کی تھیں اور ان کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دینے لگے جس کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور بیشک اللہ تعالیٰ نے اہل زمین کی طرف دیکھا تو غریب ہوں یا عجم سب کو پسند کردیا علاوہ بقیہ اہل کتاب کے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ قریش سے جنگ کروں تو میں نے عرض کیا کہ اے میرے رب ! پھر تو وہ میرے سر کا پچکا دیں گے اور اس کو (سرکے بجائے) روٹی کہیں گے توا للہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے آپ کو بھیجا ہی اس لیے ہے کہ آپ کو آزماؤں اور آپ کے ۔۔۔ آزماؤں اور میں نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جسے پانی نہیں دھوسکتا آپ اس کو سوتے جاگتے پڑھیں گے، سو ان سے جنگ کیجئے ہم آپ کے ساتھ مل کر لڑیں گے اور خرچ کیجئے آپ پر خرچ کیا جائے ، اور آپ لشکر بھیجئے، اس جیسے پانچ گنا کے ساتھ ہم آپ کی مدد کریں گے اور اپنے فرمان برداروں کو شانہ بشانہ لے کر اپنے نافرمانوں کے ساتھ قتال کیجئے “۔ (طبرانی بروایت حضرت عبادۃ بن عمار (رض))
11306 إن الله تعالى أمرني أن أعلمكم ما جهلتم ، مما علمني في يومي هذا ، فاتنه قال : إن كل مال نحلته عبادي فهو حلال ، وإني خلقت عبادي حنفاء كلهم فافتنتهم الشياطين فاجتالتهم عن دينهم ، وحرمت عليهم ما أحللت لهم ، وأمرتهم أن يشركوا بي ما لم أنزل به سلطانا ، وإن الله نظر إلى أهل الارض فمقتهم عربيهم وعجميهم إلا بقايا من أهل الكتاب وإن الله أمرني أن أغزو قريشا فقلت : يا رب إنهم إذا يثلغوا رأسي حتى يدعوه خبزت ، فقال : إنما بعثتكك لابتليك ، وابتلى بك ، وقد أنزلت عليك كتابا لا يغسله الماء تقرؤه في المنام واليقظة ، فاغزوهم نغزك وأنفق ينفق عليك ، وابعث جيشا نمدك بخمسة أمثالهم ، وقاتل بمن أطاعك من عصاك.

(طب عن عياض بن حمار)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11303 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ہائے قریش کی بربادی، جنگ انھیں کھا گئی، بھلا اگر وہ میرے اور باقی عربوں کے درمیان سے نکل جائیں تو ان کو کیا ہوجائے گا، پھر اگر میرے ساتھ انھوں نے وہ معاملہ کردیا جو وہ چاہتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ عطا فرمادیا تو وہ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوں گے اور اگر وہ قبول نہ کریں گے تو ان کے ساتھ قتال کرو اور ان کے پاس طاقت بھی ہے، اور تم قریش کو کیا سمجھتے ہو ؟ سو اللہ کی قسم میں ان سے جہاد کرتا ہی رہوں گا اس پر جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان پر غلبہ عطا فرمائیں یا یہ جماعت الگ ہوجائے “۔
11307 يا ويح قريش لقد أكلتهم الحرب فماذا عليهم لو خلوا بيني وبين سائر العرب ؟ فان أصابوني كان الذي أرادوا ، وإن الله أظهرني عليه دخلوا في الاسلام وافرين ، وإن لم يقبلوا قاتلوا وبهم قوة ، فما تظن قريش ؟ فو الله لا أزال أجاهدهم على الذي بعثني الله به حتى يظهرني الله أو تنفرد هذه السالفة.

(طب عن المسور بن مخرمة ومروان ابن الحكم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11304 ۔۔۔ فرمایا کہ ” شاید کہ تو میری مسجد اور قبر کے پاس سے گزرے اور میں نے تجھے ایسی نرم دل قوم کی طرف بھیجا ہے جو حق پر قتال کرتے ہیں سو ان میں سے جو تیرے فرمان بردار ہیں ان کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ قتال کر جو تیرے نافرمان ہیں پھر وہ اسلام کی طرف آئیں گے یہاں تک کہ عورت اپنے شوہر سے پہلے اسلام کی طرف بڑھے گی اور بیٹا باپ سے پہلے اور بھائی بھائی سے پہلے اور دونوں عملوں سے گلیوں میں سکون پھیلا “۔ (مسند احمد، طبرانی متفق علیہ بروایت حضرت معاذ (رض))
11308 لعلك أن تمر بمسجدي وقبري وقد بعثتك إلى قوم رقيقة قلوبهم يقاتلون على الحق ، فقاتل بمن أطاعك منهم من عصاك ، ثم يفيئون إلى الاسلام حتى تبادر المرأة زوجا والولد والده والاخ أخاه ، وانزل بين الحيين السكاسك والسكون.

(حم طب ق عن معاذ).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11305 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اما بعد ! سرزمین روم سے مدینہ کی طرف واپس لوٹتے ہوئے تمہارا نمائندہ ہم تک پہنچا اور وہ چیز پہنچائی جو تم نے اسے دے کر بھیجا تھا اور تمہارے بارے میں اطلاع دی اور ہمیں تمہارے اسلام اور مشرکوں کو قتل کرنے کے بارے میں بتایا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی ہدایت سے نوازا اگر تم نے اصلاح کی، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ، نماز قائم کی زکوۃ ادا کی اور مال غنیمت میں سے اللہ کا خمس اور اس کے نبی اور صفی کا حصہ نکالا اور وہ صدقہ بھی نکالو جس کی ادائیگی مومنین پر ضروری ہے “۔ (ابن سعید بروایت شھاب بن عبداللہ الخولانی عن رجل) یہ روایت اس شخص سے ہے جو فساط میں غوطہ نامی جگہ پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملا اور حمیر والوں کا پیغام پہنچایا تو جواب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ تحریر لکھوائی۔ علاوہ ازیں دیکھیں مراسیل ابو داؤد۔
11309 أما بعد ذلك فانه قد وقع بنا رسولكم مقفلنا من أرض الروم بالمدينة فبلغ ما أرسلتهم به وخبر عما كان قبلكم وأنبأنا باسلامكم وقتلكم المشركين ، فان الله قد هداكم بهداه ، إن أصلحتم وأطعتم الله ورسوله وأقمتم الصلاة وآتيتم الزكاة وأعطيتم من المغنم خمس الله وسهم النبي وصفيه وما كتب على المؤمنين من الصدقة.

(ابن سعد عن شهاب ابن عبد الله الخولاني عن رجل من حمير وفد على رسول الله صلى الله عليه وسلم موضع فسطاط المسلمين في الملاحم أرض يقال لها الغوطة) (د في مراسيله كر عن مكحول) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11306 ۔۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، اللہ کے رسول محمد کی طرف سے بدیل بن ورقاء اور بشر اور بنی عمرو کے سرداروں کی طرف، سلامتی ہو تم پر سو میں تمہارے سامنے اللہ کی تعریف بیان کرتا ہوں کہ جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، اما بعد، سو میں نے کبھی چھپا کر کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ کبھی تمہارے پہلو میں رکھا اور اہل تہامہ میں سے میرے نزدیک سب سے معزز یقیناً تم لوگ ہو اور رشتے داری کے اعتبار سے بھی سب سے زیادہ قریب تم ہو اور وہ جو تمہاری اتباع کریں نیکوکاروں میں سے، اور تم میں سے جنہوں نے ہجرت کی ہے ان کے لیے بھی میں نے ویسا ہی لیا ہے جیسا اپنے لیے لیا ہے اگرچہ اس نے اپنی سرزمین سے ہجرت کی ہو بجائے مکہ کے اور کبھی حج و عمرۃ کے علاوہ مکہ گیا بھی نہ ہو، اور جب تم نے اسلام قبول کرلیا تو میں نے نہیں رکھا تم میں کچھ، اور تم میری طرف سے خوفزدہ بھی نہ تھے اور نہ تم میرے پاس حاضر کئے گئے تھے۔ اما بعد، بیشک علقمہ بن عبلہ اور ھوذۃ کے دونوں بیٹے اسلام قبول کرچکے اور انھوں نے ہجرت کی اور تمہارے متبعین میں سے عکرمہ وغیرہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور تم میں سے اپنے تابع کے لیے بھی وہی پسند کیا جو اپنے لیے کیا تھا اور بیشک ہم میں سے بعض حل وحرم میں ہیں، اور اللہ کی قسم میں نے کبھی تمہیں نہیں جھٹلایا، اللہ تعالیٰ تم پر سلامتی بھیجیں۔ (ابن سعد بروایت قبیصہ بن ذوئب، اور باوردی فاکھی فی اخبار مکہ، طبرانی، ابو نعیم، سعید بن منصور اور مصنف بن ابی شیبہ ایک دوسرے طریق سے۔
11310 بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله إلى بديل ابن ورقاء وبشر وسروات بني عمرو سلام عليكم فاني أحمد الله اليكم الذي لا إله إلا هو ، أما بعد فاني لم أثم بالكم ولم أضع في جنبكم وإن أكرم أهل تهامة علي لانتم وأقربهم رحما ، ومن تبعكم من المطيبين وإني قد أخذت لمن هاجر منكم مثل ما أخذت لنفسي ولو هاجر بأرضه غير سكن مكة إلا معتمرا أو حاجا وإني لم أضع فيكم إذا سلمتم وإنكم غير خائفين ممن قبلي ولا محضورين ، أما بعد فانه قد أسلم علقمة بن عبله وابنا هوذة وهاجرا وبايعا على من تبعهم عن عكرمة وأخذ لمن تبعه منكم مثل ما أخذ لنفسه ، وإن بعضنا من بعض في الحل والحرم ، وإني والله ما كذبتكم وليحيكم ربكم.

(ابن سعد عن قبيصة بن ذوئب) (الباوردي والفاكهي في أخبار مكة طب وأبو نعيم ص) وروى (ش) بعضه من وجه آخر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11307 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ضرور بنو رابعہ باز آجائیں گے ورنہ میں ان کی طرف ایسا شخص بھیجوں گا جیسے میں خود سو وہ ان میں میرا حکم جاری کرے گا اور زبردست قتال کرے گا اور بچوں کو قیدی بنائے گا “۔ (ابن ابی شیبہ، رویانی، سعید بن منصور بروایت حضرت ابو ذر (رض))
11311 لينتهين بنو رابعة أو لابعثن إليهم رجلا كنفسي فيمضي فيهم أمري فيقتل المقاتلة ويسبي الذرية.(ش والروياني ص عن أبي ذر).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھواں باب۔۔۔ جہاد کے ملحقات کے بیان میں
11308 ۔۔۔ فرمایا ” ہر وہ شخص جس نے اپنے بیٹے کو پہچان لیا اور اس کو لے لیا تو اس بیٹے کا مالک بننا ہی اس کی آزادی ہے “۔ (بقی بن مخلد، وابن جریری فی التھذیب اور باوردی)
11312 أيما رجل عرف ابنه فأخذه ففكاكه رقبته.(بقي بن مخلد وابن جرير في التهذيب والباوردي عن.).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریبی رشتہ کا مالک بنتے ہی آزاد ہونا

فائدہ :۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جیسے ہی اپنے ذمی رحم محرم کا مالک بنے گا تو اس کے مالک بنتے ہی مملوک خود بخود آزاد ہوجائے گا، جیسے کسی شخص کا بیٹا اگر غلام ہو اور کسی بازار وغیرہ میں بک رہا ہو اور وہ شخص اس کو پہچا
11309 ۔۔۔ فرمایا کہ ” تو نے اس سے یہ کیوں نہیں کہا کہ اس (لڑکی یا عورت) کو پکڑلے میں تو انصاری لڑکا ہوں “۔ (بغوی عن ابی عقبۃ الفارسی)
11313 فهلا قلت خذها وأنا الغلام الانصاري.(البغوي عن أبي عقبة الفارسي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریبی رشتہ کا مالک بنتے ہی آزاد ہونا

فائدہ :۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جیسے ہی اپنے ذمی رحم محرم کا مالک بنے گا تو اس کے مالک بنتے ہی مملوک خود بخود آزاد ہوجائے گا، جیسے کسی شخص کا بیٹا اگر غلام ہو اور کسی بازار وغیرہ میں بک رہا ہو اور وہ شخص اس کو پہچا
11310 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اگر تو نے بہت اچھا اور زبردست قتال کیا ہے تو سہل بن حنیف اور ابودجانہ اور سماک بن خرشہ نے بھی بہت عمدۃ قتال کیا ہے “۔ (طبرانی ، مستدرک حاکم بروایت حضرت ابن عباس (رض))
11314 لئن كنت أحسنت القتال لقد أحسنه سهل بن حنيف وأبو دجانة سماك بن خرشة.(طب ك عن ابن عباس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریبی رشتہ کا مالک بنتے ہی آزاد ہونا

فائدہ :۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جیسے ہی اپنے ذمی رحم محرم کا مالک بنے گا تو اس کے مالک بنتے ہی مملوک خود بخود آزاد ہوجائے گا، جیسے کسی شخص کا بیٹا اگر غلام ہو اور کسی بازار وغیرہ میں بک رہا ہو اور وہ شخص اس کو پہچا
11311 ۔ فرمایا کہ ” جو کسی غلام کو لے کر آئے تو اس غلام کا مال اس لانے والے کا ہوگا (ابن ماجہ عن رجل عن الصحابہ (رض))
11315 ما أتى بمولى فله سلبه.(ه عن رجل من الصحابة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریبی رشتہ کا مالک بنتے ہی آزاد ہونا

فائدہ :۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جیسے ہی اپنے ذمی رحم محرم کا مالک بنے گا تو اس کے مالک بنتے ہی مملوک خود بخود آزاد ہوجائے گا، جیسے کسی شخص کا بیٹا اگر غلام ہو اور کسی بازار وغیرہ میں بک رہا ہو اور وہ شخص اس کو پہچا
11312 ۔۔۔ فرمایا کہ ” بیشک اس امت کا انجام تلوار ہے ، اور اس کے لیے مقررہ وقت قیامت ہے اور قیامت بہت اندھیری اور کڑوی ہے “۔ (طبرانی بروایت حضرت معقل بن یسار (رض))
11316 إن عقوبة هذه الامة السيف ، وموعدهم الساعة ، والساعة أدهى وأمر.(طب عن معقل بن يسار).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریبی رشتہ کا مالک بنتے ہی آزاد ہونا

فائدہ :۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جیسے ہی اپنے ذمی رحم محرم کا مالک بنے گا تو اس کے مالک بنتے ہی مملوک خود بخود آزاد ہوجائے گا، جیسے کسی شخص کا بیٹا اگر غلام ہو اور کسی بازار وغیرہ میں بک رہا ہو اور وہ شخص اس کو پہچا
11313 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ابتداء دنیا سے لے کر قیامت تک جب بھی دو صفیں (جنگ کے لئے) آپس میں ملتی ہیں تو اللہ الرحمن کا ہاتھ ان کے درمیان میں ہوتا ہے، سو جب وہ اپنے کسی بندے کی مدد کا ارادہ فرماتا ہے تو اپنے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیتا ہے کہ ” اس طرح “ اور پھر پلک جھپکتے ہی دوسری جانب کو شکست ہوجاتی ہے “۔ (دیلمی بروایت حضرت ابوامامۃ (رض) اور عسکری فی الامثال عن سعید بن ابی ھلال مرسلا)
11317 ما التقى الصفان منذ كانت الدنيا إلى أن تقوم الساعة إلا كان يد الرحمن بينهما ، فإذا أرد نصر عبد قال بيده هكذا فينهزمون كطرف العين.(الديلمي عن أبي أمامة) (العسكري في الامثال عن سعيد بن أبي هلال) مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قریبی رشتہ کا مالک بنتے ہی آزاد ہونا

فائدہ :۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جیسے ہی اپنے ذمی رحم محرم کا مالک بنے گا تو اس کے مالک بنتے ہی مملوک خود بخود آزاد ہوجائے گا، جیسے کسی شخص کا بیٹا اگر غلام ہو اور کسی بازار وغیرہ میں بک رہا ہو اور وہ شخص اس کو پہچا
11314 ۔۔۔ فرمایا کہ ” خوشی ہوتی ہے ہمارے رب کو ان دو آدمیوں سے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا تھا اور دونوں جنت میں داخل ہوجاتے ہیں “۔ (ابن خزیمہ بروایت حضرت انس (رض))
11318 يعجب ربنا من رجلين يقتل أحدهما الآخر كلاهما يدخل الجنة.

(ابن خزيمة عن أنس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11315 ۔۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ ان کے لیے میں وضو کا پانی رکھوں ، پھر فرمایا کہ اپنے کپڑے سے مجھے چھپاؤ اور میری طرف سے اپنا رخ دوسری طرف پھیرلو، پھر فرمایا کہ اللہ کی قسم میں قریش سے ضرور جنگ کروں گا اللہ کی قسم میں قریش سے ضرور جنگ کروں گا “۔ (نسائی فی مسند علی (رض))
11319 عن علي رضي الله عنه قال : أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أضع له وضوءا ، ثم قال : استرني بثوبك وولني ظهرك ، ثم قال : والله لاغزون قريشا ، والله لاغزون قريشا.(ن في مسند علي).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৩২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ افعال کی اقسام میں سے

جہاد کی فضیلت اور اس پر ترغیب کے بیان میں
11316 ۔۔۔ حضرت سعید بن جبیر الرعینی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لشکر کے ساتھ مشایعت کی اور ان کے ساتھ چلے اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمارے قدموں کو اپنے راستے میں غبار آلود فرمایا، ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت ہم نے تو صرف مشایعت کی ہے تو فرمایا کہ ہم نے ان کو تیار کیا، ہم نے ان کے ساتھ مشایعت کی اور ہم نے ان کے لیے دعا کی “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ اور متفق علیہ)

فائدہ :۔۔۔ لشکر کی روانگی یا کسی جانے والے شخص کے ساتھ روانہ ہوتے ہوئے کچھ دور تک جانے کو مشایعت کہتے ہیں “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11320 عن سعيد بن جبير الرعيني عن أبيه أن أبا بكر شيع جيشا فمشى معهم فقال : الحمد لله الذي اغبرت أقدامنا في سبيل الله ، فقال رجل : إنما يشعناهم ، فقال : جهزناهم وشيعناهم ودعونا لهم.

(ش ق).
tahqiq

তাহকীক: