কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৭০১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11697 ۔۔۔ بنو خثعم کے ایک شخص کتے ہیں کہ میرے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو میں لے کر حضرت علی (رض) کی خدمت میں آیا تو انھوں نے اس کو سو میں رکھا “۔ (ابوعبید)
11701- عن رجل من خثعم قال: ولد لي ولد فأتيت به عليا فأثبته في مائة. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11698 ۔۔۔ تمیم بن نسیح کہتے ہیں کہ میں منبوذ میں حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہواتوسو میں باقی رکھا “۔ (ابوعبید)
11702- عن تميم بن منيح قال: أتيت عليا بمنبوذ فأثبته في مائة. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11699 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے سال میں تین مرتبہ وظائف دئیے، پھر ان کے پاس احسبہان سے مال آیا تو فرمایا کہ چوتھی وظیفے کی طرف چلو میں تمہارا خازن نہیں ہوں تورسیاں تک تقسیم کردیں، بعض قبیلوں نے لے لیں اور بعض نے واپس کردیں “۔ (ابو عبید فی الاموال)
11703- عن علي أنه أعطى العطاء في سنة ثلاث مرات، ثم أتاه مال من أصبهان، فقال: اغدوا إلى عطاء رابع، إني لست بخازنكم، فقسم الحبال فأخذها قوم وردها قوم. "أبو عبيد في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11700 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ سلطان جو دے وہ لے لو کیونکہ تیرا مال اس کے مال میں حلال سے زیادہ ہے “۔ (وکیع وابن جریر)
11704- عن علي قال: خذ من السلطان ما أعطاك، فإن مالك في ماله من الحلال أكثر. "وكيع وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11701 ۔۔۔ عنترۃ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کو دیکھا کہ لوگوں کے غلاموں کو وظائف دے رہے تھے “۔ (متفق علیہ)
11705- عن عنترة قال: شهدت عليا وعثمان يرزقان أرقاء الناس. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11702 ۔۔۔ ام العلاء کہتی ہیں کہ ان کے والد ان کو لے کر حضرت علی (رض) کے پاس آئے تو انھوں نے ان کے لیے بھی وظیفہ مقرر کیا حالانکہ یہ چھوٹی اور فرمایا کہ وہ بچہ جو کھانا کھائے اور روٹی کے ٹکرے توڑے اس مولود سے زیادہ حق دار نہیں ہے جو ابھی صرف دودھ ہی پیتاہو “۔ (متفق علیہ)
11706- عن أم العلاء أن أباها انطلق بها إلى علي، ففرض لها في العطاء وهي صغيرة، وقال علي: ما الصبي الذي أكل الطعام، وعض الكسرة بأحق بهذا العطاء من المولود الذي عض الثدي. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11703 ۔۔۔ حضرت علی (رض) نے ایک عورت اور اس کے خادم کے لیے زیادہ درھم مقرر کئے، عورت کے آٹھ اور خادم کے لیے چار اور آٹھ میں سے دودرھم روٹی اور کتان کے لیے تھے “۔ (دارقطنی، متفق علیہ)
11707- عن علي أنه فرض لامرأة وخادمها اثنى عشر درهما: للمرأة ثمانية، وللخادم أربعة، ودرهمان من الثمانية للقطن والكتان. "قط ق" وضعفه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11704 ۔۔۔ نافع فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج میں سے ہر ایک کو خیبر کے مال سے اسی وسق کھجوریں اور بیس وسق جو دیتے تھے، جب حضرت عمر (رض) آئے تو انھوں نے امہات المومنین کو اختیاردیا کہ وہ وہی قبول کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبارک دور میں ملتا تھا تو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور ام المومنین حفصہ (رض) نے یہ پسند کیا کہ ان کو زمین اور پانی وغیرہ دے دیا جائے تاکہ یہ پھر اس کے لیے میراث ہو جس کا یہ وراث بنانا پسندکریں “۔ (ابن وھب)
11708- عن نافع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى أزواجه من خيبر كل امرأة منهن ثمانين وسقا من تمر وعشرين وسقا من شعير، فلما كان عمر بن الخطاب خيرهن أن يضمن لهن ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطاهن فاختارت عائشة وحفصة أن يقطع لهما من الأرض والماء فصار ميراثا لمن ورثهن. "ابن وهب في مسنده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭০৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11705 ۔۔۔ حضرت ابوطبیان الاسدی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں پہنچاتو آپ نے مجھ سے پوچھا کہ اے ابوطبیان اعراق میں تمہارا مال گیا ہے، میں نے عرض کیا کہ نہیں، قسم اس ذات کی جس نے آپ کو نیک بخت بنایا ہم نہیں جانتے کہ اس مال کا کیا کریں گے ؟ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو قادسیہ آیاہو اور اس کو ڈیڑھ یادوہزار وظیفہ نہ ملتاہو، اور ہمارے جنتنے بھی بیٹے بھتیجے ہیں ان کو چانچ سو سے تین سو تک وظیفہ ملتاہو، اور ہم میں سے کوئی بال بچے دار ایسا نہیں جس کو ہر ماہ دوتھیلے نہ ملتے ہوں خواہ وہ کھائے یا نہ کھائے جب اتناسب کچھ ہورہا ہے تو تم نہیں جانتے کہ اتنے مال سے ہم کیا کریں گے، فرمایا جی ہاں ہم مناسب سمجھیں گے وہاں اس مال کو خرچ کریں گے اور جہاں مناسب نہ سمجھیں گے وہاں نہ کریں گے، وہ تمہارا حق ہے جو میں تمہیں دیتاہوں، اس پر میری تعریف مت کرو، جب میں اس مال کو تمہارے حوالے کرتا ہوں اور تم لوگ قبول کرلیتے ہو تو میں نیک بخت ہوجاتا ہوں اگر یہ (میرے باپ) خطاب کا مال ہوتا تو پھر میں تمہیں نہ دیتا اور میری نصیحت تمہارے لیے اور جیسے تمہارے لیے ہے ایسے ہی اس کے لیے بھی ہے جو اسلامی سرحدوں کے انتہائی کناروں پر رہتا ہو، سو جب تجھے تیرا وظیفہ ملے تو اس سے بکریاں خریدلے اور اپنے جنگل میں رکھ لے پھر جو وظیفہ لے تو اس سے ایک یادوغلام خریدلے اور مال باندھ لے، کیونکہ میں ڈرتاہوں کہ میرے بعدای سے آئیں گے جو تمہیں گن گن کر عطایادیا کریں گے اپنے زمانوں میں ہو اور تو یا تیرے گھروالوں میں سے کوئی باقی رہا تو جو چیز ملے اسے لے لینا “۔ (علی بن معبد فی طاعۃ وعصیان)
11709- عن أبي ظبيان الأسدي قال: وفدت على عمر بن الخطاب فسألني فقال: يا أبا ظبيان ما مالك بالعراق؟ قلت: لا والذي أسعدك ما ندري ما نصنع به؟ ما منا من أحد قد قدم القادسية إلا عطاؤه ألفان أو ألف وخمسمائة، ولا لنا ولد أو ابن أخ إلا في خمسمائة أو ثلثمائة، وما منا من أحد له عيال إلا له جريبان كل شهر، أكل أو لم يأكل، فإذا اجتمع هذا لم ندر ما نصنع به قال: إنا لننفقه فيما ينبغي، وفيما لا ينبغي، قال: هو حقكم أعطيتكموه فلا تحمدوني عليه، وأنا أسعد بأدائه إليكم منكم بأخذه ولو كان مال الخطاب ما أعطيتكموه فإن نصحي لك وأنت عندي كنصحي لمن هو بأقصى ثغر من ثغور المسلمين فإذا خرج عطاؤك فاشتر منه غنما فاجعلها لسوادكم، وإذا خرج فابتاع الرأس أو الرأسين فاعتقل منه مالا فإني أخاف أن يليكم ولاة يعدون العطاء في زمانهم مالا فإن بقيت أنت أو أحد من عيالك كان لك شيء اعتقلتموه. "علي بن معبد في الطاعة والعصيان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11706 ۔۔۔ نافع حضرت ابن عمر (رض) سے اور وہ حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوارکو ایک حصہ اور اس کے گھوڑے کو دوحصے عطا فرمائے “۔ (ابوالحسن عی بن عبدالرحمن بن ابی السری البکالی فی جزء من حدیثہ)
11710- عن نافع عن ابن عمر عن عمر قال: أسهم رسول الله صلى الله عليه وسلم للفارس سهما وللفرس سهمين. "أبو الحسن علي بن عبد الرحمن بن أبي السري البكالي في جزء من حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت کا پانچواں حصہ فقراء کا حق ہے
11707 ۔۔۔ حضرت نافع ابن عمر (رض) سے اور وہ حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑے کو دوحصے اور سوار کو ایک حصہ عطا فرمایا “۔ (ابوالحسن البکالی)
11711- عن نافع عن ابن عمر عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم أسهم للفرس سهمين وللرجل سهما. "أبو الحسن البكالي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
11708 ۔۔۔ حضرت نافع حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جتنا وظیفہ میرے لیے مقرر کیا تھا، اسامہ بن زید کے لیے اس سے زیادہ وظیفہ مقرر کیا، میں نے عرض کیا کہ میرا اور اسامہ بن زیدکاھجرہ ایک ہی ہے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس کا باپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھا اور تو نے تو اپنے باپ کے ساتھ ہجرت کی تھی “۔ (ابوالحسن البکالی)
11712- عن نافع عن ابن عمر أن عمر فرض لأسامة بن زيد أكثر مما فرض لي، فقلت: إنما هجرتي وهجرة أسامة واحدة؟ فقال: إن أباه كان أحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك وإنما هاجر بك أبوك. "أبو الحسن البكالي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
11709 ۔۔۔ محمد بن ھلال کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے میری دادی کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس جایا کرتی تھیں، ایک دن حضرت عثمان (رض) نے ان کو موجود نہ پایا تو پوچھا کہ آج فلاں فلاں خاتون نہیں آئی ؟ ان کی اھلیہ نے عرض کیا کہ اس کے ہاں آج ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، پھر فرماتی ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے میرے پاس پچاس درھم اور سنبلانیہ کا ٹکڑا بھیجا، پھر فرمایا کہ یہ تیرے بیٹے کا وظیفہ ہے اور یہ اس کالباس ہے، سو جب ایک سال گزر گیا تو ہمارا وظیفہ سو تک ہوگیا “۔ (ابوعبید فی الاموال)
فائدہ۔۔۔ ابو اسحق فرماتے ہیں کہ ان کے داداخیار حضرت عثمان (رض) کے پاس سے گزر ےتوحضرت عثمان (رض) نے دریافت فرمایا اے بزرگ آپ کے پاس کتنا مال ہے ؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ میرے پاس اتنااتنا مال ہے، تو حضرت عثمان (رض) نے پانچ صحابہ کرام (رض) کو زمین عطا فرمائی تھی، حضرت سعد، حضرت زبیر، حضرت ابن مسعود (رض)، حضرت اسامہ بن زید اور حضرت خباب بن ارت کو۔ چنانچہ حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت سعد (رض) اپنی زمین ثلث کے بدلے دیا کرتے تھے “۔ (مصنف عبدالرزاق، ابوعبید، متفق علیہ)
فائدہ۔۔۔ ابو اسحق فرماتے ہیں کہ ان کے داداخیار حضرت عثمان (رض) کے پاس سے گزر ےتوحضرت عثمان (رض) نے دریافت فرمایا اے بزرگ آپ کے پاس کتنا مال ہے ؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ میرے پاس اتنااتنا مال ہے، تو حضرت عثمان (رض) نے پانچ صحابہ کرام (رض) کو زمین عطا فرمائی تھی، حضرت سعد، حضرت زبیر، حضرت ابن مسعود (رض)، حضرت اسامہ بن زید اور حضرت خباب بن ارت کو۔ چنانچہ حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت سعد (رض) اپنی زمین ثلث کے بدلے دیا کرتے تھے “۔ (مصنف عبدالرزاق، ابوعبید، متفق علیہ)
11713- عن محمد بن هلال قال: حدثني أبي عن جدتي أنها كانت تدخل على عثمان ففقدها يوما، فقال لأهله: ما لي لا أرى فلانة؟ قالت امرأته ولدت الليلة غلاما، قالت: فأرسل إلي بخمسين درهما وشقيقة سنبلانية ثم قال: هذا عطاء ابنك، وهذه كسوته، فإذا مرت سنة رفعناه إلى مائة. "أبو عبيد في الأموال كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں ان کے دادا اخیار حضرت عثمان (رض) کے پاس سے گزرے تو حضرت عثمان (رض) نے دریافت فرمایا اے بزرگ آپ کے پاس کتنا مال ہے ؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ میرے پاس اتنا اتنا مال ہے تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ نے آپ کے لیے اتنا اتنا مقرر کردیا مجھے مقدار یاد نہیں اور فرمایا آپ آپ کی اولاد کے لیے سو ہیں۔
11714- عن أبي إسحاق أن جده الخيار مر على عثمان فقال له: كم معك من عيال يا شيخ؟ فقال: إن معي كذا فقال: قد فرضنا لك كذا وكذا ذكر شيئا لا أحفظه ولعيالك مائة مائة. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
موسیٰ بن حنظلہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین کو زمین عطا فرمائی حضرت سعد، حضرت زبیر، حضرت ابن مسعود، حضرت اسامہ اور حضرت خباب بن ارت رضوان اللہ علیہم اجمعین کو، چنانچہ حضرت ابن مسعود اور حضرت سعد اپنی زمین ثلث کے بدلے دیا کرتے تھے۔
11715- عن موسى بن طلحة أن عثمان أقطع خمسة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الزبير وسعدا وابن مسعود وأسامة بن زيد وخباب بن الأرت فكان ابن مسعود وسعد يعطيان أرضهما بالثلث. "عب وأبو عبيد ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
11712 ۔۔۔ حضرت عائشہ بنت قدامہ بن مظعون فرماتی ہیں کہ حضرت عثمان (رض) جب وظائف عطا فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد کو بلایا کرتے اور فرماتے کہ اگر تیرے پاس مال ہے جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے تو ہم حساب لگاکرتیرے وظیفے سے منہا کرلیں گے “۔ (ابوعبید فی الاموال)
11716- عن عائشة ابنة قدامة بن مظعون قالت: كان عثمان ابن عفان إذا خرج العطاء أرسل إلى أبي فقال: إن كان عندك مال قد وجبت فيه الزكاة حاسبناك به من عطائك. "أبو عبيد في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
11713 ۔۔۔ ابوالخلال العتکی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے سلطان کے وظائف کے بارے میں پوچھا ؟ تو فرمایا کہ ذبح شدہ ہرن کا گوشت “۔ (ابن جریر فی تھذیب الاثار اور وکیع فی القر)
11717- عن أبي الخلال العتكي قال: سألت عثمان بن عفان عن جوائز السلطان؟ فقال: لحم ظبي ذكي. "ابن جرير في تهذيب الآثار ووكيع في الغرر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
11714 ۔۔۔ قدامہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس جاتاتو اپنا وظیفہ وصول کرلیتا تھا، انھوں نے دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس ایسا مال ہے جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے، سو اگر میں کہتا جی ہاں ہے تو میرے مال سے زکوۃ وصول کرلیتے، اور اگر میں انکار کردیتا تو کچھ نہ لیتے “۔ (شافعی، متفق علیہ)
11718- عن قدامة قال: كنت إذا جئت عثمان بن عفان أقبض منه عطائي سألني هل عندك من مال وجبت فيه الزكاة؟ فإن قلت: نعم أخذ من عطائي زكاة ذلك المال، وإن قلت: لا، سلم إلي عطائي، ولم يأخذ منه شيئا. "الشافعي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭১৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ کی رعایت سے وظیفوں میں تفاوت
11715 ۔۔۔ حضرت سلمان (رض) فرماتے ہیں کہ وظیفہ وصول کرلوجب تک صاف ہو اگر تم پر معاملہ مشکوک ہوجائے تو بالکل ہی ترک کردو “۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11719- عن سلمان قال: خذوا العطاء ما صفا لكم، فإن كدر عليكم فاتركوه أشد الترك. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭২০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وظائف کی بقیہ روایات
11716 ۔۔۔ مسند عمر (رض) سے حضرت مسودبن مخرمہ (رض) فرماتے ہیں کہ قادسیہ کا مال غنیمت حضرت عمر (رض) کی خدمت میں لایا گیا حضرت عمر (رض) اس مال کو الٹ پلٹ دیکھنے لگے ساتھ ساتھ روتے جارہے تھے تو حضرت عبدالرحمن (رض) نے عرض کیا، اے امیر المومنین ! یہ تو فرحت اور خوشی کا دن ہے، تو فرمایا کہ ہاں ہاں لیکن یہ (مال) جس قوم کو بھی دیا گیا ہے ان میں عداوت اور بعض پیدا ہوجاتا ہے “۔ (الخرائطی فی مکارم الاخلاق، سنن کبری بیھقی)
11720- "مسند عمر رضي الله عنه" عن المسور بن مخرمة قال أتي عمر بن الخطاب بغنائم من غنائم القادسية، فجعل يتصفحها وينظر إليها، وهو يبكي، فقال له عبد الرحمن: يا أمير المؤمنين: هذا يوم فرح وسرور فقال: أجل، ولكن لم يؤت هذا قوم قط إلا أورثهم العداوة والبغضاء. "الخرائطي في مكارم الأخلاق هق".
তাহকীক: