কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
جہاد کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০০ টি
হাদীস নং: ১১৭৪১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11737 ۔۔۔ راشد بن سعد صحابہ کرام (رض) میں سے کسی صحابی سے روایت فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یارسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ شہید کے علاوہ باقی سب مسلمانوں کو قبر میں آزمایا جائے گا ؟ تو فرمایا کہ شہید کی آزمائش کے لیے تلواروں کی چمک ہی کافی ہے۔ (نسائی، دیلمی)
11741- عن راشد بن سعد عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أن رجلا قال: يا رسول الله ما بال المؤمنين يفتنون في قبورهم إلا الشهيد؟ فقال: كفى ببارقة السيوف على رأسه فتنة. "ن الديلمي" وسند صحيح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11738 ۔۔۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب حمزہ بن عبدالمطلب اور مصعب بن عمر (رض) جنگ احد میں شہید ہوئے تو کہا کہ کاش ہمارے بھائیوں کو علم ہوتا کہ ہمیں کتنی بڑی بھلائی ملی ہے تاکہ وہ اور زیادہ رغبت سے اللہ کے راستے پر نکلتے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرف سے یہ اطلاع مسلمانوں تک پہنچاؤں گا چنانچہ سورة آل عمران یہ آیت نازل ہوئی کہ ” جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں انھیں مردے نہ سمجھو “ سے لے کر ” مومنین “ تک۔ (سورة آل عمران، آیت 129 ۔ 171، مصنف ابن ابی شیبہ)
11742- عن سعيد بن جبير قال: لما أصيب حمزة بن عبد المطلب ومصعب بن عمير يوم أحد قالوا: ليت إخواننا يعلمون ما أصبنا من الخير كي يزدادوا رغبة فقال الله: أنا أبلغ عنكم فنزلت {وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتاً} إلى قوله {الْمُؤْمِنِينَ} ". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11739 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ احد کے شہداء کو ایک کپڑے میں لپیٹ لیتے پھر دریافت فرماتے کہ ان دونوں میں قرآن کس کو زیادہ یاد تھا ؟ تو جب ایک بارے میں بتادیاجاتا تولحد میں اسے آگے رکھتے اور فرمایا کہ قیامت کے دن ان لوگوں کا گواہ ہوں گا “ اور ان کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرمایا، نہ ان کو غسل دیا گیا اور نہ ان کے جنازے کی نماز پڑھی گئی “ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11743- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في الثوب الواحد ثم يقول: أيهم أكثر أخذا للقرآن؟ فإذا أشير إلى أحدهما قدمه في اللحد وقال: أنا شهيد على هؤلاء يوم القيامة وأمر بدفنهم بدمائهم ولم يصل عليهم ولم يغسلوا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11740 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تو غزوہ احد کے شہداء کو ان کے خون سمیت ہی دفن کردیا، اور یہ بھی حکم فرمایا کہ جو قرآن کو زیادہ لینے والا ہو اس کو آگے رکھو اور یہ بھی کہ ایک قبر میں دودودفن کئے جائیں چنانچہ اپنے والد اور چچا کو ایک قبر میں دفن کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
11744- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بالقتلى يوم أحد فزملوا بدمائهم وأن يقدم أكثرهم قرآنا أخذا للقرآن وأن يدفن اثنان في قبر قال: فدفنت أبي وعمي في قبر. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔ شہادت کی فضیلت اور اس کی اقسام کے بیان میں
11741 ۔۔۔ نعیم بن حجارالغطفانی فرماتے ہیں کہ ایک شخص جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں آیا اور عرض کیا کہ شہداء میں سے افضل کون ہیں ؟ فرمایا کہ وہ لوگ جو صفوں کی صفوں سے جاملتے ہیں اورادھرادھر متوجہ نہیں ہوتے یہاں تک کہ قتل ہوجاتے ہیں، یہی لوگ ہوں گے جو جنت میں اونچے اونچے کمروں میں رہیں گے اور تیرا رب ان کو خوشی سے دیکھے گا اور جب تیرا رب کسی کو کسی جگہ خوشی سے دیکھ لے تو اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔ (ابن زنجویہ)
11745- عن نعيم بن همار الغطفاني قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم: فقال أي الشهداء أفضل؟ قال: الذين يلقون الصف في الصف فلا يلفتون وجوههم حتى يقتلوا أولئك الذين يتلبطون في الغرف العلى في الجنة يضحك إليهم ربك وإذا ضحك ربك إلى عبد في موطن فلا حساب عليه. "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11742 ۔۔۔ حضرت ابوبکرصدیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غار میں تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا فرمائی اے میرے اللہ ! نیزہ اور طاعون، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے معلوم ہے کہ آپ نے اپنی امت کی تمنائیں مانگی ہیں سو یہ طعنہ (نیزہ) سے توہم واقف ہیں لیکن یہ طاعون کیا چیز ہے ؟ فرمایا کہ ایک زخم پھوڑے کی مانند ہوتا ہے اگر تم زندہ رہے تو عنقریب دیکھو گے “۔ (مسندابی یعلی)
11746- "عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه" قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في الغار فقال: اللهم طعنا وطاعونا، قلت يا رسول الله: إني أعلم أنك سألت منايا أمتك فهذا الطعن قد عرفناه فما الطاعون؟ قال: ذرب كالدمل إن طالت بك حياة فستراه. "ع" وهو ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11743 ۔۔۔ ابوالسفری فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے شام کی طرف لشکر بھیجا تو ان سے طعنہ اور طاعون پر بیت لی۔ (مسدد)
11747- عن أبي السفر قال: كان أبو بكر إذا بعث إلى الشام بايعهم على الطعن والطاعون. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11744 ۔۔۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) شام روانہ ہوئے جب شام کے قریب پہنچے تو حضرت طلحہ بن عبداللہ اور حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) استقبال کے لیے شام کے باہرہی موجود تھے انھوں نے عرض کیا یا امیرالمومنین آپ کے ساتھ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بڑے بڑے صحابہ کرام (رض) ہیں اور ہم نے اپنے پیچھے ایسے لوگ چھوڑے ہیں جیسے کہ آگ سے جل گئے ہوں، اس بیماری کو طاعون کہا جاتا ہے چنانچہ آپ اس سال واپس تشریف لے جائیں چنانچہ حضرت عمر (رض) واپس تشریف لے آئے اور پھر اگلے سال شام تشریف لے گئے۔
فائدہ :۔۔۔ شہادت حکمی کے بیان میں طاعون کا ذکر لانے سے مراد یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی اس مرض میں مبتلا ہو کر مرجائے تو وہ حکماً شہید ہوگا جیسے کہ پہلے روایات میں گزر چکا ہے، اور اس کا حکم یہ ہے کہ جب کسی علاقے کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہاں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جانا چاہیے اور اگر کسی علاقے میں یہ بیماری پھیل جائے تو وہاں کے رہنے والوں کو وہ علاقہ چھوڑ کر بھاگنا نہ چاہیے، کیونکہ اگر اس بیماری سے بچ گئے تو فبہا اور اگر موت آگئی تو شہادت نصیب ہوجائے گی “۔ زیادہ تفصیل کی حاجت تو کسی مستند دارالافتاء مفتی سے رجوع کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ شہادت حکمی کے بیان میں طاعون کا ذکر لانے سے مراد یہ بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی اس مرض میں مبتلا ہو کر مرجائے تو وہ حکماً شہید ہوگا جیسے کہ پہلے روایات میں گزر چکا ہے، اور اس کا حکم یہ ہے کہ جب کسی علاقے کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہاں طاعون کی بیماری پھیلی ہوئی ہے تو وہاں نہ جانا چاہیے اور اگر کسی علاقے میں یہ بیماری پھیل جائے تو وہاں کے رہنے والوں کو وہ علاقہ چھوڑ کر بھاگنا نہ چاہیے، کیونکہ اگر اس بیماری سے بچ گئے تو فبہا اور اگر موت آگئی تو شہادت نصیب ہوجائے گی “۔ زیادہ تفصیل کی حاجت تو کسی مستند دارالافتاء مفتی سے رجوع کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11748- عن أنس أن عمر بن الخطاب أقبل ليأتي الشام فاستقبله طلحة ابن عبد الله وأبو عبيدة بن الجراح، فقالا: يا أمير المؤمنين إن معك وجوه أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وخيارهم وإنا تركنا بعدنا مثل حريق النار يقال له: الطاعون فارجع العام، فرجع فلما كان العام المقبل جاء فدخل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৪৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11745 ۔۔۔ طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس تھے تو ایک دن انھوں نے فرمایا کہ مجھ سے کم ملنا جلنا تمہیں تکلیف نہ دے گا کیونکہ یہ بیماری گھر والوں تک پہنچ چکی ہے یعنی طاعون، سو اگر کوئی کچھ تعبیر چاہے تو کرلے، اور ایسے دو آدمیوں سے بچو جن میں سے ایک کہنے والا یہ کہے کہ (اگر وہ کسی ایسی مجلس میں بیٹھا ہو جس میں کوئی طاعون کا مریض ہو) اور جو چلا گیا ہے (اگر وہ بچ گیا ہے تو ) یہ نہ کہے کہ اگر میں بیٹھ جاتا تو میں بھی اس بیماری میں مبتلا ہوجاتا جس میں وہ مبتلا ہوا جو اس مجلس میں بیٹھا تھا، کیونکہ میں تمہیں اس بیماری کے ظہور کے بارے میں وہ بات بتانے جارہا ہوں جو لوگوں کے لیے مناسب ہے (اور وہ یہ کہ ) جب امیر المومنین حضرت عمر (رض) نے سنا کہ شام میں بہت سے لوگ طاعون سے مرگئے ہیں تو انھوں نے حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح کو لکھا کہ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے جو آپ کے بغیر نہیں ہوسکتا سو جس رات آپ کو میرا خط ملے تو میرا خیال ہے کہ آپ کو اگلی ہی صبح روانہ ہوجانا چاہیے اور اگر خط دن کے وقت ملے تو شام تک آپ کو میرے پاس آنے کے لیے روانہ ہوجانا چاہیے۔
فاروق اعظم (رض) کے خط کا جواب
حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے جواب میں لکھا کہ مجھے معلوم ہے کہ امیر المومنین کو مجھ سے کیا کام ہے وہ اس کو بچانا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں ہے، اور لکھ کہ میں مسلمانوں کے لشکر میں ہوں، اور خود کو ان سے الگ نہیں کرسکتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کو مجھ سے کیا کام پڑگیا ہے آپ اس کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں ہے سو جیسے ہی آپ تک میرا خط پہنچے تو میرے بارے میں اپنے عزائم کو منسوخ کر دیجئے اور مجھے اجازت دیجئے کہ میں یہیں بیٹھا رہوں۔
حضرت عمر (رض) نے جیسے ہی جواب خط پڑھا آپ (رض) کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ رونے لگے آپ (رض) کے پاس موجود لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ یا امیر المومنین کیا حضرت ابو عبیدۃ (رض) کی وفات ہوگئی ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ نہیں۔
حضرت عمر (رض) نے یہ بھی لکھا تھا کہ اردن گہری وباؤں والی سرزمین ہے اور جابیہ بارونق وصحت بخش علاقہ ہے لہٰذا مہاجرین کو لے کر وہاں منتقل ہوجائیں، حضرت ابو عبیدۃ (رض) نے جب یہ خط پڑھا تو فرمایا کہ رہا یہ خط تو ہم اس میں امیر المومنین کا حکم سنتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں اور انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سوار ہوجاؤں اور لوگوں کو ان کے ٹھکانوں پر پہنچاؤں، اتنے میں میری بیوی طاعون میں مبتلا ہوگئی سو میں حضرت ابوعبیدۃ (رض) کے پاس آیا اور انھیں بتایا، چنانچہ حضرت ابو عبیدۃ (رض) فوری طور پر لوگوں کو ان کے (محفوظ) ٹھکانوں پر منتقل کرنے لگے، اسی دوران خود بھی اسی بیماری میں مبتلا ہو کر وفات پاگئے۔
ابوالموجہ کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ حضرت ابو عبیدۃ (رض) چھتیس ہزار (36000) مجاہدین کے ساتھ تھے جن میں سے صرف چھ ہزار (6000) باقی بچے۔
سفیان بن عینیہ نے اسی روایت کو طارق سے اپنی جامع میں اس سے مختصر روایت کیا ہے۔
فاروق اعظم (رض) کے خط کا جواب
حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے جواب میں لکھا کہ مجھے معلوم ہے کہ امیر المومنین کو مجھ سے کیا کام ہے وہ اس کو بچانا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں ہے، اور لکھ کہ میں مسلمانوں کے لشکر میں ہوں، اور خود کو ان سے الگ نہیں کرسکتا اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کو مجھ سے کیا کام پڑگیا ہے آپ اس کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں ہے سو جیسے ہی آپ تک میرا خط پہنچے تو میرے بارے میں اپنے عزائم کو منسوخ کر دیجئے اور مجھے اجازت دیجئے کہ میں یہیں بیٹھا رہوں۔
حضرت عمر (رض) نے جیسے ہی جواب خط پڑھا آپ (رض) کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ رونے لگے آپ (رض) کے پاس موجود لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ یا امیر المومنین کیا حضرت ابو عبیدۃ (رض) کی وفات ہوگئی ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ نہیں۔
حضرت عمر (رض) نے یہ بھی لکھا تھا کہ اردن گہری وباؤں والی سرزمین ہے اور جابیہ بارونق وصحت بخش علاقہ ہے لہٰذا مہاجرین کو لے کر وہاں منتقل ہوجائیں، حضرت ابو عبیدۃ (رض) نے جب یہ خط پڑھا تو فرمایا کہ رہا یہ خط تو ہم اس میں امیر المومنین کا حکم سنتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں اور انھوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سوار ہوجاؤں اور لوگوں کو ان کے ٹھکانوں پر پہنچاؤں، اتنے میں میری بیوی طاعون میں مبتلا ہوگئی سو میں حضرت ابوعبیدۃ (رض) کے پاس آیا اور انھیں بتایا، چنانچہ حضرت ابو عبیدۃ (رض) فوری طور پر لوگوں کو ان کے (محفوظ) ٹھکانوں پر منتقل کرنے لگے، اسی دوران خود بھی اسی بیماری میں مبتلا ہو کر وفات پاگئے۔
ابوالموجہ کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ حضرت ابو عبیدۃ (رض) چھتیس ہزار (36000) مجاہدین کے ساتھ تھے جن میں سے صرف چھ ہزار (6000) باقی بچے۔
سفیان بن عینیہ نے اسی روایت کو طارق سے اپنی جامع میں اس سے مختصر روایت کیا ہے۔
11749- عن طارق بن شهاب قال: كنا عند أبي موسى فقال لنا ذات يوم: لا يضركم أن تخففوا عني فإن هذا الداء قد أصاب في أهلي يعني الطاعون فمن شاء أن يعبره فليفعل واحذروا اثنتين، لا يقولن قائل إن هو جلس فعوفي الخارج لو كنت خرجت لعوفيت كما عوفي فلان، ولا يقولن الخارج إن عوفي وأصيب الذي جلس لو كنت جلست أصبت كما أصيب فلان، وإني سأحدثكم بما ينبغي للناس من خروج هذا الطاعون إن أمير المؤمنين كتب إلى أبي عبيدة بن الجراح حيث سمع بالطاعون الذي أخذ الناس بالشام إني بدت لي حاجة إليك فلا غني بي عنك فيها فإن أتاك كتابي ليلا فإني أعزم عليك أن تصبح حتى تركب إلي، وإن اتاك نهارا فإني أعزم عليك أن تمسي حتى تركب إلي، فقال أبو عبيدة: قد علمت حاجة أمير المؤمنين التي عرضت وإنه يريد أن يستبقي من ليس بباق، فكتب إليه إني في جند من المسلمين لن أرغب بنفسي عنهم وإني قد علمت حاجتك التي عرضت لك وإنك تستبقي من ليس بباق فإذا أتاك كتابي هذا فحللني من عزمك وائذن لي في الجلوس، فلما قرأ عمر كتابه فاضت عيناه وبكى، فقال له من عنده: يا أمير المؤمنين مات أبو عبيدة قال: لا، وكان قد كتب إليه عمر إن الأردن أرض وبية عمقة وإن الجابية أرض نزهة فاظهر بالمهاجرين إليها فقال أبو عبيدة حين قرأ الكتاب: أما هذا فنسمع فيه أمر أمير المؤمنين ونطيعه فأمرني أن أركب وأبويء الناس منازلهم فطعنت امرأتي فجئت أبا عبيدة فأخبرته فانطلق أبو عبيدة يبويء الناس منازلهم فطعن فتوفي وانكشف الطاعون،قال أبو الموجه: زعموا ان أبا عبيدة كان في ستة وثلاثين ألفا من الجند فماتوا فلم يبق إلا ستة آلاف رجل. "كر" وروى سفيان بن عيينة في جامعه عن طارق نحوه وأخصر منه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11746 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ (ایک نبی) نے اپنی امت کے لیے بددعا فرمائی تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان پر بھوک مسلط کر دوں، انھوں نے عرض کیا نہیں، پھر پوچھا گیا کہ کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ ان پر بھوک مسلط کردوں، انھوں نے عرض کیا نہیں پھر پوچھا گیا کہ آپ پسند کرتے ہیں کہ ان پر بھوک مسلط کردی جائے، عرض کیا نہیں، چنانچہ ان کی امت پر طاعون مسلط کردیا گیا جو ایسی بیماری ہے جو فوراً مار ڈالتی ہے دلوں کو جلا دیتی ہے اور تعداد کو کم کردیتی ہے “۔ (ابن راھویہ)
11750- عن علي قال: دعا نبي على أمته، فقيل له: أتحب أن أسلط عليهم الجوع؟ قال: لا، قيل له: أتحب أن ألقى بأسهم بينهم؟ قال: لا، فسلط عليهم الطاعون موتا ذفيفا يحرق القلوب ويقلل العدد. "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫১
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11747 ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے شام میں اپنے عمال کو لکھا کہ جب تم سنو کہ کوئی وبا پھیل گئی ہے تو مجھے لکھو، چنانچہ میں آیا اس وقت آپ (رض) سرغ سے واپس آنے کے بعد سو رہے تھے چنانچہ جب وہ نیند سے اٹھے تو میں نے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اے میرے رب ! سرغ سے میری واپسی معاف فرما دیجئے “۔ (ابن راھویہ)
فائدہ :۔۔۔ سرغ ایک منگر کا نام ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ سرغ ایک منگر کا نام ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11751- عن عبد الرحمن أن عمر كتب إلى عماله بالشام إذا سمعتم بالوباء قد وقع فاكتبوا إلي فجئت وهو نائم وذاك بعد رجوعه من سرغ فسمعته لما قام من نومه قال: اللهم اغفر لي في رجوعي من سرغ. "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫২
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11748 ۔۔۔ زرعۃ بن ذوئب الدمشقی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے شام میں اپنے عامل کو لکھا کہ جب کسی زمین پر وبا پھیلے تو مجھے اطلاع دینا، سو جب وہاں وبا پھیلی تو حضرت عمر (رض) کو اطلاع دی گئی تو آپ (رض) متوجہ ہوئے یہاں تک کہ آپہنچے۔
11752- عن زرعة بن ذوئب الدمشقي أن عمر بن الخطاب كتب إلى عامله بالشام إذا وقع الوباء بأرض فأكتب إلي فلما وقع الوباء بالشام كتب إليه فأقبل حتى قدم. "كر سيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫৩
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11749 ۔۔۔ عمر بن ابی حارثہ اور ابو عثمان اور ربیع بن نعمان البصری فرماتے ہیں کہ بعد میں طاعون شام، مصر، عراق میں پھیلا اور پھر صرف شام میں رہ گیا جس میں بڑے بڑے لوگ فوت ہوگئے، یہ محرم اور صفر کے مہینے رہا اور پھر ختم ہوگیا لہٰذا لوگوں نے اطلاع دی کہ شام کے علاوہ باقی جگہوں سے طاعون ختم ہوگیا ہے، چنانچہ حضرت عمر (رض) روانہ ہوئے اور شام کے قریب پہنچ گئے یہاں انھیں اطلاع ملی کہ جتنا طاعون یہاں پہلے تھا اب اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگیا ہے چنانچہ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر کسی جگہ طاعون ہو تو وہاں نہ جاو، اور اگر ایسی جگہ طاعون پھیلا جہا تم موجود ہو تو اب وہاں سے نہ جاؤ چنانچہ حضرت عمر (رض) واپس تشریف لے گئے یہاں تک کہ طاعون کے اثرات ختم ہوگئے چنانچہ وہاں موجود لوگوں نے اس کی اطلاع دی اور کہا کہ ان کے پاس بہت سے لوگوں کی میراث ہے چنانچہ اس سال جمادی الاولی میں لوگوں کو جمع کیا اور شہروں کے بارے میں مشورہ کیا اور فرمایا کہ میرا ذہن بن رہا ہے کہ میں تمام شہروں میں مسلمانوں کو جا کر دیکھو تاکہ ان کے احوال سے آگاہی حاصل کروں سو مجھے بتاتے جاؤ۔
11753- عن عمر بن أبي حارثة وأبي عثمان والربيع بن النعمان البصري قال: وقع الطاعون بعد الشام ومصر والعراق واستقر بالشام ومات فيها الناس الذين هم الناس في المحرم وصفر وارتفع عن الناس وكتبوا بذلك إلى عمر ما خلا الشام، فخرج حتى إذا كان منها قريبا بلغه أنه أشد ما كان فقال: وقال الصحابة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كان بأرض فلا تدخلوها وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا عليكم، فرجع حتى ارتفع منها، وكتبوا إليه بذلك وبما في أيديهم من المواريث فجمع الناس في سنة سبع عشرة في جمادى الأولى فاستشارهم في البلدان فقال: إني قد بدا لي أن أطوف على المسلمين في بلدانهم لأنظر في آثارهم، فأشيروا علي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫৪
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11750 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) شام کی طرف روانہ ہوئے حتی کہ جب سرغ نامی جگہ پر پہنچے تو لشکروں کے امراء حضرت ابو عبیدۃ بن الجراح (رض) اور ان کے ساتھی وغیرہ آپ (رض) سے ملے اور بتایا کہ شام میں وبا پھیلی ہوئی ہے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ابتدائی مہاجرین کو بلاؤ چنانچہ ان کو بلایا گیا حضرت عمر (رض) نے ان سے مشورہ فرمایا، سب نے مختلف مشورے پیش کئے، بعض نے کہا کہ آپ ایک ضروری کام سے نکلے ہیں اور ہم نہیں سمجھتے کہ آپ کام کو مکمل کئے بغیر واپس چلے جائیں، اور بعض نے کہا کہ آپ کے ساتھ باقی لوگ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ہیں آپ ان کو وبا کے سامنے نہ پیش کریں۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ آپ سب لوگ یہاں سے تشری لے جائیں ، پھر انصار کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا، وہاں بھی یہی ہوا سب نے الگ الگ آراء پیش کیں چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کو بھی وہاں سے واپس بھیج دیا اور فرمایا کہ فتح مکہ میں جن قریشی مہاجرین نے شرکت کی تھی ان میں سے کسی بزرگ کو بلاؤ، چنانچہ ان میں سے دو بزرگوں نے ایک جیسی رائے دی اور کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور وبا کے سامنے پیش نہ کریں چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اعلان کروادیا، کہ صبح کو ہم روانہ ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت ابو عبیدۃ بن الجراح (رض) نے عرض کیا، کہ کیا اللہ کی مقرر تقدیر سے بھاگ رہے ہیں ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اے کاش ابو عبیدۃ یہ جملہ آپ کے علاوہ کوئی اور کہتا، ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی طرف بھاگ رہے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ اپنے اونٹ کے ساتھی جارہے ہوں کہ ایک ایسی وادی آجائے جس کے دو کنارے ہو ایک نہایت سرسبز و شاداب ہرابھرا اور دوسرا بنجر اور قحط زدہ، سو اگر آپ اپنے اونٹ کو سرسبز جگہ چروائیں تو اللہ کی تقدیر میں ہوں گے یا نہیں ؟ اور اگر قحط زدہ اور بنجر جگہ چروائیں تو اللہ کی تقدیر میں ہوں گے یا نہیں۔
طاعون والی زمین پر مت جانا
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) تشریف لے آئے جو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے وہاں موجود نہ تھے چنانچہ انھوں نے آکر فرمایا کہ میں اس بارے میں جانتا ہوں میں نے سنا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی زمین پر طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ، اور جب کسی سرزمین میں طاعون پیدا ہوجائے اور تم وہاں موجود ہو تو پھر وہاں سے فرا ہونے کی نیت سے نہ نکلو۔ فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے
اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی اور روانہ ہوگئے۔ (مالک، سفیان بن عینیہ فی جامعہ، مسند احمد، بخاری، مسلم)
حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ آپ سب لوگ یہاں سے تشری لے جائیں ، پھر انصار کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا، وہاں بھی یہی ہوا سب نے الگ الگ آراء پیش کیں چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کو بھی وہاں سے واپس بھیج دیا اور فرمایا کہ فتح مکہ میں جن قریشی مہاجرین نے شرکت کی تھی ان میں سے کسی بزرگ کو بلاؤ، چنانچہ ان میں سے دو بزرگوں نے ایک جیسی رائے دی اور کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو واپس لے جائیں اور وبا کے سامنے پیش نہ کریں چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اعلان کروادیا، کہ صبح کو ہم روانہ ہوں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت ابو عبیدۃ بن الجراح (رض) نے عرض کیا، کہ کیا اللہ کی مقرر تقدیر سے بھاگ رہے ہیں ؟ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اے کاش ابو عبیدۃ یہ جملہ آپ کے علاوہ کوئی اور کہتا، ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر ہی طرف بھاگ رہے ہیں، آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ اپنے اونٹ کے ساتھی جارہے ہوں کہ ایک ایسی وادی آجائے جس کے دو کنارے ہو ایک نہایت سرسبز و شاداب ہرابھرا اور دوسرا بنجر اور قحط زدہ، سو اگر آپ اپنے اونٹ کو سرسبز جگہ چروائیں تو اللہ کی تقدیر میں ہوں گے یا نہیں ؟ اور اگر قحط زدہ اور بنجر جگہ چروائیں تو اللہ کی تقدیر میں ہوں گے یا نہیں۔
طاعون والی زمین پر مت جانا
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ اتنے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) تشریف لے آئے جو اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے وہاں موجود نہ تھے چنانچہ انھوں نے آکر فرمایا کہ میں اس بارے میں جانتا ہوں میں نے سنا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی زمین پر طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ، اور جب کسی سرزمین میں طاعون پیدا ہوجائے اور تم وہاں موجود ہو تو پھر وہاں سے فرا ہونے کی نیت سے نہ نکلو۔ فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے
اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی اور روانہ ہوگئے۔ (مالک، سفیان بن عینیہ فی جامعہ، مسند احمد، بخاری، مسلم)
11754- عن عبد الله بن عباس أن عمر بن الخطاب خرج إلى الشام حتى إذا كان بسرغ لقيه أمراء الأجناد أبو عبيدة بن الجراح وأصحابه فأخبروه أن الوباء قد وقع بالشام، قال ابن عباس: فقال عمر: أدع لي المهاجرين الأولين فدعاهم فاستشارهم فاختلفوا عليه، فقال بعضهم: قد خرجت لأمر ولا نرى أن ترجع عنه، وقال بعضهم: معك بقية الناس وأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نرى أن تقدمهم على هذا الوباء فقال: ارتفعوا عني ثم قال: ادع لي الأنصار فدعوتهم له فاستشارهم فسلكوا سبيل المهاجرين واختلفوا كاختلافهم فقال: ارتفعوا عني ثم قال: ادع لي من كان ههنا من مشيخة قريش من مهاجرة الفتح فدعاهم فلم يختلف عليه منهم رجلان فقالوا نرى أن ترجع بالناس ولا تقدمهم على هذا الوباء فنادى عمر في الناس إني مصبح على ظهر فأصبحوا عليه فقال أبو عبيدة بن الجراح: أفرارا من قدر الله؟ فقال عمر: لو غيرك قالها يا أبا عبيدة، نعم نفر من قدر الله إلى قدر الله أرأيت لو كان لك إبل فهبطت واديا له عدوتان، أحداهما خصبة والأخرى جدبة أليس إن رعيت الخصبة رعيتها بقدر الله وإن رعيت الجدبة رعيتها بقدر الله؟ قال: فجاء عبد الرحمن بن عوف وكان متغيبا في بعض حاجته فقال: إن عندي من هذا علما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه قال: فحمد الله عمر ثم انصرف. "مالك وسفيان بن عيينة في جامعه حم خ م ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫৫
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11751 ۔۔۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے وزیر زنکل بن علی فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفۃ بن الیمان (رض) نے (طاعون سے مخاطب ہو کر) فرمایا، اے طاعون مجھے پکڑ لے، اے طاعون مجھے پکڑ لے، اے طاعون، مجھے پکڑ (تین مرتبہ) اس سے پہلے حرام خون بہایا جائے، اور احکامات میں ظلم سے کام لیا جانے لگے، اور بچوں کی امارت آجائے اور اس سے پہلے کہ سرکش لوگوں کی کثرت ہوجائے۔
11755- عن زنكل بن علي وزير لعمر بن عبد العزيز قال: قال حذيفة بن اليمان: يا طاعون خذني إليك ثلاث مرات قبل سفك دم حرام وقبل جور في الحكم وقبل إمارة الصبيان وكثرة الزبانية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫৬
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11752 ۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن غنم (رض) فرماتے ہیں کہ شام میں طاعون پھیلا تو حضرت عمرو بن العاص (رض) نے فرمایا کہ یہ طاعون ایک ڈانٹ ہے سو اس سے بچ کر وادیوں اور گھاٹیوں میں بھاگو، یہ بات حضرت شرحبیل بن حسنۃ (رض) کو معلوم ہوئی تو آپ (رض) غصے میں آگئے اور فرمایا کہ عمروبن العاص کو غلط فہمی ہوگئی ہے کیونکہ میں جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں موجود تھا اور عمرو بن العاص اپنے گھروالوں کے ساتھ کہیں گئے ہوئے تھے، یہ طاعون تو تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا اور تمہارے رب کی رحمت اور صالحین کی تم سے پہلے وفات ہے، یہ بات حضرت معاذ (رض) نے سنی تو حضرت معاذ (رض) نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اس میں معاذ کی اولاد کا حصہ پورا پورا عطا فرما، چنانچہ ان کی دو صاحبزادیوں کی وفات ہوگئی اور صاحبزادے عبد الرحمن اس مرض میں مبتلا ہوگئے چنانچہ آپ نے یہ آیت پڑھی ” حق تو آپ کے رب ہی کی طرف سے ہے سو آپ نہ ہوں شک کرنے والوں میں سے “۔ (البقرۃ آیت 148)
اور یہ آیت بھی پڑھی کہ ” آپ عنقریب انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے “۔ (الصافات آیت 102) انہی دنوں حضرت معاذ (رض) کی ہتھیلی کی پشت پر طاعون کا پھوڑا نکل آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے، انھوں نے اپنے پاس ایک شخص کو روتے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ تو کیوں روتا ہے، عرض کیا اس علم کی بناء پر جو مجھے آپ سے حاصل ہوا ہے، تو فرمایا کہ پھر مت رو، حضرت ابراہیم ایسی سرزمین پر تھے کہ وہاں کوئی عالم نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا فرمایا، سو جب میں وفات پاجاؤں تو علم کو چار لوگوں سے حاصل کرنا۔
1 ۔۔۔ عبداللہ بن مسعود (رض)۔ 2 ۔۔۔ عبداللہ بن سلام (رض)۔
3 ۔۔۔ سلمان (رض)۔ 4 ۔۔۔ اور ابوالدرداء (رض) ۔ (ابن خزیمہ)
اور یہ آیت بھی پڑھی کہ ” آپ عنقریب انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے “۔ (الصافات آیت 102) انہی دنوں حضرت معاذ (رض) کی ہتھیلی کی پشت پر طاعون کا پھوڑا نکل آیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے، انھوں نے اپنے پاس ایک شخص کو روتے دیکھا تو دریافت فرمایا کہ تو کیوں روتا ہے، عرض کیا اس علم کی بناء پر جو مجھے آپ سے حاصل ہوا ہے، تو فرمایا کہ پھر مت رو، حضرت ابراہیم ایسی سرزمین پر تھے کہ وہاں کوئی عالم نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو علم عطا فرمایا، سو جب میں وفات پاجاؤں تو علم کو چار لوگوں سے حاصل کرنا۔
1 ۔۔۔ عبداللہ بن مسعود (رض)۔ 2 ۔۔۔ عبداللہ بن سلام (رض)۔
3 ۔۔۔ سلمان (رض)۔ 4 ۔۔۔ اور ابوالدرداء (رض) ۔ (ابن خزیمہ)
11756- عن عبد الرحمن بن غنم قال: وقع الطاعون بالشام فقال عمرو بن العاص: إن هذا الطاعون رجز ففروا منه في الأودية والشعاب فبلغ شرحبيل بن حسنة فغضب، وقال: كذب عمرو بن العاص لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمرو أضل من جمل أهله إن هذا الطاعون دعوة نبيكم ورحمة ربكم ووفاة الصالحين قبلكم فبلغ ذلك معاذا فقال: اللهم اجعل نصيب آل معاذ الأوفر، فماتت ابنتاه، وطعن ابنه عبد الرحمن، فقال: {الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ} ، فقال: {سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ} ، وطعن معاذ في ظهر كفه فجعل يقول: هي أحب إلي من حمر النعم، ورأى رجلا يبكي عنده فقال: ما يبكيك؟ قال: على العلم الذي كنت أصيبه منك قال: فلا تبك فإن إبراهيم كان في الأرض وليس بها عالم فآتاه الله علما فإذا أنا مت فاطلب العلم عند أربعة عبد الله بن مسعود وعبد الله بن سلام وسلمان وأبي الدرداء. "ابن خزيمة كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫৭
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11753 ۔۔۔ شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ جب حضرت معاذ (رض) کی وفات ہوگئی تو حضرت عمرو بن عتبۃ (رض) نے اپنے بعد والوں سے ایسی ہی گفتگو کی وہ فرماتے تھے کہ میں چوتھا مسلمان ہوں، فرمایا کہ جو طاعون ہے یہ ڈانٹ ہے سو اس سے بچ کر گھاٹیوں میں بھاگ جاؤ (یہ سن کر ) حضرت شرحبیل بن حسنۃ (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ خدا کی قسم، میں بھی مسلمان ہوں اور تمہارے امیر زبردست غلط فہمی میں مبتلا ہیں، دیکھو تو کیا کہتے ہیں ؟ (حالانکہ ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب کسی سرزمین پر طاعون پھیل جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے مت بھاگو کیونکہ موت تمہاری گردنوں میں ہے، اور جب کہیں طاعون پھیلے (اور تم وہاں موجود نہ ہو) تو تم وہاں نہ جاؤ کیونکہ یہ دلوں کو جلا دیتا ہے۔
فائدہ :۔۔۔ موت کا گردن میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ خواہ کہیں بھی چلے جاؤ موت سے بچنا ممکن نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ موت کا گردن میں ہونے سے مراد یہ ہے کہ خواہ کہیں بھی چلے جاؤ موت سے بچنا ممکن نہیں، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11757- عن شهر بن حوشب قال: لما مات معاذ تكلم عمرو ابن عبسة أيضا فيمن يليه وكان يقول: أنا رابع الإسلام، فقال: يا أيها الناس إن الطاعون رجز فتفرقوا عنه في الشعاب: فقام شرحبيل بن حسنة فقال: والله لقد أسلمت وإن أميركم هذا أضل من جمل أهله فانظروا ما يقول، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تهربوا فإن الموت في أعناقكم وإذا كان بأرض فلا تدخلوها فإنه يحرق القلوب ...
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫৮
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11754 ۔۔۔ یونس بن مسیرۃ بن حلبس فرماتے ہیں کہ چوبیس ہزار (24000) مسلمان کا جابجا پہنچے، تو وہاں پر طاعون پھیل گیا جس سے بیس ہزار (2000) کا انتقال ہوگیا اور چار ہزار (4000) باقی بچے انھوں نے کہا کہ یہ طوفان ہے یہ تو ڈانٹ ہے یہ بات حضرت معاذ (رض) کو معلوم ہوئی تو انھوں نے شہسواروں کو بھیجا تاکہ لوگوں کو جمع کریں اور کہا کہ آج حضرت معاذ (رض) کے پاس جا بیٹھو، لہٰذا جب سب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت معاذ (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے لوگو ! خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں آج کے بعد بھی اس جگہ تمہارے درمیان کھڑا ہوسکوں گا تو مجھے آج یہ تکلیف کرنے کی ضرورت نہ تھی اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگ کہہ رہے ہو کہ یہ طوفان ہے یہ ڈانٹ ہے خدا کی قسم نہ یہ طوفان ہے اور نہ ہی ڈانٹ کیونکہ طوفان اور ڈانٹ تو صرف عذاب ہی ہیں جس ےس اللہ تعالیٰ امتوں کو عذاب دیتے ہیں لیکن دنیا میں ۔۔۔ سو تمہارے لیے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا قبول فرمائی، سنو ! جس کو پانی مل گئے اور وہ طاقت رکھتا ہے کہ مرجائے تو اس کو مرجانا چاہیے۔ یہ بہتر ہے اس سے کہ کوئی شخص ایمان کے بعد کافر ہوجائے اور ناحق خون بہایا جائے یا ناحق اللہ کا مال اس طرح دے دیا جائے کہ اس کے لیے جھوٹ بولے یا فسق وفجور کرے اور بہتر ہے اس سے کہ تم لوگوں کے درمیان لعنت ملامت ظاہر ہو یا کوئی شخص صبح اٹھے تو یہ کہے۔ خدا کی قسم اگر میں زندہ رہا یا مرگیا تو میں نہیں جانتا میرا کیا حال ہوگا۔
فائدہ :۔۔۔ یعنی مرجانا ان صورتوں کے پیش آنے سے بہتر ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
فائدہ :۔۔۔ یعنی مرجانا ان صورتوں کے پیش آنے سے بہتر ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)
11758- عن يونس بن ميسرة بن حلبس قال: نزل المسلمون الجابية وهم أربعة وعشرون ألفا، فوقع الطاعون فيهم، فذهب منهم عشرون ألفا، وبقي أربعة آلاف، فقالوا: هذا طوفان، وهذا رجز، فبلغ ذلك معاذا، فبعث فوارس يجمعون الناس فقال: اشهدوا المدارس اليوم عند معاذ، فلما اجتمعوا، قام فيهم فقال: أيها الناس والله لو أعلم أني أقوم فيكم بعد مقامي هذا ما تكلفت القيام فيكم، وقد بلغني أنكم تقولون هذا الذي وقع فيكم طوفان ورجز، والله ما هو الطوفان ولا الرجز، وإنما الطوفان والرجز كان عذابا، عذب الله به الأمم، ولكن في الدنيا ... الله لكم فاستجاب لكم دعوة نبيكم صلى الله عليه وسلم، ألا فمن أدرك خمسا واستطاع أن يموت، فليمت: أن يكفر الرجل بعد إيمانه، وأن يسفك الدم بغير حقه وأن يعطى مال الله بأن يكذب أو يفجر، وأن يظهر التلاعن بينكم، أو يقول الرجل حين يصبح: والله لئن حييت أو مت ما أدري ما أنا عليه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৫৯
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شہادت حکمی کے بیان میں۔۔۔ طاعون
11755 ۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن غنم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے جب طاعون پھیلتا محسوس کیا تو بہت زیادہ خوف زدہ ہوگئے اور فرمایا کہ اے لوگو ! ان گھاٹیوں میں منتشر ہوجاؤ اور پھیل جاؤ کیونکہ اللہ کی طرف سے تم پر ایک چیز نازل ہوئی ہے جسے میں کوئی زبردست ڈانٹ یا کوئی طوفان ہی سمجھتا ہوں، حضرت شرحبیل بن حسنۃ (رض) نے فرمایا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اور آپ تو زبردست غلط فہمی میں مبتلا ہیں، حضرت عمروبن العاص (رض) نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا، حضرت معاذ (رض) نے حضرت عمرو (رض) بن العاص (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ سے غلطی ہوئی یہ کوئی طوفان یا ڈانٹ وغیرہ نہیں ہے بلکہ یہ تو آپ کے رب کی رحمت اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالحین کی وفات ہے، اے اللہ ! معاذ کی اولاد کو اس رحمت میں سے بھرپور حصہ عطا فرما “۔
11759- عن عبد الرحمن بن غنم قال: كان عمرو بن العاص حين أحس بالطاعون فرق فرقا شديدا فقال: يا أيها الناس تبددوا في هذه الشعاب وتفرقوا، فإنه قد نزل بكم أمر من الله لا أراه إلا رجزا أو الطوفان، قال شرحبيل بن حسنة: قد صاحبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت أضل من حمار أهلك، قال عمرو: صدقت، قال معاذ لعمرو ابن العاص: كذبت ليس بالطوفان ولا بالرجز ولكنها رحمة ربكم ودعوة نبيكم وقبض الصالحين قبلكم، اللهم آت آل معاذ النصيب الأوفر من هذه الرحمة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১১৭৬০
جہاد کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری نوع
حضرت عمر (رض) کی مسند سے حضرت سعید بن المسیب روایت فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا
کہ ایک پہاڑ پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ ہم ایک وادی کے سامنے پہنچے وہاں میں نے ایک نوجوان کو بکریاں چراتے ہوئے دیکھا، مجھے اس کی جوانی اچھی لگی میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! کیا ہی خوب جوان ہے اگر اس کی جوانی اللہ کے راستے میں لگے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عمر ! ہوسکتا ہے کہ وہ کسی طرح اللہ کے راستے میں ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو، پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے طلب فرمایا اور فرمایا کہ اے نوجوان ! کیا کوئی ایسا ہے جس کے پاس تم لوٹ کرجاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں، فرمایا کون ؟ عرض کیا، میری والدہ ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان کے پاس ہی رہنا کیونکہ ان کے قدموں میں جنت ہے۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر صرف تلوار سے قتل ہونے والا ہی شہید ہو تو پھر تو میری امت کے شہید بہت کم ہوجائیں گے، پھر جلے ہوئے، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے، منہدم شدہ عمارت وغیرہ کے نیچے دبنے والے پیٹ کی بیماری میں مرنے والے، ڈوب کر مرنے والے، درندے کا لقمہ بننے والے اور اس شخص کا ذکر فرمایا جو اپنے کمانے ےلئے محنت کرتا تھا تاکہ عزت سے کمائے اور خود کو دوسروں سے بےنیاز کرلے، وہ بھی شہید ہے۔ (اسمعیل الحطبی فی حدیثہ، بخاری فی التاریخ فی المفترق)
کہ ایک پہاڑ پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ ہم ایک وادی کے سامنے پہنچے وہاں میں نے ایک نوجوان کو بکریاں چراتے ہوئے دیکھا، مجھے اس کی جوانی اچھی لگی میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! کیا ہی خوب جوان ہے اگر اس کی جوانی اللہ کے راستے میں لگے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اے عمر ! ہوسکتا ہے کہ وہ کسی طرح اللہ کے راستے میں ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو، پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے طلب فرمایا اور فرمایا کہ اے نوجوان ! کیا کوئی ایسا ہے جس کے پاس تم لوٹ کرجاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں، فرمایا کون ؟ عرض کیا، میری والدہ ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ان کے پاس ہی رہنا کیونکہ ان کے قدموں میں جنت ہے۔
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر صرف تلوار سے قتل ہونے والا ہی شہید ہو تو پھر تو میری امت کے شہید بہت کم ہوجائیں گے، پھر جلے ہوئے، ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے، منہدم شدہ عمارت وغیرہ کے نیچے دبنے والے پیٹ کی بیماری میں مرنے والے، ڈوب کر مرنے والے، درندے کا لقمہ بننے والے اور اس شخص کا ذکر فرمایا جو اپنے کمانے ےلئے محنت کرتا تھا تاکہ عزت سے کمائے اور خود کو دوسروں سے بےنیاز کرلے، وہ بھی شہید ہے۔ (اسمعیل الحطبی فی حدیثہ، بخاری فی التاریخ فی المفترق)
11760- "مسند عمر رضي الله عنه" عن سعيد بن المسيب قال: قال عمر كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبل فأشرفنا على واد فرأيت شابا يرعى غنما له، أعجبني شبابه فقلت: يا رسول الله وأي شاب لو كان شبابه في سبيل الله؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا عمر فلعله في بعض سبيل الله وأنت لا تعلم، ثم دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا شاب هل لك من تعول؟ قال: نعم، قال: من، قال أمي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الزمها فإن عند رجليها الجنة، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: لئن كان الشهيد ليس إلا شهيد السيف فإن شهداء أمتي إذا لقليل، ثم ذكر صاحب الحرق، والشرق، والهدم، والبطن، والغريق، ومن أكل السبع ومن سعى على نفسه ليعزها ويغنيها عن الناس فهو شهيد. "إسماعيل الحطبي في حديثه خط في المفترق" وفيه أبو غالب عن ابن أحمد بن النصر الأزدي، قال الدارقطني ضعيف، وقال أحمد بن كامل القاضي لا أعلمه ذم في الحديث حكاها في الميزان وقال في اللسان ذكره سلمة الأندلسي وقال إنه ثقة.
তাহকীক: