কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১৭৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٤٤۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ کے پاس ایک شخص حبشی باندی کے لیے حاضر ہوا۔ اور عرض کیا یارسول اللہ میری ماں مرگئی ہے اور اس کے ذمہ ایک مومن جان آزاد کرنا واجب ہے تو کیا یہ اس کی طرف سے کفایت کرے گی ؟ آپ نے اس باندی کے مومنہ ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اس سے باندی پوچھا اللہ کہاں ہے ؟ باندی نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا، پھر آپ نے پوچھا میں کون ہوں ؟ باندی نے عرض کیا اللہ کے رسول۔ تو آپ نے اس شخص سے فرمایا اسی کو آزاد کردو کیونکہ یہ بھی مومنہ ہے۔ الصحیح للترمذی (رح) ۔
1744 - عن ابن عباس قال: "أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل بجارية سوداء فقال: يا رسول الله إن أمي ماتت وعليها رقبة مؤمنة فهل تجزي هذه عنها؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: أين الله؟ فأومأت برأسها إلى السماء، فقال: من أنا؟ قالت: رسول الله. قال: أعتقها فإنها مؤمنة". (ت) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٤٥۔۔ حضرت عطاء سے مروی ہے کہ ایک شخص کے پاس باندی تھی، جو اس کی بکریاں چراتی تھی، ریوڑ میں مالک کی ایک ایسی بکری بھی تھی جو اسے بہت مرغوب و پسندیدہ تھی، جس کے متعلق مالک کا ارادہ تھا کہ وہ بکری آپ کو ہدیہ کردے گا، لیکن سوء اتفاق سے بھیڑئیے نے آکراسی بکری پر حملہ کیا اور اس کے تھن کھینچ لیے مالک کو غصہ آیا تو اس نے چرواہی باندی کو منہ پر طمانچہ رسید کیا، لیکن پھرنادم ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، اس کے ذمہ پہلے سے ایک مومن جان آزاد کرنا واجب تھا توطمانچہ مارتے وقت اسے خیال آیا کہ اب اسی کو آزاد کردیا جائے ؟ آپ نے اس باندی کو بلوایا اور اس سے سوال کیا : کیا تولاالہ الا اللہ کی شہادت دیتی ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس بات کی بھی کہ محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس بات کی بھی کہ مرنا اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا برحق ہے ؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اس بات کی بھی کہ جنت وجہنم برحق ہے ؟ عرض کیا جی ہاں تو اس کے بعد آپ نے مالک کو فرمایا : اس کو آزاد کرسکتے ہو اور روکنے کا بھی اختیار ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1745 - عن عطاء "أن رجلا كانت له جارية في غنم ترعاها، وكانت له شاة صفى يعني عزيزة في غنمه تلك فأراد أن يعطيها نبي الله صلى الله عليه وسلم فجاء السبع فانتزع ضرعها، فغضب الرجل فصك وجه جاريته فجاء نبي الله صلى الله عليه وسلم فذكر أنها كانت عليه رقبة مؤمنة، وأنه قد هم أن يجعلها إياها حين صكها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ائتني بها فسألها النبي صلى الله عليه وسلم أتشهدين أن لا إله إلا الله قالت: نعم وأن محمدا عبده ورسوله قالت: نعم وأن الموت والبعث حق، قالت: نعم وأن الجنة والنار حق، قالت: نعم، فلما فرغت قال أعتقها أو أمسك". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৭৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٤٦۔۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی باندی کو تھپڑ رسید کیا تھا پھر وہ اسے لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کی آزادی کے متعلق مشورہ طلب کیا، آپ نے اس باندی کے مومنہ ہونے کی تصدیق کرنے کے لیے اس باندی سے پوچھا : اللہ کہاں ہے ؟ باندی نے سر کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ نے پوچھا میں کون ہوں ؟ باندی نے عرض کیا اللہ کے رسول۔ راوی کہتے میرا خیال ہے کہ آپ نے بعث بعد الموت اور جنت وجہنم کا تذکرہ بھی فرمایا پھر اس شخص نے فرمایا اسی کو آزاد کرو کیونکہ یہ بھی مومنہ ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1746 - عن يحيى بن أبي كثير قال: " صك رجل جارية، فجاء بها النبي صلى الله عليه وآله وسلم يستشيره في عتقها فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم أين ربك؟ فأشارت إلى السماء قال: من أنا قالت: أنت رسول الله قال أحسبه أيضا ذكر البعث بعد الموت والجنة والنار، ثم قال: أعتقها فإنها مؤمنة". (عب) .
tahqiq

তাহকীক: