কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৬৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٤۔۔ از مسند جابر بن عبداللہ ، عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ میں نے حضرت جابر (رض) بن عبداللہ کو اس حال میں دیکھا کہ ان کے دست مبارک میں تلوار اور قرآن شریف تھا، اور وہ فرما رہے تھے کہ ہمیں حضور نے حکم فرمایا ہے کہ جو اس کی مخالفت کرے ہم اس کو اس سے اڑادیں۔ ابن عساکر۔
1664 - ومن مسند جابر بن عبد الله عن عمرو بن دينار قال: "رأيت جابر بن عبد الله وبيده السيف والمصحف وهو يقول: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نضرب بهذا من خالف ما في هذا". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٥۔۔ ازمسند الحارث بن الحارث الاشعری، الحارث بن الحارث الاشعری، سے مروی ہے کہ رسول کریم نے فرمایا اللہ عزوجل نے مجھے حکم فرمایا ہے میں تم کو پانچ باتوں کو حکم دوں جہاد کرو۔ امیر کی بات سنو۔ اس کی اطاعت کرو، ہجرت اختیار کرو۔ اور جماعت کہ جس نے جماعت سے ایک کمان کے بقدر بھی دوری اختیار کرلی تو اس کی نماز قبول ہوگی اور نہ روزہ۔ اور یہ لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے ۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت ابی مالک الاشعری۔
1665 - ومن (مسند الحارث بن الحارث الأشعري) عن الحارث ابن الحارث الأشعري قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله عز وجل أمرني أن آمركم بخمس كلمات، عليكم بالجهاد، والسمع، والطاعة، والهجرة، فمن فارق الجماعة قيد قوس لم يقبل منه صلاة ولا صياما، وأولئك هم وقود النار". (طب عن أبي مالك الأشعري) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٦۔۔ ازمسند حذیفہ (رض) ، حذیفہ سے مروی ہے فرمایا کہ جس نے ایک بالشت جماعت سے بعد اپنایا اس نے اسلام کا طوق اپنی گردن نکال پھینکا۔ ابن ابی شیبہ۔
1666 - (ومن مسند حذيفة) عن حذيفة قال: "من فارق الجماعة شبرا خلع ربقة الإسلام من عنقه". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٧۔۔ ازمسند زید بن ثابت (رض)، زید بن ثابت حضور سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا میں تمہارے اندر اپنے دونائب چھوڑے جارہاہوں، کتاب اللہ اور میرے اہل بیت۔ یہ دونوں اکٹھے میرے پاس حوض پر آئیں گے۔ ابن جریر۔
1667 - (ومن مسند زيد بن ثابت) عن زيد بن ثابت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "قد تركت فيكم خليفتين، كتاب الله وأهل بيتي يردان علي الحوض جميعا". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٨۔۔ ازمسند ابن عباس (رض)۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ فرمایا جس نے ایک بالشت جماعت سے بعد اپنایا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ ابن ابی شیبہ۔
1668 - (ومن مسند ابن عباس) عن ابن عباس قال:"من فارق الجماعة شبرا مات ميتة جاهليه". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک زمانہ آئے گا سونا چاندی نافع نہ ہوگا
١٦٦٩۔۔ ازمسند ابن مسعود، عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ فرمایا اس جماعت اور طاعت کو مضبوطی سے تھام لو، کیونکہ یہ وہی اللہ کی رسی ہے جس کا اس نے حکم فرمایا ہے ، اور جو امور تمہیں جماعت میں ناپسند محسوس ہوں وہ فرقہ بازی کے محبوب اعمال سے بھی بہتر ہیں اللہ نے کسی چیز کو پیدا نہیں فرمایا، مگر اس کی انتہا بھی مقرر فرمادی۔ سو یہ دین بھی تام ہوچکا ہے لہٰذا اب یہ نقصان وزوال کی طرف لوٹے گا، اور اس کی علامت یہ ہے کہ قرابت و رشتہ داری منقطع ہوں گی۔ مال ناحق وصول کیا جائے گا، خون ریزی ہوگی، صاحب قرابت قرابت کا شکوہ گا اور اس کی علامت یہ ہے کہ قرابت و رشتہ داری منقطع ہوگی، ہر انسان یہ محسوس کرے گا کہ یہ آواز ان کے علاقہ کی طرف آرہی ہے پھر اسی اثناء زمین اپنے جگرگوشے یعنی سونے چاندی باہرنکال پھینکے گی لیکن اس کے بعد سونا سودمند ہوگا اور نہ ہی چاندی۔ ابن ابی شیبہ۔
1669 - (ومن مسند ابن مسعود) عن عبد الله بن مسعود قال: "الزموا هذه الطاعة والجماعة، فإنه حبل الله الذي أمر به، وإن ما تكرهون في الجماعة خير مما تحبون في الفرقة، إن الله لم يخلق شيئا قط إلا جعل منتهى، وإن هذا الدين قد تم وإنه صائر إلى نقصان، وإن أمارة ذلك أن تنقطع الأرحام، ويؤخذ المال بغير حقه، وتسفك الدماء، ويشتكي ذو القرابة قرابته لا يعود عليه بشيء، ويطوف السائل لا يوضع في يده شيء، فبينما هم كذلك إذ خارت الأرض خوار البقرة يحسب كل ناس أنها خارت من قبلهم: فبينما الناس كذلك إذ قذفت الأرض بأفلاذ كبدها من الذهب والفضة لا ينفع بعد شيء منه شيء ذهب ولا فضة". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک زمانہ آئے گا سونا چاندی نافع نہ ہوگا
١٦٧٠۔۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا فرمایا، توہم دونوں چل پڑے حتی کہ ایک جگہ پہنچے تو رسول اکرم نے ایک خط کھینچا اور مجھے فرمایا اس کے درمیان ہی رہنا، اگر اس سے باہرنکلے تو ہلاک ہوجاؤ گے تو میں اس میں ٹھہر گیا اور آپ چلے گئے۔ یا فرمایا تھوڑی دور گئے۔ پھر آپ نے کچھ لوگوں کے ہیولے دیکھے چکی کی طرح گھومتے ہوئے۔ ان پر کپڑے بھی نہیں تھے لیکن اس کے باوجود ان کی شرمگاہیں بھی نظر نہیں آتی۔ اونچے اونچے قدرآور ہیں۔ جسموں پر معمولی معمولی ساگوشت ہے وہ آئے اور انھوں نے رسول اللہ کو رسوا کرایا اور رسول اللہ ان پر قرآن کی تلاوست فرمانے گلے اور کچھ میرے اردگرد چکرلگانے لگے حتی کہ وہ میری حد سے تجاوز کرنے لگے تو میں ان سے سخت گھبرا گیا اور بیٹھ گیا غالبا آپ نے یہی فرمایا جو کچھ بھی فرمایا پھر جب صبح کی پوپھٹی تو وہ جانے لگے رسول اللہ تشریف لائے آپ تکان سے بوجھل اور تکلیف میں مبتلا تھے شاید انھوں نے آپ کو سوار کرا رکھا تھا سی وجہ سے طبیعت گراں بار ہوگئی تھی ، آکر آپ نے فرمایا میری طبیعت بھاری ہوگئی ہے پھر آپ میری گودو میں سر اقدس رکھ کر استراحت پذیر ہوگئے پھر دوبارہ کچھ ہیولے نمودار ہوئے اب کے ان کے جسموں پر سفید لباس تھے قدرآوار جسموں کے مالک تھے رسول اللہ پر مدہوشی طاری ہوچکی تھی تو اس دفعہ میں پہلے سے زیادہ گھبراہٹ میں مبتلا ہوگیا پھر ان میں سے کسی نے کہا اس نے یعنی آپ نے بھلی چیز عطا کی ہے یہی کہا یاشاید کچھ اور کہا ہے پھر کہا، اس کی آنکھیں سو رہی ہیں یا کہا کہ اس کی آنکھ سو رہی ہے اور دل اس کا بیدار ہے پھر انھوں نے آپس میں کہا آؤ اب اس کی کوئی مثال بیان کریں، ہم مثال بیان کرتے ہیں اور تم اس کی تعبیر بیان کرو، یا تم مثال بیان کرو، اور ہم اس کی تعبیر بیان کرتے ہیں تو بعض نے کہا اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی سردار نے قلعہ نما عمارت تعمیر کروائی پھر لوگوں کی طرف کھانے کے لیے دعوت بھیجی سو جس نے اس کی دعوت کو قبول نہ کیا سردارا سے عذاب کرے گا، پھر دوسروں نے اس کی تعبیر کہی کہ سردارتو اللہ رب العالمین ہے اور قلعہ نما عمارت اسلام ہے کھانا جنت ہے اور یہ نبی داعی ہے سو جس نے اس کی اتباع کی وہ جنت میں جنت جائے گ اور جس نے اتباع نہ کی وہ عذاب میں مبتلا ہوگا۔ پھر آپ بیدار ہوگئے اور مجھ سے دریافت کیا اے ام عبدتم نے کیا کچھ دیکھا، عرض کیا ایساماجرا دیکھا تو رسول اللہ نے فرمایا انھوں نے جو کچھ کہا مجھ سے کچھ بھی مخفی نہ رہا، اور آپ نے فرمایا یہ ملائکہ کا ایک گروہ تھا یافرمایاوہ ملائکہ تھے یا جو اللہ چاہے وہی تھے۔ ابن عساکر۔
1670 - عن ابن مسعود قال: " استتبعني رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقنا حتى أتينا موضعا فخط لي خطة فقال لي: كن بين ظهري هذه ولا تخرج منها فإنك إن خرجت هلكت، فكنت فيها، ومضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أو قال أبعد شيئا ثم قال: إنه ذكر هنينا كأنهم الرحى أو كما شاء اللهليس عليهم ثياب ولا أرى سوأتهم طوال قليل لحمهم، فأتوا فجعلوا يركبون رسول الله صلى الله عليه وسلم، وجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ عليهم وجعلوا يأتون فيحيلون حولي، ويفرطون بي فأرعبت منهم رعبا شديدا فجلست أو كما قال فلما انشق عمود الصبح جعلوا يذهبون ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء ثقيلا وجعا أو يكون وجعا مما ركبوه قال: إني أجدني ثقيلا فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه في حجري، ثم هنيينا أتوا عليهم ثياب بيض طوال وقد أغفى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأرعبت أشد مما أرعبت المرة الأولى فقال: بعضهم لقد أعطى هذا الرجل خيرا أو كما قالوا إن عينيه نائمتان أو قال عينه نائمة وقلبه يقظان، ثم قال بعضهم لبعض هلم فلنضرب له مثلا فقال بعضهم لبعض، اضربوا له مثلا ونؤول نحن أو نضرب نحن وتؤولون فقال بعضهم مثلهم كمثل رجل سيدا وقالوا هو سيد بنى بنيانا حصينا ثم أرسل إلى الناس الطعام فمن لم يأت طعامه أو قالوا لم يتبعه عذبه عذابا شديدا، أو قال الآخرون، أما السيد فهو رب العالمين وأما البنيان فهو الإسلام والطعام الجنة وهذا هو الداعي فمن اتبعه كان في الجنة ومن لم يتبعه عذب، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم استيقظ قال: ما رأيت يا ابن أم عبد، قلت: رأيت كذا وكذا فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم ما خفي علي مما قالوا شيء قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: هم نفر من الملائكة أو قال: هم الملائكة أوكما شاء الله". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک زمانہ آئے گا سونا چاندی نافع نہ ہوگا
١٦٧١۔۔ ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا لوگوں کو کیا ہوگیا ؟ کہ رسول اللہ کی قرابت بھی حوض پر نفع مند نہیں ہوگی، اور لوگ کہیں گے یارسول اللہ میں فلاں ابن فلاں ہوں میں کہوں گا نسب تو میں جان گیا ہوں لیکن تم نے میرے بعد نیادین بنالیا تھا اور الٹے پاؤں پھرگئے تھے۔ ابن النجار۔
1671 - عن أبي سعيد قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقول على المنبر: " ما بال رجال يقولون رحم رسول الله صلى الله عليه وسلم لا ينفع يوم القيامة على الحوض، وإن رجالا يقولون يا رسول الله أنا فلان ابن فلان فأقول: أما النسب فقد عرفته ولكنكم أحدثتم بعدي وارتددتم القهقرى". (ابن النجار) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک زمانہ آئے گا سونا چاندی نافع نہ ہوگا
١٦٧٢۔۔ از مسند عقبہ بن عامر (رض) الجہنی ، عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ، مجھے اپنی امت پر شراب سے زیادہ دودھ کا خوف ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یہ کیسے یارسول اللہ ! فرمایا وہ دودھ پسند کرتے ہیں اور عیش و عشرت میں نماز کی جماعتوں سے دور ہوجاتے ہیں۔ اور ان کو ضائع کرتے ہیں۔ نعیم بن حماد فی الفتن۔
1672 - ومن مسند عقبة بن عامر الجهني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لأنا على أمتي في اللبن أخوف مني عليهم من الخمر قالوا: كيف يا رسول الله. قال يحبون اللبن فيتباعدون من الجماعات ويضيعونها". (نعيم بن حماد في الفتن) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک زمانہ آئے گا سونا چاندی نافع نہ ہوگا
١٦٧٣۔۔ عمر (رض) بن الخطاب سے مروی ہے کہ میں نے رسول کریم کو فرماتے ہوئے سنا ستارہ شناسوں سے کچھ مت پوچھو، اور نہ قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرو۔ اور میرے اصحاب میں سے کسی کو سب وشتم نہ کرو۔ یہ چیز محض ایمان ہے۔ الخطیب فی کتاب النجوم۔
1673 - عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " لا تسألوا عن النجوم، ولا تفسروا القرآن برأيكم، ولا تسبوا أحدا من أصحابي فإن ذلك الإيمان المحض". (خط في كتاب النجوم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ بدعت کے بیان میں
١٦٧٤۔۔ از مسند عمر (رض)، ابن عباس (رض)، سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو دجال کی تکذیب کریں گے اور مغرب سے طلوع شمس کا انکار کریں گے عذاب قبر کا انکار کریں گے شفاعت کا انکار کریں گے حوض کا انکار کریں گے اور اس قوم کا انکار کریں گے جو جہنم سے جھلس جانے کے بعد نکلیں گے۔ المصنف لعبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ، الحارث، بخاری و مسلم، فی البعث۔
1674 - من مسند عمر رضي الله عنه عن ابن عباس قال: قال عمر إنه سيكون يكذبون بالدجال، ويكذبون بطلوع الشمس من مغربها، ويكذبون بعذاب القبر، ويكذبون بالشفاعة، ويكذبون بالحوض، ويكذبون بقوم يخرجون من النار بعد ما امتحشوا". (عب ش والحارث ق في البعث) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ بدعت کے بیان میں
١٦٧٥۔۔ از مسند حکم بن عمیرالثمالی، موسیٰ بن ابی حبیب حکم بن عمیر سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا گھبراہٹ میں مبتلا کردینے والا امر، کمرتوڑ دینے والابوجھ اور نہ ختم ہونے والاشر بدعتوں کا غلبہ ہے۔ الحسن بن سفیان ابونعیم۔
1675 - (ومن مسند حكم بن عمير الثمالي) عن موسى بن أبي حبيب عن الحكم بن عمير قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الأمر المفظع والحمل المضلع والشر الذي لا ينقطع إظهار البدع". (الحسن ابن سفيان وأبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ بدعت کے بیان میں
١٦٧٦۔۔ ازمسند انس بن مالک (رض) ۔ ابراہیم بن ھدبہ، انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا جب تم کسی صاحب بدعت کو دیکھو توترش روئی کے ساتھ اس سے پیش آؤ۔ کیونکہ اللہ ہر صاحب بدعت سے بغض رکھتے ہیں ان میں سے کوئی پل صراط سے نہیں گزرے گا، مگر وہ جہنم میں پت جھڑ کے پتوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے جیسے ٹڈیوں اور مکھیوں کے بھٹ گرتے ہیں۔ رواہ ابن عساکر۔
1676 - ومن مسند أنس بن مالك عن إبراهيم بن هدبة عن أنس قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم صاحب بدعة فاكفهروا في وجهه، فإن الله يبغض كل مبتدع، ولا يجوز أحد منهم على الصراط ولكن يتهافتون في النار مثل الجراد والذباب". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ بدعت کے بیان میں
١٦٧٧۔۔ حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا کہ میں دوجماعتوں کو جانتاہوں جو جہنم میں جائیں گی۔ ایک وہ قوم جس کا کہنا ہے کہنا ہے ایمان سارا محض کلام ہے جس میں عمل کی ضرورت نہیں اور یہ مرجیہ کا عقیدہ ہے اور دوسری قوم جوک ہے گی کہ پانچ نمازوں کی کیا ضرورت ہے۔ دو نمازیں ہی کافی ہیں۔ ابن جریر۔
1677 - عن حذيفة قال: "إني لأعرف أهل دينين هما في النار، قوم يقولون الإيمان كلام، وقوم يقولون ما بال الصلوات الخمس وإنما هما صلاتان". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ بدعت کے بیان میں
١٦٧٨۔۔ زہری سے مروی ہے کہ فرمایا تین جماعتیں جن کا امت محمدیہ سے کوئی واسطہ نہیں بخیل، المنافی، (احسان جتانے والا اور قدری (تقدیر کا منکر) ابن عساکر۔
1678 - عن الزهري قال: "ثلاثة ليسوا من أمة محمد صلى الله عليه وسلم الجعدي والمناني والقدري". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٧٩۔۔ از مسند علی (رض) ، حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ارشاد حق سبحانہ تقدس ہے کہ کوئی بندہ اس چیز کی ادائیگی کے سوا مجھ سے کسی اور چیز کے ساتھ زیادہ قریب نہیں پاسکتا، جو میں نے خود اس پر فرض کردی ہے۔ الخ، ابن عساکر۔
1679 - (ومن مسند علي) رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال الله تعالى: "ما تحبب إلي عبدي بأحب إلي من أداء ما افترضت عليه" وذكر الحديث. (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨٠۔۔ از مسند انس ۔ حضرت انس حضور سے اور آپ حضرت جبرائیل سے اور حضرت جبرائیل اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے میرے دوست کو خوف زدہ کیا دوسرے الفاظ میں میرے دوست کی اہانت کی اس نے مجھے کھلے عام جنگ کی دعوت دیدی، اور کوئی بندہ اس چیز کی ادائیگی کے سوا مجھ سے کسی اور چیز کے ساتھ زیادہ قریب نہیں پاسکتا، جو میں نے خود اس پر فرض کردی ہے اور بندہ مسلسل نفی عبادات میں مشغول رہتا ہے تو وہ میرا محبوب بن جاتا ہے اور جس سے میں محبت کرتا ہوں اس کے لیے میں کان آنکھ اور ہاتھ بن جاتاہوں اور اس کا حمایتی و مددگار بن جاتاہوں اگر وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور وہ میرے لیے مخلص ہوجاتا ہے تو میں اس کے لیے مخلص خیرخواہ ہوجاتاہوں۔ اور میں کسی چیز میں تردد کا شکار نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ جب میرے بندے کا آخری وقت آپہنچتا ہے پھر وہ موت کو ناپسند کرتا ہے جبکہ میں اس کی برائی کو ناپسند کرتا ہوں اور اس کے سواچارہ کار نہیں اور بعض میرے بندے اپنے لیے کسی عبادت کا دروازہ کھولنا چاہتے ہیں مگر میں اس بات کے پیش نظر اس دروازے کو اس پر بند رکھتاہوں کہ کہیں وہ عجب وپندار نفس میں مبتلا نہ ہوجائے اور یہ اس کے لیے تباہی کا پیش خیمہ بن جائے اور بعض میرے بندے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا ایمان ان کو غنی ومالداری کے سوا کوئی چیز راس نہیں دیتا۔ اگر میں ان کو فقر میں مبتلا کردوں تو وہ ان کو فتنہ و فساد کا شکار کردے۔ اور بعض میرے بندے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا ایمان ان کو فقر ہی میں درست رکھتا ہے۔ اور اگر میں ان کو غنی ومالداری بخش دوں تو یہی ان کی تباہی کا ذریعہ بن جائے اور بعض میرے بندے ایسے ہیں کہ ان کا ایمان ان کے لیے صحت و تندرستی کو خیر کا باعث بناتا ہے اگر میں ان کو بیماری میں مبتلا کردوں تو یہ بیماری ان کو خراب کردے اور بعض میرے بندے ایسے ہیں کہ ان کا ایمان ان کو بیماری میں مناسب رکھتا ہے اگر میں ان کو صحت و تندرستی عنایت کردوں تو وہ فساد و خرابی کا شکار ہوجائیں میں اپنے بندوں کے دلوں کے بھید جانتے ہوئے ان کی تدبیر کرتا ہوں میں علیم وخبیر ذات ہوں۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاولیا، الحلیہ، ابن عساکر۔
اس میں صدقہ بن عبداللہ ہے جس کو امام احمد و امام بخاری اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام ابوحاتم الرازی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ محدثین میں صدق کا مرتبہ رکھتے ہیں یعنی کسی قدر ضعیف ہے لیکن قدریہ ہونے کا شبہ ہونے کی وجہ سے اس موضوع تقدیر کی روایت ان سے درست نہیں ۔ اور علامہ ذھبی کہتے ہیں کہ ان کی روایت کو بیان کرنے کی گنجائش ہے لیکن ان سے استدلال درست نہیں ہے اس کے لیے اور نیز ان راوی کے متعلق مفصل جرح وقدح کے لیے دیکھیے سیر اعلام النبلاء ج ٧ ص ٣١٦۔
اس میں صدقہ بن عبداللہ ہے جس کو امام احمد و امام بخاری اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے اور امام ابوحاتم الرازی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ محدثین میں صدق کا مرتبہ رکھتے ہیں یعنی کسی قدر ضعیف ہے لیکن قدریہ ہونے کا شبہ ہونے کی وجہ سے اس موضوع تقدیر کی روایت ان سے درست نہیں ۔ اور علامہ ذھبی کہتے ہیں کہ ان کی روایت کو بیان کرنے کی گنجائش ہے لیکن ان سے استدلال درست نہیں ہے اس کے لیے اور نیز ان راوی کے متعلق مفصل جرح وقدح کے لیے دیکھیے سیر اعلام النبلاء ج ٧ ص ٣١٦۔
1680 - (ومن مسند أنس) عن أنس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم عن جبريل عن ربه تبارك وتعالى قال: "من أخاف وفي لفظ من أهان لي وليا فقد بارزني بالمحاربة، وما تقرب إلي عبدي المؤمن بمثل أداء ما افترضت عليه، وما يزال عبدي المؤمن يتنفل إلي حتى أحبه، ومن أحببته كنت له سمعا وبصرا ويدا ومؤيدا، إن سألني أعطيته وإن دعاني أجبته، وفي لفظ دعاني فأجبته، وسألني فأعطيته ونصح لي فنصحت له، وما ترددت في شيء أنا فاعله، وما ترددت في قبض نفس مؤمن يكره الموت، وأكره مساءته، ولا بد له منه، وإن من عبادي المؤمنين لمن يشتهى الباب من العبادة فأكفه عنه لئلا يدخله عجب فيفسده، ذلك وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلح إيمانه إلا الغنى ولو أفقرته لافسده ذلك، وإن من عبادي لمن لا يصلح إيمانه إلا الفقر ولو بسطت له لأفسده ذلك، وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلح إيمانه إلا الصحة، ولو أسقمته لأفسده ذلك، وإن من عبادي المؤمنين لمن لا يصلح إيمانه إلا السقم، ولو أصححته لأفسده ذلك، إني أدبر عبادي بعلمي بقلوبهم إني عليم خبير". (ابن أبي الدنيا في كتاب الأولياء حل كر) وفيه صدقة ابن عبد الله السمين ضعفه حم (خ ن) قط وقال أبوحاتم محله الصدق وأنكر عليه القدر فقط.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨١۔۔ از مسند جابر بن عبداللہ (رض) ، زبیر سے مروی ہے کہ میں نے جابر (رض) سے پل صراط پر گزرنے کے متعلق پوچھاتو آپ نے فرمایا میں نے نبی کریم کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ شرط کہ ہر مومن اس سے ضرور گزرے گا، مومنین کے لیے ہنستے مسکراتے پوری ہوجائے گی۔ الصحیح للترمذی، ابوداؤد الطیالسی فی الصفات۔
1681 - ومن مسند جابر بن عبد الله عن الزبير قال: "سألت جابرا عن الورود قال جابر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يتجلى لهم ضاحكا". (ت ط في الصفات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨٢۔۔ حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اکرم اکثر یہ دعا فرماتے تھے : یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ اس پر آپ کے بعض اہل خانہ نے سوال کیا یارسول اللہ کیا آپ اب بھی ہم پر خوف کرتے ہیں جبکہ ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا دل ہمہ وقت رحمن کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے درمیان رہتا ہے اور رحمن یوں کرتا رہتا ہے انگلیوں کو حرکت دیتے ہوئے فرمایا۔ الدارقطنی فی الصفات۔
1682 - عن جابر قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر أن يقول: يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك فقال له بعض أهله: يا رسول الله أتخاف علينا وقد آمنا بك وبما جئت به فقال: إن القلب بين أصبعين من أصابع الرحمن يقول بهما وحرك أصبعيه". (قط في الصفات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨٣۔۔ از مسند ابی رزین العقیلی۔ (وسع کرسیہ السموات والارض) کی تفسیر کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ کرسی جائے قدمین ہے۔ اور عرض کی وسعت کا اندازہ کوئی شی نہیں کرسکتا۔ الدارقطنی فی الصفات۔
1683 - ومن مسند أبي رزين العقيلي عن ابن عباس عنه عليه السلام في قوله {وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ} . قال: "الكرسي موضع القدمين ولا يقدر قدر العرش شيء". (قط في الصفات) .
তাহকীক: