কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১৬৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٤۔۔ سلیم بن قیس العامری سے مروی ہے کہ فرمایا کہ ابن الکوانے حضرت علی سے سنت و بدعت اور جماعت وفرقہ بازی کے متعلق سوال کیا تو حضرت علی نے جواب مرحمت فرمایا، اے ابن الوا تو نے اچھا سوال یاد کیا ہے سو اس کا جواب بھی ذہن نشین کرلے۔ سنت ! اللہ کی قسم سنت تو صرف محمد کا طریقہ ہے۔ اور بدعت وہ ہے جو اس سنت کنارہ کش طریقہ ہو۔ اور جماعت ! اللہ کی قسم اہل حق سے اجتماعیت قائم رکھنا ہے۔ خواہ ان کی تعداد تھوڑی کیوں نہ ہو ؟ اور فرقہ انگیزی اہل بطلان سے اجتماعیت رکھنا ہے خواہ ان کی تعداد کثیر ہو۔ رواہ العسکری۔
1644 - عن سليم بن قيس العامري قال: "سأل ابن الكوا عليا عن السنة والبدعة، وعن الجماعة والفرقة، فقال: يا ابن الكوا حفظت المسئلة فافهم الجواب: السنة والله سنة محمد صلى الله عليه وسلم، والبدعة ما فارقها، والجماعة والله مجامعة أهل الحق، وإن قلوا، والفرقة مجامعة أهل الباطل، وإن كثروا". (العسكري) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٥۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ عنقریب ایک قریب رونما ہوگی جو تم سے جھگڑے گی تو تم سنتوں کے ساتھ ان کا تعاقب کرنا کیونکہ اصحاب سنن ہی کتاب اللہ کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ الالکائی ، فی السنہ، الاصبھانی فی الحجہ۔
1645 - عن علي قال: سيأتي قوم يجادلونكم، فخذوهم بالسنن فإن أصحاب السنن أعلم بكتاب الله. (اللالكائي في السنة،
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٦۔۔ ابوالطفیل سے مروی ہے کہ حضرت علی فرماتے تھے کہ انبیاء کے لائق ترین افراد وہ ہیں جو ان کی پیش کردہ ، شرائع سے بخوبی واقف ہیں پھر آپ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔ (ان اولی الناس بابراھیم للذین التبعوہ وھذا النبی) ۔ ابراہیم سے قریب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ نبی آخزالزمان ۔ آل عمران ٦٨۔ یعنی محمد اور آپ کے متبعین سوا ان میں تغیر وتبدل کی کوشش مت کرو۔ اور محمد کا دوست وہ ہے جو اللہ کا مطیع ہے اور محمد کا دشمن وہ ہے جو اللہ کا عاصی ہے خواہ آپ سے اس کی قرابت و رشتہ داری ہو۔ الالکائی۔
1646 - عن أبي الطفيل قال: كان علي يقول: "إن أولى الناس بالأنبياء أعلمهم بما جاؤا به، ثم يتلوا هذه الآية {إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ} يعني محمدا والذين اتبعوه، فلا تغيروا فإنما ولي محمد من أطاع الله، وعدو محمد من عصى الله، وإن قربت قرابته. (اللالكائي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٧۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ کی امت آپ کے بعد فتنہ و فساد میں مبتلا ہوجائے گی تو حضرت علی سے کسی نے سوال کیا کہ اس سے خلاصی کی کیا صور ہوگی ؟ فرمایا کتاب خداوندی جو غالب و برتر ہے باطل اس پراثر انداز نہیں ہوسکتا، سامنے سے اور نہ ہی پیچھے سے۔ یہ صاحب حکمت ولائق حمد ذات کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ ابن مردویہ۔
1647 - عن علي قال: "قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم إن أمتك ستفتن من بعدك، فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم وسئل ما المخرج منها؟ فقال: كتاب الله العزيز الذي لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد". (ابن مردويه) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٨۔۔ عبداللہ بن الحسن سے مروی ہے کہ حضرت علی نے دوحکم اور فیصلہ کنندگان کے بارے میں فرمایا، کہ میں تمہیں حکم بناتاہوں اس شرط پر کہ تم کتاب اللہ سے رجوع کرو گے اور تمام کتاب اللہ میرے حق میں ہے پس اگر تم نے حل فیصلہ میں کتاب اللہ سے رجوع نہ کیا تو تمہاری حکومت کالعدم ہوجائے گی۔ ابن عساکر۔
1648 - عن عبد الله بن الحسن قال: قال علي في الحكمين: "أحكمكما على أن تحكما بكتاب الله، وكتاب الله كله لي. فإن لم تحكما بكتاب الله فلا حكومة لكما". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٩۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ فرمایا امام وحاکم قریش سے ہوں گے اور جس نے بالشت بھر بھی جماعت سے دوری اختیار کی، سو اس نے اسلام کی مالااپنی گردن سے نکال پھینکی ۔ بخاری و مسلم۔
1649 - عن علي قال: "الأئمة من قريش، ومن فارق الجماعة شبرا فقد نزع ربقة الإسلام من عنقه". (ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٥٠۔۔ محمد بن عمرو بن علی اپنے والد عمر سے اور وہ اپنے والد حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا جو چیز میں تمہارے درمیان چھوڑے جارہاہوں اگر تم اسے تھامے رہو گے تو ہرگز گمراہی نہ پڑؤ گے۔ کتاب اللہ یہ ایک رسی ہے جس کا ایک سرا خدا کے دست قدرت میں ہے تو دوسرا سرا تمہارے اور میرے اہل بیت کے ہاتھوں میں ہے۔ ابن جریر۔ حدیث صحیح ہے
1650 - عن محمد بن عمر بن علي عن أبيه عن علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: "إني قد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا، كتاب الله، سبب بيد الله، وسبب بأيديكم وأهل بيتي". (ابن جرير) وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٥١۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے فرمایا اے انسانو ! کیا بات ہے کہ تم اس راہ سے اعراض کررہے ہو ؟ جس پر تمہارے پیش روگامزن تھے اور تمہارے نبی کی سنت بھی اسی کی راہ بتاتی ہے۔ یقیناً تم سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک کیے گئے کہ انھوں نے اللہ کی کتاب کے بعض حصوں کو بعض حصوں کے ساتھ ٹکرانا شروع کردیا تھا۔ نصر۔
1651 - عن علي قال: "يا أيها الناس ما لكم ترغبون عما عليه أولكم وسنة نبيكم صلى الله عليه وسلم؟ إنما هلك من كان قبلكم أن ضربوا كتاب الله بعضه ببعض" (نصر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٥٢۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ ابن النجار۔
1652 - عن علي قال:"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تفترق هذه الأمة على ثلاث وسبعين فرقة". (ابن النجار) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٥٣۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبرائیل تشریف لائے۔ اور فرمایا اے محمد، تیری امت تیرے بعد اختلاف کا شکار ہوجائے گی میں نے دریافت کیا پھر اس سے گلوخلاصی کی کیا صورت ہے ؟ اے جبرائیل (علیہ السلام) کتاب خداوندی ، جو ہر سرکش کو تباہ کردے گی۔ اور جو اس کو مضبوطی سے تھام لے گا نجات پاجائے گا جو اس کو چھوڑ بیٹھے گا برباد ہوجائے گا یہ فیصلہ کن قول ہے ہزل گوئی نہیں ہے۔ ابن مردویہ۔
1653 - عن علي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " أتاني جبريل فقال: يا محمد إن أمتك مختلفة بعدك، قلت: فأين المخرج يا جبريل؟ فقال: كتاب الله به يقصم كل جبار، ومن اعتصم به نجا، ومن تركه هلك، قول فصل ليس بالهزل". (ابن مردويه) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٥٤۔۔ ابن مسعود سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا کیا تو چاہتا ہے کہ اللہ تجھے عین جنت کے درمیان میں سکونت بخشے ؟ توپھرتجھ پر جماعت کا دامن تھامنا لازم ہے۔ ابن ابی شیبہ۔
1654 - عن ابن مسعود قال: "أتحب أن يسكنك الله وسط الجنة عليك بالجماعة". (ش) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٥٥۔۔ عبداللہ بن ربیعہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک نصرانی کی بات ذکر کی، کہ کچھ لوگ ملک شام میں ایک نصرانی کے گرد جمع ہوگئے تو اس نے ان کو آپ کے بعد آنے والے خلفاء کی صفات بیان کی۔ پھر یہ بات حضرت عمر (رض) بن الخطاب کو پہنچی۔ آپ (رض) نے ان لوگوں سے نصرانی کی باتیں دریافت کیں، پھر آپ نے حضرت عمار کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا کہ مجھے فلاں نصرانی کی بات بتاؤ حضرت عمار (رض) نے ایک نصرانی کا واقعہ بتایا جو آپ کے مبارک عہد میں آپ کے پاس وفد نجران کے ہمراہ آیا تھا اور آپ نے لوگوں کے اس نصرانی سے سوال کرنے کو ناپسند فرمایا تھا۔ ابن عساکر۔
1655 - عن عبد الله بن ربيعة "ذكر قول نصراني اجتمعوا به بالشام وأخبرهم بصفة الخلفاء بعد النبي صلى الله عليه وسلم، وأنه بلغ عمر بن الخطاب خبره، فسألهم عما ذكر لهم النصراني، ثم قال: علي بعمار فجاء. فقال له عمر: حدثني حديث النصراني. فذكر حكاية عن نصراني قدم في وفد أهل نجران على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم كره لهم سؤال أهل الكتاب". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٥٦۔۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ رسول کریم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر فرمائے ہیں لہٰذا ان کو ضائع مت کرو اور کچھ حدود مقرر فرمائی ہیں ان کے قریب بھی مت جاؤ، اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے سو ان کی حرمت کو مت توڑو۔ اور بہت سی چیزوں کے بارے میں سکوت اختیار فرمایا ہے بغیر کسی بھول کے سو ان کی تکلیف میں مت پڑو۔ یہ اللہ کی رحمت ہے اس کو قبول کرلو۔ آگاہ رہوتقدیر اچھی ہو یا بری ضروررساں ہو یا نفع رساں اللہ ہی کی طرف سے ہے، وہ کسی بندے کو تفویض کی گئی اور نہ ہی بندے کی مشیت کو کامل اختیار دیا گیا ۔ ابن النجار۔
1656 - عن أبي الدرداء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إن الله افترض عليكم فرائض فلا تضيعوها، وحد حدودا فلا تقربوها وحرم محارم فلا تنهكوها، وسكت عن كثير من غير نسيان فلا تكلفوها، رحمة من الله فاقبلوها، ألا إن القدر خيره وشره، ضره ونفعه إلى الله، ليس إلى العبد تفويض ولا مشيئة ". (ابن النجار) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٥٧۔۔ ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اے انسانو، میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہاہوں، اگر تم ان کو مضبوطی سے تھام لو اور تو میرے بعد ہرگز کبھی گمراہی کا شکار نہ بنو گے ان میں سے ایک کا رتبہ دوسری سے بڑھا ہوا ہے وہ کتاب اللہ ہے جو اللہ کی رسی ہے آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی ہے اور میری آل۔ یہ دونوں چیزیں آپس میں کبھی جدانہ ہوں گی، حتی کہ میرے پاس حوض پر آئیں۔ ابن جریر۔
1657 - عن أبي سعيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس إني تارك فيكم أمرين، إن أخذتم بهما لم تضلوا بعدي أبدا، وأحدهما أفضل من الآخر، كتاب الله، هوحبل الله الممدود من السماء إلى الأرض، وأهل بيتي عترتي، ألا وإنهما لن يتفرقا حتى يردا على الحوض" (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٥٨۔۔ حضرت ابومسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہم ـآپس میں گفتگو کرتے تھے کہ اور یہ کہ شیر ہے۔ یعنی یہ کہا کرتے کہ اپنی طرف سے رائے زنی کرنا شر ہے) اپنی آراء کو غلط سمجھو۔ اور جماعت کو مضبوطی سے تھامو۔ کیونکہ اللہ امت محمد کو کسی گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا۔ ابن ابی شیبہ۔
1658 - عن أبي مسعود قال: "كنا نتحدث أن الآخر فالآخر شر، اتهموا الرأي، وعليكم بالجماعة، فإن الله لم يكن ليجمع أمة محمد على الضلالة". (ش) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٩۔۔ معمر ، قتادہ ، سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے حضرت عبداللہ بن سلام، سے دریافت فرمایا، کہ بنی اسرائیل کتنے فرقوں بٹ گئی تھی ؟ عرض کیا اکہتر یابہترفرقوں میں۔ تو آپ نے فرمایا میری امت بھی اسی قدر یا اس سے بھی مزید ایک فرقہ زیادہ فرقوں میں بٹ جائے گی سوائے ایک کے سب جہنم میں جائیں گے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1659 - عن معمر عن قتادة قال: " سأل النبي صلى الله عليه وسلم عبد الله بن سلام على كم تفرقت بنو إسرائيل؟ قال: على واحدة أو اثنتين وسبعين فرقة. قال: وامتي أيضا ستفترق مثلهم أو يزيدون واحدة: كلها في النار إلا واحدة". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٠۔۔ ازمسند ابی بن کعب (رض)۔ ابی بن کعب سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا تم پر راہ الٰہی اور راہ سنت لازم ہے۔ پس روئے زمین پر کوئی بندہ ایسا نہیں جو راہ الٰہی اور راہ سنت گامزن ہو اور وہ رحمن کا ذکر کرے اور اس کی آنکھیں خشیت خداوندی سے بہہ پڑیں تو اللہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو عذاب کرے ، اور روئے زمین پر کوئی بندہ ایسا نہیں جو راہ الٰہی اور راہ سنت گامزن ہو، اور وہ اللہ کا ذکر کرے اور اس پر خوف خداوندی سے کپکپی طاری ہوجائے تو اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی خشک پتوں والا درخت ہے اور باد صرصران کی خوب جھاڑ دیتی ہے تو اسی طرح اس بندہ کے گناہوں کو بھی اللہ تعالیٰ ختم فرما دیتے ہیں جس طرح درخت سے یہ پتے گرتے ہیں۔ اور راہ الٰہی میں معاش کی فکر کرناراہ الٰہی کے سوا میں جہاد کرنے سے بھی افضل و بہتر ہے سو دیکھو کہ جہاد ہو یا فکر معاش انبیاء اور ان کی سنت کے مطابق اختیار کرو۔ الاالکائی فی السنہ۔
1660 - (ومن مسند أبي بن كعب) عن أبي بن كعب قال: "عليكم بالسبيل والسنة، فإنه ما على الأرض عبد على السبيل والسنة ذكر الرحمن ففاضت عيناه من خشية الله فيعذبه وما على الأرض عبد على السبيل والسنة ذكر الله في نفسه فأقشعر جلده من خشية الله إلا كان مثله كمثل شجرة يبس ورقها فهي كذلك إذ أصابها ريح شديد فتحات عنها ورقها إلا حط الله عنه خطاياه، كما تحات عن تلك الشجرة ورقها وإن اقتصادا في سبيل الله وسنة خير من اجتهاد في خلاف سبيل الله وسنة فانظروا أن يكون عملكم إن كان جهادا أواقتصادا أن يكون ذلك على منهاج الأنبياء وسنتهم". (اللالكائي في السنة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦١۔۔ ازمسند انس بن مالک۔ یوسف بن عطیہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ہمیں قتادہ (رح) ، مطر الورق (رح) اور عبداللہ الدناج ، نے بیان کیا کہ حضرت انس سے مروی ہے کہ حضور گھر کے دروازہ سے ہجرہ شریف میں جانے کے لیے نکلے تو ایک قوم کو دیکھا کہ قرآن کے بارے میں بحث و مباحثہ کررہے ہیں کیا اللہ نے اس اس آیت میں یوں نہیں فرمایا ؟ کیا اللہ نے اس اس آیت میں یوں نہیں فرمایا ؟ رسول اللہ نے حجرہ کا داروہ اس غصہ کے عالم میں کھولا کہ گویا آپ کے رخ زیبا پر کسی نے انار کے دانے نچوڑ دیے ہوں پھر فرمایا کیا اسی کو تم کو حکم ملا ہے ؟ کیا یہی تمہارا مقصود مراد ہے۔ اسی طرح تو تم سے پہلے لوگ قعر ہلاکت میں پڑے۔ کہ انھوں کتاب اللہ کے بعض حصوں کو بعض حصوں کے ساتھ ٹکرانا شروع کردیا تھا تم کو اللہ نے جس بات کا حکم فرمایا ، اس کی پیروی کرلو۔ اور جس بات سے منع فرمایا ہے اس سے باز آجاؤ۔

راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے کسی کو بھی تقدیر کے متعلق بحث کرتے نہیں دیکھا، حتی کہ حجاج بن یوسف کا زمانہ آیاتوسب سے پہلے معبد الجھنی نے اس میں کلام شروع کیا توحجاج بن یوسف نے اس کو پکڑوا کرتہ تیغ کردیا۔ اسی روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں حضور اپنے گھر سے نکلے تو ایک قوم کوسنا کہ تقدیر کے بارے مذاکرہ کررہے ہیں تو آپ ان کے پاس اس حال میں تشریف لے گئے گویا آپ کے رخ زیبا پر کسی نے انار کے دانے نچوڑ دیے ہوں، پھر فرمایا کیا اسی لیے تم پیدا کیے گئے ہو کیا یہی تم سے مقصود و مطلوب ہے ؟ اسی طرح کی باتوں کی وجہ سے تو تم سے پہلے لوگ قعرہلاکت میں پڑے۔ دیکھو تم کو اللہ نے جس بات کا حکم فرمایا اس کی پیروی کرلو۔ اور جس بات سے منع فرمایا ہے اس سے باز آجاؤ بس۔ الدارقطنی ، فی الافراد، الشیرازی فی الالقاب، ابن عساکر۔
1661 - ومن مسند أنس بن مالك عن يوسف بن عطية ثنا قتادة ومطر الوراق وعبد الله الداناج عن أنس " أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج من باب البيت وهو يريد باب الحجرة، سمع قوما يتراجعون بينهم في القرآن، ألم يقل الله في آية كذا وكذا ألم يقل الله في آية كذا وكذا قال: ففتح رسول الله صلى الله عليه وسلم باب الحجرة وكأنما فقئ على وجهه حب الرمان فقال أبهذا أمرتم أبهذا عنيتم إنما هلك الذين من قبلكم بأشباه هذا ضربوا كتاب الله بعضه ببعض أمركم الله بأمر فاتبعوه، ونهاكم عن شيء فانتهوا"، قال: فلم يسمع الناس بعد ذلك أحدا يتكلم في القدر حتى كان ليالي الحجاج بن يوسف، فأول من تكلم فيه. معبد الجهني فأخذه الحجاج بن يوسف فقتله وفي لفظ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من بيته، وسمع قوما يتذاكرون القدر على باب حجرة له، فخرج إليهم فكأنما فقئ على وجهه حب الرمان قال: ألهذا خلقتم أو لهذا عنيتم إنما هلك من كان قبلكم بهذا وأشباه هذا، انظروا ما أمرتم به فاتبعوه وما نهيتم عنه فانتهوا". (قط في الأفراد والشيرازي في الألقاب كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٢۔۔ ازمسند بریدہ بن الحصیب الاسمی۔ بریدہ بن الحصیب، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ایک دن باہر تشریف لائے تو تین مرتبہ نداء دی کہ اے لوگو میری اور تمہاری مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی دشمن سے خوف زندہ ہے کہ کہیں وہ ان پر حملہ آور نہ ہوجائے تو انھوں نے اپنے ایک فرستادہ کو اس غرض سے بھیجا کہ وہ ان کے پاس دشمن کی خبر لائے۔ وہ اسی حال پر تھے کہ فرستادہ نے دشمن کو دیکھ لیا وہ اپنی قوم کو متنبہ کرنے کے لیے متوجہ ہوا توا سے یہ خطرہ دامن گیرہوا کہ کہیں دشمن اس کے ڈرانے پہلے ہی ان کونہ جالے۔ تو اس نے اپنے کپڑے اتارے اور چلاتا ہواپہنچا کہ لوگو تم گھیر لیے گئے تم گھیر لیے گئے تم گھیر لیے گئے۔ الرامھرمزی فی الامثال۔ عرب کے زمانہ جاہلیت میں انتہائی درجہ پر کسی خطرہ سے آگاہ کرنا مقصود ہوتا تو اعلان کنندہ لباس اتار کر ہاتھوں میں لیے خبردار کرتا ہوا آتا تھا۔
1662 - ومن مسند بريدة بن الحصيب الأسمي عن بريدة بن الحصيب قال: "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فنادى ثلاث مرات، يا أيها الناس إنما مثلي ومثلكم مثل قوم خافوا عدوا أن يأتيهم فبعثوا رجلا يتراءى لهم، فبينما هم كذلك إذ أبصر العدو، فأقبل لينذر قومه فخشي أن يدركه العدو قبل أن ينذر قومه فأهوى بثوبه أيها الناس أتيتم ثلاث مرات". (الرامهرمزي في الأمثال) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدود اللہ کی پابندی کرنا
١٦٦٣۔۔ ازمسند بشیر (رض) بن ابی مسعود۔ ابن حلبس سے مروی ہے کہ بشیر (رض) ابن مسعود، نے جو اصحاب رسول میں سے تھے ، فرمایا جماعت کو مضبوطی سے تھام لو۔ کیونکہ اللہ امت محمد کو کسی گمراہی پر جمع نہ فرمائے گا۔ ابوالعباس ، الاصم، فی الثالث من فوائدہ۔
1663 - ومن مسند بشير بن أبي مسعود الأنصاري عن أبي حلس قال: "قال بشير بن أبي مسعود وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: "عليكم بالجماعة فإن الله لم يكن ليجمع أمة محمد على ضلالة". (أبوالعباس الأصم في الثالث من فوائده) .
tahqiq

তাহকীক: