কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৬২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔ کتاب وسنت کو تھامنے کا بیان
١٦٢٤۔۔ عمر بن عبدالعزیز (رح) سے مروی ہے آپ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا ، آگاہ رہو، جو طریقہ رسول اللہ اور ان کے دوساتھیوں نے جاری کردیا وہ عین دین ہے ہم اس سے ابتداء کرتے ہیں تو اسی پر انتہا بھی کرتے ہیں، اور ان کے ماسوا کے طریقہ کو ہم موخر کردیتے ہیں۔ ابن عساکر۔
1624 - عن عمر بن عبد العزيز أنه قال في خطبته: "ألا إن ما سن رسول الله صلى الله عليه وسلم وصاحباه فهو دين نأخذ به وننتهي إليه، وما سن سواهما فأنا نرجيه". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔ کتاب وسنت کو تھامنے کا بیان
١٦٢٥۔۔ از مسند عمر (رض)۔ خالد بن عرفطہ، سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ عبدالقیس کے ایک شخص کو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا، حضرت عمر نے اس سے دریافت کیا تم فلاں عبدی ہو ؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے لکڑی کے ساتھ اس کو مارا، آدمی نے کہا اے امیرالمومنین میرا کیا قصور ہے فرمایا بیٹھ جاؤ، پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر ان آیات کی تلاوت فرمائی۔ الر، تلک آیات الکتاب المبین۔۔ تا۔۔ الغافلین۔ الر یہ کھلی کتاب کی آیات ہیں۔۔
آپ نے ان آیات کی تین بار تلاوت فرمائی ۔ اور تین بار اس شخص کو بھی مارا، اس نے کہا اے امیرالمومنین میرا کیا قصور ہے ؟ فرمایا تم نے ہی کتاب دانیال کو نقل کرکے لکھا ہے ؟ اس نے عرض کیا تو آپ اور حکم دیدیجئے میں اس کی اتباع کرلوں گا، فرمایا جاؤ اس کو گرم پانی اور اون کے ساتھ مٹاڈالو، اور اس کو قطعا نہ پڑھو اور نہ کسی اور کو پڑھاؤ۔ اگر مجھے اطلاع مل گئی کہ تم نے اس کو پڑھایا کسی کو پڑھایا ہے تو سخت سزا دوں گا۔
نزول قران سے دوسری آسمانی کتابیں منسوخ ہوگئیں۔
پھر حضرت عمر نے اسی طرح کا ایک اپناواقعہ بیان کیا فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے اہل کتاب کا ایک نسخہ تیار کرکے چمڑے میں لپیٹ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ عرض کیا ایک کتاب کا نسخہ ہے۔ جو میں نے تیار کیا ہے تاکہ ہمارے علم میں مزید اضافہ ہوجائے یہ سن کر رسول اللہ اس قدرغضبناک ہوئے کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہوگئے پھر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے نماز کا اعلان کیا گیا، انصار نے کہا تمہارے نبی غضبناک ہوگئے ہیں اسلحہ لو، اسلحہ لو، لوگوں نے جلدی سے منبر رسول کو گھیر لیا۔
پھر آپ نے فرمایا : اے لوگو ! مجھے جامع ترین اور آخری کلمات دیے گئے ہیں اور مجھے کلام کا خلاصہ اور نچوڑ دیا گیا اور میں تمہارے پاس صاف ستھری شریعت لے کر آیاہوں پس تم تذبذب اور تردد کا شکار مت ہوجاؤ اور یہ مضطرب لوگ یہودی و نصاری تمہیں حیران پریشان نہ کردیں حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا، رضیت بااللہ ربا وبالاسلام دینا وبک رسولا۔ میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے رسول ہونے پر راضی ہواپھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ المسند لابی یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الضعفائ، للعقیلی ، نصرا لمقدسی ، السنن لسعید فی الحجہ، اور اس کا ایک اور طریق بھی ہے۔
آپ نے ان آیات کی تین بار تلاوت فرمائی ۔ اور تین بار اس شخص کو بھی مارا، اس نے کہا اے امیرالمومنین میرا کیا قصور ہے ؟ فرمایا تم نے ہی کتاب دانیال کو نقل کرکے لکھا ہے ؟ اس نے عرض کیا تو آپ اور حکم دیدیجئے میں اس کی اتباع کرلوں گا، فرمایا جاؤ اس کو گرم پانی اور اون کے ساتھ مٹاڈالو، اور اس کو قطعا نہ پڑھو اور نہ کسی اور کو پڑھاؤ۔ اگر مجھے اطلاع مل گئی کہ تم نے اس کو پڑھایا کسی کو پڑھایا ہے تو سخت سزا دوں گا۔
نزول قران سے دوسری آسمانی کتابیں منسوخ ہوگئیں۔
پھر حضرت عمر نے اسی طرح کا ایک اپناواقعہ بیان کیا فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نے اہل کتاب کا ایک نسخہ تیار کرکے چمڑے میں لپیٹ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ عرض کیا ایک کتاب کا نسخہ ہے۔ جو میں نے تیار کیا ہے تاکہ ہمارے علم میں مزید اضافہ ہوجائے یہ سن کر رسول اللہ اس قدرغضبناک ہوئے کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہوگئے پھر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے نماز کا اعلان کیا گیا، انصار نے کہا تمہارے نبی غضبناک ہوگئے ہیں اسلحہ لو، اسلحہ لو، لوگوں نے جلدی سے منبر رسول کو گھیر لیا۔
پھر آپ نے فرمایا : اے لوگو ! مجھے جامع ترین اور آخری کلمات دیے گئے ہیں اور مجھے کلام کا خلاصہ اور نچوڑ دیا گیا اور میں تمہارے پاس صاف ستھری شریعت لے کر آیاہوں پس تم تذبذب اور تردد کا شکار مت ہوجاؤ اور یہ مضطرب لوگ یہودی و نصاری تمہیں حیران پریشان نہ کردیں حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور عرض کیا، رضیت بااللہ ربا وبالاسلام دینا وبک رسولا۔ میں اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے رسول ہونے پر راضی ہواپھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ المسند لابی یعلی، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الضعفائ، للعقیلی ، نصرا لمقدسی ، السنن لسعید فی الحجہ، اور اس کا ایک اور طریق بھی ہے۔
1625 - ومن مسند عمر رضي الله عنه عن خالد بن عرفطة قال: "كنت جالسا عند عمر إذ أتي برجل (2) من عبد القيس فقال له عمر: أنت فلان العبدي؟ قال: نعم، فضربه بقناة معه فقال الرجل: ما لي يا أمير المؤمنين؟ قال: اجلس فجلس فقرأ بسم الله الرحمن الرحيم {الر تِلْكَ آيَاتُالْكِتَابِ الْمُبِينِ} إلى قوله: {لَمِنَ الْغَافِلِينَ} فقرأها عليه ثلاثا وضربه ثلاثا فقال له الرجل: ما لي يا أمير المؤمنين؟ قال: أنت الذي نسخت كتاب دانيال قال مرني بأمرك اتبعه قال: انطلق فامحه بالحميم والصوف، ثم لا تقرأه ولا تقرئه أحدا من الناس فلئن بلغني عنك أنك قرأته أو أقرأته أحدا من الناس لانهكنك عقوبة. ثم قال: انطلقت أنا فانتسخت كتابا من أهل الكتاب ثم جئت به في أديم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما هذا في يدك يا عمر؟ قلت: يا رسول الله كتابا نسخته لنزداد به علما إلى علمنا، فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احمرت وجنتاه، ثم نودي بالصلاة جامعة فقالت الأنصار: أغضب نبيكم؟ السلاح السلاح فجاؤا حتى أحدقوا بمنبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أيها الناس إني قد أوتيت جوامع الكلم وخواتيمه واختصر لي اختصارا، ولقد أتيتكم بها بيضاء نقية فلا تهوكوا (2) ولا يغرنكم المتهوكون، فقمت فقلت: رضيت بالله ربا، وبالإسلام دينا، وبك رسولا، ثم نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم.
(ع) وابن المنذر وابن أبي حاتم (عق) ونصر المقدسي (ص) في الحجة وله طريق ثان في المراسيل.
(ع) وابن المنذر وابن أبي حاتم (عق) ونصر المقدسي (ص) في الحجة وله طريق ثان في المراسيل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔ کتاب وسنت کو تھامنے کا بیان
١٦٢٦۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم سے توراۃ کی تعلیم کے متعلق سوال کیا، فرمایا تم اس کونہ سیکھو بلکہ جو تم پر نازل کیا گیا ہے اسی کو سیکھو اور اس پر ایمان لاؤ۔ شعب الایمان۔ حدیث ضعیف ہے۔
1626 - عن عمر قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن تعليم التوراة قال: "لا تعلمها وتعلموا ما أنزل عليكم وآمنوا به". (هب) وضعفه
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٢٧۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا کہ دین میں اپنی رائے کو پیچ سمجھو، کیونکہ میں نے اپنے آپ کو بھی دیکھا کہ رسول اللہ کے امر میں ہیچ رائے ہوں۔ وہ لوگ یعنی صحابہ کرام حق سے سراموانحراف کرنے والے نہ تھے اور یہ ابی جندل کے واقعہ والادن ہے کہ مصالحت نامہ آپ اور اہل مکہ کے سامنے رکھا ہوا ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم، اہل مکہ کہنے لگے آپ ہمیں کیا خیال کرتے ہیں کہ اگر یہ لکھا گیا تب تو ہم نے آپ کی بات کی تصدیق کرلی لہٰذا وہی لکھئے جو پہلے سے لکھتے آرہے ہیں، یعنی باسمک اللھم، آپ اس پر راضی ہوگئے لیکن میں ان کو انکار کردیا، حضور نے فرمایا جب میں راضی ہوگیاہوں تو بھی تم انکار کرتے ہو ؟ البزار ، ابن جریر فی الافراد ، ابونعیم فی المعرفہ، الالکائی ، فی السنہ، الدیلمی۔
1627 - عن عمر قال: "اتهموا الرأي على الدين فلقد رأيتني أراه على أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما آلو عن الحق وذاك يوم أبي جندل والكتاب بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأهل مكة. فقال: أكتب بسم الله الرحمن الرحيم ترانا إذا صدقناك بما تقول ولكن اكتب بما كنت تكتب باسمك اللهم، فرضي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبيت عليهم حتى قال: يا عمر إني قد رضيت وتأبى أنت". (البزار (2) وابن جرير في الأفراد وأبو نعيم في المعرفة واللالكائي في السنة والديلمي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٢٨۔۔ جبیر بن نفیر حضرت عمر سے روایت کرتے ہیں حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں آپ کے زمانہ حیات میں چلا اور خیبر پہنچا، وہاں ایک یہودی کو پایا جو ایک بات کہتا تھا جو مجھے بہت پسند آئی میں نے اس کو کہا، کیا تم یہ بات میرے لیے لکھ دو گے ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، تو میں ایک چمڑا لے کر اس کے پاس پہنچا اور وہ مجھے لکھوانے لگا۔ جب میں لوٹا تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں نے ایک یہودی کو بہت اچھی بات کہتے ہوئے پایا تھا میرا خیال ہے آپ کے بعد کسی اور نے ایسی بات نہیں کہی۔ حضور نے فرمایا امید ہے تم نے وہ لکھ لی ہوگی ؟ عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اچھا لاؤ۔ تو میں گیا اور وہ تحریر لے کر آپ کی خدمت میں پہنچا، آپ نے فرمایا بیٹھو اور اس کو پڑھ کرسناؤ۔ میں نے تھوڑی دیر اس کو پڑھا ، پھر آپ کے چہرہ اقدس کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ آپ کے چہرہ اقدس کا رنگ بدل چکا ہے۔ پھر تو مجھ پر ایسی گھبراہٹ طاری ہوئی کہ مزید اس کا ایک حرف بھی نہ پڑھ سکا۔ پھر میں نے وہ تحریر آپ کو دیدی۔ آپ اس کے ایک ایک حرف کو اپنے لعاب مبارک سے محو فرمانے لگے۔ اور ساتھ ساتھ یہ فرما رہے تھے کہ ان لوگوں کے پیچھے نہ پڑو یہ تو راہ بھٹک چکے ہیں اس طرح آپ نے اس سارے کو مٹاڈالا۔ الحلیہ۔
1628 - عن جبير بن نفير عن عمر قال: انطلقت في حياة النبي صلى الله عليه وسلم حتى أتيت خيبر فوجدت يهوديا يقول قولا فأعجبني فقلت هل أنت مكتبي بما تقول؟ قال: نعم، فأتيته بأديم فأخذ يملي علي، فلما رجعت قلت: يا رسول الله إني لقيت يهوديا يقول قولا لم أسمع مثله بعدك فقال: لعلك كتبت منه؟ قلت: نعم، قال: ائتني به، فانطلقت فلما أتيته قال: اجلس اقرأه فقرأت ساعة ونظرت إلى وجهه فإذا هو يتلون فصرت من الفرق لا أجيز حرفا منه، ثم رفعته إليه ثم جعل يتبعه رسما رسما يمحوه بريقه وهو يقول: لا تتبعوا هؤلاء فإنهم قد تهوكوا حتى محا آخر حرف". (حل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٢٩۔۔ حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، اللہ نے کتاب نازل فرمائی اور کچھ فرائض مقرر کیے سو ان میں کمی نہ کرو، اور کچھ حدود متعین فرمائی ہیں ان کو تبدیل مت کرو، اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے سو ان کے قریب بھی نہ جاؤ، اور کچھ چیزوں سے سکوت فرمایا ہے بغیر کسی بھول کے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے سوا سے قبول کرو۔ اور اپنی رائے کو فوقیت دینے والے سنتوں کے دشمن ہیں ان لوگوں کی یادادشت سے میری سنتیں سلب ہوجاتیں ہیں اور ان کے لیے ان کو محفوظ رکھناعاجز کردیتا ہے۔ اور پھر یہ بات بھی ان سے سلب کرلی جاتی ہے کہ وہ لاعلمی کا اظہار کرسکیں، پھر وہ سنن کا اپنی رائے سے مقابلہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ سو ان سے بچو ! بیشک حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے۔ اور ممنوع چراگاہ کے اردگرد چرانے والاقریب ہے کہ چراگاہ میں پھنس جائے پس آگاہ رہو ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ روئے زمین پر اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں نصر اس روایت میں ایک راوی ایوب بن سوید ضعیف ہے۔
1629 - عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله أنزل كتابا وافترض فرائض فلا تنقصوها، وحد حدودا فلا تغيروها، وحرم محارم فلا تقربوها، وسكت عن أشياء لم يسكت نسيانا كانت رحمة من الله فاقبلوها. إن أصحاب الرأي أعداء السنن تفلتت منهم أن يعوها وأعيتهم أن يحفظوها، وسلبوا أن يقولوا لا نعلم فعارضوا السنن برأيهم، فإياكم وإياهم فإن الحلال بين والحرام بين كالمرتع حول الحمى أوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى وحمى الله في أرضه محارمه". (نصر) وفيه أيوب بن سويد ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٠۔۔ مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا رائے زنی و قیاس کرنے والوں سے اجتناب کرو۔ مسنداحمد، فی النسہ فی اتباع الکتاب والسنۃ وذم الرای، ابوعبید فی الغریب۔
1630 - عن مجاهد قال: قال عمر: "أياي والمكايلة يعني المقايسة".
(حم في السنة في باب اتباع الكتاب والسنة وذم الرأي. وأبو عبيد في الغريب) .
(حم في السنة في باب اتباع الكتاب والسنة وذم الرأي. وأبو عبيد في الغريب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣١۔۔ میمون بن مہران سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیرالمومنین ہم نے مدائن شہر فتح کیا تو وہاں مجھے ایک کتاب دریافت ہوئی جس میں بہت عمدہ کلام ہے پوچھا کیا اللہ کا کلام ہے ؟ عرض کیا نہیں تو حضرت عمر نے درہ منگوایا اور اس کو زدوکوب کرنے لگے۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی :
الر تلک آیات الکتاب المبین، اناانزلناہ قرآناعربیا۔۔۔ تا۔۔۔ وان کنت من قبلہ لمن الغافلین۔” الر ، یہ روشن کتاب کی آیات ہیں ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے ۔۔ اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے علماء اور پادریوں کی کتابوں پر اس قدر جھک گئے کہ توراۃ اور انجیل کو چھوڑ بیٹھے حتی کہ وہ دونوں کتابیں مٹ گئیں اور ان کے اندر کا علم بھی چلا گیا۔ نصر۔
الر تلک آیات الکتاب المبین، اناانزلناہ قرآناعربیا۔۔۔ تا۔۔۔ وان کنت من قبلہ لمن الغافلین۔” الر ، یہ روشن کتاب کی آیات ہیں ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے ۔۔ اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے علماء اور پادریوں کی کتابوں پر اس قدر جھک گئے کہ توراۃ اور انجیل کو چھوڑ بیٹھے حتی کہ وہ دونوں کتابیں مٹ گئیں اور ان کے اندر کا علم بھی چلا گیا۔ نصر۔
1631 - عن ميمون بن مهران قال: أتى عمر بن الخطاب رجل فقال: يا أمير المؤمنين إنا فتحنا المدائن أصبت كتابا فيه كلام معجب قال: أمن كتاب الله؟ قلت: لا، فدعا بالدرة فجعل يضربه بها، وقرأ {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ. إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآناً عَرَبِيّاً} إلى قوله {وَإِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِينَ} . ثم قال: إنما هلك من كان قبلكم بأنهم أقبلوا على كتب علمائهم وأساقفتهم وتركوا التوراة والإنجيل حتى درسا وذهب ما فيهما من العلم". (نصر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٢۔۔ ابراہیم النخعی سے مروی ہے کہ فرمایا کہ کوفہ میں ایک شخص دانیال (علیہ السلام) کی کتابیں تلاش کرتا تھا اور یہ اس کی عادت تھی تو اس کے بارے میں حضرت عمر کی طرف سے حکم آیا کہ اس کو ان کے پاس پیش کیا جائے تو یہ شخص حضرت عمر کی خدمت میں پہنچا آپ نے اس پر درہ اٹھالیا اور یہ آیات تلاوت فرمانے لگے۔ الر تلک آیات الکتاب المبین۔۔ تا۔۔ الغافلین۔ اس نے کہا میں حضرت عمر کا مقصود سمجھ گیا اور عرض کرنے لگا اے امیرالمومنین مجھے چھوڑ دیجئے اللہ کی قسم میں ان کتابوں میں سے کوئی کتاب نذرآتش کیے بغیر نہ چھوڑوں گا پھر آپ نے چھوڑ دیا۔ المصنف لعبدالرزاق ، ابن لضریس فی فضائل القرآن، العکسری فی المواعظ، الخطیب۔
1632 - عن إبراهيم النخعي قال: "كان بالكوفة رجل يطلب كتب دانيال وذلك الضريبة فجاء فيه كتاب من عمر بن الخطاب أن يرفع إليه، فلما قدم على عمر علاه بالدرة ثم جعل يقرأ عليه {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْحَكِيمِ} حتى بلغ الغافلين. قال: فعرفت ما يريد فقلت: يا أمير المؤمنين دعني فوالله لا أدع عندي من تلك الكتب إلا أحرقته فتركه. (عب وابن الضريس في فضائل القرآن، والعسكري في المواعظ، خط) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٣۔۔ عبداللہ بن حکیم سے مروی ہے کہ حضرت عمر فرماتے تھے کہ سب سے سچی بات اللہ کی ہے اور آگاہ رہو سب سے اچھا طریقہ محمد کا طریقہ ہے اور بدترین امور نئی پیدکردہ بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے اور غارہ رہو جب تک لوگ علم کو اپنے بڑؤں سے حاصل کرتے رہیں گے اور چھوٹابڑے پر کھڑانہ ہوگا، خیر میں رہیں گے اور جب چھوٹا بڑے پر کھڑا ہوجائے گا توخیرمفقود ہوجائے گی۔ الالکائی فی السنہ۔
1633 - عن عبد الله بن عكيم قال: كان عمر يقول: "إن أصدق القيل قيل الله، ألا وإن أحسن الهدي هدي محمد، وشر الأمور محدثاتها، وكل محدثة ضلالة، ألا وإن الناس بخير ما أخذوا العلم عن أكابرهم، ولم يقم الصغير على الكبير، فإذا قام الصغير على الكبير فقد . (اللالكائي في السنة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٤۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کے شبہات کو لے کر تم سے جھگڑیں گے تو تم ان کو سنتوں کے ساتھ پکڑنا یقیناسنتوں کا علم کتاب اللہ کو زیادہ جاننے والا ہے۔ الدارمی، نصر المقدسی فی الحجہ، الالکائی، فی السنہ، ابن عبدالبر فی العلم، ابن ابی زمنین فی اصول السنہ، الاصبہانی، فی الحجہ، ابن النجار۔
1634 - عن عمر أنه قال: سيأتي ناس يجادلونكم بشبهات القرآن فخذوهم بالسنن فإن أصحاب السنن أعلم بكتاب الله". (الدارمي ونصر المقدسي في الحجة، واللالكائي في السنة، وابن عبد البر في العلم، وابن أبي زمنين في أصول السنة (2) والأصبهاني في الحجة وابن النجار) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٥۔۔ از مسند علی (رض)۔ ابوحجیفہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی سے سوال کیا، کیا آپ کے پاس قرآن کے سوارسول اللہ کی طرف سے کچھ ہے ؟ فرمایا نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو چاک کیا اور جان کو پیدا کیا، قرآن کو سمجھ بوجھ اور اس صحیفہ کے سواکچھ نہیں میں نے عرض کیا اس صحیفہ میں کیا ہے ؟ فرمایا دیت اور قیدی کی رہائی کے احکام اور ایک یہ بات کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے۔ ابوداؤد، الطیالسی ، المصنف لعبدالرزاق ، الحمیدی، مسند احمد، العدنی، والدارمی، الصحیح بخاری، ترمذی، النسائی، ابن ماجہ، المسند لابی یعلی، ابن قانع ٤، ابلن جارود، الطحاوی، وابن جریر۔
1635 - ومن مسند علي عن أبي جحيفة قال: "سألت عليا هل عندكم من رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء بعد القرآن؟ فقال: ولا والذي فلق الحبة، وبرأ النسمة إلا فهم (3) يؤتيه الله رجلا في القرآن أو ما في هذه الصحيفة. قلت: وما في الصحيفة؟ قال: العقل وفكاك الأسير، ولا يقتل مسلم بكافر". (ط عب) والحميدي (حم) والعدني والدارمي (خ ت ن هـ ع) (وابن قانع – (4)) وابن الجارود والطحاوي وابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٦۔۔ حارث اعو (رح) سے یہ مروی ہے کہ میرا مسجد سے گزر ہواتودیکھا کہ لوگ بحث و مباحثہ مشغول ہیں میں حضرت علی عنہ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیرالمومنین کیا آپ لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ بحث و مباحثہ میں مصروف ہیں۔ آپ نے تاکید اور دریافت فرمایا کیا واقعی وہ ایساکر رہے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا میں نے نبی سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے کہ عنقریب ایک فتنہ رونما ہوگا میں نے عرض کیا یارسولا للہ اس سے خلاصی کیا صورت ہے ؟ فرمایا اللہ کی کتاب۔ جس میں تم سے پہلے اور بعد والے لوگوں کی خبریں ہیں اور تمہارے درمیان کے اختلاف کا فیصلہ کن کتاب ہے نہ کہ ہزل گوئی۔ جس نے بڑائی کی وجہ سے اس کو ترک کردیا اللہ اس کو ہلاک فرمادے گا۔ اور جس نے اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کی اللہ اس کو گمراہ کردے گا۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے اور یہ ذکر اور دانائی کا کلام ہے اور یہ ذکر اور دانائی کا کلام ہے اور یہ سیدھاراستہ ہے خواہشات نفسانیہ اس میں کجی پیدا کرسکتیں، ہیں اور نہ ہی اس میں زبانوں کا التباس ہوسکتا ہے علماء اس سے سیر نہیں ہوتے، بار بار پڑھنے سے اس کی تروتازگی میں کچھ فرق نہیں آتا، اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے یہ وہی ہے کہ جنون نے اس کوسنا تو رہ نہیں سکے اور بےاختیار پکاراٹھے۔ اناسمعنا قرآن عجبا، یھدی الی الرشد فامنا بہ) ہم نے ایک عجیب قرآن سنا جو ہدایت کی راہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ جس نے اس کے ساتھ بات کی سچ باتک ی۔ جس نے اس پر عمل پیرا کیا اجرپایاجس نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا، عدل و انصاف کا تقاضہ پورا کیا اور جس نے اس کی طرف دعوت دی وہ ہدایت کی راہ پر گامزن ہوا۔ اے اعور ! اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ ابی ابی شیھہ، الدارمی، حمید بن زنجویہ فی ترغیبہ، الدورقی ، ومحمد بن نصر فی الصلاۃ۔ ابن حاتم ابن الانبیاری فی المصاحف، ابن مردویہ، شعب الایمان، الصحیح للترمذی، (رح) ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد مجہول ہے۔ اور حارث کی حدیث میں کلام ہے۔
1636 - عن الحارث الأعور قال: "مررت في المسجد فإذا الناس يخوضون في الأحاديث، فدخلت على علي فقلت: يا أمي المؤمنين ألا ترى الناس قد خاضوا قال: أو قد فعلوها؟ قلت: نعم، قال: أما إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إنها ستكون فتنة قلت: ما المخرج منها يا رسول الله؟ قال: كتاب الله فيه نبأ من قبلكم، وخبر ما بعدكم، وحكم ما بينكم هو الفصل ليس بالهزل، من تركه من جبار قصمه الله، ومن ابتغى الهدى في غيره أضله الله، وهو حبل الله المتين، وهو الذكر الحكيم، وهو الصراط المستقيم، هو الذي لا تزيغ به الأهواء ولا تلتبس به الألسنة، ولا تشبع منه العلماء، ولا يخلق عن كثرة الرد، ولا تنقضي عجائبه، هو الذي لم تنته الجن إذ سمعته حتى قالوا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآناً عَجَباً يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ} . من قال به صدق، ومن عمل به أجر، ومن حكم به عدل، ومن دعا إليه هدى إلى الصراط المستقيم. خذها إليك يا أعور". (ش والدارمي (ت) وقال غريب وإسناده مجهول، وفي حديث الحارث مقال، وحميد بن زنجويه في ترغيبه، والدورقي ومحمد بن نصر في الصلاة، وابن حاتم وابن الأنباري في المصاحف، وابن مردويه هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٧۔۔ کندہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ہم حضرت علی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نجران کا ایک پادری آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (رض) نے اس کے لیے جگہ کشادہ فرمادی ۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا اے امیرالمومنین آپ اس نصرانی کے لیے کشادگی فرماتے ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا ، یہ لوگ جب رسول اللہ کے پاس آتے تھے تو آپ بھی ان کے لیے کشادگی فرماتے تھے۔ پھر حاضرین مجلس میں سے ایک شخص نے اس نصرانی سے پوچھا کہ اے اسقف، اب نصرانیت کتنے فرقوں میں بٹ چکی ہے ؟ اس نے کہا بیشمار فرقوں میں بٹ چکی ہے، جو میرے شمار کرنے سے باہر ہیں۔ حضرت علی نے فرمایا اس سے زیادہ میں جانتاہوں کہ کتنے فرقوں میں نصرانیت بٹ چکی ہے، اگرچہ یہ نصرانی ہے وہ اکہتر فرقوں میں بٹ چکی ہے۔ اور یہودیت بہتر فرقوں میں بٹ چکی ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ ملت حنیفیہ تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی بہتر جہنم میں جائیں گے اور صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔ العدنی۔
1637 - عن شيخ من كندة قال: "كنا جلوسا عند علي فأتاه أسقف نجران فأوسع له. فقال له رجل: توسع لهذا النصراني يا أمير المؤمنين؟ فقال علي: إنهم كانوا إذا أتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم أوسع لهم، فسأله رجل على كم افترقت النصرانية يا أسقف؟ فقال: افترقت على فرق كثيرة لا أحصيها. قال علي: أنا أعلم على كم افترقت النصرانية من هذا وإن كان نصرانيا، افترقت على إحدى وسبعين فرقة،وافترقت اليهودية على ثنتين وسبعين فرقة، والذي نفسي بيده لتفترقن الحنيفية على ثلاث وسبعين فرقة، فتكون ثنتان وسبعون في النار، وفرقة في الجنة". (العدني) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسری آسمانی کتابیں محرف ہیں
١٦٣٨۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ فرمایا : یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور سب سے بدترین فرقہ وہ ہوگا جو ہمارے اندر تحریف کرے گا اور اس دین سے جدا ہوجائے گا۔ الحلیہ۔
1638 - عن علي قال: "تفترق هذه الأمة على ثلاث وسبعين فرقة. شرها فرقة تنتحلنا وتفارق أمرنا". (حل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٣٩۔۔ جری بن کلیب سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ کسی چیز کا حکم فرما رہے ہیں اور حضرت عثمان اس سے منع فرما رہے ہیں میں نے حضرت علی سے پوچھا کہ کیا آپ دونوں کے درمیان کچھ رنجش ہے ؟ فرمایا خیر کے سوا کچھ نہیں ، لیکن ہم میں سب سے زیادہ خیر والا ہے ہے جو اس دین کی زیادہ اتباع کرنے والا ہے۔ مسدد، ابوعوانہ، الطحاوی۔
1639 - عن جري بن كليب قال: "رأيت عليا يأمر بشيء وعثمان ينهى عنه. فقلت لعلي: إن بينكما لشرا؟ قال: ما بيننا إلا خير، ولكن خيرنا اتبعنا لهذا الدين" (مسدد وأبو عوانة والطحاوي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٠۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا تین چیزوں کے ساتھ کوئی عمل شرف قبولیت نہیں پاسکتا شرک ، کفر، اور کتاب وسنت کو چھوڑ کر رائے زنی کرنا۔ لوگوں نے کہا اے امیرالمومنین یہ رائے کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کو ترک کرکے اپنی رائے پر عمل کرنے لگو۔ ابن بشران۔
1640 - عن علي قال: "ثلاثة لا يقبل معهن عمل، الشرك، والكفر، والرأي، قالوا يا أمير المؤمنين: ما الرأي؟ قال: تدع كتاب الله وسنة رسوله، وتعمل بالرأي". (ابن بشران) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤١۔۔ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا یہود اکہتر فرقوں میں بٹ چکے تھے اور نصاری بہترفرقوں میں بٹ چکے تھے اور تم تہتر فرقوں میں بٹ جاؤ گے اور ان میں سے سب خبیث ترین فرقہ وہ ہوگا جو جدا گروہ بنالے گا یا فرمایا جو شیعہ جدا گروہ ہوجائے گا۔ ابن ابی عاصم۔
1641 - عن علي قال: "تفرقت اليهود على إحدى وسبعين فرقة، والنصارى على ثنتين وسبعين فرقة، وأنتم على ثلاث وسبعين فرقة، وإن من أضلها وأخبثها من يتشيع، أو الشيعة". (ابن أبي عاصم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٢۔۔ سوید بن غفلہ، سے مروی ہے کہ فرمایا میں حضرت علی کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے چلاجارہا تھا، تو آپ (رض) نے فرمایا حضور کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل نے باہم اختلاف کیا۔۔ پھر وہ اسی اختلاف پر قائم رہے حتی کہ انھوں نے اپنے دو آدمیوں کو ثالث و فیصلہ بنایا، لیکن وہ دونوں خود بھی گمراہ ہوگئے اور انھوں نے اپنے متبعین کو بھی گمراہ کردیا۔ اور عنقریب یہ امت بھی اختلاف و انتشار کا شکارہوگی اور ان کا اختلاف جاری ہوگا، کہ یہ دو آدمیوں کو فیصلہ وثالث بن کر بھیجیں گے لیکن یہ دونوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور اپنے متبعین کو گمراہ کریں گے ۔ السنن للبیہقی ، فی الدلائل۔
1642 - عن سويد بن غفلة قال: "إني لأمشي مع علي على شط الفرات، فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن بني إسرائيل اختلفوا، فلم يزل اختلافهم بينهم حتى بعثوا حكمين فضلا وأضلا من اتبعهما، وإن هذه الأمة ستختلف فلا يزال الاختلاف بينهم حتى يبعثوا حكمين ضلا وأضلا من اتبعتهما". (ق في الدلائل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سنت کی پیروی کرنے والا خیر میں ہے۔
١٦٤٣۔۔ حضرت ابن عمرو سے مروی ہے کہ مجھے حضرت علی نے فرمایا ابوعمر ! یہود کنتے فرقوں میں بٹ گئے تھے میں نے عرض کیا میں اس سے لاعلم ہوں۔ حضرت علی نے فرمایا اکہترفرقوں میں ۔ اور وہ سوائے ایک فرقہ کے سب جہنم میں جائیں گے صرف وہ ایک فرقہ نجات یافتہ ہوگا، اور اس امت کے بارے میں جانتے ہو کہ یہ کتنے فرقوں میں بٹ جائے گی میں نے عرض کیا، نہیں فرمایا، تہتر فرقوں میں اور سوائے ایک فرقہ ناجی کے سب جہنم میں جائیں گے اور نیز یہ امت بارہ فرقوں میں بھی بٹے گی جن میں سے صرف ایک فرقہ نجات یافتہ ہوگا اور تو بھی اسی میں سے ہے۔ ابن عساکر۔ اس روایت میں ایک راوی عطاء بن مسلم الخفار ضعیف ہے۔
1643 - عن ابن عمر قال: "قال لي علي: يا أبا عمر كم افترقت اليهود؟ قلت لا أدري. قال علي: واحدة وسبعين فرقة، كلها في الهاوية إلا واحدة هي الناجية. تدري على كم تفترق هذه الأمة؟ قلت لا. قال: تفترق على ثلاث وسبعين فرقة، كلها في الهاوية إلا واحدة هي الناجية. قال: وتفترق (2) في اثنتي عشره فرقة كلها في الهاوية إلا واحدة هي الناجية، وإنك من تلك الواحدة". (كر) وفيه عطاء بن مسلم الخفار (3) ضعيف.
তাহকীক: