কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১৬০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦٠٤۔۔ از مسند عمر (رض)۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا تم مومن کو کذاب نہ پاؤ گے۔ ابن ابی الدنیا فی الصمت ، شعب الایمان۔
1604 - من مسند عمر رضي الله عنه عن عمر "لا تجد المؤمن كذابا". (ابن أبي الدنيا في الصمت هب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦٠٥۔۔ حارث بن سوید سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں میں منافق نہ ہوجاؤں ، حضرت عمر نے فرمایا منافق اپنے نفس پر نفاق کا خوف نہیں کرتا۔ ابن خسرو۔
1605 - عن الحارث بن سويد "أن رجلا أتى عمر فقال إني أخاف أن أكون منافقا قال عمر ما خاف النفاق على نفسه منافق". (ابن خسرو) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦٠٦۔۔ محمد بن سلیم ، یعنی ابوھلال سے مروی ہے کہ ابان نے حسن سے یہی سوال کیا تو انھوں نے فرمایا تم نفاق کا خوف کرتے ہو مجھے بھی اس سے امن نہیں ہے اور حضرت عمر کو بھی اس کا ڈھر کا لگارہتا تھا۔ جعفر الفریابی فی صفۃ المنافقین۔
1606 - عن محمد بن سليم وهو أبو هلال قال: "سأل أبان الحسن وقال تخاف النفاق قال وما يؤمنني منه وقد خاف عمر بن الخطاب". (جعفر الفريابي في صفة المنافقين) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦٠٧۔۔ از مسند علی (رض)۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ فرمایا مومن مومن آپس میں ایک دوسرے کے لیے خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں خواہ ان کے مراتب میں تفاوت ہو اورفاسقین ایک دوسرے کے لیے دھوکا باز اور خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں خواہ ان کے اجسام ایک جگہ جمع ہوں۔ الدیلمی۔
1607 - ومن مسند علي رضي الله عنه عن علي قال: "المؤمنون بعضهم لبعض نصحاء وادون وإن افترقت منازلهم والفجرة بعضهم لبعض غششة خونة وإن اجتمعت أبدانهم". (الديلمي)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦٠٨۔۔ از مسند نصلہ بن عمرو الغفاری محمد بن معن بن نضلہ اپنے والد معن سے اور وہ محمد کے دادا یعنی اپنے والد نضلہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ سے مقام مران میں ملے ان کے ساتھ چند اونٹ تھے تو انھوں نے رسول اللہ کے لیے ایک برتن میں دودھ دوھا اور آپ کو پیش کیا تو رسول اللہ نے صرف اسے ایک برتن کے دود ھ کو نوش فرمایا انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اگر میں سات مرتبہ نہ پیوں تو میں سیرہی نہیں ہوتا۔ اور نہ میرا پیٹ بھرتا ہے رسول اللہ نے فرمایا مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ الصحیح للبخاری، ابن عساکر، ابن مندہ البغوی۔ سات آنتوں کا یہ مطلب نہیں کہ حقیقت میں وہ سات آنتیں رکھتا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ چونکہ اللہ کے نام سے ابتداء نہیں کرتا، جس کی وجہ شیطان اس کے ساتھ شریک طعام ہوجاتا ہے۔
1608 - (ومن مسند نضلة بن عمرو الغفاري عن محمد بن معن بن نضلة عن أبيه عن جده، أنه لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم بمران ومعه شق إبل فحلب لرسول الله صلى الله عليه وسلم في إناء فشرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم شرب من إناء واحد ثم قال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق إن كنت لا شرب سبعة فلا أشبع ولا أمتلئ - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن المؤمن يشرب في معى واحد وإن الكافر يشرب في سبعة أمعاء". (خ كر في تاريخه (2) وابن مندة والبغوي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦٠٩۔۔ ابی امامہ سے مروی ہے کہ مومن دنیا میں چار طرح کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے مومن کے ساتھ جو اس سے رشک اور مسابقت کی کوشش رکھتا ہے منافق، جو اس سے بغض رکھتا ہے کافر، جو اس کے قتل کے درپے ہوتا ہے شیطان اس کے تو مومن حوالہ ہی کردیاجاتا ہے۔ ابن عساکر۔
1609 - عن أبي أمامة قال: "المؤمن في الدنيا بين أربعة بين مؤمن يحسده ومنافق يبغضه وكافر يقاتله وشيطان قد وكل به". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦١٠۔۔ از مسند ابن عمر (رض)۔ ابن عمر (رض) حضور سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے اگر تم اس کے ساتھ رہو گے تو وہ تمہیں نفع پہنچائے گا۔ اور اگر اس سے مشاورت کرو گے تب بھی نفع پہنچائے گا اور اگر اس کے ساتھ مجالست کرو گے تب بھی نفع پہنچائے گا، الغرض اس کی ہر شان نفع مند ہے ، اسی طرح کھجور کی بھی ہرچیز نفع مند ہے۔ شعب الایمان۔
1610 - (ومن مسند ابن عمر) عن ابن عمر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إن مثل المؤمن كمثل النخلة إن صاحبته نفعك وإن شاورته نفعك وإن جالسته نفعك وكل شأنه منافع وكذلك النخلة كل شأنها منافع". (هب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦١١۔۔ جہجاۃ الغفاری سے مروی ہے کہ میں اپنی قوم کے چند لوگوں کے ساتھ جو اسلام لانا چاہتے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا پھر مغرب کی نماز میں آپ کے ساتھ شریک ہوا پھر جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا کہ ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ تھامنے کا مقصد تھا کہ اپنے اپنے ساتھ ایک ایک مہمان یا مستحق شخص لے جائے اور اس کی خاطر مدارت کرے۔ تومسجد میں میرے اور سولا للہ کے سوا کوئی باقی نہ رہا، میں چونکہ بہت طویل قدوقامت والا تھا میرے سامنے کوئی نہ آیا۔ پھر رسول اللہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے میرے لیے بکری کا دودھ دوہاتو میں اس کو پی گیا حتی کہ آپ نے سات مرتبہ دوہا میں سب پی گیا، چونکہ اس میں حضور کا بھی حصہ تھا تو آپ کی باندی ام ایمن بولی : اللہ بھوکا ہی رکھے اسے جس نے آج رسول اللہ کو بھوکا رکھا۔ آپ نے اس کو فرمایا رکو رکو ام ایمن اس نے اپنا ہی رزق کھایا ہے اور ہمارا رزق اللہ کے ذمہ ہے۔ پھر صبح ہوئی تو آپ اور آپ کے اصحاب جمع ہوئے تو کوئی آدمی بیان کرنے لگا کہ اس کی کیا خاطر تواضع ہوئی میں نے بھی کہا کہ آپ نے میرے لیے سات مرتبہ دود دوہا اور میں سب پی گیا، اور ایک ہانڈی کھانا مزید میرے لیے تیار کیا گیا میں وہ بھی کھا گیا۔ پھر صحابہ نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی۔ اور آپ نے پھر فرمایا کہ ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھنے والے کا ہاتھ تھام لے تومسجد میں میرے اور رسول اللہ کے سوا کوئی باقی نہ رہا، میں چونکہ بہت طویل قد والا تھا میرے سامنے کوئی نہ آیا پھر رسول اللہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے ۔ میرے لیے بکری کا دودھ دوہا تو میں اس دفعہ اسی کو پی کر سیر ہوگیا ام ایمن بولی یارسول اللہ کیا یہ ہمارا وہی مہمان نہیں ہے فرمایا کیوں نہیں ؟ فرمایا کیوں نہیں، پھر آپ نے فرمایا لیکن بات یہ ہے کہ آج اس رات اس نے مومن کی آنت میں کھایا ہے۔ اور اس سے پہلے کافر کی آنت میں کھاتارہا ہے کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے تو مومن ایک آنت میں۔ الکبیر للطبرانی ابونعیم۔
1611 - عن جهجاه الغفاري قال: "قدمت في نفر من قومي يريدون الإسلام فحضروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب فلما سلم قال يأخذ كل رجل بيد جليسه فلم يبق في المسجد غير رسول الله صلى الله عليه وسلم وغيري وكنت عظيما طويلا لا يقدم علي أحد فذهب بي رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى منزله فحلب لي عنزا فأتيت عليها حتى حلب لي سبع أعنز فأتيت عليها (2) وقالت أم أيمن أجاع الله من أجاع رسول الله الليلة قال مه يا أم أيمن أكل رزقه ورزقنا على الله فأصبحوا فغدوا واجتمع هو وأصحابه فجعل الرجل يخبر بما أتى إليه فقلت: حلبت لي سبع أعنز فأتيت عليها وصنيع برمة فأتيت عليها فصلوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب فقال ليأخذ كل رجل بيد جليسه فلم يبق في المسجد غير رسول الله صلى الله عليه وسلم وغيري وكنت عظيما طويلا لا يقدم علي أحد فذهب بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فحلب لي عنزا فرويت وشبعت فقالت أم أيمن يا رسول الله أليس هذا ضيفنا فقال: بلى فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم إنه أكل في معى مؤمن الليلة وأكل قبل ذلك في معى كافر، الكافر يأكل في سبعة أمعاء والمؤمن يأكل في معى واحد". (طب وأبو نعيم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آٹھویں فصل۔۔۔ مومنین کی صفات میں
١٦١٢۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا مومن میٹھاخوشگوار طبیعت کا ہوتا ہے اور میٹھے کو پسند کرتا ہے اور جس نے اس کو اپنے پر حرام کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اللہ کی کسی نعمت کو اور پاکیزہ اشیاء کو اپنے پر حرام نہ کرو، کھاؤ پیو اور شکراللہ کا ادا کرو، اگر ایسانہ کرو گے توعقوبت الٰہی تمہیں لازم ہوجائے گی۔ الدیلمی۔
1612 - عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " المؤمن حلو يحب الحلاوة ومن حرمها على نفسه فقد عصى الله ورسوله، لا تحرموا نعمة الله والطيبات على أنفسكم وكلوا واشربوا واشكروا فإن لم تفعلوا لزمتكم عقوبة الله عز وجل". (الديلمي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦١٣۔۔ از مسند حذیفہ (رض) ، حذیفہ (رض) سے دریافت کیا گیا کہ نفاق کیا چیز ہے ؟ فرمایا آدمی اسلام کا دعوی تو کرے مگر اس پر عمل پیرانہ ہو۔ ابن جریر۔
1613 - (من مسند حذيفة) عن حذيفة أنه قيل له ما النفاق قال: "الرجل يتكلم الإسلام ولا يعمل به". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦١٤۔۔ ابویحییٰ سے مروی ہے کہ حضرت حذیفہ سے دریافت کیا گیا کہ منافق کون ہے ؟ فرمایا وہ جو اسلام کی باتیں تو کرے مگر اس پر عمل پیرانہ ہو۔ ابن ابی شیبہ۔
1614 - عن أبي يحيى قال سئل حذيفة من المنافق قال "الذي يصف الإسلام ولا يعمل به". (ش) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦١٥۔۔ حذیفہ (رض) سے مروی ہے آج جو منافقین تمہارے ساتھ ہیں یہ ان سے بدترین منافق ہیں جو رسول اللہ کے عہد مبارک میں تھے کیونکہ وہ تواپن انفاق مخفی رکھتے تھے اور یہ اپنے نفاق کا اعلان کرتے ہیں۔ ابن ابی شیبہ۔
1615 - عن حذيفة قال"المنافقون الذين فيكم اليوم شر من المنافقين الذين كانوا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أولئك كانوا يسرون نفاقهم وإن هؤلاء أعلنوه". (ش) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦١٦۔۔ ابوالبحتری سے مروی ہے کہ ایک شخص نے یوں بددعا کی اے اللہ منافقین کو ہلاک فرما، حضرت حذیفہ نے فرمایا اگر وہ سب ہلاک ہوگئے تو کیا تم اپنے دشمنوں سے آدھے نہ ہوجاؤ گے۔ ابن ابی شیبہ۔
1616 - عن أبي البحتري قال: قال رجل "اللهم أهلك المنافقين قال حذيفة لو هلكوا ما انتصفتم من عدوكم". (ش) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦١٧۔۔ از مسند ابن عمر (رض)۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر (رض) کے پاس حاضر ہوا آپ نے اس سے دریافت کیا کہ تمہارا اور ابوانیس کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا ہمارا اور اس کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس سے ملاقات کرتے ہیں تو اس کی دل پسند باتیں کرتے ہیں۔ اور جب اس کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو کچھ اور کہتے ہیں آپ نے فرمایا ہم رسول اللہ کے ساتھ ہوتے تھے تو اس کو نفاق شمار کرتے تھے ۔ ابن عساکر۔
1617 - (ومن مسند ابن عمر) عن مجاهد أن رجلا قدم على ابن عمر فقال له كيف أنتم وأبو أنيس، قال: "نحن وهو إذا لقيناه قلنا له ما يحب وإذا ولينا عنه قلنا غير ذلك قال ذاك ما كنا نعده نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من النفاق". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦١٨۔۔ از مسند عبداللہ بن عمرو۔ (رض) عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے جس شخص میں یہ تین باتیں پائی جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے کہ تم اس کے نفاق کی شہادت دو جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے اور جب امانت اس کے سپرد کی جائے توا س میں خیانت کرے اور جو ایسا ہو کہ جب بات کرتے تو سچائی اختیار کرے اور وعدہ کرے تو وفا کرے اور جب امانت اس کے سپرد کی جائے توادا کرے توای سے شخص کے متعلق مومن ہونے کی شہادت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابن النجار۔
1618 - (ومن مسند عبد الله بن عمرو) عن عبد الله بن عمر قال: "ثلاث إذا كن في عبد فلا تتحرج أن تشهد أنه منافق، إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان، ومن كان إذا حدث صدق: وإذا وعد أنجز، وإذا اؤتمن أدى. فلا تتحرج أن تشهد عليه أنه مؤمن". (ابن النجار) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦١٩۔۔ از مسند عمار (رض) ۔ عمار رضی الہ عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا کہ تین اشخاص کے حق کی اہانت کوئی کھلامنافق ہی کرسکتا ہے امام عادل ، بھلائی کی تعلیم دینے والامعلم اور وہ جس پر اسلام میں بڑھاپے کی سفیدی طاری ہوگئی ہو۔ ابن عساکر۔
1619 - (ومن مسند عمار) عن عمار قال: "ثلاثة لا يستخف بحقهم إلا منافق بين نفاقه، الإمام المقسط، ومعلم الخير، وذو الشيبة في الإسلام" (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦٢٠۔۔ سلیم بن عامر ، معاویہ (رض) الہذلی ، سے جو اصحاب رسول میں سے ہیں، روایت کرتے ہیں کہ منافق نماز پڑھتا ہے تب بھی اللہ کو جھٹلاتا ہے اور صدقہ کرتا ہے تب بھی اللہ کو جھٹلاتا ہے اور قتال کرتا ہے تو قتل ہوجانے پر جہنم جاتا ہے۔ ابن النجار۔
1620 - عن سليم بن عامر عن معاوية الهذلي وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، قال: "إن المنافق ليصلي فيكذبه الله ويتصدق فيكذبه الله ويقاتل فيقتل فيجعل في النار". (ابن النجار) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کی صفات :
١٦٢١۔۔ صلہ بن زفر سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت حذیفہ (رض) سے دریافت کیا کہ تم نے منافقین کو کی سے جان لیا ؟ جب کہ نبی کے اصحاب میں سے کوئی ان کونہ جان سکا، حتی کہ ابوبکر (رض) وعمر بھی اس سے لاعلم رہے ؟ فرمایا کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ کے پیچھے چلاجارہا تھا تو آپ اپنی سواری ہی پر سوگئے ۔ میں نے کچھ لوگوں کوسنا کہ اگر م اس اگر ہم اس محمد کو سواری سے گرادیں تو اس کی گردن ٹوٹ جائے گی اور اس طرح ہم اس سے آرام پاجائیں گے تو یہ سن کر میں ان کے اور آپ کے درمیان چلنے لگا اور باآواز بلند قرات کرنے لگا حتی کہ رسول اللہ بیدار ہوگئے اور آپ نے دریافت فرمایا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا حذیفہ۔ آپ نے پھر دریافت کیا اور یہ کون ہے میں نے ان کو گنواتے ہوئے کہا فلاں فلاں۔۔ آپ نے دریافت فرمایا اور وہ جو کچھ کہہ رہے تھے تم نے سنا ؟ میں نے عرض کیا جی اور اسی وجہ سے میں آپ کے اور ان کے درمیان چلنے لگا آپ نے فرمایا یہ منافق فلاں فلاں اور تم کسی کو بتانامت۔ الکبیر للطبرانی (رح)۔

حضور نے حضرت حذیفہ کو منافقین کے نام بتادیے تھے اور یہ اس وجہ رسول اللہ کے رازداروں کہلاتے تھے۔
1621 - عن صلة بن زفر قال: "قلنا لحذيفة كيف عرفت أمر المنافقين ولم يعرفه أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أبو بكر ولا عمر؟ قال: إني كنت أسير خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فنام على راحلته فسمعت ناسا يقولون لو طرحناه على راحلته فاندقت عنقه فاسترحنا منه فسرت بينهم وبينه فجعلت أقرأ وأرفع صوتي حتى انتبه النبي صلى الله عليه وسلم قال: من هذا؟ قلت حذيفة قال: ص هؤلاء؟ قلت فلان وفلان حتى عددتهم قال: وسمعت ما قالوا قلت: نعم ولذلك سرت بينك وبينهم قال: أما إنهم منافقون فلان وفلان لا تخبرن أحدا". (طب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافقین کے جنازے میں شرکت نہ کرنا
١٦٢٢۔۔ حضرت حذیفہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر کا میرے پاس سے گزر ہوا میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے مجھے فرمایا اے حذیفہ فلاں کا انتقال ہوگیا اس کے جنازہ میں حاضری دو ۔ یہ کہہ کر آپ چلے گئے جب مسجد سے نکلنے کے قریب ہوئے تو پھر مجھ پر نظر پڑی تو دوبارہ میرے پاس لوٹ آئے دیکھا کہ میں ابھی تک بیٹھا ہواہوں تو آپ (رض) جان گئے کہ جنازہ کسی منافق کا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہنے لگے اے حذیفہ تم کو خدا کا واسطہ دیتاہوں خدارابتادو کہ میں بھی اسی منافق قوم میں تو شامل نہیں ہوں ؟ میں نے کہا اللہ مددگار ہو، آپ ان میں شامل نہیں ہیں لیکن آئندہ آپ کے بعد ہرگز کسی کو برات نامہ پیش نہیں کروں گا، پھر میں نے امیرالمومنین حضرت عمر کو دیکھا کہ آپ کی آنکھیں بہہ پڑی ہیں۔ ابن عساکر۔
1622 - عن حذيفة قال: "مر بي عمر بن الخطاب وأنا جالس في المسجد فقال لي: يا حذيفة إن فلانا قد مات فاشهده، ثم مضى حتى إذا كاد أن يخرج من المسجد التفت إلي فرآني وأنا جالس فعرف فرجع إلي فقال: يا حذيفة أنشدك الله أمن القوم أنا؟ قلت: اللهم لا ولن أبرئ أحدا بعدك". (فرأيت عيني عمر جآءتا – (2) (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دوم۔۔۔ کتاب وسنت کو تھامنے کا بیان
١٦٢٣۔۔ ازمسند صدیق (رض)۔ عبیداللہ بن ابی زید سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عباس (رض) سے کسی مسئلہ کی بابت سوال کیا جاتاتوا گروہ قرآن میں صراحتہ موجود ہوتا آپ اس سے جواب مرحمت فرما دیتے اور اگر قرآن میں نہ ہوتا اور حدیث رسول میں ہوتا تو اس سے جواب مرحمت فرما دیتے اور اگر قرآن وحدیث دونوں میں نہ ہوتا تو حضرت ابوبکر یا حضرت عمر سے منقول ہوتا تو اس سے جواب مرحمت فرما دیتے اور اگر ان میں سے کسی میں نہ ہوتا تو اپنی رائے سے جواب دے دیتے۔ ابن سعد فی السنہ ، العدنی وابن جریر۔
1623 - (ومن مسند الصديق) رضي الله عنه عن عبيد الله بن أبي زيد قال: "كان ابن عباس إذا سئل عن الأمر فإن كان في القرآن أخبر به، وإن لم يكن في القرآن وكان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبر به، فإن لم يكن في القرآن ولا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان عن أبي بكر أو عمر أخبر به، وإن لم يكن في شيء من ذلك اجتهد برأيه" (ابن سعد في السنة والعدني وابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক: