কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১৫৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٤۔۔ حسان بن عطیہ سے مروی ہے کہ اہل دمشق نے حضرت ابی الدرداء (رض) کو پھلوں کی کمی کی شکایت کی، اور آپ (رض) نے فرمایا تم ان باغوں کی دیواروں کو طویل کردیا ہے اور ان پر پہرہ داری کو سخت کردیا ہے۔ جس کی وجہ سے اوپر سے وباء آگئی ہے۔ رواہ ابن عساکر۔
1584 - عن حسان بن عطية قال "شكا أهل دمشق إلى أبي الدرداء قلة الثمر فقال: إنكم أطلتم حيطانها وأكثرتم حراسها فأتاها الويل من فوقها". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٥۔۔ ازمسند ابی ذر (رض) ، حضرت ابوذر اپنے آپ کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے ابوذر اس شخص سے امیداوآسرا قطع مت کروشر میں لگا ہوا ہے ممکن ہے کہ وہ خیر کی طرف لوٹ آئے اور پھر اسی حالت پر اس کی موت آجائے اور کسی خیر پرکاربند شخص سے بھی مطمئن مت ہو ممکن ہے وہ شر کی طرف واپس چلا جائے اور اسی پر اس کی موت آجائے۔ یہ بات ذہن نشین رکھ تاکہ یہ بات تجھے لوگوں سے اعراض کرکے اپنے آپ کو مشغول کردے۔ ابن السنی بروایت ابی ذر (رض) ۔
1585 - ومن مسند أبي ذر "يا أبا ذر لا تيأس من رجل يكون على شر فيرجع إلى خير فيموت عليه ولا تأمن رجلا يكون على خير فيرجع إلى شر فيموت عليه ليشغلك عن الناس ما تعلم من نفسك". (ابن السني عن أبي ذر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٦۔۔ ازمسند ابوہریرہ ۔ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ آدم وموسی (علیہما السلام) کا مناظرہ ہوا آدم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا آپ موسیٰ ہیں جن کو اللہ نے کسی وقت میں تمام مخلوق میں سے منتخب کیا ؟ اور اپنے پیغامات کے ساتھ تمہیں مبعوث کیا ؟ پھر تم نے کیا جو کیا یعنی ایک جان کو قتل کرڈالا پھر موسی نے آدم (علیہ السلام) سے کہا آپ وہی ہیں ناں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ؟ اور پھر آپ کو مسجود ملائکہ بنایا پھر اپنی جنت میں آپ کو سکونت بخشی ؟ پھر آپ نے کیا جو کیا ؟ اگر آپ وہ نہ کرتے تو آپ کی ذریت بھی جنت میں داخل ہوجاتی ؟ آدم نے موسیٰ کو فرمایا کیا تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جس کا وقع میری تخلیق ہی سے قبل مقدر میں ہوچکا تھا ؟ آپ نے تین بار فرمایا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ ابن شاھین۔ فی الافراد۔

مولف (رح) فرماتے ہیں کہ یہ واحد روایت ایسی ہے جس میں حضرت آدم اولاحضرت موسیٰ پر قتل کا الزام وارد کرتے ہیں۔ ابن عساکر۔
1586 - (ومن مسند أبي هريرة) عن أبي هريرة أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول "تحاج آدم وموسى فقال آدم لموسى أنت موسى الذي اصطفاك الله على خلقه وبعثك برسالاته ثم صنعت الذي صنعت يعني النفس الذي قتل فقال موسى لآدم وأنت الذي خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته وأسكنك جنته ثم فعلت الذي فعلت فلولا ما فعلت لدخلت ذريتك الجنة فقال آدم: لموسى أتلومني في أمر قد قدر علي قبل أن أخلق فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فحج آدم موسى ثلاثا".

(ابن شاهين في الأفراد) وقال لا يعرف هذا الكلام إلا في هذه الرواية فيما ألزم آدم موسى قبل أن يلزم موسى آدم في القتل (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٧۔۔ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ نے جنت کو تخلیق فرمایا توا س کے اہل کو بھی ان کے خاندان اور قبائل کے ساتھ تخلیق فرمایا سو ان میں کسی ایک فرد کی زیادتی ہوسکتی ہے ، اور نہ ہی کمی۔ عرض کیا یارسول اللہ پھر عمل کس لیے۔ فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کو اسی کی توفیق ہوتی جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ الخطیب۔
1587 - عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إن الله خلق الجنة وخلق لها أهلا بعشائرهم وقبائلهم لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم وخلق النار وخلق لها أهلا بعشائرهم وقبائلهم لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم قيل يا رسول الله ففيم العمل قال: اعملوا فكل ميسر لما خلق له". (خط) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٨۔۔ اے ابوہریرہ جو تم کو پیش آنے والا ہے قلم اس پر خشک ہوچکا ہے۔ پس اسی پر اختصار کرلویاچھوڑ دو ۔ الصحیح لبخاری، النسائی، بروایت ابوہریرہ ۔
1588 - يا أبا هريرة "جف القلم بما أنت لاق فاختصر على ذلك أو ذر". (خ ن عن أبي هريرة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٩۔۔ ازمسند ابن عباس (رض)۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ باہر تشریف لائے توچنداصحاب کو تقدیر کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا تم دوجانبوں میں بٹ گئے ہو اور ہر ایک اپنی جانب کی گہرائی میں اتر گیا ہے اسی میں تو تم سے قبل اہل کتاب تبا ہ ہوئے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کسی دن آپ نے ایک کتاب نکالی اور اس کو پڑھتے ہوئے فرمایا یہ کتاب رحمن ورحیم کی ہے اس میں اہل جہنم کے نام ان کی آباء و اجداد اور خاندان و قبائل کے ناموں سمیت درج ہیں اسی پر ان کو جمع کیا جائے گا، ان میں کوئی کمی مقصود نہیں ایک فریق جنت میں اور دوسرا جہنم میں ہے پھر آپ نے ایک اور کتاب نکالی اور فرمایا یہ رحمن ورحیم کی ہے اس میں اہل جنت کے نام ان کی آباء و اجداد اور خاندان و قبائل کے ناموں سمیت درج ہیں۔ اسی پر ان کو جمع کیا جائے گا، ان میں کسی فرد واحد کی کمی بھی متصور نہیں ایک فریق تو جنت میں اور دوسرا جہنم میں ہے۔ ابن جریر۔
1589 - ومن مسند ابن عباس عن ابن عباس قال "خرج النبي صلى الله عليه وسلم فسمع أناسا من أصحابه يذكرون القدر فقال: إنكم قد أخذتم في شعبتين بعيدتي الغور فيهما هلك أهل الكتاب من قبلكم ولقد أخرج يوما كتابا فقال وهو يقرأ هذا كتاب من الرحمن الرحيم فيه تسمية أهل النار بأسمائهم وأسماء آبائهم وقبائلهم وعشائر مجمل على آخره لا ينقص منهم، فريق في الجنة وفريق في السعير ثم أخرج كتابا آخر فقرأه عليه كتاب من الرحمن الرحيم فيه تسمية أهل الجنة بأسمائهم وأسماء آبائهم وقبائلهم وعشائرهم مجمل على آخرهم لا ينقص منهم أحد فريق في الجنة وفريق في السعير". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٩٠۔۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آپ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا، پھر اپنا دست مبارک اپنی پشت کے پیچھے لاکر مجھے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا اے لڑکے ! کیا میں تجھے ایسی باتیں نہ بتاؤں کہ اگر تو ان کی حفاظت رکھے تو اللہ تیری حفاظت رکھے ؟ اللہ کے حق کی رعایت کر، تو تو اس کو ہر کٹھن وقت میں اپنے سامنے پائے گا اقلام خشک ہوچکے ہیں اور صحائف اٹھ چکے ہیں پس جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کرے۔ اور جب تو مدد کا محتاج ہو تو اللہ ہی سے مدد کا طلب گار ہو، اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ساری امت اس امر پر متفق ہوجائے کہ تجھے کسی چیز کا ضرر پہنچائے تو ہرگز وہ تجھ کو کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتی مگر اسی چیز کا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دی ہے اور اگر ساری امت تجھے نفع رسانی کا ارادہ کرے تو ہرگز تجھ کو کوئی نفع نہیں پہنچاسکتی مگر اسی چیز کا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دی ہے۔ السنن لابی داؤد۔
1590 - عن ابن عباس قال: أردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فأخلف يده وراء ظهره فقال: "يا غلام ألا أعلمك كلمات احفظ الله يحفظك احفظ الله تجده أمامك جفت الأقلام ورفعت الصحف، فإذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله والذي نفس محمد بيده لوجهدت الأمة على أن يضروك بشيء لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك ولو أرادت أن تنفعك بشيء لم تنفعك إلا بشيء قد كتبه الله لك". (د) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٩١۔۔ ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا، آدم وموسی کی ملاقات ہوئی پھر موسی نے آدم سے کہا آپ وہی آدم ہیں ناں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ؟ اور پھر آپ کو مسجود ملائکہ بنایا ؟ پھر اپنی جنت میں آپ کو سکونت بخشی، پھر آپ نے ہم کو جنت سے نکلوادیا ؟ حضرت آدم نے فرمایا ، آپ وہی موسیٰ ہیں ناں کہ اللہ نے آپ کو اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا اور آپ کو راز ونیاز کے لیے اپنا قرب بخشا ؟ اور آپ پر توراۃ نازل کی۔ پس میں آپ سے اس ذات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس نے آپ کو یہ سب عطا فرمایا کہ کتنا عرصہ قبل یہ میرے لیے لکھ دیا گیا تھا ؟ فرمایا میں توراۃ میں اس کو آپ سے دو ہزار سال قبل لکھاپاتاہوں، آپ نے فرمایا پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ پس آدم (علیہ السلام) موسیٰ پر غالب آگئے۔
1591 - عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "التقى آدم وموسى فقال له موسى: أنت آدم الذي خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته وأدخلك جنته ثم أخرجتنا منها، فقال له أدم: أنت موسى الذي اصطفاك الله برسالته وقربك نجيا وأنزل عليك التوراة فأسألك بالذي أعطاك ذلك بكم تجده كتب علي قبل أن أخلق قال أجده كتب في التوراة بألفي عام قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فحج آدم موسى فحج آدم موسى فحج آدم موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٩٢۔۔ ازمسند عمران بن حصین (رض) ۔ عمران بن حصین سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ کیا اہل جنت کاہل جنت سے امتیاز کردیا گیا ہے۔ ؟ فرمایا بالکل۔ عرض کیا پھر عمل کس لیے ؟ فرمایا عمل کرتے رہو۔ کیونکہ ہر شخص کو اسی کی توفیق ہوتی ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ ابن عساکر۔ یا ابن جریر۔
1592 - ومن مسند عمران بن حصين عن عمران بن حصين قال: قال رجل: يا رسول الله أعلم أهل الجنة من أهل النار قال: نعم قال ففيم العمل قال اعملوا فكل ميسر لما خلق له". (كر ) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٩٣۔۔ ابی مجلز سے مروی ہے کہ حضرت علی سے ایک شخص نے عرض کیا اپنی حفاظت کا کچھ خیال کیجئے کیونکہ لوگ آپ کے قتل کے درپے ہیں آپ (رض) نے فرمایا بیشک ہر آدمی پر دونگہبان فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس کی ہر غیر مقدر مصیبت کی طرف سے حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ پس جب تقدیر آجاتی ہے تو وہ فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں اور موت خود انسان کے لیے ایک ڈھال اور قلعہ گاہ ہے۔ ابن جریر۔
1593 - عن أبي مجلز قال: قال رجل لعلي احترس إن أناسا يريدون قتلك فقال: "إن مع كل رجل ملكان يحفظانه مما لا يقدر فإذا جاء القدر خليا بينه وبينه وإن الأجل جنة حصينة. (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٩٤۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ فرمایا کہ لوگوں کی راہ مت اپناؤ۔ آدمی طویل عرصہ تک اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے اگر وہ مرجائے تو تم یقیناً کہو کہ وہ جنتی لیکن پھر وہ علم الٰہی کی وجہ سے منقلب ہوجاتا ہے۔ اور اہل جہنم کے عمل کرنے لگتا ہے اور اسی حالت پر مر کر جہنم واصل ہوجاتا ہے اور کبھی آدمی طویل عرصہ تک اہل جہنم کے عمل کرتا رہتا ہے۔ لیکن پھر وہ علم الٰہی کی وجہ سے منقلب ہوجاتا ہے اور اہل جنت کے عمل شروع کردیتا ہے اور اسی پر مر کر اہل جنت میں سے ہوجاتا ہے پس اگر تم بھروسہ کرنا ہی چاہتے ہو تومردوں پر کرونہ کہ زندوں پر۔ خشیش فی الاستقامۃ ، ابن عبدالبر۔
1594 - عن علي قال: "إياكم والاستنان بالرجال فإن الرجل يعمل بعمل أهل الجنة الزمن الطويل لو مات لقلت: من أهل الجنة، ثم ينقلب لعلم الله فيه فيعمل عمل أهل النار فيموت وهو من أهل النار، وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار الزمن الطويل فينقلب لعلم الله فيه فيعمل بعمل أهل الجنه فيموت وهو من أهل الجنة فإن كنتم لا بد فاعلين فبالأموات لا بالأحياء". (خشيش في الاستقامة وابن عبد البر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
1595 ۔۔ حضرت ذواللحیہ کلابی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا عمل کرتے رہو کیونکہ ہر شخص کو اس کی توفیق ہوتی ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ طبرانی ۔
1595 - عن ذي اللحية (2) الكلابي قال: سألت النبي صلى الله عليه وسلم العمل في أمر مستأنف أو أمر قد فرغ منه قال بل في أمر قد فرغ منه قلت: ففيم العمل قال اعملوا فكل ميسر لما خلق له. (عم طب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فرع۔۔۔ فرقہ قدریہ کے بیان میں
1596 ۔۔ از مسند رافع بن خدیج (رض) ، عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس بیٹھا تھا کہ اصحاب مجلس نے ایک قوم کا ذکر چھیڑا اس کا کہنا ہے کہ اللہ نے اعمال کے ماسواہرچیز کو مقدر فرمایا ہے۔ عمرو کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے حضرت سعید بن المسیب کو اس وقت سے زیادہ غضبناک کبھی نہیں دیکھا۔۔ حتی کہ آپ نے شدت غضب سے کھڑے ہونے کا ارادہ فرمایا، لیکن پھر ٹھنڈے ہوگئے۔ اور فرمایا ان کو کہو کہ مجھے رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ انھوں نے نبی کریم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے ایک قوم ہوگی جو اللہ اور قرآن کا انکار کرے گی لیکن ان کو اس بات کا شعور بھی نہ ہوگا، جس طرح یہود و نصاری نے کفر کا ارتکاب کیا رافع کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں آپ پر فداء ہوں یہ کس طرح ہوگا فرمایا وہ بعض تقدیر کا اقرار کریں گے تو بعض کا انکار کریں گے میں نے عرض کیا وہ کیا کہیں گے فرمایا خیر اللہ کی طرف سے ہے اور شر ابلیس کی طرف سے، اور پھر وہ اس قرآن کو پڑھیں گے اور اس سے غلط استدلال کریں گے اور یوں وہ ایمان معرفت کے بعد قرآن کا بھی انکار کریں گے اس میں میری امت کو ان کی طرف سے بغض و عداوت اور جنگ وجدال بھی پیش آئے گی یہ اپنے وقت میں اس امت کے زندیق لوگ ہوں گے سلطان وقت کا ظلم وستم ان کا سایہ اور پناہ گاہ ہوگا، پھر اللہ ان پر طاعون کی وبا مسلط فرمادیں گے جو ان کی کثرت کو فناء کردے گی پھر ان کو زمین میں دھنسادیا جائے گا، اور بہت کم اس سے بچ سکیں گے مومن اس وقت قلیل تعداد میں ہوں گے۔

ان کی خوشی بھی شدت غم سے عبارت ہوگی پھر اللہ ان اکثر منکرین کی صورتوں کو بندروں اور خنزیروں کی صورت سے مسخ فرمادیں گے پھر اسی حالت میں خروج دجال ہوگا پھر آپ روپڑے ہم بھی آپ کے رونے کی وجہ سے روپڑے اور عرض کیا آپ کو کیا چیز رلارہی ہے فرمایا ان کی بیخ کنی پر رحم کھاتے ہوئے کہ ان مبتلائے عذاب میں تہجد گزار عبادت کرنے والے بھی ہوں گے اور یہ پہلے لوگ نہ ہوں گے جنہوں نے تقدیر کے انکار میں یہ بات کہی ہوگی جس کے بوجھ کو اٹھاتے ہوئے ان کے ہاتھ شل ہوگئے بلکہ اکثر اسرائیل تقدیر کے جھٹلانے کی وجہ سے ہی گرفتار ہلاکت ہوئے کہا یارسول اللہ میں آپ پر فداء ہوجاؤں مجھے بتائیے کہ کیسے تقدیر پر ایمان لایا جائے ؟ فرمایا اللہ وحدہ پر ایمان لاؤ، اور اس بات پر کہ اس کے ساتھ کوئی بھی ضرر ونفع رسائی کا مالک نہیں ہے اور جنت وجہنم پر ایمان لاؤ۔ اور اس بات پر ایمان لاؤ کہ اللہ نے تخلیق خلق سے قبل ہی تقدیر کو پیدا فرمادیا تھا، پھر مخلوق کو پیدا فرمایا، اور جس کو چاہا جنت کا اہل بنایا اور جس کو چاہا جہنم کا اہل بنادیا، اور یہ بلاشک وشبہ اس کی طرف سے سراسر عدل و انصاف ہے اور ہر ایک اسی پر عمل پیرا ہے جو اس کے لیے طے ہوچکا ہے اور وہ اپنی تقدیر کی طرف بڑھتاجارہا ہے میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ فرمایا۔

علامہ طبرانی (رح) نے اس کو عمرو بن شعیب سے دوطریق کے ساتھ روایت فرمایا۔ پہلے میں حجاج بن نصیر ضعیف ہے۔ اور دوسرے میں ابن لہیعہ ہے سو حدیث حسن ہے۔ اور حارث عقیلی نے اس کو دوسرے طریق کے ساتھ انہی سے روایت کیا عقیلی اور علامہ خطیب نے اس کو المسند لابی یعلی المتفق والمفترق میں حارث کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کئی ایک مجہول روایتیں ہیں۔
1596 - ومن مسند رافع بن خديج عن عمرو بن شعيب كنت عند سعيد بن المسيب جالسا فذكروا أن قوما يقولون قدر الله كل شيء إلا الأعمال فوالله ما رأيت سعيد بن المسيب غضب غضبا أشد منه حتى هم بالقيام ثم سكن، فقال: "تكلموا إنه حدثني رافع بن خديج أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "يكون قوم من أمتي يكفرون بالله وبالقرآن وهملا يشعرون كما كفرت اليهود والنصارى قلت: جعلت فداءك يا رسول الله وكيف ذاك قال: يقرون ببعض القدر ويكفرون ببعضه قلت ثم ما يقولون قال يقولون: الخير من الله والشر من إبليس فيقرؤون على ذلك كتاب الله ويكفرون بالقرآن بعد الإيمان والمعرفة، فيما تلقى أمتي منهم من العداوة والبغضاء والجدال أولئك زنادقة هذه الأمة في زمانهم، يكون ظلم السلطان فياله من ظلم وحيف وأثرة ثم يبعث الله طاعونا فيفني عامتهم، ثم يكون الخسف فما أقل من ينجو منهم المؤمن يومئذ قليل فرحه شديد غمه، ثم يكون المسخ فيمسخ الله عامة أولئك قردة وخنازير ثم يخرج الدجال على اثر ذلك ثم بكى رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بكينا لبكائه قلنا ما يبكيك قال: رحمة لهم الاستيصال لأن فيهم المتعبد وفيهم المتهجد مع إنهم ليسوا بأول من سبق إلى هذا القول وضاق بحمله ذرعا إن عامة من هلك من بني إسرائيل بالتكذيب بالقدر فقال: جعلت فداك يا رسول الله فقل لي فكيف الإيمان بالقدر قال تؤمن بالله وحده وإنه لا يملك معه أحد ضرا ولا نفعا وتؤمن بالجنة والنار، وتعلم أن الله عز وجل خالقها قبل خلق الخلق ثم خلقهم فجعل من شاء منهم للجنة ومن شاء منهم للنار عدلا ذلك منه، وكل يعمل لما فرغ له منه وهو صائر إلى ما فرغ منه فقلت صدق الله ورسوله". (طب من طريقين عن

عمرو بن شعيب) وفي الأول حجاج بن نصير ضعيف وفي الثاني ابن لهيعة فالحديث حسن. (ورواه الحارث ع من طريقين آخرين عنه ورواه خط في المتفق والمفترق من طريق الحارث) وقال في إسناده من المجهولين غير واحد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدریہ کے چہرے مسخ ہوں گے
١٥٩٧۔۔ از مسند علی ۔ حاتم بن اسماعیل سے مروی ہے کہ میں جعفر بن محمد کے پاس تھا، آپ کے پاس چند لوگوں کی ایک جماعت حاضر ہوئی اور کہنے لگی اے رسول اللہ کے فرزند ، ہمیں بتائیے کہ ہم میں سے کس کی بات شرانگیز ہے ؟ فرمایا لاؤ، تمہیں کیا بات پیش آئی ؟ وہ کہنے لگے کہ ہم میں سے ایک قدری ہے اور دوسرامرجی ہے اور تیسراخارجی ہے حضرت جعفر نے فرمایا مجھے میرے والد محمد نے بیان کیا وہ اپنے والد علی سے روایت کرتے ہیں کہ اور وہ اپنے والد حضرت حسین سے روایت کرتے ہیں کہ اور وہ اپنے والد بزرگوار حضرت علی بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم کوسنا آپ امامہ الباھلی کو فرما رہے تھے کہ تو کسی قدری کے پاس بیٹھ اور نہ ہی کسی مرجی کے پاس اور نہ کسی خارجی کے پاس بیٹھ وہ دین کو یوں اوندھا کرنے والے ہیں جس طرح برتن کو اوندھا کردیاجاتا ہے اور وہ اس طرح غلوبازی سے کام لینے والے ہیں جس طرح یہود و نصاری نے غلوبازی سے کام لیاہرامت میں کچھ مجوسی ہوتے ہیں اور اس امت کے مجوسی قری ہیں پس ان کی جماعت میں نہ جاؤ، خبردار ! وہ بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ کردیے جائیں گے اور اگر میرے رب کا مجھ سے وعدہ نہ ہوتا کہ میری امت میں خسف زمین میں دھنسایانہ جائے گا تو وہ اس دنیا میں ضرور خسف میں مبتلا ہوجاتے اور مجھے میرے والد نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت علی سے روایت کی کہ حضرت علی نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ خوارج دین سے یوں دور نکل گئے ہیں جس طرح تیرکمان سے نکل جاتا ہے اور وہ اپنی قبروں میں کتوں کی شکل میں ہوجائیں گے۔ اور روز قیامت بھی کتوں ہی کی شکل میں اٹھائے جائیں گے اور یہ جہنم کے کتے ہیں۔ اور مجھے میرے والد نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت علی سے روایت کیا کہ حضرت علی نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے دو گروہوں کو میری شفاعت نصیب نہ ہوگی مرجیہ اور قدریہ، قدریہ وہ ہیں جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں اور وہ اس امت کے مجوسی ہیں اور مرجیہ وہ ہیں جو قول وعمل میں تفریق کرتے ہیں اور یہ اس امت کے یہودی ہیں۔ السلفی فی انتخاب حدیث القرائ۔ مرجیہ کہتے ہیں کہ جس طرح کفر کے ساتھ کوئی عمل مقبول نہیں اسی طرح ایمان کے ساتھ کوئی معصیت مضر نہیں فقط ایمان قول کا نام ہے۔ عمل کی حاجت نہیں اس طرح یہ عمل اور قول میں فرق کرتے ہیں جبکہ ایمان عمل اور قول ہر دوکانام ہے۔
1597 - من مسند علي رضي الله عنه عن حاتم بن إسمعيل قال: "كنت عند جعفر بن محمد فأتاه نفر فقالوا يا ابن رسول الله حدثنا أينا شر كلاما قال: هاتوا ما بدا لكم قالوا أما أحدنا فقدري وأما الآخر فمرجئ وأما الثالث خارجي فقال حدثني أبي محمد عن أبيه علي عن أبيه الحسين عن أبيه علي بن أبي طالب أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لأبي أمامة الباهلي: " لا تجالس قدريا ولا مرجئا ولا خارجيا، إنهم يكفئون الدين كما يكفأ الإناء، ويغلون كما غلت اليهود والنصارى ولكل أمة مجوس ومجوس هذه الأمة القدرية فلا تشيعوهم ألا إنهم يمسخون قردة وخنازير ولولا ما وعدني ربي أن لا يكون في أمتي خسف لخسف بهم في الحياة الدنيا" وحدثني أبي عن أبيه عن علي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الخوارج مرقوا من الدين كما يمرق السهم من الرمية وهم يمسخون في قبورهم كلابا ويحشرون يوم القيامة على صور الكلاب وهم

كلاب النار، وحدثني أبي عن أبيه عن علي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "صنفان من أمتي لا تنالهم شفاعتي المرجئة والقدرية والقدرية يقولون لا قدر وهم مجوس هذه الأمة والمرجئة يفرقون بين القول والعمل وهم يهود هذه الأمة". (السلفي في انتخاب حديث القراء) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدریہ کے چہرے مسخ ہوں گے
١٥٩٨۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسازمانہ آنے والا ہے، کہ لوگ تقدیر کا انکار کرنے لگیں گے حتی کہ کوئی عورت سامان لینے بازار نکلے گی اور واپس آکر دیکھے گی کہ اس کے شوہر کا چہرہ تقدیر کے انکار کی وجہ سے مسخ ہوچکا ہے۔ الالکائی۔
1598 - عن علي قال: "ليأتين على الناس زمان يكذبون على القدر تجيء المرأة سوقا إلى حاجتها فترجع إلى منزلها وقد مسخ بعلها بتكذيبه القدر". (اللالكائي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدریہ کے چہرے مسخ ہوں گے
١٥٩٩۔۔ ازمسند عبداللہ بن عمرو (رض) ، ابوالزاھریہ سے مروی ہے کہ عبداللہ (رض) بن عمرو (رض) بن العاص جن کو حضور ان کے والد عمرو بن العاص پر بھی فوقیت دیتے تھے وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ہمارے پاس آئے اور قدریہ کے متعلق حدیث بیان فرمائی۔ ابن عساکر۔
1599 - ومن مسند عبد الله بن عمرو عن أبي الزاهرية عن عبد الله ابن عمرو بن العاص وكان النبي صلى الله عليه وسلم يفضل عبد الله على أبيه قال: "خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر حديثا في القدرية". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدریہ کے چہرے مسخ ہوں گے
١٦٠٠۔۔ ازمسند ابوہریرہ ۔ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا العادیات ضبحا، ان سرپڑے دوڑنے والے گھوں کی قسم جو ہانپ اٹھتے ہیں سورة العادیات کیا ہے ؟ یارسول اللہ آپ نے اس سے اعراض فرمالیا، وہ شخص آئندہ روز پھر حاضر ہو اور عرض کیا، الموریات قدحا، وہ جو پتھر پر لعل ماکرآگ نکالنے والے ہیں کیا ہے ؟ یارسول اللہ آپ نے پھر اس سے اعراض برتاپھر تیسرے روز حاضر ہوا اور عرض کیا، المغیرات صبحا۔ جو صبح کو چھاپہ مارنے والے ہیں کیا ہے ؟ یارسول اللہ آپ نے چھڑی کے ساتھ اس کیس رسے عمامہ اور ٹوپی اتاری تو دیکھا کہ وہ گھنے بالوں والا ہے، تو آپ نے فرمایا اگر میں اس کو بالوں سے بےنیاز پاتو اس کو سرکواڑا دیتا جس میں اس کی دوآنکھیں ہیں۔ حاضرین مجلس گھبراگئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ان کی کیا وجہ ہے فرمایا میری امت میں عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کے بعض حصوں کو بعض حصوں کے ساتھ تعارض میں پیش کریں گے تاکہ اس کو باطل کریں اور اس میں متشابہ آیات جن کی مراد صرف اللہ کو معلوم ہے ان سے تعرض کریں گے اور وہ خیال کریں گے کہ ان کا دین میں اپنانیاراستہ ہے اور ہر دین میں مجوسی ہوتے ہیں اور یہ لوگ اس امت کے مجوسی اور جہنم کے کتے ہوں گے آپ فرماتے تھے کہ وہ قدری ہوں گے ابن عساکر اس روایت میں ایک راوی البحتری بن عبید ضعیف ہے۔
1600 - ومن مسند أبي هريرة عن أبي هريرة قال: "قال رجل من الناس يا رسول الله ما العاديات ضبحا؟ فأعرض عنه، ثم رجع إليه من الغد فقال: ما الموريات قدحا؟ فأعرض عنه، ثم رجع إليه الثالث فقال: ما المغيرات صبحا فرفع العمامة والقلنسوة عن رأسه بمخصرته فوجده مفرعا عن رأسه فقال لو وجدته طاما رأسه لوضعت الذي فيه عيناه ففزع الملأ من قوله قالوا يا نبي الله ولم قال: إنه سيكون أناس من أمتي يضربون القرآن بعضه ببعض ليبطلوه ويتبعون ما تشابه منه ويزعمون أن لهم في أمر سبيلا ولكل دين مجوس وهم مجوس أمتي وكلاب النار فكان يقول هم القدرية". (كر) وفيه البحتري بن عبيد ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدریہ کے چہرے مسخ ہوں گے
١٦٠١۔۔ از مراسیل محمد بن کعب القرظی ۔ محمد بن کعب القرظی (رح) سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ آیات اہل قدر کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں۔ (ان المجرمین فی ضلال وسعر) کہ یقیناً مجرمین گمراہی اور جہنم میں ہیں۔ ابن عساکر۔
1601 - من مراسيل محمد بن كعب القرظي عن محمد بن كعب قال: "والذي نفسي بيده ما أنزلت هذه الآيات إلا في أهل القدر {إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلالٍ وَسُعُرٍ} إلى آخر الآية". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدریہ کے چہرے مسخ ہوں گے
١٦٠٢۔۔ از مراسیل مکحول (رح) ۔ مکحول (رح) سے مروی ہے کہ آپ (رح) نے غیلان سے فرمایا، افسوس تجھ پر اے غیلان ! مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اس امت میں غیلان نامی ایک شخص ہوگا جو شیطان سے زیادہ اس پر ضرررساں اور بھاری ہوگا۔ ابوداؤد، فی القدر ابن عساکر۔
1602 - ومن مراسيل مكحول عن مكحول، أنه قال: لغيلان "ويحك يا غيلان بلغني أنه يكون في هذه الأمة رجل هو أضر عليه من الشيطان". (د في القدر كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قدریہ کے چہرے مسخ ہوں گے
١٦٠٣۔۔ از مراسیل مکحول (رح)۔ مکحول (رح) سے مروی ہے کہ آپ نے غیلان سے فرمایا افسوس تجھ پر اے غیلان مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ اس امت میں غیلان نامی ایک شخص ہوگا جو شیطان سے زیادہ اس پر ضرررساں اور بھاری ہوگا۔ تو تو اللہ سے ڈر اور نوہ نہ بن ۔ اللہ نے جو پیدا کرنا ہے وہ لکھ دیا ہے اور جس پر خلق کو عمل کرنا ہے وہ بھی لکھ دیا ہے۔ ابوداؤد فی القدر ۔
1603 - عن مكحول أنه قال: ويحك يا غيلان إني حدثت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "سيكون في أمتي رجل يقال له غيلان هو أضر على أمتي من إبليس" فاتق الله ولا تكونه إن الله كتب ما هو خالق وما الخلق عامل". (د في القدر.) .
tahqiq

তাহকীক: