কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৫৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی پر حفاظتی فرشتے مقرر ہیں
١٥٦٤۔۔ یعلی بن مرہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رات میں مسجد جاکر نوافل ادا کیا کرتے تھے تو ہم آپ کی چوکیداری کی غرض سے حاضر ہوئے جب آپ فارغ ہوئے تو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کس چیز نے تمہیں بٹھا رکھا ہے ؟ ہم نے عرض کیا ہم آپ کی چوکیداری کررہے ہیں، فرمایا کیا آسمان والوں سے میری حفاظت کررہے ہو، یا زمین والوں سے ؟ ہم نے عرض کیا زمین والوں سے ۔ فرمایا زمین میں کوئی شے نقصان رساں نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ آسمان پر اس کا فیصلہ نہ کردیا جائے۔ بیشک کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر دونگہبان فرشتے مقرر نہ ہوں۔ جو اس سے سے ہر مصیبت کو دفع کرتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو اس کی حفاظت سپرد کرتے رہتے ہیں حتی کہ اس کی تقدیر آجاتی ہے پس جب اس کی تقدیر آجاتی ہے تو وہ فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں اور اللہ کی طرف سے ایک ڈھال میری حفاظت پر مامور ہے جو میرے لیے قلعہ گاہ ہے سو جب میرا وقت آجائے گا تو مجھ سے یہ حفاظت اٹھ جائے گی اور بیشک کوئی شخص ایمان کا مزہ اس وقت تک نہیں چکھ سکتا جب تک وہ اس بات کا یقین نہ کرلے کہ جو چیز اس کو پہنچی وہ ہرگز چوکنے والی نہ تھی اور وہ جو نہیں پہنچی وہ ہرگز پہنچنے والی نہ تھی۔ ابوداؤد فی القدر، خشیش فی الاستقامہ، ابن عساکر۔
1564 - عن يعلى بن مرة قال: "كان علي يخرج بالليل إلى المسجد يصلي تطوعا فجئنا نحرسه فلما فرغ أتانا فقال ما يجلسكم؟ قلنا نحرسك فقال أمن أهل السماء تحرسون أم من أهل الأرض؟ قلنا: بل من أهل الأرض قال إنه لا يكون في الأرض شيء حتى يقضى في السماء، وليس من أحد إلا وقد وكل به ملكان يدفعان عنه ويكلآنه حتى يجيء قدره فإذا جاء قدره خليا بينه وبين قدره وإن علي من الله جنة حصينة فإذا جاء أجلي كشف عني وإنه لا يجد طعم الإيمان حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وما أخطأه لم يكن ليصيبه". (د في القدر وخشيش في الاستقامة كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی پر حفاظتی فرشتے مقرر ہیں
١٥٦٥۔۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی کی زندگی کی آخری رات آئی تو آپ اپنی جگہ ٹھہرتے نہ تھے اہل خانہ کو تشویش ہوئی اور وہ آپس میں آپ کو روکنے کے لیے حیلہ سازی کرنے لگے، پھر جمع ہو کر آپ کو رک جانے کے لیے واسطے دیے۔ آپ نے فرمایا بیشک کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر دونگہبان فرشتے مقرر نہ ہوں، جو اس سے ہر غیر مقدر مصیبت کو دفع کرتے رہتے ہیں یا فرمایا جب تک تقدیر نہیں آجاتی۔ پس جب تقدیر آجاتی ہے تو وہ فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں یہ فرما کر آپ مسجد کی طرف گئے اور شہید کردیے گئے ۔ ابوداؤد، فی القدر، ابن عساکر۔
1565 - عن قتادة قال: "إن آخر ليله أتت على علي جعل لا يستقر فارتاب به أهله فجعل يدس بعضهم إلى بعض حتى أجمعوا فناشدوه قال إنه ليس من عبد إلا ومعه ملكان يدفعان عنه ما لم يقدر أو قال ما لم يأت القدر فإذا أتى القدر خليا بينه وبين القدر ثم خرج إلى المسجد فقتل" (د في القدر كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی پر حفاظتی فرشتے مقرر ہیں
١٥٦٦۔۔ ابی مجلز سے مروی ہے کہ حضرت علی کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اس وقت آپ (رض) مسجد میں نماز میں مشغول تھے اس شخص نے آکر عرض کیا اپنی حفاظت کا کچھ خیال کیجئے کیونکہ مراد کے لوگ آپ کے قتل کے درپے ہیں آپ نے فرمایا بیشک ہر آدمی پر دو نگہبان فرشتے مقرر ہیں جو اس کی ہر غیر مقدر مصیبت کی طرف سے حفاظت کرتے ہیں پس جب تقدیرآجاتی ہے تو وہ فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ اور موت خود انسان کے لیے ایک ڈھال اور قلعہ گاہ ہے۔ ابن سعد، ابن عساکر۔
1566 - عن أبي مجلز قال "جاء رجل إلى علي وهو يصلي في المسجد فقال احترس فإن ناسا من مراد يريدون قتلك فقال إن مع الرجل ملكين يحفظانه مما لم يقدر فإذا جاء القدر خلوا (2) بينه وبينه وإن الأجل جنة حصينة". (ابن سعد كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی پر حفاظتی فرشتے مقرر ہیں
١٥٦٧۔۔ محمد بن ادریس الشافعی، یحییٰ بن سلیم سے اور یحییٰ ، جعفر بن محمد سے ، جعفر اپنے والد عبداللہ بن جعفر سے ۔ عبداللہ حضرت علی (رض) بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا، انسان کے اندر عجیب ترین شے اس کا دل ہے جو حکمت و دانائی کا ذخیرہ ہے تو اس کی اضداد کے لیے بھی جائے پناہ ہے۔ اگر اس میں امید کو آسرا ملتا ہے تو طمع اس کو مجبور کردیتی ہے اور اگر طمع بھڑکتی ہے تو حرص اس کو ہلاک کر ڈالتی ہے اور اگر یاس واناامیدی کا ہجوم اس میں گھربساتا ہے توحسرت و افسوس اس کو قتل کیے دیتا ہے اور اگر اس پر غصہ طاری ہوتا ہے تو غضبناکی اس میں بھڑک اٹھتی ہے اور اگر اس کو رضا بالقضاء کی سعادت میسر ہوتی ہے تو یہ اپنی حفاظت سے غافل ہوجاتا ہے اور اگر خوف اس پر مسلط ہوتا ہے تو یہ حزن وملال کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ اگر اس پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے تو آہ واویلا اس کو کاٹ ڈالتا ہے اگر یہ مال حاصل کرلیتا ہے تو غنی واسراف اس کو سرکشی میں مبتلا کیے دیتے ہیں، اگر اس کو فاقہ کاٹتا ہے تو بلاء و مصیبت اس کو گھیر لیتی ہے اور اگر بھوک اس کو لاچار کرتی ہے توضعف وکسمپرسی اس کو لے بیٹھتی ہے الغرض ہر کمی اس کے لیے مضر ہے اور ہر طرح کی فراوانی اس کے بگاڑ و فساد کا سرچشمہ ہے۔
ایک شخص جو جنگ جمل میں آپ کے ہمراہ کھڑا ہوا اور عرض کیا اے امیرالمومنین ہمیں تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا یہ اتھاہ گہرا سمندر ہے اس میں مت گھس۔ اس نے پھر اصرار کیا اے امیرالمومنین ہمیں تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا یہ خدائی راز سے اس کی کلفت میں مت پڑو۔ اس نے پھر اصرار کیا اے امیرالمومنین ، ہمیں تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا اگر تم نہیں مانتے توسنو کہ یہ دوراہوں کے درمیان ایک راہ ہے جس میں کلی چبر ہے اور نہ مکمل اختیار وتفویض اس نے عرض کیا امیرالمومنین یہاں ایک شخص آپ کے حاضر ہے جس کا خیال ہے کہ ہر شی کا تعلق بندہ کی استطاعت کے ساتھ ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا اس کو سامنے لاؤ لوگوں نے اس کو کھڑا کردیا، آپ (رض) نے اپنی تلوار چارانگلیوں کیے برابر نیام سے سونتی اور اس سے دریافت فرمایا، کیا تم اللہ کے ساتھ ہو کر استطاعت رکھنے کا دعوی کرتے ہو یا اللہ کے بغیر استطاعت رکھنے کا دعوی کرتے ہو اور یاد رکھو کسی ایک کے متعلق بھی ہاں کہی تو تم مرتد ہوجاؤ گے اور پھر میں تمہاری گردن اڑادوں گا اس شخص نے عرض کیا اے امیرالمومنین تو پھر میں کیا کہوں ؟ فرمایا کہو کہ میں استطاعت رکھتاہوں اللہ کی مدد سے اگر وہ چاہتا تو مجھے اس کا مالک بنادیتا۔ الحلیہ۔
ایک شخص جو جنگ جمل میں آپ کے ہمراہ کھڑا ہوا اور عرض کیا اے امیرالمومنین ہمیں تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا یہ اتھاہ گہرا سمندر ہے اس میں مت گھس۔ اس نے پھر اصرار کیا اے امیرالمومنین ہمیں تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا یہ خدائی راز سے اس کی کلفت میں مت پڑو۔ اس نے پھر اصرار کیا اے امیرالمومنین ، ہمیں تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا اگر تم نہیں مانتے توسنو کہ یہ دوراہوں کے درمیان ایک راہ ہے جس میں کلی چبر ہے اور نہ مکمل اختیار وتفویض اس نے عرض کیا امیرالمومنین یہاں ایک شخص آپ کے حاضر ہے جس کا خیال ہے کہ ہر شی کا تعلق بندہ کی استطاعت کے ساتھ ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا اس کو سامنے لاؤ لوگوں نے اس کو کھڑا کردیا، آپ (رض) نے اپنی تلوار چارانگلیوں کیے برابر نیام سے سونتی اور اس سے دریافت فرمایا، کیا تم اللہ کے ساتھ ہو کر استطاعت رکھنے کا دعوی کرتے ہو یا اللہ کے بغیر استطاعت رکھنے کا دعوی کرتے ہو اور یاد رکھو کسی ایک کے متعلق بھی ہاں کہی تو تم مرتد ہوجاؤ گے اور پھر میں تمہاری گردن اڑادوں گا اس شخص نے عرض کیا اے امیرالمومنین تو پھر میں کیا کہوں ؟ فرمایا کہو کہ میں استطاعت رکھتاہوں اللہ کی مدد سے اگر وہ چاہتا تو مجھے اس کا مالک بنادیتا۔ الحلیہ۔
1567 - عن محمد بن إدريس الشافعي عن يحيى بن سليم عن جعفر ابن محمد عن أبيه عبد الله بن جعفر عن علي بن أبي طالب "أنه خطب الناس يوما فقال في خطبته وأعجب ما في الإنسان قلبه وله مواد من الحكمة وأضداد من خلافها فإن سنح له الرجاء أولهه الطمع، وإن هاج به الطمع أهلكه الحرص وإن ملكه اليأس قتله الأسف وإن عرض له الغضب اشتد به الغيظ، وإن أسعد بالرضا نسي التحفظ وإن ناله الخوف شغله الحزن وإن أصابته مصيبة قصمه الجزع وإن أفاد مالا أطغاه الغنى وإن عضته فاقة شغله البلاء وإن جهده الجوع قعد به الضعف فكل تقصير به مضر وكل إفراط له مفسد قال: فقام إليه رجل ممن كان شهد معه الجمل فقال: يا أمير المؤمنين أخبرنا عن القدر فقال: بحر عميق فلا تلجه قال: يا أمير المؤمنين أخبرنا عن القدر قال: سر الله فلا تتكلفه قال: يا أمير المؤمنين أخبرنا عن القدر قال: أما إذ أبيت فإنه أمر بين أمرين لا جبر ولا تفويض قال: يا أمير المؤمنين إن فلانا يقول بالاستطاعة وهو حاضرك فقال: علي به فأقاموه فلما رآه سل سيفه قد أربع أصابع فقال الاستطاعة تملكها مع الله أو من دون الله وإياك أن تقول أحدهما فترتد فأضرب عنقك قال: فما أقول يا أمير المؤمنين؟ قال: قل أملكها بالله الذي إن شاء ملكنيها". (حل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی پر حفاظتی فرشتے مقرر ہیں
١٥٦٨۔۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ حضرت علی سے اجازت طلب کی گئی کہ کیا ہم آپ کی حفاظت نہ کریں ؟ فرمایا موت انسان کی حفاظت کرتی ہے الحلیہ یعنی جب تک موت کا وقت نہ آئے تو کوئی چیز گزند و نقصان نہیں پہنچاسکتی ۔ تو گویا موت ہی اس کی حفاظت کرتی ہے۔
1568 - عن يحيى بن أبي كثير قال: "قيل لعلي ألا نحرسك فقال حرس امرأ أجله". (حل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی پر حفاظتی فرشتے مقرر ہیں
١٥٦٩۔۔ ازمسند ابی بن کعب (رض)۔ ابولاسود (رح) سے مروی ہے کہ وہ حضرت عمران بن حصین (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا اہل القدر تقدیر کے منکرین سے جھگڑا ہوگیا ہے حتی کہ انھوں نے مجھے تنگ کرڈالا ہے لہٰذا مجھے کوئی حدیث سنائیے شاید اس کے ذریعہ اللہ مجھے نفع دے فرمایا اگر میں کچھ کہوں توشاید تمہارے کانوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے ، گویا تم اس کو سنی اب سنی کردو میں نے عرض کیا میں اس لیے خاص نہیں ہوتا تو آپ (رض) نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ وتعالی ساتوں آسمان اور ساتوں زمین والوں کو عذاب میں مبتلا فرمادیں تو اس کا ذرہ بھران پر ظلم نہ ہوگا اور اگر ان سب کو اپنی رحمت میں ڈھانپ لے تو اس کی رحمت سب کے گناہوں پر حاوی ہوگی جیسا کہ اس ذات نے خود فرمایا ۔ یعذب من یشاء ویرحم من یشائ۔ وہ جس کو چاہے عذاب دے اور جس کو چاہے رحم کرے۔ وہ جس کو بھی عذاب سے دوچار کرے عین برحق ہے اور جس پر بھی رحم کرے عین برحق ہے۔
اگر سارے پہاڑ سونے یا چاندی کے ہوجائیں اور وہ شخص جو اچھی بری تقدیر کا منکر ہے۔ اور ان کو راہ خدا صرف کرڈالے توتب بھی کچھ نفع نہ دے اب تم جاؤ اور دیگر صحابہ سے بھی سوال کرو۔ ابوالاسود الدولی فرماتے ہیں میں مسجد کی طرف نکلا تو وہاں حضرت عبداللہ بن مسعود رضیا للہ عنہ اور ابی بن کعب کو پایا۔ میں نے دونوں سے سوال کیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے ابی بن کعب سے فرمایا اے ابی اس کو بتاؤ ، حضرت ابی نے فرمایا آپ ہی فرمائیں اے ابوعبدالرحمن تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے عین اسی کے مثل فرمایا جو حضرت عمران بن حصین فرماچکے تھے کچھ بھی کمی بیشی نہ فرمائی گویا انہی سے سن کر جواب دیا ہے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا اے ابی کیا تم بھی یہی کہتے ہو ؟ انھوں نے فرمایا بالکل۔ ابن جریر۔
اگر سارے پہاڑ سونے یا چاندی کے ہوجائیں اور وہ شخص جو اچھی بری تقدیر کا منکر ہے۔ اور ان کو راہ خدا صرف کرڈالے توتب بھی کچھ نفع نہ دے اب تم جاؤ اور دیگر صحابہ سے بھی سوال کرو۔ ابوالاسود الدولی فرماتے ہیں میں مسجد کی طرف نکلا تو وہاں حضرت عبداللہ بن مسعود رضیا للہ عنہ اور ابی بن کعب کو پایا۔ میں نے دونوں سے سوال کیا تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے ابی بن کعب سے فرمایا اے ابی اس کو بتاؤ ، حضرت ابی نے فرمایا آپ ہی فرمائیں اے ابوعبدالرحمن تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے عین اسی کے مثل فرمایا جو حضرت عمران بن حصین فرماچکے تھے کچھ بھی کمی بیشی نہ فرمائی گویا انہی سے سن کر جواب دیا ہے پھر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے حضرت ابی بن کعب سے فرمایا اے ابی کیا تم بھی یہی کہتے ہو ؟ انھوں نے فرمایا بالکل۔ ابن جریر۔
1569 - ومن مسند أبي بن كعب عن أبي الأسود الدؤلي أنه أتى إلى عمران بن حصين فقال: "إني خاصمت أهل القدر حتى أخرجوني فهل عندك من حديث لعل الله أن ينفعني به؟ قال: لعلي إن حدثتك حديثا تيأس عليه أذنك صار كأنك لم تسمعه قال: ما جئت لذلك قال: فإن الله تبارك وتعالى لو عذب أهل السموات السبع، وأهل الأرضين السبع عذبهم وهو غير ظالم لهم ولو أدخلهم في رحمته لكانت رحمته أوسع من ذنوبهم كما قال: {يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَنْ يَشَاءُ} ، فمن عذب فهو الحق ومن رحم فهو الحق ولو كانت الجبال ذهبا أو ورقا فأنفقها (2) في سبيل الله ولم يؤمن بالقدر خيره وشره لم ينفعك (2) (كذا) واخرج فاسأل قال: فخرجت إلى المسجد فإذا بعبد الله بن مسعود وأبي بن كعب فسألتهما فقال عبد الله بن مسعود يا أبي أخبره قال: أبي بل أنت يا أبا عبد الرحمن أخبره فجاء بمثل حديث عمران بن حصين لم يزد قليلا ولا كثيرا كأنه يسمع قوله ثم قال يا أبي أكذلك تقول قال: نعم". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر آدمی پر حفاظتی فرشتے مقرر ہیں
١٥٧٠۔۔ ازمسند کثم بن الجوان الخزاعی (رض) ۔ ابونہیک (رح) ، شبل بن خلید المزنی (رح) سے روایت کرتے ہیں اور وہ اکثم بن ابی الجون، سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ فلاں شخص قتال میں بڑا ہی جرات مند ہے آپ نے فرمایا وہ تو جہنمی ہے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ اگر وہ فلاں شخص اپنی عبادت اور جدوجہد اور نرم رویہ کے باجو ود جہنمی ہے توہم کس کھاتے میں ہوں گے ؟ فرمایا یہ محض نفاق کی عجز و انکساری ہے اور یہ جہنم میں جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم قتال میں ان کی خاص نگرانی رکھتے تھے تو دیکھا کہ اس کے پاس سے کوئی بھی شہسوار یاپیداہ پاگزرتا ہے تو یہ اس پر کود کر حملہ آور ہوجاتا ہے۔۔ حتی کہ یہ زخموں سے چور ہوگیا یہ ماجرادیکھ کر ہم بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ وہ توشہید ہواجاتا ہے تب بھی آپ نے فرمایا وہ جہنمی ہے تو بالآخر جب وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا تو اس نے اپنی تلوار تھامی اور عین اپنے سینے کے درمیان رکھی اور پھر اس پر اپنازور صرف کرڈالا۔۔ حتی کہ وہ تلوار اس کی پشت سے جانکلی۔ اکثم بن ابی الجون الخزاعی فرماتے ہیں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں شہادت دیتاہوں کہ آپ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ تب آپ نے فرمایا آدمی اہل جنت کا عمل کرتا رہتا ہے جبکہ وہ جہنمیوں میں داخل ہوتا ہے اور کبھی آدمی اہل جہنم کا عمل کرتا رہتا ہے جبکہ وہ جنتیوں میں داخل ہوتا ہے لیکن روح نکلتے وقت اس کو شقاوت یا سعادت آلیتی ہے اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ابن مندہ ، الکبیر للطبرانی ، (رح) ابونعیم۔
1570 - ومن مسند أكثم بن الجون الخزاعي عن أبي نهيك عن شبل بن خليد المزني عن أكثم بن أبي الجون قال قلنا يا رسول الله فلان لجريء في القتال قال: هو من أهل النار قلنا يا رسول الله إذا كان فلان في عبادته واجتهاده ولين جانبه في النار فأين نحن؟ قال: إنما ذلك إخبات النفاق وهو في النار قال كنا نتحفظ عليه في القتال كان لا يمر به فارس ولا راجل إلا وثب عليه فكثر عليه جراحه فأتينا النبي صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله استشهد فلان قال هو في النار فلما اشتد ألم جراحه أخذ سيفه فوضعه بين ثدييه ثم اتكأ عليه حتى خرج من ظهره فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت أشهد أنك رسول الله فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة وإنه لمن أهل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار وإنه لمن أهل الجنة تدركه الشقوة والسعادة عند خروج نفسه فيختم له بها". (ابن مندة طب وأبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ریش تھامنے کا واقعہ
١٥٧١۔۔ ازمسند بن مالک (رض) ۔ ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں خہ ہمیں ابوالحسن علی بن مسلم الفقیہ نے اپنی ریش تھامے ہوئے بیان کیا کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں عبدالعزیز بن احمد نے اپنی ریش تھامے ہوئے بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں ابوعمرو عثمان بن ابی بکر نے اپنی ریش تھامے ہوئے خبر دی وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں محمد بن اسحاق العبدی نے اپنی ریش تھامے ہوئے بیان کیا، وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں احمد بن مہران نے اپنی ریش تھامے ہوئے خبر دی وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سلیمان بن شعیب الکیسانی نے اپنی ریش تھامے ہوئے بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت انس نے اپنی ریش تھامے ہوئے بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم کو اپنی ریش تھامے ہوئے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اچھی بری شیریں وتلخ ہر طرح کی تقدیر پر ایمان نہ لائے پھر آپ نے اپنی ریش مبارک کو مٹھی میں پکڑتے ہوئے فرمایا میں بھی ہر تقدیر پر خواہ اچھی ہو یا بری اور شیریں ہو یا تلخ، ایمان لاتاہوں اور سنو، آدمی بسا اوقات عرصہ دراز تک اہل جہنم کے عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے سامنے جنت کی راہوں میں سے کوئی راہ پیش آجاتی ہے اور اس پر گامزن ہوجاتا ہے ۔۔ حتی کہ اسی پر اس کی موت آتی ہے اور یہ محض اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے مقدر میں یہی لکھا تھا اور بسا اوقات آدمی عرصہ دراز تک اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے سامنے جہنم کی راہوں میں سے کوئی راہ پیش آجاتی ہے اور وہ اس پر گامزن ہوجاتا ہے حتی کہ پھر اسی پر اس کو موت آجاتی ہے۔ اور یہ محض اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے مقدر میں یہی لکھا تھا۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت الغرس بن عمیرہ۔
1571 - ومن مسند أنس بن مالك قال (كر) حدثنا أبو الحسن علي بن مسلم الفقيه وأخذ بلحيته ثنا عبد العزيز بن أحمد وأخذ بلحيته أنبأنا أبوعمرو عثمان بن أبي بكر وأخذ بلحيته ثنا محمد بن إسحاق العبدي وأخذ بلحيته أنبأنا أحمد بن مهران وأخذ بلحيته ثنا سليمان بن شعيب الكيساني وأخذ بلحيته حدثنا شهاب بن خراش وأخذ بلحيته ثنا يزيد الرقاشي وأخذ بلحيته ثنا أنس وأخذ بلحيته قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يؤمن العبد حتى يؤمن بالقدر خيره وشره وحلوه ومره وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم على لحيته وقال: آمنت بالقدر خيره وشره وحلوه ومره إن المرء ليعمل بعمل أهل النار البرهة من دهره ثم يعرض له الجادة من جواد الجنة فيعمل بها حتى يموت عليها وذلك لما كتب له وإن الرجل ليعمل بعمل أهل الجنة البرهة من دهره ثم تعرض له الجادة من جواد النار فيعمل بها حتى يموت عليها وذلك لما كتب له." (طب عن الغرس بن عميرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٢۔۔ حضرت ثوبان سے مروی ہے کہ چالیس اصحاب رسول جمع ہوئے اور قدروجبر میں گفتگو کرنے لگے انہی میں حضرت شیخین یعنی حضرت ابوبکر وعمر بھی موجود تھے اسی اثناء میں حضرت جبرائیل آپ کے پاس نازل ہوئے اور فرمایا اے محمد اپنی امت کی خبر لیجئے وہ گمراہ ہورہی ہے آپ اسی گھڑی ان کے پاس پہنچے، حالانکہ اس وقت آپ کبھی نہیں نکلتے تھے صحابہ کرام کو یہ بات اجنبی محسوس ہوئی، اور آپ کے چہرہ اقدس کا رنگ غصہ کی وجہ سے سرخی میں بھڑک رہا تھا،اور آپ کے رخسار مبارک ایسے محسوس ہورہے تھے گویا ان پر ترش انار کے دانے نچوڑ دیے گئے ہوں آپ کی یہ حالت دیکھ کر صحابہ کرام کی ہتھیلیاں اور بازوخوف کے مارے پھڑپھڑاٹھے اور وہ سب اپنی آستینیں چڑھاتے ہوئے اٹھے اور لجامت آمیز لہجے میں بولے یارسول اللہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے آگے تائب ہوتے ہیں آپ نے فرمایا قریب تھا کہ تم جہنم کو اپنے پر واجب کر بیٹھتے میرے پاس ابھی جبرائیل نازل ہوئے تھے انھوں نے فرمایا اے محمد اپنی امت کی خبرلیجئے وہ گمراہ ہورہی ہے۔ الکبیر للطبرانی (رح)۔
1572 - عن ثوبان اجتمع أربعون من الصحابة ينظرون في القدر والجبر فمنهم أبو بكر وعمر فنزل الروح الأمين جبرئيل فقال: يا محمد أخرج على أمتك فقد أحدثوا فخرج عليهم في ساعة لم يكن يخرج عليهم في مثلها فأنكروا ذلك وخرج عليهم ملتمعا (2) لونه متوردة وجنتاه كأنما تفقأ بحب الرمان الحامض فنهضوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حاسرين أذرعهم ترعد أكفهم وأذرعهم فقالوا تبنا إلى الله ورسوله فقال أولى لكم إن كدتم لتوجبون (3) أتاني الروح الأمين فقال أخرج إلى أمتك يا محمد فقد أحدثت". (طب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٣۔۔ ازمسند زید بن ثابت (رض)، ابن ابی لیلی سے مروی ہے کہ میں حضرت ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کیا میرے دل میں تقدیر کی طرف سے کچھ خلجان واقع ہوگیا ہے لہٰذا مجھے کچھ بیان کیجئے تاکہ وہ میرے دل کو صاف کردے۔ تو آپ (رض) نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان اور زمین والوں کو عذاب میں مبتلا فرمادیں تو اس کا ذرہ بھران پر ظلم نہ ہوگا، اور گران سب کو اپنی رحمت میں ڈھانپ لے تو اس کی رحمت سب کے اعمال سے بڑھ کر ہوگی، اور اگر تو اس کی راہ میں احد پہاڑ کے برابر بھی سوناخرچ کرے تب بھی اللہ اس کو تجھ سے اس وقت تک ہرگز قبول نہ فرمائیں گے جب تک کہ تو تقدیر پر ایمان نہ لائے ۔ اور اس بات کا اچھی طرح یقین نہ کرلے کہ جو چیز تجھ کو پہنچی وہ ہرگز چوکنے والی نہ تھی اور وہ جو نہیں پہنچی وہ ہرگز پہنچنے والی نہ تھی، اور اگر تو اس کے علاوہ کسی اور عقیدہ پر مرگیا تو تو جہنم واصل ہوگا، ابن ابی لیلی کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے بھی بعینہ اسی کے مثل بات بیان فرمائی۔ پھر میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے بھی بعینہ اسی کے مثل بیان فرمائی۔ پھر میں حضرت زید بن ثابت (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں بھی اسی کے مثل نبی کریم سے روایت بیان فرمائی۔ ابن جریر۔
1573 - (ومن مسند زيد بن ثابت) عن ابن أبي ليلى قال أتيت أبي ابن كعب فقلت: "وقع في قلبي شيء من القدر فحدثني بشيء يذهب به عني قال: إن الله تبارك وتعالى لو عذب أهل سمواته وأهل أرضه عذبهم وهو غير ظالم، ولو رحمهم كانت رحمته خيرا لهم من أعمالهم ولو أنفقت مثل جبل أحد ذهبا في سبيل الله ما تقبله الله منك حتى تؤمن بالقدر وتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وما أخطأك لم يكن ليصيبك ولو مت على غير ذلك لدخلت النار، فأتيت حذيفة فقال لي مثل ذلك فأتيت عبد الله بن مسعود فقال: مثل ذلك فأتيت زيد بن ثابت فحدثني عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك" (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٤۔۔ ازمسند سہل بن سعد الساعدی (رض) ۔ سہل بن سعد سے مروی ہے کہ ایک شخص جو عظیم مسلمانوں میں سے تھا، اس نے نبی کریم کے ساتھ ایک غزوہ میں مسلمانوں کی حمایت میں لڑتے ہوئے خوب مشقت اٹھائی رسول اللہ نے اس کی طرف دیکھا تو فرمایا جو کسی جہنمی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے، تو قوم کا ایک شخص اس کی ٹوہ میں لگ گیا، دیکھا کہ وہ اسی سخت جانفشانی میں ہے مشرکین پر حملوں میں سب سے زیادہ سخت ہے۔ حتی کہ وہ زخمی ہوگیا لیکن تکلیف و مصیبت کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے موت کی از خود آرزو کی اور اپنی تلوار کی نوک عین سینے میں درمیان رکھدی۔۔ حتی کہ وہ اس کے شانوں سے جانکلی تو یہ شخص جو اس کی ٹوہ میں تھا تیزی سے رسول اللہ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا یارسول اللہ میں شہادت دیتاہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ نے دریافت کیا کیا بات ہے ؟ عرض کیا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جو کسی جہنمی شخص کو دیکھنا چاہتا ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے جبکہ وہ ہم میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی حمایت میں مشقت اٹھانے والا تھا تو میں نے کہا یہ شخص اس حالت میں نہیں مرسکتا۔ جب وہ زخمی ہوگیا تو اس نے از خود موت کی جلد آرزو کی۔ اور اپنے آپ کو قتل کرڈالا۔ تب آپ نے فرمایا آدمی اہل جنت کا عمل کرتا رہتا ہے جبکہ وہ جہنمیوں میں داخل ہوتا ہے اور کبھی آدمی اہل جہنم کا عمل کرتا رہتا ہے جبکہ وہ جنتیوں میں داخل ہوتا ہے لیکن اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔ السنن لابی داؤد۔
1574 - ومن مسند سهل بن سعد الساعدي عن سهل بن سعد " أن رجلا كان من أعظم المسلمين عناء عن المسلمين في غزاة غزاها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: من أحب أن ينظر إلى رجل من أهل النار فلينظر إلى هذا فاتبعه رجل من القوم وهو على تلك الحال من أشد الناس على المشركين حتى جرح فاستعجل الموت فجعل ذباب سيفه بين ثدييه حتى خرج من كتفيه فأقبل الرجل الذي كان معه إلى النبي صلى الله عليه وسلم مسرعا فقال أشهد أنك رسول الله فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما ذاك قال قلت من أحب أن ينظر إلى رجل من أهل النار فلينظر إلى هذا وكان من أعظمنا عناء عن المسلمين فقلت إنه لا يموت على ذلك فلما جرح استعجل الموت فقتل نفسه فقال النبي صلى الله عليه وسلم إن العبد ليعمل عمل أهل الجنة وإنه لمن أهل النار ويعمل عمل أهل النار وإنه لمن أهل الجنة وإنما الأعمال بالخواتيم". (د) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٥۔۔ از مسند عبادۃ بن صامت (رض) ، ولید بن عبادہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبادہ بن صامت کا آخری وقت آیاتوان کے فرزند نے پوچھا اے اباجان مجھے کچھ وصیت فرما دیجئے فرمایا اے بیٹے اللہ سے ڈرتے رہو، اور تم اللہ سے ڈرنے کا مقام اس وقت تک پیدا نہیں کرسکتے جب تک کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، اور اللہ پر اس وقت تک ایمان نہیں لاسکتے جب کہ اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ لاؤ اور اس بات کا یقین نہ کرلو کہ جو چیز تجھ کو پہنچی وہ ہرگز چوکنے والی نہ تھی اور جو نہیں پہنچی وہ ہرگز پہنچنے والی نہ تھی، میں نے رسول کریم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تقدیریہی ہے سو جو اس کے علاوہ پر مرا اللہ اس کو جہنم میں داخل فرمادیں گے۔ ابن عساکر۔
1575 - (ومن مسند عبادة بن الصامت) عن الوليد بن عبادة "أن عبادة بن الصامت لما احتضر قال له ابنه عبد الرحمن يا أبتاه أوصي قال يا بني اتق الله ولن تتق الله حتى تؤمن بالله ولن تؤمن بالله حتى تؤمن بالقدر خيره وشره وتعلم أن ما أصابك لم يكن ليخطئك وما أخطأك لم يكن ليصيبك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول القدر على هذا من مات على غير هذا أدخله الله النار". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٦۔۔ ازمسندا بن عمر ۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ اپنے ہاتھوں میں کوئی شے لیے ہوئے باہر تشریف لائے پھر آپ نے دایاں ہاتھ کھولا اور فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے اس میں اہل جنت کی تعداد اور ان کے حسب ونسب وغیرہ کے ہیں اور اسی پر ان کو اٹھایا جائے گا۔
کبھی بھی اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی پھر آپ نے بایاں ہاتھ کھولا اور فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے اس میں اہل جہنم کی تعداد اور ان کے حسب ونسب وغیرہ کے ہیں اور اسی پر ان کو اٹھایا جائے گا کبھی بھی اسمین کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ کبھی اہل شقاوت میں اہل سعادت کا طریقہ رائج ہوجاتا ہے۔۔ حتی کہ کہا جانے لگتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر نیک بختوں میں مشابہ ہوگئے ہیں لیکن پھر شقاوت ان کو جالیتی ہے اور ان کو اس سے نکال لاتی ہے کبھی اہل سعادت میں اہل شقاوت کا طریقہ رائج ہوجاتا ہے حتی کہ کہا جانے لگتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح بری حالت ان بدبختوں کے ہوبہو ہوگئے ہیں لیکن پھر سعادت ان کو جالیتی ہے اور ان کو اس سے نجات دیتی ہے بس اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے پس اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔ ابن جریر۔
کبھی بھی اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی پھر آپ نے بایاں ہاتھ کھولا اور فرمایا بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے اس میں اہل جہنم کی تعداد اور ان کے حسب ونسب وغیرہ کے ہیں اور اسی پر ان کو اٹھایا جائے گا کبھی بھی اسمین کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ کبھی اہل شقاوت میں اہل سعادت کا طریقہ رائج ہوجاتا ہے۔۔ حتی کہ کہا جانے لگتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر نیک بختوں میں مشابہ ہوگئے ہیں لیکن پھر شقاوت ان کو جالیتی ہے اور ان کو اس سے نکال لاتی ہے کبھی اہل سعادت میں اہل شقاوت کا طریقہ رائج ہوجاتا ہے حتی کہ کہا جانے لگتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح بری حالت ان بدبختوں کے ہوبہو ہوگئے ہیں لیکن پھر سعادت ان کو جالیتی ہے اور ان کو اس سے نجات دیتی ہے بس اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے پس اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔ ابن جریر۔
1576 - ومن مسند ابن عمر عن ابن عمر قال " خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو قابض على شيئين في يده ففتح يده اليمنى ثم قال: بسم الله الرحمن الرحيم كتاب من الرحمن الرحيم فيه أهل الجنة بأعدادهم وأحسابهم وأنسابهم مجمل عليهم (2) لا ينقص منهم أحد ولا يزاد فيهم، ثم فتح يده اليسرى فقال: بسم الله الرحمن الرحيم كتاب من الرحمن الرحيم فيه أهل النار بأعدادهم وأحسابهم وأنسابهم مجمل عليهم لا ينقص منهم ولا يزاد فيهم أحد وقد يسلك بالأشقياء طريق أهل السعادة حتى يقال هم منهم هم هم ما أشبههم بهم ثم يدرك أحدهم شقاوة ولو قبل موته بفواق ناقة (2) وقد يسلك بالسعداء طريق أهل الشقاوة حتى يقال هم منهم هم هم ما أشبههم بهم ثم يدرك أحدهم سعادته ولو قبل موته بفواق ناقة، ثم قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم العمل بخواتيمه العمل بخواتيمه". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٧۔۔ ازمسند عبداللہ بن عمرو ۔ عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا کہ اول شے جو اسلام کو اوندھا کردے گی جس طرح کہ برتن کو اوندھا کردیاجاتا ہے وہ لوگوں کا تقدیر کے بارے میں گفتگو کرنا ہے۔ ابن ابی شیبہ۔
1577 - ومن مسند عبد الله بن عمرو عن عبد الله بن عمرو قال: "أول ما يكفأ الإسلام كما يكفأ الإناء قول الناس في القدر". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٨۔۔ ابن الدیلمی سے مروی ہے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو سے عرض کیا کہ مجھے آپ کی طرف سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ قلم خشک ہوچکا ہے۔ تو آپ نے فرمایا میں رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو تاریکی میں پیدا کیا پھر اپنے نور میں سے ان پرنور ڈالا، سو جس کو چاہا اس کو وہ نور پہنچا اور جس کو چاہا نہیں پہنچا، اور پہنچنے والوں میں سے نہ پہنچنے والوں کو اللہ نے اچھی طرح جان لیا ہے سو جس کو نور پہنچا وہ ہدایت یاب ہوا۔ اور جس کو خطا کرگیا وہ گمراہ ہوا تو اس موقعہ پر میں کہتاہوں کہ قلم خشک ہوچکا ہے۔ رواہ ابن جریر۔
1578 - عن ابن الديلمي قال قلت: لعبد الله بن عمرو بلغنى أنك تقول: "إن القلم قد جف فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن الله خلق الناس في ظلمة ثم أخذ نورا من نوره فألقاه عليهم فأصاب من شاء وأخطأ من شاء وقد علم من يخطئه ممن يصيبه فمن أصابه من نوره شيء اهتدى ومن أخطأه ضل" فعند ذلك أقول إن القلم قد جف". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٧٩۔۔ ازمسندابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا کہ چار چیزوں سے فراغت ہوچکی ہے۔ تخلیق، اخلاق، رزق، اور موت۔ ابن عساکر۔
1579 - ومن مسند ابن مسعود عن ابن مسعود قال: "أربع قد فرغ منهن الخلق والخلق والرزق والأجل". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٠۔۔ راشد بن سعد سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن قتادہ السلمی نے بیان کیا کہ جو اصحاب رسول میں سے تھے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا پھر ان کی پشت سے ان کی تمام اولاد کو لیا اور فرمایا یہ جنت میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں اور یہ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پروا نہیں ایک کہنے والے نے کہا یارسول اللہ پھر ہم عمل کس لیے کریں ؟ فرمایا تقدیر کے وقوع کے لیے۔ ابن جریر۔
1580 - عن راشد بن سعد قال حدثني عبد الرحمن بن قتادة السلمي وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "خلق الله آدم ثم أخذ الخلق من ظهره فقال هؤلاء في الجنة ولا أبالي وهؤلاء في النار ولا أبالي قال قائل يا رسول الله فعلى م نعمل قال: على مواقع القدر". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨١۔۔ ازمسند محمد بن عطیہ بن عروہ السعدی، ابن عساکر، فرماتے ہیں کہ منقول ہے محمد بن عطیہ کو عروہ بن محمد السعدی سے ملاقات حاصل ہے لہٰذا دونوں کے درمیان انقطاع نہ ہوگا اور عروہ اپنے والد محمد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں ایک عورت سے نکاح کرنے کا خواہش مند ہوں سو میرے لیے دعا فرمائیے، آپ نے اس سے اعراض فرمایا اس نے تین مرتبہ کہا اور ہر مرتبہ آپ نے اعراض فرمایا، پھر آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے کہ اگر اسرافیل (علیہ السلام) جبرائیل میکائیل اور حاملین عرش مجھ سمیت تیرے لیے دعامانگیں تب بھی تیرا نکاح اسی عورت سے ہوگا جو تیرے لیے لکھ دی گئی ہے ابن مندہ حدیث غریب ہے۔ ابن عساکر۔
1581 - ومن مسند محمد بن عطية بن عروة السعدي قال: (كر) يقال: "إن له صحبة عن عروة بن محمد السعدي عن أبيه أن رجلا من الأنصار أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أريد أن أتزوج امرأة فادع لي فأعرض عنه ثلاث مرات كل ذلك يقول ثم التفت إليه فقال لودعا لك إسرافيل وجبرائيل وميكائيل وحملة العرش وأنا فيهم ما تزوجت إلا المرأة التي كتبت لك" (ابن مندة وقال غريب كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٢۔۔ از مسند ابی الدرداء ۔ اوزاعی (رح) ، حسان (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ اہل دمشق نے حضرت ابی الدرداء کو پھلوں کی کمی کی شکات کی، آپ نے فرمایا تم ان باغوں کی دیواروں کو طویل کردیا ہے اور ان پر پہرہ داری سخت کردی ہے جس کی وجہ سے اوپر سے وباء آگئی ہے۔ ابن جریر۔
1582 - ومن مسند أبي الدرداء عن الأوزاعي عن حسان قال "شكا أهل دمشق إلى أبي الدرداء قلة الثمار فقال: إنكم أطلتم حيطانها وأكثرتم حراسها فجاءها الوباء من فوقها". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا گمراہی ہے
١٥٨٣۔۔ ابی الدرداء سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن خطاب نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کی رائے سے کہ جو ہم عمل کرتے ہیں کہ ان کے وقوع کا فیصلہ ہوچکا ہے یا وہ عمل از سرنوہوتا ہے ؟ فرمایا اس کے فیصلہ سے فراغت ہوچکی ہے عرض کیا پھر فیصلہ ہوجانے کے بعد عمل کیسے ہے ؟ رسول اللہ نے فرمایا ہر آدمی کو اسی عمل میں لگایاجاتا ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ ابن جریر۔
1583 - عن أبي الدرداء أن عمر بن الخطاب قال "يا رسول الله أرأيت ما نعمل أمر قد فرغ منه أو شيء نستأنفه قال أمر قد فرغ منه قال: فكيف العمل بعد القضاء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن كل امرئ مهيأ لما خلق له". (ابن جرير) .
তাহকীক: