কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৫৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر کے متعلق بحث کرنے کی ممانعت
١٥٤٤۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ مزینینہ یاجہینہ کے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ ہم کسی بنا پر عمل کرتے ہیں کیا عمل اس وجہ سے کرتے ہیں کہ اس کے متعلق فیصلہ ہوگیا اور وہ گزر گیا کہ انسان اس کو ضرور انجام دے گا ؟ یا عمل از سرنو ہوتا ہے کہ پہلے کوئی فیصلہ نہیں ہوا بلکہ انسان کی مرضی پر منحصر ہے کہ کرے یا نہ کرے ؟ آپ نے فرمایا اسی کے مطابق ہوتا ہے جو اس کے متعلق حکم صادر ہوچکا اور گزر گیا، تو اسی شخص نے یا قوم کے کسی اور فرد نے عرض کیا، یارسول اللہ پھر عمل کا کیا فائدہ۔ فرمایا اہل جنت کو اہل جنت ہی کے عمل میں لگایاجاتا ہے۔ اور اہل جہنم کو اہل جہنم ہی کے عمل میں لگایاجاتا ہے۔ مسنداحمد، السنن لابی داؤد، الشاشی، السنن لسعید۔
1544 - عن عمر قال قال رجل من مزينة أو جهينة " يا رسول الله فيم نعمل أفي شيء قد خلا ومضى أو شيء يستأنف الآن قال في شيء قد خلا ومضى فقال الرجل أو بعض القوم ففيم العمل قال إن أهل الجنة ميسرون لعمل أهل الجنة وإن أهل النار ميسرون لعمل أهل النار". (حم د والشاشي ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر کے متعلق بحث کرنے کی ممانعت
١٥٤٥۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کا کیا خیال ہے ہم جو عمل کرتے ہیں یہ از سرنو ہوتا ہے یا اس سے فراغت ہوگئی ہے فرمایا اس کے بارے میں پہلے فیصلہ ہوچکا ہے ؟ حضرت عمر نے عرض کیا تو کیوں نہ پھر ہم توکل کرکے بیٹھ جائیں ؟ فرمایا ابن خطاب عمل کرتا رہ ۔ ہر شخص کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ جو اہل سعادت سے ہے وہ سعادت ہی کا عمل کرتا ہے۔ اور جو اہل شقاوت سے ہے وہ شقاوت ہی کا عمل کرتا ہے۔ ابوداؤد الطیالسی ، مسنداحمد۔ مسدد نے اس روایت کو یہاں تک روایت کیا ہے، وقد فرغ منہ ، یعنی اس کے بارے میں پہلے فیصلہ ہوچکا ہے اور مزید یہ اضافہ بھی ہے۔ قلت ففیم العمل، ؟ قال لاینال الابالعمل قلت اذا نجتھد۔ یعنی حضرت عمرنے عرض کیا پھر عمل کا کیا فائدہ ؟ فرمایا وہنوشتہ تقدیر کا فیصلہ بھی عمل کے بغیر حاصل نہیں کرسکتا۔ عرض کیا تب تو ہم خوب سعی و محنت کریں گے۔ الشاشی ، قط فی الافراد الرد علی اجھمیہ ، لعثمان بن سعید الدارمی ، السنن لسعید، افعال العباد اللبخاری ابن جریر، الاستقامہ لجسین ۔
1545 - عن عمر قال: " قلت يا رسول الله أرأيت ما نعمل فيه أمر مبتدع أو مبتدأ أو ما قد فرغ منه؟، قال فيما قد فرغ منه، قلنا: أفلا نتكل؟ قال فاعمل يا ابن الخطاب فكل ميسر لما خلق له ومنكان من أهل السعادة فإنه يعمل بالسعادة أو للسعادة وأما من كان من أهل الشقاوة فإنه يعمل بالشقاء أو للشقاوة". (ط حم ورواه مسدد إلى قوله وقد فرغ منه وزاد قلت ففيم العمل قال لا ينال إلا بالعمل قلت إذا نجتهد والشاشي قط في الأفراد وعثمان بن سعيد الدارمي في الرد على الجهمية ص خ في خلق أفعال العباد - ابن جرير وحسين في الاستقامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر کے متعلق بحث کرنے کی ممانعت
١٥٤٦۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : فمنھم شقی و سعید، ومن سعید ۔ ان میں بعض بدبخت ہیں اور بعض سعید۔
تو میں نے رسول اکرم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی ہم عمل کس بنا پر کریں آیا اس بنا پر کہ یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ کون شقی ہوگا اور کون سعید یا نہیں ہوا فرمایا بل کہ ہرچیز کے فیصلہ سے فراغت ہوگئی ہے اور قلم ان پر چل چکے ہیں اے عمر لیکن ہر ایک اسی عمل میں مصروف ہوتا ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ صحیح ترمذی، حدیث حسن غریب ، المسند لابی یعلی ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ ، ابن مردویہ۔
تو میں نے رسول اکرم سے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی ہم عمل کس بنا پر کریں آیا اس بنا پر کہ یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ کون شقی ہوگا اور کون سعید یا نہیں ہوا فرمایا بل کہ ہرچیز کے فیصلہ سے فراغت ہوگئی ہے اور قلم ان پر چل چکے ہیں اے عمر لیکن ہر ایک اسی عمل میں مصروف ہوتا ہے جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ صحیح ترمذی، حدیث حسن غریب ، المسند لابی یعلی ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ ، ابن مردویہ۔
1546 - عن عمر لما نزلت فمنهم شقي وسعيد سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: "يا نبي الله فعلى ما نعمل على شيء قد فرغ منه أو على شيء لم يفرغ منه؟ قال بل على شيء قد فرغ منه وجرت به الأقلام يا عمر ولكن كل لما خلق له". (ت وقال حديث حسن غريب ع وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وابن مردويه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر کے متعلق بحث کرنے کی ممانعت
١٥٤٧۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ آپ (رض) سے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیا اور اللہ کی حمدوثناء بیان کی پھر کہا اللہ جس کو ہدایت پر گامزن رکھناچا ہے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جس کو وہی گمراہ کردے اور اس کو کوئی سیدھی راہ پر نہیں لاسکتا، اس موقعہ پر ایک عیسائی راہب نے جو آپ (رض) کے سامنے بیٹھا تھا فارسی میں کچھ بات کہی۔ حضرت عمر نے اپنے ترجمان سے دریافت کیا یہ کیا کہہ رہا ہے اس نے جواب دیا کہ اس کا خیال ہے کہ اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ حضرت عمر نے اس کو فرمایا اللہ کے دشمن تو جھوٹ بولتا ہے دیکھ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا پھر اسی نے اب تجھ کو گمراہ کررکھا ہے اور وہی تجھے جہنم رسید بھی کرے گا، انشاء اللہ۔ اگر میں مصالحت نہ کرچکا ہوتا تو ابھی تیری گردن اڑا دیتا پھر آپ نے فرمایا، جب اللہ نے آدم کو تخلیق فرمایا تو اسی وقت اس کی ذریت کو چیونٹیوں کی شکل میں پھیلایا، اور اہل جنت اور ان کے اعمال لکھ دیے۔ اور اہل جہنم اور ان کے اعمال لکھ دیے ۔ پھر اللہ نے فرمایا یہ مخلوق اس کے لیے ہے اور وہ اس کے لیے توت بھی سے لوگ مختلف بٹ گئے ہیں اور ان کی تقدیر بھی مختلف ہے۔ ابوداؤد، فی کتاب القدریہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ، ابوالقاسم، بن بشر فی امالیہ، الرد علی الجھمیہ، لعثمان بن سعید الدارمی، الاستقامۃ لحسین، الالکانی فی السنۃ الاصبھانی فی الحجہ، ابن خسر، مسندابی حنیفہ۔
1547 - عن عمر أنه خطب بالجابية فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: "من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له فقال له قس بين يديه كلمة بالفارسية فقال عمر لمترجم يترجم له ما يقول قال: يزعم أن الله لا يضل أحدا فقال عمر: كذبت يا عدو الله بل الله خلقك وهو أضلك وهو يدخلك النار إن شاء الله ولولا ولت (2) عقدا لضربت عنقك ثم قال إن الله لما خلق آدم نثر ذريته فكتب أهل الجنة وماهم عاملون وأهل النار وما هم عاملون ثم قال هؤلاء لهذه وهؤلاء لهذه فتفرق الناس ويختلفون في القدر". (د في كتاب القدرية وابن جرير وابن أبي حاتم وأبو الشيخ وأبو القاسم بن بشران في أماليه، وعثمان ابن سعيد الدارمي في الرد على الجهمية وابن مندة في غرائب شعبه وحسين في الاستقامة واللالكائي في السنة والأصبهاني في الحجة وابن خسر وفي مسند أبي حنيفة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر کے متعلق بحث کرنے کی ممانعت
١٥٤٨۔۔ عبدالرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ حضرت عمر تشریف لائے تو آپ سے ذکر کیا گیا چند لوگ تقدیر کے متعلق بحث آرائی کرتے ہیں وہ تقدیر کے مسئلہ میں الجھنے لگ جاتے ہیں آپ نے فرمایا قسم ہے اس ہستی کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ آئندہ میں کوئی بھی دو شخصوں کو تقدیر کے مسئلہ میں گفتگو کرتے نہ دیکھوں ورنہ ان کی گردن تن سے جدا کردوں گا، تو لوگ سرجھکائے اس مسئلہ سے بالکل خاموش ہوگئے پھر اس میں حرف زنی کسی نے نہ کی۔ حتی کہ پھر حجاج کے زمانہ میں ملک شام میں یہ بولنے والے معبدالجہنی پیدا ہوا۔ الاستقامۃ لحسین، الالکانی ، ابن عساکر۔
1548 - عن عبد الرحمن بن أبزي قال أتى عمر فقيل له إن أناسا يتكلمون في القدر فقام خطيبا فقال: "يا أيها الناس إنما هلك من كان قبلكم من الأمم في أمر القدر والذي نفس عمر بيده لا أسمع برجلين يتكلمان فيه إلا ضربت أعناقهما فاحجم الناس فما تكلم أحد حتى ظهر نابغة بالشام زمن الحجاج"
(حسين في الاستقامة واللالكائي كر) .
(حسين في الاستقامة واللالكائي كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر کے متعلق بحث کرنے کی ممانعت
١٥٤٩۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے فرمایا کہ ہرچیز تقدیر کے ساتھ معلق ہے حتی کہ کم ہمتی اور دانائی بھی۔ سفیان (رح)۔
1549 - عن عمر قال: "كل شيء بقدر حتى العجز والكيس" (سفيان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم اور موسی علیہماالسلام کا مناظرہ
١٥٥٠۔۔ حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا حضرت موسیٰ نے عرض کیا اے پروردگار آدم سے میری ملاقات کرائیے جنہوں نے ہم کو اپنے سمیت جنت سے نکلوایا ؟ تو اللہ نے حضرت آدم سے ان کا سامنا کروادیا، حضرت موسیٰ نے کہا آپ ہی ہمارے باپ آدم ہیں۔ فرمایا جی۔ حضرت موسیٰ نے کہا آپ ہی میں اللہ نے اپنی روح پھونکی اور تمام اسماء کی آپ کو تعلیم دی ؟ اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا، حضرت آدم نے فرمایا جی بالکل۔ حضرت موسیٰ نے کہا پھر کس بات نے آپ کو اس پر اکسایا کہ آپ نے ہم کو بھی اور اپنے آپ کو بھی جنت سے نکلوایا ؟
حضرت آدم نے فرمایا : اور تم کون ہو ؟ کہا میں موسیٰ ہوں۔ فرمایا کیا تم وہی بنی اسرائیل کے پیغمبر ہو جن کو اللہ نے اپنے ساتھ بغیر کسی قاصد کے صرف پردے کے حجاب میں کلام کرنے کا شرف بخشا، حضرت موسیٰ نے کہا جی۔ حضرت آدم نے فرمایا تو کیا تم نے اپنی کتاب میں نہیں پایا کہ یہ فیصلہ تو میری تخلیق سے قبل ہی میرے لیے لکھ دیا گیا تھا ؟ حضرت موسیٰ نے کہا جی ہاں۔ حضرت آدم نے فرمایا توپھرکس بات پر تم مجھے ملامت کرتے ہو کیا ایسی بات پر جس کا فیصلہ مجھ سے پہلے ہوگیا تھا۔ حضور نے اس موقعہ پر فرمایا کہ پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ السنن لابی داؤد، ابن ابی عاصم فی السنہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، ابوعوانہ، الشاشی، ابن مندہ فی الرد، علی الجھمیہ، الاجری، فی الثمانین، الاصبھانی فی الحجہ، السنن لسعید۔
حضرت آدم نے فرمایا : اور تم کون ہو ؟ کہا میں موسیٰ ہوں۔ فرمایا کیا تم وہی بنی اسرائیل کے پیغمبر ہو جن کو اللہ نے اپنے ساتھ بغیر کسی قاصد کے صرف پردے کے حجاب میں کلام کرنے کا شرف بخشا، حضرت موسیٰ نے کہا جی۔ حضرت آدم نے فرمایا تو کیا تم نے اپنی کتاب میں نہیں پایا کہ یہ فیصلہ تو میری تخلیق سے قبل ہی میرے لیے لکھ دیا گیا تھا ؟ حضرت موسیٰ نے کہا جی ہاں۔ حضرت آدم نے فرمایا توپھرکس بات پر تم مجھے ملامت کرتے ہو کیا ایسی بات پر جس کا فیصلہ مجھ سے پہلے ہوگیا تھا۔ حضور نے اس موقعہ پر فرمایا کہ پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ السنن لابی داؤد، ابن ابی عاصم فی السنہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، ابوعوانہ، الشاشی، ابن مندہ فی الرد، علی الجھمیہ، الاجری، فی الثمانین، الاصبھانی فی الحجہ، السنن لسعید۔
1550 - عن عمر بن الخطاب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن كذا في كنز العمال وفي المنتخب خشيش - وقال صاحب تهذيب التهذيب خشيش بن أصرم وله كتاب الاستقامة في الرد على أهل الأهواء.موسى قال يا رب أرنا آدم الذي أخرجنا ونفسه من الجنة فأراه الله آدم فقال: أنت أبونا آدم؟ فقال له آدم نعم قال أنت الذي نفخ الله فيك من روحه وعلمك الأسماء كلها وأمر الملائكة فسجدوا لك قال نعم قال فما حملك على أن أخرجتنا ونفسك من الجنة فقال له آدم ومن أنت؟ قال: أنا موسى قال أنت نبي بني إسرائيل الذي كلمك الله من وراء حجاب لم يجعل بينك وبينه رسولا من خلقه؟ قال: نعم قال: فما وجدت أن ذلك كان في كتاب الله قبل أن أخلق قال: نعم قال فيم (2) تلومني في شيء سبق فيه القضاء قبلي؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك فحج آدم موسى". (د وابن أبي عاصم في السنة وابن جرير وابن خزيمة وأبو عوانة والشاشي وابن مندة في الرد على الجهمية والأجري في الثمانين والأصبهاني في الحجة ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم اور موسی علیہماالسلام کا مناظرہ
١٥٥١۔۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ہم نے اس امر تقدیر کو اس حال میں پایا کہ مخلوق کی پیدائش سے قبل ہی اس کے متعلق فیصلہ سے فراغت ہوگئی ہے اور مال کے جمع ہونے سے قبل اس کی تقسیم کردی گئی ہے اور لوگ تقدیرالٰہی کے موافق کھینچے چلے جارہے ہیں اور کوئی جی موت کے گھاٹ نہیں اترتا مگر اللہ کے ہاں اس پر حجت ہوتی ہے اب وہ چاہے تو اس کو عذاب کرے اور چاہے تو مغفرت کرے۔ الاستقامہ لحسین۔
1551 - عن عمر قال "إنا وجدنا هذا الأمر قد فرغ الله منه قبل أن يخلق الخلق، والمال قد قسم قبل أن يجمع، والناس يجرون على مقادير الله ولن تموت نفس إلا ولله الحجة عليها إن شاء أن يعذبها عذبها وإن شاء أن يغفر لها غفر لها". (حسين (3) في الاستقامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم اور موسی علیہماالسلام کا مناظرہ
١٥٥٢۔۔ ازمسند علی (رض)۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ ہم بقیع الغرقد ، (جنت البقیع) میں کسی جنازہ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ ہمارے پاس تشریف لائے اور بیٹھ گئے ہم بھی آپ کے گردوپیش بیٹھ گئے آپ کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین کریدنے لگے پھر آپ نے اپنی نگاہ اٹھائی اور فرمایا کہ ایساجی نہیں ہے جس کے لیے جنت یا جہنم کا ٹھکانا نہ لکھ دیا گیا ہو جس کے لیے شقی یاسعید ہونا نہ لکھ دیا ہو قوم نے عرض کیا یارسول اللہ اور جو اہل شقاوت سے ہوگا اور وہ شقاوت ہی کی طرف لوٹے گا، رسول اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ عمل کرتے رہو۔۔ ہر ایک کو مصروف کردیا گیا ہے سوجواہل شقاوت سے ہے اسے اہل شقاوت ہی کے عمل کی توفیق دی گئی اور جو اہل سعادت سے تعلق رکھتا ہے اسے اہل سعادت ہی کے عمل کی توفیق دی گئی ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ فامامن اعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنیسرہ للیسری) ۔ سو جس نے راہ خدا میں عطا کیا، اور پرہیزگاری اختیار کی اور نیکی کی بات کو سچ ماناتوہم اس کو آسان راستے کی توفیق دیں گے۔ ابوداؤد، مسنداحمد، بخاری، مسلم، السنن لابی داؤد، الصحیح لترمذی، النسائی، ابن ماجہ، خشیش فی الاستقامہ، المسند لابی یعلی، ابن حبان، شعب الایمان۔
1552 - ومن مسند علي رضي الله عنه عن علي قال "كنا في جنازة في بقيع الغرقد فأتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس وجلسنا حوله ومعه مخصرة ينكت بها ثم رفع بصره فقال: ما منكم من نفس منفوسة إلا وقد كتب مقعدها من الجنة والنار (2) إلا قد كتبت شقية أو سعيدة فقال (3) القوم يا رسول الله أفلا نمكث على كتابنا وندع العمل فمن كان من أهل السعادة فسيصير إلى السعادة ومن كان من أهل الشقاوة فسيصير إلى الشقاوة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بل اعملوا فكل ميسر، أما من كان من أهل الشقاوة فإنه ميسر لعمل أهل الشقاوة وأما من كان من أهل السعادة فإنه ميسر لعمل أهل السعادة ثم قرأ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى} .
(ط حم خ م د ت ن هـ وخشيش في الاستقامة ع حب هب) .
(ط حم خ م د ت ن هـ وخشيش في الاستقامة ع حب هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم اور موسی علیہماالسلام کا مناظرہ
١٥٥٣۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اللہ منبرپرجلوہ افروز ہوئے اور اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا ایک کتاب ہے جس میں اللہ نے اہل جنت اور ان کے اسماء اور انساب لکھے ہیں اسی پر ان کو جمع کیا جائے گا قیامت تک کبھی بھی اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی، پھر فرمایا ایک کتاب اور ہے جس میں اللہ نے اہل جہنم اور ان کے اسماء اور انساب لکھے ہیں اسی پر انکوجمع کیا ۔ صاحب جنت کا خاتمہ اہل جنت ہی کے عمل پر ہوگا اور خواہ وہ کیسے ہی اعمال کرتا رہے ، صاحب جہنم کا خاتمہ اہل جہنم ہی کے عمل پر ہوگا خواہ کیسے ہی وہ اعمال کرے ، کبھی اہل سعادت میں اہل شقاوت کا طریقہ رائج ہوجاتا ہے ۔۔ حتی کہ کہا جانے لگتا ہے کہ یہ لوگ کس بری طرح ان بدبختوں کے ہوبہو ہوگئے ہیں لیکن پھر سعادت ان کو جالیتی ہے اور ان کو اس سے نجات دیتی ہے اور کبھی اہل شقاوت میں اہل سعادت کا طریقہ رائج ہوجاتا ہے حتی کہ کہا جانے لگتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر نیک بختوں کے مشابہ ہوگئے ہیں لیکن پھر شقاوت ان کو جالیتی ہے اور ان کو اس سے نکال لاتی ہے جس کے لیے اللہ نے ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں سعید ہونا لکھ دیا ہے ، اس کو اللہ دنیا سے نہیں نکالے گا جب تک اس کو موت سے قبل اہل سعادت کے عمل میں نہ لگادیے۔۔۔ خواہ وہ اس وقت اونٹنی کے دودھ دوہنے کی دودھاروں کے درمیانی وقفہ کے بقدر ہو، اور جس کے لیے اللہ نے ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں شقی ہونا لکھ دیا ہے اس کو اللہ دنیا سے نہیں نکالے گا جب تک کہ اس کو موت سے قبل اہل شقاوت کے عمل میں نہ لگادے۔۔ خواہ وہ وقت اونٹنی کے دودھ دوہنے کی دودھاروں کے درمیانی وقفہ کے بقدر ہو ، پس اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے۔ الاوسط للطبرانی ابوسھل الجند یسابوری فی الخامس من حدیثہ۔
1553 - عن علي قال: "صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فحمد الله وأثنى عليه وقال: كتاب كتب الله فيه أهل الجنة بأسمائهم وأنسابهم فيجمل عليهم لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم إلى يوم القيامة ثم قال: كتاب كتب الله فيه أهل النار بأسمائهم وأنسابهم فيجمل عليهم لا يزاد فيهم ولا ينقص منهم إلى يوم القيامة، صاحب الجنة مختوم له بعمل أهل الجنة وإن عمل أي عمل، وصاحب النار مختوم له بعمل أهل النار وإن عمل أي عمل وقد يسلك بأهل السعادة طريق الشقاء حتى يقال ما أشبههم بهم بل هم منهم وتدركهم السعادة فتستنقذهم وقد يسلك بأهل الشقاء طريق السعادة حتى يقال ما أشبههم بهم بل هم منهم ويدركهم الشقاء فيستخرجهم، من كتبه الله سعيدا في أم الكتاب لم يخرجه من الدنيا حتى يستعمله بعمل يسعده به قبل موته ولو بفواق ناقة ومن كتبه الله في الكتاب شقيا لم يخرجه من الدنيا حتى يستعمله بعمل يشقى به قبل موته ولو بفواق ناقه والأعمال بخواتمها". (طس وأبو سهل الجنديسابوري في الخامس من حديثه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم اور موسی علیہماالسلام کا مناظرہ
١٥٥٤۔۔ حضرت شعبی سے مروی ہے کہ حضرت علی نے ہم کو خطبہ دیا اس میں فرمایا اس شخص کا ہم سے کوئی سروکار نہیں جو اچھی بری تقدیر پر ایمان نہ رکھے۔ ابن بشران۔
1554 - عن الشعبي أن عليا خطب فقال "ليس منا من لم يؤمن بالقدر خيره وشره". (ابن بشران) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدم اور موسی علیہماالسلام کا مناظرہ
١٥٥٥۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا اللہ کی قسم کوئی جی دار نفس ایسا نہیں ہے جس کے لیے بدبختی یا نیک بختی نہ لکھ دی گئی ہو۔ یہ سن کر ایک شخص اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ پھر عمل کس کے لیے کریں ؟ فرمایا کرتے ہو۔۔ کیونکہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ملتی ہے جس کے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ السنہ لابن ابی عاصم۔
1555 - عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: "والله ما من نفس منفوسة إلا قد كتب لها من الله شقاء أو سعادة فقام رجل فقال يا رسول الله ففيم إذا العمل؟ قال: اعملوا فكل ميسر لما خلق له". (ابن أبي عاصم في السنة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر مبرم کا ذکر
١٥٥٦۔۔ حضرت علی سے مروی ہے فرمایا اللہ تعالیٰ امرمبرم کو بھی دفع فرما دیتے ہیں۔ جعفر الفریابی فی الذکر امرمبرم۔ تقدیر دو حصوں میں منقسم ہوتی ہے امرمبرم امرمعلق ، امر مبرم کا مطلب ہے جس کا وقوع قطعی و یقینی ہے۔ اور امر معلق کا مطلب ہے جو بندہ کے اختیار پر محمول ہو اگر وہ ایسا کرے گا تب تو اس کا وقوع ہوگا ورنہ نہیں۔
1556 - عن علي قال: "إن الله يدفع الأمر المبرم". (جعفر الفريابي في الذكر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر مبرم کا ذکر
١٥٥٧۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ ایمان کس کے قلب میں اخلاص کے ساتھ ہرگز اس وقت تک جگہ نہیں بناسکتا۔ جب تک کہ وہ مکمل یقین کے ساتھ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو، اس بات کا یقین نہ کرے کہ جو چیز اس کو پہنچی وہ ہرگز چوکنے والی نہ تھی اور وہ جو نہیں پہنچی وہ ہرگز پہنچنے والی نہ تھی۔ اور ہر شی تقدیر کے ساتھ مقرر ہے۔ الاالکائی۔
1557 - عن علي "إن أحدكم لن يخلص الإيمان إلى قلبه حتى يستيقن يقينا غير ظن أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وما أخطأه لم يكن ليصيبه ويقر بالقدر كله". (اللالكائي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر مبرم کا ذکر
١٥٥٨۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ ایک دن ان کے پاس کسی نے تقدیر کا مسئلہ چھیڑا تو آپ نے اپنی شہادت اور اس کے برابروالی انگلی اپنے منہ میں ڈالی، اور پھر ہتھیلی کے میں ان کو پھیرا اور فرمایا میں شہادت دیتاہوں کہ ان دوانگلیوں کے ساتھ یہ لکھنا بھی یقیناً علم الکتاب یعنی لوح محفوظ میں تھا۔ الالکانی۔ مقصود یہ ہے کہ انسان کا ہر عمل خواہ اختیاری ہو یاغیراختیاری سب تقدیر کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔
1558 - عن علي "أنه ذكر عنده القدر يوما فأدخل أصبعيه السبابة الوسطى في فيه فرقم بها باطن يده فقال أشهد أن هاتين الرقمتين كانتا في علم الكتاب". (اللالكائي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر مبرم کا ذکر
١٥٥٩۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد محمد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب سے کہا گیا کہ یہاں ایک ایساشخص ہے جو مشیت الٰہی یعنی قدرت میں کلام کرتا ہے آپ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے مخاطب فرمایا، اے اللہ کے بندے بتا کہ اللہ نے جب چاہا تجھے پیدا کیا تو نے جب چاہا تجھے پیدا کیا ؟ عرضک یا جب اللہ نے چاہاپیدا کیا، دریافت فرمایا جب وہ چاہتا ہے تب تجھے بیمار کرتا ہے یا جب تو چاہتا ہے تب تجھے بیمار کرتا ہے عرض کیا جب وہ چاہتا ہے تب بیمار کرتا ہے فرمایا جب وہ چاہے گا تجھے موت دے گا یا جب توچا ہے گا تو وہ موت دے گا، عرض کیا جب وہ چاہے گا موت دے فرمایا پھر جہاں وہ چاہے گا تجھے داخل کرے گایاجہاں توچا ہے گا وہ داخل کرے گا، پھر حضرت علی نے فرمایا اگر تم اس کے سوا کوئی اور جواب دیتے تو میں تمہارا یہ سر قلم کردیتا جس میں یہ دوآنکھیں ہیں۔ پھر حضرت علی نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ وماتشاو ون الاان یشاء اللہ۔ ھو اھل التقوی واھل المغفرۃ) ۔ تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو خدا کو منظور ہو، وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے۔ ابن ابی حاتم ، اللالکانی، الخلعی، فی الخلعیات۔
1559 - عن جعفر بن محمد عن أبيه قال "قيل لعلي بن أبي طالب إن ههنا رجلا يتكلم في المشيئة فقال: يا عبد الله خلقك الله لما شاء أو لما شئت قال لما شاء قال فيمرضك إذا شاء أو إذا شئت قال بل إذا شاء قال فيميتك إذا شاء أو إذا شئت قال إذا شاء قال فيدخلك حيث شاء أو حيث شئت قال والله لو قلت غير هذا لضربت الذي فيه عيناك بالسيف ثم تلا علي: {وَمَا تَشَاءُونَ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ} ". (ابن أبي حاتم والأصبهاني واللالكائي والخلعي في الخلعيات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء وقدر کا مطلب
١٥٦٠۔۔ محمد بن زکریا، العلائی سے مروی ہے کہ ہم کو عباس بن البکار نے بیان کیا وہ حضرت عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت علی جنگ صفین سے واپس تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں سے ایک شیخ نے کھڑے ہو کر سوال کیا اے امیرالمومنین ہمیں بتائیے کہ کیا ہمارا شام کی طرف یہ سفر کرنا قضاوقدر کے موجب تھا ؟ فرمایا قسم ہے اس ہستی کی جس نے دانے کو چاک کیا جان کو پیداکیاہم نے کوئی وادی طے کی اور نہ کوئی ٹیلہ عبور کیا مگر سب قضا وقدر کے موجب تھا، شیخ نے عرض کیا پھر تو میں اللہ کے ہاں اپنی جہد وسعی پر ثواب کی امید رکھتاہوں۔ حضرت علی نے فرمایا بلکہ اللہ تمہارے کسی بلندی کو عبور کرنے اور کسی نشیب میں اترنے پر بھی اجرعظیم مرحمت فرمائیں گے اور یہ یاد رکھو، کہ تم اپنے کسی بھی معاملہ میں کراہت وجبرا مصروف نہیں کیے جاتے اس پر شیخ نے عرض کیا اے امیرالمومنین تو کیا قضاوقدر ہم کو اس طرف نہیں کھینچتی۔ فرمایا افسوس شاید کہ تم اس کو قضا لازمی اور تقدیر حتمی سمجھ بیٹھے ہو ؟ اگر یہ بات ہوتی تو خوش خبری ووعید کالعدم ہوجاتیں، اور کارخانہ ثواب عذاب بےکار ہوجاتا۔ اور اللہ کی طرف سے کسی گناہ گار پر کوئی ملامت ہوتی اور نہ ہی کسی محسن پر کوئی مدحت ہوتی اور کوئی محسن احسان کی وجہ سے گناہ کی بجائے ثواب کا زیادہ مستحق نہ ہوتا۔ لہذایہ بات کہ انسان مجبور محض ہو کرعمل سرانجام دیتا ہے بتوں کے پجاریوں کی بات ہے۔ اور شیطان کے کارندوں رحمان کے دشمنوں کی بات ہے اور یہ لوگ اس امت کے مجوسی اور قدریہ ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے خیر کا اختیار نہ بخشا اور شر سے ڈرایا۔ اور کسی کو مغلوب وبے بس کرکے گناہ کروایا اور نہ ہی کسی سے جبرا اطاعت کروائی۔ اور نہ کسی کو مکمل مالک بنایا، اور نہ آسمان و زمین میں ان میں نظر آنے والی اشیاء کو بےمقصد پیدا کیا۔ یہ خیال کہ سب یونہی بےمقصد ہے اور حساب کتاب کا وجود نہیں ان لوگوں کا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے سو ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو جہنم کے انکار ہیں شیخ نے عرض کیا یا امیرالمومنین پھر کیا ہماری یہ آمدورفت قضاقدر تھی ؟ فرمایا یہ اللہ کا امر اور اس کی حکمت تھی پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
وقضی ربک الاتعبدوا الاایاہ۔ تیرے رب نے فیصلہ کیا ہے کہ تم محض اس کی پرستش کرو۔ ابن عساکر۔ اس روایت کے دونوں راوی محمد بن زکریا، العلائی، اور عباس بن البکار کذاب ہیں۔
وقضی ربک الاتعبدوا الاایاہ۔ تیرے رب نے فیصلہ کیا ہے کہ تم محض اس کی پرستش کرو۔ ابن عساکر۔ اس روایت کے دونوں راوی محمد بن زکریا، العلائی، اور عباس بن البکار کذاب ہیں۔
1560 - عن محمد بن زكريا العلائي ثنا العباس بن بكار حدثنا أبو بكر الهذلي عن عكرمة قال "لما قدم علي من صفين قام إليه شيخ من أصحابه (2) يا أمير المؤمنين أخبرنا عن مسيرنا إلى الشام بقضاء وقدر فقال والذي خلق الحبة وبرأ النسمة ما قطعنا واديا ولا علونا تلعة إلا بقضاء وقدر، فقال الشيخ: عند الله احتسب عنائي فقال علي بل عظم الله أجركم في مسيركم وأنتم مصعدون وفي منحدركم وأنتم منحدرون وما كنتم في شيء من أموركم مكرهين ولا إليها مضطرين فقال الشيخ كيف يا أمير المؤمنين والقضاء والقدر ساقنا إليها؟ فقال ويحك لعلك ظننته قضاء لازما وقدرا حاتما لو كان ذلك لسقط الوعد والوعيد وبطل الثواب والعقاب ولا أتت لائمة من الله لمذنب ولا محمدة من الله لمحسن ولا كان المحسن أولى بثواب الإحسان من المذنب ذلك مقال أحزاب (2) عبدة الأوثان وجنود الشيطان وخصماء الرحمن وهم قدرية هذه الأمة ومجوسها ولكن الله أمر بالخير تخييرا ونهى عن الشر تحذيرا ولم يعص مغلوبا ولم يطع مكرها ولا يملك تفويضا ولا خلق السماوات والأرض وما أرى فيهما من عجائب آياتهما باطلا ذلك ظن الذين كفروا فويل للذين كفروا من النار، فقال الشيخ: يا أمير المؤمنين فما كان القضاء والقدر الذي كان فيه مسيرنا ومنصرفنا قال: ذلك أمر الله وحكمته، ثم قرأ علي: {وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ} . (كر) والعلائي وشيخه كذابان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء وقدر کا مطلب
١٥٦١۔۔ حارث (رح) سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے امیرالمومنین مجھے تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا، یہ انتہائی تاریک راہ ہے ، اس پر مت چل۔ عرض کیا اے امیرالمومنین مجھے تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے ، فرمایا یہ اتھاہ گہرائیوں والا سمندر ہے اس میں مت گھس عرض کیا اے امیرالمومنین مجھے تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے یہ اللہ کا راز ہے ، اس سے پردہ اٹھانے کی کوشش مرت کر، عرض کیا اے امیرالمومنین مجھے تقدیر کے متعلق کچھ بتا دیجئے فرمایا اے سائل اچھا بتا جیسے پروردگار نے چاہا تجھے پیدا کیا یا جیسے تو نے چاہا پیدا کیا، عرض کیا جی سے اللہ نے چاہا پیدا کیا فرمایا اور جیسے اللہ نے چاہا تجھے کام میں لگایا یا جیسے تو نے چاہا اللہ نے کام میں لگایا، عرض کیا جیسے اس نے چاہاکام میں لگادیا، فرمایا قیامت کے رو ز جس حالت میں وہ چاہے گا تجھے اٹھائے گا یا جس حالت میں توچا ہے گا ویسے اٹھائے گا، عرض کیا جس حالت میں وہ چاہے گا اٹھائے گا حضرت علی نے پھر فرمایا اے سائل بتا کیا تو اللہ سے جو تیرا رب ہے عافیت مانگتا ہے یا نہیں ؟ عرض کیا ضرور۔ فرمایا تو کس چیز سے عافیت مانگتا ہے آیا اس مصیبت سے جس نے تجھے گھیر رکھا ہے یا اس مصیبت سے جس نے کسی اور کو پریشان کررکھا ہے ؟ عرض کیا اس مصیبت سے جس نے مجھے گھیر رکھا ہے پھر فرمایا اے سائل تیرا اعتقاد ہے کہ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی پر عمل پیرا ہونے کی قوت صرف اس ہستی کی بدولت ہے بتاوہ کون سی ہے ہستی ؟ عرض کیا اللہ جو عالی شان اور عظیم المراتبت ہے فرمایا بس اسی کی تفسیر جان لے تیرا مقصود حل ہوجائے گا، عرض کیا اے امیرالمومنین اللہ نے جو آپ کو سکھایا مجھے بھی سکھا دیجئے فرمایا اس کی تفسیر یہ ہے کہ بندہ کو اطاعت خداوندی کی قدررت ہے اور نہ ہی معصیت خداوندی کی قوت وہ دونوں معاملوں میں اللہ کا محتاج ہے۔ اے سائل بتا کیا اللہ کی مشیت و ارادے کے ساتھ تیری مشیت بھی شامل ہے پھر اگر تو کہتا ہے کہ تیری مشیت بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہے تو بس تجھے اپنی مشیت مشیت ایزدی کی طرف سے کفایت کرے گی اور اگر خدانخواستہ تیرا یہ خیال ہے کہ تیری مشیت مستقل بالذات ہے جس میں خدائی مشیت کو کوئی دخل نہیں پھر تو یقیناً اللہ کے ساتھ اس کی مشیت میں دعوی شرک کا مرتکب ہوچکا ہے۔ اے سائل اللہ ہی زخمی کرتا ہے پھر وہی اس کی دوا کرتا ہے تو دوا کا سرچشمہ وہی ہے تو دوا و مرض بھی اسی کی طرف سے ہے پھر حضرت علی نے سائل سے دریافت کیا کیا اب اللہ کے امر قدرت کو سمجھے ؟ شیخ نے کہا جی بالکل۔ پھر آپ نے دیگر حاضرین کو مخاطب ہو کے فرمایا اب جا کے تمہارا بھائی مسلمان ہوا ہے اٹھو اور اس سے مصافحہ کرو۔ پھر حضرت علی نے فرمایا اگر میرے پاس کوئی قدری شخص وہ جس کا عقیدہ ہو کہ انسان مجبور محض ہے ہوتا تو میں اس کی گردن دبوچتا۔۔ اور اس کو گلا گھونٹنے گھونٹتے مارڈالتا کیونکہ بیشک یہ لوگ اس امت کے یہودی، نصرانی اور مجوسی ہیں۔ ابن عساکر۔
1561 - عن الحارث قال جاء رجل إلى علي فقال: "يا أمير المؤمنين أخبرني عن القدر. قال: طريق مظلم، لا تسلكه. قال: يا أمير المؤمنين أخبرني عن القدر. قال بحر عميق، لا تلجه. قال: يا أمير المؤمنين أخبرني عن القدر. قال: سر الله قد خفي عليك، فلا تفشه. قال: يا امير المؤمنين أخبرني عن القدر. قال: يا أيها السائل، إن الله خالقك كما شاء أو كما شئت؟ قال: بل كما شاء. قال: فيستعملك كما شاء أو كما شئت؟ قال: بل كما شاء. قال: فيبعثك يوم القيامة كما شاء أو كما شئت؟ قال: بل كما شاء. قال: أيها السائل ألست تسأل الله ربك العافية؟ قال بلى. قال: فمن أي شيء تسأله العافية؛ أمن البلاء الذي ابتلاك به، أم من البلاء الذي ابتلاك به غيره؟ قال: من البلاء الذي ابتلاني به. قال: يا أيها السائل، تقول لا حول ولا قوة إلا بمن؟ قال: إلا بالله العلي العظيم. قال: فتعلم ما في تفسيرها؟ قال: تعلمني مما علمك يا أمير المؤمنين. قال: إن تفسيرها: لا يقدر على طاعة الله، ولا يكون له قوة في معصية الله، في الأمرين جميعا، إلا بالله. أيها السائل ألك مع الله مشيئة فإن قلت لك دون الله مشيئة، فقد اكتفيت بها عن مشيئة الله، وإن زعمت أن لك فوق الله مشيئة، فقد ادعيت مع الله شركا في مشيئته. أيها السائل، إن الله يشج ويداوي؛ فمنه الدواء ومنه الداء. أعقلت عن الله أمره؟ قال نعم. قال علي: الآن أسلم أخوكم، فقوموا فصافحوه. ثم قال علي: لو أن عندي رجلا من القدرية لأخذت برقبته ثم لا أزال أجأها حتى أقطعها فإنهم يهود هذه الأمة ونصارها ومجوسها". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء وقدر کا مطلب
١٥٦٢۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ فرمایا کہ ہر بندہ پر نگہبان فرشتے مقرر ہیں۔ جو اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس پر کوئی دیوار نہ آگرے ، یا یہ کسی کنویں میں گر کر ہلاک نہ ہوجائے یا کوئی جانور اس پر حملہ نہ کر بیٹھے حتی کہ جب تقدیر کا لکھا آجاتا ہے تو فرشتے اس کی راہ چھوڑ دیتے ہیں اور پھر جو اللہ کو منظور ہوتی ہے وہ مصیبت اس کو آلیتی ہے۔ السنن لابی داؤد فی القدر۔
1562 - عن علي قال لكل عبد حفظة يحفظونه لا يخر عليه حائط أو يتردى في بئر إو تصيبه دابة. حتى إذا جاء القدر الذي قدر له، خلت عنه الحفظة، فأصابه ما شاء الله أن يصيبه". (د في القدر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء وقدر کا مطلب
١٥٦٣۔۔ ابونصیر سے مروی ہے کہ ہم اشعث بن قیس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص ہاتھ میں نیزہ تھامے آپ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ہم تو اس کو نہ پہچان سکے مگر آپ پہچان گئے اس نے کہا، امیرالمومنین فرمایا جی عرض کیا، آپ اس وقت میں بےدھڑک نکلتے ہیں جبکہ آپ سے جنگ چھڑی ہوئی ہے ، فرمایا اللہ کی طرف سے ایک ڈھال میری حفاظت پر مامور ہے جو میرے لیے قلعہ گاہ بھی ہے پس جب نوشتہ تقدیر آجائے گا تو کوئی چیز مفید نہ رہے گی۔ بیشک کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس پر کوئی نگہبان فرشتہ مقرر نہ ہو۔ کوئی بھی جانور یا کوئی اور شے اسے گزند پہنچانے کا ارادہ کرتی ہے تو وہ فرشتہ اسے کہتا ہے کہ ہٹو، ہٹو ! پس جب قدرت کا فیصلہ آجاتا ہے تو وہ فرشتہ اس کی راہ چھوڑ دیتا ہے۔ ابوداؤد، فی القدر ابن عساکر۔
1563 - عن أبي نصير قال "كنا جلوسا حول الأشعث بن قيس إذ جاء رجل بيده عنزة فلم نعرفه وعرفه فقال يا أمير المؤمنين قال نعم قال تخرج هذه الساعة وأنت رجل محارب قال إن علي من الله جنة حصينة فإذا جاء القدر لم يغن شيئا إنه ليس من الناس أحد إلا وقد وكل به ملك فلا تريده دابة ولا شيء إلا قال اتقه اتقه فإذا جاء القدر خلى عنه". (د في القدر كر) .
তাহকীক: