কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৫২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت عقبہ کا واقعہ
1524 ۔۔ از مسند عتبہ بن عبدالسلمی ۔ عتبہ بن عبد سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے سات بار بیعت ہوا پانچ طاعت پر اور دو محبت پر تھیں۔ البغوی ، ابونعیم ابن عساکر۔
1524 - (ومن مسند عتبة بن عبد السلمي) عن عتبة بن عبد قال: " بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع بيعات، خمس على الطاعة واثنتين على المحبة". (البغوي وأبو نعيم كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت عقبہ کا واقعہ
1525 ۔۔ ازمسند عقیل بن ابی طالب۔ عم رسول اللہ حضرت عباس بن عبدالمطلب کا حضور پر سے گزر ہوا اس وقت تک حضرت عباس مسلمان نہ ہوئے تھے آپ بیعت عقبہ کے نقباء پر فقاء سے محو تکلم تھے حضرت عباس آپ کی آواز پہچان کر اپنی سواری سے اتر آئے اور سواری باندھ کر رفقاء رسول کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے اے اوس خزرج کی جماعتو ! یہ میرا بھتیجا ہے تمام انسانوں میں مجھے محبوب ترین ہے سو اگر تم اس کی تصدیق کرتے ہو اور اس پر ایمان لاتے ہو اور مکہ سے نکال کر اپنے ہاں بسانا چاہتے ہو تومیرادل کرتا ہے کہ میں تم سے کچھ عہد و پیمان لوں جس سے میری جان مطمئن ہوجائے۔ وہ یہ کہ تم اس کے ساتھ کبھی رسوا نہ کرنا، اس کو دھوکا نہ دینا یقیناً تمہارے گردوپیش یہودی آبا ہیں اور وہ تمہارے کھلے دشمن ہیں اس وجہ سے میں اس بھتیجے کے بارے میں ان کے مکرو خداع سے مامون نہیں ہوں۔ اسعد بن زرارہ کو عباس کی باتیں شاق گزریں کیونکہ حضرت عباس نے گویا ان پر اور ان کے رفقاء پر الزام عائد کیا تھا، تواسعد (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے اجازت مرحمت فرمائیے کہ میں ان کو جواب دوں۔۔ میری کسی بات سے آپ کے سینہ اطہر کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے گی اور آپ کو ناگوار گزرنے والی کسی بات سے میں تعرض نہ کروں گا۔ فقط آپ کی عوت پر ہمارے لبیک کہنے کی صداقت اور آپ پر ایمان لانے کی حقانیت واضح کردوں گا۔ آپ نے فرمایا جواب تودو لیکن کسی تہمت زدہ بات سے احتراز کرو۔
اسعد بن زرارہ نے حضور کی طرف رخ کرکے عرض کیا یارسول اللہ ہر دعوت کا ایک راستہ ہوتا ہے۔۔ خواہ وہ نرم ہو یا دشوار ہو آج آپ نے ہمین ایسی دعوت دی ہے جس سے لوگ ترش روئی کے ساتھ پیش آرہے ہیں وہ دعوت لوگوں پر سخت اور گراں بار ہے۔ آپ نے ہمیں ہمارے دین کو چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کی دعوت دی ہے یقینایہ انتہائی کٹھن مرحلہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے آپ کی دعوت پر صدق دل سے لبیک کہا۔ اور آپ نے ہم لوگوں سے رشتہ ناطہ، ہر طرح کی قرابت داری ، قریب کی ہو یا دور کی جو بھی آپ کی دعوت میں آڑ بنے اس سے قطع تعلق کا حکم فرمایا یہ بھی یقیناً بہت سخت اور انتہائی دشوار مرحلہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے ہر طرح کی مخالفت مول لے کر آپ کی دعوت پر لبیک کہا۔ اور آپ نے ہم کو دعوت دی جبکہ ہم ایک عزت مند اور شان و شوکت اور طاقت والی جماعت ہیں کوئی ہم پر فتح یابی کی طمع نہیں کرسکتا۔ اور چہ جائیکہ ایک ایسا شخص جس کو اس کی قوم نے تنہاچھوڑ دیا ہو اس کے چچاؤں نے اس کو بےآسرا کرکے دوسروں کے حوالہ کردیاہو۔۔ وہ ہم پر سرداری کرے۔ یارسول اللہ بلاشبہ یہ انتہائی مشکل اور صبر آزما مرحلہ ہے لیکن اس کے باجود ہم نے آپ کی دعوت پر سرورفرحت کے ساتھ لبیک کہا۔ بیشک یہ تمام مراحل لوگوں کے نزدیک سخت اور ناپسندہ ہیں۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی بھلائی کے لیے اللہ نے عزم فرمالیا ہو۔ اور جن کے لیے بہترین انجام مطلوب و مقصود ہوجائے اور ہم نے اس بھلائی کی طرف اپنی زبانوں اور اپنے قلب وجگر کے ساتھ آپ کو لبیک کہا جو آپ نے لاکر پیش فرمایا ہم اس پر ایمان لائے اور اس معرفت کے ساتھ تصدیق کی جو ہمارے دلوں کی اقلیم میں جگہ پکڑ چکی ہے پس ہم اس پر آپ سے بیعت ہوتے ہیں اور اللہ سے بیعت ہوتے ہیں جو ہمارا اور آپ کا پروردگار ہے اس حال میں کہ اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں پر۔ اور ہمارے خون آپ کے مقدس خون کے لیے نچھاور ہیں۔ ہمارے ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہیں ہم ہراس چیز سے آپ کی حفاظت کریں گے جس سے اپنی جانوں کی اور اپنے بچوں اور عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں ہم اگر ان عہد و پیمان کی وفاداری کریں تو درحقیقت اللہ سے وفاداری کرنے والے ہوں گے اور ہم اس وفاداری سے سعادت مند نیک بخت ہوجائیں گے اور اگر ہم خدانخواستہ غدر کریں تو بلاشبہ اللہ کے ساتھ غدر ہوگا اور ہم اس کی وجہ سے شقی و بدبخت ہوجائیں گے بس یہ ہمارا صدق و اخلاص ہے یارسول اللہ اور اللہ ہی ہمارا مددگار ہے۔
پھر حضرت اسعد بن زرارہ حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے حضور کے متعلق ہم پر اعتراض کرنے والے ؟ اللہ بہترجانتا ہے جو آپ کے دل میں ہے۔ آپ نے کہا یہ میرا بھتیجا ہے اور لوگوں میں مجھے محبوب ترین ہے تو ہم نے قریب اور دور کے سب رشتے ناطے اور قرابت داری آپ کے لیے توڑ دلی۔ اور ہم شہادت دیتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ نے اپنے طرف سے ان کو بھیجا ہے یہ کذاب نہیں ہیں اور جو یہ لے کر آئے ہیں کسی بشر کے کلام کے مشابہ نہیں ہے اور جو آپ نے ذکر کیا کہ اس کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہوگا، جب تک آپ ہم سے عہد و پیمان نہ لے لیں تو یہ بات ہم رسول اللہ کے لیے کسی پر رد نہیں کریں گے بلکہ جو عہد و پیمان آپ لیناچا ہے لے لیں۔
پھر حضرت اسعد آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ آپ اپنے لیے جو عہد ہم سے لیناچا ہیں ضرور لیں اور اپنے رب کے لیے جو بھی شرط ہم پر عائد فرماناچا ہیں ضرور فرمائیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ شرط لیتاہوں کہ تم اسی کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور جن چیزوں سے اپنی جان اور اولاد عورتوں کی حفاظت کرتے ہو ان سے میری ذات کی حفاظت بھی تمہارے ذمہ ہے۔ رفقاء نے عرض کیا یارسول اللہ ہم آپ کو اس کا پختہ عہد دیتے ہیں۔ ابونعیم ، عن ابی اسحاق السبیعی ، وعن الشعبی، وعن عبداللہ بن عمیر عن عبداللہ بن عمر عن عقیل بن ابی طالب ومحمد بن عبداللہ بن اخی الزھری عن الزھری ان العباس بن عبدالمطلب مر بالنبی۔
اسعد بن زرارہ نے حضور کی طرف رخ کرکے عرض کیا یارسول اللہ ہر دعوت کا ایک راستہ ہوتا ہے۔۔ خواہ وہ نرم ہو یا دشوار ہو آج آپ نے ہمین ایسی دعوت دی ہے جس سے لوگ ترش روئی کے ساتھ پیش آرہے ہیں وہ دعوت لوگوں پر سخت اور گراں بار ہے۔ آپ نے ہمیں ہمارے دین کو چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کی دعوت دی ہے یقینایہ انتہائی کٹھن مرحلہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے آپ کی دعوت پر صدق دل سے لبیک کہا۔ اور آپ نے ہم لوگوں سے رشتہ ناطہ، ہر طرح کی قرابت داری ، قریب کی ہو یا دور کی جو بھی آپ کی دعوت میں آڑ بنے اس سے قطع تعلق کا حکم فرمایا یہ بھی یقیناً بہت سخت اور انتہائی دشوار مرحلہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے ہر طرح کی مخالفت مول لے کر آپ کی دعوت پر لبیک کہا۔ اور آپ نے ہم کو دعوت دی جبکہ ہم ایک عزت مند اور شان و شوکت اور طاقت والی جماعت ہیں کوئی ہم پر فتح یابی کی طمع نہیں کرسکتا۔ اور چہ جائیکہ ایک ایسا شخص جس کو اس کی قوم نے تنہاچھوڑ دیا ہو اس کے چچاؤں نے اس کو بےآسرا کرکے دوسروں کے حوالہ کردیاہو۔۔ وہ ہم پر سرداری کرے۔ یارسول اللہ بلاشبہ یہ انتہائی مشکل اور صبر آزما مرحلہ ہے لیکن اس کے باجود ہم نے آپ کی دعوت پر سرورفرحت کے ساتھ لبیک کہا۔ بیشک یہ تمام مراحل لوگوں کے نزدیک سخت اور ناپسندہ ہیں۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی بھلائی کے لیے اللہ نے عزم فرمالیا ہو۔ اور جن کے لیے بہترین انجام مطلوب و مقصود ہوجائے اور ہم نے اس بھلائی کی طرف اپنی زبانوں اور اپنے قلب وجگر کے ساتھ آپ کو لبیک کہا جو آپ نے لاکر پیش فرمایا ہم اس پر ایمان لائے اور اس معرفت کے ساتھ تصدیق کی جو ہمارے دلوں کی اقلیم میں جگہ پکڑ چکی ہے پس ہم اس پر آپ سے بیعت ہوتے ہیں اور اللہ سے بیعت ہوتے ہیں جو ہمارا اور آپ کا پروردگار ہے اس حال میں کہ اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھوں پر۔ اور ہمارے خون آپ کے مقدس خون کے لیے نچھاور ہیں۔ ہمارے ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہیں ہم ہراس چیز سے آپ کی حفاظت کریں گے جس سے اپنی جانوں کی اور اپنے بچوں اور عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں ہم اگر ان عہد و پیمان کی وفاداری کریں تو درحقیقت اللہ سے وفاداری کرنے والے ہوں گے اور ہم اس وفاداری سے سعادت مند نیک بخت ہوجائیں گے اور اگر ہم خدانخواستہ غدر کریں تو بلاشبہ اللہ کے ساتھ غدر ہوگا اور ہم اس کی وجہ سے شقی و بدبخت ہوجائیں گے بس یہ ہمارا صدق و اخلاص ہے یارسول اللہ اور اللہ ہی ہمارا مددگار ہے۔
پھر حضرت اسعد بن زرارہ حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اے حضور کے متعلق ہم پر اعتراض کرنے والے ؟ اللہ بہترجانتا ہے جو آپ کے دل میں ہے۔ آپ نے کہا یہ میرا بھتیجا ہے اور لوگوں میں مجھے محبوب ترین ہے تو ہم نے قریب اور دور کے سب رشتے ناطے اور قرابت داری آپ کے لیے توڑ دلی۔ اور ہم شہادت دیتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ نے اپنے طرف سے ان کو بھیجا ہے یہ کذاب نہیں ہیں اور جو یہ لے کر آئے ہیں کسی بشر کے کلام کے مشابہ نہیں ہے اور جو آپ نے ذکر کیا کہ اس کے بارے میں میرا دل مطمئن نہیں ہوگا، جب تک آپ ہم سے عہد و پیمان نہ لے لیں تو یہ بات ہم رسول اللہ کے لیے کسی پر رد نہیں کریں گے بلکہ جو عہد و پیمان آپ لیناچا ہے لے لیں۔
پھر حضرت اسعد آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ آپ اپنے لیے جو عہد ہم سے لیناچا ہیں ضرور لیں اور اپنے رب کے لیے جو بھی شرط ہم پر عائد فرماناچا ہیں ضرور فرمائیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ شرط لیتاہوں کہ تم اسی کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے اور جن چیزوں سے اپنی جان اور اولاد عورتوں کی حفاظت کرتے ہو ان سے میری ذات کی حفاظت بھی تمہارے ذمہ ہے۔ رفقاء نے عرض کیا یارسول اللہ ہم آپ کو اس کا پختہ عہد دیتے ہیں۔ ابونعیم ، عن ابی اسحاق السبیعی ، وعن الشعبی، وعن عبداللہ بن عمیر عن عبداللہ بن عمر عن عقیل بن ابی طالب ومحمد بن عبداللہ بن اخی الزھری عن الزھری ان العباس بن عبدالمطلب مر بالنبی۔
1525 - (ومن مسند عقيل بن أبي طالب) عن أبي إسحاق السبيعي عن الشعبي وعن عبد الملك بن عمير عن عبد الله بن عمر عن عقيل بن أبي طالب ومحمد بن عبد الله بن أخي الزهري عن الزهري "أن العباس ابن عبد المطلب مر بالنبي صلى الله عليه وسلم وهو يكلم النقباء ويكلمونه فعرف صوت صلى الله عليه وسلم فنزل وعقل راحلته ثم قال: لهم يا معشر الأوس والخزرج هذا ابن أخي وهو أحب الناس إلي فإن كنتم صدقتموه وآمنتم به وأردتم إخراجه معكم فإني أريد أن آخذ عليكم موثقا تطمئن به نفسي ولا تخذلوه ولا تغروه فإن جيرانكم اليهود وهم لكم عدو ولا آمن مكرهم عليه فقال: أسعد بن زرارة وشق عليه قول العباس حين اتهم عليه أسعد وأصحابه يا رسول الله ايذن لي فلنجبه غير مخشنين (2) لصدرك ولا متعرضين لشيء مما تكره إلا تصديقا لإجابتنا إياك وإيمانا بك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أجيبوه غير متهمين"، فقال أسعد بن زرارة وأقبل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إن لكل دعوة سبيلا إن لين وإن شدة وقد دعوتنا اليوم إلى دعوة متجهمة (3) للناس متوعرة عليهم دعوتنا إلى ترك ديننا واتباعك إلى دينك وتلك مرتبة (4) صعبة فأجبناك إلى ذلك ودعوتنا إلى قطع ما بيننا وبين الناس من الجوار والأرحام والقريب والبعيد وتلك رتبة صعبة فأجبناك إلى ذلك، ودعوتنا ونحن جماعة في عز (5) ومنعة لا يطمع فينا أحد أن يرأس علينا رجل من غيرنا قد أفرده قومه وأسلمه أعمامه وتلك رتبة صعبة فأجبناك إلى ذلك وكل هؤلاء الرتب مكروهة عند الناس إلا من عزم الله على رشده والتمس الخير في عواقبها وقد أجبناك إلى ذلك بألسنتنا وصدورنا إيمانا بما جئت به وتصديقا بمعرفة ثبتت في قلوبنا نبايعك على ذلك ونبايع الله ربنا وربك، يد الله فوق أيدينا ودماؤنا دون دمك وأيدينا دون يدك نمنعك مما نمنع منه أنفسنا وأبناءنا ونساءنا فإن نف بذلك فبالله نفي ونحن به أسعد وإن نغدر فبالله نغدر ونحن به أشقى هذا الصدق منا يا رسول الله والله المستعان، ثم أقبل على العباس بن عبد المطلب بوجهه وأما أنت أيها المعترض لنا القول دون النبي صلى الله عليه وسلم فالله أعلم بما أردت بذلك ذكرت أنه ابن أخيك وأنه أحب الناس إليك فنحن قد قطعنا القريب والبعيد وذا الرحم ونشهد أنه رسول الله أرسله من عنده ليس بكذاب وإن ما جاء به لا يشبه كلام البشر وأما ما ذكرت أنك لا تطمئن إلينا في أمره حتى تأخذ مواثيقنا فهذه خصلة لا نردها على أحد لرسول الله صلى الله عليه وسلم فخذ ما شئت، ثم التفت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله خذ لنفسك ما شئت واشترط لربك ما شئت فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أشترط لربي أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا ولنفسي أن تمنعوني مما تمنعون منه أنفسكم وأبناءكم ونساءكم، وقالوا فذلك لك يا رسول الله". (أبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت عقبہ کا واقعہ
١٥٢٦۔۔ از مسند عوف بن مالک الاشجعی۔ عوف بن مالک الاشجعی سے مروی ہے کہ ہم نویا آٹھ یاسات افراد رسول اللہ کے پاس حاضر خدمت تھے ۔ آپ نے فرمایا کیا تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں ہوتے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ دھرائی ۔ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ہم آپ سے پہلے بیعت ہوچکے ہیں اب دوبارہ کس بات پر بیعت ہوں ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ گردانو گے پنجگانہ نمازوں کا اہتمام کرو گے پھر آپ نے آہستہ آواز سے فرمایا اور یہ کہ کبھی کسی کے آگے دست سوال دراز نہ کرو گے۔
عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد ان ساتھیوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس کا کوڑا نیچے گرا ہو اور اس نے کسی اٹھانے کے لیے کہا ہو۔ الرویانی ، ابن جریر ابن عساکر۔
عوف بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد ان ساتھیوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ اس کا کوڑا نیچے گرا ہو اور اس نے کسی اٹھانے کے لیے کہا ہو۔ الرویانی ، ابن جریر ابن عساکر۔
1526 - (ومن مسند عوف بن مالك الأشجعي) عن عوف بن مالك الأشجعي قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم تسعة أو ثمانية أو سبعة فقال: "ألا تبايعون رسول الله صلى الله عليه وسلم فرددها ثلاث مرات فقدمنا فبايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله قد بايعناك فعلى أي شيء نبايعك فقال على أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا والصلوات الخمس وأسر كلمة خفية أن لا تسألوا الناس شيئا قال فلقد رأيت بعض أولئك النفر يسقط سوطه فما يقول لأحدينا وله إياه". (الرؤياني وابن جرير كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت عقبہ کا واقعہ
١٥٢٧۔۔ مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ میں اور میربھائی نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم سے ہجرت پر بیعت لیجئے۔ فرمایا ہجرت اپنے اہل کے ساتھ گذر گئی میں نے عرض کیا پھر ہم کس بات پر آپ سے بیعت ہوں ؟ یارسول اللہ فرمایا، اسلام اور جہاد پر۔ راوی حدیث ابوعثمان مالک کہتے ہیں کہ میں مجاشع کے بھائی سے ملا اور ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا مجاشع سچ کہتے ہیں۔ ابن ابی شیبہ۔ من مسند مالک بن عبداللہ الخزاعی عن ابی عثمان مالک عن مجاشع بن مسعود۔
1527 - ومن مسند مالك بن عبد الله الخزاعي عن أبي عثمان مالك عن مجاشع بن مسعود قال "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم أنا وأخي فقلت: يا رسول الله بايعنا على الهجرة قال مضت الهجرة لأهلها فقلت: على ما (2) نبايعك يا رسول الله قال: على الإسلام والجهاد قال: فلقيت أخاه فسألته فقال صدق مجاشع". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت عقبہ کا واقعہ
١٥٢٨۔۔ از مراسیل شعبی، شعبی سے مروی ہے کہ حضرت عباس حضور کے ہمراہ انصار کے پاس گئے، اور انصار سے فرمایا بات شروع کرو لیکن بات کا زیادہ طول مت دو ۔ جاسوسوں کی آنکھیں تمہاری نگرانی کررہی ہیں۔ اور مجھے تم پر کفار قریش کا بھی خطرہ ہے توحاضرین مجلس میں سے ایک شخص جس کی کنیت ابوامامہ تھی اور وہ ان دنوں میں انصار کے خطیب سمجھے جاتے تھے اور ان کا نام اسعد بن زرارہ تھا وہ بات کرنا شروع ہوئے اور آپ سے عرض کیا یارسول اللہ ہم سے اپنے رب کے لیے سوال کیجئے۔ اور اپنی ذات کے لیے سوال کیجئے اور اپنے اصحاب کے لیے بھی سوال کیجئے اور ساتھ میں یہ بھی فرما دیجئے کہ ہم کوا سپرکیاثواب حاصل ہوگا۔ آپ نے فرمایا میں تم سے اپنے رب کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنی ذات کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ مجھ پر ایمان لاؤ اور ان چیزوں سے میری حفاظت کرو جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ اور میں اپنے اصحاب کے لیے تم سے سوال کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ تم غم خواری کا معاملہ کرو۔ انصار نے عرض کیا اگر ہم ایساکریں گے تو ہمارے لیے کیا ثواب ہے۔ فرمایا تمہارے لیے اللہ کے ذمہ جنت واجب ہوگئی۔ ابن ابی شیبہ، ابن عساکر۔
1528 - (من مراسيل الشعبي) عن الشعبي قال: "انطلق العباس مع النبي صلى الله عليه وسلم إلى الأنصار فقال تكلموا ولا تطيلوا الخطبة إن عليكم عيونا وإني أخشى عليكم كفار قريش فتكلم رجل منهم يكنى أبا أمامة وكان خطيبهم يومئذ وهو أسعد بن زرارة فقال للنبي صلى الله عليه وسلم: سلنا لربك وسلنا لنفسك وسلنا لأصحابك وما الثواب على ذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أسألكم لربي أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا ولنفسي أن تؤمنوا بي وتمنعوني مما تمنعون منه أنفسكم وأسألكم لأصحابي المواساة في ذات أيديكم قالوا فما لنا إذا فعلنا ذلك، قال: لكم على الله الجنة". (ش كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت عقبہ کا واقعہ
١٥٢٩۔۔ از مراسیل عروہ ۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ بیعت عقبہ میں جب رسول اکرم سر انصاری صحابہ سے وفاداری کا حلف لے رہے تھے توس وقت حضرت عباس بن عبدالمطلب نے آپ کا دست اقدس تھاما ہوا تھا اور آپ نے انصار سے آپ کے لیے کچھ معاہدے کیے اور چندشرائط بھی عائد کیں۔ اور اللہ کی قسم یہ اسلام کے طلوع کا بالکل ابتدائی زمانہ تھا، اور ابھی تک کسی نے اعلانیہ اللہ کی عبادت نہ کی تھی۔ ابن عساکر۔
1529 - من مراسيل عروة عن عروة قال: "أخذ العباس بن عبد المطلب بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم في العقبة حين وافاه السبعون على الأنصار فأخذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم واشترط له وذلك والله في غرة الإسلام وأوله من قبل أن يعبد الله أحد علانية". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت رضوان کا ذکر۔
١٥٣٠۔۔ جابر (رض) سے مروی ہے کہ بیعت شجرہ خصوصا حضرت عثمان بن عفان کے لیے تھی حضور نے فرمایا تھا کہ اگر کفار نے واقعۃ عثمان کو قتل کردیا ہے تو میں ان سے کیے معاہدہ کو توڑ دیتاہوں پھر ہم اپ سے بیعت ہوئے بیعت میں صراحت موت کا ذکرنہ تھا بلکہ ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے آخردم تک راہ فرار اختیار نہ کریں گے اور اس وقت ہماری تعداد تیرہ سو کے قریب تھی ۔ الضعفاء للعقیلی ، ابن عساکر۔
1530 - عن جابر قال: "إنما كانت بيعة الشجرة في عثمان بن عفان خاصة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن قتلوه لأنابذهم فبايعناه ولم نبايعه على الموت ولكنا بايعناه على أن لا نفر ونحن ألف وثلاث مائة". (عق كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت رضوان کا ذکر۔
١٥٣١۔۔ محمد بن عثمان بن حوشب اپنے والد عثمان سے اور عثمان محمد کے دادا یعنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ نے محمد کو ظاہر فرمادیا تو میں نے چالیس شہسواروں کا دستہ عبدشر کی ہمراہی میں آپ کی خدمت میں بھیجا۔ یہ قافلہ مدینہ پہنچاتوعبد شر نے اصحاب کرام سے کہا کہ تم میں سے محمد کون ہے۔ صحابہ نے آپ کی طرف اشارہ فرمادیا۔ عبدشر نے کہا کہ آپ فرمائیے کہ ہمارے پاس کیا لائے ہیں ؟ اگر وہ سچ ہواتوہم آپ کی اتباع کریں گے آپ نے فرمایا نماز، قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، جانوں کا احترام کرو، امربالمعروف نہی عن المنکر کرو، عبد شر نے کہا بیشک یہ چیز تو بہت اچھی ہے لائیے اپنا ہاتھ دراز کیجئے۔ تاکہ میں آپ سے بیعت ہوجاؤں ، آپ نے فرمایا تیرا نام کیا ہے عرض کیا عبد شر یعنی شر کا بندہ۔ آپ نے فرمایا نہیں تم عبد خیرہو یعنی خیر کے بندے ہو۔ پھر آپ نے عبد خیر کو حوشب ذی ظلیم کے لیے جواب لکھواکر بھیجا توحوشب بھی ایمان لائے۔ ابن مندہ ابن عساکر۔
ابن عساکر فرماتے ہیں کہ حوشب ذی ظلیم نے نبی کریم کا مبارک زمانہ توپایا لیکن زیارت سے مشرف نہ ہوسکے۔ حضور نے ان کے ساتھ بذریعہ جریر بن عبداللہ مراسلت بھی فرمائی۔ اور انھوں نے نبی کریم سے مرسلاروایت کیا ہے۔ ابن عساکر (رح) ، احمد (رح) بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کرتے ہیں آگے فرماتے ہیں کہ احمد بن محمد نے ذی ظلیم الھانی ھوشب کو حضور کے زمانہ سے متصل طبقہ محدثین میں شمار کیا اور فرمایا کہ یہ حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں آپ کے پاس حاضر ہوئے اور چونکہ نبی کریم ان کی تعریف فرماگئے تھے تو اس حوالہ سے حضرت ابوبکر نے ان کو پہچان لیا۔
ابن عساکر فرماتے ہیں کہ حوشب ذی ظلیم نے نبی کریم کا مبارک زمانہ توپایا لیکن زیارت سے مشرف نہ ہوسکے۔ حضور نے ان کے ساتھ بذریعہ جریر بن عبداللہ مراسلت بھی فرمائی۔ اور انھوں نے نبی کریم سے مرسلاروایت کیا ہے۔ ابن عساکر (رح) ، احمد (رح) بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کرتے ہیں آگے فرماتے ہیں کہ احمد بن محمد نے ذی ظلیم الھانی ھوشب کو حضور کے زمانہ سے متصل طبقہ محدثین میں شمار کیا اور فرمایا کہ یہ حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں آپ کے پاس حاضر ہوئے اور چونکہ نبی کریم ان کی تعریف فرماگئے تھے تو اس حوالہ سے حضرت ابوبکر نے ان کو پہچان لیا۔
1531 - عن محمد بن عثمان بن حوشب عن أبيه عن جده قال "لما أن أظهر الله عز وجل محمدا صلى الله عليه وسلم انتدبت إليه مع الناس في أربعين فارسا مع عبد شر فقدموا عليه المدينة فقال: أيكم محمد قالوا هذا قال ما الذي جئتنا به فإن يك حقا اتبعناك قال: تقيموا الصلاة وتؤتوا الزكاة وتحقنوا الدماء وتأمروا بالمعروف وتنهوا عن المنكر قال عبد شر إن هذا لحسن جميل مد يدك أبايعك فقال النبي صلى الله عليه وسلم ما اسمك؟ قال عبد شر قال أنت عبد خير وكتب معه الجواب إلى حوشب ذي ظليم فآمن " (ابن مندة كر قال كر) أدرك ذو ظليم النبي صلى الله عليه وسلم ولم يره وراسله النبي صلى الله عليه وسلم بجرير بن عبد الله وروى عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا ثم روى عن أحمد بن محمد ابن عيسى قال في الطبقة العليا التي تلي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من أهل حمص ذي ظليم الألهاني قدم على أبي بكر وقد كان النبي صلى الله عليه وسلم نعته له فعرف أبو بكر النعت الذي نعت له رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت رضوان کا ذکر۔
١٥٣٢۔۔ ایاس بن سلمہ اپنے والد سلمہ سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے خارجہ بن کر زکو بطور ہراول دستہ کے آپ کی طرف بھیجا تاکہ آپ کی عسکری قوت کے احوال و کوائف لے کر آئے۔ تو یہ اس مہم سے واپس آیا اور آپ اور آپ کی عسکری کی مدح وثنا کرنے لگا قریش نے اس کو کہا کہ تو ایک دیہاتی آدمی ہے انھوں نے اپنا اسلحۃ وغیر کی جھنکار سے تجھے مرعوب کرلیا اسی میں تیرا دل اڑ کیا ہے پھر قریش نے عروہ بن مسعود کو اس غرض کے لیے بھیجا ۔ یہ آکر آپ سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا اے محمد یہ کیا بات ہے ؟ تم اللہ کی طرف دعوت دیتے۔۔ اور اپنی قوم کے پاس اوباش قسم کے لوگوں کا نبوہ جمع کر لائے ہو ؟ کوئی پتہ نہیں وہ کون ہیں کون نہیں ہیں۔ اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس طرح تم صلہ رحمی کا ناطہ توڑو اور اہل قرابت کی حرمتوں کی پامال کرو ان کی جانوں اور مالوں سے کھیلو۔
حضور نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا بلکہ میری آمد کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں ٹوٹے ہوئے رشتوں کو پھر سے جوڑؤں اور یہ کہ اللہ ان میری قوم والوں کو ان کے دین سے بہتر دین مرحمت فرمائے اور ان کو ان کی معیشت سے اعلی معیشت عطا فرمائے۔ یہ شخص بھی بالآخر آپ کی مدح وثنا گاتے ہوئے واپس پہنچا۔
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ان مسلمان قیدیوں پر جو مشرکین کے ہاتھوں میں تھے ظلم وستم کی چکی سخت ہوگئی تو حضور نے حضرت عمر کو بلایا اور پوچھا اے عمر کیا تم اپنے مسلمان قیدی بھائیون کو میرا پیغام پہنچاسکتے ہو ؟ آپ (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ نہیں کیونکہ اللہ کی قسم مکہ میں مجھ سے بڑے خاندان کوئی نہیں ہے اور میری وجہ سے ان کو گزند پہنچنے کا قوی امکان ہے پھر آپ نے حضرت عثمان کو بلا کر اس مہم پر روانہ فرمایا۔ حضرت عثمان اپنی سواری پر سوار ہو کر مشرکین کے لشکر میں جاپہنچے مشرکین نے آپ کے ساتھ نازیبا برتاؤ کیا اور آپ کو برابھلا کہناشروع کردیا۔ پھر آپ کے چچازاد ابان بن سعید نے آپ کو پناہ دیدی۔ اور اپنے پیچھے زین پر بٹھایا پھر آپ کے اترنے پر آپ کے چچازاد نے کہا اے ابن عم۔ کیا بات ہے کہ میں تمہیں بہت زیادہ منکسرالمزاج دیکھ رہاہوں کہ تم نے اپنے ازار کو بہت اونچا کررکھا ہے اور حضرت عثمان کا ازار اس وقت نصف پنڈلیوں تک تھا تو حضرت عثمان نے فرمایا میرے ساتھ حضور کا ازار اسی طرح ہوتا ہے۔ پھر آپ نے مکہ میں کسی مسلمان قیدی کو آپ کا پیغام پہنچائے بغیر نہ چھوڑا۔
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ ادھرہم لوگ دوپہر کے وقت قیلولہ کررہے تھے کہ رسول اللہ کے منادی نے نداء دی کہ اے لوگو بیعت کی طرف بڑھو، بیعت کی طرف بڑھو، جبرائیل امین کوئی حکم خداوندی لے کر اترے ہیں، توہم رسول اللہ کی طرف تیزی سے لپکے آپ ببول کے درخت کے سایہ میں تھے تو وہیں ہم آپ سے بیعت ہوئے اور یہی واقعہ ہے جس کے متعلق فرمان الٰہی ہے۔ لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ۔ اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت ہورہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوا۔
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ اس بیعت میں آپ نے حضرت عثمان کی جانب سے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرے ہاتھ سے بیعت لی لوگوں نے کہا ابوعبداللہ حضرت عثمان (رض) کو مبارک ہو کہ وہ تو بیت اللہ کے طواف میں مشغول ہوں گے اور ہم ادھر اس سعادت سے محروم ہیں رسول اللہ نے فرمایا اگر وہ اتنے سالوں تک بھی وہاں ٹھہرتے رہیں۔۔ پھر بھی میرے بغیر ہرگز طواف نہ کریں گے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
حضور نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا بلکہ میری آمد کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں ٹوٹے ہوئے رشتوں کو پھر سے جوڑؤں اور یہ کہ اللہ ان میری قوم والوں کو ان کے دین سے بہتر دین مرحمت فرمائے اور ان کو ان کی معیشت سے اعلی معیشت عطا فرمائے۔ یہ شخص بھی بالآخر آپ کی مدح وثنا گاتے ہوئے واپس پہنچا۔
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ان مسلمان قیدیوں پر جو مشرکین کے ہاتھوں میں تھے ظلم وستم کی چکی سخت ہوگئی تو حضور نے حضرت عمر کو بلایا اور پوچھا اے عمر کیا تم اپنے مسلمان قیدی بھائیون کو میرا پیغام پہنچاسکتے ہو ؟ آپ (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ نہیں کیونکہ اللہ کی قسم مکہ میں مجھ سے بڑے خاندان کوئی نہیں ہے اور میری وجہ سے ان کو گزند پہنچنے کا قوی امکان ہے پھر آپ نے حضرت عثمان کو بلا کر اس مہم پر روانہ فرمایا۔ حضرت عثمان اپنی سواری پر سوار ہو کر مشرکین کے لشکر میں جاپہنچے مشرکین نے آپ کے ساتھ نازیبا برتاؤ کیا اور آپ کو برابھلا کہناشروع کردیا۔ پھر آپ کے چچازاد ابان بن سعید نے آپ کو پناہ دیدی۔ اور اپنے پیچھے زین پر بٹھایا پھر آپ کے اترنے پر آپ کے چچازاد نے کہا اے ابن عم۔ کیا بات ہے کہ میں تمہیں بہت زیادہ منکسرالمزاج دیکھ رہاہوں کہ تم نے اپنے ازار کو بہت اونچا کررکھا ہے اور حضرت عثمان کا ازار اس وقت نصف پنڈلیوں تک تھا تو حضرت عثمان نے فرمایا میرے ساتھ حضور کا ازار اسی طرح ہوتا ہے۔ پھر آپ نے مکہ میں کسی مسلمان قیدی کو آپ کا پیغام پہنچائے بغیر نہ چھوڑا۔
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ ادھرہم لوگ دوپہر کے وقت قیلولہ کررہے تھے کہ رسول اللہ کے منادی نے نداء دی کہ اے لوگو بیعت کی طرف بڑھو، بیعت کی طرف بڑھو، جبرائیل امین کوئی حکم خداوندی لے کر اترے ہیں، توہم رسول اللہ کی طرف تیزی سے لپکے آپ ببول کے درخت کے سایہ میں تھے تو وہیں ہم آپ سے بیعت ہوئے اور یہی واقعہ ہے جس کے متعلق فرمان الٰہی ہے۔ لقد رضی اللہ عن المومنین اذ یبایعونک تحت الشجرۃ۔ اے پیغمبر جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت ہورہے تھے تو اللہ ان سے خوش ہوا۔
حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ اس بیعت میں آپ نے حضرت عثمان کی جانب سے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرے ہاتھ سے بیعت لی لوگوں نے کہا ابوعبداللہ حضرت عثمان (رض) کو مبارک ہو کہ وہ تو بیت اللہ کے طواف میں مشغول ہوں گے اور ہم ادھر اس سعادت سے محروم ہیں رسول اللہ نے فرمایا اگر وہ اتنے سالوں تک بھی وہاں ٹھہرتے رہیں۔۔ پھر بھی میرے بغیر ہرگز طواف نہ کریں گے۔ رواہ ابن ابی شیبہ۔
1532 - عن إياس بن سلمة عن أبيه قال: "بعثت قريش خارجة ابن كرز يطلع لهم طليعة فرجع حامدا يحسن الثناء فقالوا: إنك أعرابي قعقعوا لك السلاح فطار فؤادك فما دريت ما قيل لك وما قلت ثم أرسلوا عروة بن مسعود فجاء فقال: يا محمد ما هذا الحديث تدعو إلى ذات الله ثم جئت قومك بأوباش الناس من تعرف ومن لا تعرف لتقطع أرحامهم وتستحل حرمهم ودماءهم وأموالهم فقال: إني لم آت قومي إلا لأصل أرحامهم يبدلهم الله بدين خير من دينهم ومعاش خير من معاشهم" فرجع حامدا يحسن الثناء قال سلمة: فاشتد البلاء على من كان في يد المشركين من المسلمين فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عمر فقال: يا عمر هل أنت مبلغ عني أخوانكم من أسارى المسلمين قال: لا يا رسول الله والله مالي بمكة من عشيرة غيري أكثر عشيرة مني فدعا عثمان فأرسله إليهم فخرج عثمان على راحلته حتى جاء عسكر المشركين فعبثوا به وأساءوا له القول ثم أجاره إبان بن سعيد بن العاص ابن عمه وحمله على السرج وردفه فلما قدم قال يا ابن عم ما لي أراك متخشعا اسبل وكان إزاره إلى نصف ساقيه فقال: له عثمان هكذا آزرة صاحبنا فلم يدع بمكة أحدا من أسارى المسلمين إلا بلغهم ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال سلمة فبينا نحن قائلون نادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيها الناس البيعة البيعة نزل روح القدس فسرنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو تحت شجرة سمرة فبايعناه وذلك قول الله: {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} قال فبايع لعثمان إحدى يديه على الأخرى فقال الناس هنيئا لأبي عبد الله يطوف بالبيت ونحن ههنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو مكث كذا وكذا سنة ما طاف حتى أطوف". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت رضوان کا ذکر۔
١٥٣٣۔۔ ابوعقیل زھرہ بن معبد اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ اور عبداللہ بن ہشام نے نبی اکرم کا زمانہ مبارک پایا تھا تو ان کی والدہ زینب بنت جمیل ان کو نبی کریم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا یارسول اللہ اس کو بیعت فرمالیجئے آپ نے فرمایا ابھی یہ بچہ ہے پھر آپ نے ان کے سرپر اپنا دست شفقت پھیرا، اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ اور یہ عبداللہ بن ہشام اپنے جمیع اہل خانہ کے لیے ایک بکری قربانی کرتے تھے۔ ابن عساکر۔
1533 - عن أبي عقيل زهرة بن معبد عن جده عبد الله بن هشام وكان قد أدرك النبي صلى الله عليه وسلم وذهبت به أمه زينب بنت جميل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: " يا رسول الله بايعه فقال النبي صلى الله عليه وسلم هذا صغير ومسح رأسه ودعا له وكان يضحي بالشاة الواحدة عن جميع أهله" (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت رضوان کا ذکر۔
١٥٣٤۔۔ عقبہ بن عمروالانصاری سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ نے عقبہ کی کھوہ میں یون اضحی کو عہد و پیمان لیاہم ستراشخاص تھے میں ان میں سب سے کم سن تھا تو رسول اللہ نے ہمارے پاس تشریف لاکر فرمایا مختصر بات کرو، کیونکہ مجھے تم پر کفار قریش کا خطرہ ہے۔
ہم نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ہم سے اپنے رب کے لیے سوال کیجئے اپنی ذات کے لیے سوال کیجئے اور اپنے اصحاب کے لیے بھی سوال کرلیجئے اور یہ بھی بتا دیجئے کہ ہمارے لیے اللہ پر اور آپ پر کیا اجر ہوگا ؟ فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس پر ایمان لاؤ اس کیس اتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تم سے سوال کرتا ہوں کہ میری اطاعت فرمان برداری کرو، میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤ ں گا، اور میں اپنے اور اپنے اصحاب کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ہم سے غم خواری کا سلوک کرو، اور جن خطرات سے اپنی حفاظت کرتے ہو اور ان سے ہماری بھی حفاظت کرو، جب تم یہ کرلو گے تو تمہارے اللہ اور میرے ذمہ جنت کا وعدہ ہے۔ انصار فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور آپ سے بیعت ہوگئے۔ ابن ابی شیبہ، ابن عساکر۔
ہم نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ہم سے اپنے رب کے لیے سوال کیجئے اپنی ذات کے لیے سوال کیجئے اور اپنے اصحاب کے لیے بھی سوال کرلیجئے اور یہ بھی بتا دیجئے کہ ہمارے لیے اللہ پر اور آپ پر کیا اجر ہوگا ؟ فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس پر ایمان لاؤ اس کیس اتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تم سے سوال کرتا ہوں کہ میری اطاعت فرمان برداری کرو، میں تمہیں سیدھی راہ دکھاؤ ں گا، اور میں اپنے اور اپنے اصحاب کے لیے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ہم سے غم خواری کا سلوک کرو، اور جن خطرات سے اپنی حفاظت کرتے ہو اور ان سے ہماری بھی حفاظت کرو، جب تم یہ کرلو گے تو تمہارے اللہ اور میرے ذمہ جنت کا وعدہ ہے۔ انصار فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور آپ سے بیعت ہوگئے۔ ابن ابی شیبہ، ابن عساکر۔
1534 - عن عقبة بن عمرو الأنصاري قال: "وعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أصل العقبة الأضحى ونحن سبعون رجلا إني من أصغرهم فأتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أوجزوا في الخطبة فإني أخاف عليكم كفار قريش قلنا يا رسول الله سلنا لربك وسلنا لنفسك وسلنا لأصحابك وأخبرنا ما الثواب على الله عز وجل وعليك فقال: أسألكم لربي أن تؤمنوا به ولا تشركوا به شيئا وأسألكم أن تطيعوني أهدكم سبيل الرشاد وأسألكم لي ولأصحابي أن تواسونا في ذات أيديكم وأن تمنعونا مما منعتم منه أنفسكم فإذا فعلتم ذلك فلكم على الله الجنة وعلي فمددنا أيدينا فبايعناه". (ش كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیعت رضوان کا ذکر۔
١٥٣٥۔۔ شعبی سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ بیعت رضوان میں سب سے پہلے جو شخص نبی کریم سے بیعت ہوا وہ ابوسنان بن الاسدی تھے پہلے یہ بیعت ہوئے اس کے بعد لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ اور سب نے ان کے بعد بیعت کی۔ ابن ابی شیبہ۔
1535 - عن الشعبي قال: "أول من بايع النبي صلى الله عليه وسلم بيعة الرضوان تحت الشجرة أبو سنان بن وهب الأسدي أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أبايعك فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم على ما تبايعني قال أبايعك على ما في نفسك فبايعه فأتاه رجل آخر فقال أبايعك على ما بايعك عليه أبو سنان فبايعه ثم تتابع الناس فبايعوه بعد". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل السابع ۔۔ ایمان بالقدر کے بیان میں
١٥٣٦۔۔ ازمسند صدیق (رض)۔ طلحہ (رح) بن عبداللہ (رح) بن عبدالرحمن (رض) ابی بکر (رض) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد عبداللہ سے سنا، وہ بھی فرما رہے تھے کہ ان کے والد عبدالرحمن نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم سے عرض کیا، یارسول اللہ عمل کے بارے میں فیصلہ کیا جاچکا ہے ؟ یا عمل از سرنو انجام پاتا ہے فرمایا نہیں بلکہ عمل کے متعلق فیصلہ سے فراغت ہوگئی ہے عرض کیا پھر عمل کرنے کا فائدہ ؟ فرمایا ہر انسان کو اسی عمل کی توفیق ہوتی ہے ، جس کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ مسنداحمد، الکبیر للطبرانی، ابوزکریا بن مندہ فی جزء من روی عن النبی ھو وولدہ وولد ولدہ۔
1536 - (ومن مسند الصديق رضي الله عنه) عن طلحة بن عبد الله بن الرحمن بن أبي بكر الصديق عن أبيه قال سمعت أبي يذكر أن أباه سمع أبا بكر الصديق يقول قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا رسول الله العمل على ما فرغ منه أم على أمر مؤتنف؟ قال: بل على أمر قد فرغ منه. قال: ففيم العمل يا رسول الله؟ قال: كل ميسر لما خلق له". (حم طب وأبو زكريا بن مندة في جزء من روى عن النبي صلى الله عليه وسلم هو وولده وولد ولده) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل السابع ۔۔ ایمان بالقدر کے بیان میں
١٥٣٧۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کا کیا خیال ہے کہ زناء کا تعلق بھی تقدیر سے ہے ؟ فرمایا بالکل۔ وہ شخص کہنے لگا کہ تو اللہ نے اس کو مقدر میں لکھا پھر اس کی وجہ سے مجھے عذاب بھی کرتا ہے ؟ فرمایا بالکل ، اے غیرمختون عورت کے بیٹے ! اگر میرے پاس ابھ کوئی شخص ہوتا تو میں اس کو حکم کرتا کہ وہ تیری ناک کاٹ دیتا۔ ابن شاھین والالکانی معافی السنہ۔ عرب عورتوں میں ختنہ کاروان تھا وہ پردہ بکارت سے اوپر ایک جھلی کو کٹوا دیتی تھیں اور غیرمختون عورت کے بیٹے ! بسا اوقات ان کے ہاں برابھلا کہتے وقت استعمال کرتے تھے۔
1537 - عن ابن عمر قال جاء رجل إلى أبي بكر قال: "أرأيت الزنا بقدر؟ قال: نعم. قال: الله قدره ثم يعذبني به؟ قال: نعم يا ابن اللخناء. أما والله لو كان عندي إنسان لأمرته أن يجأ أنفك". (ابن شاهين واللالكائي معا في السنة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل السابع ۔۔ ایمان بالقدر کے بیان میں
١٥٣٨۔۔ عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے فرمایا اللہ نے ایک مخلوق پیدا فرمائی پھر وہ اس کی مٹھی میں آگئی اللہ نے دائیں ہاتھ والی مخلوق کو فرمایا تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، اور دوسرے ہاتھ والی مخلوق کو فرمایا تم جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ اور مجھے کوئی پروا نہیں تو قیامت تک اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔ حسین بن اصرم فی الاستقامۃ ، والالکائی فی السنہ۔
1538 - عن عبد الرحمن بن سابط قال قال أبو بكر الصديق "خلق الله الخلق فكانوا في قبضته، قال لمن في يمينه ادخلوا الجنة بسلام وقال لمن في يده الأخرى ادخلوا النار ولا أبالي، فذهبت إلى يوم القيامة". (حسين بن أصرم في الاستقامة واللالكائي في السنة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل السابع ۔۔ ایمان بالقدر کے بیان میں
١٥٣٩۔۔ محمد بن عکاشہ الکرمانی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ہمیں سلمہ نے خبر دی وہ کہتے ہیں اللہ کی قسم ! ہمیں عبداللہ بن کعب نے خبر دی ۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہمیں عبداللہ بن عباس نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہم سے علی بن ابی طالب نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہمیں حضرت ابوبکر صدیق نے خبر دی وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے اپنے محبوب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، اور آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے جبرائیل امین (علیہ السلام) سے سنا وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے میکائیل (علیہ السلام) سے سنا وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے اسرافیل سے سنا وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے لوح محفوظ سے سنا لوح محفوظ کہتا ہے کہ اللہ کی قسم میں نے قلم سے سنا، قلم کہتا ہے اللہ کی قسم میں نے اللہ تعالیٰ کو فرماتے ہوئے سنا بیشک میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں ۔۔۔ جو مجھ پر ایمان لایا لیکن اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لایا تو وہ میرے سوا کوئی اور پروردگار تلاش کرلے میں اس کا پروردگار نہیں ہوں۔ الحافظ، ابوالحسین ، علی بن الفضل المقدسی فی مسلسلاتہ۔
اس روایت میں محمد بن عکاشہ کذاب راوی ہیں۔ ابوالقاسم محمد بن عبدالواحد نے اس روایت کو اپنے اس رسالہ میں ذکر کیا جس کی احادیث کی اسناد میں چار چار صحابہ کرام راوی ہیں۔ اور عقبہ (رح) فرماتے ہیں کہ محدث ابوالقاسم بن بشکوال نے فرمایا کہ اس حدیث شریف کی اسناد میں چار صحابہ کرام موجود ہیں اور وہ ابوبکر ، علی، ابن عباس ، اور عبداللہ بن کعب بن مالک (رض) کی صحابیت میں اختلاف ہے لیکن ہمارے نزدیک ان کی صحابیت تسلیم ہے۔ تو اس طرح یہ روایت کے چار صحابہ میں سے چوتھے صحابی شمار ہوں گے اور اس طرح کی اسناد نادرالوجود ہیں۔
اس روایت میں محمد بن عکاشہ کذاب راوی ہیں۔ ابوالقاسم محمد بن عبدالواحد نے اس روایت کو اپنے اس رسالہ میں ذکر کیا جس کی احادیث کی اسناد میں چار چار صحابہ کرام راوی ہیں۔ اور عقبہ (رح) فرماتے ہیں کہ محدث ابوالقاسم بن بشکوال نے فرمایا کہ اس حدیث شریف کی اسناد میں چار صحابہ کرام موجود ہیں اور وہ ابوبکر ، علی، ابن عباس ، اور عبداللہ بن کعب بن مالک (رض) کی صحابیت میں اختلاف ہے لیکن ہمارے نزدیک ان کی صحابیت تسلیم ہے۔ تو اس طرح یہ روایت کے چار صحابہ میں سے چوتھے صحابی شمار ہوں گے اور اس طرح کی اسناد نادرالوجود ہیں۔
1539 - عن محمد بن عكاشة الكرماني قال أنبأنا والله عبد الرزاق قال أنبأنا والله سلمة قال أنبأنا والله عبد الله بن كعب أنبأنا والله عبد الله ابن عباس ثنا والله علي بن أبي طالب أنا والله أبو بكر الصديق قال: "سمعت والله من حبيبي محمد صلى الله عليه وسلم قال سمعت والله من جبريل قال سمعت والله من ميكائيل قال سمعت والله من إسرافيل قال سمعت والله من الرقيع قال سمعت والله من اللوح المحفوظ قال سمعت والله من القلم قال سمعت والله الرب تبارك وتعالى يقول: إني أنا الله لا إله إلا أنا فمن آمن بي ولم يؤمن بالقدر خيره وشره فليلتمس ربا غيري فلست له برب". (الحافظ أبو الحسين علي بن الفضل المقدسي في مسلسلاته) ومحمد بن عكاشة كذاب وأخرجه أبو القاسم محمد بن عبد الواحد الغافقي في جزء ما اجتمع في سنده أربعة من الصحابة وقال عقبة قال المحدث أبو القاسم بن بشكوال هذا حديث شريف انتظم في إسناده أربعة من الصحابة وهم أبو بكر وعلي وابن عباس واختلف في صحبة عبد الله بن كعب ابن مالك وهي صحيحة عندنا فهو رابع أربعة من الصحابة نظمهم الإسناد وهذا عزيز الوجود، - انتهى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل السابع ۔۔ ایمان بالقدر کے بیان میں
١٥٤٠۔۔ عبداللہ بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اللہ نے دومٹھی مخلوق پیدا فرمائی اور ان دائیں والوں کو فرمایا تم جنت میں خوشی کے ساتھ داخل ہوگئے اور ان بائیں والوں کو فرمایا تم جہنم میں جاؤ اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ حسین فی الاستقامہ۔
1540 - عن عبد الله بن شداد قال قال أبو بكر الصديق "خلق الله قبضتين فقال لهؤلاء ادخلوا الجنة هنيئا ولهؤلاء ادخلوا النار ولا ابالي". (حسين في الاستقامة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل السابع ۔۔ ایمان بالقدر کے بیان میں
١٥٤١۔۔ حضرت عائشہ سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ ایک دعا تھی جو حضرت ابوبکر صبح وشام مانگا کرتے تھے ۔ اللھم اجعل خیرعمری آخرہ وخیر عملی خواتمہ وخیر ایامی یوم القاک۔ اے اللہ میری عمرکا بہترین حصہ آخری حصہ بنا، اور میرے اعمال میں عمدہ ترین اعمال خاتمے کے وقت کے بنا، اور میرے لیے بہترین دن وہ دن بناجس میں میری آپ سے ملاقات ہو۔
حضرت ابوبکر (رض) سے کسی نے کہا، اے ابوبکر آپ یہ دعا مانگتے ہیں جبکہ رسول اللہ کے ساتھ اور ثانی اثنین فی الغار، ہیں حضرت ابوبکر نے فرمایا آدمی بسا اوقات زمانہ بھر اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے لیکن اس کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل پر ہوجاتا ہے اور بسا اوقات آدمی عرصہ دراز تک اہل جہنم کے عمل کرتا رہتا ہے لیکن اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوجاتا ہے۔ رواہ حسین۔
حضرت ابوبکر (رض) سے کسی نے کہا، اے ابوبکر آپ یہ دعا مانگتے ہیں جبکہ رسول اللہ کے ساتھ اور ثانی اثنین فی الغار، ہیں حضرت ابوبکر نے فرمایا آدمی بسا اوقات زمانہ بھر اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے لیکن اس کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل پر ہوجاتا ہے اور بسا اوقات آدمی عرصہ دراز تک اہل جہنم کے عمل کرتا رہتا ہے لیکن اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوجاتا ہے۔ رواہ حسین۔
1541 - عن عائشة قالت كان لأبي بكر دعاء يدعو به إذا أصبح وأمسى يقول: "اللهم اجعل خير عمري آخره وخير عملي خواتمه وخير أيامي يوم ألقاك فقيل يا أبا بكر أتدعو بهذا الدعاء وأنت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وثاني اثنين في الغار قال إن العبد ليعمل حقبا من دهره بعمل أهل الجنة فيختم له بعمل أهل النار وإن العبد ليعمل بعمل أهل النار حقبا فيختم له بعمل أهل الجنة". (حسين) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الفصل السابع ۔۔ ایمان بالقدر کے بیان میں
١٥٤٢۔۔ سفیان بن عیینہ اپنی جامع میں عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق پیدا فرمائی اور وہ دومٹھی میں آگئی۔ دائیں ہاتھ والوں کو فرمایا تم جنت میں خوشی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ اور بائیں ہاتھ والوں کو فرمایا تم جہنم میں جاؤ اور مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
1542 - سفيان بن عيينة في جامعه عن عمرو بن دينار أن أبابكر الصديق قام على المنبر فقال "إن الله خلق الخلق فكانوا قبضتين فقال للتي في يمينه ادخلوا الجنة هنيئا وقال للتي في اليد الأخرى ادخلوا النار ولا أبالي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تقدیر کے متعلق بحث کرنے کی ممانعت
١٥٤٣۔۔ از مسند عمر (رض)۔ یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے تقدیر کے متعلق بصرہ میں جس نے بحث آرائی کی وہ معبدالجہنی تھا تو میں حمید بن عبدالرحمن کے ہمراہ نکلا ہمارا ارادہ حج یاعمرہ کا تھا۔ ہم نے کہا کاش اگر کوئی صاحب رسول مل جائے تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق بحث کرنے والوں کے بارے میں سوال کریں تو اتفاق سے ہمارا سامنا حضرت عبداللہ بن عمر سے ہوگیا آپ (رض) مسجد میں داخل ہورہے تھے کہ ہم نے آپ کو جالیا، ہم میں سے ایک آپ کی دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب ہوگیا میرا غالب خیال یہی تھیا کہ میرا ساتھی گفتگو کرنے کا موقع مجھے دے گا لہٰذا میں نے آپ سے کہا اے ابوعبدالرحمن ہمارے دیار میں چند ایسے لوگ سرابھار رہے ہیں جو قران کی تلاوت کرتے ہیں اور علم کی باتیں کرتے ہیں پھر اور بھی ان کے کچھ حالات گنوادیے نیز یہ کہ ان کا خیال ہے کہ تقدیر کوئی وجود نہیں بلکہ ہر کام ازسرنوانجام پاتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان کو یہ خبر دے دینا کہ میرا ان سے کوئی واسطہ نہیں میں ان سے بری وروہ مجھ سے بری ہیں اور قسم ہے اس ہستی کی کہ عبداللہ بن عمر جس کی قسم اٹھایا کرتا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی شخص احد پہاڑ برابر سونے کا مالک ہو اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرڈالے ۔۔ تب بھی وہ اس کی جانب سے اس وقت تک ہرگز شرف قبولیت کو نہ پہنچے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر نے مجھے بیان کیا کہ میرے والد عمر بن خطاب نے مجھے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ کے پاس حاضرمجلس تھے کہ ایک ایساشخص ہمارے پاس آیا اس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال گھنے سیال تھے اس کے جسم پر آثار سفر نہ تھے اور ہم میں سے کوئی شخص بھی ان کو پہچانتا نہ تھا وہ اس قدر نبی کریم کے قریب آکر بیٹھا کہ اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں کے ساتھ ملادیے۔ اور آپ کی رانوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے پھر کہنے لگا کہ اے محمد مجھے اسلام کے بارے میں خبر دیجئے آپ نے فرمایا یہ کہ تم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، ماہ صیام کے روزے رکھواگرجانے کی استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو، اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا ہمیں اس کی بات سے تعجب ہوا کہ سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی اس کی تصڈیق کرتا ہے پھر استفسار کیا مجھے خبر دیجئے کہ ایمان کیا ہے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ملائکہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر، یوم آخرت پر ایمان لاؤ، اور ہر بھلی وبری تقدیر پر ایمان لاؤ کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا احسان کیا ہے فرمایا یہ کہ تم اللہ کی یوں عبادت کروگویا اسے دیکھ رہے ہو۔۔ ورنہ وہ تمہیں دیکھ ہی رہا ہے پھر کہا مجھے قیامت کے متعلق خبر دیجئے کہ کب واقع ہوگی ؟ فرمایا س بارے میں مسوئل سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا، پھر کہا اچھا مجھے اس کی علامات کے متعلق خبر دیجئے فرمایا یہ کہ باندی اپنی مالکہ کو جنم دینے لگے اور عمارتیں فلک بوس ہونے لگیں ، پھر وہ سائل شخص چلا گیا پھر میں کچھ وقت ٹھہرارہا، پھر آپ نے پوچھا اے عمر جانتے ہو سائل کون تھا عرض کیا اللہ اور س کا رسول بہترجانتے ہیں فرمایا یہ جبرائیل تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، مسلم، ابی داؤد، ترمذی، النسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، ابوعوانہ، صحح ابن حبان، ق فی الدلائل۔
ابن خزیمہ اور ابن حبان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تم نماز قائم کرو، زکوۃ اد اکرو، حج وعمرہ کرو، غسل پاکی کرو، اور وضوء کو تام کرو اور ماہ صیام کے روزے رکھو، اور ابن حبان میں اس بات کا اضافہ ہے لیکن اگر تم چاہوتو میں تم کو اس کی علامات کی خبردے دیتاہوں وہ یہ کہ جب تم دیکھو کہ فقیر لوگ ، ننگے پاؤں والے ننگے جسموں والے لمبی لمبی عمارتوں کے بنانے میں مقابلہ بازی کررہے ہیں اور وہ بادشاہ بن بیٹھے ہیں پوچھا گیا کہ مالعالہ الحفاٹ العراۃ، یعنی یہ فقیر لوگ ننگے پاؤں والے ننگے جسموں والے کون ہیں ؟ فرمایا عرب۔ اور یہ کہ تم باندی کو دیکھو کہ وہ اپنی مالکہ کو جنم دینے لگی ہے تو جان لو کہ یہ قیامت کی علامات ہیں الجامع ترمذی کے الفاظ یہ ہیں پھر نبی کریم مجھ سے تین یوم بعد ملے تو مجھ سے دریافت کیا اے عمرجانتے ہو سائل کون تھا ؟ پھر فرمایا یہ جبرائیل تھے تمہیں تمہارے دین کی بات سکھانے آئے تھے اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں اور باندیاں اپنی آقاؤں کو جنم دینے لگیں گی پھر آپ نے فرمایا میرے پاس اس سائل کو تلاش کرکے لاؤ صحابہ کرام اجمعین نے اس کو تلاش کیا لیکن وہاں اس کے کچھ آثار بھی نہ پاسکے۔ پھر آپ ایک دن یادویاتین دنوں تک ٹھہرے رہے پھر پوچھا اے ابن خطاب جانتے ہو وہ سائل کون تھا ؟ پھر آگے وہی تفصیل ہے۔
” باندیاں اپنی آقاؤں کو جنم دینے لگیں گی ، کا مطلب ہے کہ ماں جس اولاد کو جنم دے گی وہ اولاد ماں کی اس قدر نافرمان اور سرکش اور اس پر اپنا حکم چلانے والی ہوگی ، گویا ماں اس کی باندی ہے اور وہ اولاد اس کی آقا ہے۔ گویا ماں نے بیٹے کو کیا جنم دیا، بلکہ اپنے مالک کو جنم دے دیا یہ مطلب ہے کہ باندیاں اپنی آقاؤں کو جنم دینے لگیں گی۔
حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا جب تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان کو یہ خبر دے دینا کہ میرا ان سے کوئی واسطہ نہیں میں ان سے بری وروہ مجھ سے بری ہیں اور قسم ہے اس ہستی کی کہ عبداللہ بن عمر جس کی قسم اٹھایا کرتا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی شخص احد پہاڑ برابر سونے کا مالک ہو اور وہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرڈالے ۔۔ تب بھی وہ اس کی جانب سے اس وقت تک ہرگز شرف قبولیت کو نہ پہنچے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر نے مجھے بیان کیا کہ میرے والد عمر بن خطاب نے مجھے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ کے پاس حاضرمجلس تھے کہ ایک ایساشخص ہمارے پاس آیا اس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال گھنے سیال تھے اس کے جسم پر آثار سفر نہ تھے اور ہم میں سے کوئی شخص بھی ان کو پہچانتا نہ تھا وہ اس قدر نبی کریم کے قریب آکر بیٹھا کہ اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں کے ساتھ ملادیے۔ اور آپ کی رانوں پر اپنے ہاتھ رکھ دیے پھر کہنے لگا کہ اے محمد مجھے اسلام کے بارے میں خبر دیجئے آپ نے فرمایا یہ کہ تم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، ماہ صیام کے روزے رکھواگرجانے کی استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو، اس نے کہا آپ نے سچ فرمایا ہمیں اس کی بات سے تعجب ہوا کہ سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی اس کی تصڈیق کرتا ہے پھر استفسار کیا مجھے خبر دیجئے کہ ایمان کیا ہے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ملائکہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر، یوم آخرت پر ایمان لاؤ، اور ہر بھلی وبری تقدیر پر ایمان لاؤ کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا احسان کیا ہے فرمایا یہ کہ تم اللہ کی یوں عبادت کروگویا اسے دیکھ رہے ہو۔۔ ورنہ وہ تمہیں دیکھ ہی رہا ہے پھر کہا مجھے قیامت کے متعلق خبر دیجئے کہ کب واقع ہوگی ؟ فرمایا س بارے میں مسوئل سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا، پھر کہا اچھا مجھے اس کی علامات کے متعلق خبر دیجئے فرمایا یہ کہ باندی اپنی مالکہ کو جنم دینے لگے اور عمارتیں فلک بوس ہونے لگیں ، پھر وہ سائل شخص چلا گیا پھر میں کچھ وقت ٹھہرارہا، پھر آپ نے پوچھا اے عمر جانتے ہو سائل کون تھا عرض کیا اللہ اور س کا رسول بہترجانتے ہیں فرمایا یہ جبرائیل تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، مسلم، ابی داؤد، ترمذی، النسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، ابوعوانہ، صحح ابن حبان، ق فی الدلائل۔
ابن خزیمہ اور ابن حبان کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تم نماز قائم کرو، زکوۃ اد اکرو، حج وعمرہ کرو، غسل پاکی کرو، اور وضوء کو تام کرو اور ماہ صیام کے روزے رکھو، اور ابن حبان میں اس بات کا اضافہ ہے لیکن اگر تم چاہوتو میں تم کو اس کی علامات کی خبردے دیتاہوں وہ یہ کہ جب تم دیکھو کہ فقیر لوگ ، ننگے پاؤں والے ننگے جسموں والے لمبی لمبی عمارتوں کے بنانے میں مقابلہ بازی کررہے ہیں اور وہ بادشاہ بن بیٹھے ہیں پوچھا گیا کہ مالعالہ الحفاٹ العراۃ، یعنی یہ فقیر لوگ ننگے پاؤں والے ننگے جسموں والے کون ہیں ؟ فرمایا عرب۔ اور یہ کہ تم باندی کو دیکھو کہ وہ اپنی مالکہ کو جنم دینے لگی ہے تو جان لو کہ یہ قیامت کی علامات ہیں الجامع ترمذی کے الفاظ یہ ہیں پھر نبی کریم مجھ سے تین یوم بعد ملے تو مجھ سے دریافت کیا اے عمرجانتے ہو سائل کون تھا ؟ پھر فرمایا یہ جبرائیل تھے تمہیں تمہارے دین کی بات سکھانے آئے تھے اور بخاری کے الفاظ یہ ہیں اور باندیاں اپنی آقاؤں کو جنم دینے لگیں گی پھر آپ نے فرمایا میرے پاس اس سائل کو تلاش کرکے لاؤ صحابہ کرام اجمعین نے اس کو تلاش کیا لیکن وہاں اس کے کچھ آثار بھی نہ پاسکے۔ پھر آپ ایک دن یادویاتین دنوں تک ٹھہرے رہے پھر پوچھا اے ابن خطاب جانتے ہو وہ سائل کون تھا ؟ پھر آگے وہی تفصیل ہے۔
” باندیاں اپنی آقاؤں کو جنم دینے لگیں گی ، کا مطلب ہے کہ ماں جس اولاد کو جنم دے گی وہ اولاد ماں کی اس قدر نافرمان اور سرکش اور اس پر اپنا حکم چلانے والی ہوگی ، گویا ماں اس کی باندی ہے اور وہ اولاد اس کی آقا ہے۔ گویا ماں نے بیٹے کو کیا جنم دیا، بلکہ اپنے مالک کو جنم دے دیا یہ مطلب ہے کہ باندیاں اپنی آقاؤں کو جنم دینے لگیں گی۔
1543 - ومن مسند عمر رضي الله عنه عن يحيى بن يعمر قال: "كان أول من قال في القدر بالبصرة معبد الجهني، فانطلقت أنا وحميد بن عبد الرحمن الحميري حاجين أو معتمرين، فقلنا، لو لقينا أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألناه عما يقول هؤلاء في القدر، فوافق لنا عبد الله بن عمر بن الخطاب داخلا المسجد فاكتنفته أنا وصاحبي أحدنا عن يمينه والآخر عن شماله فظننت أن صاحبي سيكل الأمر (2) إلي فقلت أبا عبد الرحمن إنه قد ظهر قبلنا أناس يقرؤون القرآن يتفقرون (3) العلم وذكر من شأنهم وإنهم يزعمون أن لا قدر وأن الأمر أنف (4) قال إذا لقيت أولئك فأخبرهم أني بريء منهم وأنهم برآء مني والذي يحلف به عبد الله بن عمر لو أن لأحدهم مثل أحد ذهبا فأنفقه ما قبل الله منه حتى يؤمن بالقدر ثم قال حدثني أبي عمر بن الخطاب قال: بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم إذ طلععلينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر السفر ولا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأسند ركبتيه إلى ركبتيه ووضع كفيه على فخذيه وقال: يا محمد أخبرني عن الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا قال صدقت فعجبنا له يسأله ويصدقه قال فأخبرني عن الإيمان قال أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره قال: صدقت، قال فأخبرني عن الإحسان قال أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك، قال فأخبرني عن الساعة قال: ما المسؤول عنها بأعلم من السائل، قال: فأخبرني عن أماراتها، قال أن تلد المرأة ربتها وأن ترى الحفاه العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان ثم انطلق فلبثت مليا ثم قال يا عمر أتدري من السائل قلت الله ورسوله أعلم قال فإنه جبريل أتاكم يعلمكم دينكم". (ش حم م د ت ن هـ وابن جرير وابن خزيمة وأبو عوانة حب ق في الدلائل) وفي رواية ابن خزيمة وحب "أن تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج وتعتمر وتغتسل من الجنابة وأن تتم الوضوء
وتصوم رمضان" وفي رواية (حب) "ولكن أن شئت نبأتك عن أشراطها إذا رأيت العالة من الحفاة العراة يتطاولون في البنيان وكانوا ملوكا، قيل ما العالة الحفاة العراة قال العرب وإذا رأيت الأمة تلد ربتها وذلك من أشراط الساعة" ولفظ (ت) فلقيني النبي صلى الله عليه وسلم بثلاث فقال: يا عمر أتدري من السائل ذاك جبريل أتاكم يعلمكم مقالة دينكم" وفي لفظ (ق) وولدت الإماء أربابهن ثم قال علي بالرجل فطلبوه فلم يروا شيئا فلبث يوما أو يومين أو ثلاثة ثم قال يا ابن الخطاب أتدري من السائل؟ عن كذا وكذا".
وتصوم رمضان" وفي رواية (حب) "ولكن أن شئت نبأتك عن أشراطها إذا رأيت العالة من الحفاة العراة يتطاولون في البنيان وكانوا ملوكا، قيل ما العالة الحفاة العراة قال العرب وإذا رأيت الأمة تلد ربتها وذلك من أشراط الساعة" ولفظ (ت) فلقيني النبي صلى الله عليه وسلم بثلاث فقال: يا عمر أتدري من السائل ذاك جبريل أتاكم يعلمكم مقالة دينكم" وفي لفظ (ق) وولدت الإماء أربابهن ثم قال علي بالرجل فطلبوه فلم يروا شيئا فلبث يوما أو يومين أو ثلاثة ثم قال يا ابن الخطاب أتدري من السائل؟ عن كذا وكذا".
তাহকীক: