কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১৫০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠٤۔۔ از مسند عثمان (رض) سلیم ابی عامر سے مروی ہے کہ الحمراء کا ایک وفد حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور وہ اس بات پر آپ (رض) سے بیعت ہوئے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے نماز قائم کریں گے زکوۃ ادا کریں گے۔ رمضان کے روزے رکھیں گے اور مجوسیوں کی عید میں کسی طرح کی بھی شرکت سے باز رہیں گے۔ پھر جب انھوں نے ان باتوں پر اقرار کرلیا تو آپ (رض) نے ان سے بیعت لے لی۔ مسنداحمد، فی السنہ۔
1504 - (ومن مسند عثمان رضي الله عنه) عن سليم أبي عامر "أن وفد الحمراء أتوا عثمان فبايعوه على أن لا يشركوا بالله شيئا ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة ويصوموا رمضان ويدعوا عيد المجوس فلما قالوا نعم بايعهم". (حم في السنة) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠٥۔۔ از مسند اسود بن خلف الخزاعی ۔ محمد بن الاسود بن خلف سے مروی ہے کہ ان کے والد اسود نے ان کو قرن عصقلہ کے پاس یہ روایت بیان کی کہ انھوں نے نبی کریم کو لوگوں سے بیعت لیتے ہوئے دیکھا کہ مرد اور عورتیں ، بچے اور بوڑھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اسلام اور شہادتین پر آپ سے بیعت ہوئے۔ روایت کے لیے ایک راوی عبداللہ بن عثمان بن خثیم کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ شہادت کیا چیز ہے ؟ تو محمد بن الاسود حجرنے فرمایا شہادت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے رسول ہیں۔ مسنداحمد، البغوی، ابن السکن، المستدرک للحاکم، ابونعیم۔
1505 - (ومن مسند أسود بن خلف الخزاعي) عن محمد بن الأسود بن خلف أن أباه حدثه عند قرن عصقلة قال "فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم يبايع الناس فجاء الرجال والنساء والصغار والكبار فبايعوه على الإسلام والشهادة قال عبد الله بن عثمان بن خثيم قلت وما الشهادة فأخبرني محمد بن الأسود قال: الشهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله". (حم والبغوي وابن السكن ك وأبونعيم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠٦۔۔ ازمسند انس بن مالک ۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ میں اس ہاتھ سے آپ سے اپنی سعی و امکان بھرسمع وطاعت پر بیعت ہوا۔ ابن جریر۔
1506 - (ومن مسند أنس بن مالك) عن أنس قال: "بايعت النبي صلى الله عليه وسلم بيدي هذه على السمع والطاعة فيما استطعت". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠٧۔۔ از مسند جریر۔ حضرت جریر (رض) سے مروی ہے کہ ہم آپ سے انہی باتوں پر بیعت ہوئے جن باتوں پر عورتیں آپ سے بیعت ہوئیں اور جس نے مرتے دم تک ان باتوں میں کمی کوتاہی نہ کی۔ اور آپ اس کے لیے جنت کے ضامن بنے۔ اور جو اس حال میں مرا کہ اس سے کوتاہی سرزد ہوئی تھی ، لیکن اس پر حد خداوندی کا اجراء ہوگیا تھا تو وہ حد اس کے لیے کفارہ ثابت ہوگی۔ اور جو اس حال میں مرا کہ اس سے کوئی کوتاہی سرزد ہوئی تھی اور اس پر پردہ پڑا رہا تو اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمہ ہے۔ ابن جریر ۔ الکبیر للطبرانی۔
1507 - (ومن مسند جرير) عن جرير قال: " بايعنا النبي صلى الله عليه وسلم على مثل ما بايع عليه النساء فمن مات لم يأت منهن شيئا ضمن له الجنة ومن مات وقد أتى منهن وقد أقيم عليه الحد فهو كفارته ومن مات وأتى شيئا فستر عليه فعلى الله حسابه ". (ابن جرير طب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠٨۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ حضور نے مجھ سے نماز اور ہر مسلمان سے خیرخواہی کا برتاؤ رکھنے پر بیعت لی۔ ابن جریر (رض) ۔
1508 - عن جرير قال: "بايعني رسول الله صلى الله عليه وسلم على الصلاة والنصح لكل مسلم". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلمان پر خیرخواہی کا حکم
١٥٠٩۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ میں حضور سے اسلام پر بیعت ہونے پر حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا مزید اور یہ کہ تم ہر مسلمان سے خیرخواہی کا سلوک رکھو گے۔ ابن جریر (رض) ۔
1509 - عن جرير قال "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم أبايعه على الإسلام فقال: والنصح لكل مسلم". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلمان پر خیرخواہی کا حکم
١٥١٠۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں سمع وطاعت پر آپ کی بیعت کرنا چاہتاہوں۔۔ خواہ مجھے خوشگوار ہو یا نہ ہو۔ آپ نے فرمایا کیا تم اس کی استطاعت رکھتے ہو یا فرمایا کیا تم اس کی طاقت رکھتے ہو ؟ یوں کہنے سے احتراز کرو اور یوں کہو جس قدر مجھ سے ہوسکا۔۔ پھر آپ نے مجھے منجملہ دیگرباتوں کے ساتھ اس بات پر بیعت فرمالیا کہ تمام مسلمانوں سے خیرخواہی کا برتاؤ کرو گے۔ ابن جریر۔
1510 - عن جرير قال "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت أبايعك على السمع والطاعة فيما أحببت وفيما كرهت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أتسطيع ذلك أو تطيق ذلك؟ فاحترز قل فيما استطعت فقلت فيما استطعت فبايعني والنصح للمسلمين". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلمان پر خیرخواہی کا حکم
١٥١١۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اپنا دست اقدس پھیلائیے تاکہ ہم آپ کی بیعت کریں ؟ اور ساتھ میں شرط بھی عائد فرما دیجئے کیونکہ آپ مجھ سے زیادہ شرط کو جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو مسلمانوں کے خیرخواہ رہو اور مشرکین سے جدائی اختیار کرو۔ ابن جریر۔
1511 - عن جرير قال قلت يا رسول الله ابسط يدك فلنبايعك واشترط فأنت أعلم بالشرط مني قال: "أبايعك على أن تعبد الله لا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتنصح للمسلمين وتفارق الشرك". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلمان پر خیرخواہی کا حکم
١٥١٢۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ آپ نے ان سے اس بات پر بیعت لی کہ مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی کا سلوک رکھو گے اور کافروں سے قتال جاری رکھو گے۔ ابن جریر۔
1512 - عن جرير "أن النبي صلى الله عليه وسلم بايعه على أن ينصح للمسلم ويقاتل الكافر". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلمان پر خیرخواہی کا حکم
١٥١٣۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ میں حضور سے اس بات پر بیعت ہوا کہ نماز قائم کروں گا زکوۃ ادا کروں گا اور ہر مسلمان سے خیرخواہی رکھوں گا۔ ابن جریر۔
1513 - عن جرير قال: " بايعت النبي صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة وإيتاء الزكاة والنصح لكل مسلم". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر مسلمان پر خیرخواہی کا حکم
١٥١٤۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ میں حضور سے سمع وطاعت اور ہر مسلمان سے خیرخواہی رکھنے پر بیعت ہوا۔ ابن جریر۔
1514 - عن جرير قال: "بايعت النبي صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة والنصح للمسلمين. (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥١٥۔۔ حضرت جریر سے مروی ہے کہ میں حضور کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا اے جریراپناہاتھ دراز کرو، حضرت جریر نے عرض کیا کس بات کے لیے ؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی ذات اللہ کے سپرد کرو اور ہر مسلمان سے خیرخواہی رکھو۔ حضرت جریر نے رخصت طلب کی یارسول اللہ جس کی میں استطاعت رکھوں ؟ تو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی، یہ حضرت جریر (رض) کی عقل مندی تھی جس کی وجہ سے ان کے بعد دوسرے لوگوں کے لیے بھی یہ رخصت متعین ہوگئی۔ الکبیر للطبرانی (رح) ۔
1515 - عن جرير "أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: مد يدك يا جرير فقال على مه قال: "أن تسلم وجهك لله والنصيحة لكل مسلم فأذن له وكان رجلا عاقلا فقال يا رسول الله فيما استطعت و فكانت رخصة للناس بعده". (طب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥١٦۔۔ ازمسند سہل بن سعد الساعی، سہل بن سعد سے مروی ہے کہ میں اور ابوذر ، عبادہ ، بن صامت ابوسعید خدری ، محمد (رض) بن مسلمہ، اور ایک اور چھٹا شخص تھا ہم حضور سے اس بات پر بیعت ہوئے کہ ہمیں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کنندہ کی ملامت کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔ لیکن چھٹے شخص نے اس بیعت سے ہاتھ کھینچ لیا اور آپ نے بھی اس سے بیعت واپس لے لی۔ الشاشی، ابن عساکر۔
1516 - (ومن مسند سهل بن سعد الساعدي) عن سهل بن سعد قال: "بايعت النبي صلى الله عليه وسلم أنا وأبو ذر وعبادة بن الصامت وأبو سعيد الخدري ومحمد بن مسلمة وسادس على أن لا تأخذنا في الله لومة لائم وأما السادس فاستقاله فأقاله". (الشاشي، كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥١٧۔۔ از مسند عبادہ (رض) بن صامت۔ عبادہ بن الولید ، عبادہ (رض) بن صامت سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے آپ کی اس بات پر بیعت کی کہ تنگدستی ہو یا فراخی، خوشگواری ہو یا ناگواری اور خواہ ہم پر لوگوں کو ترجیح دی جائے۔۔ ہر حال میں ہم امیر وقت کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور اہل حکومت سے حکومت کے لیے منازعت نہ کریں گے اور جہاں کہیں ہوں گے حق بات کہنے سے دریغ نہ کریں گے اللہ کے لیے کسی کام میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال ہرگز نہ کریں گے۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، الخطیب فی المتفق والمتفرق۔
1517 - (ومن مسند عبادة بن الصامت) عن عبادة بن الوليد ابن عبادة بن الصامت قال: " بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره والأثرة علينا وأن لا ننازع الأمر أهله وأن نقول الحق حيثما كنا لا نخاف في الله لومة لائم". (ش وابن جرير والخطيب في المتفق والمفترق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥١٨۔۔ عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ عقبہ اولی میں ہم کل گیارہ افراد تھے ہم حضور سے عورتوں کی بیعت پر بیعت ہوئے اور ابھی جہاد فرض نہ ہوا تھا تو ہم نے بیعت کی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے چوری نہ کریں گے بدکاری نہ کریں گے کوئی جھوٹ گھڑ کر نہ لائیں گے اور اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے۔ اور کسی نیک بات میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گے سو جس نے ان کی پاسداری کی۔۔ اس کے لیے جنت ہے اور جس نے کچھ دھوکا دہی سے کام لیا اس کا حساب اللہ پر ہے چاہے تو عذاب دے یا مغفرت فرمادے پھر آئندہ سال بھی اس بیعت کی تجدید کرنے کے لیے واپس آئے۔ ابن اسحاق ، ابن جریر ، ابن عساکر۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عورتوں سے بیعت لینے کا حکم فرمایا اور اس میں جن جن باتوں پر بیعت لی گئی مردوں سے بھی ان باتوں پر بیعت لی جاتی تھی یہی مطلب ہے کہ ہم عورتوں کی بیعت پر بیعت ہوئے گا۔
1518 - عن عبادة بن الصامت قال: "كنا أحد عشر رجلا في العقبه الأولى فبايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بيعة النساء قبل أن يفرض علينا الحرب بايعناه على أن لا نشرك بالله شيئا ولا نسرق ولا نزني ولا نأتي ببهتان نفتريه بين أيدينا وأرجلنا ولا نقتل أولادنا ولا نعصيه في معروف فمن وفى فله الجنة ومن غشى شيئا فأمره إلى الله إن شاء عذبه وإن شاء غفر له ثم انصرفوا العام المقبل عن بيعتهم". (ابن إسحاق وابن جرير كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥١٩۔۔ عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ فرمایا میں ان ساتھیوں میں سیہوں جنہوں نے عقبہ اولی میں حضور کی بیعت کی اور فرمایا کہ ہم ان باتوں پر آپ سے بیعت ہوئے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے چوری نہ کریں گے بدکاری نہ کریں گے اور کسی جان کو قتل نہ کریں گے جس کو اللہ نے محترم قرار دیا ہو مگر کسی حق کی وجہ سے اور نہ لوٹ مار کریں گے اور نہ نافرمانی کریں گے اور اگر ہم ان پر عمل درآمد رہے تو ہمارے لیے جنت ہے اگر کسی چیز میں خیانت کے مرتکب ہوئے تو اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ صحیح مسلم۔
1519 - عن عبادة بن الصامت قال: "أنا من النقباء الذين بايعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: بايعنا على أن لا نشرك بالله شيئا ولا نسرق ولا نزني ولا نقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا ننهب ولا نعصي بالجنة إن فعلنا ذلك، فإن غشينا من ذلك شيئا كان قضاؤه إلى الله". (م) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥٢٠۔۔ عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ ہم سے رسول اللہ نے یونہی عہد پیمان لیاجس طرح عورتوں سے لیا تھا، یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے بدکاری نہ کرو گے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور ایک دوسرے پر بہتان طرازی نہ کرو گے کسی نیکی کا حکم کروں گا تو میری نافرمانی نہ کرو گے۔ اور جو کسی قابل حد جرم کا مرتکب ہوا اور اس کو دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو یہ سزا اس کے گناہ کے لیے کفارہ ثابت ہوگی اور جس کی سزا آخرت پر ٹل گئی ۔۔ تو اس کا حساب اللہ پر ہے چاہے تو عذاب سے دوچار کرے یا مغفرت فرمادے ۔ دوسرے الفاظ میں چاہے رحم فرمادے۔ الرویانی، ابن جریر، ابن عساکر۔
1520 - عن عبادة بن الصامت قال: أخذ علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم كما أخذ على النساء " أن لا تشركوا بالله شيئا ولا تزنوا ولا تقتلوا أولادكم ولا يعضه بعضكم بعضا ولا تعصوني في معروف آمركم به فمن أصاب منكم حدا فعجلت له العقوبة وفي لفظ عقوبته فهو كفارة ومن أخرت عقوبته فأمره إلى الله إن شاء عذبه وإن شاء غفر له وفي لفظ وإن شاء رحمه. (الرؤياني وابن جرير كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥٢١۔۔ عبادہ بن صامت سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ کے پاس حاضر تھے آپ نے فرمایا کہ میری اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کیس اتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے چوری نہ کرو گے بدکاری نہ کرو گے جس نے ان عہد کو نبھایا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو ان میں سے کسی بات کا منکر ہوا اور دنیاہی میں اس کو سزا دے دی گئی تو یہ اسزا اس کے لیے کفارہ ہوگی۔ اور جو کسی بات کا مرتکب تو ہوا مگر اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی تو اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے چاہے تو عذاب سے دوچار کرے یا مغفرت فرمادے۔ ابن جریر۔
1521 - عن عبادة بن الصامت قال: " كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا ولا تسرقوا ولا تزنوا فمن وفى منكم فأجره على الله ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب به كان كفارة له ومن أصاب من ذلك شيئا فستره الله كان إلى الله إن شاء عذبه وإن شاء غفر له". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥٢٢۔۔ ازمسند عبداللہ بن عمر ابن عمر سے مروی ہے کہ جب حضور سے سمع وطاعت پر بیعت ہوتے تھے تو آپ ہم کو تلقین فرماتے تھے کہ استطاعت بھر کی قید عائد کرلو۔ ابن جریر۔
1522 - (ومن مسند ابن عمر رضي الله عنه) عن ابن عمر قال "كنا إذا بايعنا النبي صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة يلقننا هو فيما استطعت". (ابن جرير) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৫২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاقت کے مطابق اطاعت گذاری
١٥٢٣۔۔ ابن عمر سے مروی ہے کہ جب حضور سے سمع وطاعت پر بیعت ہوتے تھے تو آپ تلقین فرماتے تھے کہ جس قدر تم میں استطاعت ہے۔ النسائی۔ از مسند عتبہ بن عبدالسلمی ، عتبہ بن عبید سے مروی ہے کہ میں رسول اکرم سے سات بار بیعت ہوا پانچ طاعت پر اور دومحبت پر تھیں۔ البغوی ، ابونعیم، ابن عساکر۔
1523 - عن ابن عمر قال: " كنا نبايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة فيقول: لنا فيما استطعتم". (ن) .
tahqiq

তাহকীক: