কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৪৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٨٤۔۔ ابی عون محمد بن عبیدالثقفی ، حضرت عمر حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں دونوں نے فرمایا جب کوئی شخص مسلمان ہوجائے اور وہ زمین کا مالک ہو تو ہم اس سے جزیہ لیناختم کردیں گے فقط زمین کا خراج وصول کریں گے ۔ ابن ابی شیبہ۔ مسلمان کفار پر طاقت کے بل غلبہ حاصل کرلیں اور علاقہ کو فتح کرلیں تو امام وقت کو دواختیار حاصل ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ کافروں سے زمین لے لے اور مسلمانوں میں تقسیم کردے ۔ دوسراختیار یہ ہوتا ہے کہ کافروں کو ہی زمین واپس کردے اور ان کے افراد پر فردا فردا کچھ لازم کردے اور ان کی زمینوں پر خراج لازم کردے یعنی پیداوار میں سے کچھ حصہ۔ بدایہ، ج ١۔ ص، ١١٦۔
1484 - عن أبي عون محمد بن عبيد الثقفي عن عمر وعلي قالا "إذا أسلم وله أرض وضعن عنه الجزية وأخذنا منه خراجها". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٨٥۔۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے فرمایا کہ اگر کسی مشرک کے پاس کوئی غلام ہوپھروہ غلام اسلام قبول کرلے تو اس غلام کو اس کے مشرک مالک سے چھین لیا جائے گا اور کسی مسلمان کے ہاتھوں فروخت کردیا جائے گا اور اس کی قیمت اس مشرک مالک کو لوٹا دی جائے گی۔ ابن ابی شیبہ۔
1485 - عن عمر قال: "إذا كان المشرك مملوك فأسلم انتزع منه فبيع للمسلمين ورد ثمنه على صاحبه". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٨٦۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے فرمایا کہ اسلام میں گرجاگھری اور خصی ہوجانے کا کوئی تصور نہیں۔ ابوعبیدہ۔ گرجاگھری سے مقصود دنیائے سے کٹ کر بالکل علیحدہ ہوجانے کی مذمت مقصود ہے اور خصی ہونے سے ممانعت کا مطلب ہے کہ آدمی نکاح سے اجتناب کرنے کے لیے خصی ہوجائے ۔ یہ دونوں چیزیں نصاری نے خود اختیار کی تھیں، اسلام میں ان کا کوئی تصور نہیں ہے۔
1486 - عن عمر قال: "لا كنيسة في الإسلام ولا خصاء". (أبو عبيدة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٨٧۔۔ ابوامامہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) بن الخطاب نے فرمایا گھوڑوں کو جنگ کے لیے سدھاؤ، اور عجمیوں کے اخلاق سے اجتناب کرو خنزیروں کے ماحول سے بچو۔ اور اس بات سے قطعا احتراز کرو کہ تمہارے درمیان کہیں صلیب آویزاں نہ ہو۔ ابوعبیدہ۔
1487 - عن أبي أمامة أن عمر بن الخطاب قال: "أدبوا الخيل وإياك وأخلاق الأعاجم ومجاورة الخنازير وأن يرفع بين أظهركم الصليب". (أبو عبيدة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٨٨۔۔ عمرو بن دینار سے مروی ہے کہ اہل شام کے ایک شیخ نے ان کو خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک اہل کتاب عورت کو کسی مسلمان سے حاملہ ہوئی تھی اس کے شکم کے مسلمان بچہ کی وجہ سے مسلمانوں ہی کے قبرستان میں دفن کردیا۔ المصنف لعبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ، بخاری و مسلم۔
1488 - عن عمرو بن دينار أن شيخا من أهل الشام أخبره عن عمر بن الخطاب "أنه دفن امرأة من أهل الكتاب حبلى من مسلم في مقبرة المسلمين من أجل ولدها". (عب ش ق) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٨٩۔۔ ازمسندا بن عمر (رض)۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ حضور نے خالد بن الولید کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا خالد بن الولید نے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ لیکن وہ اپنی زبان کی وجہ سے اچھی طرح یوں کہنے پر قادر نہ ہوسکے کہ ، اسلمنا، یعنی ہم مسلمان ہوگئے۔ بلکہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلنے لگے صبانا، صبانا، یعنی ہم اپنے پرانے دین سے پھرگئے ہم اپنے پرانے دین سے پھرگئے حضرت خالد بن ولید ان کا مطلب سمجھ نہ سکے انھوں نے دین قبول کرنے سے انکار کردیا ہے وہ یہی سمجھے۔ لہٰذا آپ نے ان کو قتل کرنے اور قیدی بنانے لگ گئے اور ہم میں سے ہر شخص ایک ایک قیدی حوالہ کردیا۔ حتی کہ ایک دن خالد بن ولید کہنے لگے کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کرے میں نے کہا اللہ کی قسم میں اپنے قیدی کو ہرگز قتل نہ کروں گا۔ اور نہ میرے حامی ساتھیوں میں سے کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ ہم اسی حال میں حضور کے پاس پہنچے اور خالد بن ولید کا ماجرا آپ کی خدمت میں ذکر کیا گیا۔ حضور نے سنتے ہی اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے اور کہا اے اللہ میں خالد کے اس فعل سے بری الذمہ ہوں ۔ اے اللہ میں خالد کے اس فعل سے بری الذمہ ہوں۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1489 - (ومن مسند ابن عمر) عن عمر قال: "بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد إلى بني جذيمة فدعاهم إلى الإسلام فلم يحسنوا أن يقولوا أسلمنا فجعلوا يقولون صبأنا صبأنا فجعل خالد بهم قتلا وأسرا ودفع إلى كل رجل منا أسيرا حتى إذ كان يوما أمرنا خالد أن يقتل كل منا أسيره فقلت والله لا أقتل أسيري ولا يقتل رجل من أصحابي أسيره فقدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له صنيع خالد فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ورفع يديه اللهم إني أبرأ إليك مما صنع خالد اللهم إني أبرأ إليك مما صنع خالد". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٩٠۔۔ ازمسند ابی الدرداء (رض) ۔ ابی الدرداء سے منقول ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ ابن عساکر۔ داجہ یہاں مہمل المغنی ہے جس طرح پانی وانی میں وانی غیرمقصود لفظ ہے الغریب لابن قتیبہ ج ١ ص ٤١٠
1490 - (ومن مسند أبي الدرداء) عن أبي الدرداء قال: "الإيمان يزيد وينقص". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
1491 ۔۔ از مسند ابی طویل۔۔ حضرت ابوالطویل سطر الممد ودیاشطب الممد سے مروی ہے کہ وہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ آپ کی رائے ہے کہ اگر کسی شخص نے ہر طرح کے گناہ انجام دیے ہوں ، کوئی گناہ اس کے کرنے سے نہ رہا ہو کوئی خواہش نفسانی ایسی نہ ہو جس کو اس نے لپک کر پورا نہ کیا ہو۔ تواب فرمائیے کہ کیا ایسے شخص کے لیے بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے ؟ فرمایا کیا تم مسلمان ہو ؟ عرض کیا میں شہادت دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں حضور نے فرمایا اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اس نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اسی طرح اللہ اکبر کہتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ رواہ ابن عساکر۔
فائدہ۔۔ داجہ یہاں مہمل المعنی ہے جس طرح پانی وانی میں وانی غیر مقصود لفط ہے۔ الغریب لابن قتیبہ ج 1 ص 410
فائدہ۔۔ داجہ یہاں مہمل المعنی ہے جس طرح پانی وانی میں وانی غیر مقصود لفط ہے۔ الغریب لابن قتیبہ ج 1 ص 410
1491 - (ومن مسند أبو طويل) عن أبي طويل سطر الممدود أنه أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "أرأيت رجلا عمل الذنوب كلها فلم يترك منها شيئا وهو في ذلك لم يترك حاجة ولا داجة إلا اقتطعها بيمينه فهل لذلك من توبة قال: "فهل أسلمت أما أنا فأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأنك رسوله قال: نعم قال: الله أكبر، فما زال يكبر حتى توارى". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٩٢۔۔ مسندعلی (رض) ۔ ابی الھیاج الاسدی سے مروی ہے کہ حضرت علی نے مجھے فرمایا ، میں تم کو اسی کام کے لیے بھیج رہاہوں جس کام کے لیے حضور نے مجھے بھیجا تھا یعنی تم جاؤ اور کسی گھر میں کوئی مورتی نہ چھوڑو مگر اس کا نام ونشان تک مٹاڈالو، اور نہ کسی قبر کے قبہ کو اونچا چھوڑو مگر اس کو زمین کے برابر کردو۔ ابوداؤد الطیالسی، مسنداحمد، العدنی، السنن لسعید، السنن لابی داؤد، الصحیح للترمذی، الدورقی، ابن جریر۔
1492 - (مسند علي رضي الله عنه) عن أبي الهياج الأسدي قال: قال علي: "أبعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا تدع تمثالا في بيت إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته". (ط حم والعدني ص د ت والدورقي وابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٩٣۔۔ ازمسند طلق (رض) بن علی۔ طلق (رض) بن علی فرماتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے دیس میں ایک گرجاگھر ہے۔ ہمیں آپ اپناوضو کا بچاہوا پانی عطا فرمائیں ۔ آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا اور وضو شروع کردیا اور کلی کرکے ہمارے برتن میں ڈال دی، پھر فرمایا کہ یہ اپنے ساتھ اپنے علاقہ میں لے جاؤ اور وہاں پہنچ کر اس گرجا گھر کو مسمار کرڈالو، اور اس جگہ اس پانی کو چھڑک دو پھر اس جگہ مسجد بنالو۔ ابن ابی شیبہ۔
1493 - (مسند طلق بن علي) "خرجنا وفدا إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فأخبرناه أن بأرضنا بيعة لنا فاستوهبناه فضل طهوره فدعا بماء فتوضأ ثم مضمض ثم جعله لنا في أداوة فقال أخرجوا به معكم فإذا قدمتم بلدكم فأكثروا بيعتكم وانضحوا مكانها بالماء واتخذوها مسجدا". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
1494 ۔۔ ابن عباس نے ایک ایسی نصرانیہ عورت کے لیے جو کسی نصرانی کے عقد نکاح میں آئی تھی لیکن ابھی نصرانی نے اس سے مجامعت نہیں کی تھی کہ وہ عورت مشرف بااسلام ہوگئی فرمایا کہ دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور عورت کو کچھ بھی مہرنہ ملے گا۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1494 - عن ابن عباس في النصرانية تكون تحت النصراني فتسلم قبل أن يدخل بها قال "يفرق بينهما ولا صداق لها". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میاں بیوی دونوں مسلمان ہوجائیں تو نکاح برقرار رہے گا
١٤٩٥۔۔ ابن جریج سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عطا سے دریافت کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضور نے لوگوں کو اسلام سے قبل کے نکاح طلاق اور میراث پر برقرار رکھا تھا ؟ فرمایا ہمیں اس کے سوا کچھ خبر نہیں پہنچی کہ آپ نے انہی سابقہ عقدوں کو برقرار رکھا تھا۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1495 - عن ابن جريج قال: "سألت عطاء أبلغك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقر الناس على ما أدركهم عليه قبل الإسلام من طلاق أو نكاح أو ميراث قال ما بلغنا إلا ذلك". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میاں بیوی دونوں مسلمان ہوجائیں تو نکاح برقرار رہے گا
١٤٩٦۔۔ حضرت ابن عباس کے غلام حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اسلام نے چار عورتوں اور ان کے خاوندوں کے درمیان تفریق وجدائی کردی ہے۔ حبیبہ بنت ابی طلحۃ، بن عبدالعزی بن عثمان ابن عبدالدار، یہ خاتون پہلے خلف بن سعد بن عامر بن بیاضہ الخزاعی کے عقد نکاح میں تھی۔ پھر الاسود بن الخلف کے عقد نکاح میں چلی گئیں۔ اورفاختہ بنت الاسود بن عبدالمطلب بن اسد یہ پہلے امیہ بن خلف کے عقد نکاح میں تھیں پھر ابوقیس بن الاسلت ایک انصاری شخص کے عقد میں آگئیں، اور ملیکہ بنت خارج بن سنان بن ابی خارج، یہ پہلے زبان بن سنان کے عقد میں تھیں پھر منظور بن زبان بن سنان کے عقد میں آگئیں اور جب اسلام طلوع ہواتوقیس بن حارث بن عمیرہ الاسدی، کے پاس آٹھ عورتیں تھیں۔ حضور نے ان کو فرمایا کہ چارکو اپنے پاس رکھو اور بقیہ کو طلاق دیدو اور صفوان بن امیہ بن خلف کے پاس چھ عورتیں تھیں اور عروہ بن مسعود کے پاس دس عورتیں تھیں۔ اور سفیان بن عبداللہ الثقفی کے پاس نوعورتیں تھیں۔ اور ابوسفیان بن حرب کے پاس چھ عورتیں تھیں۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1496 - عن عكرمة مولى ابن عباس قال: "فرق الإسلام بين أربع وبين بعولتهن حبيبة (2) بنت أبي طلحة بن عبد العزى بن عثمان ابن عبد الدار كانت عند خلف بن سعد بن عامر بن بياضة الخزاعي فخلف عليها الأسود بن خلف وفاخته بنت الأسود بن عبد المطلب (3) بن أسد كانت عند أمية بن خلف فخلف عليها (4) أبو قيس بن الأسلت من الأنصار ومليكة بنت خارج بنت سنان بن أبي خارج (5) كانت عند زبان بن سنان فخلف عليها منظور بن زبان بن سنان وجاء الإسلام وعند قيس بن حارث بن عميرة الأسدي ثمان نسوة فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " طلق (6) وأمسك أربعا" وجاء الإسلام وعند صفوان بن أمية بن خلف ست نسوة وعند عروة بن مسعود عشر نسوة وعند سفيان بن عبد الله الثقفي تسع نسوة وعند أبي سفيان بن حرب ست نسوة. (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٤٩٧۔۔ عبداللہ بن عکیم سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر سے اپنے اس ہاتھ پر بیعت ہوا کہ میں جہاں تک ہوسکا سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔
1497 - عن عبد الله بن عكيم قال: "بايعت عمر بيدي هذه على السمع والطاعة فيما استطعت". (ابن سعد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٤٩٨۔۔ عمیر بن عطیہ اللیثی کہتے ہیں میں حضرت عمر بن خطاب سے بیعت کے لیے حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیرالمومنین اپنا ہاتھ بڑھائیے اللہ اسکوہمیشہ بلند رکھے میں آپ کی اللہ اور اس کے رسول کی سنت پر بیعت کرتا ہوں۔ حضرت عمر نے اپنا دست اقدس بڑھادیا اور فرمایا ہمارے لیے تم پر حجت ہے اور اگر تم اس بیعت کی پاسداری نہ کرو۔ اور تمہارے لیے حجت ہے اگر ہم تمہاری صحیح راہنمائی نہ کریں۔ ابن سعد۔
1498 - عن عمير بن عطية الليثي قال "أتيت عمر بن الخطاب فقلت: يا أمير المؤمنين ارفع يدك رفعها الله أبايعك على سنة الله وسنة رسوله فرفع يده فضحك فقال هي لنا عليكم ولكم علينا". (ابن سعد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٤٩٩۔۔ حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ میں مدینہ آیا اس وقت حضرت ابوبکر کی وفات ہوچکی تھی اور حضرت عمر کے کاندھوں پر خلافت کا بار آن پڑا تھا میں نے حضرت عمر سے عرض کیا اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں اس بات پر جس پر آپ کے ساتھی سے بیعت کی تھی کہ بات سنیں گے اور جہاں تک ہوسکے گا فرمان برداری کریں گے۔ طبرانی ۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ۔
1499 - عن أنس بن مالك قال "قدمت المدينة وقد مات أبو بكر واستخلف عمر فقلت لعمر ارفع يدك أبايعك على ما بايعت عليه صاحبك قبلك على السمع والطاعة ما استطعت". (ط وابن سعد، ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
1500 حضرت بشیر بن قحیف سے مروی ہے حضرت عمر بن خطاب کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے حضرت عمر سے عرض کیا اے امیرالمومنین میں آپ سے بیعت ہونے کے لیے حاضر ہواہوں آپ نے فرمایا، کیا تم میرے امیر سے بیعت نہیں ہوئے اس کی بیعت ہی میری بیعت ہے۔ ابن سعد۔
فائدہ یعنی تمہارے علاقے میں میرے مقرر کردہ عامل و امیر کی بیعت کرنا میری بیعت کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اس کو میں نے بیعت پر اپناوکیل ونائب بنایا ہے اور وکیل سے بیعت ہونا درحقیقت موکل سے بیعت ہونا ہوتا ہے۔
فائدہ یعنی تمہارے علاقے میں میرے مقرر کردہ عامل و امیر کی بیعت کرنا میری بیعت کرنے کے مترادف ہے کیونکہ اس کو میں نے بیعت پر اپناوکیل ونائب بنایا ہے اور وکیل سے بیعت ہونا درحقیقت موکل سے بیعت ہونا ہوتا ہے۔
1500 - عن بشر بن قحيف قال أتيت عمر بن الخطاب فقلت: "يا أمير المؤمنين إني أتيتك أبايعك فقال: أليس قد بايعت أميري فقد بايعتني". (ابن سعد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠١۔۔ بشر بن قحیف سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور ان الفاظ میں آپ سے بیعت ہونے لگا کہ ہراس چیز میں جو میری طبیعت کے موافق یا مخالف ہے میں آپ سے بیعت ہوتا ہوں، آپ (رض) نے فرمایا نہیں بلکہ یوں کہو کہ جس قدر مجھ سے ممکن ہے اس کے مطابق میں آپ سے بیعت ہوتاہوں ۔ ابن سعد کیونکہ ہرچیز میں کماحقہ اطاعت بجالانا بسا اوقات انسانی وسعت سے باہر ہوجاتا ہے۔ اور پھر اس صورت میں وعدہ شکنی لازم آتی ہے۔
1501 - عن بشر بن قحيف أن عمر أتاه رجل فبايعه فقال "أبايعك فيما رضيت وفيما كرهت فقال عمر لا بل فيما استطعت". (ابن سعد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠٢۔۔ بشر بن قحیف سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہوا دیکھا کہ آپ کھانا کھانے میں مشغول ہیں اسی اثنا میں ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے بیعت ہونے کے لیے حاضر ہوا ہوں آپ نے فرمایا کیا تم نے میرے امیر کی بیعت نہیں کی ؟ عرض کیا کیوں نہیں، فرمایا اس کی بیعت میری بیعت ہے۔ اس شخص نے عرض کیا، لیکن میری خواہش ہے کہ میرے ہاتھوں کو آپ کے ہاتھوں کالمس نصیب ہو۔ حاضرین مجلس بھی کھانے میں چونکہ شریک تھے اس لیے فرمایا اللہ کے بندوہڈیوں سے ساراگوشت اچھی طرح نوچ لیا کرو پھر آپ بھی اس میں منہمک ہوئے اور ہڈی صاف کرکے ایک طرف ڈال دی اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے پونچھا اور پھر فرمایا میں تم سے بیعت لیتاہوں کہ تم سنتے رہو گے اور اطاعت کرتے رہو گے۔ ابن جریر۔
1502 - عن بشر بن قحيف قال: "شهدت عمر بن الخطاب وهو يطعم فجاءه رجل فقال إني أريد أن أبايعك فقال: أو ما بايعت أميري قال بلى قال: إذا بايعت أميري فقد بايعتني قال: إني أريد أن تمس يدي يدك فأخذ عظما وقال: يا عباد الله اعرقوا فجعل يعرقه وألقاه فمسح يده إحداهما على الأخرى ثم قال أبايعك على السمع والطاعة". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ششم ۔۔ عمر (رض) کے ہاتھ پر بیعت
١٥٠٣۔۔ ام عطیہ (رض) سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ جب نبی کریم تشریف لائے تو آپ نے انصار کی خواتین کو ایک گھر میں جمع کیا اور پھر حضرت عمر کو ہمارے پاس بھیجا، حضرت عمر آکرکھڑے ہوئے اور فرمانے لگے میں تمہارے پاس تمہارے رسول کا رسول یعنی قاصد بن کر آیاہوں ۔ پھر فرمایا کیا تم ان باتوں پر میری بیعت کرتی ہو۔۔ کہ بدکاری نہ کرو گی ؟ چوری نہ کروگی ؟ اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گی ؟ اور اپنے ہاتھوں پیروں سے کوئی جھوٹ گھڑ کر نہ لاؤ گی ؟ اور کسی نیکی کے کام میں نافرمانی نہ کرو گی ؟ ہم سب عورتوں نے کہا بالکل پھر ہم نے اپنے ہاتھ کمرے میں پھیلادیے اور حضرت عمر (رض) نے کمرے سے باہراپناہاتھ دراز کرلیا۔ اور اس کے علاوہ ہم کو یہ حکم بھی دیا کہ ہم حائضہ اور قریب البلوغ عورتوں کو بھی نماز عیدین میں شریک کیا کریں۔ اور جنازوں کے پیچھے جانے سے ہم کو ممانعت فرمائی۔ اور فرمایا کہ ہم پر نماز جمعہ فرض نہیں ہے کسی عورت نے کہا کہ وہ نیکی کی بات کون سی ہے، جس کی مخالفت نہ کرنے کا ہم سے عہد لیا گیا فرمایا یہ کہ تم مرنے والوں پر نوحہ بازی نہ کرو۔ ابن سعد، عبد بن حمید، الکجی فی سننہ، المسند لابی یعلی، الکبیر للطبرانی، ابن مردویہ ، بخاری و مسلم، السنن لسعید۔
اپنے ہاتھوں پیروں سے کوئی کھوٹ گھڑکرنہ لاؤ گی۔ یہ محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کسی سے بدکاری کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہوئی اور اس کو شوہر کے سرتھونپ دیا کہ یہ تمہارے تعلق سے ہے۔ پھر ہم نے اپنے ہاتھ کمرے میں پھیلادیے اور حضرت عمر نے کمرے سے باہر اپنا ہاتھ دراز کرلیا۔ اس کا مطلب ہے کہ حضرت عمر کمرے سے باہر تھے اور عورتیں اندر تھیں۔ حضرت عمر نے ان عورتوں کے ہاتھوں کو دیکھایاچھوا اور نہ ہی عورتوں نے حضرت عمر کے ہاتھ کو دیکھا یاچھوا۔ بلکہ جانبین سے ہاتھ پھیلا کر محض بیعت کی شکل اختیار کرلی تھی۔
اپنے ہاتھوں پیروں سے کوئی کھوٹ گھڑکرنہ لاؤ گی۔ یہ محاورہ ہے جس کا مطلب ہے کسی سے بدکاری کے نتیجہ میں اولاد پیدا ہوئی اور اس کو شوہر کے سرتھونپ دیا کہ یہ تمہارے تعلق سے ہے۔ پھر ہم نے اپنے ہاتھ کمرے میں پھیلادیے اور حضرت عمر نے کمرے سے باہر اپنا ہاتھ دراز کرلیا۔ اس کا مطلب ہے کہ حضرت عمر کمرے سے باہر تھے اور عورتیں اندر تھیں۔ حضرت عمر نے ان عورتوں کے ہاتھوں کو دیکھایاچھوا اور نہ ہی عورتوں نے حضرت عمر کے ہاتھ کو دیکھا یاچھوا۔ بلکہ جانبین سے ہاتھ پھیلا کر محض بیعت کی شکل اختیار کرلی تھی۔
1503 - عن أم عطية قالت "لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم جمع نساء الأنصار في بيت ثم بعث إلينا عمر فقام فسلم فرددنا السلام فقال: إني رسول رسول الله إليكم قلنا: مرحبا برسول الله وبرسول رسول الله فقال: أتبايعنني على أن لا تزنين ولا تسرقن ولا تقتلن أولادكن ولا تأتين ببهتان تفترينه بين أيديكن وأرجلكن ولا تعصين في معروف قلنا نعم فمددنا أيدينا من داخل البيت ومد يده من خارجه وأمرنا أن نخرج الحيض والعواتق في العيدين ونهانا عن اتباع الجنائز ولا جمعة علينا فقيل فما المعروف الذي نهين عنه قال النياحة". (ابن سعد وعبد بن حميد والكجي في سننه ع طب وابن مردويه ق ص) .
তাহকীক: