কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১৪৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٦٤۔۔ ازمسند عقبہ بن مالک۔ رسول اکرم نے ایک سریہ کسی مہم پر روانہ فرمایا، اس سریہ نے ایک قوم پر حملہ کیا۔ دوران جنگ اس قوم کا ایک شخص جدا ہو کربھاگ کھڑا ہوا سریہ کا بھی ایک سپاہی اس کے تعاقب میں تلوار سونتے ہوئے روانہ ہوگیا، اس بچ کر بھاگ نکلنے والے نے پیچھے ان کو آواز دی کہ میں مسلمان ہوں لیکن اس سپاہی نے اس کے باوجود اس کو قتل کرڈالا۔ یہ بات حضور تک پہنچی حضور نے اس پر سخت تنبیہ ونکیر فرمائی۔ آپ کے تنبیہ فرمانے کے دوران ایک شخص نے کہا یارسول اللہ اس مقتول نے وہ بات اپنے قبل سے محفوظ ہونے کے لیے کہی تھی آپ نے اس سے اور اس کے ہم خیال افراد سے اعراض فرمالیا۔ اور اپنے خطبہ میں شروع ہوگئے لیکن اس شخص سے نہ رہا گیا تو اس نے پھر وہی بات کہی کہ اس نے قتل سے اپنی حفاظت کی غرض سے کہا تھا، پھر آپ نے اس شخص کی طرف توجہ اور ناگواری آپ کے رخ انور سے عیاں تھی اور فرمایا اللہ نے مومن کے قاتل کے لیے مجھ سے ممانعت فرمادی ہے۔ الخطیب فی المتفق والمفترق۔
1464- (ومن مسند عقبة بن مالك) "بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فأغارت على قوم فشذ رجل من القوم فأتبعه رجل من أهل السرية معه السيف شاهره فقال الشاذ من القوم إني مسلم فضربه فقتله فنمى

الحديث إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال فيه قولا شديدا فبينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب إذ قال القائل يا رسول الله ما قال الذي قال إلا تعوذا من القتل فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمن قبله من الناس ثم قال: الثانية يا رسول الله ما قال الذي قال إلا تعوذا عن القتل فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمن قبله من الناس وأخذ في خطبته ثم لم يصبر أن قال الثالثة يا رسول الله ما قال الذي قال إلا تعوذا من القتل فأقبل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم تعرف المساءة في وجهه ثم قال إن الله أبى على لمن قتل مؤمنا قالها ثلاثا". (خط في المتفق والمفترق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٦٥۔۔ مقدار (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرا کسی مشرک کا ٹکراؤ ہوجائے اور دونوں جانبین سے تلوار چل پڑیں، اور وہ میرا ہاتھ کاٹ ڈالے پھر جب میں اس کی طرف حملہ کی غرض سے بڑھوں تو وہ لاالہ الا اللہ کہہ لے تو میں اس کو قتل کردوں یا یونہی چھوڑ دوں۔ فرمایا چھوڑے دے۔ میں نے عرض کیا اگرچہ اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالاہو، آپ نے فرمایا ہاں خواہ اس نے ایسا کردیاہو۔ دویاتین بار میرا اور آپ کا یہی مکالمہ ہوا۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تم اس کو قتل کرتے ہو جب کہ وہ اس سے قبل لاالہ الاللہ کہہ چکا ہے تم اس کے مثل سزاوار قتل ہوجاتے ہو اس کے لاالہ الا اللہ کہنے سے قبل اور وہ تمہارے مثل معصوم الدم ہوجائے گا تمہارے اس کو قتل کرنے سے قبل۔ الشافعی ، المصنف لعبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، السنن لابی داود، النسائی۔

شرح۔۔۔ فرمایا اگر تم اس کو قتل کرتے ہو جب کہ وہ اس قتل سے قبل لالہ الا اللہ کہہ چکا ہے لہٰذا وہ مسلمان ہے اور مسلمان کو قتل کرنا موجب قصاص ہے لہٰذا اب اس کو قتل کرنے سے قصاص لازم آئے گا، اور وہ تمہارے مثل معصوم الدم ہوجائے گا تمہارے اس کو قتل کرنے سے قبل۔ کیونکہ جب تک تم نے اس کو قتل نہیں کیا تم پر قصاص نہیں بلکہ تمہارا خون کرنا حرام ہے تواب وہ مسلمان ہونے کے ناطہ سے معصوم الدم ہے۔
1465 - عن المقداد قلت: يا رسول الله أرأيت إن اختلفت أنا ورجل من المشركين ضربتين فقطع يدي فلما هويت إليه لأضربه قال: لا إله إلا الله أقتله أم أدعه؟ قال: "دعه قلت وإن قطع يدي قال وإن فعل فراجعته مرتين أو ثلاثا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن قتلته بعد أن قال لا إله إلا الله فأنت مثله قبل أن يقولها وهو مثلك قبل أن تقتله". (الشافعي عب ش حم د ن)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٦٦۔۔ ازمسند عمر (رض)، عبدالرحمن القاری فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابوموسی کی طرف سے حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر نے اس سے لوگوں کے حالات کے متعلق خیریت دریافت کی تو اس نے خبر دی۔ پھر حضرت عمر نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے درمیان کوئی نیاحادثہ رونما ہوا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں ! ایک شخص اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفر کا مرتکب ہوگیا ہے حضرت عمر نے فرمایا تم لوگوں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ عرض کیا ہم نے اسے جاکر قتل کردیا ہے۔ حضرت عمر نے دریافت کیا کہ کیا تم نے اس کو تین یوم کی مہلت کی غرض سے محبوس رکھا تھا ؟ اور ہر دن اس کو عمدہ کھانا مثلا چپاتی وغیرہ کھلائی تھی پھر اس کے تم نے اس سے توبہ طلب کی تھی ؟ شاید وہ تائب ہوجاتا اور اللہ کے امر دین میں واپس آجاتا۔۔ اے اللہ میں اس موقع پر حاضر تھا اور نہ میں نے اس کا حکم دیا تھا اور بات مجھ تک پہنچی تو میں اس پر راضی بھی نہیں تھا۔ مالک الشافعی، المصنف لعبدالرزاق، الغریب لابی عبید۔ بخاری و مسلم۔

مرتد وہ شخص ہے جو اسلام کے دائرہ سے نکل کر کفر کے ظلمت کدہ میں چلا جائے احناف کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام کی دعوت دوبارہ پیش کی جائے اور اس کے اشکالات جن کی وجہ سے وہ اسلام سے منحرف ہوا ہے کو دور کیا جائے اگرچہ یہ واجب نہیں ہے کیونکہ اس کو اسلام کی دعوت پہلے پہنچ چکی ہے۔ لیکن مستحب ضرور ہے اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس کو تین یوم کے لیے قید کردیا جائے تاکہ اس کو کچھ مہلت مل جائے اور بعض اہل علم کے نزدیک مہلت مرتد کی طلب پر منحصر ہے ورنہ مہلت کی ضرورت نہیں ۔ جبکہ امام شافعی (رح) کے نزدیک مہلت دینا واجب ہے انجام کار اگر وہ راہ راست پر آجائے تو یہی اسلام کا مطلوب ہے ورنہ اس کو قتل کردیا جائے۔

مرتد عورت کا حکم ! اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائے اس کو قید میں ڈالے رکھاجائے اور ہر تیسرے دن اس کو بطور تنبیہ مارا جائے تاکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ کرکے دائرہ اسلام میں آجائے لیکن اگر کوئی شخص کسی مرتد عورت کو قتل کردے توقاتل پر کچھ واجب نہیں ہوگا۔
.1466 - (ومن مسند عمر) رضي الله عنه عن عبد الرحمن القاري قال:"قدم على عمر بن الخطاب رجلا من قبل أبي موسى فسأله عن الناس فأخبره ثم قال: هل كان فيكم من مغربة خبر؟، فقال: نعم رجل كفر بعد إسلامه قال: فما فعلتم به قال قربناه (2) فضربنا عنقه قال عمر: فهل حبستموه ثلاثا وأطعمتموه كل يوم رغيفا واستتبتموه لعله يتوب ويراجع أمر الله؟ اللهم إني لم أحضر ولم آمر ولم أرض إذ بلغني" (مالك والشافعي عب وأبو عبيد في الغريب ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٦٧۔۔ عمرو (رح) بن شعیب (رح) اپنے والد شعیب سے اور شعیب اپنے دادا عبداللہ (رض) بن عمرو (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص نے امیرالمومنین حضرت عمر (رض) کو سوال لکھا کہ ایک شخص اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفر کا مرتکب ہوا اور پھر اسلام قبول کرکے دوبارہ کفر کا مرتکب ہوا ہے۔۔ حتی کہ اس نے یہ حرکت کئی مرتبہ کی تواب اس کا اسلام لانا قبول کیا جائے یا نہیں ؟ حضرت عمر نے ان کو لکھا کہ جب تک اللہ سے اسلام کو قبول فرماتا ہے ۔۔ تم بھی قبول کرتے ہو رہو یعنی ہر بار اس کا اسلام قبول کرلو۔ اور اب اس کو اسلام پیش کرو اگر وہ قبول کرتا ہے تو چھوڑ دو ورنہ اس کی گردن اڑادو۔ مسدد ابن الحاکم۔
1467 - عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال "كتب عمرو بن العاص إلى عمر يسأله عن رجل أسلم ثم كفر ثم أسلم ثم كفر حتى فعل ذلك مرارا أيقبل منه الإسلام فكتب إليه عمر أن اقبل منه الإسلام ما قبل الله منهم اعرض عليه الإسلام فإن قبل فاتركه وإلا فاضرب عنقه". (مسدد وابن عبد الحكم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٦٨۔۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ مجھے حضرت ابوموسی نے فتح کے ساتھ حضرت عمر کے پاس بھیجا اور قبیلہ بکر بن وائل کے چھ افراد اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے حضرت عمر نے مجھ سے ان کی متعلق پوچھا بکر بن وائل کے اس گروہ نے کیا کیا ؟ میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین وہ قوم اسلام سے برگشتہ ہو کر مشرکوں سے جاملی ہے لہٰذا اب ان کو قتل کے سوا چار ہ کار نہیں ہے حضرت عمر نے فرمایا گر میں ان کو اسلام کی حالت میں پالوں تو مجھے یہ ہراس چیز سے محبوب ہے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے خواہ وہ سونا چاندی ہو۔ میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین اگر آپ ان کو پالیں تو آپ ان کے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے ؟ آپ نے مجھے فرمایا میں ان پر وہی دروازہ پیش کروں گا، جس سے وہ نکل گئے ہیں کہ وہ دوبارہ اس میں داخل ہوجائیں۔ اگر انھوں نے ایسا کرلیا تو میں ان کے اسلام کو قبول کرلوں گا۔۔ ورنہ ان کو قید خانہ کے سپرد کردوں گا۔۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1468 - عن أنس قال: "بعثني أبو موسى بفتح إلى عمر فسألني عمر وكان ستة نفر من بكر بن وائل قد ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين فقال: ما فعل النفر من بكر بن وائل قلت: يا أمير المؤمنين قوم قد ارتدوا عن الإسلام ولحقوا بالمشركين ما سبيلهم إلا القتل فقال عمر: لئن أكون أخذتهم سلما أحب إلي مما طلعت عليه الشمس من صفراء وبيضاء قلت: يا أمير المؤمنين وما كنت صانعا بهم لو أخذتهم؟ قال لي: كنت عارضا عليهم الباب الذي خرجوا منه أن يدخلوا فيه فإن فعلوا ذلك قبلت منهم وإلا استودعتهم السجن". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٦٩۔۔۔ یحییٰ بن سعید سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک مرتدہ کو دومۃ الجندل میں اس کے غیراہل مذہب کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا۔ المصنف لعبدالرزاق۔ حضرت عمر (رض) کا یہ فیصلہ کسی حکمت وسیاست پر مبنی تھا۔
1469 - عن يحيى بن سعيد"أن عمر بن الخطاب باع المرتدة بدومة الجندل من غير أهل دينها". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧٠۔۔ ازمسند عثمان (رض) ، ابن شہاب سے مروی ہے کہ حضرت عثمان فرماتے ہیں جو ایمان کے بعد اپنی خوشی سے کفر کا مرتکب ہوجائے اس کو قتل کیا جائے گا۔ بخاری و مسلم۔
1470 - ومن مسند عثمان رضي الله عنه عن ابن شهاب أن عثمان بن عفان كان يقول: "من كفر بعد إيمانه طائعا فإنه يقتل". (ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧١۔۔ سلیمان (رح) بن موسیٰ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان مرتد کو تین مرتبہ اسلام کی دعوت پیش فرماتے تھے پھر عدم قبول کی صورت میں اس کو قتل فرما دیتے تھے۔ بخاری و مسلم۔
1471 - عن سليمان بن موسى قال: "كان عثمان بن عفان يدعو المرتد ثلاث مرات ثم يقتله". (ق)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧٢۔۔ سلیمان (رح) بن موسیٰ سے مروی ہے کہ ان کو حضرت عثمان بن عفان کی جانب سے یہ خبر پہنچی کہ کسی انسان نے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا آپ نے اس کو تین مرتبہ اسلام کی طرف دعوت دی لیکن اس نے انکار کیا، تو آپ نے اس کو قتل فرمادیا۔ المصنف لعبدالرزاق ، بخاری و مسلم۔
1472 - عن سليمان بن موسى أنه بلغه عن عثمان بن عفان "أن إنسانا كفر بعد إيمانه فدعاه إلى الإسلام ثلاثا فأبى فقتله". (عب ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧٣۔۔ عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ ابن مسعود نے اہل عراق کی ایک قوم جو اسلام سے برگشتہ ہوگئی تھی کو پکڑا، اور ان کے متعلق حضرت عثمان کو لکھا حضرت عثمان نے جواب میں لکھا کہ ان پر دین حق اور لاالہ الا اللہ کی شہادت پیش کروا گروہ قبول کرلیتے ہیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ، ورنہ ان کو قتل کرڈالو۔ المصنف لعبدالرزاق ، بخاری و مسلم۔
1473 - عن عبد الله بن مسعود قال: "أخذ ابن مسعود قوما ارتدوا عن الإسلام من أهل العراق فكتب فيهم إلى عثمان، فكتب إليه أن أعرض عليهم دين الحق وشهادة أن لا إله إلا الله فإن قبلوها فخل عنهم وإن لم يقبلوها فاقتلهم". (عب ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧٤۔۔ ابوعثمان النہدی سے مروی ہے کہ حضرت علی ایک شخص سے جو اسلام کے بعد کفر کا مرتکب ہوگیا تھا ایک مہینہ تک توبہ کا مطالبہ کرتے رہے آخر تک وہ انکار کرتا رہا، پھر حضرت علی نے اس کو قتل فرمادیا۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1474 - عن أبي عثمان النهدي "أن عليا استتاب رجلا كفر بعد إسلامه شهرا فأبى فقتله". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧٥۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ مرتد سے تین مرتبہ توبہ قبول کی جائے گی۔ اس کے بعد بھی کفر کا مرتکب ہوا تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ بخاری و مسلم۔
1475 - عن علي قال "يستتاب المرتد ثلاثا فإن عاد قتل". (ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧٦۔۔ ابوالطفیل سے مروی ہے کہ میں اس لشکر میں شامل تھا جس کو حضرت علی نے بنی ناجیہ کی طرف بھیجا تھا ، ہم وہاں پہنچے ہم نے ان کو تین گروہوں میں بٹا ہوا پایا۔ امیر لش کرنے ان میں سے ایک گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے نصاری تھے، پھر ہم نے اسلام قبول کرلیا، اور اب اسی پر ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے نصاری تھے پھر ہم نے اسلام قبول کرلیا اور اب اسی پر ثابت قدم ہیں۔ دوسرے گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے بھی نصاری تھے اور اب تک اسی پر ثابت قدم ہیں۔ تیسرے گروہ سے پوچھا تم کون ہو ؟ انھوں نے کہا ہم پہلے نصاری تھے پھر ہم نے اسلام قبول کرلیا لیکن پھر اپنے سابق مذہب نصرانیت کی طرف لوٹ گئے کیونکہ ہم نے اس سے بہتر دین اور کوئی نہیں پایا۔ امیرلشکر نے اس تیسرے گروہ سے فرمایا تم اسلام لے آؤ لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ امیرلشکر نے فرمایا جب میں اپنے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیروں تو تم ان پر ہلہ بول دینا انھوں نے حکم کی تعمیل کی اور مرتدین کے جنگجوؤں کو تہ تیغ کردیا اور ان کی آل واولاد کو قید کردیا۔ یہ قیدی حضرت علی کی خدمت میں پیش ہوئے پھر مستقلہ بن ہبیرہ آیا اور اس نے ان تمام قیدیوں کو دولاکھ دراہم میں خرید لیا، پھر صرف ایک لاکھ پیش کیے۔ حضرت علی وصول فرمانے سے انکار کردیا۔ مستقلہ نے اپنے دراہم لیے اور ان قیدیوں کو آزاد کرکے حضرت معاویہ سے جاملا۔ حضرت علی سے کسی نے کہا آپ وہ دراہم وصول فرمائیں لیکن آپ نے فرمایا رہنے دو ۔ اور آپ نے انسے کچھ تعرض نہ کیا۔ بخاری و مسلم۔
1476 - عن أبي الطفيل قال: "كنت في الجيش الذي بعثهم علي بن أبي طالب إلى بني ناجية فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق فقال الأمير: لفرقة منهم ما أنتم؟ قالوا نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا فثبتنا على إسلامنا وقال للثانية: ما أنتم؟ قالوا نحن قوم كنا نصارى فثبتنا على نصرانيتنا، وقال للثالثة ما أنتم؟ قالوا نحن قوم كنا نصارى فأسلمنا فرجعنا على نصرانيتنا فلم نرى دينا أفضل من ديننا فقال لهم: أسلموا فأبوا فقال: لأصحابه إذا مسحت رأسي ثلاث مرات فشدوا عليهم ففعلوا فقتلوا المقاتلة وسبوا الذرية فجيء بالذراري إلى علي وجاء مسقلة بن هبيرة فاشتراهم بمأتي ألف فجاء بمائة ألف إلى علي فأبى علي أن يقبل فانطلق مسقلة بدراهمه وعمد مسقلة إليهم فأعتقهم ولحق بمعاوية فقيل لعلي ألا تأخذ الذرية فقال: لا فلم يعرض لهم". (ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارتداد اور اس کے احکام
١٤٧٧۔۔ عبدالملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی کے پاس حاضر ہوا قبیلہ بنی عجل کے ایک شخص مستورد بن قبیصلہ کو آپ (رض) کی خدمت میں پیش کیا گیا اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد نصرانیت اختیار کرلی تھی ، حضرت علی نے اس سے فرمایا تمہارے متعلق مجھے کیا خبر ملی ہے ؟ اس نے کہا میری طرف سے آپ کو کوئی اطلاع نہیں ملی، آپ نے فرمایا مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے نصرانیت اختیار کرلی ہے اس نے کہا میں دین مسیح پر قائم ہوگیا ہوں، آپ نے فرمایا دین مسیح پر تو میں بھی قائم ہوں تیرا اس کے متعلق کیا خیال ہے اس نے حضرت علی سے کوئی مخفی بات کہی ، جس پر حضرت علی نے لوگوں کو حکم دیا کہ اس کو ماریں اور روندیں، تو اس کو اتنامارا گیا کہ وہ جان گنوا بیٹھا۔ میں نے اپنے برابر بیٹھے ہوئے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اس نے آہستہ سے کیا کہا تھا اس نے جواب دیا کہ اس نے کہا تھا کہ میرا تومسیح ہی پروردگار ہے۔ الدارقطنی بخاری و مسلم۔
1477 - عن عبد الملك بن عمير قال: "شهدت علي أتى بأخي بني عجل المستورد بن قبيصة تنصر بعد إسلامه فقال له علي ما حدثت عنك؟ قال ما حدثت عني قال حدثت عنك أنك تنصرت قال أنا على دين المسيح فقال له علي: وأنا على دين المسيح فقال علي: ما تقول فيه فتكلم بكلام خفي على علي فقال علي طؤوه فوطئ حتى مات قلت للذي يليني ما قال، قال المسيح ربه". (قط ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد کا قتل
١٤٧٨۔۔ حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ مجھے اور حضرت معاذ کو حضور نے یمن کی طرف بھیجا۔ کسی دن میرے پاس ایک ایسا یہودی بیٹھا تھا جو پہلے مسلمان تھا پھر یہودیت اختیار کرلی تو اس وقت حضرت معاذ میرے پاس تشریف لائے اور کہا جب تک تم اس یہودی کی گردن نہ اڑاؤ گے میں تمہارے پاس ہرگز نہ بیٹھوں گا۔ چونکہ اس سے قبل اس کو چالیس یوم تک اسلام کی طرف دوبارہ لوٹ آنے کی مسلسل دعوت دی جاتی رہی تھی۔ ابن ابی شیبہ۔
1478 - عن أبي موسى قال "بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا ومعاذ إلى اليمن فأتاني ذات يوم وعندي يهودي قد كان مسلما فرجع عن الإسلام إلى اليهودية فقال: لا أنزل حتى تضرب عنقه وكان أبو موسى دعاه أربعين يوما". (ش) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد کا قتل
١٤٧٩۔۔ ازمسند ابوبکر صدیق (رض)۔ طاؤوس سے مروی ہے کہ حضور نے عیینہ بن حصین کو زمین کا ایک ٹکڑا بطور جاگیر کے عطا فرمایا تھا لیکن جب حضور کی وفات کے بعد عیینہ دوبارہ کافر ہوگیا تو حضرت ابوبکر نے وہ زمین اس سے واپس لے لی۔ عیینہ دوبارہ مسلمان ہوگیا اور حضرت ابوبکر کے پاس آیا تاکہ جاگیر دوبارہ واپس لے ۔ حضرت ابوبکر نے ایک رقعہ حضرت عمر کے نام لکھا کہ اس کو اس کی زمین واپس کردی جائے یہ شخص حضرت عمر کے پاس وہ خط لے کر پہنچا تو حضرت عمر نے وہ خط پھاڑ دیا اور فرمایا اگر تم اسلام سے مرتدنہ ہوتے تو تم کو زمین ضرور مل جاتی لیکن اب زمین واپس نہیں ہوسکتی۔ عیینہ حضرت ابوبکر کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ امیر آپ ہیں یا وہ عمر ؟ انھوں نے وہ خط پھاڑ دیا ہے حضرت ابوبکر نے فرمایا ان شاء اللہ امیروہی ہیں۔ انھوں نے جو فیصلہ کیا وہ میرے اور تمہارے دونوں کے لیے بہتر اور سود مند ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1479 - (ومن مسند أبي بكر الصديق رضي الله عنه) عن طاووس قال "قطع النبي صلى الله عليه وسلم لعيينة بن حصين أرضا فلما ارتد عن الإسلام بعد النبي صلى الله عليه وسلم قبض منه فلما جاء فأسلم كتب له كتابا فدفعه عيينة إلى عمر فشقه وألقاه وقال: إنما كان لو أنك لم ترجع عن الإسلام فأما إذ ارتددت فليس لك شيء فذهب عيينة إلى أبي بكر فقال: أما أنت الأمير أم عمر قال بل هو إن شاء الله قال فإنه لما قرأ كتابه شقه وألقاه فقال أبو بكر أما إنه لم يألني وإياك خيرا". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد کا قتل
1480 ۔۔ حضرت معمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ مرتد عورت کو قیدی بنایا جائے گا اور فروخت کردیا جائے گا، حضرت ابوبکر نے بھی مرتدین کی خواتین کے ساتھ یہی سلوک فرمایا تھا، کہ ان کو فروخت کر ڈالا تھا۔المصنف لعبدالرزاق۔
1480 - عن معمر بن قتادة قال "تسبى المرتدة وتباع، كذلك فعل أبو بكر بنساء أهل الردة باعهن". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد کا قتل
١٤٨١۔۔ یزید بن ابی مالک الدمشقی سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر نے ایک عورت کو جس کا نام ام قرفہ لیاجاتا تھا اس کے مرتد ہونے کی بنا پر اس کو قتل کرڈالا۔ السنن لسعید، بخاری و مسلم۔
1481 - عن يزيد بن أبي مالك الدمشقي "أن أبا بكر الصديق قتل امرأة يقال لها أم قرفة في الردة". (ص ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد کا قتل
١٤٨٢۔۔ سعید بن عبدالعزیز التنوخی سے مروی ہے کہ ایک عورت جسکانام ام قرفہ لیاجاتا تھا اسلام کے بعد کفر کی مرتکب ہوگئی حضرت ابوبکر نے اس سے توبہ طلب کی، مگر اس نے توبہ کرنے سے انکار کردیا۔ پھر حضرت ابوبکر نے اس کو قتل کرڈالا۔ الدارقطنی ، بخاری و مسلم۔
1482 - عن سعيد بن عبد العزيز التنوخي "أن امرأة يقال لها أم قرفة كفرت بعد إسلامها فاستتابها أبو بكر فلم تتب فقتلها". (قط ق) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام متفرقہ
١٤٨٣۔۔ ازمسند عمر (رض)۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے ان کو فرمایا لوگوں کے ساتھ ہمیں وہی غرض ہے جو رسول اللہ نے فرمائی کہ وہ نماز قائم کرتے رہیں اور ادائیگی زکوۃ کرتے رہیں اور رمضان کے روزے رکھتے رہیں اور پھر ان کی بقیہ زندگی میں ان کو ان کے رب کے حوالہ کرکے ان کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ ابومحمد بن عبداللہ بن عطا الابراہیمی فی کتاب الصلاۃ۔
1483 - (من مسند عمر رضي الله عنه) عن عبد الله بن عمرو بن العاص "أن عمر قال له إنما لنا من الناس ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أن يقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة ويصوموا رمضان ويخلى بينهم وبين ربهم". (أبومحمد بن عبد الله بن عطاء الإبراهيمي في كتاب الصلاة) .
tahqiq

তাহকীক: