কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৪৩ টি

হাদীস নং: ১৪৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤٤۔۔ عقبہ بن عامر سے منقول ہے کہ میں بارہ سواروں کے ساتھ چلا۔۔ حتی کہ ہم دربار رسول میں پہنچ گئے پھر میرے رفقاء نے کہا ہمارے پیچھے سے کون ہمارے اونٹوں کو چرائے گاتا کہ ہم آپ کے ملفوظات سے کچھ اقتباس کر آئیں، پس جب وہ جائے گا توتب ہم سننے جائیں گے میں نے یہ کام اپنے ذمہ لے لیا، اور چند یوم کرتا رہا، پھر میرے دل میں خیال ہوا کہ شاید میں دھوکا میں پڑگیا ہوں کہ جو میرے ساتھی سنتے ہوں گے وہ مجھے کہاں نصیب ہوگا ، اور وہ جو کچھ رسول اللہ سے سیکھتے ہوں گے میں اس سے محروم رہ جاتاہوں تو پھر میں بھی ایک دن حاضر ہوا ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کہہ رہا ہے نبی نے فرمایا جس نے وضو کامل طریقہ سے ادا کیا وہ گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوجائے گا جس دن اس کی مان نے اس کو جنم دیا تھا، میں نے اس پر تعجب کا اظہار یا تو مجھے عمر نے فرمایا گرتم اس سے قبل والاکلام سن لیتے تو اس سے زیادہ تعجب کرتے میں نے عرض کیا مجھے سنائیے اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ حضرت عمر نے فرمایا رسول اللہ نے فرمایا جس کی اس حالت میں وفات آئے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو اللہ اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیتے ہیں جس سے وہ چاہے داخل ہوجائے اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ابوہریرہ رسول اللہ کے پاس سے نکلے تو میں آپ کی سامنے رخ پر بیٹھ گیا لیکن آپ نے مجھ سے اپنا رخ زیبا موڑ لیا، میں پھر سامنے آگیا آپ نے پھرچہرہ اقدس موڑ لیا کئی مرتبہ ایسا ہوا آخرچوتھی مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ مجھ سے بےرخی کیوں فرما رہے ہیں ؟ پھر آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا تجھے ایک محبوب یابارہ ؟ پھر میں نے یہ صورت حال دیکھی تو میں لوٹ گیا۔ رواہ ابن عساکر۔
1444 - عن عقبة بن عامر قال "جئت في اثني عشر راكبا حتى حللنا برسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أصحابي من يرعى لنا إبلنا وننطلق فنقتبس من نبي الله صلى الله عليه وسلم فإذا أراح ورحنا اقتبسناه مما سمعنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ففعلت ذلك أياما ثم فكرت في نفسي فقلت لعلي مغبون يسمع أصحابي ما لم أسمع ويتعلمون ما لم أتعلم من نبي الله صلى الله عليه وسلم فحضرت يوما فسمعت رجلا يقول قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: "من توضأ كاملا كان (2) من خطيئته كيوم ولدته أمه". فعجبت لذلك فقال عمر بن الخطاب: فكيف لو سمعت الكلام الأول كنت أشد عجبا! فقلت أردد علي جعلني الله فداك! قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من مات لا يشرك بالله شيئا فتح الله له أبواب الجنة يدخل من أيها شاء، ولها ثمانية أبواب". فخرج علينا رسول الله فجلست مستقبله (3) فصرف وجهه عني، حتى فعل ذلك مرارا فلما كانت الرابعة قلت يا نبي الله بأبي أنت وأمي لم تصرف وجهك عني؟ فأقبل علي فقال: أوأحِدٌ أحب إليك أم اثنا عشر؟ [يعني: هل أحب إليك أن أكون ملتفتا إليك وحدك، أم أن أكون ملتفتا إلى الأحد عشر رجل الآخرين؟ دار الحديث]ـ فلما رأيت ذلك رجعت إلى أصحابي. (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤٥۔۔ عمروبن مرۃ الجہنی ، فرماتے ہیں قبیلہ قضاعہ کا ایک شخص حضور انور کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ اگر میں شہادت دوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور پنجگانہ نماز اداکروں، ادائیگی زکوۃ کروں ماہ صیام کے روزے رکھو اور اس کی راتوں میں قیام کروں تو میں کون ہوں گا، فرمایا تم صدیقین اور شہداء میں شامل ہوجاؤ گے یا فرمایا جو اس حال میں وفات پاجائے وہ صدیقین اور شہداء میں شامل ہوگا۔ ابن مندہ ، ابن عساکر، ابن الجارود۔
1445 - عن عمرو بن مرة الجهني قال جاء رجل من قضاعة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: " يا رسول الله أرأيت إن شهدت أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وصليت الصلاة الخمس وأديت الزكاة وصمت رمضان وقمته فممن أنا؟ قال أنت من الصديقين والشهداء وفي لفظ من مات على هذا كان من الصديقين والشهداء. (ابن مندة كر وابن الجارود.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
1446 ۔۔۔ از مسند کعب (رض) ، حضرت کعب (رض) بن مالک سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے انھیں اور اوس بن الحدثان کو ایام تشریق میں یہ پیغام دے کر اعلان کرنے کو بھیجا کہ جنت میں مومن کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا، اور ایام منی ، اور بمطابق دوسری روایت کے ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔ ابن جریر ، ابونعیم۔
1446 - (ومن مسند كعب بن مالك) عن كعب بن مالك " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثه والأوس بن الحثان في أيام التشريق فناديا أن لا يدخل الجنة إلا مؤمن وأيام مني وفي لفظ وأيام التشريق أيام أكل وشرب". (ابن جرير وأبو نعيم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
1447 ۔۔ ازمسند معاذ (رض) بن جبل، سے مروی ہے کہ میں ایک گدھے پر جس کا نام عفیر تھا، رسول اللہ کے پیچھے سوار تھا، حضور نے حضرت معاذ سے فرمایا اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ بندوں پر کیا حق ہے ؟ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی پرستش کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو اس کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوں اس کو اپنے عذاب سے مامون رکھے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سنادوں ؟ فرمایا ان کو خوش خبری مت سناؤ ممکن ہے فرمایا ان کو خوش خبری مت سناؤ ممکن ہے کہ وہ اسی پر اعتماد بھروسہ کرکے بیٹھ رہیں گے۔ ابن عساکر۔
1447 - (ومن مسند معاذ بن جبل) عن معاذ بن جبل قال " كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم على حمار يقال له عفير فقال يا معاذ هل تدري ما حق الله على العباد قال الله ورسوله أعلم قال: حق الله على العباد أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا وحقهم على الله أن لا يعذب من لا يشرك به شيئا فقلت يا رسول الله أفلا أبشر الناس قال لا تبشروهم فيتكلوا". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤٨۔۔ از مسند ابی ثعلبہ الخشنی ، ابی ثعلبہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہو کردوگانہ ادا کی۔ اور آپ کو یہ بات محبوب تھی کہ جب بھی سفر سے واپس تشریف لاتے تومسجد جاکر دو رکعت نماز ادا فرماتے ہیں، پھر حضرت فاطمہ کے ہاں تشریف لے جاتے پھر ازواج مطہرات کے ہاں جاتے تو اسی طرح ایک مرتبہ سفر سے واپسی کے بعد حضرت فاطمہ کے ہاں ازواج مطہرات سے قبل تشریف لے گئے۔ پہنچے تو دروازے پر ہی حضرت فاطمہ سے سامنا ہوگیا۔ حضرت فاطمہ آپ کے چہرہ انور کو بوسہ دینے لگیں اور دوسرے الفاظ میں آپ کے دہان منہ مبارک اور آنکھوں کو بوسہ دینے لگیں، اور ساتھ میں رونے لگیں اور آپ کے کپڑے بھی بوسیدہ ہوچکے ہیں۔ آپ نے فرمایا اے فاطمہ مت رو، بلاشک اللہ نے تیرے والد کو ایسے امر پر مبعوث فرمایا ہے کہ روئے زمین پر کوئی ایساگھر باقی نہ رہے گا، کچانہ پکا، مگر اللہ اس میں اسلام کو ضرور داخل فرمائیں گے معزز کی عزت کے ساتھ اور ذلیل کی ذلت کے ساتھ حتی کہ یہ اسلام وہاں تک جاپہنچے گا جہاں تک کہ رات اپنے تاریکی کے پردے ڈالتی ہے۔ الکبیر للطبرانی، الحلیہ، المستدرک للحاکم۔
1448 - (ومن مسند أبي ثعلبة الخشني) عن أبي ثعلبة الخشني قال "قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة له فدخل المسجد فصلى فيه ركعتين وكان يعجبه إذا قدم من سفر أن يدخل المسجد فيصلي فيه ركعتين ويثني بفاطمة ثم يأتي أزواجه فقدم من سفره مرة فأتى فاطمة فبدأ بها قبل بيوت أزواجه فاستقبلته على باب البيت فاطمة فجعلت تقبل وجهه وفي لفظ فاه وعينيه وتبكي فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يبكيك قالت أراك يا رسول الله قد شحب لونك واخلولقت ثيابك فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم يا فاطمة لا تبكي فإن الله بعث أباك على أمر لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر ولا شعر إلا أدخله الله به عزا أو ذلا حتى يبلغ حيث يبلغ الليل". (طب حل ك) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤٩۔۔ ازمسند ابوالدرداء ، کثیر بن عبداللہ ابوادریس سے اور وہ حضرت ابوالدرداء سے روایت کرتے ہیں کہ کہ رسول اکرم نے فرمایا جس نے نماز قائم کی، زکوۃ ادا کی، اور پھر اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا تھا تو اللہ پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا اپنے شہر میں۔ بمطابق دوسرے الفاظ کے اسی سرزمین میں وفات کرگیا، جہاں اس کی ماں نے اس کو جنم دیاتھاہم نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم لوگوں کو خوش خبری نہ پہنچادیں ؟ فرمایا جنت میں سو مراتب ہیں ہر دومرتبوں کے مابین زمین و آسمان جتنا فاصلہ ہے اللہ نے ان مراتب کو راہ خدا کے مجاہدین کے لیے تیار کیا ہے مجھے مومنین پر مشقت کا خوف ہے اور میں اس قدر سواریاں بھی نہیں پاتا کہ سب کو مہیاکردوں اور ان کو میرے جہاد میں جانے کے بعد پیچھے رہ جانے پر گرانی بھی گزرے گی، اگر یہ باتیں نہ ہوتیں تو میں کسی غزوہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا۔ اور میری تمنا ہے کہ میں راہ خدا میں قتل ہوجاؤں پھر زندگی ملے اور پھر قتل ہوجاؤں۔ النسائی، الکبیر للطبرانی، ابن عساکر۔
1449 - (ومن مسند أبي الدرداء) عن كثير بن عبد الله عن أبي ادريس عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أقام الصلاة وآتى الزكاة ومات لا يشرك بالله شيئا كان حقا على الله أن يغفر له هاجر أو مات في بلده وفي لفظ في مولده قال فقلنا يا رسول الله ألا نخبر بها الناس فيستبشروا قال إن في الجنة مائة درجة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض أعدها الله للمجاهدين في سبيل الله ولولا أن أشق على المؤمنين ولا أجد ما أحملهم عليه ولا تطيب أنفسهم أن يتخلفوا بعدي ما قعدت خلف سرية ولوددت أني أن أقتل ثم أحيى ثم أقتل". (ن طب كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٥٠۔۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ مجھے ایک حدیث بیان کرنے سے یہ خوف مانع ہے کہ کہیں تم سعی وعمل میں نرم وسست نہ ہوجاؤ وہ حدیث یہ ہے کہ میں تم کو خوش خبری سناتاہوں کہ جو اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتاہو تو وہ جنت میں ضرور داخل ہوجائے گا۔ ابن عساکر۔
1450 - عن أبي الدرداء أنه قال عند موته "إنه لم يكن يمنعني أن أحدثكم إلا أن تسترسلوا إني أبشركم أنه من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٥١۔۔ ازمسند بدیل بن ورقائ۔ سلمہ کہتے ہیں کہ میرے والد بدیل بن ورقاء نے ایک خط حوالہ کرکے فرمایا اے فرزند یہ رسول اللہ کا خط ہے اگر تم اس کو محفوظ رکھو تو تم ہمیشہ خیروبھلائی میں رہو گے۔ جب تک یہ اللہ کا نام تمہارے درمیان موجود ہے۔ قال ابن ابی عاصم، ثناعبدالرحمن بن محمد بن عبدالرحمن بن محمد بن بشر بن عبداللہ عن ابیہ عبداللہ بن سلمہ، ابن بدیل بن ورقاء حدثنی ابی عن ابیہ عبدالرحمن عن ابیہ محمد بن بشر بن عبداللہ عن ابیہ عبداللہ بن سلمہ عن ابیہ سلمہ قال۔۔۔ الخ۔
1451 - (مسند بديل بن ورقاء) قال ابن أبي عاصم ثنا عبد الرحمن ابن محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن بشر بن عبد الله عن أبيه عبد الله بن سلمة ابن بديل بن ورقاء حدثني أبي عن أبيه عبد الرحمن عن أبيه محمد بن بشر بن عبد الله عن أبيه عبد الله بن سلمة عن أبيه سلمة قال "دفع إلى أبي بديل بن ورقاء كتابا فقال يا بني هذا كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن توقنوا به فلن تزالوا بخير مادام فيكم بسم الله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٥٢۔۔ تمیم الداری (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ کو کوئی سفر درپیش تھا تو آپ نے فرمایا ہم رات کی تاریکی میں سفر جاری رکھیں گے لہٰذا ہمارے ساتھ کوئی لاغر سواری یا اڑیل سواری والا ہمرکاب نہ ہو، لیکن اس کے باوجود ایک شخص ایک اڑیل ناقہ پر ہمارے ساتھ ہولیا اور انجام کار اسی ناقہ نے اس کو پچھاڑ دیا اور گرادیا اس کی ران ٹوٹ گئی۔ پھر اسی تکلیف میں وہ چل بسا۔ آپ نے اس پر نماز جنازہ ادا کی اور بلال کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ جنت کسی عاصی کے لیے حلال نہیں۔ مسنداحمد، الکبیر للطبرانی، المستدرک للحاکم، بروایت زیاد بن نعیم۔
1452 - عن تميم الداري قال "كان النبي صلى الله عليه وسلم في مسيرة فقال: "إنا مدلجون فلا يرحل معنا مضعف ولا مصعب فارتحل رجل على ناقة صعبة فصرعته فاندقت فخذه فمات فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة عليه ثم أمر بلالا فنادى إن الجنة لا تحل لعاص". (حم طب ك عن زياد بن نعيم) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٥٣۔۔ عمارہ بن حزم رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص ایمان کی چار چیزوں کے ساتھ آیاوہ مسلمانوں میں شمار ہوگا اور جو کسی ایک کو ترک کر آیا، اس کو بقیہ تین کوئی نفع نہ دیں گی۔ میں نے عرض کیا وہ کیا ہیں فرمایا نماز ، روزہ، صوم رمضان، اور حج۔ ابن عساکر۔
1453 - عن عمارة بن حزم عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: "أربع من جاء بهن مع الإيمان كان من المسلمين ومن لم يأت بواحدة لم تنفعه الثلاثة قلت لعمارة بن حزم ما هن قال: الصلاة والزكاة وصوم رمضان والحج". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٥٤۔۔ حضرت معاذ سے مروی ہے کہ میں رسوال کریم کے پیچھے سواری پر ہمرکاب تھا، آپ نے فرمایا جب تم میرے ساتھ خلوت میں ہوتے ہو تو مجھ سے سوال کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ اعلم ہیں اور فرمایا اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ، فرمایا اللہ کا بندوں پر حق ہے کہ وہ اس کی پرستش کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، آپ نے فرمایا اے معاذ کیا تم جانتے ہو جب بندے یہ کام کرلیں تو ان کا اللہ پر حق کیا ہے ؟ عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا یہ کہ وہ ان کو جنت میں داخل فرمادے۔ ابن عساکر۔
1454 - عن معاذ قال "كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا معاذ ألا تسألني إذا خلوت معي قلت الله ورسوله أعلم قال يا معاذ هل تدري ما حق الله على العباد قلت الله ورسوله أعلم قال: أن يعبدوه ولا يشركوا به شيئا قال فهل تدري ما حق العباد على الله إذا فعلوا ذلك قلت الله ورسوله أعلم قال يدخلهم الجنة". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٥٥۔۔ ابن المنتفق یا ابوالمنتفق سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے کسی نے رسول اللہ کا تذکرہ کیا تو میں مکہ میں آپ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا، پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ منی میں میں منی میں آپ کے پاس پہنچاوہاں سے معلوم ہوا کہ آپ میدان عرفات میں ہیں میں وہاں آپ کے پاس پہنچا، اور آپ کے سامنے جاکھڑا ہوا مجھے کہا گیا رسول اللہ کا راستہ چھوڑ دو ، لیکن آپ نے فرمایا آدمی کو چھوڑ دو ، پھر میں لوگوں سے چھوٹ کر آپ کے پاس پہنچا اور اس آپ کی سواری کی نکیل یافرمایالگام تھام لی اور ہم دونوں کی سواریوں کی گردنیں آپ میں مل گئیں اور آپ نے مجھے بالکل منع نہیں فرمایا، میں نے عرض کیا میں آپ سے دو چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا یہ کہ مجھے کیا چیز جہنم سے نجات دلائے گی اور کیا چیز جنت میں دخول کا سبب بنے گی، پھر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا اگرچہ تو نے مختصر سی بات کی ہے مگر درحقیقت یہ بہت بڑی اور عظیم بات ہے۔ سویاد رکھ کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، فرض نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، اور بیت اللہ کا حج وعمرہ کرو، اور لوگوں کا جو سلوک اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی سلوک ان کے ساتھ بھی کرو، اور جو بات لوگوں سے اپنے لیے ناپسند کرتے ہو لوگوں کے لیے بھی اس کو چھوڑ دول۔ اب سواری کا راستہ چھوڑدو۔ مسنداحمد، ابن جریر، البغوی، الکبیر للطبرانی (رح)۔
1455 - عن ابن المنتفق ويكنى أبا المنتفق قال "وصف لي رسول الله صلى الله عليه وسلم وحلى لي فطلبته بمكة فقيل لي هو بمنى فأتيته بمنى فقيل لي بعرفات فانطلقت إليه فزاحمت عليه فقيل لي إليك عن طريق رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: دعوا الرجل فزاحمت عليه حتى خلصت إليه فأخذت بخطام راحلته أو قال زمامها حتى التقت أعناق راحلتينا فما وزعني (2) رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت اثنتان أسألك عنهما، ما ينجيني من النار ويدخلني الجنة؟ فنظر إلى السماء ثم أقبل بوجهه فقال لئن كنت أوجزت في المسئلة لقد أعظمت وأطولت فاعقل عني تعبد الله ولا تشرك به شيئا وأقم الصلاة المكتوبة وأد الزكاة المفروضة وصم رمضان وحج البيت واعتمر وما تحب أن يفعله بك الناس فافعله بهم وما تكره أن يأتي إليك الناس فذر الناس منه ثم خل سبيل الراحلة". (حم وابن جرير والبغوي طب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٥٦۔۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ایک رات عوام الناس چاند کو دیکھ کر کہنے لگے کیساخوبصورت چاند ہے ؟ کتنابارونق ہے ؟ آپ نے فرمایا اور اسی وقت تمہاری کیسی شان ہوگی جب تم دین میں مثل چودھویں رات کے چاند کے ہوگے اور تمہاری وقعت کا صحیح اندازہ کوئی صاحب بصیرت ہی کرسکے گا۔ ابن عساکر، الدیلمی، اس کی اسناد میں کوئی حرج نہیں ہے۔
1456 - عن أبي هريرة تراءى الناس الهلال ذات ليلة فقالوا ما أحسنه ما أنيقه "فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كيف أنتم إذا كنتم في دينكم مثل القمر ليلة البدر لا يبصره منكم إلا البصير". (كر والديلمي) وسنده لا بأس به.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٥٧۔۔ اوس بن اثقفی سے مروی ہے کہ رسول اکرم ہمارے پاس تشریف لائے ہم مسجد کے ایک قبہ میں بیٹھے ہوئے تھے پھر آپ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا آپ کے ساتھ اس نے کچھ سرگوشی کی ہمیں نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی، پھر آپ نے فرمایا جاؤ، اور ان کو کہو کہ اسے تہ تیغ کر ڈالیں، لیکن آپ نے اس کو پھر واپس بلالیا، اور کہا شاید وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیتاہو اس شخص نے عرض کیا جی ہاں تب آپ نے فرمایا تو ان کو کہیں کہ اسے چھوڑ دیں۔ کیونکہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لاالہ الا اللہ نہیں کہہ لیتے ، پس جب وہ یہ کہہ لیں تو ان کا خون اور ان کا مال محترم ہوجائے گا الایہ کہ اسی کا کوئی حق اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ ابوداؤد، مسنداحمد، الدارمی، الطحاوی۔
1457 - عن أوس بن أوس الثقفي قال "دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في قبة في مسجد فأتاه رجل فساره بشيء لا ندري ما يقول فقال اذهب قل لهم يقتلوه ثم دعاه فقال لعله يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فقال نعم فقال اذهب فقل لهم يرسلوه فإني أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأني رسول الله فإذا قالوها حرمت علي دماؤهم وأموالهم إلا بحقها وكان حسابهم على الله". (ط حم والدارمي والطحاوي) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٥٨۔۔ عبداللہ بن عدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص آی اور آپ کے ساتھ سرگوشی کی حالت میں ایک منافق کی گردن اڑ آنے کی اجازت کا خواہش مند ہوا آپ نے ببانگ بلند فرمایا کیا وہ لاالہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتا، عرض کیا شہادت تو دیتا ہے لیکن اس کی شہادت کا کیا اعتبار ؟ پھر آپ نے دریافت کیا کیا وہ میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت نہیں دیتا، عرض کیا شہادت تو دیتا ہے لیکن اس کی شہادت کا اعتبار نہیں، پھر آپ نے دریافت کیا کیا وہ نماز ادا کرتا ہے عرض کیا کیوں نہیں لیکن اس کی نماز ؟ تب آپ نے فرمایا، انہی لوگوں کے متعلق قتال سے ممانعت کی گئی ہے۔ المصنف لعبدالرزاق، الحسن بن سفیان۔
1458 - عن عبد الله بن عدي الأنصاري "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس بين ظهراني الناس جاءه رجل يستأذنه أن يساره في قتل رجل من المنافقين فجهر رسول الله صلى الله عليه وسلم بكلامه فقال أليس يشهد أن لا إله إلا الله قال بلى ولا شهادة له قال أليس يشهد أني رسول الله قال بلى ولا شهادة له قال أليس يصلي قال بلى ولا صلاة له قال أولئك الذين نهيت عنهم". (عب والحسن بن سفيان) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٥٩۔۔ ازمسند نامعلوم شخص ۔ نعمان بن سالم کسی صاحب رسول سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم مسجد کے قبہ میں بیٹھے ہوئے تھے آپ قبہ کے ایک ستون کو تھام کر ہمیں کچھ بیان فرمانے لگے۔۔ اچانک ایک شخص آپ کے پاس آی اور آپ کے ساتھ اس نے سرگوشی کی مجھے نہیں معلوم کہ کیا بات ہوئی پھر آپ نے فرمایا جاؤ اس کو لے جاؤ اور قتل کردو۔۔ جب وہ شخص پشت دے کر چل دیاتو آپ نے اس کو دوبارہ بلایا اور کہا شاید وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیتاہو اس نے عرض کیا جی ہاں تب آپ نے فرمایا تو ان کو کہیں کہ اسے چھوڑ دیں، کیونکہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لاالہ الا اللہ نہیں کہ لیتے پس جب وہ یہ کہہ لیں تو ان کا خون اور ان کا مال محترم ہوجائے گا الایہ کہ اسی کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1459 - (ومن مسند من لم يسم) عن النعمان بن سالم عن رجل قال: "دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونحن في قبة المسجد، فأخذ بعمود القبة فجعل يحدثنا إذ جاءه رجل فساره ما أدري ما ساره فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اذهبوا به فاقتلوه فلما قفى الرجل دعاه فقال: لعله يقول لا إله إلا الله قال: أجل قال النبي صلى الله عليه وسلم: اذهب فقل لهم يرسلوه فإنه أوحى إلي أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله فإذا قالوا لا إله إلا الله حرمت علي دماؤهم وأموالهم إلا بالحق وكان حسابهم على الله". (عب) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٦٠۔۔ اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ فرمایا ہمیں رسول اللہ نے ایک سریہ میں بھیجا ہم نے صبح کے وقت قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ حرقات پر حملہ کیا۔ میں نے ایک شخص کو جالیا اس نے لاالہ الا اللہ کہا مگر میں نے اس کو نیزہ مار دیا، لیکن پھر میرے دل میں اس سے خلجان پیدا ہوا اور میں نے اس کا ذکر رسول اللہ سے کیا آپ نے فرمایا اس نے لاالہ الا اللہ کہا اس کے باوجود تم نے اس کو قتل کرڈالا ؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس نے اسلحہ کے خوف سے وہ کہا تھا، آپ نے فرمایا پھر تم نے اس کا سینہ چیر کر کیوں نہ دیکھا تاکہ تمہیں علم ہوجاتا کہ اس نے اس خوف سے کلمہ کہا تھا یا نہیں ؟ تمہارا کون حامی ہوگا، جب قیامت کے روز، لاالہ الا اللہ ، آئے گا، ؟ آپ اس کو بار بار دھراتے رہے، حتی کہ میرے دل میں تمنا پیدا ہوئی کہ کاش میں اسی دن اسلام قبول کرتا۔ الاوسط للطبرانی، مسنداحمد، بخاری، مسلم، العدنی، ابی داؤد، النسائی، ابوعوانہ، طحاوی، ابن حبان، المستدرک للحاکم۔ بخاری و مسلم۔

کاش میں اسی دن اسلام قبول کرتا اس قول کی وجہ یہ پیش آئی کہ اسی دن اسلام قبول کرنے سے میرا یہ فعل معاف ہوجاتا کیونکہ اسلام تمام گناہوں کو دھو دیتا ہے یا یہ مطلب کہ میں اس سے قبل اسلام کی حالت میں نہ ہوتا، بلکہ اسی دن اسلام قبول کرتا اور اس طرح مسلمان نہ ہونے کی وجہ سے جنگ میں شرکت ہوتی اور نہ یہ مجھ سے قتل سرزد ہوتا۔
1460 - عن أسامة بن زيد قال: "بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فصبحنا الحرقات من جهينة فأدركت رجلا فقال: لا إله إلا الله فطعنته فوقع في نفسي من ذلك فذكرته للنبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قال لا إله إلا الله وقتلته قلت: يا رسول الله قالها خوفا من السلاح قال: أفلا شققت عن قلبه حتى تعلم من أجل ذلك قالها أم لا من لك بلا إله إلا الله يوم القيامة فما زال يكررها حتى تمنيت أسلمت يومئذ ". (طس حم خ م والعدني د ن وأبو عوانة والطحاوي ك ق)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٦١۔۔ حضرت اسامہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک شخص پر ہتھیار اٹھایا اور اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا، اس نے لاالہ الا اللہ کہا مگر پھر بھی میں نے جلدی سے ختم کرڈالا، یہ بات رسول اللہ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا اس نے لاالہ الا اللہ کہا اس کے باوجود تم نے اس کو قتل کرڈالا، تم کیا کرو گے جب قیامت کے روز، لاالہ الا اللہ آئے گا آپ و اس کو بار بار دھراتے رہے۔ حتی کہ میرے دل میں تمناپیدا ہوئی کہ کاش میں اسی گھڑی اسلام کو قبل کرتا۔ الدارقطنی۔ البزار۔ مصنف فرماتے ہیں کہ ابوعبدالرحمن السلمی عن اسامہ کا طریق کہیں اور نہیں ہے۔
1461 - وعنه قال حملت على رجل فقطعت يده فقال لا إله إلا الله فأجهزت عليه فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "أقتلته بعدما قال لا إله إلا الله؟ كيف تصنع بلا إله إلا الله يوم القيامة فرددها مرارا حتى تمنيت أني لم أكن أسلمت إلا تلك الساعة". (قط والبزار) وقال لا يعلم أبو عبد الرحمن السلمي عن أسامة غيره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٦٢۔۔ اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ میں نے اور ایک انصاری شخص نے مرداس بن نہیک پر تلوار سونت لی اس نے کہا، اشھد ان لاالہ الا اللہ، لیکن ہم اس سے ہٹے نہیں۔ حتی کہ ہم نے اس کو قتل کرڈالا، پھر جب ہم رسول اللہ کے پاس پہنچے تو آپ کو اس کی خبر دی آپ نے فرمایا اے اسامہ لاالہ الا اللہ ، کے مقابلہ میں تیرا کون ساتھ دے گا، میں نے عرض کیا اس نے قتل سے بچاؤ کے لیے یہ کہا تھا، آپ نے پھر فرمایا، اے اسامہ، لاالہ الا اللہ ، کے مقابلہ میں تیرا کون ساتھ دے گا، حضرت اسامہ فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم آپ اسی بات کو دھراتے رہے حتی کہ میرے دل میں تمناپیدا ہوئی کہ کاش میں اس سے قبل اسلام کی حالت میں نہ ہوتا بلکہ اسی دن اسلام قبول کرتا، اور اس طرح یہ قتل مجھ سے سرزد نہ ہوتا پھر میں نے رسول اللہ کو یہ عہد دیا کہ آئندہ میں کسی ، لاالہ الا اللہ ، کے قائل کو ہرگز قتل نہ کروں گا، آپ نے فرمایا میرے بعد، اے اسامہ۔ میں نے عرض کیا جی آپ کے بعد۔ ابن عساکر۔
1462 - عن أسامة بن زيد قال: " أدركت مرداس بن نهيك أنا ورجل من الأنصار فلما شهرنا عليه السيف قال أشهد أن لا إله إلا الله فلم نزع عنه حتى قتلناه فلما قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم، أخبرناه بخبره فقال: يا أسامة من لك بلا إله إلا الله فقلت: يا رسول الله إنما قالها تعوذا من القتل قال: من لك يا أسامة بلا إله إلا الله فو الذي بعثه بالحق مازال يرددها علي حتى لوددت أن ما مضى من إسلامي لم يكن لي وأني أسلمت يومئذ ولم أقتله فقلت: إني أعطي الله عهدا أن لا أقتل رجلا يقول لا إله إلا الله أبدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بعدي يا أسامة قلت: بعدك". (كر) .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل پنجم۔۔ اسلام کے حکم میں۔ شہادتین کا حکم۔۔۔ از مسند اوس بن اثقفی
١٤٦٣۔۔ حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ قیامت کے روز مجھے اس خصم اور مدمقابل کے سوا کسی اور کا اس قدر خطرہ نہیں جس قدر اس خصم اور مدمقابل کا خطرہ ہے کہ قیامت کے روز اس کی گردن کی رگیں خون کا فوارہ ابل رہی ہوں اور وہ مجھے میزان کے پاس گھیر لے اور بارگاہ ذوالجلا میں فریاد کرے۔۔ کہ پروردگار اپنے اس بندے سے پوچھ ! کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ اور میں اس کے متعلق نہ کہہ سکوں کہ یہ کافر تھا کہ کہیں رب ذوالجلال فرمائیں کیا تم میرے بندے کو مجھ سے زیادہ جانتے تھے۔ ابونعیم۔
1463 - عن أبي موسى قال "ما خصم أبغض إلي لقاءً يوم القيامة من رجل تشخب أوداجه دما يحبسني عند ميزان القسط فيقول يا ربي سل عبدك مم قتلني ولا أستطيع أن أقول كان كافرا فيقول: أنت أعلم بعبدي مني؟. (نعيم) .
tahqiq

তাহকীক: